منزہ سہام اپنے ہر عمل میں آزاد ہیں، فرحی نعیم

0
533

پم جس مذہب کے پیروکار ہیں، اس پر ہمیں ناز ہے، کیوں کہ یہ واحد مذہب ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف، مساوات اور برابری کے اصولوں پر کار فرما ہے۔ یہاں کسی کو کسی پر فوقیت نہیں۔ امیر، غریب، کالا، گورا، مرد، عورت، ہاں اگر درجه فضیلت ہے تو صرف تقوی کی بنیاد پر، ورنہ الله تعالیٰ کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔
بحثیت خاتون، الله پاک نے مجھے وہ تمام حق دیے ہیں، جو مردوں​ کو حاصل ہیں، اور موجودہ دور میں ترقی یافتہ اور نام نہاد تہذیب یافتہ اقوام کو بھی حاصل نہیں۔ ایک عورت کو بھی آزادی سے زندگی گزار نے اور اپنی پسند سے شوہر کے انتخاب کا اتنا ہی اختیار ہے، جتنا ایک مرد کو ، بیوی رکھنے کا، دین اسلام کہیں بھی، زور زبردستی اور جبر کا قائل نہیں۔
میں یہاں بات کرنا چاہوں گی، معروف اشاعتی ادارے، کی روح رواں، اور ہماری قابلِ احترام صحافی محترمہ منزہ سہام مرزا کی جو اپنے والد کے بعد دو مشہور، ڈائجسٹ، دوشیزہ اور سچی کہانیاں کی مدیره، ہیں​ اور بڑے احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ لیکن آج کل اپنے سابقہ شوہر، جمیل احمد، جوتحریک انصاف کے ایم این اے ہیں، ان کی شر انگیز یوں کے ہاتھوں جھوٹے مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔ محترمہ منزہ، نے جمیل احمد کی زیادتیوں کو مسلسل پچھلے دس سالوں سے برداشت کے بعد اب سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے۔
ایک حدیث کے مطابق، مسلمان ایک جسم کے مانند ہیں، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو، تو سارا جسم دکھتا ہے، تو ساری صحافی برادری اور قلمکار بہنیں منزہ سہام کے ساتھ ہیں اور ہم احتجاج کرتے ہیں تحریک انصاف سے کہ منزہ کو انصاف دلایا جائے اور سابقہ شوہر کے ظلم سے نجات دلائی جائے۔
جمیل احمد کا خلع کے بعد اب ان سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔
منزہ سہام اپنے ہر عمل میں آزاد ہیں، اور یہ حق انہیں دین اسلام اورملکی قانون دیتا ہے

فاری نعیم

SHARE

LEAVE A REPLY