حضرت صدیقِ اکبر(7 )۔۔۔شمس جیلانی

0
135

ہم گزشتہ ہفتے یہو دی کے قصے تک پہو نچے تھے اب آگے بڑھتے ہیں۔ حضور(ص) کواطلا ع ملی کہ عکرمہ بن ابو جہل کسی برے ارادے سے مدینہ کی طر ف ایک جمعیت لے کر بڑھ رہا ہے۔ لہذا فیصلہ یہ ہوا کہ ان سے وہیں نپٹ لیا جا ئے۔ حضرت ابوعبید ہ بن الجرا ح کی قیا دت میں ایک دستہ تربیت دے کر ان کے مقابلہ کے لیئے روانہ کیا گیا جس میں حضرت ابو بکر (رض) بھی شامل تھے ۔ مگر وہ لو گ لڑنے کے بجا ئے نمعلوم وجوہات کی بناپر واپس چلے گئے۔اس کے بعد دوسرے سال حضرت عا ئشہ (رض) بھی مد ینہ تشریف لے آئیں اور حضرت ابو بکر کے (رض)سخ والے مکان سے ان کی رخصتی ہو ئی ۔یہ ایک بہت ہی سیدھی سادی تقریب تھی جس میں حضور (ص) اور ان کے صحا بہ کرام (رض) حضرت ابو بکر (رض) کی رہا ئش گا ہ پر تشریف لا ئے ۔ادھر دلہن والوں نے حضرت عا ئشہ (رض)کو دلہں بنا یا اور مہما نوں کی ما حا ضر کے سا تھ تواضع کر کے رخصت کر دیا ۔بعض مور خین نے لکھا ہے کہ ان کو ام المو نیں حضرت سود ہ (رض) نے دلہن بنا یا ۔ممکن ہے دو نوں ہی با تیں اپنے جگہ درست ہو ں ۔میکہ میں ان کی آرا ئش وہاں والوں نے کی ہو، جیسا کہ حضر ت عا ئشہ (رض) کی روایت سے ظا ہر ہو تا ہے کہ میری والدہ نے اس دن مجھے سجا یا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مورخین کو مغا لطہ ہو ا ہو اور یہ حدیث اس مو قعہ کی با بت ہو جس میں ان کا ن عقدہوا تھا۔ کیو نکہ اس روایت کے اگلے حصہ میں جو بیا ن ہوا ہے اس سے یہ ہی ظا ہر ہو تا ہے کہ “ میں بچیو ں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ میری والدہ مجھے بلا کر لے گئیں اورانہوں نے مجھے سجا یا اور حضو ر (ص) کے ساتھ میرا عقد ہوا “ اس سے ظا ہر ہو تا ہے کہ اس وقت ان کی عمر کھیلنے والی تھی ۔ جبکہ یہا ں راویوں نے یہ لکھا ہے کہ وہ اپنی عمر ِ بلو غیت کو پہو نچ چکی تھیں لہذا تقریب ِ رخصتی منعقد کی گئی ۔ رہا حضرت سودہ (رض) کامعا ملہ تو وہ انتہا ئی ضعیف تھیں اور ان کی بھی شروع سے ہی خوا ہش تھی کہ حضو ر (ص) کسی نو عمر سے شا دی کر لیں اور ان کے ساتھ عقد میں ان کی پسند بھی شامل تھی۔ نیز وہ پیش پیش تھیں۔ اس کا ثبو ت یہ ہے کہ وہ رخصت ہو کر بھی انہیں کے حجرے میں تشریف لا ئیں۔ پھر بعد میں ان کے لیئے مسجد ِ نبو ی (ص) سے ملحقہ حجرہ تعمیر ہوا۔واللہ عالم۔

بہر حا ل اس میں سب سے اہم با ت یہ ہے کہ جو ہما رے فا ئدہ کی ہے اورحضو ر (ص) نے ہما رے سکھا نے کے لیئے اپنی سنت قائم فر مائی تھی، وہ یہ ہے کہ حضرت ابو بکر (رض) انتہا ئی مالدا ر شخص تھے، اورحضو ر (ص) بھی اب مدینہ کے والی تھے اس کے با وجو د کو ئی دھو م دھام نہ تھی ۔دو سرے دن حضو ر (ص) نے ولیمہ دیا وہ بھی سادہ تھا ۔اس کے بعد جو اہم واقعہ نظرآتا اور حضرت ابو بکر (رض) کا نما یاں کر دار نظر آتا ہے وہ ہے غزوہ بدر۔ جب مسلمان مدینہ میں تھو ڑا سا نس لینے لگے تو یہ با ت بھی کفا رِ مکہ کو پسند نہ آئی اور انہو ں نے فیصلہ کیا کہ لڑ کر اس شمع اسلام کو ہمیشہ کے لیئے گل کر دیا جا ئے ۔ اور اس کے لیئے ایک قافلہ شام بھیجا گیا جس میں سب نے سر مایہ کا ری کی ہو ئی تھی اور اس میں ہتھیا ر خا ص طورسے آنے والے تھے کیو نکہ شام اس وقت ایک سپر پا ور کے زیر ِ انتداب ہو نے کی وجہ سے اس صنعت میں بہت آگے تھا لہذا وہ ہتھیاروں کی منڈی بنا ہوا تھا ۔جب حضو ر (ص) کو پتہ چلا تو سو چا کہ اس سامان کو مکہ پہو نچنے سے پہلے ہی ان سے چھین لیا جا ئے ۔ جو اپنے بچا ؤ کے لیئے ضروری تھا۔ لہذا وہ مدینہ سے اپنے (ص) صحا بہ کرم (رض) کے ساتھ روانہ ہو ئے ۔لیکن جب وہاں پہو نچے تو وہ قافلہ تو بچ نکلا تھا۔ اور ابو سفیان جو کہ میر ِ قافلہ تھا اس نے اطلا ع بھی بھیجد ی کہ ہم بخیریت بچ نکلے ہیں لہذا اب لڑا ئی کی ضرورت نہیں ہے ؟۔مگر ابو جہل نے حیلہ کیا اور ایک شخص کو کچھ رقم دیکر بھیجا کہ وہ مکہ میں ڈرامہ رچا ئے کہ قافلہ گھر چکا ہے اس کو بچا نے چلو !لہذا یہ ٹلی ہو ئی جنگ مسلمانوں پر کفار نےمسلط کر دی گئی۔ اس لیئے کہ اس کے خیا ل میں یہ مسلما نوں کوصفحہ ہستی سے مٹا دینے کا بہترین مو قعہ تھا ۔اب وہ یہ لڑنے کی نیت سے بدر کے مقام پر پہونچ گئے ۔ ادھر حضو ر (ص) کو بھی اللہ سبحا نہ تعا لیٰ کا حکم بصور ت وحی آگیا کہ ہم نے تمہا رے لیئے لڑا ئی اور فتح مقدر فر ما دی ہے۔

چونکہ حضو ر (ص) کو اتنے بڑے تصا دم کا خطر ہ نہ تھا۔ صرف با ت قافلہ پر ہی قابو پا نے کی تھی ۔لہذا چلتے ہو ئے بہت زیا دہ تیا ری کی ضرورت محسو س نہیں کی گئی اور نہ سب کو ساتھ چلنے کو کہا گیا، اور نہ ہیں ویسی مدد کی اپیل کی گئی جیسا کہ غزوہ تبوک میں کی گئی ۔ جوآپ آگے چل کر پڑھیں گے۔ ورنہ اس مو قعہ پر بھی وہی صور تِ حال سخا وت کی نظر آتی جیسی وہا ں آئی ۔اور نہ ہی لو گو سے بعد میں عدم شر کت کے با رے میں جواب طلب کیا گیا۔ در اصل اللہ تعا لیٰ یہ دکھا نا چا ہتا تھا کہ ہم کثیر تعداد اور مسلح لشکر کے مقابلہ میں قلیل تعداد اور غیر مسلح لشکر کو بھی فتح دینے پر قادر ہیں ! اورایسا ہی ہوا اس یقین کا فا ئدہ یہ ہوا کہ اس کے بعد مسلمان جہا ں بھی لڑے زیادہ تراسی صورت ِ حال سے واسطہ رہا۔ اور وہ بے خو فی سے لڑے اور ہمیشہ کا میاب اور کا مراں رہے ۔ حضرت ابو بکر (رض) اس مو قعہ پر بھی ساتھ تھے مگر یہا ں ان کی یا کسی اور کی فو جی تیاری میں کچھ خر چ کر نے کا کو ئی ذکر نہیں ملتا ہے۔ پہلی با ر یہا ں جو ان کا کردار نظر آتا ہے وہ ان کا یقین ہے کہ جب کفا ر کا لشکر سامنے آکر خیمہ زن ہواتو حضو ر (ص) اپنے خیمہ میں جو کہ مر کز میں تھا تشریف فر ما تھے اور اس کے باہر حضرت ابو بکر (رض) بر ہنہ تلوار لیئے پہرہ دے رہے تھے ۔تب وہ حضو ر (رض) کی گر یہ وزاری سن کر چپ نہ رہ سکے اور فر ما یا میرے آقا (ص) آپ خو د کو ہلکا ن نہ کر یں۔چو نکہ خدا نے وعدہ فر ما یا ہے وہ یقینا ً آپ کی مدد فر ما ئے گا۔ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا کہ حضرت خدیجہ (رض) نے پہلی نزول ِ وحی کے مو قعہ پر فر ما یا تھا کہ اللہ آپ کی مدد فر ما ئےگا۔ اس لیئے کہ“ آپ غریبو ں کی مدد کر تے ہیں بھو کوں کو کھا نا کھلا تے ہیں“ اور یہ کو ئی اچنبے کی با ت نہ تھی اس لیئے کہ ایسے موقعہ پر تسلی دینا ایک روا جی با ت ہے ۔ورنہ تو حضو ر (ص) کو عین الیقین حا صل تھا جنہو ں نے خدا کی خدا ئی کا بہت سا حصہ بہ چشم خود دیکھا تھا۔

ان کے یقین کی منزل اس سے بہت آگے تھی بلکہ کا ئینا ت میں سب سے آگے تھی ۔اس لیئے کہ وہ کا مل ترین انسا ن اور ہر معا ملہ میں سب سے ا فضلیت کا در جہ لیئے ہو ئے تھے۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو اللہ تعا لیٰ کے وعدے پر تردد تھا بلکہ وہ شکر میں بھی کا مل تھے اور شکر کا تقا ضہ یہ تھا کہ وہ زیا دہ سے زیادہ عبادت کریں ۔جس کا مظا ہرہ یہ عبادت تھی اور ہمیں بھی شکر سکھا نا تھا ۔ بہر حال دعا ختم ہو ئی نما ز ادا فر ما ئی اور لشکر کو منظم کیا ۔وہ قوم جو کہ تنظیم کے نا م سے پہلے نا بلد تھی۔اب حضو ر (ص)کے فیض صحبت سے ایک منظم قوم بن چکی تھی۔ حضور خو د مر کزمیں رہے اور دا ئیں حصہ پر حضرت ابو بکر (رض) کو امیر مقرر فر ما یا ۔دونوں فو جوں میں مقا بلہ ہوا۔اور اللہ نے اپنے بندوں کو فتح عطا فر ما ئی ۔ستران کے لو گ ما رے گئے جو زیادہ تر سردار تھے۔ جس میں ابو جہل بھی شامل تھا اور ستر ہی قیدی بنے ۔اب مسئلہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا معا ملہ کیا جا ئے؟ اس میں حضرت ابو بکر (رض) کی رائے یہ ہو ئی کہ ان سے فدیہ لیکر کے چھو ڑ دیا۔ انکا کہنا تھ کہ “ ان میں بھی ہما رے اپنے ہی عزیز و اقارب ہیں“ جبکہ حضرت عمر (رض) کی را ئے مختلف تھی انکی رائے یہ تھی کہ “ ان سب کو قتل کر دیا جا ئے“یہاں رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی ابو بکر (رض)میں بدر جہ اتم نظر آئی ۔ اگر اس وقت سب کو قتل کر دیا جا تا تو تا ریخ کچھ اور ہو تی کیو نکہ ان میں کچھ ایسے لو گ بھی شا مل تھے جو بعد میں مسلمان ہو ئے اور انہوں نے اسلام کے لیئے شاندار کا رنامے انجام دیئے۔ جیسے کہ حضو ر (ص)کے چچا حضرت عبا س (رض)۔جن کی اولاد نے مدتوں تک خلا فت ِ عبا سیہ کے نام سے حکو مت کی ۔جن میں ہا رون رشید اور ما مون رشید اور صاحب ِ تقویٰ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) جیسے نام شا مل ہیں ۔حضرت عباس کو رہائی اس طر ح ملی کہ جب حضو ر (ص) نے انہیں رسیوں سے جکڑا ہوا دیکھا تو چہرہ متغیر ہو گیا ۔ جانثا ران ِ رسول (ص) اس با ت کو سمجھ گئے اور ان کو بغیر فدیہ لیئے رہا کر دیا ،کسی نے ان کو گھو ڑا بھی فرا ہم کر دیا اور وہ اس پر سوار ہو کر مکہ چلے گئے ۔مگر ایمان فتح مکہ سے صرف چند دن پہلے جب لا ئے، جب حضو ر (ص) سے راستہ میں آکر ملے۔ پھر جب حضو ر (ص) مکہ کے اطراف تک پہو نچ گئے تو انہو ں نے پہلا کار نامہ ابو سفیان کوگرفتا ر کر کے انجام دیا ۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY