طارق بٹ… سکہ رائج الوقت

0
920

ٹکسال چل رہی ہو تو سکے تیار ہوتے رہتے ہیں اور جوں جوں تیار ہوتے ہیں مارکیٹ میں دستیاب دیگر کھوٹے کھرے سکوں میں گھل مل جاتے ہیں حکومتی سرپرستی اور نگرانی میں تیار کیئے جانے والے سکے ریاست کی ضمانت سے جاری ہوتے ہیں اسی لئے انہیں سکہ رائج الوقت کہا جاتا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ نوٹ یا سکے صرف حکومت کی سرپرستی ہی میں تیار ہوتے ہیں کچھ انفرادی سطح پر بھی تیار کیئے جاتے ہیں جنہیں جعلی یا دو نمبر کہا جاتا ہے ان دو نمبر کاچلاو تب تک ہوتا ہے جب تک پہچان یا پکڑ میں نہ آ جائیں جونہی پہچانے یا پکڑے جاتے ہیں کاٹھ کباڑ کا حصہ بنا دیئے جاتے ہیں –
پیا جی نے بھی ہاتھ میں ایک سکہ اٹھا رکھا تھا بہت دیر سے وہ اس سکے کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے یہ سکہ ان کے اپنے ٹکسال کا تیار کردہ ہے رخصت ہونے والے پیا جی بوقت رخصت ان کے سپرد کر گئے تھے تقریبا 40 سال پہلے انتہائی ضرورت کے تحت تیار کیا جانے والا یہ سکہ بار بار کے استعمال کے سبب اپنی چمک دمک کھو چکا ہے مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہوا اب یہ موجودہ پیا جی کے ہاتھ میں ہے اب یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ اسے سکہ رائج الوقت کے طور پر جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں چہرے کے تاثرات بتاتے ہیں کہ وہ انہی سوچوں میں گم ہیں بالآخر وہ فیصلے پہ پہنچ گئے انہوں نے سکہ اپنے سامنے پڑے بڑے سے میز پر رکھا اور اپنے دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی کو انگوٹھے سے رگڑتے ہوئے سکے کو یوں مارا جیسے کیرم کی گوٹ کو مارا جاتا ہے سکہ میز سے پھسلتا ہوا چمکتے فرش پر گرا اور لڑھکتا ہوا تاریک گوشے میں تاریکی کا حصہ بن گیا پیا جی نے تھوڑی دیر کے لئے سوچا اور پھر اپنے بائیں ہاتھ سے بائیں جیب کا فلیپ اوپر اٹھایا اور دائیں ہاتھ سے جیب میں دل کے عین قریب موجود واحد سکے کو باہر نکال لیا کمرے میں موجود روشنی سکے کی چمک دمک میں اس قدر اضافہ کر رہی تھی کہ خود پیا جی کی آنکھیں بھی روشنی کی لاٹوں سے بند ہوتی دکھائی دینے لگیں چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے پیا جی بار بار سکے کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے پھر فیصلہ ہو گیا انہوں نے سکے کو اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر رکھا اور انگوٹھے کے زور سے اوپر اچھال دیا گویا طے پایا کہ اب اس سکے کو زمین سے اٹھا کر بلندی پر پہچانا ہے اور اسی کو سکہ رائج الوقت بنانا ہے –
پیا جی نے اپنا من چاہا سکہ مارکیٹ تو کر دیا مگر جب عوامی رائے کا وقت آیا تو اکثریت نے پرانے اور بار بار کے آزمودہ سکوں کے ساتھ اپنی وابستگی کا فیصلہ دیا بجا کہ عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد خصوصا نوجوانوں کو نئے سکے کی چمک نے بھی متاثر کیا اور ان کا بوجھ اس کے پلڑے میں بھی پڑا مگر یہ وزن اتنا نہ تھا کہ پلڑا ایک جانب جھک کر اپنی اہمیت جتلا پاتا چنانچہ پیا جی کو خود کوشش کرنی پڑی اور نئے سکے کو قابل قبول بنانے کے لئے ادھر ادھر سے پکڑ دھکڑ کر کھوٹے کھرے سکے نئے سکے کے پلڑے میں ڈالنے پڑے تب جا کر سکے کی اہمیت بنی-
سکہ رائج تو ہو گیا مگر چلنے سے عاری رہا پیا جی کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا اپنی ٹکسال میں تیار کردہ سکے کی اہمیت اور افادیت بڑھانے کے لئے انہوں نے بھاگ دوڑ شروع کر دی پہلے ایک دوست اسلامی ملک سے دنیا کی مضبوط ترین ٹکسال سے تیار ہونے والی کرنسی ڈالر کے تین ارب ادھار مانگ لائے کہ شائد خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑ لے مگر جب دیکھا کہ خربوزے کا پھیکا پن پھر بھی نہیں جا رہا تو ایک اور دوست اسلامی ملک کا رخ کیا اور وہاں سے بھی تین ارب ڈالر لانے میں کامیاب ہو گئے اب سکہ رائج الوقت کے ارد گرد طاقتور ترین کرنسی کے ڈھیر لگے تھے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سکہ توانائی حاصل کرتا مگر ہوا یہ کہ سکہ دن بہ دن کمزور ہوتا چلا گیا اور ڈالر کا جسم پھولتا اور سینہ چوڑا ہوتا گیا عوامی بے چینی میں آئے روز اضافہ ہوتا دیکھ کر پیا جی کے نمائندگان نے صبر کی تلقین کی اور آنے والے دنوں میں معاشی بہتری اور ملکی خوشحالی کی نوید سنائی عوام جو ملکی مضبوطی اور خوشحالی کے لئے گھاس کھانے کو تیار ہو جاتے ہیں ایک بار پھر صبر کا دامن تھام کر بیٹھ گئے وقت تیزی سے گزرنے لگا صبر کے 100 دن چھ ماہ تک جا پہنچے اور پھر بالآخر سال بھی تمام ہو گیا حالات خراب سے خراب تر ہوگئے سکے نے نہ چلنا تھا نہ اس سے چلا گیا-
سال سے زیادہ تمام تر ہمدردیوں، حمائیتوں اور سپورٹ کے باوجود سکہ رائج الوقت اپنا رنگ تو نہ دکھا سکا ہاں البتہ سال بھر کے استعمال کے بعد اس پر چڑھی قلعی اترنے لگی اور اندر کے داغ نمایاں دکھائی دینے لگے جوں جوں سکے کا کھوٹ سامنے آتا جا رہا ہے توں توں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے عوام کے مخالف جذبات بھی عیاں ہوتے چلے جا رہے ہیں ان جذبات کو لاوا بننے سے روکنا بہت ضروری ہے کہ یہ جذبات اگر آلاو کی صورت اختیار کرتے ہیں تو ملک کے لئے کسی طور بھی اچھے ثابت نہیں ہوں گے –

مذکورہ سنگین صورت حال کا اگر مجھے اور آپ کو احساس ہے تو ناممکنات میں سے ہے کہ پیا جی کو نہ ہو اس سے انکار نہیں کہ انہیں اپنی ٹکسال میں تیار کردہ سکے سے بہت پیار ہے مگر اس بات سےبھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ان کا اولین پیار اپنی دھرتی سے ہے جس پر مر مٹنے کا پیا جی نے حلف اٹھا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ سکے کا کھوٹ سامنے آنے کے بعد اب ایک بار پھر سے اس آزمودہ سکے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے جسے ناکارہ جان کر دور تاریکی میں پھینک دیا گیا تھا آزمودہ سکہ تاریکی میں بھی دکھائی ضرور دے رہا ہے مگر اس تاریکی سے اس وقت تک باہر آنے کو تیار نہیں جب تک اس کے دامن پر لگے داغ دھل نہیں جاتے اور یہ داغ ان دیواروں کے پیچھے موجود عظیم الشان عمارت میں بیٹھے اصحاب دانش و حکمت دھو سکتے ہیں جن دیواروں پر کبھی کھوٹے سکے کے چاہنے والوں نے اپنے گندے کپڑے سوکھنےکو ڈالے تھے-
نوٹ…اس تخیلاتی کہانی کو صرف کہانی سمجھ کر پڑھا جائے خواہ مخواہ کی مماثلت سے پرہیز صحت کے لئے بہتر رہے گا….!

SHARE

LEAVE A REPLY