انسان کو معاشرتی جانور کہا گیا ہے مگر ارباب اختیار کی طرف سے جو سلوک ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے ساتھ کیا جا رہا ہے وہاں معاشرتی کا لفظ اضافی لگتا ہے، یہاں تک کہ کسی مہذب معاشرے میں جانوروں کے جو حقوق ہوتے ہیں ان تک سے محروم کیا جا رہا ہے، سفید پوشی کا بھرم رکھتے رکھتے بات ستر پوشی تک آن پہنچی ہے،شکم سیری کی بجائے شکم پری کے لالے پڑنے کو آ گئے ہیں
دنیا کی چھٹی اور اسلامی پہلی ایٹمی ریاست اپنے باسیوں کے منہ سے دو وقت کے نوالے چھیننے پہ تل گئی ہے، ساری حیاتی نشریاتی لہروں پر دوسروں کو کامیاب اور خوشگوار زندگی کے مشورے دینے والے خود اپنی زندگی کی ڈور سلجھانے سے قاصر ہو گئے ہیں، اپنی جوانی کے قیمتی ماہ و سال ادارے کی بہتری کے لئے شب و روز محنت اور پوری نیک نیتی سے گزارے کہ بڑھاپے میں سکون سے اپنی باقی ماندہ زندگی بسر کریں گے، تعلق چونکہ شعبہ پروگرام سے تھا تو کبھی حساب کتاب میں ماہر نہ ہو سکے اور نہ ہی عدالتوں میں جانے کی کسی طور نوبت آئی،
اب عالم یہ ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے کبھی پوری اور کبھی آدھی پینشن وصول پا رہے تھے مگر تازہ ترین اطلاعات یہ ہے کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز تو پینشن کے حق دار ہی نہیں ہیں۔
ریاست تو ماں جیسی ہوتی ہے، ہم اگر اس ریاست کے بیٹے نہیں ہیں تو اپنا دکھ کس کے آگے روئیں، عمر بھر سوائے اللہ کےکہیں دامن نہیں پھیلایا ،کیا اب اس عمر میں یہ بھی کرنا پڑے گا، اس سے پہلے کہ یہ نوبت آن پہنچے ایک خوددار کو اس جہاں سے ہی چلے جانا چاہیے،
مگر کیوں،
تنگ آمد بجنگ آمد
ہمیں ہر وہ قدم اٹھانا ہے جس سے ہم اور ہمارے متعلقین کو جائز حق ملے۔ اس کے لئے ہم سب کو ایک موثر لائحہ عمل طے کرنا ہو گا اور اس پر سختی سے عمل کرنا ہو گا۔
سچ تو یہ ہے کہ چار جانب گھور اندھیرا ہے۔یوں لگتا ہے لوگ خود کُشی کی طرف جا رہے ہیں اور ایسے میں حس ڈی جی ریڈیو ،وزارت اطلاعات،عدلیہ اور حکومت خاموش تماشائی ہے
آصف کھیتران












