حسن نصر اللہ کی ہلاکت، ایران کیا کر سکتا ہے؟

0
458

اسرائیل کے حملے میں ایران کی حمایت یافتہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ ماہرین کہتے ہیں کہ علاقائی قوتیں کشیدگی کو ہوا دینے سے گریز کریں گی۔

حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ اور فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھے گی اور ثابت قدم لبنان کے عوام کا دفاع کیا جائے گا۔

حزب اللہ نے ہفتے کو تصدیق کی ہے حسن نصر اللہ اسرائیل کے فضائی حملے میں مارے گئے ہیں جب کہ اسرائیلی فوج نے کہا ہے نصراللہ کو ختم کر دیا ہے اور وہ اب دنیا کو دہشت زدہ نہیں کر سکیں گے۔

حسن نصراللہ کی ہلاکت پر ایران میں پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حسن نصراللہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، وہ اکیلے نہیں تھے بلکہ وہ ایک مکتبۂ فکر تھے جن کے بتائے ہوئے راستے پر سفر جاری رہے گا۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے حسن نصراللہ کی ہلاکت کا ذمے دار جزوی طور پر امریکہ کو بھی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ کی اسرائیل کے ساتھ ملی بھگت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے بعد تنظیم کا نیا سربراہ کون ہو گا اور اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کس طرح کی جائیں گی؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

حزب اللہ کو خطے کی مضبوط ترین پیرا ملٹری فورس سمجھا جاتا ہے جس کے پاس نہ صرف جدید ہتھیار ہیں بلکہ ہدف کو نشانہ بنانے والے راکٹس اور ڈرونز بھی ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے تمام حصوں کو نشانہ بنا سکتی ہے جس کا عملی مظاہرہ اس نے اسرائیل کے ساتھ حالیہ مسلح جھڑپوں کے دوران بھی کیا ہے۔

حالیہ تنازع میں حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف ابتدا میں ٹینک شکن میزائل اور راکٹ فائر کیے تھے۔ تاہم بعد میں اس نے دھماکہ خیز مواد لے جانے والے ڈرونز اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی استعمال کیے۔

حزب اللہ کا نیا سربراہ کون ہو گا؟

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق 42 سالہ ہاشم صفی الدین کو حسن نصر اللہ کا جانشین سمجھا جاتا تھا جو نہ صرف تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ ہیں بلکہ وہ حزب اللہ کے بیرون ملک سیاسی امور کو بھی دیکھتے ہیں۔

ہاشم صفی الدین حسن نصر اللہ کے کزن ہیں اور وہ انہی کی طرح سیاہ رنگ کا امامہ پہنتے ہیں۔ ان کے عوامی خطابات میں حزب اللہ کی عسکریت پسندانہ مؤقف اور فلسطینی کاز سے حمایت جھلکتی ہے۔

ہاشم صفی الدین حزب اللہ کے ملٹری آپریشنز کو منظم کرنے والی ‘جہاد کونسل’ میں اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے انہیں 2017 میں دہشت گرد قرار دیا تھا۔

‘حزب اللہ کو عرب ریاستیں پسند نہیں کرتیں’

‘رائٹرز’ کے مطابق قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر مہران کامراوا نے کہا ہے کہ خطے کے عرب ممالک میں ایک خاموش خوشی پائی جاتی ہے کیوں کہ کوئی بھی قدامت پسند عرب ریاست حزب اللہ کو پسند نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک میں ایک قسم کا خدشہ موجود ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو جنگ کو پھیلانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وہ پہلے ہی لڑائی کو لبنان تک لے آئے ہیں۔ البتہ کسی حد تک یہ ریلیف پایا جاتا ہے کہ حسن نصر اللہ کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

پروفیسر مہران نے کہا کہ اگر ایران کی نظر سے دیکھا جائے تو بدترین صورتِ حال اس سے قبل بھی دیکھی گئی تھی لیکن تہران نے اس وقت بھی کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

ان کے بقول، تہران اپنی صبر کی اسٹرٹیجی پر گامزن ہے جہاں وہ ایک طویل گیم کھیل رہا ہے اور ان کے خیال میں یہ اسٹرٹیجی مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔

مہران کامراوا نے کہا کہ ایران اسرائیل سے براہِ راست کشیدگی سے دور رہنا چاہتا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام مسلمان لبنان کے عوام اور حزب اللہ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔

اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ ‘ظالم’ حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے آپ کے پاس جو وسائل ہیں ان سے حزب اللہ کی مدد کریں۔ ان کے بقول، خطے کی قسمت کا فیصلہ مزاحمتی قوتیں کریں گی اور حزب اللہ اس میں سب سے آگے ہے۔

خامنہ ای کا یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب اسرائیل اور حزب اللہ کی درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 720 سے زیادہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

خلیجی ممالک اور اسرائیل کے تعلقات پر گہری نظر رکھنے والی سعودی تجزیہ کار عزیز الغاشیان کے مطابق سعودی عرب حزب اللہ کو خطے میں کشیدگی کی وجہ سمجھتا ہے اور حزب اللہ اور سعودی عرب کے درمیان کوئی پیار بھری دوستی نہیں ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY