روزنامہ اِنقلاب کےسابق سینئر رُکن علی عباس رِضوی کا انتقال۔۔۔ ندیم صدیقی

0
820

روزنامہ اِنقلاب کےسابق سینئررُکن
علی عباس رِضوی کا انتقال
ممبئی:24 فروری(ندیم صدیقی)بتاخیرملنے والی اطلاع کے مطابق روزنامہ انقلاب(ممبئی) کے ہمارےدیرینہ بزرگ رفیق ِکار کاتب (97سالہ) علی عباس رضوی ماہِ رواں کی چھٹی تاریخ جمعہ کے دِن ممبرا میں رِحلت کر گئے۔
علی عباس رضوی اُترپردیش کے مشہور ضلع بستی کے قصبہ ہلّور (سادات) میں15 مئی 1929ع کو پیدا ہوئے تھے، اُن کے اجداد میں سے شاہ عبدالرسول تین سَو برس قبل مشہد (ایران) سے ہجرت کر کےیہاں آئے تھے۔
ہم جب (1984 میں) روزنامہ انقلا ب سے وابستہ ہوئے تو علی عباس رضوی صاحب وہاں کتابت کر رہے تھے اور ایک مدت تک وہ اخبارِ ہٰذا میں بر سرِ کار رہے ، مرحوم نہایت کم گو اور مہذب لب و لہجے کے انسان تھے ہم نے اُن کے ساتھ کئی برس کام کیا مگر اس مدت میں ان کی آواز کو کبھی بلند نہیں پایا، لگتا تھا کہ وہ گفتگو نہیں سرگوشی کر رہے ہوں،اپنے کام میں اُن کا انہماک بھی قابلِ ذکر ہے، وہ دفترمیں بالخصوص دفتری سیاست سے مجتنب رہتے تھے، البتہ کاتبوں کی آپس میں جب جملے بازی ہوتی تھی توعلی عباس صاحب کی نظریں تو اُن کے مِسطر، قلم اور دوات پر رہتی تھیں مگر دماغ اور کان اپنے ساتھیوں کی گفتگو کی طرف لگے رہتے تھے، مثلاً عرفان علوی چھٹیاں گزار کر وطن سے لوٹے ہیں، ناصر علی(کاتب) عرفان علوی کو مسلسل چھیڑ رہے ہیں اور علوؔی کتابت کرتےہوئے صاحبِ عرفان ہونے کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ناصرعلی نے کہا:
عرفان ! گاؤں میں کیسے وقت گزرتا تھا، عرفان صاحب نے کچھ جواب دیا، ناصر علی نے پھر کہا: گاؤں میں دِن تو جیسے تیسے گزر جاتا ہوگا مگر شب کیسے گزرتی تھی اور خواب گاہ میں کیسی کیسی آوازیں سنتے ہوگے۔؟
عرفان علوی اس سے پہلے کہ لب کشائی کریں، علی عباس رضوی صاحب کی زبان کھلی اور جملہ نکلا:
’’یا ناصر یا ناصر یا ناصر‘‘
چھ لفظی اس جملے پر پورا شعبۂ کتابت قہقہے سے گونج رہا ہے اور ناصر علی کے جھکے ہوئےچہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں اورعلی عباس صاحب اپنے کام میں ایسےمنہمک ہیں جیسے اس پورے واقعے سے وہ بالکل بے خبر ہوں۔
علی عباس رضوی صاحب اُن دنوں مالونی (ملاڈ) میں مقیم تھے، انقلاب کے علاوہ شہر کے کئی رِسالوں کی بھی کتابت کیا کرتے تھے۔
ایک طویل مدت بعد سالِ گزشتہ قیصر رضا( مدیرِ صداقت) نے اطلاع دی کہ آپ کے ایک بزرگ رفیق کارکاتب علی عباس رضوی آپ کو یاد کر رہے ہیں، ہم نے پوچھا : کہاں ہیں وہ ؟
تو جواب ملا: ممبرا میں سُمیّہ اسکول کےپاس وہ اپنی بیٹی کے ہاں رہائش پذیر ہیں۔
ہم تلاش کرتے ہوئےجب اُن کے مکان پر پہنچے تو لگا ہی نہیں94 یا 95 سال کے کسی بزرگ سے مل رہے ہوں، اُن کی فطری مسکراہٹ جیسے ہمارا خیر مقدم کر رہی ہو، جتنی دیر اُن کے پاس بیٹھے رہےاتنی دیر تک انقلاب کے شعبۂ کتابت میں اپنی حاضری محسوس کرتے رہے،تمام پرانے انقلابی ساتھیوں ایس ایس جعفری، اثر اعظمی،نسیم فیض آبادی، عبد القادر، سعید الہ آبادی تا عبد الحئی کا نام بنام ذکرِ خیر ہوتا رہا، ہم نے جب عبدالحئی کے انتقال کی خبر دِی تو اُن کے چہرے پرایک افسردگی کے ساتھ خموشی چھا گئی۔
علی عباس رضوی صرف پیشہ وَر کاتب نہیں تھے بلکہ وہ بزرگوں کی اخلاقی روایات کے امانت دار بھی تھے، ممبئی کے صحافتی اور شیعی حلقوں میں ممتاز عالِم دین مولانا حسن عباس فطرت کا نام لوگ ابھی بھولے نہ ہوں گے، فطرت مرحوم، کاتب علی عباس رضوی کے حقیقی برادرِ خرد تھے۔ علی عباس رضوی کے جسدِ خاکی کو ممبرا کے( نزدمِتّل گراؤنڈ )شیعہ قبرستان میں سپردِ لحد کیا گیا، اُن کے پسماندگان میں دو بیٹے اوردو بیٹیاں ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY