حیرت ہے کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی ,منزہ سہام مرزا

0
894

اخلاقی طور پردیوالیہ ہونا کیاہوتا ہے اب تو اکثر و بیشتر نظر بھی آتا ہے اور واسطہ بھی پڑتا رہتا ہے۔ نہ بڑوں کے لیے احترام نہ لحاظ لوگوں کو جیسے منہ کی بواسیر ہوگئی ہو’ چند جملے گلوکار علی عظمت کے میری سماعتوں پر کھولتے ہوئے تیزاب کی طرح گرے کیا علی عظمت نے اپنے بڑوں سے یہی کچھ سیکھا تھا جو وہ ملکہ ترنم نور جہاں صاحبہ کے لیے بول رہے تھے؟ قابل مذمت وہ لب و لہجہ تو ہے ہی جو پاکستان کی مشہور گلوکارہ اور اداکارہ کے لیے زہر اگل رہا تھا مگر اس سے بھی بڑھ کر حیف افسوس ہے اس تربیت پر جو یہ نہ سکھا سکی کہ بڑوں کا ادب لازم ہوتا ہے لیکن یہ بات چھوٹے اور کم ظرف لوگ کہاں سمجھ سکتے ہیں۔ بڑوں کو ہی نہیں چھوٹوں کو بھی عزت دی جانی چاہیے تاکہ وہ جب خود بڑے ہوں تو اس احترام سے ناآشنا نہ ہوں جو انہیں اپنے بڑوں کو دینا ہے۔ فضول گوئی سخت ناپسندیدہ عمل ہے مگر احترام سے عاری لب و لہجہ ناقابل برداشت ۔
اگر ایک اور شخصیت کا ذکر آج نہ کروں تو شاید کسی کو فرق نہ پڑے مگر میرا ضمیر کچوکے ضرور لگاتا رہے گا ایک موصوف ہیں جن میں انداز مسیحائی ناپید اور نیاز مندی کا تو شائبہ بھی نہیں جی ہاں میں ڈاکٹر نعمان نیاز کی بات کررہی ہوں جنہوں نے سرکاری ٹی وی پر بیٹھ کر ہمارے ہیرو شعیب اختر کو انتہائی درشت لہجے میں چلے جانے کو کہا۔ ضروری تو نہیں کہ سرکار سے کوئی نہ کوئی تعلق ہو اور انداز میں حاکمیت اور رعونت بھی ہو یہ دونوں تازہ ترین مثالیں جو ثابت کرتی ہیں کہ محض جاہل ہی تمیز و تہذیب سے عاری نہیں ہوتے بلکہ کچھ پڑھے لکھے بھی ادب و احترام کے معنی نہیں جانتے ویسے سچ پوچھیں تو اب کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی بقول شاعر
اب دل بھی دکھائو تو اذیت نہیں ہوتی
حیرت ہے کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی
منزہ سہام مرزا

SHARE

LEAVE A REPLY