اسلام کا اصل تصور جہاد ظلم کی سرکوبی اور اس کا خاتمہ ہے۔
وزیر اعظم نے ریاست مدینہ کا پاک ، مقدس اور عدل پر مبنی تصور پیش کرکے ایک عدل و انصاف کو ترسی بھوکی قوم کو گویا روٹی کے ٹکڑے کا لالچ دے دیا ، پے در پے ظالمانہ واقعات کے باوجود عوام حسن ظن سے کام لیتے ہوئے پتھرائی آنکھوں سے کسی معجزے کی منتظر ہے ۔ مگر حاکمیت الہیہ پر ایمان رکھنے والی پاکستانی قوم جب کھلی آنکھوں سے چند ظالم ، جابر ، تنگ نظر ، متعصب اور ہوس پرستوں کا راج دیکھتی ہے تو بے اختیار انسانیت پر سے اعتبار اٹھتا نظر آتا ہے ۔
کیونکہ انسانیت نہ ہو تو طاقت سے بڑا فساد کوئی نہیں ۔ اس کی ایک بڑی مثال ہمیں حال ہی میں نظر آئی جب ایک معتبر ، باوقار ، با کردار صحافی اور قوم کی پاک باز بیٹی ادارہ دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کی سربراہ و مدیر اعلی منزہ سہام مرزا
کو انصاف کے لئے در بدر بھٹکتے دیکھا ، جو گزشتہ دس سالوں سے ایک ظالم اور جابر انسان کے مذموم ارادوں ، سازشوں اور بلیک میلنگ کا تن تنہا مقابلہ کر رہی ہیں مگر تا حال انھیں انصاف نہیں مل سکا۔
منزہ سہام کا صحافتی کردار اور سماجی مرتبہ اتنا بے مایہ ہر گز نہیں ہے کہ انھیں اپنے اور بچوں کے لئے ظلم کے خلاف انصاف کے حصول کے لئے یوں مارا مارا پھرنا پڑے۔
آج جب منزہ سہام کو اس مشکل وقت میں حکومت وقت کی طرف سے کسی منصفانہ اقدام کی ضرورت ہے ہم مصنفین دوشیزہ و سچی کہانیاں پوری نیک نیتی سے منزہ سہام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔
جو حرف حق کی حمایت میں ہو وہ گمنامی
ہزاروں وضع کے نام و نشاں سے بہتر ہے۔
ہم وزیر اعظم پاکستان دعویدار ریاست مدینہ جناب عمران خان صاحب سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ قوم کی بیٹی ، علم و ادب کی قد آور شخصیت مرحوم سہام مرزا کی صاحبزادی منزہ سہام مرزا کے لئے انصاف کا حصول جلد از جلد ممکن بنایا جائے اور منزہ سہام کو ان کے سابق شوہر کے ظلم و بربریت سے نجات دلائیں ۔
وزیر اعظم صاحب ۔۔۔۔۔۔ آپ نے ریاست مدینہ کا جو نعرہ لگایا ہے اس کے تحت حاکمیت الہیہ کا بنیادی تقاضہ یہی ہے کہ حق کا ساتھ دیں ۔ حرف حق کی حمایت کریں کہ ظلم کا خاتمہ اور مظلوم کی دادرسی آپ کا اولین فریضہ ہے ۔۔۔۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں ۔۔۔۔
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
فرح اسلم قریشی













