نیدرلینڈز میں لاکھوں ٹیولپس سے سجے خوبصورت مناظر نے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔

نیدرلینڈز کے ٹاؤن لیزے گارڈن میں 80 ایکڑ پر پھیلے لاکھوں گل لالہ نے شہرکی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا ہے اور ہر سو پھیلے رنگ برنگے گُل لالہ نے یہاں کا رخ کرنے والے سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔

گل لالہ دیکھنے کیلئے سیاح نہ صرف نیدرلینڈ بلکہ دنیا بھر سے یہاں کا رخ کر رہے ہیں اور اس خوبصورت منظر کو اپنے کیمرے میں قید کر کے خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں

ٹیولپ کے پھول اپنی خوبصورتی کی بنا پر دنیا بھر پسند کیے جاتے ہیں اوران کا بڑے پیمانے پر کاروبار ہوتا ہے۔ اگرچہ ٹیولپ عام طور پر ہالینڈ کی پہچان سمجھے جاتے ہیں۔۔لیکن واشنگٹن سے تقریبا ایک سو کلومیٹر دور واقع ایک گرین ہاؤس فریش ٹولپ یو ایس اے کا شمار دنیا کے سب سے بڑے گرین ہاوسز میں کیا جاتا ہے۔ اس میں ہر ہفتے تقریباچالیس لاکھ ٹیولپ اگائے جاتے ہیں۔

کوہن ہاکمین ہالینڈ کےایک کسان ہیں جنہوں نے 2004ء میں امریکہ میں ٹولپ اگانے کا کام شروع کیا۔اور صرف سات سال کےعرصے میں وہ دنیا میں ٹولپ اگانے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک کے مالک بن چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ٹولپ اگانے کی ایک فیکٹری ہیں۔ ہمارے پاس تقریبا ایک سو افراد ہیں۔ ہم صبح سات بجے سے رات تین بجے تک کام کرتے ہیں۔

شروع میں ہاکمین کا منصوبہ سالانہ پانچ لاکھ پھول بیچنے کا تھا۔ آج وہ سالانہ ساڑھے چار کروڑ ٹولپ بیچ رہے ہیں اور ان کی کمپنی روزانہ چار لاکھ پھول امریکہ کی مختلف ریاستوں کی جانب روانہ کرتی ہے۔ لیکن اس کاروبار کی صرف وسعت ہی قابل ذکر نہیں ۔۔اس کی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں تمام پھول مٹی کے بغیر اگائے جاتے ہیں۔

ہاکمین کہتے ہیں ہم پانی اور کھاد کے ایک محلول کے زریعے پھول اگاتے ہیں۔ اس میں مٹی یا کیڑے مار ادویات استعمال نہیں ہوتیں۔ اس پھول کی نشو نما کے لیئے اتنے اجزا موجود ہوتے ہیں کہ یہ خود ہی اگ جاتا ہے۔ اسے بس تھوڑے سے پانی اور کھاد کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن سالانہ ساڑھے چار کروڑ ٹولپ اگانا آسان نہیں۔ اس کے لیئے ہنر اور ٹیکنالوجی دونوں کی ضرورت ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY