گلے ، شکوے ، شکائتیں ، معذرتیں اور فرسودہ روائیتں اوران سب کی بنا پر بہانے ۔ ۔ ۔
کرنے والے ابھی سفر پہ ہیں ۔ ۔ ۔جنییں معلوم ہو کہ کیا کرنا ہے وہ راستے تلاش کرتے ہیں معذرتیں نہیں سامنا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔اور کچل کر رکھ دیتے ہیں ہر اس بندش کو ہر اس پہاڑ کو جو راستہ بند کیے ہوئے ہوتا ہے ۔ ۔ بس آغاز زیادہ ازیتناک ہوتا ہے جو قدم بڑھانے کی جرات رکھتے ہیں ، جو سوچ لینے کی جرات رکھتے ہیں وہ بدل پانے کی بھی جرات رکھتے ہیں کبھی اگر انسان نے خود پر بھروسہ کر کے دیکھا ہو ۔ ۔تو اسے معلوم ہو کہ وہ جو ہے کوئی اور نہیں ہے اور وہ جو کر سکتا ہے کوئی اور نہیں کر سکتا خود کو حالات کے ہاتھوں پر ڈوبنے کے لیے چھوڑ دینے والے۔ ۔ ۔
اور ہوتے ہیں اور حالات کے منہ پر ہمت، کردار، یقین اور بھروسے کا طمانچہ رسید کرنے والے نڈر اور شجاع اور ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
جو سر پہ کفن باندھ کر نماز ادا کرتے ہوں وہ موت سے خوفزدہ نہیں ہوتے اور بے خوف لوگ حالات کی ازیتوں کا سامنا کرتے ہیں انکے تیز بہاؤ میں بہ نہیں جاتے ۔ ۔ ۔
جن کے توکل سب لٹا کر بھی متزلزل نہ ہوں وہ ہی اہل یقین ہیں۔ ۔ ۔اور اگر انسان اہل یقین میں سے نہ ہو تو پھر تو اسکو خود کی حالت پہ غور کرنا چاہییے ۔ ۔ ۔زندگی موت لٹانا ، پانا تو سب بے معنی باتیں ہیں روح زندگی ۔ ۔ ۔’توکل الہی’ ہے ۔ ۔ جو خود پہ بھروسہ نہ کر پائے رب پہ بھی نہیں کر سکتا اور خوفزدہ انسان، حریص اور مصلحت پسند کبھی حق اور جرات کی جنگ نہیں جیت سکتا ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔مگر انسان چوں کہ آسان پرست ہے اس لیے معزرت اور بہانوں کاسامنا کرنے اور انکو توڑ ڈالنے کی بجائے انہیں میں گھوم کر تباہی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔
کبھی جو مول معلوم ہوتا ‘ انسان ‘ کو خود کا تو وہ اسقدر بے مول موت نہیں مر رہا ہوتا ۔ ۔ ۔
وہ دو وقت کی روٹی کے لیے سسک نہیں رہا ہوتا بلکہ وہ راستے تلاش کرتا کہ اس سمیت اور بھی اپنا پیٹ بھر پاتے اور زندگی کے اصل اھداف کیجانب بڑھ پاتے جو کہ صرف روٹی کمانے ، اس کے نہ ملنے کا خوف اور اس کے باعث مر جانا نہیں تھا بلکہ اس خوف سمیت ہر خوف کو شکست دینا تھا ۔ ۔ ۔ جرات مندی سے کرتے ہوئے مر جانا ۔ ۔ ۔خوف دہشت اور خود ترسی میں مبتلا ہو کر بے بسی سے مر جانے سے لاکھ بہتر ہے ۔ ۔ ۔
اے کاش کہ حضرت انسان کو سمجھ آتی کہ وہ کسقدر قیمتی ہے ۔ ۔ ۔مگر اس نے خود کی قیمت چولہے اور روٹی یا مردوں زن سے اوپر لگائی ہی نہیں
دولت کو جو خدا سمجھتے ہیں۔ ۔ ۔
وہ بھلا خود کو کیا خاک سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔!!!!
فائزہ عباس













