ریڈیو پاکستان کے پنشنرز بھیک نہیں اپنا حق مانگتے ہیں۔ڈاکٹر نگہت نسیم

1
2496

دنیا بھر میں قومی تشخص اور قومی اہمیت کے ادارے اپنے ملازمین کی عزت کرتے اور عزت کرواتے ہیں اور طویل مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے لیئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں لیکن پاکستان میں ریڈیو پاکستان جیسے اہم ملکی ادارے کے ہزاروں پنشنرز گزشتہ دو ماہ سے پریشان ہیں اور پہلے اکتوبر میں انہیں بے حد تاخیر سے پنشن ملی اور نومبر میں نصف مہینہ گزرنے کے بعد صرف نصف پنش ملی ہے

ریڈیو پاکستان کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل کہلاتا ہے جو اپنے چار پانچ ڈائریکٹرز کے ساتھ انتظامی امور کا ذمیدار ہے، ان ڈائریکٹرز اور ڈی جی تنخواہ اور مراعات کے پیسے اگر جمع کیئے جائیں کتنے ہی ریٹائرڈ کلرکوں، نائب قاصدوں اور کم آمدنی والے غریبوں کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کا سربراہ گزشتہ کئی برس سے وزارت اطلاعات سے کوئی جائنٹ سیکرٹری یا ایڈیشنل سیکرٹری آتا ہے جو ریڈیو کارپوریشن کی مراعات اور کثیر تنخواہ سے فیض یاب ہوتا ہے لیکن ملازمین کے لیئے ایسے سربراہوں کے دل میں ہمدردی کا خانہ ہے ہی نہیں

گزشتہ بہت سے سربراہوں کی طرح موجودہ سربراہ طاہر حسن بھی وزرات اطلاعات سے آئے ہیں اور تصویر سے بنسبت نوجوان لگتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں شاید ریڈیو کا مائیک ،گیٹ یا اسٹوڈیو بھی نہ دیکھا ہو لیکن وزرات میں رہ کر انکو انتظامی امور کا تو تجربہ یقینی ہو گا اور پھر یہ سربراہ اور انکے معاون ڈائریکٹرز انتظامی امور کے علاوہ اور ہیں بھی کس کام کے لیئے۔ اگر تنخواہوں اور پنشن کے فنڈ نہیں تو وقت سے پہلے اس کا انتظام انکو ہی تو کرنا ہے

مجھے اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر موجودہ سربراہ طاہر حسن نے کہا ہے کہ میں نے سارے پنشنرز کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا میری ذمیداری میرے موجودہ ملازمین ہیں۔ میں سڈنی میں رہتی ہوں ایک بہت بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں ، برسوں سے یہاں ریڈیو ٹی وی سے وابستہ ہوں اور سوچتی ہوں کہ اگر ریڈیو کے سربراہ طاہر حسن یہ بیان درست ہے تو اگر ایسا فرد کسی مہذب اور قانون پر عمل درآمد کرنے والے ملک میں ہو تو اسے فوری طور پر اسکے عہدے سے ہٹا دیا جائے کہ کیا وہ صرف ایسے قومی ادارے کے پنشنرز اور ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کرنے کے لیئے آئے ہیں

کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنکی پنشن فقط چند ہزار ہے بلکہ ڈی جی کی گاڑی کے ماہانہ پٹرول کی قیمت سے بھی نصف ہے۔ انکا سوچیں یہ کس حال میں ہو نگے۔ انکے گھروں میں بھی بیماری سستی مرگ اور مصائب ہیں اور سب سے بڑی بات کیا ان ڈی جی اور انکے معاون ڈائریکٹروں نے خود کبھی ریٹائرڈ نہیں ہو نا؟ اللہ کے لیئے سوچیں کہ جو بیج آج آپ بو رہے ہیں کل اسی کی فصل آپ نے کاٹنی ہے اللہ کو جواب دہ ہونا ہے

حکومت کو کیا کہا جائے ہر حکومت اس ملک میں عوام کُش ہی آئی ہے۔ لیکن ادارے کے سربراہ کی ذمیداری ہے کہ وہ حکومت کو باور کروائے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں اور آئین کی انسانی حقوق کی شقوں کے مطابق پنشن کوئی بھیک نہیں مدت ملازمت مکمل کرنے والوں کا حق ہے

ریڈیو کے ملازمین اور پنشنرز کو اپنی آواز اتنی بلند کرنی ہو گی کہ ریڈیو کے بہرے افسران کے کانوں تک یہ آواز پہنچے۔ ملک کے اخبارات ٹی وی کو اس انسانی مسلے کو اجاگر کرنا ہو گا وکلا تنظیموں کو اپنی مدد کی پیشکش کرنی ہو گی اسمبلی میں اراکین کو آواز اٹھانی ہو گی اور ریڈیو پاکستان کی نااہل انتظامیہ کا محاسبہ کرنا ہو گا کہ جلد یہ انسانی مسلہ حل ہو اور آئیندہ ایسی صورت حال پیدا نہ ہو

ڈاکٹر نگہت نسیم
سڈنی۔آسٹریلیا

SHARE

1 COMMENT

  1. Indeed your post indicates the feeling of all pensioners I am on dkalysis but had no sum to pay this.month and DG Pbc is leaving me to die with this meagre amount they pay this month

LEAVE A REPLY