اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششیں اس وقت نئی رفتار پکڑتی دکھائی دیں جب وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ ایک سینئر امریکی ایلچی کا دورہ “اچھا جا رہا ہے۔” دیگر ثالثوں نے بھی متحارب فریقوں کی جانب سے حوصلہ افزاعلامتوں کی اطلاع دی ہے۔

پیش رفت کے نئے آثار اس ہفتے کے آخر میں پیرس میں متوقع اس سربراہی اجلاس سے پہلے سامنے آئےہیں جہاں ثالث ایک نئی تجویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکہ، مصر اور قطر ہفتوں سے ایک ایسا فارمولہ تلاش کرنےکی تگ ودو میں ہیں جس سے غزہ میں اسرائیل کی تباہ کن کارروائیوں کو روکا جا سکے اور اب جب مسلمانوں کامقدس مہینہ رمضان قریب آرہا ہے،اس کے لیے ایک بے ضابطہ ڈیڈ لائن کا سامنا ہے۔

دو فلسطیی بچے غزہ کی پٹی میں واقع رفح کے پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی بمباری سے منہدم مسجد اور رہائشی عمارتوں کے ملبے کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ 22 فروری 2024

وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی بریٹ میک گرک نے اسرائیلی رہنماؤں اور حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالوں کے اہل خانہ سے دن بھر بات چیت کی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ “بریٹ سے ہمیں ایسے ابتدائی اشارےمل رہے ہیں کہ یہ بات چیت بخوبی ہو رہی ہے۔”

ان کوششوں میں شامل ایک مغربی سفارت کار نے کہا کہ دونوں فریق وفقہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا،”ہم نے اپنے شراکت داروں سے جو کچھ سنا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مراعات دینے کے لیے تیار ہیں،” انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بند دروازے کی سفارت کاری پر بات کرتے ہوئے کہا۔ “ان پر وقت دباؤ ڈال رہا ہے۔”

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ نئی لڑائی میں، جنوبی اور وسطی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY