گیلپ پاکستان کے سروے میں 55فیصد عوام کی رائے ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں آیا ہے،14فیصد نے کہا کہ فیصلہ وزیراعظم کے خلاف آیا۔

پاناما کیس کے فیصلے کو ملکی تاریخ میں کافی اہم قراردیا جارہا ہے ، عوام اس فیصلے پر کیا رائے رکھتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے گیلپ پاکستان نے ملک کے چاروں صوبوں میں سروے کیا، جس میں 13 سو سے زائد افراد کی رائے لی گئی۔

سروے میں عوام سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو سپریم کو رٹ کا پاناما کیس پر حالیہ فیصلہ پسند آیا؟

جواب میں 36 فیصد افراد نے فیصلے کو پسند کیا جبکہ 43 فیصد کی رائے تھی کہ ان کو فیصلہ پسند نہیں آیا، 21 فیصد کی رائے بٹی ہوئی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ نہ تو ان کو فیصلہ پسند ہے نہ ہی ناپسند۔

گیلپ پاکستان نے عوام سے مزید سوال کیا کہ کیا پاناما کیس کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں آیا ہے یا ان کے خلاف؟

جواب میں 55فیصد کی رائے تھی کہ پاناماکیس کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں آیا ہے، جبکہ 14 فیصد کا خیال تھا کہ یہ نواز شریف کے خلاف آیا ہے، البتہ 31فیصد کی رائے تھی کہ نہ تو ان کے حق میں آیا ہے نہ ہی ان کے خلاف۔

جس کے بعد عوام سے مزید سوال کیا گیا کہ کیا اس فیصلے سے ملک میں بدعنوانی اور کرپشن کم کرنے میں مدد ملے گی؟

جواب میں29فیصد کا خیال تھا کہ جی ہاں اس فیصلے سے بدعنوانی کم کرنے میں مدد ملے گی، البتہ 51 فیصد کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے بدعنوانی اور کرپشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،20 فیصد کی رائے تھی کہ اس فیصلے سے بدعنوانی میں اضافہ ہوگا۔

سروے میں عوام سے یہ بھی پوچھا گیا کہ پاناما کیس کے فیصلے سے قبل آپ کا کس پارٹی کو ووٹ دینے کا ارادہ تھا؟

جواب میں 38فیصد افراد کا کہنا تھا کہ پاناما کیس سے پہلے ان کا ارادہ پاکستان مسلم لیگ نواز کو ووٹ دینے کا تھا، 22 فیصد نے پاکستان تحریک انصاف، 17 فیصد نے پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ 11 فیصد نے دیگر پارٹیز کو پاناما کیس سے پہلے ووٹ دینے کا بتایا، سروےمیں 3 فیصد افراد نے کہا کہ ان کا ارادہ آزاد امیدوار کو ووٹ دینے کا تھا جبکہ 8 فیصد نے کہا کہ ان کا ارادہ تھا کہ وہ ووٹ ہی کاسٹ نہیں کریں گے، 1 فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

جس کے بعد سروے میں شامل عوام سے مزید پوچھا گیا کہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد اب آپ کس پارٹی کے نمائندے کو ووٹ دیں گے؟

جواب میں سروےمیں شامل 36فیصد افراد نے کہا کہ وہ پاکستان مسلم لیگ نواز کو ووٹ دیں گے ،البتہ 25فیصد افراد نے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ کرنے کا کہا، یعنی فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کا کہنے والوں کی شرح میں 3 فیصد اضافہ ہوا، سروے میں 16 فیصد افراد نے پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ 12 فیصد نے دیگر پارٹیز کو ووٹ کرنے کا کہا،2 فیصد نے کہا کہ وہ آزاد امیدوارکو ووٹ دیں گے، البتہ8 فیصد کی رائے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انہوں نے کہا کہ وہ ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے، 1 فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

سروے میں عوام سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ بعض لوگوں کے خیال میں سپریم کورٹ نے نوازشریف کو بدعنوان قرار دیا ہے مگر نااہل نہیں کیا،آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب میں 46فیصد نے کہاکہ ایسا نہیں، سپریم کورٹ نے نہ تو نواز شریف کو بدعنوان کہا، نہ ہی اہل قرار دیا ہے، جبکہ 39فیصد کا ماننا تھا کہ سپریم کورٹ نے انہیں بدعنوان تو کہا لیکن نااہل نہیں کیا، 15فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

گیلپ پاکستان نے عوام سے یہ سوال بھی کیا کہ آپ کے خیال میں سپریم کورٹ کا پاناما کا فیصلہ کن شخصیات اور گروپ نے قبول کیا ہے؟

نواز شریف اور ن لیگ کے دیگر ارکان کیلئے 71فیصد نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ مکمل طور پر قبول کیا ہے، 20فیصد کی رائے تھی کہ کسی حد تک قبول کیا ہے، جبکہ 9فیصد کا ماننا تھا کہ انہوں نے اس فیصلے کو بالکل قبول نہیں کیا۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر ارکان کے لیے 19فیصد کی رائے تھی کہ انہوں نے فیصلہ مکمل طور پر قبول کیا ہے،36فیصد کا کہنا تھا کہ کسی حد تک قبول کیا ہے، جبکہ 45فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس فیصلے کو بالکل قبول نہیں کیا۔

جماعت اسلامی کے لیے 17فیصد نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ مکمل طور پر قبول کیا ہے،البتہ 46فیصد کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے یہ فیصلہ کسی حد تک قبول کیا ہے، جبکہ 37فیصد کی رائے تھی کہ انہوں نے اس فیصلے کو بالکل قبول نہیں کیا۔

شیخ رشید کے حوالے سے 14فیصد افراد کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاناما کیس کا فیصلہ مکمل طور پر قبول کیا ہے،33فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی حد تک قبول کیا ہے، جبکہ 53فیصد کی رائے تھی کہ انہوں نے اس فیصلے کو بالکل قبول نہیں کیا۔

اسی سے ملتی جلتی رائے کا اظہار عوام نے پیپلز پارٹی کیلئے بھی کیا، جس کے مطابق 17فیصد کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے پاناما کیس کا فیصلہ مکمل طور پر قبول کیا ہے، 39فیصد کی رائے تھی کہ کسی حد تک قبول کیا ہے، جبکہ 44فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس فیصلے کو بالکل قبول نہیں کیا۔

عوام کی بات کی جائے تو سروے میں شامل 28فیصد افراد کا کہنا تھا کہ عوام نے پاناماکیس کا فیصلہ مکمل طور پر قبول کیا ہے، 40فیصد نے کہا کہ کسی حد تک قبول کیا ہے، جبکہ 32فیصد کا کہنا تھا کہ عوام نے یہ فیصلہ بالکل قبول نہیں کیا

SHARE

LEAVE A REPLY