اردو ادب کے عظیم شاعر محسن نقوی 5 مئی 1947ء کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔محسن نقوی کا پیدائشی نام غلام عباس تھا تاہم بعد میں انہوں نے اپنے نام میں اضافہ کر کے غلام عباس محسن نقوی رکھ دیا جب کہ عوام انہیں محسن نقوی کے نام سے ہی جانتے ہیں۔

محسن نقوی نے اپنے کلام میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کی تصانیف میں عذاب دید، خیمہ جان، برگ سحرا، طلوع اشک، حق عالیہ اور دیگر شامل ہیں۔محسن نے اپنی شاعری کے ذریعہ نوجوانوں میں بھی مقبولیت حاصل کی۔

!میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں

!!جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے

جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے

جیسے خوشبو کو ہِوا رنگ سے ہٹ کر چاہے

محسن نقوی نے اپنی شاعری میں روایتی محبوب اور محبت یا ہجر و فراق کے نشیب و فراز بیان کرنے کے علاہ سماجی زیادتی، معاشرتی بے حسی اور عالم انسانیت کے امن کو بھی موضوع سخن بنایا۔

ہوا اس سے کہنا

کہ جو ہجر کی آگ پیتی رُتوں کی طنابیں

رگوں سے اُلجھتی ہوئی سانسوں کے ساتھ کس دیں

اُنہیں رات کے سُرمئی ہاتھ خیرات میں نیند کب دے سکے ہیں؟

ہوا اس کے بازو پہ لکھا ہوا کوئی تعویذ باندھے تو کہنا

کہ آوارگی اوڑھ کر سانس لیتے مسافر
تجھے کھوجتے کھوجتے تھک گئے ہیں۔

1994 میں محسن نقوی کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ محسن نقوی کو 15 جنوری 1996 کے دن اقبال ٹاون لاہور میں گولیوں سے چھلنی کر کے قتل کر دیا گیا۔ محسن نقوی کو مارنے والے یہ بات بھول گئے کہ اہل قلم اپنے الفاظ اور سوچ کے سہارے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا

میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی!

SHARE

LEAVE A REPLY