اس مرتبہ بھی میرے دوست مسعود عمر صاحب نے میری توجہ سورہ روم کی طرف مبذول کرائی تھی کہ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے جب اسے دیکھا تو میں نے محسوس کیا کہ اسکی ہر ایک آیت میں بہت سے مسائل پر بہت ہی وضاحت کے ساتھ تمثیلیں اور ہدایات اللہ سبحانہتعالیٰ نے جاری فر ما ئی ہیں لہذا پوری سورت کی ہر ایک آیت غور کرنے کے قابل ہے۔جو اس سورت کے علاوہ کسی ایک سورت میں یکجا نہیں ہیں؟ہر ایک کو چاہیئے کہ وہ اس سورت کو خود اور بہت غور سے پڑھے اگر عربی نہیں آتی ہے تو ترجمہ پڑھے تاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا مزاج شناس ہو جا ئے اس پر یہ واضح ہو جا ئے گا کہ وہ کیا پسند فرماتا ہے کیا ناپسند کرتا ہے؟
پچھلی قوموں اور ہم میں کیا مماثلت ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ناپسند تھیںاور اس کی وجہ سے عزاب نازل ہوا۔ پھر ہی اپنے اعمال کو اس کی ترازو میں تو لنے کے بعد اپنے انجام سے وہ واقف ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں جا ئے گا یاجہنم میں اس طرح وہ اس خواب سے باہر نکل آئے گا کہ“ جس نے کلمہ پڑھ لیا ہے“ وہ ہرحالت میں جنت میں جائے گا؟ لہذا اسے موقع مل جا ئے گاکہ جب تک وہ دنیا میں ہے اسے پڑھ کر اس سے وہ استفادہ حاصل کرلے اور توبہ کر کے اللہ کی بخشش کا امید وار بن جا ئے بشرط کہ ِ اس کے ذمہ حقوق العباد نہ ہوں۔ اگر ہوں اور وہ ان سے کسی طرح معاف کرالے تو بھی بخشش ہو جائے گی ورنہ نہیں؟ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان یہ بھی ہے کہ وہ اپنی سنت کوتبدیل نہیں فرماتا؟
قر آن میں یہ چیز اس نے بار واضح فرمادی ہے معافی اسے ملیگی جس کو وہ معاف کرنا چاہے گا، شفاعت بھی اس کی ہو گی جس کی شفاعت وہ چاہے گا اس دن کوئی بڑے سے بڑا اس کامقرب اپنی زبان نہیں کھول سکے تا وقتیکہ وہ اجازت نہ دیدے ؟ پھر بھی یہ شرط ہے جو کہے بات بھی معقول ہو؟ رہی گواہی تو خو بندے کے اپنے اعضا گواہی دے رہے ہونگے؟ منکر نکیروں کے روز نامے تو ہونگے ہی جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ذاتی علم میں بھی ہر چیز ہوگی اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فر مائے کہ ہم قرآن کو سمجھ سکیں آمین۔













