اللہ سبحانہ نے قرآن میں سورہ والعصر نازل فرما کر وقت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اس کا تقاضہ یہ تھا کہ آپ کو شروع سے ہی یہ طے کر لینا چاہیئے تھا کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں جنہیں انگریزی میں ترجیحات کہتے ہیں۔ اس سے اگر فائدہ اٹھا تے تو ہم اپنے کاموں میں کبھی پیچھے نہیں ہوتے؟ بلکہ ان سے کہیں آگے ہوتے جنہوں نے اور سب سے پہلے مقاصد ایزدی کو ہمارے ذریعہ سمجھا اور وہ ہم سے آ گے نکل گئے۔ جنہوں نے نہیں سمجھا وہ انہیں سے پیچھے رہ گئے۔ آج تک وہ پیچھے ہی چل رہے ہیں؟ بہت سے مسلمان کہیں گے کہ اس میں آخر ایسی کیا بات ہے جو کہ آپ اتنی ترجیح دیر رہے ہیں ترجیحات کو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت امام شافعیؒ تو یہاں تک فرما گئے ہیں اس کی تفسیر میں !کہ اگر اللہ سبحانہ تعالیٰ قرآن کی صرف یہ ہی ایک صورت نازل فرما دیتے تو کافی تھی؟ یہ نگاہ، نگاہ کا فرق ہے یعنی اپنی نگاہوں کا پھیر ہے؟کہ کھڑکی سے دومنزلے پر کھڑے ہو کر ہر ایک اپنی وسعت اور ضرورت کے مطابق کسی ایک چیز پر اپنی نگا ہیں مرتکز کر تا ہے۔ حالانکہ وہاں بہت کچھ موجود ہوتاہے مگر بقول علامہ اقبال ؒ وہ اہلِ نظر کے لئیے ہوتا ہے؟ ہم پورا کا پورا قر آن ایمان لانے کے بعد پڑھ جا تے ہیں؟ اگر اس پر غور کریں کہ اس میں لکھا کیا ہے جس کی دعوت قرآن دے رہا ہے تو وہ ہر قاری کی آنکھیں کھول دینے کے لیئے کافی ہے۔ وہیں وہ عبارت بھی نظر آئے گی جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرما یا کہ اگر میں سورہ فاتحہ کی تفسیر کرو ں تو وہ اسی اونٹوں پر لادی جا ئی گی؟اس میں بسم اللہ کو بھی شامل کر لیں تو سات ہی آیتیں ہیں ورنہ چھ ہیں؟ میرا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ کھڑکی میں سے جھانکنے کی والے کی صلاحیت پر یہ منحصر ہے کہ وہ اپنے لیے کیا منتخب کرتا ہے، ورنہ سڑک پر تو ہر چیز موجود ہے؟ جبکہ سورہ العصر میں تین ہی آ ٓیات ہیں۔ تین کے مقابلہ میں ساتھ یا چھ دگنی ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ آخر ان تین آیات میں ایسی کیا بات ہے۔ کہ اس کو نازل فرمانے سے پہلے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عصریعنی زمانے کی قسم کھا ئی ہے جس کو ہمارے بعض مفسرین نے وقتِ عصر کی قسم فرمادیا ہے ہم اس علمی بحث کو چھوڑتے ہوئےاصل مو ضو ع کی طرف آتے ہیں؟ ٰیہاں فرمان باری تعالیٰ یہ ہے کہ “جس نے بھی اپنا وقت سوائے ان چیزوں کے کسی اور کام میں خرچ کیا وہ نقصان میں ہے ً“وہ تین چیزیں ہیں کیا دنیا میں پہنچ کر ایمان لانا، پھر اس کے مطابق عمل کرنااور پھر دوسروں کو حق پر چلنے کی تلقین کرنا اوراس راہ میں جو مشکلات آئیں ان پر صبر کرنا؟ غور فرما ئیں کہ اس میں انسان کو یہاں بھیجنے کا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پورامقصد بیان فرمادیا ہے؟ جس سے آنے والے کا مقصد وابسطہ ہے۔ اور اس راہ میں آنے والی تمام تکلیفات سے بھی آگاہ فرما کر سب کو برداشت کرنے کو فرمادیا گیا ہے؟ جبکہ برداشت کادور حضور ﷺ کا 13 سال ہے جبکہ نوح کا ؑ تقریباً ایک ہزار سال کے قریب ہے؟ جبکہ حضور ﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ “میں نبیوں ؑ سب سے زیادہ آزمایا گیا ہوں“ اگر آپ انﷺ کی سیرت پڑھیں گے تو پتہ چل جا ئے گا کہ وہ کونسی تکلیف تھی جوحضور ﷺ کو نہیں پہنچی لیکن انہوں نے اپنی رو ش نہیں تبدیل فرما ئی؟ یہ چھوٹا سا مضمون میں حضور ﷺ کا سیرت نگار ہونے کی بنا پر میں بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک صفحہ ان کا احاطہ کرنے کے لئے قطعی نا کافی ہے۔ اگر اس کو کوئی پوری طرح پڑھے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یعنی جو لوگ اس میدان میں آئیں توسیرت ِ طیبہ ﷺ سے سبق لے کر آئیں، پھر آگے بڑھیں؟ لیکن وہ ﷺ خودانکا خاندان اور صحابہ ِ کرام اور صحابیات منورات کو بھی پڑھیں تو انہیں پوری روشنی اور اس راہ پر چلنے اور سمجھنے کے تمام مضمرات نظر آ جا ئیں گے؟
ایک صدی پہلے تک یہ دنیا چرخے کے دور میں تھی؟میں یورپ کے بارے میں نہیں کہہ سکتا کے وہ کتنی صدیوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہاتھا؟ مگر ہندوستان میں، میں نے دیکھا کہ صرف ایک صدی میں یہ چرخے سے نکل کر کمپوٹر کے دور میں پہنچ گیا؟ مگر مسلمان سوچتے ہی رہے کہ لاوڈ سپیکر استعمال کریں یانہ کریں؟ مگر ہمارے علماء ابھی تک فائنل نہیں کرسکے کچھ خطبوں تک کہتے ہیں کہ استعمال ہوسکتا ہے، مگرنماز میں نہیں لہذا وہ ابھی بھی نماز میں استعمال نہیں کر پا ئے تھے کہ اب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کرونا بھیج کر سب کچھ بدل دیا ہے؟ اب ایسے آلات بن گئے ہیں کہ آپ ہزاروں میل دور بیٹھ کر سننے اور سنانے والے دونوں کی شکلیں بھی دیکھ سکتے ہیں بات بھی سن سکتے ہیں؟ آپ جلد ہی دیکھیں گے کہ جسطرح پہلے لوگ مذ ہبی اور دوسری تقریبات میں جمع ہوا کرتے تھے اب نہیں ہونگے؟ سب سے زیادہ نقصان علما ء کرام کا ہوگا؟ اب ہر مسئلے کا جواب لینے کے مولوی صاحب کے پاس اس طرح لوگوں کو جا نے کی ضرورت نہیں پڑیگی۔ مولانا گوگل سے ایک سیکنڈ میں وہ گھر بیٹھے بغیر نیازی اور چراغی کے ہزاروں جوابات وہ حاصل کر سکیں گے؟ ان میں سے انتخاب کرنا ہرایک کی اپنی صلاحیت پر منحصر ہوگا؟ اب صورت ِ حال یہ ہے کہ ہم انتہائی فضول خرچ بن چکے جن کے بارے میں قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ “ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ً“ اور ایک دوسری آیت میں فرمادیا کہ “ شیطان اللہ تعالیٰ کا ناشکرا ہے اب آپ ہی بتا ئیے کہ شیطان کا اتباع کر کے ہم کہاں کھڑے ہیں، ہم اپنامقام خودتلاش کرلیں؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کرونا کی شکل میں ہمیں یہ یاد دلایا ہے کہ ہم کدھر جارہے ہیں؟ ہم نے اپنی روش چھوڑ دی ہے اور وہ روش اختیار کرلی ہے جو کہ ہماری منزل نہیں ہے؟ اولیت اب دکھاوے کو حاصل ہے؟جس کا اللہ کے یہاں کوئی اجر نہیں ہے؟ اپنے مالک کی مرضی انسان توانسان حیوان تک پہچانتے ہیں؟ کیا آپ نے ریچھ اور بندر کو مالک کے اشارے پر ناچتے ہو ئے نہیں دیکھا،گھوڑوں کو بغیر کہے اپنے دنیاوی مالکو ں کو سلام کرتے نہیں دیکھا؟ لیکن ہم نے اس عذاب سے اب تک کوئی سبق نہیں لیا کہ ہمارا مالک کیا چاہتا ہے۔ آپ نے دیکھا اس نے آپس میں ملنا جلنا بند کروا دیا ہے۔ بڑے بڑے شادی ہا ل بند کرادیئے ہیں کہ اب مستقبل میں ان کی اتنی ضرورت نہیں پڑیگی جتنی اب تک تھی۔ بلکہ روز بروز کم ہوتے جائیں گے بڑی بڑی بلڈنگیں نا پید ہو جائیں گی کیونکہ ان کی ضرورت ہی نہیں رہے گی،بجا ئے بڑے آفس بنانے کے ملازمین کو گھربٹھاکر کام لینے کی کوشش ہو رہی ہے جو دنیاوی مالکان کا منافع بڑھا دے گی اور زیادہ کامیابی حاصل کرے گی؟ اگر منشا ئے ایزدی پرمسلمان نگاہ رکھتے اور اس کی مرضی کے مطابق چل رہے ہوتےتو یہ ان پر عیاں ہوچکا ہوتا کہ وہ اب کیا چاہتا ہے؟ جوکہ آپ کے اس عمل سے ثابت ہے آپ ان عفریتوں کو جاری رکھنے اور ان کی بقا کے لئیے آفیسروں کو رشوتیں پہنچا رہے ہیں۔ جبکہ یہ وہ مقامات تھے جہاں فضول خرچیاں کثرت سے ہوا کرتی تھیں؟ جہاں لوگ کھانا کھاتے کم پھینکا زیادہ کرتے تھے؟آپ بجا ئے توبہ کرکے اسلام پر عامل ہوجا نے کہ اس عذاب کا توڑ تلاش کر تے پھر رہے کیا یہ اپنے مالک کی نا فرفانی نہیں ہے؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟ اب آپ کو اور اپنے علما ء ئے کرام میں وہ بتلانا چا ہوں گا؟کہ جو ہم کر رہے ہیں اسے اسلام نہیں کہتے ہیں؟ کہ آپ کرتے اپنے مرضی کے کام ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں؟ اگر واقعی مومن ہیں تو ان کاموں سے رک جایے جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ اور وہ کام کیجئے جس کا انہیں نے حکم دیا ہے۔ یہ دورخی چھوڑ دیجئے کہ کام دوسرے مقاصد کے لیئے کر رہے ہیں اور نام اللہ کا لے رہے ہیں؟ اس عمل کواسلام میں جو کہتے ہیں وہ آپ سب کو پتہ ہے؟اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے( آمین)












