کیا دنیا کے کسی بھی اسلامی ملک کے لوگ اور قوانین اتنے کھلے ذہن ، اعتماد اور بھروسے سے بھرپور ہیں کہ اپنے ملک پر کسی غیر قوم اور اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والے کو ملک کی حکومت کا سربراہ بنا دیں. دنیا بھر کے مسلمان ممالک کے لوگوں کو مذھبی دین فروشوں نے بنیادی طور پر ، شدت پسند، برداشت سے عاری ، تنگ نظر ، فرقہ پرست ، بے یقینی کی ماری قوم بنا دیا ہے. پاکستان کے تو آئین میں ہی لکھا ہوا ہے کہ سربراہ حکومت مسلمان ہوگا….یعنی یہ نظریہ ہی انتہا درجے کی نسل پرستی کی گندی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے. دوسری ہر قوم مذہب کے لوگوں کا اس طرح سے استحصال کیا جاتا ہے تاکہ ان اقوام اور مذاہب کے لوگ پاکستان کی ہائیر پوسٹس پر پہنچ نہ سکیں. اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب نام کے مسلمان چاہے یہ وردی پہنے جنرلز ہیں یا ملک کو لوٹنے والے سیاستدان ہیں یا دین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ملاں ہی پاکستان کی جڑوں میں حقے کا پانی لگا رہے ہیں . یہ سب اصول کفار مکہ کے بناے ہوے دور جاہلیت کے اصول تھے جو اک کے پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں کار فرما نظر آتے ہیں.
اس صورتحال کے برعکس مغربی اقوام کھلے ذہن ، نسل پرستی کیخلاف سخت قوانین اپنا کر ہر مذھب، قوم، رنگ و نسل کے لوگوں کو معاشرتی ترقی میں برابری کے اصول پر آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں . یہ اصول قرآن کے ہیں. پوسٹ کیساتھ جو دو تصاویر ہیں ان میں سے ایک تصویر حال ہی میں منتخب ہونے والے ہندو قوم سے تعلق رکھنے والے برٹش پرائم منسٹر رشی سناک کی ہے اور دوسری تصویر چند دن پہلے منتخب ہونے والے پاکستانی قومیت کے مسلمان سکاٹش پرائم منسٹر حمزہ یوسف کی ہے.
سوچنے کی بات اور لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا پاکستان یا اس کے سمیت کوئی اور سو کالڈ اسلامی ملک ایسا کبھی ہونے دیگا کہ اسکی حکومت کا سربراہ کوئی غیر مسلم جو غیر قوم سے ہو بن جائے…جس روز ایسا ممکن ہو گیا اس دن مسلمان ممالک بھی اندرونی طور اس قدر مضبوط ہو چکے ہوں گے کہ انکے اندرونی نظام خود بخود ایسے لوگوں کو سامنے لائیں گے جو رنگ نسل مذہب کی تفریق سے آزاد ہو کر کسی اسلامی ملک کی تعمیر و ترقی میں پورے یقین ، اعتماد اور قومی بھروسے کے بل بوتے پر صرف جذبۂ حب الوطنی کی بنیاد پر برابری کے اصولوں پر شریک ہوسکیں گے.
موجودہ پاکستان تو عصبیت پرستی کے گند میں ڈوبا ہوا ملک ہے جو بہت تیزی سے جہالت کے اندھے گڑھے میں گرتا چلا جا رہا ہے ….جس ملک کی محافظ فوج کو پیسہ کمانے اور ملک پر حکومت کرنے کا چسکا پڑ جائے وہ سرحدوں کی حفاظت کیا خاک کریگی. آپ کو شائد علم نہیں ہو گا کہ پاکستان کے سب سے زیادہ منافع بخش کاروباری ادارے فوج کے کنٹرول میں ہیں. جن پر کوئی سویلین حکومت پوچھ گچھ نہیں کر سکتی. یعنی اگر سیاستدان کرپشن سے بھرپور ، رشوت خور گھٹیا اور کمینے انسان ہیں تو بڑے جنرل جو پاکستان کے محب وطن سپاہیوں کو کنٹرول کرتے ہیں انکے دانت بھی اس ملک کی تکہ بوٹیوں کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں. حال ہی میں ریٹایر ہونے والے جنرل باجوہ کو آپ دبئی اور یورپی ممالک کی سڑکوں پر ہرامخوری کرتے دیکھ سکتے ہیں مگرپاکستان کے اس دغا باز سپوت میں اتنی جرات نہیں کہ پاکستان کے بازاروں میں اس طرح سر عام گھوم سکے. اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک چور جنرل اور دو نمبر بندہ تھا. جو اپنی کمینگی کی کالی سیاہی پاکستان کے چہرے پر چوروں دغا بازوں غنڈوں موالیوں کی حکومت بنا کر مل گیا.
پاکستان کی تاریخ کو اگر شروع سے دیکھیں تو ابتدا میں یہ حالات نہیں تھے بلکہ آجکل کے یورپ کی طرح پاکستان ایک معاشرتی رواداری ، انصاف پسندی ، کھلی ذہنیت سے بھرپور ملک نظر آتا ہے. جو چین سمیت یورپی ممالک کو قرضے بھی دیا کرتا تھا مگر جیسے جیسے مذہب کا ڈنڈا غیر مذاہب کے لوگوں کو دیا گیا ویسے ویسے پاکستان کی تنزلی شروع ہوتی گئی اور وہ قوتیں جو ابتدا سے پاکستان کے بننے کے خلاف تھیں وہ پاکستان کے حکومتی ایوانوں میں آتی گئیں اور یوں پاکستان کے آئین کا ستیا ناس ہوتا گیا.
اب تو صرف گدھ رہے گئے ہیں جن میں کچھ وردی پہنے ہوئے ہیں ، کچھ بہروپئے سیاستدانوں کی شکل میں اور کچھ سفید کلے پہنے اللہ اللہ کرتے ہوے مادر وطن کی لاش کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں. بس اب یہ سارے گدھ ملکر یہ سب کر رہے ہیں پاکستان کیساتھ اور پتہ ہے اس سڑاند چھوڑتی آدھ موئی لاش کے اندر مجبور لاچار بے بس بیکار عوام سنڈیوں کی شکل میں ہیں جن کو گوشت کیساتھ یہ سارے گدھ کھاتے چلے جا رہے ہیں.
میری باتوں کا غصہ نہ کرنا بلکہ سوچنا کہ بحیثیت قوم کہاں پر کیا کیا غلط ہو رہا ہے اور اسکو کس طرح ٹھیک کیا جا سکتا ہے. کس طرح اس آنکھوں کے سامنے مردہ ہوتی قوم اور دم توڑتے وطن کے جسم میں دوبارہ جان پیدا کی جاسکتی ہے . کس طرح ان گدھوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے. تاکہ آنے والی تمہاری نسلیں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کر سکیں !
مگر کیا کیا جائے ابھی تو فلم باقی ہے !
(ارحم علیم )













