ریڈیو پاکستان کو بابو اور بابو ذہنیت لے ڈوبی،شکیل محمد

0
693

نکال دو رکھ لو، نکال دو رکھ لو، اس چلن نے ریڈیو پاکستان کا ستیاناس کردیا ۔ ریڈیو میں سفارشیوں کا فلڈ گیٹ اس لیئے کھلا کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ خالی ہونے والی پوسٹوں پر قانونی طریقے سے بھرتیوں میں کچھ لوگوں کی دلچسپی نہیں تھی اور کچھ اس طریقے کو اپنی واردات کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے ۔ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق بابوں کی اعلی’ عہدوں پر تعیناتیوں نے سیاسی اثرورسوخ اور سفارش کو معیار بنا دیا ۔ جو فنکار اور ملازمین یہ نہ کرسکے وہ بلکنے اور سسکنے پر مجبور کردئیے گئے ۔

کبھی ریڈیو کا فیس سٹرکچر ایک مقدس دستاویز ہوتی تھی اور اختیار پروڈیوسر کے پاس ہوتا تھا پھر راستے اور سوراخ ڈھونڈے گئے اور ریڈیو کی کشتی بیچ منجدھار ڈبو دی گئ ۔بابووں نے اپنے اپنے فائدے کے لیئے تخلیق اور تخلیق کار دونوں کا گلا گھونٹ دیا ۔ ریڈیو پاکستان پروگراموں کی بجائے ذاتی نفع نقصان کا اکھاڑا بن گیا ۔ نئی بھرتیوں پر پابندی، فنکاروں کے معاوضوں کا سالہاسال تک انجماد، تربیتی پروگراموں اور کورسز کا فقدان، نشریات کے بدلتے رجحانات سے بیزاری اور لاعلمی، ریڈیو بجٹ کا غیر پیداواری استعمال، اور سب سے بڑھ کر فیصلہ سازی میں ریڈیو کے بنیادی کردار یعنی پروگراموں کی بجائے گریڈوں اور ترقیوں پر کامل یکسوئی نے ریڈیو کے بنیادی شعبوں یعنی پروگرام، خبر اور لوگوں تک رسائی کے لیئے فعال اور مظبوط مشینوں کا بھرکس نکال دیا ۔

ھم لوگ چیختے رھے، دھائی دیتے رھے کہ لوگوں کو سفارشوں، تعلقات اور سیاسی بنیادوں پر نہ رکھو، اس طرح ان لوگوں کی زندگیاں بھی برباد ہوں گی اور ادارہ بھی غرق ہوجائے گا لیکن نہ کوئی سننے والا تھا اور نہ سمجھنے والا ۔ اس بہتی گنگا میں جس کا داو لگا اس نے ھاتھ دھوئے ۔ شعبہ پروگرام کا سارا بجٹ جز وقتی ملازمین کی تنخواہوں کی نذر ہونے لگا۔ ریڈیو پاکستان کے مختلف شعبوں میں بےشمار لوگوں کو بھرتی کر لیا گیا اور انہیں پروگرام بجٹ سے ادائیگیاں ہوتی رھیں ۔

بڑے اسٹیشنوں پر تو یہ عالم تھا کہ بکنگ کرنے والے پروڈیوسر سے لیکر اسٹیشن ڈائیریکٹر تک کو کئ بار علم نہیں ہوتا تھا کہ جس کا نام لکھا جارھا ہے وہ ہے کون اور کہاں کام کررھا ہے۔ اب اس اچانک فیصلے کی زد میں کئی ایسے بھی آگئے جو واقعی اھل بھی تھے اور محنتی بھی ۔ کئ تو پورے پورے اسٹیشن کا بار اٹھائے ہوئے تھے ۔ اس طرح کے فیصلے ایک مربوط پالیسی کا حصہ ہونے چاھیے تھے لیکن یہاں نقصان کے بعد سوچا جاتا ہے کہ بچنا کیسے تھا ۔ اس صورتحال کا حل صرف یہ ہے کہ ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ فی الفور خالی تمام شعبوں کی خالی آسامیاں مشتہر کرئے اور قانونی طریقے سے نکالے جانے والے افراد کو ان کی قابلیت کی بنیاد پر ٹیسٹ اور انٹرویو کی بنیاد پر متعلقہ شعبوں میں مستقل ملازمت دے ۔

شعبہ پروگرام کا بجٹ صرف اور صرف پروگراموں سے متعلقہ سرگرمیوں کے لیئے مختص ہو ۔ نیافیس سٹرکچر جاری کیا جائے اور فنکاروں کے معاوضہ جات میں اضافہ کیا جائے ۔( یہ مشق کی جاچکی ہے اور کئی سال سے عملدرآمد کی منتظر ہے )۔ پروڈیوسر اور فیس سٹرکچر کی اھمیت اور حیثیت تسلیم کی جائے ۔ ریڈیو میں تربیت اورصلاحیت بڑھانے کا نظام بحال کیا جائے اور نشریات کے جدید رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے پروگراموں کی ترتیب اور پیشکش کا عمل شروع کیا جائے ۔

اھم ترین تجاویز یہ ہیں کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کے سامنے ریڈیو پاکستان کی اھمیت اور افادیت پر مبنی مظبوط کیس پیش کیا جائے ۔ثانیا” اس خطے میں موجود اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے انتظامی ڈھانچوں کا مطالعہ کرکے ریڈیو پاکستان کو جدید تقاضوں سے ھم آھنگ ایک فعال نشریاتی ادارہ بنایا جائے ۔ مذکورہ بالا اقدامات ریڈیو پاکستان کو ایک بار پھر بام عروج پر لے جا سکتے ہیں دوسری صورت میں تباہی کا جاری عمل سب کو اپنی لپیٹ میں لے گا ۔ اس آندھی میں ان کے چراغ بھی بجھیں گے جو یہ سمجھ بیٹھے ھیں کہ ھم محفوظ پناہ گاھوں میں بیٹھے ھیں اور ھمیں کچھ نہیں ہوگا ۔

شکیل محمد

SHARE

LEAVE A REPLY