طارق بٹ۔۔فرض ادا کر دیا مگر حق ؟

0
56

میرے رہنما میرے قائد آپ جیت گئے آپ کی جماعت جیت گئی آپ کو لاکھوں کروڑوں مبارکبادیں قبول ہوں۔ میرے رہنما میرے قائد آپ کو زمانہ جانتا ہے کہ آپ انتہائی معروف ہیں اور میں ایک بڑے اخبار کا ناچیز سا غیر معروف قلم کار جسے شائید اس کے گھر والوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا ۔ آپ کے پاس وسائل کے انبار ہیں ملکی بھی اور ذاتی بھی جبکہ اس درویش نے آپ کے حضور یہ معروضات پیش کرنے کے لئے کاغذ اور قلم بھی مستعار لیا ہے ۔ پھر بھی میرا اور آپ کا ایک رشتہ ایک تعلق تو ہے ۔ کہ ہر پانچ سال بعد آپ کو میری ضرورت پڑتی ہے کہ میں کروڑوں پاکستانیوں کی طرح ایک ادنی سا ووٹر بھی تو ہوں۔ میرے رہنما میرے قائد آپ نے حکومت تشکیل دینی ہے ۔ وزارتیں بانٹنی ہیں مختلف حکومتی امور کے حوالے سے مختلف محکموں سے بریفنگ لینی ہے اس لئے میں جانتا ہوں کہ آپ عالی مرتبت کے پاس وقت بالکل بھی نہیں ہے مگر اپنے اور آپ کے پانچ دن پہلے والے تعلق کی نسبت سے آپ کا تھوڑا سا وقت درکار ہے ۔ عالی مرتبت باقی جماعتوں کی طرح آپ نے بھی پورے پورے صفحے کے اشتہارات کے ذریعے اس ناچیز کو جس قومی ذمہ داری سے بار بار روشناس کروایا وہ ذمہ داری فقیر نے بطریق احسن ادا کر دی ہے آپ اور دیگر سیاسی زعماء کی تربیت کی بدولت یہ بات ذہن نشین کر لی تھی کہ ووٹ میرے پاس قومی امانت ہے اور بروز انتخاب مجھے اس ذمہ داری سے ہر حال میں عہدہ برآ ہونا ہے چنانچہ درویش اور اس کے اہل خانہ نے اپنا یہ فرض انتہائی ایمانداری سے ادا کر دیا ہے ۔

عالی مرتبت ابھی تو میں نے اپنی معروضات آپ کے سامنے رکھی بھی نہیں کہ آپ کے ماتھے پر بل اور آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے ۔ ابھی تو کڑی کا ابال واپس نہیں بیٹھا ہمارے قرب کے تعلق اور بحثیت ووٹر آپ کی نظروں میں میری اہمیت کو صرف پانچ دن ہی تو بیتے ہیں امید تو یہی ہے کہ آپ نے میرے اور اپنے تعلق کے بارے میں جو بلندوبانگ دعوے کئے تھے انہیں ابھی آپ بھولے نہیں ہوں گے اگر پانچ دن پہلے کے دعوے بھی آپ بھول چکے ہیں تو ایک بات یاد رکھئے گا کہ زندگی رہی تو پانچ سال بعد ایک بار پھر ہمارا آمنا سامنا ہو گا اسے دھمکی ہر گز مت سمجھئے گا کہ دھمکی دینے کی اس ناچیز ووٹر میں نہ تو ہمت ہے اور نہ ہی ایسی جسارت پہلے کبھی کی ہے اور نہ ہی آئیندہ ارادہ ہے ۔

جناب عالی عرض صرف اتنا کرنا ہے کہ جناب اور دیگر سیاسی زعماء نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مجھ شعور سے عاری ووٹر کو وہ شعور عطاء کر دیا کہ اب مجھے اچھے برے کی پہچان ہو گئی ہے اور آپ ہی کی دی ہوئی تربیت کی بدولت ناچیز اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہو چکا ہے کہ اسے اپنے حقوق طلب کرنے سے پہلے اپنے فرائض ہر حال میں ادا کرنے ہیں ۔ چنانچہ پانچ روز قبل اس فقیر نے ووٹ دینے کا اپنا قومی فریضہ ادا کر دیا جب فرض ادا کر دیا تو حق طلب کرنے کا اختیار خود بخود میرے پاس آ گیا ۔ آپ ناگواری کا اظہار مت فرمائیں اس لئے کہ پانچ دن پہلے کے دنوں میں تو آپ نے نہ دن دیکھا نہ رات کئی کئی بار میرے دروازے پر دستک دی میں نے تو ایک بار بھی ناک بھوں نہیں چڑھائی ۔ ویسے بھی ناچیز کو آپ سے نہ تو کسی گیس ایجنسی کا پرمٹ چاہئیے نہ ہی کسی پٹرول اسٹیشن کے لئے اجازت نامہ ۔ درویش نے نہ تو آپ سے کوئی مربع الاٹ کروانا ہے اور نہ ہی اسلام آباد کے کسی اچھے سیکٹر میں پلاٹ۔ ان کاموں کے لئے آپ کے پاس نہ تو درخواستوں کی کمی ہو گی اور نہ ہی لوگوں کی، آپ ایک ڈھونڈیں گے تو ہزار حاظر ہو جائیں گے ۔

میرے محترم و مربی یہ عاجز تو انتہائی عاجزی کے ساتھ آپ سے صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہے کہ آپ کی نظروں میں بے شک نہ ہو مگر اس ناچیز کی نظروں میں اس کی اپنی اور اپنے جیسے کروڑوں پاکستانیوں کی تھوڑی بہت عزت نفس ہے اور اسے ہی بچانے کی تگ و دو جاری ہے ۔ عزت مآب التماس صرف اتنی ہے کہ آپ ہماری اس بچی کھچی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ میرے جیسے کروڑوں پاکستانی علاج کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ اپنے بچوں کے داخلے کے لئے مختلف تعلیمی اداروں کے گیٹ کے سامنے ذلیل و رسوا ہوتے رہتے ہیں ۔ بجلی ، گیس،پانی اور ٹیلی فون کے محکمے کے ساتھ ساتھ دیگر سرکاری محکمہ جات بلوں کی بروقت ادائی کے باوجود یہ تمام سہولیات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہیں ۔سرکاری افسران ہم عام پاکستانیوں کو اچھوت سمجھتے ہوئے اپنے دفاتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے ۔ کسی بھی سڑک پر رواں دواں قافلے جناب یا جناب کے دیگر رفقاء کے گزرتے ہوئے یوں روک لئے جاتے ہیں جیسے ہم عام پاکستانیوں کی نظر ان کے چہروں پر پڑ گئی تو وہ پتھر کے ہو جائیں گے ۔

حضور کا اقبال بلند ہو مگر اس ناچیز کے اقبال کو بھی مزید پستی میں گرنے سے بچانا آپ ہی کی ذمہ داری ہے گذشتہ تقریبا 70 سال سے جس طرح میری تضحیک کی جا رہی ہے اور پل پل میں میری عزت نفس کو کچوکے لگائے جا رہے ہیں اس نے مجھے اب اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ مجھے سوائے اپنی عزت نفس کو بچانے کے اور کچھ نہیں سوجھ رہا آپ جناب سے دردمندانہ اور عاجزانہ التماس ہے کہ اپنے زیر نگیں تمام محکمہ جات کو احکامات صادر فرمائیں کہ وہ اپنی اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ادا کریں اور مجھ جیسے عام پاکستانیوں کی عزت نفس کو مجروح کرنے کی ہر جسارت سے اپنے آپ کو دور رکھیں کہ ہم جب اپنے فرائض احسن طریقے سے بر وقت ادا کرتے ہیں تو ہمیں ہمارے حقوق بھی ہماری دہلیز پر ملنے چاہئیں اور اس سلسلے میں خصوصا ہماری عزت نفس کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے ۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY