ووٹ کی طاقت دراصل مظلوم عوام کی طاقت ہے ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

2
1105

عمومی طور پر ہم میں سے ہر کوئی یہ سنتا چلا آرہا ہے کہ جمہوریت بہترین طرز حکومت اس لیئے ہے کہ یہ عوام کے لئے ہوتی ہے اور اسے عوام ہی منتخب کرتی ہے ۔ جمہوریت کی یہ تاریخ لگ بھگ دنیا میں اکثر جمہوری ممالک میں تسلیم تو کی جاتی ہے لیکن اس پر عمل کس قدر ہوتا ہے یہ الگ تفصیل طلب بحث ہے ۔ مجھے لگتا ہے جیسے علامہ اقبال نے یہ شعر موجودہ جمہوریت کے بارے میں ہی کہا ہوگا ۔

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

گذشتہ کئی عشروں کی سیاسی ، جمہوری اور انتخابی تجربات نے اس فکر کی حقیقی تصویر پیش کی ہے کہ زیادہ تر جمہوری ممالک کی اسمبلیوں میں موجود لوگ فقط گنتی کے زمرے میں آتے ہیں ، وہ کہتے کیا ہیں ، کرتے کیا ہیں اس سے شاید کسی حکمران جماعت کو تعلق نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے شاید پاکستان سمیت متعدد نام نہاد جمہوری معاشروں میں ووٹ کی طاقت صفر کے برابر ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ان معاشروں میں ووٹ کی طاقت پیسے سے منسلک ہے یا یوں کہیئے کہ طاقت پیسے کی ہے جس سے چاہے ووٹ ڈلوا لیں ۔ جہاں ووٹ بکتے ہوں ، جہاں دھونس اور دھاندلی ہوتی ہو، جہاں انتخابی نظام میں جان بوجھ کر ایسے سقم رکھے جایئں جس سے مفاد پرست طبقوں کو فائدہ ہو ، وہاں اسی لیئے ووٹ کو “ پرچی “ کا نام دیا جاتا ہے ۔ اور اس پرچی کی طاقت آخر کار ان حاکموں کی طاقت بن جاتی ہے ، جو جب چاہیں جیسے چاہیں اپنے ووٹرز کے ساتھ سلوک کریں ۔

یہ قدرے طویل تمہید امریکہ کے موجودہ حالات کے تناظر میں صرف اس لیے باندھی ہے کہ امریکہ جو اپنے آپ کو جمہوریت کا باپ کہتا اور سمجھتا رہا ہے ۔ سیاہ فاموں کی کتنی ہی نسلوں نے اس ملک کی ترقی میں کیا کردار ادا کیا اس پر کتابوں کی کتابیں بھری پڑی ہیں ، لیکن عملی طور پر ان سیا فاموں کے ساتھ کیا ہوا اس کا نکتہ عروج آج امریکہ کی بیشتر ریاستوں کی سڑکوں پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ یہ کسی پہلے سیاہ فام کا قتل نہیں تھا۔ اس سے پہلے بھی ایسے لاتعداد واقعات ہو چکے ہیں ۔ پر صد افسوس اس سرمایہ دارانہ نظام میں ووٹ اور جمہوریت بھی سرمایہ داری کی ایک شکل ہی نکلی۔۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ امریکہ میں شاید ہمارے ملکوں کی طرح ووٹ بکتا نہ ہو لیکن وہ سیا فام اکثریت جو ہر سیاسی توازن کو بدل سکتی ہے ، ان کو جان بوجھ کر ایک نظام کے تحت ووٹ کی طاقت کا راز ہی نہیں بتایا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ دنیا کی اس وقت واحد بڑی طاقت ہے، لیکن اس سے بھی انکار ناممکن ہے یہ سیاہ فام اکثریت اس ملک کی پسماندہ ترین آبادی ہے ، جو بدترین حالات میں رہتی ہے ۔۔ جو جبر و ظلم اور عدم مساوات کا شکار ہے ۔

امریکہ کے تازہ ترین حالات جس نہج پر جا رہے ہیں اس سے مجھ جیسے کئی لوگوں کو کچھ امید ضرور بندھی ہے کہ شاید اس مرتبہ عنقریب ہونے والے ملکی انتخابات میں یہ سیاہ فام اکثریت اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھ سکیں ۔ اور اس کی ایک بڑی وجہ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے “ جارج فلویئڈ “ کے بھائی کی تقریر کا وہ حصہ ہے جس میں اس نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ“ وہ اپنے غصے اور غم کو مثبت سوچ اور عمل سے بدل ڈالیں ، عمارتوں کو نذرآتش کرنے کی بجائے آنے والے انتخابات میں بھرپور طریقے سے ووٹ دے کر ووٹ کی طاقت اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں ۔“ یہی بات ہوسٹن پولیس کے سربراہ نے بھی کھلے بندوں اپنے ٹی وی انٹرویو میں کہی ہے “ باہر نکلیں ، ووٹ دیں اور ووٹ کی طاقت سے ظلم ، جبر ، نسلی امتیاز اور تعصب کے اس نظام کو بدلیں ۔“

مجھے یہاں متعدد ممالک کے انتخابی نظام میں ایک منصوبے کے تحت رکھی گئی خامیوں کی طرف بھی اشارہ کرنا ہے ۔ یورپ کے اکثر ممالک اور آسٹریلیا کے علاوہ کئی اور ممالک میں بھی ووٹ دینا اس حد تک لاذمی ہے کہ ووٹ نہ دینے والوں کو اچھا خاصا جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن پھر بھی اکثریت ایسے ممالک کی ہے جہاں ووٹ دینا یا نہ دینا صوابدید ہے ۔ اس لیئے ایسے انتخابی نظام میں خاموش اکثریت کے ووٹ خاموشی سے اقتدار والوں کے حق میں بھگتا دیئے جاتے ہیں ۔ پاکستان جیسے ملکوں میں ووٹ دینا لازمی قرار نہ دینا سمجھ میں آتا ہے ، لیکن جمہوریت کا باپ ہونے کے دعویدار امریکہ میں یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے ۔ جو سوائے ا سکے اور کچھ نہیں کہ نظام میں سوچ سمجھ کر یہ ایک خلا رکھا گیا ہے اور اس کا نقصان اکثریت والے سیاہ فاموں ہی کو ہوا ہے ۔

دنیا میں اب اس نعرے کو آفاقی نعرہ بن جانا چاہیئے کہ “ ووٹ کی طاقت دراصل مظلوم عوام کی طاقت ہے “ ۔۔۔۔ کہ ۔۔ آج کی دنیا میں جبر اور ظلم کو شکست دینے کے لیئے اس سے کاری ضرب والا ہتھیار شاید کوئی دوسرا نہ ہو ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

2 COMMENTS

  1. بہت زبردست تجزیہ۔ اب دنیا کی پروٹو ٹائپ روایات ٹوٹ رہی ہیں۔ بڑے بڑے بڑےانقلاب آرہے ہیں ۔سب کچھ بدل رہا ہے ۔اب یہ تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔

LEAVE A REPLY