غلط ہوں میں تو بتا دے مجھے خطا میری
نہیں تو کر دے حوالے مرے جزا میری
مرا سفر تو مری ذات میں رہا محدود
کہاں ملے گی کہیں گردِ نقشِ پا میری
رہی نہ جسم کے بس میں کبھی گدازیئ روح
مسکتی رہتی ہے یہ خاک سی قبا میری
رہے غنیم ہمیشہ مری ہی قوم کے لوگ
مری ہی قوم پہ جاری رہی عطا میری
مرا ہی سر سرِ نوکِ سناں بلند رہا
سروں سے میرے ہی چھینی گئی ردا میری
سوالِ بیعتِ فاسق کا حشر دیکھ چکا؟
مرے لہو سے کبھی پیاس مت بجھا میری
زمانہ جانے تو مفتی کہ ظلم کس نے کیا
ہمیشہ اپنی ہی مت کہ، کبھی سنا میری
درونِ قلب ہے آماجگاہِ نوحہ گراں
کبھی سکون سے حالت کو سوچنا میری
عجیب حال ہے دل کا، غزل نہیں ہوتی
کچھ اچھی باتوں سے شامیں کبھی سجا میری
غرورِ قوتِ گویائی چور چور ہے آج
زبان کہتی ہے کیا آج دیکھنا میری
کسی کو، تاج پہ کیا گذری، کچھ خبر ہی نہیں
رہی ہے خاک مصیبت میں مبتلا میری
حسین تاج رضوی
لکھنؤ














مایوس ادبی فضا میں یہ خشکن لہجہ سبحان اللہ