غم زیادہ ہے خلاصہ تو نہیں ہو سکتا
خط کا مضمون خراشاتو نہیں ہو سکتا
بات گہری ہے اگر درد سمجھ لے کوئی
بات چھوٹی ہے تماشہ تو نہیں ہوسکتا
تم جو کہتے ہو ہر اک مصرعہ ہے تفسیرِ حیات
اِس سے زخموں کو دلاسہ تو نہیں ہو سکتا
اُس کی ہجرت کا یہ خمیازہ ہے بھُگتا ہم نے
دل میں جینے کا ارادہ تو نہیں ہو سکتا
زندگی گزرے کسی پل سے الجھ جاتی ہے
بے وجہ زخم یہ تازہ تو نہیں ہو سکتا
مِلنا جُلنا مری فطرت میں ہے شامل لیکن
حوصلہ اتنا زیادہ تو نہیں ہو سکتا
دل سے ہر یاد سحر کس طرح کھرچی جائے
اتنا مضبوط ارادہ تو نہیں ہو سکتا
تابندہ سحر عابدی













