حیف صد حیف اب دکھ کی بھی نمائش ہونے لگی۔ ارشد معراج

0
258

فرزانہ ناز چلی گئی ۔ میرا ان سے تعلق تقریبات میں ملاقات یا فیس بک کے حوالے سے رہا ایک تعلق یہ بھی تھا کہ وہ پھلروان سے چند کلومیٹر دور بھلوال سے تعلق رکھتی تھیں ۔ مجھے ان کے حادثے کی خبر ایک دوست نے فون پر دی میں نے ان کے شوہر اسماعیل صاحب سے بات کی انہوں نے تصدیق کر دی (حادثے کا واقعہ تو آپ لوگوں نے پڑھ ہی لیا ہے )میں نے واٹس ایپ گروپس میں یہ خبر لگا دی ۔

مجھے ڈاکٹر فاخرہ نورین کا تصدیق کے لیے فون آیا اور ساتھ ہی میرے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ شفا ہسپتال تو بے پناہ مہنگا ہے میں نے یہ ذکر ان سے کیا ۔ڈاکٹر فاخرہ نورین نے اسماعیل صاحب سے مالی صورت حال کا پوچھا جو کہ بہتر نہیں تھی ۳ لاکھ جمع کرانے تھے تب آپریشن ہو سکتا تھا۔ ہم نے تمام شاعروں ادیبوں کو میسیجز کیے کسی کی طرف سے بھی کوئ جواب نہیں آیا میں نے بیرون ملک شاعروں ادیبوں کو میسیجز کئے تو ایک شاعرہ نے فرمایا اللہ اپنی غیب سے ان کی مدد کرے گا

مجھ پر تو جیسے سکتا طاری ہو گیا جناب حمید شاہد کا میسج آیا کہ انہوں نے ادبی اداروں کے سربراہاں کو وہ میسج بھیج دیا ہے لیکن مکمل خاموشی رہی ۔ فرزانہ ناز خوددار شاعرہ تھیں کسی کی مدد نہیں لی اور اللہ نے غیب سے مدد کی اور وہ اللہ کے پاس چلی گئیں ۔

آج میرا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ یہ پوسٹ لگاؤں لیکن فیس بک پر ان کے آنتقال کے بارے ہوسٹیں پڑھ کر حیرت ہو رہی تھی کہ جنہوں نے اس قدر دکھ کا نمائشی اظہار کیا تھا وہی جڑواں شہر کے شاعر ادیب ان کے جنازے تک میں نہیں تھے چند شاعر اور پانچ شاعرات موجود تھیں ۔

ادبی اداروں کے سربراہان یا ان کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا لیکن فیس بک سے لگ رہا ہے جیسے شہر بھر میں شاعروں نے صف ماتم بچھا رکھی ہے ۔ حیف صد حیف اب دکھ کی بھی نمائش ہونے لگی

ارشد معراج

SHARE

LEAVE A REPLY