تازہ ترین
فرانس میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے ابتدائی اندازوں کے مطابق خاتون امیدوار مارین لے پین اورایمانوئل ماکروں کامیاب ہوگئے ہیں،تاہم حتمی نتائج کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ان 2 امیدواروں کی کامیابی کے اندازے فرانس کے مقامی ٹی وی چینلز پر نشر کیے گئے۔
فرانس کے حتمی صدارتی انتخابات آئندہ ماہ 7 مئی کو ہوں گے، تاہم دوسرے مرحلے میں وہی امیدوار حصہ لینے کے اہل ہوں گے جو پہلے مرحلے میں کامیاب ہوں گے۔
صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مختلف جماعتوں اور نظریات کے 11 امیدوار حصہ لے رہیں، جن میں سے صرف 3 امیدواروں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کا امکان کیا جا رہا تھا۔
صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تین بڑے امیدواروں میں سابق وزیر اعظم فرانسواں فیوں، 40 سالہ بینکار اور حالیہ صدر کے مشیر ایمانوئل ماکروں اور نیشنل فرنٹ کی 48 سالہ مارین لے پین ہیں۔
صدارتی امیدوار اور سابق وزیر اعظم فرانسواں فیوں کو قدامت پسند، جب کہ خاتون امیدوار مارین لے پین کو قدرے نسل پرست اور ایمانول ماکروں کو اعتدال پسند رہنما سمجھا جاتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں اور تجزیوں کے مطابق خاتون امیدوار مارین لے پین اور ایمانول ماکروں کامیاب ہوگئے ہیں، اب ان دونوں کا مقابلہ 7 مئی کو ہوگا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ابتدائی اندازوں کے مطابق ایمانوئل ماکروں نے پہلے مرحلے میں 23 سے 24 فیصد جب کہ مارین لے پین نے 21 سے 23 فیصد ووٹ حاصل کیے، تاہم حتمی نتائج آنے تک نتائج تبدیل بھی ہوسکتے ہیں۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے کی پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی، جو شام 8 بجے تک جاری رہی، پولنگ کے لیے ملک بھر میں 70 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے، جب کہ 50 ہزار سیکیورٹی اہلکاراور 7ہزار فوجی تعینات کیے گئے۔
فرانس میں ووٹرز کی تعداد 47 ملین ہے، جب کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولنگ کا ٹرن آؤٹ 80 فیصد رہا۔
خیال رہے کہ سخت سیکیورٹی میں ہونے والے فرانسیسی صدارتی انتخابات نہ صرف یورپی یونین بلکہ امریکا اور برطانیہ کے لیے بھی نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے کی جانب سے یورپی یونین کو خداحافظ کہنےجیسے جذبات رکھنے کی وجہ سے فرانس کے حالیہ انتخابات کو یورپی یونین کے مستقبل کے لیے نہایت ہی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ خاتون امیدوار مارین لے پین کی کامیابی ممکنہ طور پر یورپی یونین کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، وہ سب سے پہلے فرانس مفاد کی بات کرتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خاتون امیدوار کے مقابلے ایمانوئل ماکروں کی جیت یورپی یونین کے لیے فائدہ مند رہے گی، وہ اتحاد کے حمایتی تصور کیے جاتے ہیں
…………………………………………………….
اتوار کے روز فرانس میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ کے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق کل گیارہ امیدواروں میں سے اعتدال پسند صدارتی امیدوار ایمانوئل ماکروں اور دائیں بازو کی مہاجرت مخالف خاتون سیاستدان مارین لے پین کو سب سے زیادہ انفرادی تائید حاصل ہوئی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اتوار کی رائے دہی میں کسی بھی امیدوار کو مطلوبہ پچاس فیصد سے زائد عوامی تائید حاصل نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے مرحلے کے صدارتی الیکشن میں سات مئی کو اب حتمی مقابلہ ماکروں اور لے پین کے مابین ہو گا۔ فرانسوا فیوں نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں ماکروں کو چوبیس فیصد جبکہ لے پین کو بائیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔
غیر سرکاری ابتدائی نتائج کے مطابق فرانسیسی صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اعتدال پسند امیدوار ایمانوئل ماکروں اور دائیں بازو کی خاتون سیاستدان مارین لے پین نے باقی جملہ امیدواروں پر برتری حاصل کر لی ہے
یورپی یونین کے رکن اور جرمنی کے ہمسایہ ملک فرانس میں صدارتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں رائے دہی کے لیے آج ملک کے 47 ملین کے قریب رجسٹرڈ ووٹروں کو اپنا ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
اس الیکشن کے لیے قریب 70 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جہاں سکیورٹی فرائض کی انجام دہی کے لیے قریب 50 ہزار پولیس اہلکار تعینات تھے۔ اسی مقصد کے لیے قریب سات ہزار فوجی بھی اضافی خدمات انجام دے رہے تھے۔













