دہشت گرد گروپ ’داعش‘ کے سربراہ اور مشرق وسطیٰ میں خود ساختہ اسلامی خلافت کے دعوے دار ابو بکر البغدادی کی طرف سے حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تقریر داعشی جنگجوؤں میں پھوٹ اور شکست خورگی کا موجب بنی ہے۔
البغدادی کی ایک تقریر جسے موصل میں جنگجوؤں کے لیے الوداعی خطاب قرار دیاجاتا ہے کے منظرعام پر آنے کے بعد جنگجو علاقہ چھوڑ کر فرار ہونے لگے ہیں۔ اپنے اس خطاب میں البغدادی نے داعشی شدت پسندوں سے کہا تھا کہ ان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ وہ اپنی جانیں بچا کر محفوظ مقامات پر متنقل ہوں، پہاڑی علاقوں میں چھپ کر گوریلا کارروائیاں جاری رکھیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق البغدادی کی تقریر کے بعد موصل میں جنگ کا پانسہ تیزی کے ساتھ پلٹ رہا ہے۔ داعشی جنگجو فرار ہونے کے مواقع ڈھونڈ رہے ہیں۔ جس کو فرار کو موقع ملتا ہے وہ علاقہ چھوڑ کر جا رہا ہے۔ داعشی شدت پسندوں کے لیے ان کے امیر کا بیان ان کے حوصلے بڑھانے کے بجائے انہیں مزید بزدل کرنے اور شکست خوردگی کا ذریعہ بنا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ البغدادی کی تقریر کے ایک روز بعد مغربی موصل کے دائیں ساحلی محاذ سے جنگجوؤں کو فرار ہوتے دیکھا گیا ہے۔
عراقی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجو فرار ہونے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ وادی حجر، المنصور اور الطیران کالونیوں میں خود کش حملے بھی کررہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بہت سے جنگجو جو لڑائی میں ہلاک ہوگئے ہیں وہ مقامی نہیں بلکہ مشرقی ایشیائی ملکوں سے آئے ہیں۔ بعض دوسرے عرب ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے قبضے سے ملنے والے ان کے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بتاتی ہیں کہ وہ شا، تیونس اور لیبیا سمیت دوسرے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ فرار کے راستوں سے ناواقف جنگجو خود کش کارروائیوں کوترجیح دیتے ہیں اور جنہیں فرار کے بعد پہاڑی علاقوں میں چھپنے کے لیے راستوں کا علم ہے تو وہ فرار ہو رہے ہیں۔













