تنہائی کا احساس انسانی وجود کو ایسے کھا جاتا ہے کہ ۔ فائزہ عباس

0
126

انسانی وجود کو ایسے کھا جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔
جیسے سوکھی لکڑی کو آگ ۔ ۔ ۔ ۔ یا دیمک لکڑی کو ۔ ۔ ۔ یہ احساس تنہائی ۔ ۔ ۔جسے کبھی انسان درک کر پاتا ہے اور کبھی آنکھیں چرا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ انسانی وجود کے ۔ ۔
کے بہت خاص حصے کھا جاتا ہے جب انسان اپنی سب طاقت ۔ ۔ ۔محض اس چیزکے اظہار میں خرچ کرنے پر لگا دیتا ہے کہ وہ بہت خوش ہے ۔ ۔ ۔

حالانکہ یہ دکھاوے ، یہ جھوٹ سوائے دھوکے دہی کے کچھ نہیں بھلے ہم دنیا کو جو کچھ بھی دکھا لیں۔ ۔ ۔ہم خود سے کچھ نہیں چھپا سکتے یہ دھوکے تب تک ہمیں کھاتے رہتے ہیں جب تک ہم خود سے سامنا نہیں کرتے۔ ۔ ۔ جب تک خود سے پوچھتے نہیں کہ ہم کون ہیں ۔ ۔ ۔اوردرحقیقت چاہتے کیا ہیں ۔ ۔ ۔؟ کیا ہم وہ چاہتے ہیں جو ہ خود سے خود کے لیے چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔؟

یا کہ وہ جو سماج، معاشرہ، دنیا یا ماں باپ انسان کی فیملی چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ہم سے ؟
اور جو ہم چاہتے ہیں آخر وہ کیوں چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔؟؟؟؟

کیا دنیا کو مرعوب کرنا مقصود ہے یا کہ خود کو مرعوب کرنا ۔ ۔ ۔یا کہ کچھ اور وجہ کبھی جانی ہم نے وہ وجہ ۔ ۔ ۔جو کسی بھی چاہت، پسند، مان لینے ، رد کرنے یا اپنا لینے کے پیچھے ہے وہ واقعی وجہ ہے اس عمل کے پیچھے یا کہ ہم نے بس تصور کر لی ۔ ۔ ۔

جب تک “کیوں” کا معلوم نہیں ہو جائے ۔ ۔ ۔ ” میں “۔ ۔ ۔کو تسخیر کر پانا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔اور جب تک میں کی تہ تک نہیں پہنچا جائیگا تب تک خود ساختہ یا خود پہ طاری خوشی ، غم ، کامیابی ، ناکامی یا کسی بھی رویے کی اصل تک نہیں پہنچ پائیں گے اور یہ خود تک نہیں پہنچ پانا ہی بنیادی رکاوٹ ہے انسان کی بہت سی الجھنوں کی جنہیں انسان درک نہیں کر پاتا اور مغموم رہتا ہے ۔ ۔ ۔ کہیں بہت گہرائیوں میں ۔ ۔ ۔اور اطمینان کے جھوٹے دلاسے خود کو دیتا چلا جاتا ہے بجائے اس کے کہ اطمننان کی اصل وجہ معلوم کر کے خود کو مطمئن کرتا۔ ۔ ۔جھوٹ اور دکھاوے کے تصور سے خود فریبی میں خود کو لپیٹ رکھتا ہے اور سلگتے سلگتے ختم ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔حتی کہ اسکی گمشدگی اور موت تک کا اسکو معلوم نہیں چلتا ۔ ۔ ۔اور یہ بڑا نقصان ہے ہ خود کے ساتھ رہتے ہوئے بھی انسان خود کو فریب میں تو رکھے مگر اس فریب کو توڑ کر خود کو سلجھانے کی جرات نہ کرے ۔ ۔ ۔
خود کو اپنانے کی ۔ ۔ ۔خود کو جیتنے اور خود کی ہار کو تسلیم کرنے کی جرات نہ کرے ۔ ۔ ۔

دراصل انسان خوفزدہ ہے اپنے وجود کی تاریکیوں سے مگر نہیں سمجھتا کہ اس گہری تاریکی کے دوسری جانب ایک دلنشین روشنی اور اس روشنی میں ایک جیتا جاگتا بلند انسان ہے مگر وہ اپنے وجود کی اس تاریکی سے ڈر کے رخ موڑ لیتا ہے تاکہ اندھیرے کی تلخیاں اسے ستائیں نہیں ۔ ۔ ۔اور وہ اندھیرے میں کہیں کھو نہ بیٹھے خود کو ۔ ۔ ۔کہ کہیں اس کی تاریکیوں میں اس کے راستے کھو نہ جائیں ۔ ۔ ۔ کہ کہیں اس کی زات کسی انجانی شے سے نہیں ٹکرا جائے ۔ ۔ ۔ ۔

حالانکہ وہ مسئلہ تو اس ڈر سے سامنا کرنے کا ہے جو اس خوشبو کی راہ میں رکاوٹ ہے جو اس خوف کا سامنا کر کے اس کو ملنے والی تھی ۔ ۔ ۔

مسئلہ تو یہ تھا کہ جیسے دن کو رات اور رات کو دن کو قبول کرنا پڑتا ہے ۔ ۔ ۔ایسے ہی انسان کو بھی اپنی تاریکیوں میں کھو کر دیکھنا پڑتا ہے کہ آخر اسکے دوسری جانب ہے کیا ۔ ۔ ۔ ۔بہت ممکن ہے کہ اس گہری لمبی تاریکی کے دوسری طرف شفاف میٹھا پانی ہو بالکل اس کنویں کی مانند جو بظاہر بہت تاریک محسوس ہوتا ہے مگر اس کی آخر میں میٹھا پانی موجود ہوتا ہے کہ جسکو پینے سے وجود میں زندگی پھر سے رواں دواں ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
اپنے زخموں پہ رستے خون کو صاف کر کے ان زخموں کے درد سے نجات حاصل کر کے ہی انسان ان زخموں کے دوسری جانب دیکھ سکتا ہے کبھی درد محو رکھتے ہیں انسان کو اور انسان درد میں لطف اندوز ہوتے ہیں کہ یہی سب سے سہل اور دلکش محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ درد ہی میرا ہے اور اس درد سے وابستگی میں ہوں مگر دراصل اس درد کی چوٹ نے انسان کو بہکا دیا۔ ۔ ۔ہٹا دیا ۔ ۔ ۔دور کر دیا خود سے کہ وہ دیکھ ہی نہیں سکا کہ اس درد کے دوسری طرف ایک حسین پرسکوں وادی تھی جس سے لطف اندوز ہوتا اس سے قبل ہی اس نے اپنی سب توجہ ان زخموں پہ رکھی کہ جن کے بیچ بیٹھکر وہ بہت اچھا محسوس کرتا ہے ۔ ۔ ۔کہ یہ آسان تھا کہ ان کے بیچ بیٹھکر خود پہ یا اس سب پہ گریہ کناں رہتا اور گنوا بیٹھا اس نور کو جو اس کے دوسری جانب اسکے انتظار میں کھڑا مسکرا رہا تھا ۔ ۔ ۔
اور انسان نے ان کسٹنوں، ان جھاڑیوں ان چٹیل زخمی کرنے والے راستوں کو اپنی تسکین کی جگہ بنا لیا ۔ ۔ ۔ کہ جہاں سے آگے سفر کرنا باقی تھا وہ وہیں پہ رک گیا ۔ ۔ ۔خود کو گم کر بیٹھا گنوا دیا ۔ ۔ ۔
کہ آسانیاں انسان کو بہت دلکش اور محظوظ کرنے کا عمل لگتی ہیں بھلے وہ زخم خود ساختہ و وقتی ہوں ۔ ۔ ۔وہ درد اسکو میٹھے لگتے ہیں بھلے وہ اسکے وجود کو چاٹ کھائیں ۔ ۔ ۔مگر وہ جرات عمل نہیں کرتا کہ ان تاریکیوں کے اس پار جانے کا سفر طے کرتا اور جانتا کہ اس کے وجود میں کسقدر روشنی ہے۔ ۔ ۔نور ہے ۔ ۔ ۔سکون ہے ۔ ۔ ۔وہ حیرت میں مبتلا ہوتا کہ وہ کیا ہے ہے اس نے آسانی کو ترجیح دی اس حیرت میں گرفتاری سے بہت قبل اور سامنا کرنے کی بجائے ہار مان کر ڈر کہ بیٹھ گیا ۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY