ایک طرف ہماری وفاقی حکومت پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام پر تلی بیٹھی ہے اور اسکے قانون سازی کو عملی جامہ پہنانے کی تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ حالانکہ حکومتی مجوزہ قانون سازی اور پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی صحافظتی تظیموں ، وکلاء کی نمائندہ تنظیموں اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں مخالفت کر رہی ہیں۔ حکومت کے تیور دیکھ کر لگتا ہے کہ حکومت کا پی ایم ڈی اے کے قیام کا فیصلہ اٹل ہے۔
دوسری جانب صحافتی اداروں اور تنظیموں و صحافی کارکنوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے یہی وجہ کہ صحافی کارکن اسلام آباد میں ڈی چوک میں دھر ا دیئے بیٹھے ہیں۔ ہماری اطلاعات کے مطابق ان احتجاجی صحافی کارکنوں نے اپنے قائدین کے شانہ بشانہ صدر مملکت عارف علوی کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقعہ پر پاور فل احتجاج کیا اور (صدر عارف علوی کے خطاب کا بائیکاٹ کرتےہوئے پارلیمنٹ سے واک آوٹ کرگئے۔ ہماری پالیمنٹ سے صدارتی خطاب کے باییکاٹ کی اطلاع درست ثابت نہ ہوئی) واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ حکومت نے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اسپیکر ققمی اسمبلی اسد قیصر کو یقین دہانی کروائی تھی کہ اطمینان رکھیں صحافی مشترکہ اجلاس ست صدر کے خطاب کے دوران اختجاج کریں گے اور نہ ہہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود حکومت نے صحافیوں کے پارلہمنٹ ہاوس داخلے پر پابندی لگا دی۔جو ناپسندیدہ اقدام کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جایے گا۔
پارلیمنٹ کے اس مشترکہ اجلاس کی دلچسپ منظر کشی اس وقت دیدنی تھی جب صدر مملکت عارف علوی نے اپنے خطاب کے دوران میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پریس گیلری کی جانب نظر دوڑائی تو گیلری خالی تھی۔ حکومت حکام کی عجلت کا اندازہ اا بات سے لگائیں کک حکومت کے ان حکام جنہوں نے صدر کی تقریر ” او کے ” کی تھی انہیں علم ہی نہیں تھا کہ صدر کے خباب کے موقعہ پر پریس گیلری خالی ہوگی ورنہ وہ خطاب کے اس حصہ کو حذف کر دیتے جس میں انہوں نے میڈیا کا شکریہ ادا کرنا تھا۔
وفاقی حکومت کی طرف سے اس اقدام کے بارے میں کوئی وضاحتی بیان تو نہیں آیا لیکن وزارتِ داخلہ کے ایک ذریعے کے مطابق خفیہ اداروں نے حکومت کو رپورٹ دی تھی کہ صدر کے خطاب کے دوران صحافی پریس گیلری سے اس بل کے خلاف نعرے بازی کرسکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خفیہ حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز میں پارلیمان کے مشترکک اجلاس سےصدر مملکت کے خطاب کے دوران سروسز چیفس کے علاوہ غیر ملکی سفارت کار بھی ہوں گے، اس لیے ان کی موجودگی میں صحافیوں کی جانب سے اجلاس میں نعرہ بازی اور بائیکاٹ کی صورتحال سے حکومت کی سُبکی ہوگی۔ اس حکومتی خدشہ نے پارلیمان میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی کا اقدام اٹھوایا۔
نہ جانے حکومت کو کیا سوجھ رہی ہے کہ اس نے الیکشن کمیشن کے ساتھ بھی محاذ کھول رکھا ہے ممکن ہے حکومت کو الہکشن کمیشن سے جو شکایات ہیں وہ جائز ہوں انکا تدارک بھی ممکن ہے اس کے لیے حکومت سپریم کورٹ بھی جاکر ریلیف حاصل کر سکتی ہے لیکن حکومت نے الیکشن کمیشن پر کرپشن کے الزامات لگا کر کمہشن کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی ہے۔
حکومت کے پالیسی سازوں کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیئے اور میڈیا کو نکیل ڈال کر تابع فرمان بنانے کی کوشش ترک کر دینی چاہیئے اور اس کے ساتھ حکومت کو الیکشن کمیشن سے بھی مخاصمت ترک کرکے عوام کی مہنگائی سے خان چھڑانے کے اقدامات کرنا ر نا چاہیئیں تاکہ 2پ23 کے انتخابات میں تحریک ا صاف کا بھرم قائم رہ سکے۔ حکومت کے پالیسی سازوں کو اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا کہ پاکستان کی تاریخ میں جش نے بھی میڈیا کو ” قابو” کرنے کے ختن کیے اس ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ہے۔
پاکستان میڈیآ ڈویلپمنٹ اتجارٹی کے قیام کے خلاف سراپآ اختجاج صحافی برادی سے بھی گزارش ہے کہ کیآ پی ایم ڈی اے کی زد میں صرف کارکن صحافی ہی آئیں گے یا الیکٹرانک میڈیا کے مالکان بھی اس کے شکنجے میں آئیں گے ؟ اگر وہ بھی اس اتھارٹی سے متاثر ہونگے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پآکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن اور اے پی این ایس کیوں اختجاج سے باہر ہیں ؟ اس جآ نب پی یو جے، پی ایف یو جے اور پریس کلبوں کے نمائندوں کو اس پر بھی غور کرنا ہوگا۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ اگر پی بی اے پی ایم ڈی اے کی متاثرین ہوگی تو پھر اس نے صدر کا پارلیمان سے خطاب نشر کیوں کیا اسے چاہیے تھا کہ وہ بطور اختجاج صدر کے خطاب کو روک لیتی مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ پی بی اے کے اس طرز عمل اور صحافیوں کے اختجاخ سے الگ تھلگ رہنے کا مطلب کیا ہے؟













