لاہورمیں خودکش حملہ، فوجی جوانوں سمیت 7 افراد جان سے گئے

0
223

لاہور میں بیدیاں روڈ پر وین پر خود کش حملے میںسات افراد شہید ہو گئے، دھماکے میں 22 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وین میں سوار افراد مردم شماری کیلئے جارہے تھے ، دھماکے کے بعد وین میں آگ بھڑک اٹھی۔

واقعے کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ امدادی کارکنوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں زخمیوں میں 4افراد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ابتدائی طور پر واقعہ دہشت گردی معلوم ہوتا ہے،اس طرح کی دہشت گردی کی منصوبہ بندی افغان صوبے ننگر ہار اور کنڑمیں ہوتی ہے،شہادتیں بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے نے قبول کی ہے،جس کے اہم کارندے انوار الحق کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی الرٹ پر تھا ، اس کے باوجود یہ واقعہ ہوا، ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے مرعوب نہیں ہوں گے ، کوشش کریں گے کہ اس سے مردم شماری کے عمل پر کوئی اثر نہ پڑے۔

کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے سی ایم ایچ کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق خودکش حملے میں 4فوجی جوانوں اور مردم شماری عملے کے 2اہلکاروں سمیت 6افراد شہید ہوئے، حملے میں زخمیوں کی تعداد 14ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکا صبح سات سے سوا سات بجے کے درمیان ہوا، جس میں فوجیوں کو نشانہ بنایاگیا۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داروں کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY