دعا ہے میری کہ
تم بھی جیت جاواور ۔
میں بھی جییت جاوں
تم بھی مسکراو
اور میں بھی مسکراوں
۔۔۔ ۔۔
!!!
ہمیں کیسے معاشرے کی خواہش ہے
کیا کبھی سکون سے بیٹھکر سوچا ہم نے؟
کیا کوشش کی ہم نے اسکو سنوارنے میں؟
کیا ایک انسان کچھ نہیں کر سکتا؟
کیا پیسہ ہی واحد چیز ہے جو ایک انسان کو کمزور یا طاقتور بناتے ہیں؟؟؟
غور کریں تو پیسہ ایک بڑا اہم element ہے۔۔۔
جو جتنا پیسے والا ہوتا ہے اتنا ہی فیصلہ کرنے میں اس کا اختییار ہوتا ہے۔۔۔مکمل نہ بھی سہی مگر بہت حد تک یہ اہمییت کا حامل ہے۔۔۔اب جسکی کمائی اچھی نہیں تو اسکی کوئی اہمییت اور وقار معاشرے میں نہیں رہتا۔۔۔سو کمائ ضروری چیز ہے۔۔۔۔
کمائی کے لیے
تعلیم
ہنر
مواقع چاھییے جو کہ دور حا ضر میں بے انتہا مشکل ہیں۔۔۔
تو غریب بے روزگار انسان جو طرح طرح کی زہنی ،جسمانی ،جزباتی،فکری جنگوں کا شکار ہےوہ کیا کر سکتا ہے؟
وہ کیا کرے پھر ؟
کیا اسکو یہ حق مل گیا کہ وہ
بد اخلاق ہو جائے؟
غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے؟
لعن طعن ،بد زبانی گالی گلوچ کرے؟
اپنے فرائض سے روگردانی کرے؟
اپنا وقت ضائع اور ہنر کو نہ بڑھائے؟
آج انسان جس معاشرتی فکری اور مالی بحرانوں سمیت کئی اور طرح کی جدوجہد میں پھنسا ہوا ہے اس میں سے نکلنے کہ لیے آج گھر کہ معاشرے کے ملک کہ ہر فرد کو اپنی اپنی اور اپنے ارد گرد رہنے والوں کی اور اپنے ملک کی زمہ داری لینا ہو گی۔۔۔
ہر انسان کو زمہ داری
سمجھ
شعور
مثبت انداز فکر اور روش کو اپنانا ہو گا۔۔۔
عزت احترام اور اخلاق سے پیش آنے کی روش کو رواج دینا ہو گا۔۔۔ہم کتنے ہی آزردہ اور دکھ درد میں مبتلا کیوں نہ ہوں اپنے آپکو اخلاقی میعار سے گرنے نہیں دینا دوسروں کی عزت اور انکے احترام اور حق میں کمی نہ آئے یہی شرف انسانییت ہے ۔۔۔
یہی عشق رسول ص ہے۔۔۔
یہی محبت اہلیبییت ع ہے۔۔۔
کہ جب شعب ابی طالب میں نبی کریم ص ہر طرح کے رنجو الم کو صبر سے برداشت کیا ۔۔۔بھوک۔۔بیماری اپنوں کے دکھ اور ازیئتیں برداشت کیں۔۔۔
جب آئمہ ع نے ہر رنجو الم اور تکلیف میں صبر و استقامت اخلاقیات اور توکل نہیں چھوڑ دیا تو ہم جب انکے پیروکار
عاشق رسول و آل دسول ص سمجھتےہیں تو ہماری روش کیوں الگ ہو جاتی ہے آزمائش اور پریشانی میں۔۔۔
وائد اعظم نے بھی فرمایا ہے
کہ مومن مصیبت میں گبھرایا نہیں کرتے۔۔۔
تو کیا ہم مومن ہیں؟
علامہ اقبال نے فرمایا ہے کہ۔۔
قومیں فکر سے محروم ہو کر تبا ہ ہو جاتی ہیں۔۔۔
اور
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
اب اگر ان پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ہم۔۔۔
سے ہماری فکر ہمارا نظریہ حیات ہی چھین لیا گیا ہے۔۔۔
یا پھر اتنی الجھنیں پیدا کر دی گئی ہیں کہ انسان غلط اور درست کی پہچان ہی نہیں کر پا رہا۔۔۔
اسکے بعد مومن کون ہوتا ہے؟
قانع ہوتا ہے۔۔۔اور رب سے ڈرنے والا ہوتا ہے ۔۔۔ااکو رب کے آگے اپنے ہر عمل کی جوابدہی کا خوف ہوتا ہے۔۔۔اس رب کی ناراضگہی اسکی محبت اور رحمت سے محرومی کا خوف۔۔۔
نبی کریم ص فرماتے ہیں:
تم میں سے بہتر وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں۔۔
اور آج ہمارے ہوتھ قتل میں مار دھاڑ میں اور زبانیں کفر و شر کے فتووں سے آلودہ نظر آتی ہیں۔۔۔۔
اور آج ہم ہر چیز کے منصف خود بنے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔
اسکے علاوہ طعنہ زنی
گالی گلوچ
بد زبانی
نفرت و حقارت
ایکدوسرے کو بد کردار ثابت کرنا
اور ایکدوسرے کو انسان ہی نہ سمجھنا بڑی عام سی باتیں ہیں۔۔۔
کیا یہ روش رب کریم درست کریگا ہماری جگہہ یا ہم خود اسکی نییت کرینگے کہ جو بھی ہو ہم کوئی غلط بات نہ۔کریں گے نہ سنیں گے۔۔۔
کسی بھی بات کو بنا تصدیق کے سچ نہیں مانیں گے تصدیق ہو بھی جائے تب بھی قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے۔۔۔
دوسرے کو معافی کا موقع دیں گے۔۔۔
عزت احترام اور محبت کو فروغ دینگے۔۔۔
کیا ہمارے ارد گرد کی فضا ایسی ہے کہ جہاں ہر کوئی ہمارے وجد سے امان اور سکون میں ہو؟
کیا ہم باعث شرف اور احترام ہیں دوسروں کے لیے؟
کیا ہم دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھتے ہیں یا خود کو ہی عقل کل سمجھتے ہیں؟
۔۔
آج ہم جب سب جانتے ہیں کہ ایک بیمار معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں اور سب سے بڑی بیماری غربت نہیں۔۔۔
بد اخلاقی ہے۔۔۔
بے راہ روی ہے۔۔۔
آسانیاں پسند ہونا ہے۔۔۔
مشکلات سے گبھرا جانا ہے۔۔۔
اور سب سے بڑھکر۔۔۔
اللہ پر توکل نہ ہونا ہے۔۔۔
ان سب مسائل کے حل کےلیے کوشش کرنا ہو گی۔۔۔
جب عام حالات ہوں تب بھی بہت سے مسائل ہوتے ہیں مگر آج کے حالات میں ہم ایک نہیں کئی طرح کی جنگوں سے نبرد آزما ہیں۔۔
جیسے کہ فکری جنگ۔۔۔
عملی کمزوریاں۔۔۔
ثقافتی یلغار۔۔۔
جھالت سے جنگ۔۔۔
قانون کا نہیں ہونا۔۔۔
پیسے کی کمی یا نہ ہونا ہیں۔۔
یہ سب ہمیں محرومی اور خود ترسی میں مبتلا کرنے کے لیے بہت کافی ہیں۔۔۔
اب کیا کیا جائے ؟؟؟؟
پہلے رب پر توکل شرط ہے۔۔۔
پھر ہر حال میں اپنے اخلاق اور انداز گفتگو کو بدلنا ہے ایسا انداز گفتگو۔۔۔
جس میں
عزت اور احتراماور پرواہ ہو بلا تفریق بے لوث۔۔۔
اخلاص نییت ہو۔۔۔
زندگی میں سادگی کو رواج دیں۔۔
ایکدوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔۔۔
کسی کہ آنسو پونچھ سکیں تو وہ پونجھ دیں۔۔۔
کسی کی تکلیف سن سکتے ہوں تو وہ سن لیں۔۔۔
کوئی ارد گرد بھوکا ہو تو بنا اسکی عزت نفس مجروح کیے اسکو کھانا کھلادیں۔۔۔
کسی کو درست گائیڈ کر سکتے ہوں تو وہ کر دیں۔۔۔
کسی کی امید بڑھا سکیں تو وہ بڑھا دیں۔۔۔
کسی کے یقین میں اضافہ کر سکیں تو وہ کر دیں۔۔۔
آپکے ارد گرد کوئی پڑھنا چاہتا ہو تو اسکو ایک گھنٹہ اللہ کے نام پر پڑھا دیں۔۔۔
EACH ONE SHOULD TEACH ONE….
اگر آج ہم اپنے گھر گلی محلے کی زمہ داری لیں اور اپنی ہر قابلییت کو ایکدوسرے پر خرچ کریں کہ میں بھی جیت جاوں اور دوسرا بھی جیت جائے تو دیکھییے گا سب جییے جائنگے۔۔۔
تعلیم دیجیے اپنے ارد گرد لوگوں کو۔۔۔پاکستان ہمارا گھر ہے اسے باہر سے کوئی صحیح کرنے نہیں آئگا ہم ہی کو کرنا اور دوچنا ہو گا ہمارے نوجوان ہمارے بزرگ اور بچوں سبھی کو ایک ہی انداز فکر پر کام کرنا ہے اور وہ میری اور تمہاری جییت کی کوشش ۔۔۔
میری اور تمہاری کامیابی کی کوشش۔۔۔
اسکے لیے اگر دن میں صرف ایک گھنٹہ ہم VOLUNTEER
کردیں کہ اس ایک گھنٹے میں مجھے کسی کو تعلیم دینی ہے۔۔۔
کسی کی مدد کرنی ہے۔۔۔
کسی کے کام آنا ہے۔۔
اپنا محلہ اور گلی صاف کرنی ہے۔۔۔
ایکدوسرے کو آگے بڑھنے میں مدد دینی ہے۔۔۔تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔۔۔
آپ صرف ایکبار کوشش کر کے دیکھییے۔۔۔بہت خوبصورتی آسکتی ہے ہمارے معاشرے میں۔۔۔
درد بانٹنا ہی درد کا توڑ ہے۔۔۔
جیسے لوہا لوہے کا کا ٹتا ہے اسی طرح درد اور مایوسی کو ختم کرنے کے لیے درد بامٹیں سکون اور آسنیاں بنیں اچھائی پر یقین آپکو کبھی ناکام نہیں ہونے دیگا۔۔۔۔
آج اگر ہم یہ کرنے کی کوشش کا مصمم ارادہ کر لیں صرف تقرب الہی کی نییت سے اور اپنے ہر دکھ پریشانی کو رب کریم کے سپرد کر دیں اپنی کوشش جاری رکھیں۔۔۔۔مگر سپرد کردینے کے بعد یقین مستحکم اور مکمل رکھیں۔۔۔۔دعا کوشش اور نیک نیتی۔۔۔۔کبھی آپکو پریشانی میں گرا رہنے نہیں دیگی۔۔۔
حضرت یوسف ع۔۔۔کو یاد کریں جب کنویں میں گرادیے گئے تھے۔۔۔
اگر ہم ان چھوٹی چھوٹی کوششوں میں ہم نے خود کو مظبوط بنا لیا تو یاد رکھییے
چھوٹی چھوٹی الجھنییں اگر حل ہو جائیں تو بڑی بڑی الجھنوں کو اپنے آپ حل کر دیتی ہیں۔۔۔
آج ایکدوسرے کو انسان سمجھ کر عزت دیجیے اور پاکستانی بن کر ایکدوسرے کے حقوق کی تعظیم سے ہم بہت سے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔۔۔۔
محبتوں ،برداشت اور احترام کو فروغ دیجییے رحمتیں اور برکتییں رب کریم خود بھیج دیگا۔۔۔!
فائزہ عباس













