چوبیس مارچ 2016کوکلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا

0
239

چوبیس مارچ 2016کو بلوچستان کے وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ کلبھوشن یادیو نامی ایک ’را‘ کے افسر کو گرفتار کیا ہے، جس نے بلوچستان اور کراچی مین علیحدگی اور فرقہ ورانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

اندرون ملک بہتیرے ناخوش گوار واقعوں میں بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کے ایجنٹوں کا ہاتھ قرار دیا جاتا تھا، لیکن پکڑا جانے والا کلبھوشن تو ’را‘ کا ایجنٹ نہیں بل کہ افسر نکلا!

ڈی جی آئی ایس پی آر اور وفاقی وزیر کی مشترکہ پریس کانفرنس میں را کے گرفتار افسر کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔ کلبھوشن یادیو نے بتایا کہ میں نے نیشنل ڈیفنس اکیڈمی 1987 میں جوائن کی۔ جس کے بعد 1991 میں بھارتی نیوی میں شمولیت اختیار کی۔ کلبھوشن یادیو نے بتایا کہ انڈین نیوی میں میری شمولیت بحثیت کمیشن افسر تھی۔ اور میں دسمبر 2001 تک اپنی خدمات سر انجام دیتا رہا۔ اس کے بعد جب بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو میں نے بھارتی ایجنسی کے لیے بھارت ہی میں جاسوسی کے فرائض سرانجام دینے شروع کیے۔ کلبھوشن یادیو نے بتایا کہ میں ممبئی کا رہائشی ہوں۔ کلبھوشن یادیو نے بتایا کہ میں فی ا لوقت بھی بھارتی نیوی کا حاضر سروس آفسر ہوں اور 2022 میں میری بطور کمیشن افسر ہی ریٹائرمنٹ بھی ہے۔ اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ2002 میں اپنی چودہ سالہ نیول سروس کے بعد2003 میں ، میں نے انٹیلی جنس آپریشن شروع کیے اور ایران چا بہار میں اپنا ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ کلبھوشن نے بتا یا کہ میں نے 2003 اور 2004 میں اپنے کوڈ نام کے ذریعے کراچی کے کئی دورے کئے ۔ جس کا مقصد بھا رتی خفیہ ایجنسی را کے کچھ بنیادی ٹاسک مکمل کرنا تھا۔ جس کے بعد 2013 میں مجھے “را” میں شامل کر لیا گیا تھا۔ میں بطور “را” آفیسر بلوچستان اور کراچی میں کاروائیاں کرنے سمیت کراچی میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب بھی کرواتا رہا ہوں۔ کلبھوشن نے انکشاف کیا کہ میں بنیادی طور پر “را” کے جوائنٹ سیکریٹری انیل کمار گپتا کے ماتحت ہوں اور انیل کمار گپتا کے پاکستان میں موجود رابطوں بالخصوص بلوچ اسٹوڈنٹ تحریک کو ہینڈل کرنا میرا کام تھا۔

میرا مقصد بلوچ باغیوں کے ساتھ مسلسل میٹنگ کرنا تھا اور انہی کے اشتراک سے میں کاروائیاں کرتا تھا۔ یہ کاروائیاں مجرمانہ اور قومی سالمیت کے خلاف تھیں۔ اور ان کاروائیوں کو دہشت گردانہ کاروائیاں بھی کہا جا سکتا تھا۔ جن کا مقصد پاکستان کے شہر یوں کو نقصان پہنچانا اور انہیں ہلاک کرنا تھا۔ اس سارے کام میں مجھ پر یہ بات کھلی کہ “را” بلوچ لبریشن کی کاروائیوں میں پوری طرح ملی ہوئی ہے۔ جس کی زد میں پاکستان سمیت پورا خطہ شامل ہے۔ بلوچ باغیو ں کو بہت سا رے طریقوں سے فنڈنگ کی جاتی تھی۔ بلوچ باغیوں اور ان کے “را” میں موجود سرپرستوں کی کاروائیا ں مجرمانہ اور قومی سلامتی کے خلاف ہیں۔ جن کا مقصد پاکستانی شہریوں کو قتل کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا ہوتا تھا۔ ان سرگرمیوں کا ذیادہ تر دائرہ کار میری دی گئی معلومات پر مبنی ہو تا تھا۔ جو کہ گوادر ، پسنی اور پورٹ کے گرد دیگر تنصیبات پر مشتمل ہوتا تھا۔ جن کا واحد مقصد بلوچستان میں موجود تنصیبات کو نقصان پہنچانا ہوتا تھا۔ ان ساری کاروائیوں کا مقصد بلوچ لبریشن میں مجرمانہ سرگرمیوں کی ذہنیت کو مضبوط کرنا ہوتا تھا۔ تاکہ پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا سکے۔ کلبھوشن نے بتایا کہ میرے “را” کے افسران کی جانب سے دئے گئے مختلف ٹارگٹس کے لیے میں ایران کے ساراوان بارڈر سے پاکستان کی سرحد عبور کرتا تھا۔ جب 3 مارچ 2016 کو پاکستانی حکام کے ہاتھوں پاکستانی علاقہ میں گرفتار ہو گیا۔ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ بلوچستان میں کارو ائیوں کے لیے میٹنگز کرنا تھا۔ اور جو پیغامات وہ پیچھے بھارتی ایجنسیوں کو بھیجنا چاہیں وہ لیے جائیں۔ اس میٹنگ کا مقصد تھا کہ “را ” بلوچستان میں کچھ بڑی کاروائیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتی تھی۔ جن سے متعلق بلوچ علیحدگی پسندوں سے بات چیت کرنا تھی۔ اور میرا اس بار پاکستان میں داخل ہونے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا۔ جیسے ہی مجھے پتا چلا کہ میرے انٹیلی جنس آپریشنز ناکام ہو چکے ہیں اور میں پاکستان کی حراست میں آچکا ہوں تو میں نے اپنی شناخت ظاہر کر دی۔ کہ میں بھارت نیوی کا افسر ہوں۔ کلبھوشن کا کہنا تھا کہ میرے یہ بتاتے ہی پاکستانی حکام کا رویہ بدل گیا۔ جس کے بعد انہوں نے مجھے بہت اچھے طریقے سے ڈیل کیا اور ایک اچھے اور پیشہ ورانہ انداز میں مجھ سے سلوک کیا۔ کلبھوشن کا کہنا تھا کہ مجھے ٹھیک ایسے ہی ہینڈل کیا گیا جیسے کسی افسر کو کیا جاتا ہے۔ اب مجھے احساس ہو چکا ہے کہ میرے انٹیلی جنس آپریشنز مفلوج ہو چکے ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اس سارے مسئلے سے نکلنے کے لیے مجھے پا کستانی حکام کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ تاکہ وہ پیچیدگیاں بھی ختم ہوں جن میں ، میں خود پھنس چکا ہوں۔ کلبھوشن یادیو نے کہا کہ میں نے اب تک جو کہا سچ کہا ا ور میں نے یہ بیان بھی مرضی سے دیا ہے۔ میں نے یہ بیا ن کسی دباؤ کے بغیر دیا ہے۔ تاکہ پچھلے چودہ سال سے میں جو کا م کرتا رہا ہوں اس سے باہر نکل سکوں۔

SHARE

LEAVE A REPLY