فرانس کی حکومت نے حال ہی میں ملک کے لیے درکار کارکنوں کی ضرورت کے پیش نظر امیگریشن کی پالیسی میں تبدیل کے لیے ایک بل لانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کو فرانس میں رہنے کے خصوصی پرمٹ دیے جا سکیں گے۔
اس اقدام کا مقصد قانونی دستاویز نہ رکھنے والے تارکین وطن کا استحصال روکنا اورایک ایسے وقت میں کارکنوں کی دستیابی ممکن بنانا ہے جب یورپی ملکوں کو مزدوروں کی کمی کا سامنا ہے۔
گزشتہ دنوں فرانس میں غیرقانونی تارکین وطن کی بے دخلی کے احکامات سے امیگریشن کا مسئلہ اس وقت سیاسی گفتگو کا موضوع بن گیا جب انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ گریگور ڈی فورنس نے اپنے ایک سیاہ فام رکن اسمبلی سے کہا کہ تم افریقہ واپس چلے جاؤ۔
اس پر احتجاج اور بحث کے نتیجے میں گریگور کو 15 روز کے لیے اسمبلی سے معطل کر دیا گیااور 15 دن کی تنخواہ بھی روک لی گئی۔
اس واقعہ کے اگلے روز پارلیمنٹ میں فرانس کی حکومت کی جانب سے نئے اقدامات کو سامنے لایا گیا جن کا مقصد ملک میں کارکنوں کی ضروریات کے مطابق امیگریشن پالیسیوں میں مطابقت پیدا کرنا ہے۔
اس بل کا محرک 2012 کی وہ سرکاری دستاویز ہے جس میں فرانس میں کئی برسوں سے مقیم اور کئی مہینوں تک کام کرنے والے تارکین وطن کو رہائشی پرمٹ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
رہائشی پرمٹ کا فیصلہ انفردی سطح پر کیا جاتا تھا اور اس کے لیے ضروری تھا کہ درخواست دینے والے کے پاس ملازمت کا خط یا کام کرنے کا کانٹریکٹ موجود ہو۔رہائشی پرمٹ ملازمت یا کام کے دورانیے کے مطابق دیا جاتا تھا۔
نئے بل کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کو اب کسی ادارے یا کمپنی کے خط یا کانٹریکٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ اب وہ فرانس میں قانونی رہائش کے لیے براہ راست درخواست دینے کے اہل ہوگئے ہیں۔












