لال قالین اور ہمارے اداکار حکمران۔۔۔۔عالم آرا

0
146

کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ ہماری وطن سے محبت کیا صرف اور صرف بیانات تک ہی ہے ۔وہ چاہے ملک کا کوئی بھی طبقہ ہو ،کچھ لوگوں کو چھوڑ کر ۔اس قدر نام و نمود میں گِھر گیا ہے کہ کرنے والے سب کام پیچھے کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں ، جب سوچ چِھن جاتی ہے تو عمل کی طاقت بھی نہیں بچتی ۔ایسا ہی ایک منظر ہم نے کل بے شمار چینلز پر چلتے دیکھا جس میں دو مذدور لوگ دو لال قالین جھاڑ جھاڑ کر بچھا رہے تھے مٹی پر ۔پہلے تو ہم حیران ہوئے کہ یہ کیا خبر دکھائی جارہی ہے لیکن جب ہم نے ایک ہیلی کاپٹر اُترتے دیکھا اور اُس میں سے اسابق صدر کو باہر نکلتے اور لال قالین پر چلتے ہوئے اپنی کار تک جاتے دیکھا جو صرف شاید چند گز کے فاصلے پر کھڑی تھی تو ہماری حیرت اور شرمندگی کی انتہا نہ رہی کہ یہ ہیں ہمارے ملک سے محبت کرنے والے جن کے جوتوں کو بھی وطن کی مٹی نہیں لگ سکتی وہ اس ملک کی زمین پر چند قدم اپنے مہنگے جوتوں سمیت نہیں رکھ سکتے ۔جو اس ملک کی وجہ ہی سے اس قابل ہیں کہ اُن کا نام لیا جائے ،جنہوں نے اس ملک کی ہر ترقی اور ہر سکون پر شب خون مارا ہے ۔کیونکہ یہ کبھی بھی سچائی کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ اپنے مفادات اور ساتھ ساتھ اپنے دوستوں جاننے والوں کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں ۔ملک کی تو مٹی بھی ان کے پیر تو چھوڑیں جوتوں کو بھی نہیں چھو سکتی ،یہ ہوتے ہیں وطن سے محبت کرنے والے ؟؟؟؟؟؟؟؟

یہ ہی وہ ملک ہے جس کی مٹی نے انہیں اس قابل بنا دیا کہ محلوں میں بیٹھتے اور غریبوں کا خون پسینہ ایک کرتے ہیں ۔اُن کے ٹیکسوں سے اپنی عیاشیاں کرتے ہیں ،کاش بختاور اور اآصفہ اس پر بھی بولتیں کہ وہ اسی مٹی کی دُختر ہیں جس کے عوام نے اُن کے بڑوں پر اعتماد کر کے انہیں ووٹ دئے اور بڑے عہدوں تک پہنچایا ۔جبکہ اس کا صلہ اُن عوام کو ان سے کبھی نہ ملا ۔سب اآتے ہی اپنے نخرے اُٹھوانے اور اپنی بڑائی کا زعم دکھانے کے سوا کچھ بھی نہ کر سکے غریب اور بے کس عوام کے لئے ۔ویسے اب ہمیں اپنے عوام سے بھی ہمدردی کم ہی ہوگئی ہے جب وہ اُٹھتیئ ہی نہیں ان کے خلاف تو شاید اُسے یہ ہی لوگ چاہئیں ورنہ دنیا میں تو کوئی بھی حخمران عوام کے خباف حکومت کر ہی نہیں سکتا ۔اآج کل سُپر پاور کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ وہاں بھی کس طرح احتجاج اور فیصلوں پر تنقیدیں ہو رہی ہیں ۔جو ایک ذندہ اور جاگتی قوم کا حق ہے ۔کہ وہ اپنے حقوق پر کسی کو بھی ڈاکہ نہ ڈالنے دے چاہے حاکم ہوں یا لیڈر ۔مگر ہمارے یہاں تو اقتدار میں اآنے والوں کے لئے ایک جملہ معترضہ بولنا بھی ہر کارے پسند نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف پی سی ایل کا میچ ہے جس نے تمام اہم سے اہم باتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔اور ہر بزرگ اور بچہ ،ہر جوان اور طفل اس بحث میں لگ گیا ہے کہ ملک میں یہ میچ ہونا چاہئے یا نہیں ۔ضرور ایسی کھیلوں کی سرگرمیاں ملک میں ہونی چاہیئں لیکن کیا پورا پی سی ایل پاکستان میں نہیں کرایا جاسکتا تھا؟ ۔جب دھشت گردوں کو پیغام دینا ہی ہے تو پھر باقی میچ دبئی کے خالی اسٹیڈیم میں کیوں کئے اور کیوں کروڑوں روپئے کا ضیاں کیا ۔خیر روپئے تو لکھنا ہی فضول بات ہے کہ یہ تو اپنے سب کام ڈالر جیسی کرنسی میں کرتے ہیں اس لئے انہیں روپئے کی کیا قدر اسکی قدر تو انہیں بس اُسی وقت ہوتی ہے جب یہ، اسے ڈالر میں بدلتے اور باہر بھیج دیتے ہیں ماڈلوں کے ہاتھ ،بے نام لوگوں کے ہاتھ ۔اور شرمندگی کی ایک لہر بھی ان کے چہروں پر نہیں اآتی ۔ٹکٹ کے لئے لوگوں کو گاتے بجاتے دکھا رہے ہیں ۔لیکن ٹکٹ صرف بینک اآف پنجاب دے سکتا ۔کیوں ؟؟؟ اس کیوں کا جواب اآج تک کوئی نہیں دے سکا نہ دے سکے گا شاید ،کیونکہ پنجاب کہتے ہیں پنجاب ہے بالکل لیکن باقی پاکستان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیوں ؟؟؟؟؟

صدر صاحب کا رونا اپنی جگہ انہیں تو بس ایک مہرے کی حیثت سے رکھا ہوا ہے جو خود اُنکی باتوں سے پتہ چلا کہ بیچارے کس قدر مجبور ہیں ۔اُسی وقت ہمیں یہ بھی خیال اآیا کہ ہمارے ملک میں حق اور سچ بات کرنے والے کس قدر مجبور اور بے بس ہیں ۔لیکن ہم تو اپنے صدر سےایک ہی استدعا کر سکتے ہیں کہ ضمیر جاگنے کا کوئی وقت نہیں ہوتا جب بھی جاگ جائے بس اس کے بعد اُسے سونے نہیں دینا چاہئے ۔کہ مجاہد وہ ہی ہے جو اپنے ضمیر کی اآواز پر لبیک کہتا اور ہر برائی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے ۔صدر صاحب کی بیچارگی نے ہمیں اُن سے ہمدردی کی طرف راغب نہیں کیا بلکہ ہمیں یہ محسوس ہوا کہ جب اآپ اس قدر مجبور ہیں تو یہ اس کے خلاف اآواز کیوں نہیں اُٹھاتے کیوں نہیں بولتے اُن برائیوں کے خلاف جن کی نحوست اور بے ایمانی کا اآپ زکر کرتے ہیں ۔اآپ کو تو ان تمام باتوں پر نوٹس بھی لینا چاہئے تھا اور سب کے سامنے سچائیاں بھی لانی تھیں ۔

لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ہم اسی طرح کھیل تماشوں میں لگے رہینگے ملک کس طرف جا رہا کس سمت پر روان دواں ہے ہمیں اس سے کوئی واستہ ہے نہ مطلب کہ بس جن کی قسمت میں جو کچھ ہو وہ اُسی طرف جاتے ہیں ۔لیکن بڑی طاقت جو سب سے بڑی ہے جس کے ہاتھوں میں دنیا ہے وہ بھی ایک ،ایک پر نظر رکھے ہوئے ہے کب کس کے لئے کیا فیصلہ ہوگا یہ اوپر والا ہی جانتا ہے ۔لیکن ہمیں تو بس ایک ہی اُمید ہے کہ شاید اب کے کچھ اچھا ہو اور ہم بھی کچھ دیر کے لئے ہی صحیح گردن اَکڑا کر کھڑے ہو سکیں کہ دیکھو غلط کاموں کا انجام غلط ہی ہوتا ہے اور پکڑ اپنے وقت پر ضرور ہوتی ہے ۔
اللہ میرے ملک میں امن و امان رکھے اور ہم اچھی خبریں بھی سُنیں ،انشاء اللہ

SHARE

LEAVE A REPLY