کیا آئیندہ محاذ جنگ لبنان بننے والا ہے، مشرق وسطیٰ میں کم از کم گزشتہ ہفتے کے حالات کی نہج یہ ہی اشارہ کررہی ہے۔
کیا ستم ظریفی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ابھی ایک جنگ کی چنگاریاں پوری طرح راکھ نہیں بنتی کہ ایک اور جنگ کے شعلے بھڑکنے لگتے ہیں۔ ایران عراق، عراق پر امریکی چڑھائی، شام اور یمن میں جنگ کے بعد اب لبنان میں ایک نیا محاذ جنگ کھلنے کو ہے۔
اطلاعات کے مطابق لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری سعودی عرب میں تقریباً نظر بند ہیں، لبنان کے اس مطالبے کا سعودی حکومت نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا کہ وزیر اعظم حریری کو واپس وطن کیوں آنے نہیں دیا جارہا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب جا کر سعد حریری کا اچانک یہ اعلان کہ لبنان میں ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے وہ مستعفیٰ ہورہے ہیں۔ ممکنہ طور پر خطے کے لیے سب سے زیادہ دھماکہ خیز اور چونکا دینے والا اعلان تھا
حریری کے بیان میں سعودی عرب کے اس موقف کی گونج صاف سنائی دی کہ لبنان میں ‘بدامنی اور بربادی’ کا اصل ذمہ دار ایران ہے۔ حریری نے اپنے استعفیٰ میں الزام لگایا کہ لبنان میں ایران کی اتحادی حزب اللہ جو بڑی شیعہ ملیشیا اور طاقتور سیاسی قوت ہے، ریاست کے اندر ریاست بنا رہی ہے۔۔
حریری کے استعفےٰ کے ساتھ ہی سعودی عرب نے لبنان سے یہ مطالبہ بھی کرڈالا کہ ایران حزب اللہ کے ذریعے خطے کو غیر مستحکم کررہا ہے، اگر لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح نہ گیا تو اسے سعودی عرب کے خلاف اعلان جنگ سمجھا جائیگا۔
لبنان کی حکومت کا حزب اللہ کے خلاف کسی کاروائی کا مطلب ملک میں خانہ جنگی کے مترادف ہے۔ ظاہر ہے کہ لبنان کی حکومت ایسی کسی محاذ آرائی کا متحمل ہوسکتی۔
اگر سعودی عرب لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہے تو اسے کچھ زیادہ دور نہیں مشرق وسطیٰ کی حالیہ تاریخ پر یعنی انقلاب ایران کے بعد امریکی اشاروں پر ہونے والی جنگوں کے نتائج پر ضرور نظر ڈالنی چاہیے۔
سن اسی میں عراق نے بیٹھتے بٹھائے ایران پر چڑھائی کردی۔
تبصرہ نگاروں کا کہنا تھا کہ گو کہ ایران اورعراق کے درمیان پانیوں میں سرحدی حدود پر کچھ تنازعہ تو ضرور تھا، مگرعراق نے ایران پر حملہ امریکی ایما پر کیا تھا۔
یہ تاریخ کا کھلا ہوا باب ہے کہ دونوں اسلامی ملکوں کے درمیان یہ جنگ آلھ برس تک ہوتی رہی۔ جس میں عراق کو امریکہ اور سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ملکوں کی حمایت حاںل رہی۔
نوے کے عشرے میں عراق خود زیر عتاب آگیا۔ بڑے پیمانے پر تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگا کر اس کے خلاف خلاف تادیبی پابندیاں عائد کردی گئیں۔
امریکہ آج تک یہ ثابت نہیں کرپایا کہ 2001 میں امریکہ پر حملے میں عراق کا کوئی باشندہ شامل تھا۔
تاہم امریکی ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں عراق پر چڑھائی کردی۔ ہتھیار تو کہیں نہ ملے، مگر عراق اور شام ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان دنوں ملکوں میں صرف ملبہ اٹھانے میں ہی دس برس تک لگ جائیں گے۔
مگر سعودی عرب کے بتیس سالہ شہزادہ سلمان کاروبار مملکت بلکل ایسے چلارہے ہیں جیسے وہ شطرنج کی کوئی بازی کھیل رہے ہوں،
شائد سیاسی بساط میں ان کی کچھ اصلاحات کو اس لیے تھوڑی بہت پزیرائی مل رہی ہو کہ مدتوں سے ان کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔
مگر دفاعی محاذ پر سعودی عرب بخوبی جانتا ہے کہ گزشتہ ہفتے ریاض پر ہوثی قبائل کا میزائیل حملہ یہ بتانے کے کافی ہے کہ تمام تر جدید امریکی اسلحے کے باوجود یمن کے محاذ پر وہ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نھیں کرسکا۔ جبکہ یمن ایک مفلوک الحال ملک ہے، جس کی جدید ہتھیاروں تک کوئی رسائی نہیں
اس منظر نامے میں شہزادہ سلیمان ٹرمپ کی حمایت اورامریکی ہتھیاروں کے زور پر حزب اللہ کی آڑ میں ایران سے محاذ آرائی کی بازی کھلینے چلے ہیں
غالباً انھیں یہ اندازہ نہیں کہ یہ بازی بلکل الٹ سکتی ہے، سعودی عرب شائد جس کا متحمل نہ ہو سکے
ماہ پارہ صفدر













