لاہور ڈیفنس میں ہونے والے دھماکے میں دہشت گردی کا عنصر مسترد ہو گیا

0
230

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے گذشتہ روز لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ہونے والے دھماکے میں دہشت گردی کے عنصر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ‘حادثہ’ تھا، جو گیس لیکج یا سلینڈر پھٹنے کی وجہ سے ہوا۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور سیکریٹری داخلہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ وہ ایسے ناقص سلینڈرز بنانے والی انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کریں گے جس کے نتیجے میں ایسے دھماکے رونما ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوگئے تھے۔

صوبائی وزیر قانون کے مطابق دھماکے کے مقام سے فرانزک ٹیم نے تجزیے کے لیے 6 سیمپل اکھٹے کیے تھے اور ان میں سے کسی میں بھی بارودی مواد کی موجودگی سامنے نہیں آئی۔

گذشتہ روز دھماکے کے بعد پھیلنے والی افواہوں اور افراتفری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا ‘دھماکے کی نوعیت سے متعلق سب کی الگ الگ رائے تھی اور میں نے تمام افراد سے درخواست کی تھی کہ فرانزک نتائج آنے سے قبل بیان دینے سے گریز کریں’۔

رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے تصدیق اُسی وقت ممکن تھی جب فرانزک ٹیسٹ کے نتائج آتے اور یہ نتائج سامنے آنے میں 6 سے 8 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ فرانزک نتائج سامنے آنے میں اتنا وقت کیوں لگا، وزیر قانون کا کہنا تھا ‘ابتدائی طور پر زبانی تشخیص کی جاسکتی تھی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور پولیس کی جانب سے مختلف بیانات دیئے گئے، تاہم چونک عمارت دھماکے سے بری طرح متاثر ہوئی تھی اور اسے خطرناک قرار دیا گیا تھا لہذا فرانزک ٹیم کو اس مقام سے سیمپل جمع کرنے میں تاخیر ہوئی’۔

عوام میں پھیلنے والی سراسیمگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناءا للہ کا کہنا تھا کہ ‘خرابی زیادہ لوگوں کے بولنے سے ہوئی اور اگر مختلف لوگ مختلف بات نہ کرتے تو لوگوں میں کنفیوژن نہ پھیلتی’۔

مستقبل میں اس طرح کی افواہوں اور جعلی خبروں کے تدارک کے لیے صوبائی وزیر قانون نے تجویز دی کہ آئندہ اس طرح کی صورتحال میں ضروری ہے کہ صرف ترجمان ہی بات کرے اور اس مقصد کے لیے سب سے مستند اتھارٹی ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز کا آفس ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئندہ ایسی حالات میں صرف وہی بات کریں۔

رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میڈیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت سب کی مشترکہ جنگ ہے اور ہمیں مل کر لڑتے ہوئے دہشت گرد عناصر کو شکست دینی ہے۔

میڈیا گروپس کو تاکید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع پر سب سے پہلے کی دوڑ کا نہیں سوچنا نہیں، اس قسم کی واقعات کی رپورٹنگ میں معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY