ہم دعوے تو ایمان کے کرتے ہیں مگر اللہ توفیق دے اور اپنا محاسبہ کریں تو قلعی کھلتی نظر آئیگی ،ہم اپنا محاسبہ کریں نہ کریں،دوسرے تو بہر حال ہماری صورت و سیرت کو ہر زاوِیے سے دیکھ رہے ہیں ان میں ہمارے اپنے بھی ہیں یہ اور بات کہ کچھ افراد کہہ دیتے ہیں اورکچھ آپ کے بارے میں ایک رائے بنا رکھتے ہیں اور وہ رائے کب برما کے(روہنگیا) مسلمانوں کی حالت یا پھر ہند میں (2002) گجرات (احمد آباد) وغیرہ کا منظر نامہ بن جائےکچھ کہا نہیں جاسکتا مگر وقت بتا ہی دیتا ہے کہ اس کےہاں کہاں رحم و کرم ہوتا ہے۔!!
ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو پہلے تو مانتے ہی نہیں اور اگر کسی دباؤ کے نتیجےمیں مان بھی لیں تو یہ کہہ گزر تے ہیں کہ
’’ ارے کس نے دیکھا ہوگا۔!!؟‘‘
مگر دوسروں کی کمزوریاں ، دوسروں کی غلطیاں ہمیں فوراً نظر آجاتی ہیں۔ ۔۔ہماری عجب نفسیات ہے۔
اسی طرح ہماری عبادتوں اور دُعاؤں کا معاملہ ہے، ہم دِل دوسروں کادُکھاتے ہیں، چوٹ دوسروں کو پہنچاتے ہیں، مال دوسروں کا مارتے ہیں اور معافی اللہ سے مانگتے ہیں، معافی کیا ملے گی، مذکورہ قصور پر تو کتابِ مبین میں ہم پر جتلا دِیا گیا ہے
(مفہوم ) ’’جس سے معاملہ خراب کیا ہے اُس کا حق اداکر دو یا اس سے معافی تلافی کرلو، یہاں کچھ نہیں ملے گا۔‘‘۔۔۔
یہ باتیں یا یہ کمزوریاں ہم اُن حضرات کے ہاں بالخصوص زیادہ دیکھتے ہیں جو دوسروں کو نصیحت فرماتے ہیں ۔
ہمارے عزیزِ مکرم عبد الرحمان اعظمی اپنی نوعمری کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ
’’ پہلی بار(تبلیغی)جماعت کے ایک دورے پر گیا، قافلے میں گاؤں کے کئی بزرگ بھی تھے، جماعت کاہررُکن ضروری چیزیں بھی ساتھ رکھتا تھا ،جس میں دیگر چیزوں کے ساتھ حوائجِ ضروریہ کےلئے ایک لوٹا بھی رہتا تھا، کچھ دور چلے تھے کہ ہٹّے کٹّے ایک بزرگ نے اپنا لُوٹا(پاٹ) میرے ہاتھ میں تھمادِیا۔ میں نےاُن کی طرف سادہ نظروں سے دیکھا تو بزرگوار نے اپنے طور پر کچھ سمجھ لیا اور فرمایا کہ
’ میاں! ایسی چیزیں آپ کولے کر چلنا چاہیے اس سے نفس کو مارنے میں آسانی ہوتی ہے۔‘
مَیں دِل ہی دل میں سوچتا رہ گیا کہ جماعت میں ہم اسی لئے تو آئے ہیں کہ اپنے نفس کو مارسکیں، ۔۔۔مگر چچا کیا کرنے آئے ہیں۔؟‘‘
برادرم عبد الرحمان اعظمی آج خود بزرگی کے پائیدان پر ہیں اور ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ’’ میں آج بھی جب کسی چھوٹے کو دیکھتا ہوں تو وہ بزرگ ضروریاد آتے ہیں مگر میں اپنا لوٹا اپنے ہاتھ ہی میں رکھتا ہوں۔‘‘
دراصل یہ ایک طرح کا نفسیاتی مرض ہے کہ دوسرا کسی طور ہم سے چھوٹا ہو تو وہ زِندگی بھر ہمارے لئےچھوٹا ہی رہے گا۔ ایک جملہ آپ نے بھی سنا ہوگا کہ’ اِن صاحب زادے کو تومیں جب سے جانتا ہوں جب یہ ننگے پِھرا کرتے تھے۔‘
دیکھیے اُس بچے کو، جو اب جوان ہوچکا ہے اور پڑھ لکھ کر یاکوئی ہنر سیکھ کر بزرگ کے مقابلے میں کہیں ترقی بھی کرگیا مگر چچا کے ذہن میں اس کا ننگا پن ہی جلوہ بنا ہوا ہے، غور فرمائیےکہ اس معاملے میں اس بچے کے ننگے پن کا قصور ہے یا چچا کی ننگی ذہنیت کا جلوہ کار فرما ہے ۔؟!!
دراصل ہمارا پورا معاشرہ کسی نہ کسی طور ایک غرور اور فخر میں ’ مبتلا ‘ ہے اور یہ کیفیت آج کی نہیں برسوں سےچلی آرہی ہے، کئی نسلیں گزر گئیں، اب توحالت یہ ہے کہ یہ غرور یا یہ فخر، عملِ بد سمجھا ہی نہیں جاتا اور یہ ’’ رویہ‘‘ تو غرور اور فخر سے بھی زیادہ خطرناک اور مفاسد کا پیش خیمہ ہے۔
کوئی چالیس برس اُدھر کی بات ہے۔ ندیمِ ندیم شمیم طارق اور یعقوب مرچنٹ (مرحوم) ہفت روزہ’ ہم عصر‘(ممبئی سے) نکال رہے تھے تو ایک جوان کام کی طلب میں دفتر پہنچا اُس سے کچھ سوالات کیے گئے اُس نے جواب دِیے اور اخیر میں اُس سے پوچھا گیا کہ پہلے کیا کرتے تھے اس نے بڑی تیزی سے کچھ کہا، مگرکسی نے کچھ نہیں سمجھا، پھر وہی سوال کیا گیا، اس نے اُسی تیزی سے پھر۔۔۔
’’ س ٹھ ۔۔۔‘‘کچھ کہہ گیا، ہم یہ تماشہ دیکھ رہے تھے، دوسرے حضرات بیٹھے ایک دوسرے کامنہ تک رہے تھے کہ یہ نوجوان آخرکہہ کیا رہا ہے!!
اب ہم نے سوال کیا: کہاں سے آئے ہو؟ جواب ملا : بھیونڈی سے۔
ہمارے منہ سے بیساختہ نکلا: اُوہ۔۔۔ اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ہم نے بتایا کہ یہ کہہ رہا ہے : ۔۔۔’’ مَیں سِٹھائی کرتا تھا‘‘۔۔۔
کسی سیٹھ کی اولاد ہے،شاید اب سیٹھ نہیں رہااور نہ وہ سِٹھائی۔۔۔ حالات نے اسے یہاں پہنچا دِیا۔
خیر یہ تو ایک واقعہ ہے مگر اس واقعے میں جو بات سامنے آئی وہ یہ ہے کہ بچوں کی نفسیات کیسے بگڑتی ہے۔ بھیونڈی میں ہمارے بہت سے دوست ہیں اور وہاں تیس چالیس برسوں سے ہماری آمد ورفت ہے کئی اچھے اور کئی دِلچسپ حضرات سے دوستی رہی اور ہے ، بعض رِحلت کر گئے، بعض کو حالات نے کچھ سے کچھ کر دِیا۔ اسی شہر کے ایک سیٹھ باپ اوراُس کے بیٹے کی روداد ملاحظہ کیجیے۔
بیٹا جوان ہوچکا تھا، باپ کی’’ فرماں برداری‘‘ یہ تھی کہ ہر صبح وہ اپنے بیٹے کے ہاتھ میں جیب خرچ کیلئے بیس تیس روپے رکھ دیتا تھا اور بیٹا عیش کرتا تھا، اب اُسے کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ ہر صبح بغیر مانگے اس کے ہاتھ میں بیس تیس روپے رکھ دِیے جاتے تھے۔ برسوں کے اس عمل نے بیٹے کی کیسی نفسیات بنا دِی ہوگی ؟، یہ آپ سوچتے رہیے، ایک وقت آیا کہ حالات نشیب کی طرف رواں دواں ہوئے، جس باپ نے بیٹے کو ’سِٹھائی‘ کروائی تھی وہ اب حالات کا شکار ہوا ،لاڈلا روزی روٹی کی تلاش میں باہر نکلا اور جب اس سے پوچھا جائے گا کہ پہلے کیا کرتے تھے؛ تو یقیناً وہی جواب دے گا کہ
’’ ۔۔۔ سٹھائی ۔۔۔ کرتا تھا۔‘‘
بچپن اور نوعمری ہی تربیت اور سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے۔ بلکہ طِب اور میڈیکل کے ماہرین کا تو کہنا یہ ہے کہ تربیت اور ذہنی ساخت کا عمل تو ماں کی کوکھ ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ مغرب میں تعلیم یافتہ گھرانے اپنی عورتوں کو زمانۂ حمل میں خوش وخرم رکھتے ہیں، اچھی غذا دیتے ہیں اوراُس سے ہر طرح سے اعلیٰ درجے کی باتیں اور احسن عمل کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بچے کی اچھی تعلیم اور پھر تربیت کی وجہ سے ان کے ہاں بڑی حد تک انسانی قدریں پائی جاتی ہیں اور وہ ترقی کی سیڑھیوں پر نظر آتے ہیں۔ اسکے برعکس ہمارے ہاں(عموماً) حاملہ بیوی یا بہو ، نوکرانی کہی تو نہیں جاتی مگر سمجھی ضرورجاتی ہے، مذہب کا اس میں کوئی قصور نہیں یہ ہماری معاشرتی برائی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ صحیح ہے کہ ہمارے ہاں اوپر اوپردین و مذہب ضرور نظر آتا ہے مگر سنجیدگی سےدیکھاجائے تو ہماری خود ساختہ شرع اور ضابطے کی ایک زیریں لہر چلا ئی جاتی ہے اور یہ آج کا عمل نہیں برسہا برس پرانا ناسور ہے اور اگر کوئی بیٹا اپنی شریکِ حیات کی طرف داری کرے تو اس کو بیساختہ۔۔۔ جورو کا غلام ۔۔۔ کا طعنہ دِیا جاتا تھااور آج بھی ایسا ہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہب کا اگر کوئی اثر ہمارے ہاں ہے تو بس عبادات ہی کے دائرے میں ہے، جبکہ اسلام وہ مذہب ہے جس نے زندگی کے کسی گوشے کو چھوڑا نہیں مگر عملاًعبادات پر تو زور خوب رہتا ہے مگر زِندگی کے معاملات میں ہم کو اپنےمذہبی قوانین اور ضابطے سے اکثر کوئی تعلق نہیں رہتا، بالخصوص یہ عمل عورتوں میں عام ہے ویسے بھی بچے کا ذہن ماں ہی کے زیر ِاثر تربیت پاتا ہے باقی چیزیں تو وہ بعد میں باہر سے اخذ کرتا ہے مگر بنیاد تو بنیاد ہوتی ہے اور یہی بچہ کل باپ بنتا ہے اور کارگاہِ زندگانی میں عمل پیرا ہوتا ہےتو پھر ۔۔۔ یعنی ثابت ہوا کہ بچے کی تربیت ہی اسے آدمی سے انسان کی منزل پر پہنچاتی ہے ،اس دور میں عِلم ہی پر سارا اِنحصار کیا جارہا ہے اور علم کی حیثیت بتانے والوں نے یہ بتائی ہے کہ یہ جو ڈگریاں ہیں یہ تو اس ضمن میں ہونے والےاخراجات کی رسید ہیں،علم تو وہ ہےجو بعد میں آپ زندگی کی درس گاہ میں تجربات کی شکل میں حاصل کرتے ہیں البتہ حضرتِ رٹّو وٹّو تو ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں، ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہماری طلب میں یا ترجیحات میں۔۔ علم۔۔ ہوتا ہی کب ہے۔ !!
رہی تربیت تو عمومی سطح پر آج ہمارے سماج میں اس کا تصور ہی مفقود ہےاور کل بھی کیا تھا !!، رہا استثنا تو وہ بعض اہل ِکفر کے ہاں بھی ہمیں ’مومن‘ کی صفات نظر آجاتی ہیں مگرہمارے ہاں۔۔۔ اکثرکیا کیا ملتا ہے؟ یہ لکھنے نہیں سمجھنے کی ضرورت ہے، اس کا پہلا علاج تو یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ زمانہ یہ عمل ہمارے ساتھ کرے ہمیں اپنے ہاں فخر اور برتری کے تصور کو ختم کرنا ہوگا، زندگی کا سچ یہی ہے کہ اگر آپ کے ہاں کوئی صلاحیت اور اعلیٰ صلاحیت ہے تو و ہی آپ کے کام آئیگی ورنہ تو گاڑی لسٹم پسٹم چل ہی جاتی ہے وہ جو کہتے ہیں کہ سگ بھی جی ہی لیتا ہے۔٭
ندیم صدیقی
روزنامہ’ممبئی اُردو نیوز‘ ممبئی













