مشعال قتل کیس: 13 ملزمان گرفتار، تحصیل کونسلر اور 7 ملازمین کا 4 روزہ ریمانڈ

0
221

مشعال خان قتل کیس میں مزید پانچ ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا۔ آٹھ ملزموں کو انسداد دہشتگردی مردان کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا جن میں تحصیل کونسلر اور سات یونیورسٹی ملازمین شامل تھے۔

ملزموں کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے آئی جی خیبر پختونخوا نے ملاقات کی اور تحقیقات میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔ پرویز خٹک نے تمام ملزمان کی گرفتاری اور تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیر اعلیٰ نے جوڈیشل انکوائری کیلئے سمری پشاور ہائی کورٹ کو ارسال کر دی۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دیں گے۔ عبدالولی خان یونیورسٹی میں پرو وی سی کی تعیناتی کیلئے سمری گورنر ہاؤس ارسال کر دی گئی۔ مشیر ہائیر ایجوکیشن مشتاق غنی کہتے ہیں کہ تعیناتی پیر تک ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے بعد جامعہ کو کھول دیا جائے گا۔ ادھر عبدالولی خان یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن منظر عام پر آ گیا ہے۔

اسسٹنٹ رجسٹرار کے تیرہ اپریل کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں مشعال خان سمیت تین طلباء کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا اور یونیورسٹی میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اسی روز طلباء کے تشدد سے مشعال دم توڑ گیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر مردان عمران حامد شیخ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تیرہ اور چودہ اپریل کو جاری کئے گئے دو نوٹیفکیشنز کی تحقیقات جاری ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY