رمضان کریم اللہ تعالی کا پسندیدہ مہینہ ھے اللہ تبارک وتعالی جو کائنات میں یکتا و سب سے بڑآ کارساز ھے ، اعلی و برتر ھے عظیم ترین ھے جو اندھیرے کی کوکھ سے روشنی کو اجال دیتاھے
اس خاص ماہ مبارکہ میں رب العالمین اپنے خاص بندوں کو اپنی برکتوں و فضلتوں سے نوازتا ھے
اسی ماہ میں اللہ تبارک وتعالی کی مہربانیون کا فیضان ھوتا ھے ماہ رمضان کے دن رات اللہ کی اطاعت و فرمابنرداری میں بسر کرنے والوں کو رمضان کریم کی آمد کا بہت بیتابی سے انتظار رھتا ھے
روزے داروں کو اللہ کی رضا وخوشنودی مطلوب و مقصود ھوتا ھے ،اللہ تعالی جو زمین و آسمان کی ھر شے کا مالک و مختار روزہ اللہ تعالی کی رضا کے لیے رکھا جاتا ھے ، اسی لیے اسکا اجر و ثواب بھی بہت زیادہ ھے
اس ماہ مبارکہ ميں اللہ تعالی کے لیے صلاۃ و صوم تسبیح و تہلیل و تکبیر و شکر ادا کرنا ھی سب سے افضل اعمال ھیں شکر ادا کرنے والوں کو اجر الکثیر کی نوید و بشارت کسی بھی حالت میں اللہ کی نعمت کا شکر واحسان چاھے وہ آرام ھو یا تکلیف ھو صبر کرنے سے شکر کرنے سے راحت ابدی ملتی ھے اللہ کی نوازشیں و انعامات ،اوج ، بلندی عزت و شرف ،اور انسان کے اندر اللہ کا ذکر خون میں روانی و سکون پیدا کرتا ھے
یہ ماہ مقدسہ اس لیے بہت اھمیت کا حامل ھوتا ھےکہ رمضان کے عشرہ آخری میں ایک رات شب القدر کی بھی ھوتی ھے جس میں شب کے بطن سے نور کی سحر نمودار ھوتی ھے اس روز سال بھر کے فیصلے کیے جاتے ھین اس لیے اسکو شب الحکم بھی کہا جاتا ھے
بسم الله الرحمن الرحيم
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ
سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ
بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا ٭ اور تم نے کیا جانا، کیا شب قدر؟ ٭ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ٭ اس رات میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے، ہر کام کے لئے، وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک
بڑی فضیلتوں والی رات
شب قدر کی فضیلت پر آیت اللہ جواد فاضل لنکرانی لکھتے ہیں
س شب کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ رات با برکت و با عظمت ہے ” لیلۃ العظمۃ”[4]اور قرآن مجید میں لفظ قدر عظمت و منزلت کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت میں ہے ” ما قدروا اللہ حق قدرہ “[5] (انھوں نے اللہ کی عظمت کو اس طرح نہ پہچانا جس طرح پہچاننا چاہئے )
قدر کے معنی تقدیر اور اندازہ گیری اور منظم کرنے کے ہیں ، اس معنی کو بھی اہل لغت نے بیان کیا ہے قرآن و روایات میں بھی یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ،راغب اصفہانی کہتے ہیں : ” لیلۃ القدر ای لیلۃ قیضھا لامور مخصوصۃ “[6] شب قدر یعنی وہ رات جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخصوص امور کی تنظیم و تعیین کے لئے آمادہ کیا ہے ، قرآن کریم بھی ارشاد فرماتا ہے ” یفرق کل امر حکیم [7] ( ہر کام خداوند عالم کی حکمت کے مطابق معین و منظم کیا جاتا ہے )
امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : ” التقدیر فی لیلۃ القدر تسعۃ عشر والابرام فی لیلۃ احدیٰ و عشرین والامضاء فی لیلۃ ثلاث و عشرین “[8] ( انیسویں شب میں تقدیر لکھی جاتی ہے ،اکیسویں شب میں اس کی دوبارہ تائید کی جاتی ہے اور تیئیسویں شب میں اس پر مہر اور دستخط لگائی جاتی ہے ۔ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں : ” یقدر فیھا ما یکون فی السنۃ من خیر او شر او مضرۃ او منفعۃ او رزق او اجل و لذالک سمیت لیلۃ القدر “[9] ( شب قدر میں جو بھی سال میں واقع ہونے والا ہے سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے نیکی ،برائی ، نفع و نقصان ،رزق اور موت اسی لئے اس رات کو لیلۃ القدر کہا جاتا ہے )
اللہ نے انسان کو اپنی تقدیر بنانے یا بگاڑنے کا اختیار خود انسان کے ہاتھ دیا ہے وہ سعادت کی زندگی حاصل کرنا چاہے گا اسے مل جائے گی وہ شقاوت کی زندگی چاہے گا اسے حاصل ہو جائے گی۔ <<یا ایھا النّاس انّما بغیکم علی انفسکم>> (یونس:23) لوگو! اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ تمہاری سرکشی صرف تمہیں نقصان پہچائے گی۔ جو کوئی سعادت کا طلبگار ہے وہ شب قدر میں صدق دل کے ساتھ اللہ کی بار گاہ میں توبہ کرے، برائیوں اور برے اعمال سے بیزاری کا عہد کرے گا۔
اللہ سے اپنے خطاؤں کے بارے میں دعا اور راز و نیاز کےذریعہ معافی مانگے گا یقینا اس کی تقدیر بدل جائے گی اور امام زماں (ارواحنا فداہ) اس تقدیر کی تائید کریں گے۔ اور جو کوئي شقاوت کی زندگی چاہے وہ شب قدر میں توبہ کرنے کے بجائے گناہ کرے ، یا توبہ کرنے سے پرھیز کرے ، تلاوت قرآن ، دعا اور نماز کو اھمیت نہیں دے گا ، اسطرح اس کے نامہ اعمال سیاہ ہوں گے اور یقینا امام زماں (ارواحنا فداہ) اسکی تقدیر کی تائید کریں گے۔
جو کوئی عمر بھر شب قدر میں سال بھر کے لئے سعادت اور خوشبختی کی تقدیر طلب کرنے میں کامیاب ہوا ہوگا وہ اسکی حفاظت اور اس میں اپنے لئے بلند درجات حاصل کرنے میں قدم بڑھائے گا اور جس نے شقاوت اور بد بختی کی تقدیر کو اختیار کیا ہوا وہ توبہ نہ کرکے بدبختی کی زندگی میں اضافہ کرے گا۔
شب قدر کے بارے میں اللہ نے تریاسی سالوں سے افضل ہونے کے ساتھ ساتھ اس رات کو سلامتی اور خیر برکت کی رات قرار دیا ہے۔ << سلام ھی حتی مطلع الفجر>> اس رات میں صبح ہونے تک سلامتی ہی سلامتی ہے اس لئے اس رات میں انسان اپنے لئے دنیا اور آخرت کے لئے خیر و برکت طلب کرسکتا ہے۔
اگر دل کو شب قدر کی عظمت اور بزرگی کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جس شب کے بارے میں اللہ ملائکہ سے کہہ رہا ہے کہ جاو اور فریاد کرو کہ کیا کوئی حاجب مند، مشکلات میں مبتلا ، گناہوں میں گرفتار بندہ ہے جسے اس شب کے طفیل بخش دیا جائے ؟ اگر اس نقطے کی طرف توجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ یہ رات ایک عمر بھر کی مخلصانہ عمل سے افضل ہے۔
اس بات کو نہیں بھولتے ہیں کہ یہ رات تقدیر لکھنے کی رات ہے۔ یہی وہ رات ہے جس میں بندہ اللہ کی نظر رحمت کو اپنی طرف جلب کرکے سعادت دنیا اور آخرت حاصل کرسکتا ہے تو یقینا ہمیں شب قدر کے ثواب حاصل ہوں گے۔ اس لئے ہمیں چاہیئے فراخدلی کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں تمام عالم کے لئے دعا کریں کہ اے اللہ تم اسے بھی عطا کرتے ہو جو تمہیں مانتا ہے اور اسے بھی عطا کرتا ہے جو تمہیں انکار کرتا ہے اس شب کے طفیل ہم سب کو صراط المستقیم کی طرف ھدایت فرما۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخشش و راحت والی شب ھے اسکو اللہ تعالی نے اسرار کے پردے میں مخفی رکھا ،، کہا گیا کہ اسکو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو ،اللہ تعالی نے شب قدر کی تلاش کرنے والوں کے لیے بے حد و بے حساب اجر الکثیر کا انعام بھی رکھا ھے
اھل ایمان و اھل الخیر طاق راتوں میں بڑے جوش و شوق سے عبادت کرتے ھیں ساری ساری رات اللہ تعالی کی اطاعت و محبت کے لیے جاگ کر صلاۃ شب کا اھتمام کرتے ھیں سحور و فطور کی برکتوں سے فیض یاب ھوتے ھیں
شب القدر کی ایک رات کی عبادت کا ثواب ھزار راتوں کی عبادتوں کے برابر ھوتا ھے انسانی زندگی کے 84 سالوں کی اطاعت و عبادت و تلاوت کا اجر اس رات کی عبادت کا انعام کی شکل میں ملتا ھے بڑے خوش بخت ھوتے ھیں وہ صوم و صلاۃ ادا کرنے والے جن کو شب الفضیلت ملتی ھے
زاہدہ خوشی













