لارڈ نذیر احمد کو جنسی حملوں کے جرم میں ساڑھے پانچ برس قید

0
462

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما اور ہاؤس آف لارڈز کے سابق رکن لارڈ نذیر احمد کو ایک لڑکے پر جنسی حملے اور لڑکی کے ریپ کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر پانچ برس قید کی سزا سنا دی گئی۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق لارڈ نذیر احمد رواں برس جنوری میں ایک لڑکے کے خلاف سنگین جنسی حملے اور 1970 میں ایک کم عمر لڑکی کے ریپ کی کوشش کے الزام میں قصور وار قرار پائے تھے اور انہیں اس جرم میں پانچ برس چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
مزید پڑھیں

لارڈ نذیر کم عمر لڑکے اور لڑکی پر جنسی حملے کے مجرم قرار
جمعے کو جسٹس لیونڈر نے سزا سناتے ہوئے لارڈ نذیر سے کہا کہ آپ کے افعال نے متاثرہ لڑکے اور لڑکی پر ’گہرے اور دیرپا اثرات‘ مرتب کیے۔
’متاثرین کے بیانات زیادہ وضاحت سے بتاتے ہیں کہ آپ کے افعال نے ان کی زندگیوں کو کئی لحاظ سے تباہ کن انداز میں متاثر کیا۔‘
خیال رہے کہ 64 سالہ لارڈ نذیر احمد ان مقدمات میں جنوری میں عدالت میں پیش ہوئے تھے اور انہوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
شیفلڈ کراؤن کورٹ کی سماعت میں قرار پایا کہ جنسی زیادتی کے یہ واقعات رودھرم میں پیش آئے جب لارڈ نذیر احمد جوان تھے۔
سنہ 2016 میں خاتون کے پولیس کے پاس جانے کے بعد انہوں نے متاثرہ مرد سے فون پر بات کی۔
جیوری نے ان کی گفتگو کی ایک ریکارڈنگ سنی، جو اس شخص کی جانب سے ای میل کرنے کے بعد ہوئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس ’ان بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے کے خلاف ثبوت‘ موجود ہیں۔

لارڈ نذیر احمد پر ان کے دو بڑے بھائیوں 71 سالہ محمد فاروق اور 65 سالہ محمد طارق کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی تھی، لیکن دونوں کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے اَن فِٹ سمجھا گیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس مارچ میں شواہد سامنے لانے میں مسائل کی وجہ سے پہلے مقدمے کی سماعت روک دی گئی تھی۔
لارڈ نذیر احمد نے نومبر 2020 میں ایک کنڈکٹ کمیٹی کی رپورٹ کے مندرجات کو پڑھنے کے بعد ہاؤس آف لارڈز سے استعفیٰ دے دیا تھا جس میں پتا چلا کہ انہوں نے اُن سے مدد مانگنے والی ایک مجبورعورت کا جنسی استحصال کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY