کپاس کی کونپل
تحریر : بلند قبال
کچھ دیر بعد میں خود میں سے نکل گیا اور اپنے بچے ہوئے خیال کو اپنی مٹھی میں تھام کر جھیل کے کنارے آبیٹھا ۔
جھیل کی سطح پر ابھی تک گئی رات کی اوس بکھری ہوئی تھی ۔ ایک اداسی تھی جو صبح کے دھندلے پن میں سورج کے اُبھرنے کے ساتھ ساتھ پھیل رہی تھی ۔ کچھ مرے ہوئے پتنگے تھے جو روشنی کی چاہت میں اندھیرے کا بوجھ اُٹھائے میرے قدموں سے لپٹے ہوئے تھے۔ پاس پڑی ٹوٹی ہوئی لکڑیوں میں باسی پانی کی بساند اور اردگرد بکھرے ہوئے پتوں پر ہوا ٹھیری ہوئی تھی ۔ ہوا کی خنکی میرے وجود میں یوں اتری ہوئی تھی کہ باہراور اندر کے سارے راستے ایک ہی ہوگئے تھے۔ کچھ رینگتے ہوئے کیڑے میرے قدموں کے نیچے سرسراتے تھے مگر اُن کی آہٹ مجھ میں اترنے کے بجائے زمین میں اتر رہی تھی۔ کچھ دھندلی نامکمل لکیریں تھیں جو جھیل کی سطح پر اُتری ہوئی تھی اور کوئی راستہ نہ پاکر شائد اسمانوں کی طرف جانے کے لیے فضا میں بے ترتیب سی بکھر رہی تھیں ۔ ان لکیروں کے درمیان کچھ سیاہ رنگوں کی قطاریں بھی تھیں جو کہیں پھیلی تو کہیں سمٹی ہوئی تھیں جو ملگجی سی تھی جیسے رنگوں کے نشان کہیں راستے میں بھول آئی ہو اور پھر سے انہیں پانے کے لیے رات سے صبح کی تلاش میں نکلی ہوئی ہیں ۔ اردگرد ہوا نہیں تھی مگر شائد تھی جیسی کوئی شے ، بھاری اور کثیف ایک ایسی فضا جس کا دم نکل گیا ہو اور اب اپنا بوجھ خود میں سمیٹے میرے اردگرد چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی ۔جسم نہیں تھا مگر بدن کا ایک احساس تھا جو اپنے حجم میں تھا مگر محسوس نہیں ہورہا تھا ہاں ایک خیال تھا خود کے وجود کا اوراُس خیال کے وجود کا جو میری مٹھی میں بند تھا اور میرے وجود کو میری بند انکھوں میں اتر کر دیکھ رہا تھا۔ شائد میری انگلیوں کے درمیان کچھ جھروکے تھے اور وہ وہی کہیں سمٹ کر بیٹھ گیا تھا اور اب پلکیں جھپکا جھپکا کر کسی خوف ، وہشت ، ڈر یا محبت کے احساس کے بنا مجھے تک رہا تھا ۔ وقت لمحہ بہ لمحہ ٹوٹ کر کہیں میرے وجود میں کھو رہا تھا یا شائد اُس سے بدل رہا تھا اور دھیمے دھیمے جھیل کے پانی میں اُتر رہا تھا اور اُس کی سطح پر ایک انجانا ارتعاش پیدا کر رہا تھا۔ میری مٹھی میں بند خیال کی جھپکتی آنکھیں وقت کی کشتی میں سوار ہونے کے لیے بے تاب ہورہی تھیں ۔شائد وہ جھیل کے ارتعاش میں بہہ کر کسی انجانی منزل کی تلاش میں نکلنا چاہ رہا تھا مگر کیا تھی اُس کی منزل اور کہاں تھا وہ مقام ؟وہ جگہ جس کی جستجو تھی یا صرف کوشش ہی اُس کی منزل تھی اور جستجو ہی اُس کا مقام تھا؟ میرا وجود اب آہستہ آہستہ تحلیل ہو نے لگا تھا ، وہ لمحوں میں ٹوٹ کر جھیل کے پانی میں اتر رہا تھا ۔میں قطرہ قطرہ جھیل میں شامل ہوکر اُس کا ارتعاش بن رہا تھا مگر میری مٹھی ابھی بھی بند تھی یا شائد میں اُسے اب بھینچ رہا تھا نہ جانے کیوں مجھے لگ رہا تھا کہ اُس کے کھل جانے سے میں پانی میں تحلیل ہونے کے بجائے اُس بے دم کثیف فضا کا حصہ بن جاوں گا جو میرے چاروں جا نب بے ترتیب پھیلی ہوئی تھی ۔یہ کیا ہوا تھا کہ سب اب کچھ کچھ بدل رہا تھا میری جستجو مجھے باندھ رہی تھی کہ جو میں وقت کے ساتھ ساتھ بہ رہا تھا، اب اُس میں خواہش شامل ہوچلی تھی ۔یہ خواہش کا بیچ کہیں مجھ میں پھیل ہی نہ جائے، کا خوف مجھے اندر ہی اندر ایک اور ارتعاش دے رہا تھا۔میرا وجود اِس ارتعاش کی طاقت سے بھی اب جھیل میں شامل ہورہا تھا اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اُس کا حصہ بن رہا تھا ۔ہوا کی خنکی کم ہورہی تھی اور میرے اندر کے راستے خواہشوں کو سمیٹے ایک ایک کرکے ساری کھڑکیوں کو بند کررہے تھے اور میرے وجود کے ساتھ ساتھ بہہ رہے تھے۔ میں خود میں کم ہوہا تھا مگر جھیل میں اُتر کر بڑھ رہا تھا ، میرا وجود خود میں سکٹر رہا تھا مگر شائد کہیں پھیل رہا تھا ۔کیا میرے اندر وقت پیدا ہورہا تھا ؟ یہ جاننے کے لیے میں نے اپنی مٹھی کی بند انگلیوں کو جنبش دی تو اُس میں بند خیال اچانک جگہ پاکر کسی سفید پرندے کی صورت پھڑ پھڑاتا ہوا نکلا اور مجھ پر ایک نگاہ کی اور کہا’ہاں مگر خواہش کو مرنے مت دینا ورنہ گیلی لکڑیاں تمھارا مقدر بن جائیں گی اور مرے ہوئے پتنگے تمام عمر تمھارے پیروں پر یونہی لپٹے رہنگے۔‘یہ کہ کر خیال میری نظروں سے اوجھل ہوگیا اور میں خوف کی کشتی پر سوار ہوکر خواہش کے چپو مارتا ہوا وقت کی جھیل پر بہنے لگا۔
وہ میری زندگی کا پہلا دن تھا یا شائد آخری دن مگر مجھے لگا تھا کہ جیسے میری ماں میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی ہے ۔ اُس نے دھیمے سے میرے قریب بہت قریب اکر مجھ سے کہا تھا : تم کچھ دیر سوجاؤ بیٹا اب تم تھکنے لگے ہو اور پھر وہ میرے کانوں میں پیار سے لوری دینے لگی ۔۔ ’’سوجا میرے پیارے ، میرے راج دلارے . نیندیا اترے اِن انکھیوں میں ،خوابوں کے سہارے ۔۔ سوجا میرے پیارے ، سوجا میرے پیارے ۔‘‘ ابھی میں انکھیں بند کیے چپ چاپ اُس کی انگلیوں کو اپنے بالوں میں رینگتا ہوا محسوس کر ہی رہا تھا کہ اچانک خیال کا سفید پرندہ میری بند پلکوں پر آکر بیٹھ گیا ۔ ماں مجھے تم نے کیوں پیدا کیا تھا؟ میں نے آہستہ سے بڑبڑایا مگر شائد میری ماں تک میرے خیال کی آواز نہیں پہنچ پائی یا شائد اُس کے پاس اُس سوال کا جواب بھی نہیں تھا یا شائد یہ کوئی سوال بھی نہیں تھا ۔اُس نے مجھے کب پیدا کیا تھا؟ یہ تو میں ہی تھا جو وقت کی جھیل پر بہتا ہوا یہاں تک پہنچ گیا تھا مگر اب کنارہ ڈھونڈ رہا تھا ۔۔ماں کوئی کنارہ ہے وقت کا ؟ میرے خیال نے پھر سے سرگوشی کی مگر جواب میں پھر اُس کی وہی لوری میرے کانوں سے ٹکرائی مگر اس بار مجھے لگا اُس کے اخری لفظوں کی گونج پہلے سے زیادہ تھی ۔۔ نیند یا اُترے اِن انکھوں میں ، خوابوں کے سہارے ۔خوابوں کو سہارے، خوابوں کے سہارے ۔ اور پھر مجھے لگنے لگا جیسے میرا وجود ہلکا اور ہلکا ہوتا جارہا ہے اس میں سے کثافت نکلتی جارہی ہے اور یہ لطیف ہوتا جارہا ہے اس قدر ہلکا جیسے ہوا کا جھونکا یا شائد بارش کی ایک بوند ۔۔
اس بارمیں نے دیکھا وہاں بہت ساری سوکھی لکڑیاں تھیں جو بار بار میرے قدموں تلے آرہی تھی اور دبی ہوئی آہوں کے ساتھ ٹوٹ رہی تھی۔ بہت سارے سیاہ ر نگوں کے خشک پتے تھے جو ہواؤں میں اڑتے ہوئے میرے چہرے پر اکر لمحے بھر کے لیے ٹھیرتے تھے مگر پھر کچھ ہی دیر میں اُسی ہوا کے زور پر بل کھا کر اڑجاتے تھے ۔ وہ شائد دھول کا طوفان تھا وہ جو اُس جنگل یا بیابان میں چاروں طرف پھیلا ہوا تھا اور میں پھٹے پرانے کپڑوں کو اپنے بدن پر باند ھ کر عصا ہاتھ میں لیے زمین کو تھام کر تیز تیز چل رہا تھا ۔ میرے بے ترتیب بال ہوا میں اڑ رہے تھے اور میری داڑھی میرے چہرے پر بکھری ہوئی تھی ۔ میں انکھیں بھینچے اُس جنگل میں شائد کوئی کھویا ہوا راستہ ڈھونڈ رہا تھا مگر، مگر میں تنہا نہیں تھا میرے پیچھے میری ہی شکل کے جیسے بہتر اور بھی لوگ بھی تھے ۔ وہ سب میری ہی طرح بکھرے ہوئے مگر سمٹے ہوئے تھے۔ وہ سب میری ہی طرح لاعلم مگر شائد آگاہ تھے ۔ وہ سب کسی راستے کی تلاش میں اس بیابان کے بیچ آکر کھو گئے تھے۔اچانک میرے پیچھے آئے ہوئے میرے کسی ساتھی نے زور سے آواز لگائی۔ شائد وہ مجھ ہی سے مخاطب تھا میں نے پلٹ کر دیکھا تو اُس نے چلا کر پھر سے کہا ’کہاں ہے؟ کتنی دور اور ہے وہ ؟‘ یہ سن کر پہلے تو میں نے آسمانوں کی طرف دیکھا مگر وہ تو دھول مٹی میں اٹا ہوا کہیں بہت پیچھے چھپا ہوا تھا۔ پھر میں نے زمین کی طرف دیکھا مگر مجھے وہاں سوائے ٹوٹی ہوئی لکڑیوں ، اڑتے ہوئے پتوں اور اپنی دو پھٹی ہوئی چپلوں کے کچھ بھی نظر نہیں آیا ۔مگر ہاں، وہاں مجھے کہیں کہیں اپنے قدموں کے نشان دکھائی دیے تو میں نے بس چلا کر اتنا ہی اُس سے کہا ’ میرے قدموں کے نشانوں پر چلو ، مجھے پتہ ہے اُس کی کٹیا یہی کہیں ہے‘ اور پھر اگلے ہی لمحے جب مجھے دور تک ہوا کٹتی ہوئی دکھائی دی تو میں نے اپنی عصا فضا میں بلند کی اور اُس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چیخ کر کہا ’ وہا ں ۔۔وہاں ہے وہ‘ اور پھر میں اس سمت کی طرف بڑھتا ہی چلا گیا مگر وہاں تو کوئی کٹیا ہی نہیں تھی اور نہ ہی وہ خود مگر ہاں وہاں کا لچکرتھا چاروں جانب مشرق مغرب شمال جنوب زمین سے اسمان تک ۔ یہ دیکھ کر میرے ساتھی نے سر گھما کر پھر سے چیخ کر کہا ۔ ’’یہاں تو کوئی کنارہ نہیں ہے۔ یہ تو لامتناہی ہے ، ہم کس طرح نکلیں گے اس بیابان اس جنگل سے؟‘ اور پھر اچانک ہی ایک انجانی سی خوشی اُس کے چہرے پر اُتر ائی اور اُس نے کہا ’وہ رہی دراڑ ، وہ جو افق کی طرف روشنیوں کا قافلہ ہے وہی وقت تقسیم ہورہا ہے۔ہماری منزل وہی کہیں ہے‘ مگر پھر میرے اُترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر میرے پیچھے آئے ہوئے بہتر(۷۲) لوگوں کے چہروں پر مردنگی سی پھیل گئی۔’نہیں وہ دراڑ اواسرپنی اور اوتر سرپنی کل کے بیچ کی ہے ۔ مجھے نہیں لگتا وہ راستہ نروان کا راستہ ہے ، وہ تو گیان کے رستے کی دوسری منزل ہے ۔‘یہ کہ کر میں نے اپنی عصا زمین میں گاڑ دی اور سر جھکا کر قریب پڑے پتھر پر بیٹھ گیا ۔ ’سنو وردھا منہ (مہاور) نے یہی کہیں بیٹھ کر کہا تھا کہ کرم سے آزادی ہی ہمیں وقت کے چنگل سے چھڑا سکتی ہے‘ ،یہ کہ کر میں نے اپنے دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے جوڑ لیے اور انکھیں بند کرلی اور من ہی من میں بدھا کو یاد کرنے لگا :’اوم منی منی مہا منی شکیمینا سواہہ ۔۔ اوم منی منی مہا منی شکیمینا سواہہ‘ ، میں جوں جوں میں یہ منتر پڑھنے لگا میرے ارد گرد کی دھول زمین پر بیٹھنے لگی ۔ مجھے لگا جیسے ہواؤں کی خود سری میں کمی آرہی ہے ۔ میرے پیرووں تلے کراہنے والی لکڑیاں اور میرے چہرے اور سر پر پھیلی ہوئی پتیاں اپنا رنگ بدل رہی ہیں ۔ وہ لکڑیاں سیاہ سے بنفشی اور سوکھی پتیاں کپاس کے پھولوں سے بدلتی جارہی تھی۔ یکایک میرے پیچھے آئے ہوئے بہتر (۷۲) لوگ بھی میری طرح پتھروں پر بیٹھ کر یک آواز منتر کا چاپ کرنے لگے مگر اُن کی اواز اُن کے من سے نکل کر لبوں تک آرہی تھی ۔۔۔ ’اوم منی منی مہا منی شکیمینا سواہہ‘ ۔۔ ’اوم منی منی مہا منی شکیمینا سواہہ ۔۔۔‘،کا چاپ فضا میں پھیلتا جارہا تھا ۔ اُس کی دھمک اتنی تیز تھی کہ اچانک مجھے لگا جیسے میرے اردگرد ساری کائنات اس چاپ میں ڈوبتی جارہی ہے ۔اورپھر یکایک ہر طرف سفید روشنی پھیلنے لگی ۔ اس قدر روشنی تھی کہ مجھے اب کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے تھوڑی دیر بعد جب انکھیں کھولی تو میرے ارد گرد کچھ بھی نہیں تھا سوائے کپاس کے پھولوں اور بنفشئی پتیوں کے جو میرے ارد گرد فضا میں بکھرے ہوئے تھے ۔ میرے عین سامنے مہاتما بدھا اپنے کشاسن پر بیٹھے گیان میں محو تھے اور میں کسی دو سالہ بچے کی طرح بیٹھا ہوا زاروقطار رورہا تھا ۔اُن کے چاروں اطراف اُن کے بہت سارے بھکشووہاتھ باندھے گشامی کے منترکا جاپ کررہے تھے اور بدھا اپنی اتما کی انکھ کھولے مجھے معصومیت سے تک رہے تھے۔ میں نے انہیں جب اپنی طرف متوجہ پایا تو اپنے لب کھولے ’ اے مہا ما تی تتاگت ، میں اپنی ماں کے مقدر کا درد ہوں۔میں بس وقت کی جھیل میں ڈوبنے کو ہوں کہ مجھے تیرنا نہیں اتا۔میرے تو کوئی کرم ہی نہیں کہ خود سے انہیں جدا کروں ۔ میں اپنی ماں کا ایک ہی کرم ہوں اور وہ مجھے اب انتم ودا کرنے کو ہے ‘۔’ اے مہا منی تتا گت، نروان کے جس
رستے پر میری ماں ہے وہ تو کسی پیغمبرکسی بیٹے حتی کہ تجھے بھی نصیب میں نہیں ملا ۔کیا یہ رستہ نرون سے بھی آگے کا ہے جو مجھ جیسے کم نصیبوں کی ماؤں کے حصوں میں اتا ہے؟‘ یکایک تمام بھکشو وں کو جیسے ایک سانپ سا سونگھ گیا ۔ گشامی کا منتر لفظوں سے تحلیل ہوکر فضا میں بکھرتا چلا گیا ۔ ایک رنگ بدھا کے معصوم سے چہرے پر آیا مگر پھر لوٹ گیا۔کپاس کے پھولوں کی پتیاں آہستہ آہستہ فضا سے بارش کے بوندوں کی طرح زمین پر گر رہی تھیں ۔ ۔ اور پھر میں نے دیکھا جیسے بدھا کی آنکھوں میں سارے جہاں کے درد اُتر ائے ہیں اور پھر کچھ انسو اُن کی پلکوں سے نکلے اور بہہ کر گالوں پر ٹھیر گئے۔بدھا نے ایک بار پھر مجھے دیکھا اور کچھ کہے بغیر اپنا دایاں ہاتھ اپنی گود سے نکالا اور پھر اپنی ہتھیلی کا رخ میرے چہرے کی طرف کردیا۔میں نے دیکھا بدھا کی ہتھیلی سے رنگوں کی قوس خز ح پھوٹ رہی تھی اور چاروں جانب پھیل رہی تھیں ۔ پھر کچھ ہی دیر میںیہ روشنیاں میرا مقدر بن گئی ۔مجھے ایک لمحہ کے لیے یوں لگا جیسے بدھا کے چہرے کے نقوش میری ما ں کے چہرے کے نقوش سے بدل گئے ہیں ۔
۔۔۔ اور پھرمیرے سارے خواب ایک ایک کرکے ٹوٹتے چلے گئے ۔ایک اندھیر ا تھا جو یکا یک میرے اندر اترتا چلا گیا اور ایک سفید رو شنی تھی میرے باہر پھیلتی چلی گئی ۔وہ ہی شائد میرے خوابوں کا آخری حسین منظر تھا یا شائد کوئی بھیانک سچ ۔۔ بس مجھے اتنا سا ہی یاد ہے کہ ایک چھوٹی تازہ سی سی لحد تھی۔ جس کے کنارے پر ایک کالی چادر اوڑھے ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی جس کے لب خاموش تھے، چہرہ پر سکون تھا اور پلکوں پر آنسو خشک ہوچکے تھے ۔ وہاں آس پاس یا کہیں بھی کسی پھول کی پتیاں نہیں تھیں بس کپاس کی ایک چھوٹی سی کونپل تھی جو اُس لحد پر پڑی ہوا کے جھونکوں سے کانپ رہی تھی۔












