جہان گم گشتہ کا عقاب،باب چہارم ۔ پہلی قسط

0
865

ایک رات بھٹیانی قبیلہ کی پہاڑی وادیوں میں ڈھول کی آواز گونجنے لگی۔ ڈھول کی آواز ساری رات سنی جاتی رہی۔۔۔وقفے وقفے سے تاکہ ڈھولچی تھوڑا آرام کر کے اپنی طاقت بحال کرتے رہیں۔ ڈھولوں کی ڈراونی آواز گارے کے بنے مکانوں اور پہاڑی غاروں میں بنی رہائش گاہوں میں پہنچتی رہی۔ عموما عورتیں پہلے آٹھ پڑتیں اور جھنجھوڑ کر مردوں کو گہری نیند سے جگاتیں اور اسلحہ تھماتیں۔۔۔اور جو مرد اٹھنے میں حیل و حجت سے کام لیتے انھیں وہ کوسنے بھی دیتیں۔ڈھول کی اس مخصوص تھاپ کا مطلب تھا قبیلہ خطرے میں تھا۔ رواج کے مطابق ایسی غیر معمولی صورت حال میں ہر گھر سے ایک مسلح جنگجو لازما لبیک کہے گا۔ صبح ہونے تک تقریبا ساٹھ جنگجو جمع ہو چکے تھے۔۔۔یعنی قریب قریب واقع تین وادیوں کے بھٹیانی جنگجو تمام جمع ہو جانے والے مردوں کو بلانے کی وجہ بتائی گئی۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ ایک بچہ، جسے گزرے دن بکریاں چرانے بھیجا گیا تھا۔۔۔گھر واپس نہ آیا تھا۔ اس کے اہل خانہ نے اس کی تلاش کی تو بھٹکتے ہوے جانور تو مل گئے لیکن لڑکا نہیں ملا۔

جتھے نے پو پھٹتے ہی لڑکے کی تلاش شروع کر دی۔ انھوں نے پہاڑی کھوہوں، دراڑوں، گہری گھاٹیوں، جنگلات اور خشک برساتی ندیوں کی تلیوں کو کھنگالنا شروع کیا۔ سب سے آگے چلنے والی پارٹی میں ایک ماہر کھوجی تھا لیکن سخت اور بعض جگہ کنکریوں سے اٹا راستہ کوئی اشارہ نہیں دے رہا تھا۔ لڑکے کے آخری نشانات بھی وہاں پہنچ کر معدوم ہو گئے جہاں سے اس کی بکریاں ملیں۔دوپہر کے وقت تلاش کرنے والے کچھ آرام کا سوچ رہے تھے کہ ان کی تلاش رنگ لے آئی۔ ایک بلکل آندھی کھائی میں جو کہ بلند جھاڑیوں میں چھپی ہوئی تھی، انھیں ایک ننگے سر لمبی داڑھی والا آدمی پتھر کی سل پر بیٹھا ملا۔ لڑکے کی پیٹ پھٹی لاش اس کے سامنے پڑی تھی جبکہ ایک زندہ لڑکا قریب ہی ایک درخت کے تنے سے اسی بوڑھے کی پگڑی سے بندھا ہوا تھا۔

اس آدمی نے تلاش پارٹی کے قریب آ جانے پر بھاگنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ وہ سکون سے سل پر بیٹھا رہا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت و جنون کے آثار تھے۔۔۔اور وہ مسکراتے ہوے اپنی داڑھی میں انگلیاں پھیرتا رہا۔ اس سے ان گنت سوالات کی بارش ہو رہی تھی اور وہ دیدے گھماے جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہی سب کا اندازہ پختہ ہو گیا کہ وہ جو کوئی بھی تھا اپنی عقل کھو بیٹھا تھا اور اب اس پر بولنے اور سوال پوچھنے کا کوئی اثر نہ تھا۔

مردہ لڑکے کے لواحقین نے غیض و غضب میں اسے فورا گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ لیکن، ہوا کیا کہ وہ اس کے بعد از قتل پچھتانے لگ گئے۔ اس علاقہ میں ایک پختہ یقین تھا کہ پاگل پن میں انسان خدا کے بے حد قریب ہو جاتا ہے لہذا اس مجنون کو قتل کر کے وہ شاید کسی گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو گئے تھے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اب اللہ کا عذاب قریب لگ گیا۔ پھر انھوں نے درخت سے بندھے لڑکے کو آزاد کیا۔ اس کی عمر بمشکل بارہ یا تیرہ برس تھی۔ اس کے گلے میں چاندی کا ایک تعویذ تھا۔ انھوں نے فرض کر لیا کہ وہ بندھا ہوا لڑکا اس جنونی کا اگلا متوقع شکار تھا۔ لڑکا ان کی زبان بول اور سمجھ سکتا تھا لیکن اس کا تلفظ بے حد عجیب اور نامانوس تھا۔ اس لئے وہ اس کے قبیلے کا تعین نہ کر سکے۔۔۔نہ ہی وہ لڑکا بتا پا رہا تھا کہ وہ کہاں سے آیا تاکہ وہ اسے اس کے والدین تک پہنچا سکتے۔

وہ مردہ اور زندہ لڑکے کو گاوں لے آے۔ جنونی کی لاش اسی سل پر پتھروں سے ڈھانپ دی گئی۔ مرنے والے بھٹیانی لڑکے کے خاندان نے اس اجنبی لڑکے کو فورا اپنا بیٹا مان کر خاندان میں جگہ دے دی۔ انھوں نے اسے اپنے مردہ بیٹے کا نام دے دیا۔ ‘تور باز۔۔۔سیاہ عقاب’۔ اس نے انہیں نہ اپنے متعلق کچھ بتایا نہ ہی اس مردہ جنوبی کے متعلق کچھ بتایا۔ایک روز اس نے اپنی منہ بولی ماں کے کان میں سرگوشی کرتے ہوے بتایا۔ “اس کا نام ملاں باریراے تھا۔” وہ گھبرا کر بولی۔”ملاں باریراے؟” کوئی بھولی بسری یاد اس عورت کے دماغ میں ابھرنے لگی اور وہ ہیجان میں آتی گئی۔ وہ بھاگ کر غار کے دہانے تک پہنچی اور زور زور سے اپنے خاوند کو پکارنے لگی۔ “تور باز کہتا ہے جس جنونی کو تم نے قتل کیا اس کا نام ملاں باریراے تھا۔۔۔لعنتی باریراے۔۔۔شیطان کا بچہ باریراے۔”

مرد جلدی سے غار میں آیا اور لڑکے کو کاندھے سے پکڑ کر پوچھنے لگا۔ ” کیا تم سچ کہتے ہو؟ ہمیں مزید بتاو۔ کیا اس نے کبھی تم سے کسی سونے کے سکوں کی بات کی تھی؟ کیا اس شیطان کے چیلے نے کبھی اپنے ماضی سے متعلق بات کی تھی؟”
لڑکے کے چہرے پر حیرانگی کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ ” اس نے سونے کے متعلق کبھی بات نہیں کی تھی۔۔۔اور وہ شیطان نہیں تھا۔ اسے برا آدمی نہ کہیں۔ اس نے مجھے پالا جب میرا کوئی آسرا نہیں تھا۔ پھر اس پر پاگل پن آ گیا۔ سونے اور دولت کی اس کے نزدیک کوئی اھمیت نہ تھی۔”
“ہاہ! عورت حقارت سے بولی۔ تور باز تم اس ملاں کو نہیں جانتے۔ وہ مجسم شیطان تھا۔ اس کا لالچ تو ہمارے قبائل میں اب زبان زد عام ہے۔ وہ ہمارا سونا چرا کر لے گیا۔ تم پر اس کے جادو کا اثر ہے۔”
تور باز بھٹیانی خاندان میں دو سال رہا۔ ایک دن اس کے منہ بولے باپ نے اس سے سختی سے اس کے قبیلے کے متعلق پوچھنا شروع کیا۔ وہ منہ بند کئے رہا۔۔۔اور اگلے دن وہ وہاں سے غائب ہو گیا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ زندہ لڑکے میں کسی کو دلچسپی پیدا نہ ہو سکی جبکہ ملاں ملاں پر ہر روز خوب بحث و مباحثے ہوتے۔ اس ملاں کی موت کے کچھ عرصہ بعد کچھ اجنبی لوگ اس کی قبر پر آے اور پھر ان میں سے سکاوٹوں کا ریٹائرڈ افسر تو ہر سال قبر پر آنے لگا۔ ایک سال اس نے ملاں کی قبر پکی بنوا دی۔ وہ ہر سال وہاں آتا۔ فاتحہ پڑھتا اور خاموشی سے چلا جاتا۔ شروع میں تو بھٹیانیوں نے اس سکاوٹ افسر پر توجہ نہ کی۔۔۔لیکن اس کے باقاعدھ دوروں کی صورت میں انھیں اس میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ ایک ایسے ہی دورے پر بھٹیانی سردار سے نہ رہا گیا اور وہ افسر سے جا ملا۔ “اجنبی! ہم سب آپ سے بہت حیران ہیں۔ آپ اتنی باقاعدگی سے قبر پر کیوں آتے ہیں؟ آپ اس آدمی کو کتنا جانتے کس حد تک جانتے تھے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص شیطان جیسا رہا ہو اور مرنے کے بعد آپ جیسا ایک مرید نکل آے؟”

” بھٹیانیوں کے ملک! بلا شبہ میں اس آدمی کو بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ جب آپ اسے شیطان کہتے ہو تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ میں آپ کو اس کی کہانی ضرور سناوں گا۔۔۔ویسے بھی اب اتنا وقت گزر چکا ہے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ تو ذرا توجہ سے سنو! یہ ان دنوں کی بات ہے جب یہاں انگریزوں کی حکومت تھی۔ تب میں ایک جوان فوجی افسر تھا۔ سرحدی سکاوٹوں کا لیفٹیننٹ۔۔۔جب میں پہلی بار ملاں باری سے ملا۔ ہوا یوں تھا کہ ایک سال کرسمس کی چھٹیوں کے دوران ہم دوستوں نے فیصلہ کیا کہ پہاڑی بکرے کا شکار کیا جاے۔ ہمارا وہ ہفتہ توقع سے بڑھ کر شاندار رہا۔ چونکہ پہاڑوں پر خوب برف پڑ رہی تھی اس لیے سبھی پہاڑی جانور نیچے وادیوں میں آ چکے تھے۔۔۔پھر ان کے جوڑے بننے کا سیزن تھا۔۔۔جس میں نروں پر سستی طاری ہو جاتی ہے۔۔۔جس کارن ہم نے چند بہترین نر شکار کئے۔ ایک شام ہم اپنے کیمپ میں ذرا جلدی آ پہنچے۔ ہم نے یوں ہی فیصلہ کیا کہ شام کی نماز قریبی گاوں کی مسجد میں ادا کی جائے۔

دیہاتی لحاظ سے مسجد کافی بڑی تھی۔ اتنی بڑی کہ گاوں کے چالیس سے زائد مرد اس میں با آسانی نماز ادا کر سکتے تھے۔ جب ہم اس مسجد میں نماز ادا کر کے واپس ہونے ہی لگے تو امام مسجد نے تقریر کرنی شروع کر دی۔ حالانکہ شام کی نماز کے بعد ایسا تبلیغی خطبہ یا تقریر رواج میں نہ تب تھی نہ ہی اب ہے۔ گاوں کے سارے نمازی بھی خاموشی سے بیٹھے رہے۔ لہذا ہم نے بھی تقریر سننے کا فیصلہ کیا۔ مجھے آج بھی خوشی ہے کہ وہ خطبہ عام مولویانہ تقریروں سے ہٹ کر تھا۔

اس نے ہمیں انھیں پہاڑوں میں رہنے والے ایک غریب آدمی کی کہانی سنائی۔ وہ غریب اور لاوارث شخص جنگلات سے جلانے والی خشک لکڑیاں جمع کرتا اور انھیں بیچ کر اپنی گزر بسر کرتا۔ اس کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کا گدھا تھا۔۔۔جس پر وہ لکڑیاں ڈھوتا۔۔۔بلکہ جگہ جگہ پھیری لگا کر بیچتا۔ جہاں رات پڑ جاتی کسی درخت کے نیچے اپنا کمبل اوڑہ کر سو جاتا ہے۔ تو میرے دوستو! اس شخص کی زندگی تنہائی کا شکار تھی۔ اس کے والدین مر چکے تھے۔ اس کے بہن بھائی اور باقی رشتہ دار دور دراز جگہوں پر جا بسے تھے۔ اس کی غربت اسے بیوی جیسے ساتھی کی تلاش میں رکاوٹ تھی۔ اب آپ سب سوچ سکتے ھیں کہ ایسے شخص کی زندگی کتنے دکھوں سے بھری ہو گی؟ لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ وہ اپنی تقدیر پر شاکر اور خوش رہتا۔ وہ ہمیشہ خالق کل کا شکر گزار اور عبادت گزار رہتا۔ جبکہ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو بے حد دکھی اور ناشکرا رہتا۔ وہ پانچ وقت نماز پڑھتا اور ایک نماز الگ سے صرف لوگوں کی خوشحالی کے لئے پڑھتا۔۔۔اپنے لئے نہیں۔ لوگ اسے دیکھ کر سمجھتے تھے اس کی خواہشات ختم ہو چکی ہیں لیکن اس کی ایک بہت بڑی اور شدید خواہش تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ایسی خواہش اس جیسے غریب کے لئے پوری نہ ہو سکتی تھی۔
غلام حسین غازی
جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY