پچھلے پندرہ دنوں سے جو حال کشمیر کا ہے اُ سکی کسی کو خبر نہیں ہے کیونکہ وہاں کسی بھی کیمرے کسی بھی ایلیکٹرانک میڈیا کو رسائی حاصل نہیں ہے ۔اُن مظلوموں پر کیا گزر رہی ہے کسی کو خبر نہیں ہے ۔عالمِ اسلام کو سانپ سونگھ گیا ہے شاید ،کسی ایک اسلامی ملک سے سوائے پاکستان کے کوئی آواز اُٹھتی سنائی نہیں دے رہی ۔کیوں یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔کیا صرف انڈیا سے تجارت ہی سب سے بڑا معرکہ ہے ہماری اسلامی ریاستوں کا یا مین پاور جو ہندوستان سے اُن کے پاس آتی ہے ۔کسی کو بھی کشمیر کی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا کہ کس طرح وہ روندے جاتے رہے ہیں ستر سالوں سے کہ اب تو وہ لوگ بھی جو کبھی بھارت کی زبان بولتے اور اُنکی حکومت میں شامل رہتے تھے کشمیری ہوتے ہوئے بھی وہ بھی اب اس بات کو مانتے ہیں کہ وہ غلط تھے ۔
کشمیر میں آج تک کر فیو ہے کیا کوئی بھی انسانیت کا درد رکھنے والا سوچ سکتا ہے کہ بچوں پر کیا گزر رہی ہوگی ۔بوڑھے کس حال میں ہونگے اور اگر کچھ حاملہ خواتین ہیں تو اُن کا کیا حال ہوگا ِ معصوم بچے کس تکلیف میں ہوں گے ماؤں پر کیا گزر رہی ہوگی بھوکے بچوں کو دیکھ کر کاش انسان ہی انسانیت کی لاج رکھ لے اور اس ظلم کے خلاف سب یک زبان ہو جائیں لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ہم جانوروں سے بھی بد تر ہیں ۔وہ بھی ایک دوسرے کی حمایت میں نکل پڑتے ہیں مارنے والے کے خلاف ۔ لیکن ہم نے تو شاید انسانیت کو اس قدر روند ڈالا ہے کہ انسان کہیں نظر ہی نہیں آتا ،بس اُس کا مفاد اور اُس کی طاقت نظر آتی ہے ۔
ہمارے ملک میں کشمیر کی یکجہتی کے ساتھ بڑے فیصلے بھی کئے جارہے ہیں ۔آرمی چیف کو تین سال کے لئے مزید اُن کے عہدے پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو بہت اچھی بات ہے کیونکہ ان حالات میں ایک ایسے چیف کا رہنا جو ساری صورتِ حال سے واقف ہے انتہائی نا گزیر ہے ۔ہماری سوچ ہے کہ ہمیں خود کو مضبوط کرنا چاہئے تاکہ ہماری آواز میں طاقت ہو ÷ہمیں اپنی معاشی حالت پر سب سے پہلے غور کرنا چاہئے ۔۔ عام آدمی کی زندگی آسان کرنے کے لئے اقدامات اُٹھانے چاہئیں ۔سب سے پہلے مہنگائی کے جِن کو قابو کرنا چاہئے تاکہ عام آدمی بھی کچھ سکون پائے ۔
ملک میں سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگوں کی کمی نہیں ہے لیکن جو لوگ میڈیا کی زینت بنتے ہیں یا تجزیہ کرتے ہیں وہ ہمیں عقلِ کُل نظر آتے ہیں اللہ ہمیں معاف کرے ۔کوئی بھی موضوع ہو کوئی بھی بات ہو وہ ایسے ایسے مشورے دیتے یا حکومت میں بیٹھے سب لوگوں کو ایسا نکما اور کمزور ثابت کرنے بپر تُلے رہتے ہیں کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ محترم وزیرِ اعظم، ایک تجربہ اور کر لیں اور اُن تمام اینکرز اور تجزیہ کاروں کو ایک ہفتے کے لئے حکومت میں لے آئیں اور اُن کے انمول اور نا قابلِ فہم تجربات سے فائدہ اُٹھا لیں ۔ملک بھی سنور جائے گا اور شاید حکومت بھی انتہائی مضبوط ہو جائینگی ۔
جب تجزیہ نگار بیٹھ کر وزیرِ اعظم کو انتہائی کم عقل ثابت کرتے ہیں ۔جب اپنی اُن سے قربت کی بات کرتے ہیں جب ان مشوروں کا زکر کرتے ہیں جو انہوں نے کبھی عمران خان صاحب کو دئے تھے ۔تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ خود صرف ایک تجزیہ نگار کیسے رہ گئے ؟۔ہم مانتے ہیں کہ بہت سی خبریں ہوتی ہیں بہت سارے معاملات ہوتے ہیں جنہیں لوگ سننا چاہتے ہیں سمجھنا چاہیتے ہیں لیکن ہمیں کوئی مثبت بات کرتا نظر نہیں آتا ۔سب سوائے تنقید کے اگر حکومت کو اُنکی غلطیاں دکھاتے نظر آئیں تو شاید کچھ بہتر بات ہو ۔لیکن مجبوری یہ ہے کہ ہر شخص اپنی بات کو صحیح سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جو کچھ اُس نے کہا یا جیسا وہ چاہتا ہے ویسا ہی ہو ۔ہم نے کچھ اینکرز کو تو ہر بات میں مہنگائی اور اسپتالوں اور بھوک کا رونا روتے دیکھا اب ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ یہ سب کچھ کیا صرف اور صرف ایک سال کا شاخسانہ ہے ۔یا ہمیں ان غلطیوں کو دیکھنا ہوگا جن کی وجہ سے ہم اس حال کو پہنچے ۔غلطی کرنا بہت آسان ہے غلطی کو سُدھارنے میں وقت لگتا ہے ۔یہ نہ ہمارے دانشوروں کی سمجھ میں آتا ہے نہ ہی تجزیہ کاروں کی ۔ہمیں بھی شکوہ ہے کہ حکومت نے اُن مسائل کو جو پہلے حل کرنے چاہئیں تھے تاخیر کا شکار کر دیا لیکن نئے لوگ ہیں انہیں کچھ وقت ضرور لگے گا ۔مگر ہم اب بھی کہینگے کہ تمام مسائل اپنی جگہ پہلے ملک کی خبر لیں پولیس کو دیکھیں مہنگائی کو کم کرنے کے اقدامات کریں ۔نیب کے لئے ترامیم اس وقت کوئی ضروری نہیں ہیں اس قانون کی طرف آئیں جو ان کرپٹ لوگوں سے لوٹا ہوا پیسہ ملک میں لائے تاکہ کچھ مسائل حل ہوں ورنہ آپ بھی ہاتھ ملتے رہ جائینگے اور ہم بھی اور پھر یہ ہی مافیا طاقتور ہو کر ہم پر مسلط ہو جائے گا خدانخواستہ ۔مراد جیسے بہت جوان ہیں پی ٹی آئی میں انہیں سامنے لائیں ۔نئے جوان کام پر لگائیں دوستوں سے جان چھڑائیں کہ یہ بس دوست ہی ہیں ؟؟؟
ہماری سوچ ہے کہ جب تک ہم خود کو مضبوط نہیں کریں گے ہم نہ کرپشن سے نمٹ سکیں گے اور نہ ہی ان لوگوں سے جنہوں نے ہمیں اس حال کو پہنچایا لیکن اس کے لئے سب کو ہی حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے ہہوں گے اس طرح کہ ہم سب خود بھی اہنی کمزوریوں کو دور کریں ۔کراچی کو کچرا گاہ بنا دیا گیا اب جو کوئی بھی اس کی صفائی کی کوشش کر رہا ہے تو کبھی صوبائی حکومت آڑے آرہی ہے کبھی وہ لوگ جو جن کے زمے یہ کام تھا اور وہ ناکام رہے ۔ہم حیران ہیں کہ یہ مسائل تو سارے ملک کے ہیں اگر ان مسائل پر بھی ہم ایک نہیں ہوسکتے تو پھر ملک کی محبت اور ملک کے لئے کام کا جزبہ ہے کہاں ؟ ہماری استدعا کراچی والوں سے بھی ہے کہ اپنا کچرا اُن جگہوں پر ڈالیں جہاں ڈالنا ہے ۔ورنہ کتنی بھی صفائی کر لی جائے وہ کار آمد نہیں ہوگی ہر کام صرف اور صرف حکومت پر نہ ڈالا جائے ۔بڑی صفائیاں ان کا کام ہیں لیکن محلے اور گھروں کا کچرا ٹھیک جگہ پر ڈالنا ہر شہری کا فرض ہے تاکہ گندگی سی نجات ملے ۔
ہم نے دیکھا ہے کہ ماسیاں کچرا روڈ پر پھینک جاتی ہیں اور پھر وہ جگہ کچرا گھر بن جاتی ہے اب جرمانہ کرنا چاہئے کہ اگر کسی گھر کا کچرا غلط جگہ پھینکا گیا تو انہیں جرمانہ دینا پڑے گا ۔ہم نے یہاں دیکھا ہے کہ کوئی ایک چیز بھی روڈ پر نہیں پھینکتا نہ ہی کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے ۔کہ کاغز کا ٹکڑا بھی کہیں پھینکا جائے ،لیکن ہم ہر چیز روڈ پر پھنک کر چل دیتے ہیں کتنے ہی پڑھے لکھے ہوں کتنے ہی تہزیب یافتہ ،کچرا پھینکتے ہوئے ہماری ہر حس ختم ہو جاتی ہے ۔گھر صاف ہوتے ہیں اور گھر کے باہر غلاذتوں کے ڈھیر ۔
خود کو بدلیں اپنا وہ کام جو آپ کر سکتے ہیں خود کریں ،محلہ کمیاٹیاں بنا لیں جو اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی گھر کا کچرا باہر نہیں پھینکا جائے گا ۔اور اگر ایسا کوئی کرتا ہے تواسے تنبیہ کی جائے ،ہماری امید ہے کہ اگر ہم سب مل کر ایک صفگائی ہی کی مہم کا حصہ بن جائیں تو بہت کچھ بہتر ہو جائے گا ،بیماریاں بھی کم ہو جائینگی ۔لیکن ،کام کرنے سے ہو تا ہے باتوں سے نہیں !!!
انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے جیسا کہ ہم سب ہی دیکھ رہے ہیں ،
جنگ کا خطرہ منڈلا رلا ہے لیکن سب کو ہی دعا کرنی چاہئے کہ جنگ نہ ہو کہ یہ کوئی کھیل نہیں ہے آج کل ایٹمی جنگ کا خطرہ جس شدت سے محسوس کیا جارہا ہے وہ بھی خوفزدہ کر دینے کو کافی ہے ۔اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے اور کشمیریوں پر جو ظلم ہو رہا ہے انہیں ظالم حکومت سے بچائے ۔اور آزادی نصیب فرمائے آمین
انسان ہنس رہا ہے ،انسان رو رہا ہے. عالم آرا
555
0












