دل سے ہر یاد سحر کس طرح کھرچی جائے

0
942

غم زیادہ ہے خلاصہ تو نہیں ہو سکتا
خط کا مضمون خراشاتو نہیں ہو سکتا

بات گہری ہے اگر درد سمجھ لے کوئی
بات چھوٹی ہے تماشہ تو نہیں ہوسکتا

تم جو کہتے ہو ہر اک مصرعہ ہے تفسیرِ حیات
اِس سے زخموں کو دلاسہ تو نہیں ہو سکتا

اُس کی ہجرت کا یہ خمیازہ ہے بھُگتا ہم نے
دل میں جینے کا ارادہ تو نہیں ہو سکتا

زندگی گزرے کسی پل سے الجھ جاتی ہے
بے وجہ زخم یہ تازہ تو نہیں ہو سکتا

مِلنا جُلنا مری فطرت میں ہے شامل لیکن
حوصلہ اتنا زیادہ تو نہیں ہو سکتا

دل سے ہر یاد سحر کس طرح کھرچی جائے
اتنا مضبوط ارادہ تو نہیں ہو سکتا‎
تابندہ سحر عابدی

SHARE

LEAVE A REPLY