کاش سب فیصلے شھادت کی اُنگلی سے لکھے جائیں ۔ عالم آرا

0
205

کہتے ہیں کہ فیصلے ایک اُنگلی سے لکھے جا رہے ہیں۔، ہمیں عِلم نہیں ،مگر یہ بات سُن کر ہمارے دل سے دعا نکلی ،کہ فیصلے شھادت کی اُنگلی سے لکھے جائیں چاہے کچھ بھی ہوں ۔اب تک تو جو کچھ ہورہا ہے وہ سمجھ سے باہر ہی نہیں بالکل باہر ہے ۔نہ سمجھ میں اآرہا ہے کہ الیکشن کی تیاری ہے نہ پتہ چل رہا ہے کہ ادارے کیا کر رہے ہیں ۔کوئی ملاقات ہوتی ہے تو ھنگامہ کوئی تقریر ہوتی ہے تو طوفان مگر اصل معاملات سب کے سب جوں کے توں نہ پاناما کہیں نہ ڈان لیکس کسی جگہ ۔ہم کیسے ان کی باتوں پر اب یقین کریں یہ مسئلہ ہمارے لئے روز روز بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔وزیرِ داخلہ جس بات کا فیصلہ چار پانچ دن میں اآنے کا مژدہ سناتے ہیں وہ مہینوں نہیں اآتا ۔اور کیوں نہیں اآتا یہ بھی کہہ مکرنی بن جاتی ہے کہ بوجھو تو جانیں ؟اور بوجھنے والے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں لیکن ہاتھ کچھ نہیں اآتا ۔

ہم ماضی میں جیتے ہیں بھٹو کو زندہ رکھتے ہیں ۔بے نظیر کو زندہ رکھتے ہیں۔ لیکن اُن کے کئے کاموں کو دفنا دیتے ہیں ،اُن کو اآگے نہیں بڑھاتے ۔اس پارٹی میں آج نہ کہیں بے نظیر کا کردار نظر آتا ہے نہ بھٹو صاحب کا کہ وہ واقعئی لیڈر تھے اب سب کچھ “چارٹر آف ڈیموکریسی ہے “اور کیونکہ اس پر دستخط ابھی تک پھیکے نہیں پڑے ہیں اس لئے اب ہماری باری کا شور پھر سے اُٹھ گیا ہے ۔بھٹو صاحب کی برسی پر کوئی ایک بات یہ نہیں کی گئی کہ ہم بھٹو صاحب کے روٹی کپڑا مکان کے نعرے کو پورا کر کے دکھائینگے ۔ہم بے نظیر صاحبہ کی سیاست کو واپس لائینگے ۔بلکہ اپنی باری کا خوف پھر سے سب پر سوار کردیا ۔ہم حیران ہیں کہ یہ بے حس لوگ کہاں تک ہماری کمزوریوں سے فائدہ اُٹھائینگے اور ہمیں بے وقوف بنائینگے ۔صاف ظاہر ہے کہ جب عوام اپنی طاقت اور اپنی قوت کو لیڈروں کے خلاف نہیں استعمال کرتی اُن کی خرابیوں کا ساتھ دیتی ہے اور بجائے ریاست کے اُنہیں بچانے کے حربوں میں لگ جاتی ہے تو پھر ایسا منظر نامہ ہی سامنے آتا ہے جو آج کل ہم دیکھ رہے ہیں ۔کچھ لوگ بالکل اطمینان سے ہیں کہتے ہیں کہ نہ پہلے کبھی فیصلہ آیا نہ اب آئیگا آپ احمقوں کی جنت میں رہتی ہیں ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ احمقوں کی بھی کوئی بات پوری ہو جائے ۔ویسے تو ہمیں بھی سرد خانہ بہت ہی سرد نظر آرہا ہے کہ شاید سب کچھ ہی جِم گیا شاید فیصلہ بھی ÷لیکن عوامی آگ اسے ضرور پگھلا دے گی ہمیں یہ بھی یقین ہے ۔صبر کو بھی ایک حد تک ہی آزمانا چاہئے ؟؟

