معروف شاعرہ، فکشن نگار اور مترجم محترمہ فہمیدہ ریاض اب ہم میں نہیں رہیں ۔ وہ کچھ مہینوں سے شدید علیل تھیں اور اپنی بیٹی کے ہاں لاہور میں مقیم تھیں۔ ارج مبارک نے بتایا ہے کہ کل ہی محترم شمیم حنفی اور ان کی محترمہ فہمیدہ ریاض سے بات ہوئی تھی ۔ اور جیسے طے ہواکل ان سے ارج کی ملاقات متوقع تھی مگر اب اچانک ان کی رحلت کی خبر آگئی ۔ اناللہ واناالیہ راجعون
اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے انور سین رائے کو بتایا تھا
فہمیدہ ریاض یرٹھ میں اٹھائیس جولائی انیس سو پینتالیس کو پیدا ہوئی تھیں ۔ والدین آزادی سے پہلے ہی آ گئے تھے، سندھ میں رہتے تھے۔ تو یہیں پر پڑھی تمام تعلیم یہیں پر حاصل کی۔ تمام تو کیا ایک حد تک۔ کالج میں یہاں پڑھی۔ یونیورسٹی میں یہاں تھی، پھر سکسٹی سیون میں انگلینڈ چلی گئی۔ وہاں کچھ عرصے بعد انہوں نے بی بی سی میں کام کیا تھا۔
ضیاالحق کے زمانے میں، اس پر بڑے مقدمات وغیرہ قائم کیے گئے تھے۔ اس وقت بہت سے (لوگ) ملک چھوڑ کر جا رہے تھے وہ بھی چلی گئی۔ ہندوستان رہی۔ مارچ ایٹی ون میں گئی تھی ایٹی سیون دسمبر میں واپس آئی۔ سات برس ہندوستان میں رہی۔ پہلے وہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’پوئٹ ان ریذیڈنس‘ تھی۔ پھر سینئر ریسرچ فیلو رہی ’آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف سوشل ریسرچ‘ کی اور آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل ریسرچ کی۔ اس کے بعد پاکستان میں تھی۔ پاکستان میں جب تبدیلی آئی تھی تو اسلام آباد میں تھی ، چئر پرسن نیشنل بک کونسل آف پاکستان۔ اس کے بعد منسٹری آف کلچر کی کنسلٹنٹ رہی کچھ عرصے۔ پھر نائنٹی سکس، نائنٹی سیون میں اپنی ایک این جی او رجسٹرڈ کروائی۔ ’وعدہ‘ اس کا نام تھا۔ ویمن اینڈ ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن۔ بنیادی طور پر تو میں یہ چاہتی تھی کہ یہ ایک پبلشنگ ہاؤس بنے جو بچوں اور عورتوں کے لیے کتابیں چھاپے۔ مگر ساتھ ساتھ پھر دوسری چیزیں بھی تھیں، کانفرنسیں کروانا۔ سیمینار منعقد کرنا۔ یعنی کتابیں بنانے کے سلسلے میں دوسری بھی بہت ساری سرگرمیاں تھیں، وہ جاری رہیں۔ وہ ادارہ ہے اپنی جگہ۔
یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرا
یہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھل
یہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آ رہا ہے
یہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیں
لہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہے
یہ چھوٹتی نبض، رکتی دھڑکن، یہ ہچکیاں سی
گلاب و کافور کی لپٹ تیز ہو گئی ہے
یہ آبنوسی بدن، یہ بازو، کشادہ سینہ
مرے لہو میں سمٹتا سیال ایک نکتے پہ آ گیا ہے
مری نسیں آنے والے لمحے کے دھیان سے کھنچ کے رہ گئی ہیں
بس اب تو سرکا دو رخ پہ چادر
دیے بجھا دو













