‎”لندن میں پاک افغان بات چیت پردہ اخفاء میں کیوں؟”محمد رفیق مغل۔

0
220

ہم نے اپنے سالہا سال پہ محیط صحافتی سفر میں متعدد بار یہ دیکھا کہ پاکستان ہو یا آزاد کشمیر جب بھی اربابِ اقتدار کے سامنے ان سے زیادہ بااختیار بیٹیں ہوں یا ان کی کہیں “حاضری” ہو تو ان کے ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ عوامی نمائندگی کے ان دعوے داروں کے منہ سے بات کا نکلنا بھی محال ہوتا ہے۔ اپنے عوام کے سامنے طُرّم خاں بن کر بھڑکیں مارنے اور لفظوں کے گورکھ دھندے سے “جگاڑ” لگانے والے تذبذب کا شکار ہوکر اہم ترین قومی نوعیت کے معاملات پہ بھی “ترلہ پالیسی” اختیار کیئے نظر آتے ہیں۔
مرزا غالب مرحوم کے نے ایسی حالتِ ناگفتہ بہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے کلام میں کہا تھا کہ

“نقطہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے

کیا بنے بات، جہاں بات بنائے نہ بنے”

ویسے تو واقفانِ حال و احوال پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک ایسی ادھڑی ہوئی بُنیان سے تشبہہ دے رہے ہیں جس کے تانے بانے وقتاً فوقتاّ حسبِ ضرورت بُنے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے اڑوس پروس سے تعلقات دیکھ لگتا ہے کہ موجودہ خارجہ پالیسی یہ ہے کہ “خارجہ پالیسی ہی نہیں ہے” گزشتہ سال بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ پہ ان کا استقبال جہاں بھارتی موثر خارجہ پالیسی اور لابنگ کا غماز تھا وہیں تمام تر قربانیوں کے باوجود پاکستان کی کمزور لابنگ کو بھی طشت از بام کر رہا تھا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ، بین الاقوامی سطح پر مثبت تشخص اجاگر کرنے اور مسئلہ کشمیر پر موثر لابنگ کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا۔ کشمیریوں کے سینے بھارتی فوجیوں کی بندوقوں سے چھلنی ہو رہے ہیں، پاکستان میں ہونے والے دھماکوں میں غریب عوام کے چیتھڑے اڑ رہے ہیں اور افواج پاکستان دیشت گروں سے نبرد آزما ہیں اس سب کے باوجود پاکستان تنہا تنہا سا ہے اور عالمی سطح پہ پاکستان کی شنوائی نہیں ہے آخر اس کا سبب کیا ہے؟
“کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے”

گزشتہ ہفتے لندن میں بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت ہوئی مگر اس پہ بھی سکوتِ مرگ کی کیفیت طاری ہے۔ لندن سے پاکستانی صحافی سید کوثر کاظمی کے مطابق “پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے دنوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان بدھ کو لندن میں اہم مزاکرات ہوئے۔ برطانوی حکومت کی میزبانی میں 15 مارچ کو لندن میں ہونے والے ان مزاکرات میں پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر براے خارجہ امور سرتاج عزیز، افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر، پاکستان میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر زخیلوال اور برطانیہ کی قومی سلامتی کے مشیر مارک لائل گرانٹ نے شرکت کی”۔ برطانیہ کی میزبانی میں پاک افغان بات چیت تو درست عمل ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ان مزاکرات کے بعد پاکستانی مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے باہر انتظار میں موجود ہاکستانی میڈیا سے نہ صرف یہ کہ گفتگو نہیں کی بلکہ ڈرامائی انداز اختیار کرتے ہوئے برطانوی کیبنٹ آفس کے اہلکاروں دائرے میں پاکستانی میڈیا کے کیمروں کی آنکھ سے بچتے بچاتے نلکے، گاڑی میں بیٹھے اور چل دئیے۔

پاکستانی صحافی نوید سجاد کہتے ہیں کہ “وہ اپنا چیکنگ پراسس پورا کرواکر ڈاوننگ سٹریٹ میں داخل ہوئے بعد ازاں انھیں کیبنیٹ آفس کے سکیورٹی اھلکاروں کی جانب سے کوریج سے روکا گیا اور ایک زمہ دار خاتون آفیسر نے پولیس کو بھی کال کی ، سرتاج عزیز کے ہمرہ برطانوی سکیورٹی نے فوٹیج بنانے سے بھی منع کیا”۔ مزاکرات شروع ہونے کے بعد لندن میں کام کرنے والے پاکستانی میڈیا سے وابستہ صحافی انتظار میں تھے کہ پاک افغان بات چیت کے بعد “قوم کے سرتاج” کوئی بات کریں گے مگر مزاکرات کے ایک گھنٹہ بعد برطانوی نمائندہ مارک لائل گرانٹ تو چلے گے لیکن سرتاج عزیز اور افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر کے درمیان رات گیارہ بجے تک پانچ گھنٹے طویل دورانیہ کی کیا بات چیت ہوتی رہی اور اسے پردہ اخفاء میں کیوں رکھا گیا ہے؟ دوسرے دن پاکستان ہائی کمیشن لندن میں غیرملکی میڈیا کو بلا کر سرتاج عزیز نے بریفنگ دی

وہ کونسی ایسی بات ہے جو اپنے ملک کے میڈیا کو نظر انداز کر کےغیرملکی میڈیا سے کی گی ہے؟
پاکستان کے عوام حکمرانوں سے صاف شفاف معاملات اور واشگاف الفاظ میں سچ بولنے کے متقاضی ہیں۔ عوام کے ووٹ کی طاقت سے برسرِ اقتدار آنے والے عوام کے بہی خواہ اور عوام کو جوابدہ ہونے چاہیئیں۔ اپنے وجود پہ آگ، لوہے اور بارود کا عذاب سہتی قوم اب مذید پسِ پردہ باتوں، خفیہ معاملات اور سرگوشیوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
سرتاج عزیز جیسے زیرک انسان کو کم از کم اس بات کا تو ادراک ہوگا کہ پاک افغان بات چیت کی میت برطانوی پرچم میں مفلول انگلستانی تابوت میں تادیر نہیں رہ سکے گی، اگر قوم کو اندھیرے میں رکھ کوئی “ترلہ پالیسی” جیسا بدبودار موقف اختیار کیا گیا ہے تو اس کا تعفن بھی جلد پھیلے گا، آپ نہیں بولتے تو نہ بولیں، غیر کی گود میں بیٹھا بلکہ یو کہیے کہ ھندوستان میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرس میں بننے والا “بغل بچہ” خود بول پڑے گا۔۔۔!
‎بقول غالب

غیر پھرتا ہے لیئے یوں تیرے خط کو کہ اگر

کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے

تحریر: محمد رفیق مغل

SHARE

LEAVE A REPLY