فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں کی شدت پسندی کے خاتمے کی کوششوں کے تحت حکومت نے مسلمانوں کے لیے ایک نیا فورم بنانے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد فرانس میں اسلام کی ’تشکیلِ نو‘ بتایا گیا ہے۔خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطاق صدر میخواں کی حکومت نے ہفتے کو ’دی فورم آف اسلام‘ بنانے کا اعلان کیا ہے جس میں علما اور عام افراد بھی شامل ہوں گے۔ فورم کے تمام ارکان کا انتخاب حکومت کرے گی اور اس میں خواتین کو کم از کم ایک چوتھائی نمائندگی دی جائے گی۔
گزشتہ کچھ عرصے میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں اور شام کی جنگ میں فرانسیسی شہریوں کی شرکت کی بنا پر شدت پسندی سے متعلق فرانس میں خدشات پائے جاتے ہیں البتہ بعض حلقے کسی فوری خطرے کو مسترد کرتے ہیں۔

حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر میخواں کی جماعت نظریاتی طور پر ’سینٹرسٹ پارٹی‘ ہے اور ان کی حکومت رواں برس اپریل میں ہونےو الے انتخابات میں دائیں بازوں کے ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ اقدامات کر رہی ہے۔

حکومتی اقدامات کے حامی انہیں فرانس اور یہاں بسنے والے50 لاکھ مسلمانوں کی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک فرانس میں مسلم تعلیمات کو ملک کی اقدار اور عوامی زندگی میں سیکیولرزم سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے یہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔

’اے پی‘ کے مطابق ان حالیہ اقدامات پر تنقید کرنے والوں کا الزام ہے کہ صدر میخواں یہ اقدامات انتظامی سطح پر امتیازی سلوک برتنے کی ایک مثال ہے۔ کیوں کہ ان کے ذریعے چند لوگوں کے پرتشدد حملوں کو بنیاد بنا کر ایک پوری کمیونٹی کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور ان کی زندگی میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔

مغربی یورپ میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی فرانس میں ہے۔ حالیہ فورم کے اعلان سے قبل ’فرینچ کونسل آف مسلم فیتھ‘ کو مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت کے وزیرِ داخلہ اور سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے 2003 میں اس کونسل کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ کونسل حکومت اور مذہبی قیادت کے درمیان رابطے کے لیے کردار ادا کرتی تھی۔

نیا فورم کیا کرے گا؟

SHARE

LEAVE A REPLY