مبارک ہو مدینے کی ریاست بن چکی ہے۔صفدر ھمدانی

0
1270

میرے اہل وطن تم کو مبارک ہو
مدینے کی ریاست بن چکی ہے
یہاں پر چار جانب امن ہے اب
کوئی خطرہ نہیں ہےجان کا اس سرزمیں پر
کوئی بھی ظلم کرسکتا نہیں شہر حزیں پر
فقط رحمت کی بارش ہر مکیں پر
یہاں پر اب کوئی بھوکا نہ ہو گا
گھروں کو اب مقفل کر کے سونے کی ضرورت تک نہیں ہے
محبت ہی محبت ہے کدورت تک نہیں ہے
چھتوں پر سرمئی خالی منڈیروں پر بسیرا فاختاؤں کا ہوا ہے
گھروں کی کھڑکیوں پر امن کا پیغام بس لکھا ہوا ہے
مدینے کی ریاست بن چکی شاہ مدینہ
مگر ہم دونوں بہنیں ایک بھائی
گنوا بیٹھے ہیں اپنی ماں بہن اور باپ اس سارےعمل میں
ہمیں اپنے گناہ اپنی خطا کا علم بھی اب تک نہیں ہے
ہماری ساکت و جامد نگاہوں میں ابھی تک اپنے پیاروں کی لہو میں
تھرتھراتی گرم لاشیں
جیسے زندہ ہیں
ہماری ماں ابھی بھی ہم یہ ہی کہہ رہی ہے
مدینے کی ریاست کے لیئے غربت زدہ لوگوں کو مرنا تو پڑے گا
گھروں کے آنگنوں میں سر بریدہ بے کفن لاشوں کا ماتم
کرنا تو پڑے گا
سنو اہل وطن اب آپ سے بس اتنا کہنا ہے
ہمارے جیسے بچوں کو گھروں سے لےکے مت نکلیں
کہ سڑکوں پر تو قبضہ موت کا ہے
اگر رہنا ہے زندہ تو سنو اس زندگی کا صرف رستہ موت کا ہے
تم اپنے پھول اپنے گھر میں رکھو
ہماری خالی آنکھوں میں لکھے نوحے کو پڑھ لو
ہمارا مرثیہ چہروں پہ لکھا ہے ہمارے
ہمیں بس یہ بتا دیں اس مدینے کی ریاست کے جو والی ہیں
ریاست ماں ہے اور ماں اپنے بچوں کو بھی کھاتی ہے؟
چلو جو بھی ہوا دو چار دن میں بھول جائیں گے اسے حاکم ہمارے
کہ اگلے دن نئے ایسے ہی کتنے حادثوں کے منتظر ہیں
مگر تاریخ حاضر کی یہ کتنی خوش نصیبی ہے
مدینے کی ریاست بن چکی ہے
خبر شاہ مدینہ تک یہ پہنچے
صفدر ھمٰدانی

SHARE

LEAVE A REPLY