کالم پورا بھی نہیں ہوتا کہ دلخراش خبریں اآنے لگتی ہیں پنجاب میں دھماکہ ہوا چار جوان وہ جوان جو بڑی تندہی سے اپنی ڈیوٹی انجام دیتے اور ہمارے ہر کام کے لئے بلا چوں و چرا کھڑے ہو جاتے ہیں وہ فوجی جن کی جانیں انتہائی قیمتی ہیں شھید ہو جاتے ہیں ہم کس بے دردی سے انہیں اپنے ہر کام میں استعمال کرتے ہیں یہ بھی ہمارا ہی وطیرہ ہے ۔وہ فوجی جو وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہیں وہ بھی ہم اپنی نالائقی اور کج روی کی وجہ سے خانہ شماری ،پولیو کے قطرے اور ہر وہ کام جو حکومتوں کے کرنے کے ہیں ان میں انہیں شامل کرتے ہیں وہ اپنی جان وطن پر نثار کر دیتے ہیں ۔ساتھ دو اور لوگ بھی شھید ہو گئے ۔لیکن وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ہم نے دھشت گردی ختم کردی ۔افسوس یہ ہے کہ یہ دونوں جمہوری حکومتیں کچھ بھی نہ کر سکیں سوائے اپنی طاقت اور اپنی دولت بڑھانے کے ۔بس ایک بیان کہ ہمیں افسوس ہے ارے بھائی سب کام ہی تمہیں کرنا ہے تم کیسے افسوس کر کے بیٹھ سکتے ہو ساری زمے داری تمہاری ہے ۔ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسے کہتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہئے اور ایسا کرنا چاہئے بھئی حکومت آپ کی ہے اآپ کس سے کہہ رہے ہیں کون کرے گا ۔ہمارا المیہ تو یہ ہے کہ ہر صوبہ اپنی بات کرتا ہے اگر کہو کہ پنجاب میں یہ ہوگیا تو نون والے کہتے ہیں خیبر پختونخواہ میں خرابی ہورہی ہے اور ہم یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ بھئی ہر بات میں ایک ہی صوبہ کیوں نظر آتا ہے ساری تنقید دوسروں پر اپنی کار کردگی تو دیکھو ۔

سیریا میں جو ظلم ڈھایا گیا وہ بھی انسانیت کو جھنجوڑنے کو کافی ہے مگر ہم تلاش ہی کرتے رہ جاتے ہیں کہ انسانیت ہے کہاں ؟ کوئی نہیں بولتا کوئی نہیں آواز اُٹھاتا ان ظالموں کے خلاف جو نہ بچہ دیکھتے ہیں نہ بوڑھا شاید ہی کوئی سخت سے سخت دل ہو جو اُن معصوم بچوں کی ویڈیو دیکھ کر رویا نہ ہو جہاں معصوم جانوں کو تڑپتا اور مچلتا دکھایا گیا یہاں تک کے انکی سانسیں رُک گئیں کہاں جا سوئے ہیں انسانوں کے ضمیر ؟؟؟؟؟

امریکہ کی نئی حکومت نئے نئے پیترے بدل رہی ہے کیا کرینگے؟ کیا ہوگا ؟کسی کو نہیں پتہ ۔دنیا میں ہر طرف ہلچل اور فساد بپا ہے ۔ہمارے بڑے اپنی اپنی باریوں کی طرف دیکھ رہے ہیں اپنی اولادوں کے منصوبے بنا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت ذندہ باد ۔اور ہم ڈھونڈھ رہے ہیں کہ جمہوریت میں جمہور ہے کہاں ؟؟ جمہوریا تو جلسوں میں نظر آتا ہے یا پھر روتا نظر آتا ہے ۔شاید اُس نے اپنی قسمت سے سمجھوتہ کر لیا ہے ۔مگر نہیں ! ہماری چھٹی حِس کہتی ہے کہ اب یہ بازار نہیں سجینگے اب بے ایمانی اور بے حسی کا دور ختم ہوگا ۔اب انصاف اور سچائی کا بول بالا ہوگا انشاء اللہ
اللہ میرے ملک کا محافظ ہو

SHARE

LEAVE A REPLY