میرے اہل وطن تم کو مبارک ہو
مدینے کی ریاست بن چکی ہے
یہاں پر چار جانب امن ہے اب
کوئی خطرہ نہیں ہےجان کا اس سرزمیں پر
کوئی بھی ظلم کرسکتا نہیں شہر حزیں پر
فقط رحمت کی بارش ہر مکیں پر
یہاں پر اب کوئی بھوکا نہ ہو گا
گھروں کو اب مقفل کر کے سونے کی ضرورت تک نہیں ہے
محبت ہی محبت ہے کدورت تک نہیں ہے
چھتوں پر سرمئی خالی منڈیروں پر بسیرا فاختاؤں کا ہوا ہے
گھروں کی کھڑکیوں پر امن کا پیغام بس لکھا ہوا ہے
مدینے کی ریاست بن چکی شاہ مدینہ
مگر ہم دونوں بہنیں ایک بھائی
گنوا بیٹھے ہیں اپنی ماں بہن اور باپ اس سارےعمل میں
ہمیں اپنے گناہ اپنی خطا کا علم بھی اب تک نہیں ہے
ہماری ساکت و جامد نگاہوں میں ابھی تک اپنے پیاروں کی لہو میں
تھرتھراتی گرم لاشیں
جیسے زندہ ہیں
ہماری ماں ابھی بھی ہم یہ ہی کہہ رہی ہے
مدینے کی ریاست کے لیئے غربت زدہ لوگوں کو مرنا تو پڑے گا
گھروں کے آنگنوں میں سر بریدہ بے کفن لاشوں کا ماتم
کرنا تو پڑے گا
سنو اہل وطن اب آپ سے بس اتنا کہنا ہے
ہمارے جیسے بچوں کو گھروں سے لےکے مت نکلیں
کہ سڑکوں پر تو قبضہ موت کا ہے
اگر رہنا ہے زندہ تو سنو اس زندگی کا صرف رستہ موت کا ہے
تم اپنے پھول اپنے گھر میں رکھو
ہماری خالی آنکھوں میں لکھے نوحے کو پڑھ لو
ہمارا مرثیہ چہروں پہ لکھا ہے ہمارے
ہمیں بس یہ بتا دیں اس مدینے کی ریاست کے جو والی ہیں
ریاست ماں ہے اور ماں اپنے بچوں کو بھی کھاتی ہے؟
چلو جو بھی ہوا دو چار دن میں بھول جائیں گے اسے حاکم ہمارے
کہ اگلے دن نئے ایسے ہی کتنے حادثوں کے منتظر ہیں
مگر تاریخ حاضر کی یہ کتنی خوش نصیبی ہے
مدینے کی ریاست بن چکی ہے
خبر شاہ مدینہ تک یہ پہنچے
صفدر ھمٰدانی












