برطانوی جیوری نے گوہر خان کو وقاص گورایہ کے قتل کی سازش میں قصوروار قرار دے دیا

0
622

آزادی اظہار اور صحافیوں کے تحفظ پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آوٹ بارڈر نے ایک برطانوی جیوری کی جانب سے خود ساختہ جلاوطن پاکستانی بلاگر وقاص احمد گورایہ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کے مقدمے کا سامنا کرنے والے 31 سالہ پاکستانی برطانوی گوہر خان کو قصور وار ٹھہرائے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ اس فیصلے کے دور رس اثرات ہوں گے کیونکہ اس سے صحافیوں کو درپیش خطرات پر جوابدہی کی مثال قائم ہوئی ہے۔

بی بی سی، ڈان نیوز اور رپورٹر ود آوٹ بارڈ کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق کنگسٹن تھیمز کراون کورٹ میں دو ہفتوں تک اس مقدمے پر کارروائی ہوتی رہی اور جیوری نے دونوں اطراف سے دلائل مکمل ہونے کے دو دون بعد، اٹھائیس جنوری کو اپنے فیصلے میں گوہر خان کو وقاص گورایہ کے قتل کی منصوبہ بندی میں مجرم قرار دیا ۔

اطلاعات کے مطابق، جیوری کے اس فیصلے کے بعد سزا کا تعین عدالت کرے گی اور یہ سزا مارچ میں سنائی جائے گی۔

رپورٹر ود آوٹ بارڈر کی ڈائریکٹر انٹرنیشنل کمپین اور یو کے ڈائریکٹر ربیکا ونسنٹ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ جیوری کا فیصلہ بہت خوش آئند ہے۔ ان کے بقول ’’ ایک مدت سے، اپنے اپنے ملکوں سے فرار اختیار کرنے والے صحافی خطرات کا سامنا کرتے ہوئے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ ہم بہت سکون محسوس کر رہے ہیں کہ یہ منصوبہ ناکام ہوا اور وقاص گورایہ اور ان کی فیملی محفوظ ہے‘‘۔

اخبار ڈان کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے موقف اختیار کیے رکھا کہ احمد وقاص گورایہ کو قتل کرنے کے مقصد سے گوہر خان کی خدمات ایک ایسے شخص نے مستعار لیں جو بظاہر پاکستان میں موجود تھا۔

استغاثہ کے مطابق مقدمے میں قصور وار قرار پانے والے گوہر خان نے گزشتہ سال گورایہ قتل سازش میں روٹر ڈم نیدرلینڈ (ہالینڈ) کا سفر بھی کیا اور وہ گورایہ کے گھر کے باہر ان کی تلاش میں بھی مصروف نظر آیا، حتی کہ اس نے اپنے مقصد کے لیے ایک آلہ بھی خریدا تھا۔

استغاثہ کے مطابق گوہر خان کو ایسے وقت میں اس کام کے بدلے میں ایک لاکھ پاؤنڈ رقم کی ادائیگی کی پیشکش ہوئی جب مدعا علیہ قرضوں میں جکڑا تھا اور یہ قرضے اتارنے کے لیے اس کے پاس آمدن کا کوئی واضح ذریعہ نہیں تھا۔

اخبار ڈان کے مطابق، جو اس مقدمے کی عدالتی کارروائی پر مبنی رپورٹنگ کرتا رہا ہے، جیوری کو بتایا گیا کہ پاکستان میں موجود مزمل نامی مڈل مین نے سال 2021 میں گوہرخان سے رابطہ کیا اور اسے 80 ہزار پاؤنڈ دینے کی پیشکش کی اور بتایا کہ باقی کے 20 ہزار پاؤنڈ وہ خود رکھے گا۔ اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ مڈل مین مزمل کس کے لیے کام کر رہا تھا، البتہ عدالت کے اندر یہ ثبوت فراہم کیا گیا کہ پانچ ہزار پاؤنڈ پاکستانی اکاونٹ میں ٹرانسفر کرائے گئے جو بذریعہ ہنڈی لندن میں وصول کیے گئے۔

گوہر خان نے جیوری کے سامنے موقف اختیار کیے رکھا ہے کہ اس نے رقم کسی اور مقصد کے لیے حاصل کی تھی اور وہ وقاص گورایہ کو قتل کرنے کا کام مکمل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

بی بی سی انگلش نے میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے جاری کی گئی وہ تصاویر بھی اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہیں جن میں گوہر خان کو روٹر ڈم میں ایک سٹور سے بظاہر چاقو کی خریداری کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

احمد وقاص گورایہ سوشل میڈیا پر ایک سرگرم کارکن ہیں۔ انہیں اور دیگر پانچ بلاگرز کو جنوری سال دو ہزار سترہ میں اغوا کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد ان سمیت اغوا ہونے والے تمام بلاگرز کو رہا کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کے اندر سرگرم کارکنوں، قوم پرستوں اور صحافیوں یا بلاگرز کی گمشدگی کے واقعات میں عا م طور پر پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کا نام لیا جاتا ہے اور اس ضمن میں لا پتا افراد سے متعلق مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ پاکستان کی فوج نے وقتاً فوقتاً ایسی جبری گمشدگیوں یا ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں کسی کردار کی تردید کی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY