،،جاوید خان بلخی کا عالمی اخبار کے لیئے خصوصی سلسلہ ،،شہر زاد

18
7626

قارئین یہ تحریر ہفتے میں دو بار جمعے اور پیر کے روز شائع ہواکرے گی

حرف اول

لندن میں برسوں سے مقیم جاوید خان بلخی میرا ایف سی کالج کا ہم جماعت ہے اور اپریل ۲۰۲۵ میں مجھے کوئی پانچ عشروں کے بعد ملا۔ گفتگو کے دوران اسکے تخلیقی جوہر کا انکشاف ہوا جو وہ اپنی حیات کے ایک باب کے طور پر عرصے سے لکھ رہا ہے اور جلد ہی مکمل ہو جائے گا، اس سلسلے وار تحریر کے ابتدائی چند صٖفحات پڑھنے کے بعد میں نے اس تحریر کو عالمی اخبار میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب جاوید سے اس خواہش کا اظہار کیا تو اس نے روایتی لکھاریوں کی طرح یہ کہہ کر بات ٹالنے کی کوشش کی کہ میں نے یہ سب اپنے لیئے لکھا ہے اور میں کوئی لکھاری نہیں بس اظہار کیا ہے، خیر اس شریف انسان نے آخر کار میرے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور مجھے اسکی اشاعت کی اجازت دے دی جسکے لیئے میں عزیز دوست جاوید خان بلخی کا ممنون ہوں

مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ جاوید نے اس اظہاریے کو پیشہ ور ادیب کی طرح سجا کر یا لفظوں میں ملفوف کر کے نہیں لکھا بلکہ وہ جو جو سوچتا رہا قلم اسکی سوچ کو اسی طرح لکھتا رہے۔ یہ بے شک جاوید کی زندگی کا ایک رخ ایک باب اور فسانہ ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ پڑھنے کے بعد بہت سے قاری اسے اپنی کہانی سمجھیں گے

خالق لوح و قلم اظہار اور تخلیق کی دولت ہر کسی کو نہیں عطا کرتا، جاوید خان خوش قسمت ہے کہ اللہ نے اسکی لکھنے کا فن دیا اظہار کی طاقت دی

میں ایک بار پھر جاوید کا ممنون ہوں کہ اس نے اس سلسلے کی اشاعت کی اجازت دی، قارئین اس پر اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں

شکر گزار

صفدر ھمدانی

مدید اعلیٰ عالمی اخبار

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

جاوید خان بلخی کا مختصر تعارف

تقسیم ہند کے بعد امرتسر کے کٹے پھٹے قافلوں میں ایک چھوٹا سا خاندان ہمارا بھی تھا اس افرا تفری کے دور میں سب سے پہلی خوشی اور امید کی کرن ہماری اس دنیا میں آمد تھی میں ۳۱ مارچ 1948 کو ضلع گوجرانوالہ کے ایک چھوٹے سے شہر وزیرآباد میں پیدا ہواجو اپنی چاقو چھریوں کی صنعت کی وجہ سے مشہور تھا ، ہمارے آباؤاجداد ترکی سے ہجرت کرنے کے بعد بلخ بخارا اور کابل سے ہوتے ہوۓ وادئ اگرور میں مستقل طور پر سکونت پزیر ہو گئےجو ضلع مانسہرہ میں واقع ہے

میں نے ابتدائی تعلیم وزیرآباد میں حاصل کی گریجویشن فورمین کرسچین کالج یعنی ایف سی کالج لاہور سے کی اور ماسٹرز کرنے کے لئیے شعبہ معاشیات پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا
تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد کینیا کے دارالخلافہ نیروبی میں ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارے سے منسلک ہو گیا

آٹھ سال تک ایک سیکنڈری سکول کا پرنسپل رہا اور پھر برطانیہ چلا آیا جہاں تیس سال تک برطانوی سول سروس میں کام کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی

جاوید بلخی

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

شہرزاد،پہلی قسط۔

انجان راستے بے نام مسافر

چشم تصور سے تمہیں دیکھا ۔ ایک دبلی پتلی شرمیلی سی نازک اندام لڑکی باغ کے بیچوں بیچ کھڑی کسی نہ آنے والے کا انتظار رہی ہے – ہلکے پیازی رنگ کے کپڑے سر پہ دوپٹّے کا آنچل ہلکے بھورے بال فراخ ماتھا اور گورا رنگ – سرو قد – رنگ روپ اور روح کا ایک حسین امتزاج –

بڑے سے چشمے کے پیچھے نیم خوابیدہ خاموش اور خوبصورت سی ڈری ڈری سہمی سہمی سی آنکھیں – اس سے پہلے کہ شام کا سرمئ اندھیرا رات کی تاریکی میں بدل جاۓ آپ نے اپنی راہیں جدا کر لیں ۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ آئیں تھیں شب کی سیاہی گہری ہونے سے پہلے چلی گئیں ۔ نہ آنے کی خبر نہ جانے کا پتہ ۔
اگر ملنے کو جی چاہے تو خوابوں میں چلے آنا
کبھی رستے میں مل جاؤ تو یؤں نظریں چرا جانا

اگر دل روک لے تیرا تو اے جاناں نہیں جانا

تو مجھ کو بھول جاۓ گا یہ لوگوں نے نہیں مانا

محبت ہے یہ کیسی دوست اور کہاں کا عشق و یارانا

کہاں ہے دل ٖکی وہ بستی یہاں بس دشت و ویرانہ

کہاں کی چوٹ کیسا درد وہی ہے روگ یہ پرانا

تیرے وعدے تیری قسمیں کبھی تو ان کو نبھانا

دوا میری دعا میری تمہیں نماز پنج گانہ

عدو کے ساتھ پھرتے ہو جلے مر جاۓ یہ پروانہ

لگے تم کو میری یہ عمر کہ ہے یہ آخری نذرانہ

جاری ہے

;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;

شہرزاد،دوسری قسط

انجان راستے بے نام مسافر

شام کے لرزتے سائے
اماوس کی صدیوں پر محیط رات
بھنور کے بیچ ہچکولے کھاتا سفینہ حیات
زندگی خاموش بےکیف بے رنگ خزاں کے زرد پتوں کی طرح

رکھا ہے دل ہتھیلی پہ چھپایا کچھ نہیں میں نے
دیا ہے دل کے بدلے دل چرایا کچھ نہیں میں نے
جو پوچھو گے تو کہہ دونگا زمانے بھر کے لوگوں کو
لٹی ہے میری یہ دنیا بسایا کچھ نہیں میں نے
کرو اقرار یا انکار یہ پوچھوں گا بس اک بار
نہیں کرتی ہو ہم سے پیار بھلایا یہ نہیں میں نے
مہندی ہاتھوں پہ تیرے آنکھ میں حیا کا کاجل
کیسے کیسے تیری مورت کو سجایا ہے میں نے
کب تلک ہم سے رہو گی روٹھی اے جان جاوید
ان اندھیروں کو قندیلوں سے جلایا ہے میں نے

جاری ہے

……………………

شہرزاد، تیسری قسط

انجان راستے بے نام مسافر

چوراہے پہ ملے تھے دوراہے پر بچھڑ گۓ ۔
مجھے دیکھا میرے پاس چلی آئ ۔ میں نے کہا کھوگئ ہو ۔ کہنے لگی کھو گئ تھی اب لگتا ہے منزل کے قریب ہوں ۔
اکیلی ہو میں نے کہا ۔ پہلے تھی اب نہیں ہوں جواب آیا ۔ کوئ نام پتہ ہے تمہارا میں نے کہا ۔ کوئ پکارنے والا نہیں تھا اس لیۓ نام کی ضرورت ہی نہیں تھی اور پتہ مقیم کا ہوتا ہے مسافر کا نہیں ۔ میں کوئ نام دے دوں تمہیں میں نے کہا ۔ میرا ہاتھ تھام کر وہ بولی اپنا نام دے دو یا تم بھی میری طرح بے نام ہو ۔ آگے دوراہا آرہا ہے بولو کہاں جانا ہے میں نے کہا ۔ اچانک اس نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور بن
کہے سنے ایک تیسری راہ چلدی ۔ کہاں جا رہی ہو میں نےسوالیہ انداز میں پوچھا ۔ جب منزل تلاش کر لو مجھے آواز دینا میں واپس تمہاری دنیا میں چلی آؤنگی اس نے جواب دیا ۔ جب تک میں اسے آواز دیتا وہ بہت دور جا چکی تھی اور آواز دیتابھی کیسے اس کا تو کوئ نام ہی نہیں تھا ۔ بے نام آئ تھی بے نام چلی گئ ۔ جس راستے پر وہ گئ تھی اس کا نام پڑھنے کے لیۓ دو قدم آگے بڑھا تو پتہ چلا کہ نام کی تختی تو کیا وہاں سواۓ خار دار جھاڑیوں اور خود رو گھاس کے سوا کچھ نہ تھا ۔ برسوں بیت گیے اس بات کو لیکن میں اب بھی اسی دوراہے پر بیٹھا ہوا انتظار کر رہا ہوں اس کے لوٹ آنے کا ۔ کون جانے کب ۔ کس وقت ۔۔۔۔

نہ آیا تھا نہ آیا ہے نہ آۓ گا جواب انکا
رہیں گے عمر بھر بیٹھے تمہارے گھر کی چوکھٹ پر
نہ کہتی تھی نہ کہتی ہو نجانے کیوں یہ خاموشی
جزا کیسی سزا ہے یہ جرم کس کا ستم کس پر
نہیں دیکھا تمہیں ہم نے نہ ہی ہم دیکھ پائیں گے
مگر روکو اگر روکو لگا دو پہرے خوابوں پر
نہ قیس عامری ہوں میں نہ ہی رانجھا میں ہیروں کا
بدل کر بھیس پھرتا ہوں چڑھا دو مجھ کو سولی پر
جو یاد آؤں اگر آؤں نہ آنکھیں بند کر لینا
مجھے آنا ہے آؤنگا سر اپنا رکھ کے نیزے پر

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد – چوتھی قسط
انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار
پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

کیا پڑھ رہے ہو
کتاب
مجھے بھی پتہ ہے یہ کتاب ہے clever clogs کون سی کتاب
سلمی کنول کی ‘ چپکے سے بہار آ جاۓ ‘
اچھی ہے لگتاہے میری زندگی پر کسی نے کتاب لکھ دی ہو
کیوں ایسا کیا ہے تمہاری زندگی میں جس پر کتاب لکھی جاۓ
کچھ نہیں ایسے ہی مونہہ سے نکل گیا تھا
جتنی پیاری شکل ہے اتنی ہی اچھی باتیں بھی کیا کرو پتہ نہیں کیا واہی تباہی کہتی رہتی ہو پتہ ہے بھی کیا لکھا ہے اس کتاب میں
پتہ ہے اسی لیے تو اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا “ اور یہ تم میری شکل کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے
یہی کہ تم بہت خوبصورت ہو
خوبصورت ہوں یا صرف تمہیں خوبصورت لگتی ہوں
دونوں
دونوں کیا پورا فقرہ نہیں کہہ سکتے
ارے بابا کیا ہو گیا ہے تمہیں آج چھت پر چڑھ کر ساری دنیا سےکہوں
اب میرے لیۓ کہو جب میں نہ ہونگی تب دنیا سے بھی کہہ دینا
کیامطلب جب میں نہ ہونگی کہیں جا رہی ہو
ایسے ہی مونہہ سے نکل گیا تھا اور اب کہہ بھی دو نا پلیز اور میرا نام لیکر کہنا
اعجاز میں اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیکر کہتا تم ایک اپسرا کی طرح ہو اور مجھے اچھی لگتی ہو
اچھا ۔ راجہ اندر جی کتنی اچھی
بہت اچھی اور مجھے اچھا لگتا ہے جب تم میرے جواب کے جواب میں کہتی ہو اچھا
اچھا ۔ اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑتی ایسے لگتا جیسے جل ترنگ کی گھنٹیاں بج اٹھی ہوں

کس زمانے کی بات کرتے ہو
کیوں تم ہماری بات کرتے ہو
گزرا بیتا ہوا کل ہیں ہم
اور تم ہو کہ آج کی بات کرتے ہو
صبح کیسی تھی شام کیسی ہے
اور تم ہو کہ رات کی بات کرتے ہو
کچھ نہ بولو گے لب نہ کھولو گے
دل تو پاگل ہے کیوں دل کی بات کرتے ہو
کل جو بیت گیا کل نہ ہونگے ہم
کس سے روٹھو گی کیوں منانے کی بات کرتے ہو
ہم سے ملنا کبھی نہ چاہو گی
پھر کیوں وصل کی بات کرتے ہو
ایک پاگل تھا تیرا دیوانہ
تم اس مجنوں کی بات کرتےہو
نہ سوال تم کرتے نہ جواب ہم دیتے
یہ ادھورا ہے دل کا افسانہ کیوں نہیں تمام کرتےہو

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد – پانچویں قسط

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

تمہارے گھر والوں کو ہمارے یوں آزادانہ ملنے پر اعتراض نہیں ہوتا ۔

گھر میں امی اور میرے سوا ہے کون اور امی کو اگراعتراض ہو بھی تو انہوں نے کبھی اظہار نہیں کیا ۔ ویسے بھی اب میرے

مونہہ سے نکلی ہوئ ہر بات کو میری آخری خواہش سمجھ کر پورا کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔

آخری خواہش تو تختہ دار پر لٹکے ہوۓ یا پھر قریب المرگ آدمی سے پوچھی جاتی ہیں ۔ تم کیا ہو مجرم یا مریض

تمہیں کیا لگتی ہوں مجرم یا مریض

میرے لیۓ تو تم ایک مسیحا سے کم نہیں

اچھا ۔ کس کی مسیحائ کی میں نے

میری اورکس کی

مجھے پتہ تھا تم یہی کہنے والے ہو ۔ میں تو خود مستعار زندگی پر ہوں کسی کو کیا زندگی دے سکتی ہوں

ایسا کیوں کہا تم نے یا ہمیشہ کی طرح کہو گی یونہی نکل گیا مونہہ سے

کچھ نہیں ایسے ہی کہا تھا ۔ تم اس شہر کے رہنے والے ہو نا

ہوں تو لیکن تم نے بات کیوں بدل دی

اب چھوڑ بھی دواس بات کو ۔ اور ہاں میرے گھر کے سامنے یہ بوسیدہ سی بڑی بڑی دیواروں والی عمارت کوئ آثار قدیمہ

یا میوزیم ٹائپ چیز ہے ۔ ایساکچھ نہیں میں نے کہا یہ ثمن برج ہے یا تم اسے راج محل بھی کہہ سکتی ہو ۔کیوں تم کیوں پوچھ رہی ہو

کچھ نہیں ایسے ہی خیال آیا کہ محلوں کی دیواریں کتنی ہی لمبی اونچی اور مضبوط کیوں نہ ہوں اس کے مکین سونے اور چاندی کے

پنجروں میں بند پنچھیوں کی طرح ہوتے ہیں کبھی آزاد فضا میں سانس نہیں لیتے اور اپنے ہی کھچے ہوۓ حصار سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ بیچارے ۔ ارے یہ کیا ہو گیا ہے تمہیں آج بڑےدانشور کی طرح باتیں کر رہی ہو ۔

تمہیں اچھا نہیں لگے گا اگر لوگ کہیں کہ تمہاری گرل فرینڈ ایک دانشور ہے

مجھے لوگوں کی راۓ نہیں لینی تمہارے بارے میں اور میں کیا تمہارا بواۓ فرینڈ ہوں یا یہ بھی ایسے ہی مونہہ سے نکل گیا تھا

دونوں ۔ دونوں ٖکیا ۔ یہی کہ میں تمہاری سہیلی بھی ہوں اور ۔۔۔۔۔

اور کیا ۔ اور کچھ نہیں مجھے حجاب سا محسوس ہو رہا ہے اور یہ کہتے ہوۓ اس نے چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا

یہ لڑکیوں کی طرح شرما کیوں رہی ہو ۔ لڑکی ہوں تو انہی کی طرح ۔۔۔۔۔۔ کیوں میں تمہیں لڑکی نہیں دکھائ دیتی

پتہ نہیں

جب سے تم مجھے ملی ہو اس کالے برقعے کے پیچھے چھپی رہتی ہو گھر کی دہلیز پار کرنےکے بعد صرف نقاب

الٹ دیتی ہو اور بس ۔ پردہ کرتی ہو مجھ سے ۔ مجھے جسم کی نمائیش اچھی نہیں لگتی ۔ ارے بابا نمائش کی بات نہیں کی میں

نے اس کالے رنگ کی چادر کے پیچھے سفید سبز نیلا پیلا سرخ کسی رنگ کے کپڑے تو پہنتی ہو گی

اچھا بڑا شوق ہے تمہیں مجھے سرخ جوڑے میں دیکھنے کا ۔ دلہن ہوں میں تمہاری ۔ اب ایسے کیوں دیکھ رہے ہو میری

طرف بولو جواب دو ۔ کیا اور کس چیز کا جواب دوں ‘ دلہن ہوں میں تمہاری ‘

اسے کہتے ہیں بلندی سے پستی، ابھی دو منٹ پہلے صدیوں کے دانا کی طرح باتیں کر رہی

تھیں اور اب ‘ دلہن ہوں میں تمہاری ‘ یہ کیسا سوال ہے ۔ اور پو چھنا ہی ہے تو زرا پیار سے پوچھو تم تو چنگیز خان کی طرح

تلوار لیکر میرے سر پر کھڑی ہو گئی ہو ۔ ‘ دلہن ہوں میں تمہاری ‘ ‘ہاں یا ناں ‘

اس زمانے کی بات کرتے ہیں

ہم تمہاری نہیں ہماری بات کرتے ہیں

عشق کی ساری منزلیں طے کرلیں

اب بھی ہماری تمہاری باتیں کرتے ہو

کیوں ڈھونڈتے رہتے ہو راہیں فرار کی یونہی

نہ رہ سکو گے اک پل اور تم ابد کی بات کرتے ہو

کچھ نہ بولیں گے لب کو سی لیں گے

دل دیا ہے تمہیں دل سے بات کرتے ہیں

کل نہ آۓ گا کبھی کل بھی ہونگے ساتھ

کیوں نہ رہوں روٹھی اچھا لگتا ہے جو منانے کی بات کرتے ہو

تم کو ملنا ہو تمہیں آؤ مل لو ہم سے

درد فراق سہا ہے ہم نے اورتم ہو کہ وصل کی بات کرتے ہو

اب بھی پاگل ہو نیم دیوانے

پھرتے ہو صحرا میں مجنوں کی طرح اورلیلے کی بات کرتے ہو

جسے تم سوال کہتے ہو وہی بن گیا جواب اپنا

یہ کہانی ہے سات جنموں کی تم فسانوں کی بات کرتے ہو

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد – چھٹی قسط

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار
پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دی

تم نے جواب نہیں دیا میرے سوال کا ابتک
کون سا سوال وہ سرخ جوڑے والا ۔ اگر جواب نہ دوں تو
تو میں سرخ کی بجاۓ سفید جوڑا پہن لونگی
وہ تو بیواؤں کا مقدر ہے
ٰ خدا نہ کرےتمہیں کچھ ہو کیوں بد شگونی کی باتیں کرتے ہو ۔ میں اپنی بات کر رہی تھی سفید کفن بھی تو ہوتا ہے ۔
کل تم سات جنموں تک ساتھ دینے کا وعدہ کر رہی تھی اور آج ۔۔۔۔۔۔
وہ تم نے لکھا تھا میں نے نہیں ۔
میں نے وہی لکھا جو تم نے کہا ۔
الفاظ تو تمہارے تھے ۔
ہاں لیکن میں نے تمہارے ہی خیالات کی ترجمانی کی تھی اور بس
میں تمہاری

Muse

ہوں کیا
یہ کس بلا کا نام ہے
بلا نہیں دیوی ہے جسکا مطلب ہے

Inspiration
یہ تو پتہ نہیں لیکن جب سے تم ملی ہو میں میں نہیں رہا صرف تم ہو
اتنا چاہتے ہو مجھے
تم اس طرح کے سوال کرو گی تو اٹھ کر چلا جاؤنگا
مجھے ساتھ لیکر نہیں چلو گے
کہاں بھٹکتی رہو گی میرے ساتھ
تمہارے بنا بھی تو بھٹکتی رہونگی
تمہیں ساتھ لیکر چلونگا تو کوئ تعلق کوئ رشتہ قائم کرنا پڑیگا اور میں تمہیں کسی رشتے کی ڈور سے باندھنا نہیں چاہتا ہر
طرح کے بندھنوں سے میرا دم گھٹنے لگتا ہے ۔
تم مجھے اپسرا کہتے ہو نا میرے راجہ اندر تو پھر مجھے دنیاوی رشتوں سے آزاد کر دو روحیں ہر طرح کے بندھنوں سے آزاد
ہوتی ہیں مجھے جسمانی اتصال کی لذتیں نہیں روحوں کا ملن چاہیے ۔ وہ دیکھ رہے ہو آسمان پر اڑتے ہوۓ سفید براق جیسے
کبوتروں کے جوڑے کو ۔ میں تمہارے ساتھ پرواز کرنا چاہتی ہوں ان فضاؤں گھٹاؤں بادلوں سے کہیں اوپر قوس و قزح کی
رنگ برنگی پینگ پر جھولتے ہوۓ آکاش کی نیلگوں گہرائیوں میں کھو جانا چاہتی ہوں میں میں میں کیا کہہ رہی تھی میں
کچھ نہیں صرف کھلی آنکھوں سے خواب دیکھ رہی تھی
کیوں تم خواب نہیں دیکھتے
دیکھتا تھا مگر تم مل گئی ہو نا میرے خوابوں کی تعبیر اب کس کےلیےاور کیوں دیکھوں
اچھا ۔ خواب تونہیں دیکھتے لیکن ہر وقت ہر لمحہ میرے چہرے کی طرف دیکھتے رہتے ہو کسی چیز کی تلاش میں ہو
تمہاری غزالی آنکھیں نیم خوابیدہ جھیل کی طرح گہری اداس ڈوبتی ہوئ شام کی طرح
خوبصورت ہیں
خوبصورت ۔ ہاں ہیں تو ۔ کیوں مجھے کیوں پوچھتی ہو آئینہ نہیں دیکھتی کیا یا میرےمونہہ سے سننا اچھا لگتا ہے
ہاں تمہارے مونہہ سے سننا زیادہ بھلا لگتا ہے اور جب سے تم ملے ہو آئینۂ دیکھنا بند کر دیا ہے میں نے تمہاری آنکھوں میں جو دیکھ لیتی ہوں اپنے آپ کو
نہ وہ آۓ اور نہ ہی انکا کوئ پیام آیا
نہ بھیجی انہوں نے چٹھی نہ قاصد نہ سلام آیا
رہے ہم عمر بھر بیٹھے کسی کی راہگزاروں پر
سحر آئ ہوئ دوپہر اور پھر وقت شام آیا
بہت ہی چاہ تھی ہم کو پینے اور پلانے کی
ہمارے ہاتھ میں تو بس اک ٹوٹا ہوا جام آیا
رہے سب پوچھتے ہم سے کہا ہے یار کی بستی
بتایا اور سنایا پرلبوں پہ نام نہ آیا
ہمارے دل میں رہتے ہو کہا تم نے سنا ہم نے
نجانے کیوں یہ اقرار محبت بھی ہمارے کام نہ آیا
گیے تھے کرکے یہ وعدہ کہ آئیں گے تمہیں ملنے
جئیں یا ہم مریں بلخی کبھی ان پر نہ یہ الزام آیا

جاری ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہرزاد – ساتویں قسط

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

وہ لڑکی کون ہے جو اکثر تمہارے پاس کھڑی ہوتی ہے ۔ دوست ہے تمہاری

کون ہانی ۔ ارے نہیں دوست نہیں ایسی ہی معمولی سی جان پہچان ہے اک دکھیاری سی آتمہ ہے ۔

ہانی یہ کیسا نام ہے

اس کا نام فرینا ہے گھر والے پیار سے ہانی کہتے ہیں

تمہیں کیسے پتہ ان باتوں کا

وحی کا نزول ہوتا ہے مجھ پر ۔ ارے بابا اس نے خود بتایا تھا مجھے

تمہیں کیسے جانتی ہے

رانجھا ہوں نا میں یہاں کا شہر کی ساری ہیریں مجھے جانتی ہیں ۔ تم شہر کی کوتوال ہو جو اس طرح کے سوال جواب ہو رہے

ہیں ۔ یہ سامنےحویلی والوں کی مہمان ہے ۔ مجھے یہاں بیٹھے دیکھ کر چلی آتی ہے ۔ یہ ٹینس بال دیکھ رہی ہو میرے

ہاتھ میں ۔ آتے ہی دور کھڑی ہو کر مجھے کہے گی بال میری طرف پھینکو اور پھر بال پکڑ کر واپس میری

طرف اچھال دیتی ہے جب تک کھڑی رہتی ہے یہ کھیل چلتا رہتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کی زبان بھی

وہ بولتی رہتی ہے میں خاموشی سے سنتا رہتا ہوں دل پر بوجھ لیکر آتی ہے جب وہ ہلکا ہو جاتا ہے بال میرے ہاتھ میں تھما کر واپس چلی جاتی ہے اور ہاں

گھر کا دروازہ بند کرنے سے پہلے ہاتھ کے اشارے سے مجھے خدا حافظ کہنا نہیں بھولتی ۔

یہ برگد کے پیڑ کے نیچے کیوں بیٹھے رہتے ہو کوئ گھیان دھیان کا چکر ہے گوتم بدھ کی طرح یا جوگی بننے کا ارادہ ہے تمہارا ۔

اب تم مل گئی اس لیۓ جوگ لینے کا ارادہ ترک کر دیا ہے میں نے

کیوں جوگن ہوں میں تمہاری بولو جواب دو

ارے بابا تمہارے سوالوں کے جواب میرے پاس نہیں ہوتے ۔ میں اپنے کمرے کی تنہائ سے تنگ آ

جاتا ھوں تو اس درخت کی چھاؤں میں آ کر بیٹھ جاتا ہوں ۔

جوگن ہوں میں تمہاری جواب دو پہلے پھر کوئ اور بات کریں گے

اونہہ جوگن تو نہیں تھوڑی کملی ضرور ہو

کملی وہ کیا ہوتا ہے

ہوتا نہیں ہوتی ہے ۔ جیسی تم ہو تھوڑی پاگل ۔ نیم دیوانی ۔ سر پھری جو اپنے محبوب کی جدائ میں

گلیوں کی خاک چھانتی پھرتی ہے ۔

میں یہ سب کچھ ہوں ۔ بات نہیں کرنی مجھے تم سے ۔ کبھی نہیں ۔ پاگل ہوں تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے مجھے

یہی تو کر نہیں سکتا

کیوں ۔ کیوں نہیں کر سکتے

مجھے دوزخ کی آگ میں جلنا ہے کیا

کیا مطلب

سنا نہیں تم نے کبھی

کملی کر کہ چھوڑ دیتو ،تہ میں بیٹھی خاک گلیاں تے رو لاں

غلام فریدا میں تے دوزخ سرساں جے میں مکھ ماہی ولوں موڑاں

جب میں تمہارے پاس ٰنہیں ہونگی تو یاد کروگے مجھے اور اگرکرو گے تو کتنی بار ۔ ایک بار دو بار سو بار

تمہاری یادوں کی ڈور میری سانسوں کے ساتھ بندھی ہے اور سانسیں گن اور من کر نہیں آتیں جب تک دل

دھڑکتا رہے گا سانسیں چلتی رہیں گی تمہاری یاد آتی رہے گی ہر دھڑکن کے ساتھ گن سکتی ہو تو گن لو

یوں ترک تعلق زیبا نہیں تم کو

باتیں نہ کرو ہم سے روٹھو تو سہی آخر

کیوں بات ہر اک بات پہ یوں لڑتے ہو ہم سے

کس چیز کی دیتے ہو تم ہم کو سزا آخر

یوں حسن پہ اپنے اترانا نہیں اچھا

یوں عشق کونظروں سے گراتے ہوں کیوں آخر

ہم ہیں تو تم ہو تم ہو تو ہم ہیں

جب لازم و ملزوم ہیں تو کیوں اول و آخر

دنیا کی نگاہوں سے چھپا رکھا ہے تجھ کو

پر میری ہی نظر تم کو لگ جاۓ نہ آخر

جاؤ گی چلی جاؤ گی تم دور بہت دور

ہم یاد کریں گے تمہیں ہر پل دم آخر

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد – آٹھویں قسط

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دی

ہم کبھی زکر نہ کرتے جو یہ فسانہ ہوتا

بھول ہی جاتے تیرا قصہ جو ہمیں دوہرانہ ہوتا

تم کیا میرا پیچھا کرتی رہتی ہو

نہیں تواور میں بھلا کیوں ایسا کرونگی اور بھی غم ہیں دنیا میں محبت کے سوا

اچھا میں بھی تو سنوں یہ کونسے دوسرے غم تم نے پال رکھے ہیں

اور تم نے یہ کیوں کہا کہ میں تمہارا پیچھا کرتی رہتی ہوں ۔ اب تم ایسے بھی رومیو نہیں ہو کہ یہ جولیٹ گھر کی

بالکونی میں کھڑی تمہارا انتظار کرتی رہے ۔

ہا ہا ہا تو آپ کو غصہ بھی آتا ہے ۔ میں نے اس لیۓ کہا کہ تم ساۓ کی طرح میرا تعاقب کرتی رہتی ہو

میں بیٹھتا بعد میں ہوں اور آپ کی پولیس والوں کی تھرڈ ڈگری پہلے شروع ہو جاتی ہے ‘ اتنی دیر سے کیوں آے ہو

کہاں سے آۓ ہو راستے میں کون کون ملا کس سے باتیں کیں کیا باتیں کیں وغیرہ وغیرہ وغیرہ

بس بس بس ۔ ایسا کہتی ہوں میں کیا بھلا ۔ یہ نہیں پوچھو گے کیوں کہتی ہوں

نہیں مجھے پتہ ہے تم کیا کہو گی ۔ اور اب تم کہو گی تمہیں کیسے پتہ

نہیں میں یہ تو نہیں کہنے والی تھی پھر بھی تمہیں کیسے پتہ الہام ہوتا ہے کیا

الہام تو نہیں ہوتا لیکن تم جو سوچتی ہو وہ تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں لکھا ہوتا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ سوچ الفاظ کے قالب میں ڈھل کر ان رسیلے لبوں تک پہونچے میں انھیں پڑھ لیتا ہوں

اے جیدی کے بچے رکو زرا مجھے سانس لینے دو یہ کونسی زبان بول رہے ہو

کچھ نہیں یونہی تمہیں متاثر کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا

پوچھ سکتی ہوں کیوں ۔ اوہ تو یہ بات ہے ۔ امی جان نے کچھ کہا تم سے

ہاں کہہ رہی تھیں اعجاز نے انگریزی زبان میں ماسٹرز کی ہے ۔ یونانی دیو مالائ کہانیوں پر تھیسس یعنی تحقیقی مقالہ لکھا تھا اور

اور کچھ نہیں چھوڑو ان باتوں کو

ایک بات پوچھوں تم سے تھوڑی زاتی قسم کی ہے شائد تمہیں اچھی نہ لگے

اے کیا ہو گیا ہے تمہیں اپنے آپ کو الگ سمجھتے ہو مجھ سے ۔تم یہی جاننا چاہتے

ہو نا کہ میری عمر کتنی ہے ۔ تین سال بڑی ہوں میں تم سے کچھ اور پوچھنا ہے تمہیں

نہیں پتہ نہیں کیوں ۔۔۔۔۔۔ ساری

کیوں کہا تم نے ساری یاد ہے ایرک سیگال کی لو سٹوری تمہاری فیورٹ کتاب اور کیا لکھا تھا اس میں

‘ جہاں پیار ہو وہاں کبھی ایک دوسرے سے معذرت یا معافی نہیں مانگی جاتی ‘

معاف کر دو بابا زبان ہی پکڑ کر بیٹھ گئ ہو تم تو میری

تم سارا دن کتابیں پڑھتے رہتے ہو نا

پڑھتا ہوں لیکن سارا دن نہیں ۔ کیوں ۔ اعتراض ہے تمہیں

میں تم سے سوال ہوچھوں گی اور تم اس کا صرف ایک جواب دو گے نو لائف لائن ایک سوال ایک جواب تیار ہو

یہ کوئ نیا پاگل پن ہے تمہارا یا طارق عزیز کا نیلام گھر دیکھ کر بیٹھی ہو ۔ بحر حال پوچھو

تیار ہو

جی تیار ہوں اب کیا ساتھ بینڈ باجہ اور بارات لیکر آؤں

وہ بھی لے آنا لیکن بعد میں پہلے سوال اور اسکا ٹھیک جواب

اگر میں کہوں ( قدیم اسکندریہ ) تو تمہارے زہن میں کس چیز کا خاکہ ابھرے گا

لائبریری کا میرا مطلب ہے کتب خانہ ۔ اب سوال پوچھو گی بھی یا ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع کرو گی

اور یہ تمہارے چہرے پر مسکراہٹ کیسی ہے

یہ سوال ہی تھا بدھو کہیں کے ۔ بحر حال جواب درست ہے ۔ تم نے لائٹ ہاؤس کیوں نہیں کہا

تمہارا سوال کتابوں کے حوالے سے تھا اس لیۓ ۔ درست جواب دینے پر کوئ انعام وغیرہ بھی ملے گا یا

ملے گا ملے گا کیوں نہیں

کیا ملے گا

میں ۔ لے آؤ اب وہ اپنا بینڈ باجہ اور بارات اور لے جاؤ اپنی دلہن کو

اتنی سی بات کے لیۓ اتنی لمبی چوڑی تمہید

میں تمہیں اتنی سی بات لگتی ہوں ۔ تھوڑی دیر پہلے تک تو تم میری خوبصورتی کے قصیدے پڑھ رہے تھے نا شکرے کہیں کے

یہ کالے رنگ کا برقعہ باٹم پہن کر چلو گی تو لوگ کہیں گے کسی ماتم خانے سے اٹھا لایا ہوں تمہیں

میں نے تمہیں پہلے بھی کئ دفعہ کہا ہے میرے پاس صرف یہی ہے یا پھر سرخ سہاگ کا جوڑا جو تم لیکر آؤ گے

یا سفید آخری سفر کے لیۓ ۔۔۔

جب بھی آتی ہے تیری یاد بہت آتی ہے

بھولے بسرے ہوۓ قصوں کی ہمیں یاد دلاتی ہے

تیرا ہر بات پہ لڑنا اور ہم سے ناز اٹھوانا

تیری ہر اک ادا خون کے آنسو رلاتی ہے

کروں گا کس سے میں باتیں سنے گا کون پھر مجھکو

رہوں میں چپ اگر آواز تیری ماضی کے جھروکوں سے بلاتی ہے

بدلتا کروٹیں ہوں میں نہیں پھر سو نہیں سکتا

میری بے چین روح کو یاد تیری تھپکیاں دے کر سلاتی ہے

چلا جاتا ہوں پھر اس راہ پر جس کی نہیں منزل

مگر یہ نقش پا تیرا یہ خوشبو تیری سانسوں کی پکڑتی ہاتھ میرا اور تیرے پاس لاتی ہے

نہ تھے ہم بے وفا اور نہ ہی آشنا تم تھے

کہانی کیسی الفت کی ہوا ہم کو سناتی ہے

نہ لوٹیں گے کبھی وہ دن نہ شامیں پھر وہ آئیں گی

کہاں ہو تم چلے آؤ یہ گھڑیاں بیتی جاتی ہے

جاری ہے

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

شہر زاد ۔ نویں قسط

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

دو اجنبی دنیا کی بھیڑ میں چلتے چلتے آمنے سامنے آگیے ۔ آنکھیں ملیں ۔ ہلکی سی مسکراہٹ سے ایک دوسرے کا استقبال

کیا اور بغیر نام پتہ پوچھے اپنی اپنی راہ اپنی اپنی منزل کی طرف چل دیے ۔ ایک لمہہ کے لیۓ بھی پیچھے مڑ کے نہ دیکھا ۔

داد نہ فریاد اور نہ ہی کوئ یاد شائد اسی کا نام زندگی ہے

تھکی تھکی بجھی بجھی سی لگ رہی ہو آج ۔ ٹھیک تو ہو

ہونہہ ۔ ٹھیک ہوں ایسے ہی

ایسے ہی کیا

کچھ نہیں بس تمہارا انتظار کرتے کرتے تھک جاتی ہوں

اگر ایسی بات ہے تو جانے ہی مت دیا کرو

سچ کہہ رہے ہو ۔ ایسا ممکن ہے کیا

زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں

کیوں ۔ کیوں نہیں رہ سکتے میرے پاس میرا مطلب ہے ہمارے ہاں

کیسی لڑکی ہو تم ۔ لوگ کیا کہیں گے اور تمہاری امی جان

امی کو ہر حال میں میری خوشی عزیز ہے اور رہی لوگوں کی بات تو تمہیں ان کی زیادہ فکر ہے یا میری

تم بھی نا ایک پیرا ڈاکس کی طرح ہو

کیا کہتے ہیں اردو میں پیراڈاکس کو

تضاد ۔ کیوں کیسا تضاد ہے مجھ میں

لکھتے کچھ ہو کہتے کچھ اور ہو اور کرتے بالکل ہی الٹ ہو یہ تضاد نہیں تو اور کیا ہے

لکھتا اپنے لیۓ ہوں کہتا وہ ہوں جو تم سننا چاہتی ہو اور کرتا وہ ہوں جو دنیا والوں کو مطلوب ہے

اتنے حصوں میں بٹے رہو گے تو ہمیشہ کے لیۓ بکھر جاؤ گے

تو تم سمیٹ لینا مجھے تم آخر کس مرض کی دوا ہو

اچھا مریض ہو تم

ہاں مریض عشق

تو میرے مریض عشق آؤ میرے پاس

کیوں تمہارے پاس کیوں

تو کیا یہاں بیٹھے بیٹھے اتنی دور سے سمیٹ لوں تمہیں

آنسہ اعجاز تم بھی نا

کیوں اب کیا کیا میں نے وہی تو کرنے جا رہی تھی جو تم نے کہا اب شرم سے گالوں میں ڈمپل کیوں پڑ رہے ہیں

ارے حیا نام کی کوئ چیز ہے تمہارے وجود میں

ہاں تم ہو نا ۔ اتنا ڈرو کیوں ہو مصری کی ڈلی ہو جو اٹھا کہ مونہہ میں ڈال لونگی

ڈال لو اسی بہانے ان رسیلے ہونٹوں کو چھونے ۔۔۔۔۔

ہاہاہا ابھی تو تم مجھے شرم و حیا مشرقی اقدار اور اسلامی روایات پر لیکچر دے رہے تھے اور اچانک یہ کایہ پلٹ

میں تو اکثر امی کو کہتی ہوں کہ جاوید میرا بواۓ فرینڈ نہیں بلکہ میری سہیلی ہے ۔ سنیاس لے رکھا ہے اس نے مجھے لاجونتی کا

بوٹا سمجھ کر ہاتھ تک نہیں لگاتا کہ کہیں میں مرجھا نہ جاؤں اور اب میرے مونہہ کی طرف ٹک ٹک کیا دیکھ رہے ہو

یہی کہ اس خوبصورت مونہہ سے کیسے کیسے پھول جھڑتے ہیں اور یہ تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے

نہ ہاتھوں میں چوڑی نہ چھلا نہ حنا کا رنگ نہ آنکھوں میں کاجل نہ گلے میں چین نہ پاؤں میں پازیب

اچھی لگتی ہیں تمہیں یہ ساری چیزیں

حنا آلود ہاتھ گوری گوری کلائیوں میں رنگ برنگی چوڑیاں گلے میں ہلکی سی سونے کی چین کسے اچھی نہیں لگتی

چھلا ہمیشہ رہنے والی محبت کی نشانی ہے

یہ لو سارا ہاتھ خالی ہے لے آؤ اپنے نام کا چھلا کسی بھی انگلی میں ڈال دو

اور لے جاؤ اپنی دلہن کو ۔۔۔۔۔۔۔ اور تم تمہارے کیا پاؤں میں مہندی لگی ہے تم نہیں لا سکتے یہ ساری

چیزیں میرے لیۓ

پہلے بھی کہا تھا تمہارا چہرہ پیلا پڑا ہوا ہے

کچھ نہیں ایسے ہی سر میں درد ہے ٹھیک ہو جاؤں گی تھوڑی دیر میں

اٹھو وہاں سے اور یہاں آ کر فرش پر بیٹھ جاؤ میرے آگے تمہارا سر دبا دوں

لو آ بھی گئ اور بیٹھ بھی گئی اپنے دیوتا کے چرنوں میں

ٹھیک ہے تم اپنے دیوتا کے چرن چھوتی رہو اور میں اپنی دیوی کی پوجا کرتا رہوں گا اور زندگی یونہی گزر جاۓ گی

تم اتنے رومینٹک ہو مجھے پتہ نہیں تھا ۔ کیا لکھ رہے ہو آجکل

کچھ خاص نہیں ‘ ادھوری کہانی ‘ کے عنوان سے تھوڑی بہت آڑھی ترچھی لائینں کھینچتا رہتا ہوں

ادھوری کہانی کیوں

کیونکہ نہ تو اس کے آغاز کا پتہ ہے اور نہ ہی انجام کی خبر

جاری ہے

……………..

شہرزاد ۔ قسط نمبر دس

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

وزیر آباد ۔ آخری اسٹیشن

تمہاری سہیلی نہیں آئ ابھی تک

کون جاوید ۔ آ جاۓ گا تھوڑی دیر میں راستے میں رک گیا ہو گا کہیں ۔ آپ مذاق کیوں اڑا رہی ہیں اسکا

تم بھی تو یہی کہتی ہو اسے ۔ میں نے کہہ دیا تو برا لگا تمہیں ۔ ماں ہوں میں تمہاری

میری اور بات ہے

تم نے بتایا اسے اپنے بارے میں

کس چیز کے بارے میں ۔

تم اچھی طرح جانتی ہو میں کیا کہہ رہی ہوں

پہیلیاں کیوں بوجھوا رہی ہیں

یہ پہیلی نہیں حقیقت ہے جس سے تم آنکھیں چرا رہی ہو ۔ اسے اندھیرے میں رکھنا ٹھیک نہیں ۔ پیار کرتی ہو نا اس سے

تو تم کبھی نہیں چاہو گی کہ تمہاری وجہ سے وہ ساری عمر بھٹکتا رہے ۔ زیادہ وقت نہیں ہے اب تمہارے پاس

اسے کیا بتانا ہے کیا نہیں بتانا اورکب بتانا ہے اس کا فیصلہ مجھے کرنا ہے ۔ اور آپ میری ماں ہیں یا اس کی ۔ آپ کو

مجھ سے زیادہ اس کی فکر ہے – اور آخر اتنی جلدی بھی کیا ہے کل بتا دونگی وہ کہیں بھاگا تو نہیں جا رہا

یہی تو بتانے کی کوشش کر رہی ہوں لڑکی کل نہیں ہے تمہارے پاس تمہاری سب کلیں ختم ہو چکی ہیں

کیا کہوں اس سے کیسے کہوں کہ میں ۔۔۔ آپ نے دیکھا نہیں جب تک میرے پاس ہوتا ہے صرف میری آنکھوں میں

دیکھتا رہتا یا پھر میرے ہاتھوں کی انگلیوں کے ساتھ کھیلتا رہتا ہے پتہ ہے کیا کہتا ہے وہ مجھ سے ‘ کہاں تھیں تم اب

تک جنم جنم سے میں تمہارا انتظار کر رہا تھا ‘ نہیں ۔ نہیں کہہ سکتی میں نہ تو مجھ میں اتنی سکت ہے اور نہ ہی وہ اسے

سہہ سکے گا جتنا مضبوط آپ کو دکھائ دیتا ہے اتنا ہے نہیں چینی کی گڑیا ہے زرا ٹھیس پہنچی تو ٹوٹ پھوٹ جاۓ گا

تمہارے بعد بھی تو ۔۔ مجھے جو کہنا تھا سو کہہ دیا اب تم جانو

ارے بھئ کوئ گھر پہ ہے کتنی دیر سے دروازے پہ دستک دے رہا تھا ۔ میرا داخلہ تو نہیں بند کر دیا

کیوں دستک دے رہے تھے گھر کی چابی تمہارے پاس ہے نا یا کہیں رکھ کے بھول گئے ہو بھلکڑ کہیں کے

کیا ہو رہا تھا یہاں تمہاری امی مجھے دیکھتے ہی اندر کیوں چلی گئیں سلام کا جواب تک نہیں دیا

پردہ کرتی ہیں تم سے اس لیۓ چلی گئیں اور تم کیا بال کی کھال اتارتے رہتے ہو کب کیوں کیسے تمہارا سلام سنا

نہیں ہو گا اس لیۓ جواب نہیں دیا آۓ بعد میں ہو اور سوال جواب پہلے شروع کر دیے

ارے بابا آپ کیوں ادھار کھاۓ بیٹھی ہیں میں نے تو ایسے ہی ایک معصومانہ سا سوال کیا تھا لگتا ہے آپ اچھے

موڈ میں نہیں ہیں میں کل آ جاؤں گا

اچھا تو آج کہاں جاؤ گے کوئ اور گرل فرینڈ گلی کی نکڑ پر تمہارا انتظار کر رہی ہے کیا ۔ بیٹھ جاؤ خاموشی سے

کہاں تھے اب تک اتنی دیر سے کیوں آۓ ہو جانتے ہو نا میں سارا دن یہاں دروازے کے پاس بیٹھی تمہاری راہ

تکتی رہتی ہوں اسی لیے مزاج نہیں ملتے حضور کے اور یہ آپ آپ کی مالا کیوں جپ رہے تھے اب میں تم سے آپ

ہو گئی اجنبی ہو کیا ابھی تھوڑی دیر میں کہو گے نامحرم ہوں اس لیۓ چلمن کے پیچھے سے بات کرو

طویلے کی بلا بندر کے سر ۔ لگتا ہے امی سے جھگڑ کے بیٹھی ہو اور انکا غصہ مجھ پر اتار رہی ہو ۔ بتاؤ گی نہیں کیا ہوا

کچھ نہیں ہوا ۔ کچھ نہیں ہو گا ۔ میں کچھ ہونے بھی نہیں دونگی ۔ زندہ رہنا ہے مجھے ۔ میں جینا چاہتی ہوں ۔ تمہارے

لیے ۔ اپنے لیے ۔ ہم دونوں کے لیے ۔ وعدہ کرو تم مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤ گے ۔ کبھی نہیں

اے ہوش میں آؤ ۔ کیسی بہکی بہکی سی باتیں کر رہی ہو ۔ خدا نہ کرے تمہیں کچھ ہو اور صدیوں کی تپسیا کے عوض

رب زوالجلال نے تمہیں میری مدتوں سے خالی پڑی ہوئ کشکول میں ڈالا تھا میں تمہیں کیوں چھوڑوں گا بھلا اور بات کیا

ہے آخر تم بتاتی کیوں نہیں اور یہ حالت کیا بنا رکھی ہے تم نے لگتا ہے ابھی ابھی سو کر اٹھی ہو

کچھ نہیں چہرے پہ میک اپ نہیں اس لیے

میں نے تو آج تک تمہیں کسی قسم کے میک اپ میں نہیں دیکھا اور تمہیں ضرورت بھی نہیں اسکی

کیوں نہیں ہر لڑکی کو ہوتی ہے

ہاں لیکن تمہیں نہیں اور نہ ہی تم ہر لڑکی ہو سنا نہیں ‘ حاجت مشاطہ نیست صورت دلآرام را ‘

اور میرے پیارے فرہاد تمہاری اس شیریں کو فارسی نہیں آتی اس لیے زرا ترجمہ کرنے کی زحمت گوارا کریں گے

جی ہاں اس کا مطلب ہے آپ جیسی حسین دلربا اور خوبصورت لڑکی کو کسی بناؤ سنگھار کی ضرورت نہیں beauty needs no ornaments جی کوئ اور شیر کی ندی اس فرہاد بے مراد سے کھدوانی ہو تو غلام حاضر ہے

اچھا تو میں خوب صورت ہوں ۔ کتنی خوبصورت

آ آیئے آپ کا تھا ہمیں انتظار ۔ تو واپس آ گئی ہماری شہزادی ۔ اتنے ناز نخرے عشوے غمزے دکھانے کی کیا ضرورت تھی پہلے ہی کہہ دیتی کہ

اے غلام بندہ بے دام ہمارے حسن و جمال کی مدح صرائ میں قصیدہ خوانی کرو

یہ ہاتھ دیکھ رہے ہو نا میرے صرف چوڑیاں پہننے کے لیۓ ہی نہیں ہیں

تو کیا محبوب کی مہندی سجانے کے لیۓ ہیں

ہاں ۔ دیکھو کتنے بے رنگ ہیں یہ ہاتھ ۔آۓ گی ناکبھی محبوب کی مہندی ۔ لاؤ گے نا تم میرے لیۓ ۔ میں دلہن بنوں گی نا ۔ بنوں گی نا میں تمہاری دلہن ۔ بولو ۔ بولتے کیوں نہیں ۔ جواب کیوں نہیں دیتے ۔ ماں کہتی ہے میرے پاس وقت بہت کم ہے

اے کہاں چلی گئ ۔ یہ باتیں کرتے کرتے کہاں کھو جاتی ہو ۔ اور یہ کس وقت کی بات کر رہی ہو تم

جی ہاں وقت ہی تو نہیں تھا اس کے پاس ۔ خاموشی سے آئ تھی چپکے سے چلی گئی ۔ ڈاکٹر برکت علی کہتے تھے تپ دق

کی آخری سٹیج پر تھی ۔ راولپنڈی سے لاہور کے لیۓ رخت سفر باندھا تھا راستے میں ہی اتر گئی ۔ کہنے لگی وزیرآباد سے

آگے نہیں جانا مجھے ۔ میرا آخری سٹیشن میری آخری منزل یہی ہے ۔ میرا سفربس یہیں تک کا تھا ۔ کسی کو ڈھونڈتی ہوئ آئ تھی

نجانے کس کی تلاش تھی اسے ۔۔۔۔۔ کہتی تھی

جیدی جب تک تمہاری سانسیں چلتی رہیں گی میں زندہ رہونگی تمہارے سینے میں میرا دل دھڑکتا رہے گا اور جب وقت

تمہارے لیۓ بھی تھم جاۓ تو سیدھا میری اوٹ چلے آنا میں حنا آلود ھاتھوں میں سفید گجرےکے پھول اور کلائیوں

میں سات رنگوں کی چوڑیاں پہنے کہکشاں کے اس پار تمہارا انتظار کر رہی ہونگی

دو کہکشاؤں کے بیچ افق کے اس پارملکوتی لباس زیب تن کیے ہوۓ میری دلہن اپنے دولہا کا انتظار کر رہی ہے مجھے جانا ہو گا

مجھے جانا ہو گا مجھے جانا ہو گا مجھے ۰۰۰۰۰

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہرزاد ۔ قسط نمبر گیارہ

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

گرو کوٹھے سے ثمن برج تک

جب میں چلی جاؤں گی تو تم کیا کرو گے

کچھ نہیں ۔ سوچا نہیں اس بارے میں ۔ تمہاری یادوں سے باتیں کرونگا ۔ اتنے مشکل سوال کیوں کرتی ہو

تمہیں سامنے بٹھا کر تم سے باتیں کیا کروں گا اور کیا کرونگا ۔ اب بھی تو یہی کرتا ہوں

اب کی اور بات ہے اب تو میں تمہارے سامنے بیٹھی ہوتی ہوں

جب گھر پہ ہوتا ہوں تب تو تم سامنے نہیں ہوتیں خاصکر رات کی تنہائ میں تو دیر تک ہم دونوں باتیں کرتے رہتے ہیں

خود ہی سوال کرتا ہوں اور جواب تو سوال ختم ہونے سے پہلے آ جاتا ہے کیونکہ میں جانتا ہوں تم آگے سے کیا کہو گی

اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو میری طرف

کچھ نہیں پیار آرہا ہے تم پر اتنی بڑی بڑی باتیں اتنی معصومیت سے کیسے کہہ دیتے ہو

شائد اس لیۓ کہ تم سے بات کرتے وقت کبھی سوچتا نہیں جو مونہہ میں آتا ہے پھٹ سے کہہ دیتا ہوں

تم کوئ رافیل یا لیونارڈو ڈی ونچی ٹائپ چیز نہیں ہو سکتے تھے

کیوں اب مونا لیزا بننے کا ارادہ ہے کیا اور

یہ بیٹھے بٹھاۓ مجھے مصور کے روپ میں دیکھنے کا خیال تمہیں کیسے آ گیا

ارے بابا کل کلاں میں نہیں ہونگی تو میری تصویر سے ہی دل بہلا لیا کرنا

‘ دل کے آئینے میں سجا رکھی ہے صورت تیری ‘

اور یہ جو دل اور آنکھوں میں تمہاری تصویر بسی ہوئ ہے اس کا کیا کرونگا اور آپ میرا دل بہلانے کا سامان

نہیں ہیں بلکہ من مندر کی وہ مورتی ہیں جس کے درشنوں کے لیۓ یہ پجاری ۔۔۔۔۔۔۔

شروع ہو گئیے آپ پھر

اے میرے محبوب یہ خیالات عالیہ آپ اپنی فائن آرٹ کی کسی کلاس کے لیۓ بچا کر رکھیں اور مجھے معاف کر دیں

تم سے جب کسی سوال کا جواب نہ بن پڑے تو ہمیشہ عورتوں کے چلتر استعمال کرتے ہو

کیا کہا ۔ کیا استعمال کرتے ہو

چلتر کیوں کبھی لفظ نہیں سنا یا مطلب نہیں آتا

سنا ہے ٖٖ نانی ماں سے ایک آدھ بار لیکن ٹھیک مطلب نہیں آتا

پوچھا نہیں ان سے

پوچھا تھا ایک بار کہنے لگیں یہ سوال اپنی ماں سے کرنا ۔ امی جان سے پوچھا تو جھاڑ پلا دی کہنے لگیں یہ خرافات

کہاں سے سیکھ کے آیا ہے میں نے کہا بڑی امی سے ۔ تو انھیں سے پوچھ جا کر ۔ اب تم بولو کیا مطلب ہے اسکا

سنا تو میں نے بھی بڑی بوڑھیوں سے ہی ہے دادی کہا کرتی تھیں عورتوں کے پاس ایک سو ایک چلتر ہوتے ہیں مردوں کو رام کرنے کے میرا خیال ہے اسکا مطلب حیلہ مکر یا فریب ہے

اور ہنسنے کی زیادہ ضرورت نہیں اور نہ ہی اس بارے میں سوال کرنے کی

ویسے میرا زاتی خیال بھی یہی تھا ہاہاہا

شریر کہیں کے تم نے جان بوجھ کر یہ سب کیا تھا

تو آپ کے خیال میں جب میں آپ کے بے مثال حسن و جمال کی مدح سرائ میں قصیدہ

خوانی شروع کر دیتا ہوں تو یہ سب مکر اور فریب ہےاور آپ تو جوگن ہیں اس موہ مایا کے جال سے دور ہی رہیں گی

جی جوگی مہاراج آپ نے بھی اس ناری کو جوگن بنانے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی غلطی سے میرا ہاتھ آپ کے جسم کو اگر چھو لے تو آپ کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور گالوں میں شرم سے گڑھے پڑ جاتے ہیں برہمچاری کہیں کے – اور اب

مہربانی سے گروکوٹھے سے نکل کر ثمن برج کے پاس واپس آ جائیے

جہاں یہ کنواری کنہیا آپ کے چرنوں کی دھول سے اپنی مانگ میں سیندور بھرنے کے لیۓ بیتاب بیٹھی ہے –

ارے واہ میری کرشن کنہیا تازہ تازہ مہا بھارت پڑھ کر آ رہی ہو کیا

نہیں لیکن اب اگر تم رامائین کا پاٹ پڑھ چکی ہو تو یہ شکنتلہ اس دھرتی پر واپس آ جاۓ

اور اب یہ شکنتلہ دیوی کون ہیں

میں ہوں اور اب تمہاری یہ رام لیلا ختم نہ ہوئ تو مہا کالی کا روپ دھارن کر لوں گی اور اب خاموشی سے سنو

اور ہاں تو میں کیا کہہ رہی تھی تمہاری اس بے وقت کی راگنی نے سب کچھ بھلا دیا

اے جیدی کیا باتیں کر رہے تھے ہم دونوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

………………..

شہرزاد ۔ قسط نمبر بارہ

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی یادیں

محبت اور اخلاقی اقدار

یہ بار بار گھڑی کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو تم ۔ کہیں جانا ہے کیا تمہیں

نہیں تو مجھے تو کہیں نہیں جانا لیکن آپ کو اگر میرا یہاں بیٹھنا گوارا نہیں تو میں چلا جاتا ہوں

چلے جانا پہلے بتاؤ آج دس منٹ دیر سے کیوں آۓ تھے اور دیکھو مجھ سے جھوٹ نہیں بولنا

مجھے پتہ نہیں تھا تم ہاتھ میں سٹاپ واچ رکھ کر بیٹھی ہوتی ہو آئیندہ احتیاط برتوں گا

پہلے میرے دس منٹوں کا حساب دو باقی باتیں بعد ہیں

جیسا حکم ملکہ عالیہ ۔ آج راستے میں ایک گداگر مل گیا

فقیر نہیں کہہ سکتے تھے اتنے مشکل لفظ کیوں بولتے ہو

تم تو کہتی تھیں اردو تمہاری مادری زبان ہے

ہاں مادری زبان ہے میری نہیں اب بولو کیا جھوٹ سچ کہنے والے تھے

تمہاری جرح ختم ہو تو کچھ کہوں ۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ راستے میں ایک فقیر مل گیا تھا کہنے لگا بابو جی آپ کو

ایک لطیفہ سناؤں میں نے کہا سب کی سنتے ہیں تمہاری بھی سن لیں گے تو بولا ایک چور نے کسی کے ہاں چوری کی

اور جاتے جاتے اپنا کارڈ چھوڑ گیا جس پر لکھا تھا ‘ اگر آپ کو میرا طریقہ واردات پسند آیا ہو اور میری خدمات حاصل

کرنا چاہیں تو اس فون نمبر پر رابطہ قائم کیجیے ۔ بس تو جناب گھر والے نے جھٹ سے فون نمبرملایا دوسری طرف ایک

ریکارڈ کیا ہوا پیغام تھا کہ کام کی نوعیت بتا دیجیے دام آپ کا کام ہو جانے کے بعد طے کر لیں گے ۔ صاحب خانہ نے

سوچا کوئ با اصول اور خاندانی لگتا ہے سو اپنا کام مشین پر ریکارڈ کرا دیا ‘ میرے پڑوس میں ایک خوب صورت خاتون

رہتی ہے اس کا دل چرانا ہے ہر حال میں اور ہر قیمت پہ ‘ دو ہفتے کے طویل اور تھکا دینے والے انتظار کے بعد جواب

آیا ‘ میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا ‘ دل کے بدلے دل تو چرا لیا ہے میں نے سمجھ میں نہیں آ رہا کیسے آپ کا

شکریہ ادا کروں اور ہاں آپ کا چرایا ہوا مال بزریعہ فرسٹ کلاس میل واپس بھیج دیا ہے ۔

تو تم نے اس فقیر کو کچھ دیا میرا مطکب ہے کچھ ہیسے وغیرہ

نہیں میں نے اس سے کہا کہ میں تو روزانہ خود پیار کی بھیک مانگنے جاتا ہوں تمہیں کیا دوں

کنجوس کہیں کے کچھ دے دیتے اس بیچارے کو

اچھا اور پھر خود کاسہ لیسی کرتا اس گدھے کی طرح

کیوں اس کی طرح کیوں

اس لیۓ کہ وہ فقیر وہی گھر والا تھا جس نے اپنی محبت اپنا پیار کسی اور کی جھولی میں ڈال دیا

اور یہ پیروں فقیروں کی سنگت میں کب سے بیٹھنا شروع کر دیا تم نے ۔ جھوٹے کہیں کے ۔ کہاں سے یہ جھوٹے سچے

قصے تراش کے لے آتے ہو ۔ قصہ ہمیں پسند آیا اس لیۓ جاؤ تمہیں معاف کیا ۔ تمہیں پتہ ہے میں تب تک اوپر اپنے سونے

والے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی تمہارا انتظار کرتی رہتی ہوں جب تک تم آ نہیں جاتے ۔ ہزاروں طرح کے وسوسے

مجھے گھیرے رہتے ہیں تم آؤ گے نہیں آؤ گے راستے میں کوئ حادثہ نہ پیش آگیا ہو اور نجانے کیا کیا

بہت زیادہ چاہت بہت زیادہ وسوسوں کو جنم دیتی ہے اور اگر پیار کم نہیں کر سکتیں تو میرے بازو پر امام ضامن باندھ کرمجھے باہر بھیجا کرو ۔ بلکہ باہر بھیجنے کی بھی کیا ضرورت ہے یہیں بٹھاۓ رکھو اپنے پاس اپنے سامنے اور یہ انتظار نیچے کیوں نہیں کر سکتیں

الو کی دم فاختہ اس لیے کہ میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے ثمن برج کے مین گیٹ تک دیکھ سکتی ہوں اور جب آپ

جناب کی سواری وہاں پہنچتی ہے تو میں اپنے محبوب کے راستے میں محبت اور عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے لیۓ

اور اس چھوٹے سے گھر کا دروازہ کھولنے کے لیۓ بھاگتے ہوۓ نیچے آ جاتی ہوں ۔

آج بڑی بن ٹھن کے بیٹھی ہو کسی کے قتل کا ارادہ ہے کیا

ہاں تمہارے ۔ تمہیں اکثر کہا کرتے ہو نا کہ ‘ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارا نیست ‘

اچھا مجھے کیا مال مفت دل بے رحم سمجھ رکھا ہے اور ویسے بھی اس کام کے لیۓ ایک عدد مفتی اور دو چار گواہوں

کی ضرورت ہو گی

اس کی فکر مت کرو اس کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔

کیوں ۔ کیوں نہیں پڑے گی ۔ ارے کونسی صدی کی لڑکی ہو تم کسی ضابطہ اخلاق کی پابند ہو کہ نہیں

بیسویں صدی کی اور ہاں مجھے کوئی شرم ورم نہیں آتی لوگ کہتے ہیں جوڑیاں اوپر سے بن کر آتی ہیں تو بس

اللہ نےمیری اور تمہاری جوڑی اوپر سے بنا بلکہ سنوار کر بھیجی ہے ورنہ میں راولپنڈی سے لاہور جانے کے لیۓ نکلی

تھی تو یہاں وزیرآباد کیوں اتر گئ ۔ بولو کوئ جواب ہے تمہارے پاس ۔

آنسہ اعجاز کیا کہوں میری ہر بات کا جواب تمہارے پاس ہوتا ہے اور کہاں رکھا ہے وہ تمہارا امام ضامن

کیوں باہر جا رہے کہیں

نہیں باہر تو نہیں پر مجھے لگتا ہے اس امام ضامن کی باہر سے زیادہ مجھے گھر کے اندر زیادہ ضرورت ہے ۔

جیدی کے بچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد – قسط نمبر 13

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

Road to recovery and salvation

جیدی

جی فرمائیے

میں ٹھیک تو ہو جاؤنگی نا

کیا مطلب ٹھیک تو ہو جاؤنگی ۔ تم بالکل ٹھیک ہو

اور وہ سب ڈاکٹرز کی رپورٹس وہ غلط ہیں کیا

کیا غلط اور کیا صحیح وہ تو میں نہیں جانتا لیکن ڈاکٹر ایک انسان ہی تو ہے اور انسانی علم محدود ہوتا ہے اور خدا کی

زات و صفات لا محدود موت اور زندگی زات باری تعالہ کے اختیار میں ہے اسی پر توکل کرو وہ جو بھی کرتا ہے اسی

میں ہماری بہتری ہوتی ہے ۔ تم ایک بہادر لڑکی ہو غلط قسم کے وسوسوں کو دل میں جگہہ دینے کی بجاۓ دوا اور

دعا کرو اور باقی خدا پر چھوڑ دو

ڈر لگتا ہے مجھے

کچھ نہیں ایک فطری امر ہے

it is just fear of the unknown

جیدی

اب کیا ہے

تمہاری عمر کتنی ہے

بہت لمبی ہے عمر خضر لیکر آیا ہوں کیوں ایک آدھ صدی ادھار چاہیے ۔ تمہیں تو کہتی تھیں تین سال چھوٹا ہوں

تم سے خود ہی حساب کر لو

اس حساب سے تو

you are barely out of teens

آنسہ اعجاز پہیلیاں کیوں بھجوا رہی ہیں کہہ ڈالیے جو اس خوبصورت سے سر میں کلبلا رہا ہے

میں کہہ رہی تھی ۔۔۔ پتا نہیں کیا کہہ رہی تھی ۔۔ ہاں

wouldn’t that make me a cradle snatcher

وہ تو ہے اور اگر آپ کو یہ تلخ حقیقت پریشان کر رہی ہے تو اسکا بڑا آسان سا حل ہے میرے پاس

اچھا کیا حل ہے زرا میں بھی تو سنوں

پیار کرنے کی بجاۓ مجھے گود لے لیجیے آپ کی مشکل بھی حل ہو جاۓ گی اور مجھے آپ کے بے تکے سوالوں سے

نجات مل جاۓ گی اور ہاں ایک بڑے سے پالنے کا انتظام کرنا مت بھولیے گا ۔ یہ بیٹھے بٹھاۓ میری عمر کا

زکر خیر کہاں سے نکل آیا

شادی کرنی ہے مجھے تم سے اس لیۓ پوچھ رہی تھی کہیں ایسا نہ ہو بعد میں پولیس والے پکڑ کے لے جائیں کہ ایک

نابالغ سے زبردستی بیاہ رچا لیا ۔ تمہاری ٹوکا ٹاکی سے ہمیشہ بات اپنے اصل موضوع سے ہٹ جاتی ہے ۔ میں تو صرف

یہ کہنے جا رہی تھی کی اتنی چھوٹی عمر میں ایسی بڑے بوڑھوں والی باتیں کیسے کر لیتے ہو اور تم ہو کہ بات کو کہاں سے

کہاں لے جاتے ہو ۔ اچھا ہوا آج وقت پر آ گیے مجھے تمہارے ساتھ بازار جانا ہے

کیوں بازار میں کیا ہے

بازار میں راجہ اندر کی سبھا لگنے والی ہے آپ مہاراج تخت شاہی پر براجمان ہو جانا اور یہ نرتکی آپ کے سامنے رقص

پیش کرے گی ۔ عجیب ہونک قسم کے لڑکے ہو بازار جانا ہے تو کچھ خریدنا ہو گا

میرا پوچھنے کا یہی مقصد تھا کہ کیا خریدنا ہے اور میری وہاں کیا ضرورت ہے

شادی کا جوڑا پسند کرنا ہے ۔ زیورات دیکھنے ہونگے ۔ بیوٹی پارلر جاؤنگی ۔ تم سے مطلب کیا لینا ہے کیا نہیں اٹھو

ٹھیک ہے تو ناراض کیوں ہوتی ہو چلو میں تیار ہوں مجھے کونسا ہار سنگھار کرنا ہے اور لگے ہاتھوں ایک آدھ درجن

بچوں کے کپڑے شپڑے بھی خرید لینا بعد میں وقت کہاں ہو گا ہمارے پاس

ارے واہ رے میرے برہمچاری آخر آ گئے نا اس ناری دلاری راج کماری کے چکر میں ۔ ایک بات کہوں تم سے

کوئ اچھی بات ہے تو کہہ ڈالو

you know with you in my life I feel so secure , tranquil and fulfilled

اچھی ہی ہے پر پہلے اپنا ہاتھ دو میرے ہاتھ میں مجھے ایسے لگتا ہے جیسے تمہارے آنے سے بن کہے بن مانگے چپکے سے میری زندگی میں بہار آ گئ ہو

ایک ٹھراؤ سا آ گیا ہے

اے یہ جل ترنگ کیسی تمہاری آنکھوں میں ۔ پگلی کہیں کی ۔ کئی روپ دیکھے ہیں میں نے تمہارے لیکن یہ

یہ روپ سب سے اچھا ہے

کتنا اچھا ہے زرا قریب آ کر بتاؤ

کہا تو ہے بہت اچھا اب کیا ماپ اور تول کر بتاؤں اور قریب آ کر کیوں یہاں سے سنائ نہیں دیتا کیا

ڈرتے ہو میرے قریب آنے سے ابھی تو کہہ رہے تھے مجھے گود لے لو اور اب اتنی دوری کیوں

میں نے گود لینے کو کہا تھا تمہاری گود بھرائ کی رسم ادا کرنے کو نہیں اور اب تمہاری شاپنگ لیٹ نہیں ہو رہی کیا

شاپنگ مجھے کرنی ہے یا تمہیں پانچ دس منٹ بعد چلے جائیں گے تو بازار بندھ نہیں ہو جاۓ گا اور میں اچھوت ہوں

کیا جو مجھے چھونے سے تمہاری برسوں کی تپسیا بھنگ ہو جاۓ گی اور یہ تم نے اپنے بازو کو اتنی زور سے کیوں پکڑا

ہوا ہے کسی کرب میں مبتلا ہو

جی نہیں آپ تو دودھ میں دھلی ہوئ ہوئ ہیں لیکن آپ کی آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے کہ آپ کی نیت میں فتور ہے

اور میرے بازو میں کوئ تکلیف نہیں میں نے صرف امام ضامن کو مضبوتی سے پکڑا ہوا ہے تاکہ آپ کی دست برد

سے بچ سکوں آپ کے ارادے مجھے کچھ تعلیم بالغاں کے اشتہار جیسے لگتے ہیں

تم کیسے شہزادہ سلیم ہو اپنی ہی انار کلی سے ڈرتے ہو

جی نہیں انار کلی سے نہیں بلکہ وہ نیلگوں آسمان پر جو مغل اعظم عرف مہا بلی بیٹھا ہے اس سے ڈر لگتا ہے

ٹھیک ہے چپکے رہو اس کرسی کے ساتھ پھر نہ کہنا اور ویسے بھی تم کونسے

Casanova

ہو کہ تمہارے بغیر میں رہ نہیں سکتی

ہاہاہا ۔ کور نا لاس اوباسے آ وئ چے ترخ دے

کیا کہا دوبارا کہنا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے یہ کونسی زبان بول رہے ہو ۔ تمہاری زہنی حالت ٹھیک نہیں لگتی

کچھ نہیں ہوا میری زہنی حالت کو

تو پھر یہ کونسا منترا پڑھ رہے تھے اور کس زبان میں

ہاں منترا ہی تھا تمہاری بے لگام زبان پر قابو پانے کا ۔ یہ پشتو زبان کا محاورا ہے اور اسکا مطلب ہے

مطلب بعد میں پہلے بتاؤ تمہارا کیا تعلق اس زبان سے میرا مطلب تمہیں یہ زبان کیسے آتی ہے

میرے بابا کی زبان ہے یہ ہملوگ صوبہ سرحد کے رہنے والے ہیں

اوہ اسی لیۓ اتنے روکھے پھیکے سے ہو

اور آپ تو لکھنو کی رہنے والی ہیں پھر اتنی کڑوی کسیلی سی کیوں ہیں

سچ کہہ رہے ہو یا ایسے ہی مجھے بنا رہے ہو تم نے پہلے تو کبھی نہیں بتایا کہ تم پٹھان ہو اور وہ محاورا کیا مطلب ہے اسکا

جھوٹ کیوں بولونگا اور آئیندہ سے ماتھے پر اپنے نام خاندان اور کام کی تختی لگا کے رکھونگا اور محاورا

جھوٹ نہیں بولنا تم نے محاورا میری بات کے

rebuttal

میں بولا تھا اس لیۓ کوئ منفی بات ہی کی ہو گی

‘ انگور کھٹے ہیں ‘ یعنی

sour grapes

کہا تھا اب باقی کا مطلب خود نکالتی رہنا اور چھوڑو اس بات کو اب

کیوں چھوڑوں

you are so vindictive

بات نہیں کرنی مجھے تم سے

غصہ تھوک دو بابا

I am sorry

تم چاہتی تھی نا کہ میں تمہارے پاس آؤں لو آ کیا

لو آ گیا نہیں

now give me a hug

کیا کہا

کیوں سنائ نہیں دیا I said give me a hug

اور ایسے گلے مت لگو جیسے لوگ عیدی ملتے ہیں ہاتھوں میں زورنہیں ہے کیا تمہارے

ہے لیکن اب مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے

you staged this whole thing to get closer to me

You are so wicked

میں نے تو کچھ نہیں کیا خود اپنے پاؤں سے چل کر آۓ ہو ۔ گزشتہ روز بات ٹھیک طرح تمہاری سمجھ میں نہیں

آئی تھی مسٹر خان اسے کہتے ہیں عورتوں کا چلتر ہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہرزاد ۔ قسط نمبر 14

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میرے وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

AMOR OMNIA VINCIT

Love conquers all

شعر سنو گی

سن لونگی

ارے بھئ سننا ہے تو بولو سننا ہے یہ کوئ طریقہ ہے کہنے کا ‘ سن لونگی ‘ جیسے مجھ پر اور میری آنے والی نسلوں پر

بہت بڑا احسان کر رہی ہو

جی ملک الشعرا ارشاد فرمائیے میں ہمہ تن گوش ہوں آپ کا کلام سننے کے لیۓ

مذاق اڑا رہی ہو خیر کوئ بات نہیں شعر اچھا بلکہ بہت اچھا ہے سن لو

بشکند دستی کہ خم در گردن یار نہ شد

کور بہ چشم کہ لذت گیر دیدار نہ شد

جیدی کے بچے کل تم کہہ رہے تھے کہ میں بلخ بخارا کا رہنے والا ہوں آج اہل فارس کے ساتھ ناطہ جوڑ لیا

تو یہاں وزیرآباد میں بیٹھے کیا کر رہے ہو تمہارا حسب نسب کچھ ٹھیک نہیں لگتا مجھے

عجیب قسم کی خاتون ہیں آپ فارسی کا ایک شعر پڑھا تھا اچھا لگا سوچا آپ کے ساتھ اپنی خوشی بانٹ لوں آپ تو

گالی گلوچ پر ہی اتر آئیں ترجمہ سن لیں اگر پسند آۓ تو ٹھیک ورنہ دو چار گالیاں اور دے لیجئے گا

بولتے رہو میں تمہیں دیکھ بھی رہی ہوں اور سن بھی

جی نوازش ہے آپ کی ‘ شاعر معاف کی جیے گا لکھنے والی چونکہ آپ کی طرح ایک خاتون ہیں اس لیۓ کہنا چاہیے

شاعرہ فرما رہی ہیں ‘ وہ ہاتھ ٹوٹ جائیں جو محبوب کے گلے میں حمائل نہیں ہو سکتے اور وہ آنکھیں اندھی ہیں بہتر ہیں

جو اس کا دیدار نہیں کر سکتیں ‘

ارے واہ کرشن کنہیا شعر تو بہت خوبصورت ہے بالکل تمہاری طرح چھوٹا اور پیارا سا کس کا ہے

زیب النسا مخفی ایک مغل شہزادی اور شہنشاہ ہند اورنگ زیب عالمگیر کی بیٹی

تو اپنے فارغ اوقات میں شہزادیاں لکھنے پڑھنے کا کام بھی کرتی تھیں

کیا مطلب فارغ اوقات میں آپ کو لگتا ہے یہ شہزادیاں اپنا سارا وقت بناؤ سنگھار کرنے اور کٹی پارٹیز میں ضائع کرتی

تھیں ۔ جی نہیں دہلی اور اس کے اطراف کے باغات میں جو مینا بازار لگتے تھے اور وہاں جن جن ملبوسات اور

خوشبو ئیات کی نمائش ہوتی تھی وہ انھیں شہزادیوں کی مرہون منت ہے ۔ عورتوں کی فلاح و بہبود کے لیۓ انہوں نے کافی کام کیا ہے کبھی ہندوستان کی سوشل ہسٹری پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے آپ کو یا صرف ‘ یونانی دیو مالا ‘ پر مقالے ہی لکھتی رہی ہیں

میں رسوئ گھر میں جا رہی ہوں مرچیں لانے کے لیۓ تم اپنا لیکچر جاری رکھو

آگے تمہاری زبان کم تیکھی ہے اوپر سے مرچیں چباؤ گی یہ تو وہی بات ہوئ ایک تو کریلا اوپر سے نیم چڑھا

مرچیں کھانے کے لیۓ نہیں تمہاری نظر اتارنے کے لیۓ ہیں بہت اچھے لگتے ہو سیاسی لیڈروں کی طرح تقریر کرتے ہوۓ

میں نے غلط نہیں کہا تھا

you are so mean and vindictive

بڑے اچھے لگتے ہو عورتوں کی طرح طعنے دیتے ہوۓ

اچھا اور تم جو وقت بے وقت حقہ پانی لیکر چڑھ جاتی ہو مجھ پر پینڈو عورتوں کی طرح

پینڈو ہوں تو پینڈو ہی سہی مجھے لڑائ نہیں کرنی تم سے ۔ ویسے بھی میری طبیعت کچھ ناساز سی ہے آج

ابھی تو جلی کٹی سنا رہی تھی مجھے اب اچانک کیا ہو گیا تمہاری طبیعت کو

تمہیں کیا لینا دینا میں جئیوں یا مروں تم کرتے رہو اپنی شاعری ۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے میں اپنا ہی جنازہ کندھوں پہ اٹھاۓ

پھرتی رہتی ہوں

کیسی لڑکی ہو تم ۔ تمہارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا مجھے اچھا لگتا ہے اور تم ہو کہ

extreme

پر چلی جاتی ہو اور فکر نا کرو تمہارے اس جنازے سے پہلے میں تمہاری ڈولی کندھوں پر اٹھاۓ کھڑا ہوں ۔ سمجھ لو کہ ہم دونوں ایک ریس کے

میدان میں کھڑے ہیں اور مجھے یہ ریس ہر حال اور ہر قیمت پر جیتنی ہے

تمہیں کیوں اتنا یقین ہے کہ جیت تمہاری ہی ہو گی

اس لیۓ کہ زندگی اور موت میں زندگی ہمیشہ مقدم ہوتی ہے کسی کی موت ہو جاۓ تو ہم کہتے ہیں کا فلاں شخص کا انتقال

ہوا ہے یہ نہیں کہتے کہ وہ معدوم ہو گیا ہے لیکن زندگی ۔ زندگی کو ابدیت حاصل ہے ۔

اور وہ جو تمہارے سونے والے کمرے میں

Caravaggio

کی مشہور پینٹنگ لگی ہوئ ہے کبھی پڑھا ہے اسکے نیچے کیا لکھا ہے

ہاں

Amor vincit omnia

جی بالکل سچ

Love conquers all

آخری فتح ہمیشہ محبت کی ہوتی ہے اور انشاللہ ہو گی

جب تم اس طرح کی باتیں کرتے ہو تو مجھ میں دوبارا جینے کی امنگ پیدا ہو جاتی ہے

اور وہ ڈولی کے بارے میں تم کیا کہہ رہے تھے

کچھ کہا تھا میں نے ڈولی کے بارے میں

ہاں ہاں تم کہہ رہے تھے میرے ہاتھوں میں مہندی لگے گی میں سہاگ کا سرخ جوڑا پہنوں گی سکھی سہیلیاں بدائ

کے گیت گائیں گی میں دلہن بنوں گی میری ڈولی اٹھے گی تم آؤ گے مجھے بیاہنے میں ڈولی میں بیٹھوں گی

میں بیٹھوں گی نا ڈولی میں جیدی میں بیٹھوں گی نا ڈولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہرزاد ۔ قسط نمبر 15

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

نا میں تیری رابعہ بصری نا تو میرا خدا

حنا کے رنگ میں رنگ دے مجھ کو پیا کے سنگ لے جا

اے ملا دو پیازا مسجد سے نماز پڑھ کر آ رہے ہو کیا بڑی ٹوپی شوپی سجا رکھی ہے سر پہ

ہاں گیا تو تھا نماز پڑھنے لیکن پہلے ہی سجدے کے بعد چلا آیا

کیوں کسی دل جلے نے جانماز کھینچ لی پاؤں کے نیچے سے یا وضو ٹوٹ گیا

نہیں نماز پڑھتے پڑھتے یہ شعر یاد آ گیا

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا

ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

یہ تم اپنے گھر کے قریب والی مسجد میں گئے تھے یا شاہی مسجد لاہور میں سنا ہے علامہ اقبال کا مقبرہ وہیں پر ہے

اصنام پرستی نکلی نہیں ہے تمہاری روح سے ابھی تک

کیا مطلب

تمہیں تو کہتے تھے تمہارے والدین مندر کی سیڑھیوں سے اٹھا کر لاۓ تھے تمہیں

ٹھیک کہتی ہو تم یہاں بھی تو اسی لیۓ آتا ہوں اپنی دیوی کے آگے ماتھا ٹیکنے اور شردھا کے پھول چڑھانے

تم نے بتایا نہیں اس گرمی میں اتنی بڑی ٹوپی پہن کر کیوں پھر رہے ہو

بال کٹوانے جا رہا تھا غلطی سے نانا جان سے پوچھ لیا کہ بال چھوٹے کرانے ہیں کیا کہوں حجام سے

کہنے لگے اسے کہو خشخاشی کر دو جو انہوں نے کہا تھا من و عن کہہ دیا وہ آگے سے بولا بھی اکھاڑے جانے کا

پروگرام ہے کیا میں نے سنی ان سنی کر دی اور یہ دیکھو کیا ہوا

ہاہاہا ہاہاہا پچ پچ ہچ بیچارا

my poor poor darling look what they done to you

ہاہاہا

ہاہاہا

you look soooooo cute and cuddly come to mama I will give you a hug

گول مول سے لگتے ہو ارے ہاں تم اقبال کا کوئ شعر سنا رہے تھے زلفوں کے بارے میں کوئ شعر نہیں کہا

علامہ نے ہاہاہا

جی کہا ہے آپ ہی کی زلفوں کے بارے میں سنیں گی

ارشاد

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں

نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف اعجاز میں

یہ شعر آپ نے کچھ غلط نہیں پڑھا جاوید صاحب زلف ایاز ہے اعجاز نہیں

سچ فرمایا آپ نے محترمہ اقبال نے تو ایاز ہی لکھا ہے لیکن جاوید اقبال نے بدل کر اپنی محبوبہ یعنی آپ کا

نام لکھ دیا کوئ اعتراض ہے آپ کو

بالکل نہیں لیکن یہ جاوید اقبال کون ہیں جن کو میں اتنی محبوب ہوں

جی وہ ناچیز بندہ بے دام ہم ہیں ہمارا پورا نام جاوید اقبال ہے

ہاہاہا تو ابھی تک اپنے بال کٹنے کا ماتم کر رہے ہیں اور بدلہ ہم سے لیا جا رہا ہے جیسے وہ قینچی اس

Delilah

کے ہاتھ میں تھی جس نے بلخ اور بخارا کے

Samson

کی زلفیں کاٹ ڈالیں

جی نہیں بال کاٹنے والی قینچی تو آپ کے ہاتھ میں نہیں تھی لیکن اس خوبصورت مونہہ کے اندر جو زبان ہے اس

کی کاٹ بھی کسی قینچی سے کم نہیں

یہ تمہاری زلفوں کا قصہ چہار درویش اگرختم ہو گیا ہو تو کوئ اور بات کریں اور ہاں کل جانے سے پہلے تم امی سے

کیا باتیں کر رہے تھے

کوئ ایسی خاص بات تو نہیں تھی کیوں کچھ کہا انہوں نے مجھے تو یاد نہیں

کچھ تو کہا ہو گا ایسے ہی تو تمہاری مدح اور تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے نہیں ملاۓ جا رہے تھے

چاپلوس کہیں کے ۔ اور تمہیں کچھ آتا ہو یا نہ لیکن عورتوں کو شیشے میں اتارنے کے فن سے تم بخوبی واقف ہو

بولو کیا کہا تم نے

let me re-phrase

میرے بارے میں کیا جھوٹ سچ بولا

یہ جلی کٹی کسی اور وقت کے لیۓ اٹھا رکھو خالہ جان صرف تمہاری تازہ ترین میڈیکل رپورٹ دکھا رہی تھیں

رپورٹ بڑی حوصلہ افزا ہے بہت خوش دکھائ دیتی تھیں اور پھر میرا شکریہ ادا کرنے لگیں

کیوں تمہارا شکریہ کس بات کا میری دوائیاں لیکر آتے ہو یا دن رات میری صحت کے لیۓ دعائیں مانگتے رہتے ہو

آنسہ اعجاز اب آپ ناانصافی کر رہی ہیں آپ کو لگتا ہے میں آپ کے لیۓ دعا نہیں کرتا

کرتے بھی ہو گے تو اپنے مقصد اور فائیدے کے لیۓ میرے لیۓ نہیں

اچھا میرا کیا فائدہ ہے اس میں

یہی کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے جیسی خوبصورت لڑکی پھر تمہیں کہاں ملنے والی ہے اور کیا باتیں ہوئیں

کہنے لگیں ڈاکٹرز کافی پر امید دکھائ دیتے ہیں مجھے تو معجزہ سا لگتا ہے میں نے مزاحاً کہہ دیا آپ نے اس کا نام

اعجاز رکھا ہے معجزہ تو ہونا ہی تھا آگے سے کہتی ہیں باتیں اچھی کر لیتے ہو تم اور بھی کافی باتیں ہوئیں

لیکن اگر میرے بارے میں کوئ اچھے کلمات کہے تو شائد میری کوئ بات انھیں پسند آئ ہو کہہ نہیں سکتا

اور رہی تمہاری خوبصورتی کی بات تو وہ تو تم ہو ہی لیکن میری الفت اور چاہت صرف تمہاری شکل و

صورت کی وجہ سے نہیں ہے مجھے تم اچھی لکتی ہو کیوں لگتی ہو میں اپنے آپ سے یہ سوال نہیں کرتا چاہت

میں منطق شامل ہو جاۓ تو وہ فلسفۂ تو ہو سکتا ہے محبت نہیں ۔ محبت ماپنے تولنے والی چیز نہیں اس لیۓ

اس کے پیمانے بھی کسی نے ایجاد نہیں کیے ۔ میرا عشق رابعہ بصری جیسا ہے جس میں کوئ لین دین نہیں

کوئ نفع نقصان نہیں کچھ کھونا یا پانا نہیں کوئ میں نہیں کوئ تم نہیں صرف ہم ہیں

کون رابعہ بصری

`the mystic

ہاں وہی رابعہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے

ایک مرتبہ حضرت رابعہ بصری جذب کی حالت بصرہ کی گلیوں میں ایک ہاتھ میں مشعل اور دوسرے ہاتھ میں پانی لیے جا رہی تھیں۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ یہ آپ کیا کرنے جا رہی ہیں؟ تو رابعہ بصری نے جواب دیا کہ میں اس آگ سے جنت کو جلانے اور اس پانی سے دوزخ کی آگ بجھانے جا رہی ہوں، تاکہ لوگ اپنے معبودِ حقیقی کی پرستش جنت کی لالچ یا دوزخ کے خوف سے نہ کریں، بلکہ لوگوں کی عبادت کا مقصد محض اللہ کی محبت بن جاۓ

یہی بات میں نے تمہاری امی سے کہی تھی تمہارے بارے میں پہلے تو خاموشی سے سنتی رہیں پھر پیار سے میرے سر پر ہاتھ

پھیر کر کہنے لگیں یہ سب کچھ اس پگلی کو بتانے کی ضرورت نہیں ۔ تم اتنی خاموش کیوں ہو

کچھ نہیں یونہی کچھ انجانا سا خوف محسوس ہو رہا ہے ۔ میری بات مانو گے ایک

کہہ کر دیکھو

میں تمہارے گلے سے لگنا چاہتی ہوں

اچھا میں آؤں تمہارے پاس یا تم

ابھی تم کہہ رہے تھے کہ عشق کی اس منزل پر میں اور تم نہیں صرف ہم کھڑے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے

اب کیا ہے

تم مجھے ان دیکھی انجانی راہوں کی طرف لیکر کیوں جانا چاہتے ہو

ہم ایک عام سے لڑکا لڑکی کی طرح پیار کیوں نہیں کر سکتے

جاری ہے

…………………………….

شہرزاد – قسط نمبر 16

انجان راستے بے نام سفر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

کوکو اور کاۓ کاۓ

کیوں نوشے میاں کل سر کٹاکر آۓ تھے میرا مطلب ہے بال کٹوا کر آۓ تھے آج مونہہ پکڑے بیٹھے ہو

آپ بڑے خوشگوار موڈ میں ہیں کوئ لاٹری شاٹری تو نہیں لگ گئ دندان ساز کے پاس سےآیا ہوں اس لیۓ

سارا جبڑا دکھ رہا ہے اور آپ میرے زخموں پر مرہم رکھ رہی ہیں یا نمک چھڑک رہی ہیں

دندان ساز

oh my god

ایسے کہہ رہے ہو جیسے ہاتھی کے دانت ہوں ڈینٹسٹ کہتے ہوۓ مونہہ دکھتا ہے

اوہ آپ کا تو سچ مچ مونہہ دکھ رہا ہو گا زرا اپنا خیال رکھو جس رفتار سے تمہارے جسم کے حصے بخرے ہو رہے ہیں

وہ نہ ہو سہرا بندھنے تک نہ تمہارے مونہہ میں دانت رہے اور نہ ہی پیٹ میں آنت اور میرے وعدوں کا زیادہ

اعتبار نہ کرنا ایجاب و قبول سے پہلے ہی لگن منڈپ سے راہ فرار اختیار کر لونگی ۔

اگر آپ کے وعدے شاعر کے اس وعدہ فردا کی طرح ہیں جو اس رات میں کیے گیے تھے جس کی کوئ سحر نہیں تھی

تو پھر تو مجھے یہاں سے چل نکلنا چاہیے

کوشش کر دیکھو ایک دانت تو تمہارے دندان ساز نے نکالا ہے رہے سہے میں نکال دونگی اور یہ کل شام رابعہ بصری

عشق حقیقی اور پتہ نہیں کیا کیاکہہ رہے تھے تم پر دیوانگی کے دورے پڑتے ہیں کیا یا سچ میں کوئ پیر فقیر ٹائپ

آدمی ہو میں تو کل رات ہی سے یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی ہوں کہ ابھی سے اس کا یہ حال ہے تو بعد میں کیا ہو گا

میں سیدھی سادھی گھریلو قسم کی لڑکی ہو جسے اچھا سا گھر چاہیے ہو گا بوتیک کے ڈیزائنر کپڑے اور ہفتے میں ایک آدھ

دفعہ بیوٹی پارلر کا چکر تمہارا کیا پتہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے جنگلوں کی راہ لو یا کسی حجرے میں جا کر ڈیرا ڈال لو

ویسے بھی ان کٹے ہوۓ بالوں کے ساتھ چینی خانقاہ کے بھکشو لگتے ہو میرا کیا ہو گا دارالامان جا کر رہونگی میں کیا

خاطر جمع رکھیے میرا منصور حلاج کی طرح انالحق کہہ کر سولی پر چڑھنے کا کوئ ارادہ نہیں ویسے بھی مجھے آپ کے پیار کی

صلیب پر چڑھے ہوۓ کئی جنم بیت چکے ہیں اس لیۓ میں آپکو چھوڑ کے کہیں جانے والا نہیں ہوں ۔ ہم نے تو صرف

یہ کہا تھا یا کہنا چاہا تھا کہ ہم آپکو آپ کے لیۓ چاہتے ہیں اور بے انتہا چاہتے ہیں آپ اسے ہماری دیوانگی کےنام سے موسوم کرلیں اور خالی میرے سوچنے سے کیا ہوتا ہے سارے فیصلے تو آپ کرتی ہیں رابعہ بصری سے کسی نے سوال کیا تم شادی

کیوں نہیں کر لیتیں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے تو جواب تھا

I cannot please two masters

اور آپ نے چونکہ میری سوچوں پر بھی پہرے بٹھا رکھے ہیں اس لیۓ کہنا تو دور کی بات ہے میں اگر اس طرح کی باتیں

سوچوں بھی تو

you will have me crucified

آپ تو مجھے صلیب پر چڑھا دیں گی

اور یہ جو آپ نے سیدھی سادھی گھریلو لڑکی کے نام پر ایک لمبی سی شاپنگ لسٹ ہمارے ہاتھ میں تھما دی ہے اس

کو پورا کرنے کے لیۓ ہمیں مشرق وسطیٰ یا دوبئی کے اتنے چکر لگانے پڑیں گے کہ ہماری ساری جوانی آنے جانے ہی

میں بیت جاۓ گی ۔

یہ تم مجھ سے باتیں کر رہے ہو یا اپنے بیگ میں کچھ تلاش کر رہے ہو

ایسے ہی ایک دوست کے سوال کے جواب میں ایک چھوٹی سی تمثیل لکھی تھی وہی ڈھونڈھ رہا ہوں

تمہیں نے لکھی تھی نا تو دوبارا لکھ لو

آنسہ اعجاز کسی لکھی ہوئ چیز کو دوبارا لکھنا جوۓ شیر لانے کے برابر ہے لیکن آپ زیادہ فکر مند نہ ہوں مجھے مل گئ ہے

اچھا میں بھی تو سنوں آخر ہمارے اپنے

Pulitzer Prize winner for literature

نے لکھا کیا ہے

چھوٹی سی بے نام اور شائد ان کہی تمثیل ہے آپ بھی سن لیجیے

اک درخت کی شاخ پہ ایک کوا اور کوئل ساتھ ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے ایک راہ گیر پاس سے گزرا ان دونوں کی کوکو اور کاۓ کاۓ سنی اور یہ کہہ کر چل دیا ‘ اس وادی میں اتنی دل آویز آواز آج تک نہیں سنی ‘

وہ کوا آج تک اس آدمی کو دیوانوں کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے ‘پگلا کہیں کا’

مجھے چونکہ اس تمثیل کا پس منظر معلوم نہیں اس لیے اپنی راۓ دینے سے قاصر ہوں لیکن جو کچھ لکھا ہے اچھا ہے خاص کر

کوئل کی کو کو ایسے لگتا ہے جیسے اپنے ساتھی کو بلا رہی ہو اور جب تم اپنے پیارے سے ہونٹوں کو سکوڑ کر کو کو کہتے ہو تو میرے

انگ انگ میں جل ترنگ سی بجنے لگتی ہے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے بھلا اور میری اس جذباتی کیفیت کے لیۓ تمہارے اس بیگ میں جو بیگ کم اور عمر عیار کی زنبیل زیادہ لگتا ہے کوئ نام ہے ہاہاہا

تمسخر اڑا رہی ہو میرا ۔ ہاں ہے ایک نام تمہاری اس نام نہاد کیفیت کا

‘ coquettish ‘

اے مسٹر لفظوں سے کھیلنا اور ان کے پیچھے چھپنا چھوڑ دو صرف یہ یاد رکھنا ہمیشہ ‘ تم کہانی کار ہو اور میں تمہاری کہانی اور

میرے بغیر تم ہمیشہ نامکمل رہو گے ‘

اور تم بھی کبھی بھولنا نہیں کہ تم میرے اس ٹوٹے ہوۓ قلم سے تراشا ہوا کوئ کردار نہیں ہوں جس میں آۓ دن میں نئے نئے رنگ بھرتا رہتا ہوں ہم سب اس نیلی چھتری والے کی صناعی کا شاہکار ہیں اور شاہکار کبھی نامکمل نہیں ہوتا ۔ کبھی نہیں

اچھا اور تمہیں یہ کوئل کے ساتھ باتیں کرنے کے لیۓ کالا کوا ہی کیوں ملا تھا

لکھتے وقت تو میں نے دھیان نہیں دیا لیکن اب سوچتا ہوں تو اس کی صرف

ایک ہی توجیح زہن میں آتی ہے آپ کے شائد علم میں یہ بات نہ ہو کہ کوئل کبھی گھر نہیں بناتی انڈے دیے اور پھر سی

اڑ گئی اور قدرت نے یہ کام کوے کو تفویض کیا ہے وہ کوئل کے انڈوں کی اس وقت تک حفاظت کرتا ہے جب تک ٰ بچے

انڈوں کے خول سے باہر نہیں آ جاتے ۔ اور بیچارا کوا جس کی آواز اور کالے رنگ کی وجہ آپ ناک اور بھویں چڑھا لیتی

ہیں تاریخ انسانی کا سب سے پہلا استاد بھی تھا جب قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا تو اسے علم نہیں تھا کہ بھائ کی لاش کو

کیسے ٹھکانے لگاۓ

‘ پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ‘

اور وہ جو آپ نے اپنی کسی جذباتی کیفیت کا اظہار کیا تھا وہ صرف جذبات نہیں بلکہ قدرتی ردعمل ہے یہ کوئل کی خوبصورت

آواز جو آپ سنتی ہیں وہ نر کوئل کی ہوتی جو وہ مادہ کو اپنی طرف مائل کرنےکے لیۓ نکالتا ہے اور کوکو کی یہ کشش

قدرت کا عطیہ ہے اور اسکی ہونے والی دولہن اگر چاہے بھی تو اسے نظر انداز نہیں کر سکتی

یہاں کون کافر مزاحمت کر رہا ہے بلکہ ہم تو بقول شاعر

مائل بہ کرم ہیں کوئ سائل ہی نہیں

راہ دکھلائیں کسے وغیرہ وغیرہ وغیرہ

ایک بات تو بتائیں مجھے آپ کیا پیدائیشی فلرٹ ہیں یا ماحول کا اثر ہے

میں تو تم سے پیار کرتی ہوں تم اسے کچھ بھی نام دے دو اور فلرٹ بھی تو تمہیں سے کرتی ہوں تم بتاؤ

پیار نہیں کرتے مجھ سے کیا ۔ اب مونہہ میں گھونگھنیاں ڈال کر کیوں بیٹھے ہو کرتے ہو یا نہیں

سوال پوچھ رہی ہو یا حکم دے رہی ہو کیا کرتے ہو یا نہیں کرتے

پیار پیار پیار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہرزاد ۔ قسط نمبر 17

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Reincarnation of Aphrodite

ہائ نرتکی

ہیلو راجہ اندر آج پھر مندر کے راسطے سے آۓ ہو کیا

نہیں آنا تو تمہارے دل کے راسطے سے چاہتا تھا لیکن آگے تم نے انارکلی کی دیوار کھڑی کر دی ہے اس لیۓ کیا کرتا

بڑے رومینٹک موڈ میں ہو آج سورج کہیں غلط سمت سے تو نہیں نکل آیا اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے

تحفہ ہے تمہارے لیۓ چھوٹا سا دیکھو گی

تحفہ ۔ میرے لیۓ اور تم لیکر آۓ ہو ۔ چھین کر لاۓ ہو یا چرا کر یا کسی کا گرا پڑا ہوا ملا ہے

راستے میں سے کسی کے گھر کے باہر سے گلاب کا ایک پھول ہی توڑ لاتے کبھی کنجوس کہیں کے لوگ تو اپنی محبوبہ

کے لیۓ آسمان سے تارے توڑ لاتے ہیں اور تم بس سپنوں کی دنیا کی سیر کراتے رہو مجھے ۔ بڑی دھیمی آواز اور آدھ کھلی آنکھوں سے کہو گے ‘اعجاز شعر سنو گی

لارڈ بائیرن کا ہے

I have spread my dreams under your feet

Tread softly because you tread on my dreams

بس یہی سناتے رہو اور میں سنتی رہونگی اور زندگی یونہی چین کی بنسری بجاتے ہوۓگزر جاۓ گی

نکل گیا غبار ہو گیا دل ہلکا ٹھنڈک پڑھ گئ ۔ اور وہ شعر لارڈ بائیرن کا نہہیں

Yeats

کا ہے اور پھول چاہیے تم کو

تھوڑے ادھار پیسے دے دو ابھی لا دیتا ہوں

واہ واہ کیا حاتم کی قبر پر لات ماری ہے یعنی میرے ہی پیسوں سے مجھے تحفہ لا کر دے رہے ہیں

تمہی تو ہمیشہ کہتی رہتی ہو جیدی میرا سب کچھ تمہارا ہے تو اب کیا ہوا

ہاں ہاں کہا تھا لیکن میں نے تن اور من کی بات کی تھی دھن کی نہیں ۔ اے برہمچاری ناراض ہو گیے کیا میں تو

ایسے ہی تم کو چڑھا رہی تھی میری طرف دیکھو ادھر ادھر نہیں اور کچھ بولو تو

کچھ نہیں تم ٹھیک کہتی ہو اور یہ تم مجھے ہر وقت برہمچاری کیوں کہتی رہتی ہو

اور کیا کہوں لڑکیوں کی پرچھائیں سے تو ڈر لگتا ہے تمہیں جیسے وہ تمہیں بھگا کر لے جائیں گی

سب سے تو نہیں البتہ تم سے ضرور ڈر لگتا ہے انتظار آپی کہتی تھیں اجنبی لڑکیوں سے دور رہنا اور جو عزیز رشتہ دار

ہیں ان کے تو قریب تک نہیں پھٹکنا چین سے رہو گے

اور یہ زریں اقوال کس خاتون کے ہیں میرا مطلب یہ ا نتظار آپی کون ہیں

زرا عزت و احترام کو ملحوض خاطر رکھیۓ محترمہ

اوہ ہو کیوں میری ہونے والی ساس ہیں کیا

جی ہاں

if you are ready to jump the broom with me

ارے سچ کہہ رہے ہو یہ تمہاری امی حضور کا نام ہے

ہم دونوں کے علاوہ کوئ تیسرا زی روح تو یہاں ہے نہیں اور آپ کی امی جان کا نام تو یہ ہو نہیں سکتا ورنہ آپ

پوچھتی کیوں تو لے دے کر یہ قرع فال میرے نام ہی پڑتا ہے

اتنی گھما پھرا کر بات کیوں کرتے ہو اس سے پہلے اس طرح کا نام نہیں سنا کبھی

جی ہاں اس لیۓ کہ اس سے پہلے انتظار بانو آپ کی ساس بھی نہیں بنی تھیں

تو تم نے ان کو آپی کیوں کہا

اس لیۓ کہ میرے امی جان اپنے بھائ بہنوں میں سب سے بڑی ہیں اور وہ سب انکو آپی کہتے تھے اور انکے دیکھا

دیکھی ہم نے بھی انھیں آپی کہنا شروع کر دیا

کیسی ہیں وہ میرا مطلب ہے کیسی ہیں تمہاری امی جان

جیسے ساری مائیں ہوتی ہیں

ٹھیک اور سیدھا جواب نہیں دو گے تو یہ ٹیبل ہی تمہارے اوپر الٹا دونگی میرا مطلب ہے شکل و صورت کیسی ہے

خوب صورت ہیں کیا مجھے یقین ہے خوب صورت ہی ہونگی

جی ہاں سب لوگ تو یہی کہتے ہیں

اور تمہارے بابا جانی کیا کہہ کر بلاتے ہو انھیں

ڈیڈی ہاں وہ بھی کافی خوبرو ہیں بلکہ تھوڑے ہیرو ٹائپ لگتے ہیں اور کچھ پوچھنا ہے آپ کو

ہاں پوچھنا تو ہے ساس اور سسر دونوں بہت خوبصورت ہیں تو تم ایویں سے کیوں ہو ہاہاہا

ہاہاہا

very funny

اس لیۓ کہ مجھے وہ مندر کی سیڑھیوں سے اٹھا کر لاۓ تھے

اسی لیے روزانہ مندروں کے چکر لگتے رہتے ہیں کسی کو ڈھونڈ رہے ہو کیا کس کی تلاش میں ہو سوامی لاؤ دکھاؤ کونسے

ہیرے جواہرات لیکر آۓ ہو بلخ بخارا سے اپنی ہونے والی دلہن کے لیۓ

پچھلے تین چار ماہ سے تو ایک ہی پتھر کو تراش کر ہیرا بنانے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں

کیا کہا تم نے زرا دوبارا کہو

that’s very rude and insulting as well

اچھا اور آپ تو پچھلے آدھ گھنٹے سے جیسے مجھے پھولوں میں تول رہی ہیں

تم ہو ہی ایسے

uncouth uncultured savage

اعجاز

کیوں چلا رہے ہو بہری ہوں کیا میں

محترمہ آپ کیسے بہری ہو سکتی ہیں لیکن یہ آواز اندر سے آئ ہے غالباٗٗ آپ کی امی جان نے آپ کو یاد کیا ہے شائد

ان تک بھی ان پھولوں کی خوشبو پہنچ گئ ہے جو مجھ پر نچھاور کیے جا رہے ہیں

تم سے تو میں بعد میں سمجھ لونگی اب بھاگنا نہیں یہاں سے

بھاگوں گا کہاں آپ نے پیار کی ڈور سے باندھا ہوا ہے اور رہی سہی کسر آپ کے ان خوبصورت لمبے اور سنہری بالوں

کے جال نے پوری کر دی ہے ایک سے نکلتا ہوں تو دوسری میں الجھ جاتا ہوں

خاموش نہیں رہ سکتے تھوڑی دیر امی ساتھ والے کمرے میں ہیں

تو انگریزی میں کہہ دوں کہ مجھے

چپ

not a word out of your mouth

امی اسی طرف آ رہی ہیں

میں تھوڑی دیر کے لیۓ گھر سے باہر جا رہی ہوں ۔ جاوید بیٹا کیسے ہو تم

جی ٹھیک ہوں

اور ہاں

behave yourself the two of you no more arguments

خدا حافظ

جی خدا حافظ

اعجاز

اب کیا ہوا ہے تمہیں

یہ انگریزی کون بول رہا تھا

یہ ہمارے گھر کے پاس ہی پلکھو ریور پر دھوبی گھاٹ ہے وہاں کی کوئ دھوبن ہے شائد کیوں تم کیوں پوچھ رہے ہو

تم نے بتایا نہیں کبھی کہ تمہاری امی پڑھی لکھی خاتون ہیں

کب سے آ رہے ہو ہمارے ہاں اور ہر روز ہمارے گھر کی چھوٹی سی لائبریری میں تھوڑا وقت گذار کر آتے ہو

کھلی آنکھوں سے جاتے ہو یا آنکھوں پر پٹی باندھ کر

کیا مطلب اور یہ پہیلیوں میں باتیں کیوں کر رہی ہو سیدھا جواب نہیں دینا آتا

اچھا اٹھو زرا اپنی کرسی سے اور جاؤ لائبریری تک اور دیکھو مینٹل پیس پر بڑے سے فریم میں کس کی تصویر ہے

کوئ خاتون ہیں گاؤن پہنے ہوۓ

اچھا میں سمجھی برقعہ ہے ۔ گاؤن اور برقعے میں فرق سمجھتے ہو نا ۔ چغد کہیں کے امی یونیورسٹی میں لیکچرار ہیں

میری بیماری کی وجہ سے

career break

لیکر گھر بیٹھی ہوئ ہیں ۔

مائ گاڈ

I hope

میں نے تم کو کوئ غیر مناسب بات نہ کہی ہو

انگریزی میں تا کہ انھیں پتہ نہ چلے انکا ہونے والا داماد کتنا رومینٹک ہے ہاہاہا

serves you right

وہ تو تمہیں

بڑا فرشتہ سیرت سمجھتی ہیں ۔ زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ان کے لیۓ تم اب بھی کوئ اوتار ٹائپ چیز ہو

اور تمہارے لیۓ ۔ رہنے دو جواب دینے کی ضرورت نہیں تمہاری امی کہہ کر گئ تھیں

No arguments

ٹھیک ہے بحث کون کر رہا ہے خاموشی سے وحشت ہونے لگتی ہے مجھے کوئ پیار بھری بات نہیں کر سکتے ہم

جی نہیں مجھے اکیلے دیکھتے ہی تمہارے پر پرزے نکل آتے ہیں اور یہ لکشمی کے بارا ہاتھ اپنے جسم تک ہی محدود رکھو

اے راجہ اندر کیا میں خوبصورت نہیں ہوں یا تمہیں مجھ سے پیار نہیں رہا

تم بہت خوبصورت ہو وغیرہ وغیرہ لیکن جب تم میں

Aphrodite

کی روح سرائیت کر جاتی ہے تو مجھے بھاگنے کے لیے

سورج دیوتا اپالو کی رتھ نظر آنی شروع ہو جاتی ہے اور لگتا ہے وہ وقت قریب ہی ہے

اور میں تمہیں

Aphrodite

لگتی ہوں یہی کہا نا تم نے

Aphrodite

جل تو جلال تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد ۔ قسط نمبر ۱۸

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

نفس امارا سے نفس لوامہ تک

آنسہ اعجاز کیسی ہیں آپ

ابھی تک تو ٹھیک تھی آگے خدا جانے

کیا مطلب

یہ جو تم نے اندر داخل ہوتے ہی ‘ آنسہ اعجاز اور آپ ‘ کا طبل جنگ بجا دیا ہے اس سیل رواں سے بچنے کی تیاری کر رہی ہوں

یہ جو تم ریختہ اور اردو معلۓ کی ملی جلی آمیزش سے مجھ پر اپنے ناقص علم کی دھونس جماتے رہتے ہو کوئ فائدہ نہیں اسکا

جو حلاوت اور شیرینی الفاظ کے صحیح چناؤ اور ادائیگی میں ہوتی ہے وہ ان کتابی اور موٹے موٹے لفظوں میں نہیں

ہوتی جو تم اپنی بیاض میں لکھتے رہتے ہو

آ ہا تو رنگ گئیں آخر آپ ہمارے رنگ میں ۔ اسے کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے آپ جب غصے میں ہوتی ہیں

تو اس سے نہ صرف آپ کی شخصیت میں نکھار سا پیدا ہو جاتا ہے بلکہ ذبان میں بڑی شائستگی پیدا ہو جاتی ہے اور سب سے

بڑھکر یہ کہ آپ انتہائ حسین لگنے لگتی ہیں

چاپلوسی کی ضرورت نہیں تو تم یہ کہہ رہے ہو کہ میں اپنی روزمرہ کی زندگی میں عامیانہ زبان بولتی ہوں جو تمہارے معیار پر پوری نہیں اترتی

زبان تو خیر نہیں لیکن جو کچھ کہتی ہیں اس میں جو زومعنی جملے آپ ادا کرتی ہیں یا کیسے کہوں ہاں جو چھیڑ چھاڑ آپ مجھ سے کرتی ہیں ان سے ایسا گمان ہوتا ہے جیسے آپ کا نفس امارا غیر معمولی طور پر فعال ہے ہاہاہا ۔ ارے ایسے گھور کیوں رہی ہو مجھے

ایسا کیا کہہ دیا ہے میں نے آخر

قہقہے کس بات پر لگ رہے ہیں کوئ قلعہ فتح کر کے آ رہے ہو جس کا جشن منایا جا رہا ہے یہ پچھلے چند دنوں سے تمہیں ہو کیا گیا ہے ہر روز تمہارے مونہہ سے کوئ نئی بلکہ انوکھی چیز سننے میں ملتی ہے کہیں کسی بدروح

کا سایہ تو نہیں ہو گیا تم پر یا پھر کسی چشتیہ نقشبندیہ طرز کے سلسلہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے سادھو سنتوں ٖ

کی منڈلی میں بیٹھنے لگے ہو کیا آج کل تمہارا حلیہ بھی کچھ انھیں جیسا لگتا ہے کہیں بھی دھونی رما کر بیٹھ جاؤ یہاں

آنے کی زحمت کیوں گوارا کرتے ہو اور سنا ہے تم آجکل ملنگوں کے ڈیرے پر بھی جانے لگے ہو

کیا بے پر کی اڑا رہی ہو میں بھلا کیوں جانے لگا ایسی جگہوں پر اور تم نے کیا جاسوس لگا رکھے ہیں میرے پیچھے

امی کہہ رہی تھیں انہوں نے خود تمہیں جاتے ہوۓ دیکھا تھا وہاں یہاں قریب ہی آٹا پیسنے والی چکی کے سامنے کوئ جگہہ ہے

پروفیسر صاحبہ بھی پتہ نہیں بیٹھے بیٹھے کیا اندازے لگاتی رہتی ہیں فلور مل کے سامنے تو مہندی شاہ ہے اور اس سے پہلے

کہ آپ کہیں میں وہاں پر ہاتھوں پر مہندی لگوانے جاتا ہوں مہندی شاہ بیوٹی پالر نہیں پہلوانوں کا اکھاڑہ ہے

اور تم وہاں کسرت کرنے جاتے ہو گے ڈیل ڈول سے تو پورے رستم زمان لگتے ہو جھوٹے کہیں کے

تمہاری زبان ہے یا بے لگام گھوڑی بات تو پوری کرنے دیا کرو بیچ میں ہی ٹوک دیتی ہو میں کبھی کبھار وہاں جاتا ہوں

داؤ پیچ سیلھنے نہیں بلکہ وہاں ایک ملنگ بابا ہیں جو اک تارا بہت اچھا بجاتے ہیں

اور یہ اک تارا کیا چیز ہے کوئ ستار یا گٹار کا دور یا قریب کا رشتہ دار چلو جو بھی ہو لیکن تمہارا وہاں کیا کام

ہونہہ میرا وہاں کیا کام ۔ ایسا کوئ خاص کام تو نہیں لیکن ملنگ بابا اک تارا بجاتا ہے اور میں

آگے تو بولو میں کیا تم اس کی چلمیں بھر کر لاتے ہو کیا

نہیں بابا کیا ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ گئ ہو میرے ملنگ بابا ساز بجاتا ہے اور میں گاتا ہوں

تم گاتے ہو یعنی تم سچ مچ ملنگوں کے ساتھ ملکر گیت گاتے ہو ہاہا ہاہاہا ہاہاہاہا گیت گاتے ہو تو پھر کوئ مجنونانہ قسم کا

رقص بھی ضرور کرتے ہو گے

مجنونانہ نہیں وہ جگہہ تمہارے لیۓ چھوڑ دی ہے البتہ مجذوبانہ رقص کبھی کبھار کر لیتا ہوں کروگی میرے ساتھ

نہیں میں تو نہیں کرونگی لیکن تمہیں اپنی انگلیوں پر نچانے کا

فن مجھے آتا ہے

تم مذاق کر رہے ہو نا

میں جھوٹ بولوں گا کیا تم سے

اچھی بات ہے ابھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوا جاتا ہے گا کر سناؤ مجھے کچھ

کیا سنو گی میرا مطلب ہے کیا سننا پسند کریں گی ملکہ عالیہ

میاں تان سین کی توڑی مجھے کوئ پکے راگ نہیں سننے تم سے اور گذشتہ روز جو مجھے کوئل اور کوے کی تمثیل سنا رہے

تھے تو سمجھ لو آج اس وقت تمہارے گلے سے اگر کوکو کی آواز نہ نکلی تو میں تمہاری کاۓ کاۓ کی آواز ضرور ہی

نکال دونگی ۔ چلو شروع ہو جاؤ کنہیا لال سہگل کا نام لیکر یا تمہارے اک تارے والے دوست کو بھی بلوا بھیجوں

نہیں تمہارے دل میں جو جلترنگ مجھے دیکھ کر بجتی رہتی ہے وہ کافی ہے اور مجھے کوئ انعام وغیرہ بھی ملے گا اگر

اگر مگر بعد میں لیکن فکر مت کرو میں ہوں نا پانچ فٹ آٹھ انچ کی حسین و جمیل لڑکی تمہارا جیتا جاگتا انعام

مجھے پتہ تھا تم یہی کہوگی اور بڑا عجیب اتفاق ہے تم مجھ سے عمر میں تین سال بڑی ہو قد میں تین ا نچ لمبی ہو اور

اور کیا زبان کیوں رک گئ

میری مشکل آسان کر دی تم نے میں یہی کہنے والا تھا کہ تمہاری زبان بھی ماشاللہ مجھ سے تین انچ لمبی ہے ہاہاہا

ہاہاہا

not very funny

اپنی فکر کرو نوشے میاں یہ بلا جو تمہارے سر کے ارد گرد چکر لگا رہی ہے نا وہ تمہاری باتوں سے ٹلنے

والی نہیں ۔ چلو اب گانا شروع کرو ورنہ تمہارا بینڈ بجنا شروع ہو جاۓ گا اور ہاں ایک لمبی سی سانس بھی

بھی لے ہی لو کہیں تمہاری آخری نہ ہو

جی محترمہ بجا فرمایا آپ نے تو سنیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاوید بیٹا

اسلام و علیکم خالہ جان کیسی ہیں آپ

جیتے رہو ۔ معاف کرنا بن بلاۓ مہمان کی طرح چلی آئ یا سمجھو تمہاری آواز کی کشش کھینچ لائ اعجاز نے کبھی

زکر نہیں کیا کہ تم اتنا اچھا گا بھی لیتے ہو

جی شکریہ لگتا ہے آپ کی بیٹی کو موسیقی کے ساتھ کوئ خاص لگاؤ نہیں

ہاہاہا موسیقار کے ساتھ تو ہے

جی میں کچھ سمجھا نہیں

کچھ نہیں میں زرا مارکیٹ تک جا رہی ہوں تم بیٹھو باتیں کرو

میں چلوں آپ کے ساتھ

تم کہاں چلے دولہا راجہ امی تو چلی گئیں گانا تو بہت لہک لہک کر گا رہے تھے ہمیں بہت اچھا لگا تمہارا انعام تمہارے

سامنے کھڑا ہے اور اب میرے بلخی شہزادے سوچنا شروع کرو کہ اس زلیخا سے بچ کر کہاں جاؤ گے

اور وہ تم کیا کہہ رہے تھے میرے نفس امارا کے بارے میں پھر سے کہو ‘ نفس امارا ‘

دروازے پہ کوئ دستک دے رہا ہے

تمہارے کان بج رہے ہیں یہ دستک نہیں بلکہ تمہارا باڈی گارڈ میدان جنگ سے بھاگ رہا ہے

میرا باڈی گارڈ

ہاں تمہارا نفس لوامہ ہاہاہا

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد ۔ قسط نمبر ۱۹

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

حاکم اور محکوم

جیدی تم نے کبھی سوچا ہے ہم دونوں کے نام ساتھ ساتھ لکھے ہوۓ کتنے معنی خیز اور پیارے لگتے ہیں ‘ اعجاز جاوید ‘

یعنی کبھی نہ ختم ہونے والا معجزہ

لگتا ہے تمہاری صحبت کے زیر اثر میں بھی تھوڑی بہت شاعرانہ مزاج کی ہو گئ ہوں

شاعرانہ تو نہیں البتہ آوارا مزاجی کا عنصر آپ کے خمیر میں کافی گندھا ہوا ہے اور میری صحبت کی تو آپ کو

ہوا تک نہیں لگی ورنہ ان خوبصورت ہاتھوں میں تسبیح اور بغل میں جانماز ہوتی اور گھر کے کسی کونے میں بیٹھی اپنے

کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی کے لیۓ نفل پڑھ رہی ہوتیں اور اس جبین نیاز پر ایک دو محرابیں بھی پڑ چکی ہوتیں

ویسے میری باتوں کا اثر تو آپ پر ہوتا نہیں کیونکہ وہ آپ کے ایک کان کی بالی کو چھوتی اور دوسرے کان کے کانٹوں سے

اٹھکیلیاں کرتی ہوئ نکل جاتی ہیں مجھ سے چھیڑ چھاڑ کرنا آپ کی عادت ثانیہ بن چکی ہے اور میرے ہائ سکول کے زمانے

کے ایک استاد کہا کرتے تھے ‘ زحمتاں جاندیاں نال دارواں تے عادت سر دے نال ‘ یعنی دکھ اور تکلیف تو

دوا دارو سے چلا جاتا ہے لیکن عادت خاص کر بری عادت مرنے کے بعد ہی انسان کا پیچھا چھوڑتی ہے ۔

ٹھیک ہے بری عادت ہی سہی تمہیں لگتا ہے اتنی آسانی سے مجھ سے پیچھا چھڑا لو گے تمہارے کفن میں جگہہ تھوڑی تنگ

ہوئ تو ساتھ قبر کھدوا لونگی کہاں تک بھاگو گے مجھ سے ساارا شہر خموشاں تو تمہاری ملکیت نہیں

تو عالم برزخ میں بھی آپ ہمیں چین سے سونے نہیں دینگی

ارے کیسے ناشکرے آدمی ہو اکیلے پڑے پڑے بور نہیں ہو جاؤ گے وہاں ایک سے دو بھلے آرام اور سکون سے

دونوں کا وقت کٹ جاۓ گا خدا جانے کتنی صدیوں تک وہیں سکونت اختیار کرنی پڑے ۔ ویسے امی کسی حد تک

ٹھیک ہی کہتی ہیں کہ ‘ تم دونوں ہر وقت پرانے زمانے کی سوتنوں کی طرح لڑتے جھگڑتے رہتے ہو ‘

یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے مجھے دیکھتے ہی تمہاری رگ ظرافت پھڑکنے لگتی ہے ورنہ آگے پیچھے خاموش بیٹھی ہوتی ہو

تمہارے آنے سے پہلے گھر میں ہوتا کون ہے اکیلی دیواروں سے باتیں کیا کروں تھوڑی بیمار ضرور ہوں لیکن

تمہاری طرح نہ تو مجھ پر دیوانگی کے دورے پڑتے ہیں اور نہ ہی میں ‘ سوداں سودین ‘ ہوں

اوہو اب پنجابی میں بھی پنجہ آزمائ کرنے لگیں ہیں آپ ۔ اور یہ سوداں سودین کوئ عزیزہ ہیں آپ کی لگتا ہے

یہ پاگل پن

runs in the family

میں ہمیشہ سے تمہارے خواب دیکھا کرتی تھی اور اللہ تعالہ سے دعا کرتی کہ مجھے کسی وحی خفی کے زریعے بتا دینا آج

تم مجھے ملنے والے ہو سو اس روز جب ہم لوگ راولپنڈی سے لاہور کے لیۓ نکل رہے تھے تو پنڈی ریلوے سٹیشن

کے باہر ایک معصوم سا لڑکا پھولوں کے گجرے بیچ رہا تھا مجھے دیکھتے ہی لپک کر میری طرف آیا اور کہنے لگا

بی بی جی میں کب سے آپکا انتظار کر رہا تھا یہ گجرے آپ ہی کے ہاتھوں کے لیۓ بنے تھے پہن لی جیے انھیں انکار

مت کی جیے گا ساری عمر خوشبوؤں میں بسی رہیں گی یہ کہا اور اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتی لوگوں کی بھیڑ میں گم ہو گیا

میرے لیۓ یہ ایک اشارہ ربانی تھا اور پھر چند گھنٹوں بعد تم میرے سامنے کھڑے تھے میرا مطلب ہے وزیرآباد

ریلوے سٹیشن پر اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے تھے جب میں نے تمہیں پہلی دفعہ دیکھا ۔ کیا کر رہے تھے تم وہاں

ہونہہ سوچنے کی بات تو ہے کہ میں وہاں اگر آپ کا انتظار نہیں کر رہا تھا تو کیا کر رہا تھا ۔ اعجاز خانم ریلوے سٹیشن

پر میری موجودگی ایک ہی مقصد کے لیۓ ہو سکتی ہے یا تو میں سفر پہ جانے والا ہوں یا سفر سے واپس آیا ہوں

زیادہ فلسفی بننے کی کوشش مت کرو میں سمجھی شائد تمہیں بھی کوئ غیبی اشارہ ملا ہو

ملا تھا نا ملا کیوں نہیں اس روز کالج جانے کی تیاری کر رہا تھا تو بڑی امی کہنے لگیں تمہارا پراٹھا تیار ہے ابھی

پہلا لقمہ ہی لیا تھا کہ منڈیر پر بیٹھا ہوا کوا کائیں کائیں کرنے لگا بڑی امی فوراُ بولیں کوئ مہمان آنے والا ہے

اور

low and behold there you were my beautiful maiden in distress

مذاق اڑا رہے ہو میرا

you believe in these grandma tales

بڑی امی کرتی ہیں اور اس سے پہلے آپ جو

fairytales

مجھے سنا رہی تھیں وہ کیا تھا

وہ کوئ

fairytale

نہیں تھی سچ تھا یقین نہیں آتا تو امی سے پوچھ لو اور یہ تمہیں ہمیشہ کالے کوے ہی

کیوں ملتے ہیں کوئ سفید رنگ کا کبوتر یا بگلہ یا

آیا تھا نا ایک بگلہ آج صبح ہی مجھے خوش خبری سنانے

کونسی خوش خبری کیا آئیں بائیں شائیں بولے جا رہے ہو

ارے تمہیں تو پتہ ہونا چاہیے مغربی لوک داستانوں کے مطابق

stork is responsible for bringing babies to new parents

اوہو تو آخر کالی داس شکنتلا کی بھاشا بولنے لگا اور اس سے پہلے کہ تم گرگٹ کیطرح کوئ اور رنگ بدل لو مجھے کسی پنڈت

کو بلا بھیجنا چاہیے یا پڑوس سے مولانا صاحب کو بلا لیتے ہیں نکاح کے دو بول ہی تو پڑھنے ہیں میری تو فجر کی نماز کے

وقت سے ہی داہنی آنکھ پھڑک رہی تھی کہ آج کچھ ہونے والا ہے تمہیں کوئ شیروانی وغیرہ تو نہیں چاہیے میں تو انھیں

کپڑوں میں ٹھیک ہوں یہاں کونسی بارات آئ بیٹھی ہے اور یہ تم مجھے سانپ کی طرح بنا پلک جھپکاۓ گھور کیوں

رہے ہو ابھی بول دو جو بولنا ہے بعد میں نہ کہنا

میں تو اس وقت سے یہی سوچ رہا ہوں کہ تم واقعی پروفیسر صاحبہ کی بیٹی ہو یا

ممجھے بھی تمہاری طرح کسی مندر کی سیڑھیوں سے اٹھا کر لاۓ تھے ہاں اسی مندر سے جہاں تم بنا

nappies

کے پڑے

ہوۓ تھے پہلی سیڑھی پر تلکا سندر لگاۓ میں اپنی سکھی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی تھی اور تم چونکہ مجھ سے تین سال بعد

وارد ہوۓ تھے اس لیۓ تمہیں آخری سیڑھی نصیب ہوئ جہاں لوگ اپنے جوتے وغیرہ چھوڑ جاتے ہیں

وہ مندر کی سیڑھیاں تھیں یا دیوار چین جو مجھ تک پہنچتے پہنچتے تین سال گذر گیے ۔ اور یہ ہے سمے اور اس کے لیل و نہار

وہ بے نام و نشان اور بنا استروں کے بچہ اب بھی اسی سیڑھی پر کھڑا ہے لیکن رانی تلکا سندر آکاش کی بلندیوں کو تیاگ

کر اسی بچے سے وواع کے بندھن میں بندھنے کے لیۓ دھرتی ماتا پر اتر آئ ہے ۔ یہ سارا کھیل ہاتھوں کی ان لکیروں کا ہے

لکیروں سے مجھے یاد آیا سلطان حیدر علی والئی میسور فرانس سے کوئ تجارتی معاہدہ کررہا تھا معاہدے کے کاغذات لاۓ گیے پہلے فرانسیسی سفیر نے دستخط کیے اور پھر وہ کاغذات سلطان کے حضور میں پیش کیے گیے ۔ حیدر علی چونکہ انپڑھ آدمی تھا اس نے قلم ہاتھ میں لیا اور معاہدےکے کاغذات پر ایک لمبی سی لکیر کھینچ دی ۔ سر اٹھایا تو دیکھا فرانسیسی سفیر مسکرا رہا ہے اس نے شاہی ترجمان سے کہا

اب جو کچھ میں کہوں اس کا ایک ایک لفظ اس کے کانوں تک پہنچا دو ‘ اسے کہہ کاغذ پر کھنچی اس لکیر کو نہیں کاتب تقدیر

کے ہاتھوں سے کھنچی ہوئ اس لکیر کو دیکھ جو اس نے میرے ماتھے پر ثبت کر دی ہے اور جس نے مجھے حاکم اور

تجھے محکوم بنایا ہے ‘

جاری ہے

…………………..

شہرزاد ۔ قسط نمبر ۲۰

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

ناک ناک اندر آ سکتا ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو

امی نے تو آپ کو کب سے سبز رنگ کی جھنڈی دکھائ ہوئ ہے اور باقی رہی بیٹی تو اس تک رسائ کے لیۓ جو سرخ

ربن بیچ میں بندھا ہوا ہے اسے کاٹنے کی قینچی بھی آپ ہی کے ہاتھ میں ہے اور کچھ

آج تو بڑے دیالو موڈ میں لگتی ہو کچھ اور مانگ لوں

ہاتھ تو پہلے سے ہی تمہارے ہاتھ میں ہے جسے پکڑتے ہوۓ تمہارے گالوں میں ڈمپل پڑنے لگتے ہیں اور مجھے ایسے لگتا ہے

جیسے کوئ اندھا بریل پڑھ رہا ہو

so in short I am not excited

البتہ ان پر مہندی لگنے یا لگانے کا کوئ

پروگرام ہے تو میں یہاں سے اٹھ کر اندر بھاگوں ورنہ اپنی کسی قدیم زمانے کی فلاسفی سے مجھے بور مت کرنا

تو میری باتوں سے اب آپکو بوریت ہونے لگتی ہے اور یہ ہاتھوں پر مہندی لگنے سے اندر بھاگنے کی بات کچھ پلے

نہیں پڑی میرے زرا آسان زبان میں بتانے کی زحمت گوارا کریں گی

جی میں تو زحمت گوارا کر لونگی بلکہ کر رہی ہوں لیکن تم پر رحمت کی بارش کب ہو گی جب بھی میرے حنا آلود ہاتھوں

مانگ کے سیندور اور سرخ جوڑے کی بات ہوتی ہے تو تمہاری

otherwise

عقل کل کیوں گھاس چرنے چلی جاتی ہے

ارے الو کی دم فاختہ اگر تم سچ مچ سات سہاگنوں کو اکٹھا کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہو تو مجھے یعنی تمہاری ہونے

والی دلہن کو پردے میں چلے جانا چاہیے کیونکہ بڑے بوڑھے کہتے ہیں شادی سے پہلے دلہن کو دیکھنا بد شگونی کی علامت ہے

تو ٹھیک ہے دلہن کو جانے دو لیکن تم تو بیٹھو اور اگر تو بات صرف دیکھنے دکھانے تک ہی محدود ہے تو بڑا سا

گھونگھٹ نکال کر بیٹھ جاؤ تمہیں تو ویسے بھی باتیں کرنے کا شوق ہے سو کرتی رہنا

اے میاں مٹھو لگتا ہے تمہارے چوری کھانے کے دن گیے زیادہ مونہہ کھولو گے تو اٹھا کر دل کے پنجرے میں

ہمیشہ کے لیۓ بند کر دونگی ۔ گھونگھٹ نکال کر بیٹھ جاؤ ۔ مونہہ دکھائ کے رسوم و رواج سے واقف ہو تمہاری جیب میں

تو پھوٹی کوڑی تک نہیں ہوتی اور راجکماری اعجاز جڑاؤ کنگنوں کا انتظار کرتے کرتے گھونگھٹ کے پیچھے ہی چاند پر چرخہ کاتنے والی بڑھیا کی طرح ہو جاۓ گی ۔

آنسہ اعجاز

یہاں اس نام کی کوئ لڑکی نہیں رہتی اور وہ آپ کے نانا ابا ہمیشہ کیا دعا مانگا کرتے ہیں ہاں یاد آیا ‘ سب کا بھلا اور سب کی خیر ‘

شائد آپ کے ان چھوٹے چھوٹے اور خوبصورت کانوں تک ہماری آوز نہیں پہنچی

جی پہنچی تھی اسی لیۓ خیر کی دعا مانگی تھی آپ جب بھی میرے نام کے ساتھ آنسہ کا دم چھلہ لگا دیتے ہیں تو میری

سانس کچھ ناہموار سی چلنے لگتی ہے اور میں اپنے پروردگار سے دعاۓ خیر مانگنے لگتی ہوں اور اب سوال کرنے سے

پہلے مجھے بتائیں گے یہ میرے نام کے ساتھ آپ اپنی کسی گمشدہ سہیلی کا نام کیوں لگا دیتے ہیں

جی ضرور اور آپ اگر بدیسی زبانوں کی بجاۓ اپنی قومی زبان پر تھوڑی توجہ دیتیں تو آپ کو یہ سوال پوچھنے کی زحمت

ہی گوارا نہ کرنا پڑتی ۔ آنسہ کا مطلب ہے ایک محبت کرنے والی غیر شادی شدہ لڑکی جسے آپ انگریزی میں مس کہتی ہیں

اب اگر کوئ اور سوال نہ رہگیا ہو تو میں پوچھ سکتا ہوں وہ جو چند روز پہلے میں آپ کے لیۓ ایک معمولی سا تحفہ لیکر

آیا تھا وہ آپ کو پسند بھی آیا یا آپ نے بنا دیکھے کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا

اب ایسی گئ گزری بھی نہیں ہوں کہ گرے پڑے تحفے اٹھا لوں جہاں رکھ کر گیے تھے وہیں پڑا ہو گا لیکر آۓ تھے

تو دیکر جاتے ہم وضع دار قسم کے لوگ ہیں ہر کام ریت رواج کے مطابق کرتے ہیں

اوہ معاف کیجیے گا میں آپ کے طور طریقوں اور رکھ رکھاؤ سے ناواقف ہوں آپ کو سونے اور چاندی کی پلیٹ میں

رکھ کر اس لیۓ پیش نہ کر سکا کیونکہ جب لیکر آیا تھا اس وقت بھی آپ نے میری کافی آؤ بھگت کیٖ تھی بلکہ

عوام الناس کی زبان میں مذاق اڑایا تھا میرا اور میرے تحفے کا آپ چونکہ ہر چیز کو پیسوں کے ترازو میں تولنے

لگی ہیں جو نہ تو میرے پاس ہیں اور نہ ہی ہم دونوں کے اس بے نام رشتے میں مادہ پرستی کے لیۓ کوئ جگہہ ہے

یا تھی لگتا ہے آپ نے ہماری چاہت کو دنیاوی پیمانوں سے تولنا شروع کر دیا ہے اس لیۓ اجازت چاہونگا

ہاں ہاں ٹھیک ہے اور جاتے ہوۓ اپنا تحفہ ضرور لیتے جانا

جی اور اب اسی وقت آپ کے گھر کی دہلیز پر قدم رکھونگا جب ایک ہاتھ میں چاندی کی طشتری اور دوسرے میں

سونے کے جڑاؤ کنگن ہونگے

جو تمہارے پاس کبھی ہونگے نہیں

شائد اور جو کچھ آپ نے کہا میں نے سن لیا اور اب ایسا ہی ہو گا ‘ نہ نو من تیل ہو گا نہ ہی رادھا ناچے گی ‘

آپ نے لفظوں کی لچھمن ریکھا کھینچ دی ہے اور یہ سادھو اب آپ کے گھر کے پھیرے کبھی نہیں لگاۓ گا

کبھی نہیں البتہ اس سنسار کے ریت رواج اور موہ مایا گے جال سے جب نکل آئیں گی تو میں برگد

کے اسی پیڑ کے نیچے بیٹھا ہونگا جہاں ہم پہلی دفعہ ملے تھے

جاری ہے

…….………

شہر زاد ۔ قسط نمبر 21

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

 

گھر جا رہے ہو گھر چھوڑ کر جا رہے ہو یا مجھے چھوڑ کر جا رہے ہو

تم مجھے فیصلہ سنا رہی ہو میرا فیصلہ سننا چاہتی ہو یا فیصلوں کا وقت گذر چکا ہے

یہ میرے ہاتھ میں چاندی کا سکہ ہے اسے فضا میں اچھال دیتے ہیں

heads

میرا فیصلہ

tails

جو تم چاہو

تم چاہتی ہو میں اپنی تقدیر کا فیصلہ ایک دھات کے بنے ہوۓ سکے کے رحم و کرم پر چھوڑ دوں

اگر میں تمہاری تقدیر ہوں تو ہم دونوں ایک بے مطلب اور بے معنی بحث میں کیوں الجھے ہوۓ ہیں

مجھے نہیں تمہیں شوق ہے بنا بات کو بتنگڑ بنانے کا  لفظوں کے کھیل تم کھیلتی ہو  میں نہیں شائد تمہاری جھوٹی

انا کو اس سے تسکین ملتی ہے

مجھے ایسے کیوں لگ رہا ہے تم مجھے آزمانا چاہتے ہو کہ اگر تم گھر چھوڑ کر نکل گیے تو میں تمہیں روکنے کے لیۓ تمہارے

پیچھے آونگی یا نہیں آؤنگی  ۔ ٹھیک ہے کر لو اپنی خواہش پوری ۔ میں بہت دور سے آئ ہوں تمہیں ڈھونڈتی ہوئ اس لیۓ بھاگو

جہاں تک بھاگ سکتے ہو میں ننگے سر اور ننگے پاؤں تمہارے اس چھوٹے سے شہر کی ہر گلی اور  ہر بازار کی خاک

چھانتے ہوۓ بھی تم تک پہنچ جاؤں گی اور ہاں وہ برگد کے پیڑ کی دھمکی کسے دے رہے تھے  میں یہاں کھڑی ہوں

دروازے کے آگے ہمت ہے تو یہاں سے نکل کر دکھاؤ یہیں دروازے کی چوکھٹ پر ہی ہم دونوں کی سمادھی بنا دونگی

اعجاز بیٹا

جی امی

یہ اتنے قیمتی اور نایاب ریکارڈ تمہارے ہاتھ کیسے لگ گیے

کونسے ریکارڈ

وہی جو  ڈائننگ ٹیبل پر پڑے تھے میں نے اٹھا  کر لائبریری میں رکھ دئیے تھے تم نے بتایا نہیں کہاں سے لیکر آئ ہو

آپ پتہ نہیں کیا کہہ رہی ہیں  میں نے تو عرصہ دراز سے کوئ ریکارڈ نہیں خریدا

جی وہ ریکارڈ میں لایا تھا سوچا شائد آپ لوگوں کو پسند آئیں

 پسند آئیں  ۔ اعجاز سنا تم نے  چائکوسکی ، رخمانانوف اور شائسٹو کووچ  اور یہ لڑکا کہہ رہا ہے آپ کو پسند آئیں گے

اے

guys

  کوئ مجھ سے بھی پوچھے گا میں بھی اسی  گھر میں رہتی ہوں یہ کونسے ریکارڈز کی بات ہو رہی ہے اور

میں کیوں اس بارے میں لاعلم ہوں ۔ اے بلخ بخارا تم سے تو میں بعد میں سمجھوں گی پہلے یہ بتاؤ مجھ سے چھپا کر

کب سے کام کرنے لگے اور یہ ریکارڈ کہاں سے آۓ کب آۓ اور مجھے کیوں نہیں بتایا اور سچ سچ بتانا ورنہ یہ سب

ریکارڈ تمہارے روڈے سر پر توڑ دونگی

اے لڑکی باؤلی ہوئ ہے کیا ایک تو وہ بیچارہ تمہارے لیے اتنا اچھا تحفہ لیکر آیا ہے اور بجاۓ شکرگذار ہونے کے

تم اسے صلواتیں سنا رہی ہو بھلے کا تو لگتا ہے زمانہ ہی نہیں رہا میں جا رہی ہوں اپنے کمرے میں  چاۓ بنا کر رکھی

ہوئ ہے رسوئ گھرمیں  لے آنا

اونہہ چاۓ بنا کر رکھی ہے گھر داماد کے لیۓ اسی لیۓ مزاج نہیں ملتے حضور کے  جاؤ اٹھا لاؤ چاۓ کا ٹرے خود ہی

میں نہ تو تمہاری داسی ہوں اور نہ ہی گماشتہ

جی شکریہ میں چاۓ کا اتنا رسیا نہیں ہوں

لسی  لا دوں اپنے رانجھن کو  ایسا کرو تم یہاں بیٹھو میں ابھی بازار سے ایک گاۓ خرید کر لاتی ہوں اس کا

دودھ دوہوں گی ایک بڑٖی سی چاٹی میں ڈالوں گی اسے بلو کر مکھن نکالوں گی اور ایک بڑے سے کٹورے میں

چھاچھ نکال کر سیالوں کی یہ ہیر تخت ہزارے کے اس رانجھے کو پیش کر دیگی ارے ہاں تم تو سچ مچ ہزارہ کے رہنے

والے ہو

what a coincidence

ہاہاہا  اور وہ چاۓ اندر سے لے ہی آؤ تمہیں نہیں پینی تو نہ سہی میں پی لونگی

اور اگر پی بھی لو گے تو کیا ہوا تمہارا رنگ نہیں کالا ہو جائگا آگ کونسے چٹے ہو اور یہ لمبا سا سانس کیوں لیا تم نے

تنگ آ گیے ہو میری باتوں سے  اے شہزادہ سلیم تیری انار کلی  یہاں دروازے کے پاس کھڑی کھڑی تھوڑی

تھک گئی ہے اسے زرا سہارا دیکر صوفے تک لے چل

کیوں کرتی ہو یہ سب کچھ  بیٹھو بلکہ لیٹ جاؤ صوفے پر میں چاۓ لیکر آتا ہوں

 نہیں مجھے نہیں پینی چاۓ تم بیٹھو یہاں میرے پاس اور باتیں کرو مجھے اس سے بڑا سکون ملتا ہے

جواب نہیں دیا تم نے کیوں کرتی ہو اس طرح کی باتیں  جن سے تمہارے اعصاب پر  شدید قسم کا  دباؤ پڑتا ہے

میری فکر مت کرو میں ٹھیک ہوں اب ۔ ناراض ہو مجھ سے

نہیں تو میں بھلا کیوں ناراض ہونے لگا تم سے

تو پھر نظریں کیوں چرا رہے ہو مجھ سے میری طرف دیکھ کر جواب دو

وہم ہونے لگا ہے تمہیں  خاموش نہیں رہ سکتیں تھوڑی دیر کے لیۓ

کیوں چپ رہوں بیمار ہوں کیا میں اور ہاں کہاں ہے وہ سارے فساد کی جڑ تمہارا انمول تحفہ

لیٹی رہو میں لیکر آتا ہوں بھاگا نہیں جا رہا  کہیں تمہارا تحفہ عجیب لڑکی ہو تم

پہلے لینے کے لیۓ تیار نہیں تھیں سو قسم کے کیڑے نکالے تم نے اور اب اتنی بے صبری کا مظاہرہ ہو رہا ہے

ہاں ہاں تمہیں کیا تم تو بھاگنے کے لیۓ پر تول رہے تھے  ریکارڈ  نہ ہوۓ میری سوت ہو گئ میرا بنا بنایا گھر ان کی

وجہ سے برباد ہونے والا تھا  ۔

God in heavens

  جیدی یہ ریکارڈز کہاں سے ملے ہیں تمہیں

  they are priceless

سچ بولنا تم نے اپنی ساری

pocket money

تو  ان پر خرچ نہیں کر دی  کہیں  نہیں تمہارے پاس اتنے پیسے ہو ہی

نہیں سکتے

you must have sold your soul to the devil

اور دوسری بات یہ ریکارڈ تو مارکیٹ میں

دستیاب ہی نہیں تمہیں کہاں سے ملے  کسی لائبریری سے اڑا کر لاۓ ہو یہ سب

original

اور روس کے بنے ہوۓ ہیں

آپ اپنا سانس تھوڑا درست کر لیں تو کچھ کہوں  اور آپ میری کوششوں کو سراہنے کی بجاۓ مجھ پر چوری اور

راہزنی کا الزام لگا رہی ہیں ۔ اور آپ نے ٹھیک کہا یہ ریکارڈ روس ہی کے بنے ہوۓ ہیں اور میں انکو خریدنے کے

لیۓ سینٹ پیٹرز برگ گیا تھا ۔ سوچا لوگ اپنی محبوبہ کے لیۓ چاند تارے توڑ کر لا سکتے ہیں تو میں ساتھ والے ملک تک

کا سفر کیوں نہیں کر سکتا ۔ اور پلیز اب بیچ میں بات مت کاٹنا لاہور اردو بازار گیا تھا اپنے کالج کی کتابوں کے سلسلہ میں

ساتھ ہی انار کلی بازار ہے سوچا اس کا بھی چکر لگا لوں

کیوں الو بنا رہے ہو انار کلی میں کونسی ریکارڈ کی دوکان ہے

آپ پھر بن بلاۓ مہمان کی طرح بیچ میں ٹپک پڑیں میں نے کب کہا کہ ریکارڈ کسی دوکان سے خریدے

تو ریکارڈ کیا خود چلتے ہوۓ تم تک پہنچ گیے

ارے تمہیں آم کھانے سے غرض ہے یا پیڑ گننے سے کون لایا کہاں سے لایا کیسے لایا بندہ خدا انار کلی بازار جہاں ختم

ہوتا ہے وہاں فٹ پاتھ پر لوگ پرانی سیکنڈ ہینڈ کتابیں وغیرہ بیچتے ہیں  میں وہاں سے گذر رہا تھا تو میری نظر ان

ریکارڈوں پر پڑی مول تول کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑی وہ بیچارہ کتنے دنوں سے لیکر بیٹھا ہوا تھا کہنے لگا باؤ جی

پانچ روپے دو اور سارے ریکارڈ اٹھا کر لے جاؤ ۔ اور اب مجھے جانے کی اجازت دو سیدھا پیر بابا کی زیارت پر جاؤں

گا میں نے منت مانگی تھی کہ اگر ریکارڈز کا یہ قصہ آج ختم ہو گیا تو دیگ چڑھاؤں گا ۔ شکر اللہ کا ریکارڈ نہ ہوۓ

قصہ چہار درویش ہو گیا ۔

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

 شہر زاد ۔ قسط نمبر22

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

پیا چلے سسرال

تم  رہتے کہاں ہو کبھی بتایا نہیں تم نے اور یہ مت کہنا اپنے گھر میں رہتا ہوں اور میں آگے سے کہونگی تمہارا گھر میرے

دل میں ہے جہاں تم کرایہ دیے بغیر  مدتوں سے رہ رہے ہو تم کہو گے گھر کونسا گھر کیسا گھر تم اس سونے اور چاندی سے

بنے ہوۓ پنجرے کو گھر کہتی ہو جہاں سواۓ  ایک خوشگوار سی دھڑکن کے مجھے اور کوئ آواز سنای نہیں دیتی  ایک

مدہوشی سی طاری رہتی ہے مجھ پر جب بھی تھوڑا سا ہوش میں آتا ہوں تم پھر  پیار کی تھپکیاں دے دے کر سلا دیتی ہو

قیدیوں سے بھی بھلا کوئ کرایہ مانگتا ہے میں کہونگی کوئ پابند

سلاسل نہیں جو اپنے آپ کو زنداں میں تصور کرتے ہو جہاں

تمہیں رکھا ہے وہی تو مہبط انوار ہے میری اور تمہاری روح

کا مسکن ہے  اور روح جو خالق و مالک کی سب سے اعلی و ارفع تخلیق ہے مصور ارض و سماں کا سب سے حسین شاہکار ہے  اسے دنیاوی موجودات باندھ کر نہیں رکھ سکتیں

تو آخر آپ نے  دنیا کو  دکھانے کے لیۓ مادیت کا جو  مصنوعی لبادہ اوڑھ رکھا تھا  اتار کر پھینک دیا آپ کی زبان جو کچھ کہتی

رہی وہ میں سنتا تو رہا لیکن اعتبار نہیں کیا کبھی کیونکہ آپ کی آنکھیں اور دل آپ کی باتوں کا ساتھ نہیں دے رہے تھے

کس سے اور کیوں چھپتی پھر رہی ہو جس طرح کی باتیں تم مجھ سےکہتی ہو ان سے وقتی طور پر جسمانی آسودگی تو مل جاتی ہے لیکن روح کھوکھلی ہو جاتی ہے

اے فلاسفر سب باتوں کا جواب تمہارے پاس ہے تو سوال کیوں پوچھتے ہو  رہی میری حظ اٹھانے والی بات تو ایسا نہیں

جیسا تم سمجھتے ہو مجھے مزہ تم سے چھیڑ خوانی کرنے کا نہیں آتا البتہ تمہارے ردعمل سے میں ضرور محظوظ ہوتی ہوں اور

رہی بات میری روحانی بالیدگی کی تو تمہاری موجودگی میں میرا جسم و جان سب کچھ محفوظ ہے

روح کسی عابد و زاہد کی ہو یا میرے جیسے عاصی کی روح تو روح ہے میرے پروردگار کا پرتو جب نفس ہی نہیں تو نفسا نفسی

کیسی تگ و دو کیسی بھاگ دوڑ کیسی گناہ اور ثواب کیسا لے دے کر ایک بیچارہ جسم ہی تو رہ جاتا ہے اسے بھی عبادت

اور ریاضت کے شکنجے میں جکڑ دوں تو زندگی میں رہ کیا جاتا ہے روح تو سب کی ایک جیسی ہیں وہ کیا شعر ہے ارے

بتاؤ نا وہ کیا شعر  ہےکمبخت کبھی وقت پر یاد نہیں آتا ہاں یاد آیا

              ایک ہی صف میں کھڑے ہو گیے محمود و ایاز

                     نہ کوئ بندہ رہا اور نہ کوئ بندہ نواز

اے گرو گھنٹال تھوڑی مدد کرو اپنی دولہن کی مجھے لگتا ہے میں نے تمہاری راہ پر چلنے کی کوشش میں اپنی راہ بھی

گم کر دی ہے ایک بھول بھلیوں میں پھنس کے رہ گئ ہوں پتہ نہیں کیا کہنا تھا مجھے اور اب بات مکمل ہی نہیں

کر پا رہی تم پر اپنی علمیت کا رعب ڈالنے کے کیے ایک الٹا سیدھا شعر بھی پڑھ دیا

تمہیں پتہ ہے اللہ تعالہ نے زبان کو دانتوں کے حصار میں کیوں رکھا ہے

نہیں تم بتاؤ تمہیں پوچھ کر ہی کیا ہو گا مسٹر عقل کل

آپ سے جواب بن نہ پڑے تو زاتیات پر اتر آتی ہیں   ‘ سن لو اور یاد رکھنا زبان جس مادے سے بنی ہے اس میں

کوئ بریک نہیں ایک دفعہ چل پڑے تو رکنے کا نام نہیں لیتی اس لیۓ اللہ میاں نے اس اٹھا کر دانتوں کے

بیچ میں ڈال دیا کہ جب بھی وہ اپنی حدود سے تجاوز کرے دانت اسے کاٹ کھائیں  اور اگر انسان پھر بھی  نہ سنے

تو وہی حشر ہو گا جو آپ کا ہوا ہے آپ نے اپنی زبان سے اپنے دامن کو اتنا وسیع کر لیا ہے کہ اب وہ آپ

سے سمٹ نہیں رہا  سو بھگتیے

تمہیں مدد کرنے کو کہا تھا لیکچر دینے کے لیۓ نہیں  خیر چھوڑو ان باتوں کو میں نے تم سے کچھ پوچھا تھا

مجھ سے کچھ پوچھا تھا مجھے تو یاد نہیں پڑتا آپ ہمیشہ اپنی کہتی ہیں مجھ سے کوئ چیز کیوں پوچھیں گی

بیچارا ۔ تم ہر بات کو لفظوں کی رام لیلا بنا کر کیوں پیش کرتے ہو  میرے آنے والے پچاس سو سال کیا

ایسے ہی crossword puzzle حل کرتے ہوۓ گذریں گے ۔  پوچھا تھا کہاں رہتے ہو کوئ گھر

گھروندا ہے تمہارا یا یہاں سے نکل کر ریلوے سٹیشن کے مسافر خانے میں جا کر مونہہ لپیٹ کر سو جاتے ہو

مجھے بیاہ کر ساتھ لے جاؤ گے یا امی تمہیں اپنی فرزندگی میں قبول کرنے کے ساتھ ساتھ مکان اور دوکان

بھی دیں گی  یا پھر یہ عمر عیار کی زنبیل جو ہر وقت تمہارے کندھے سے لٹکی ہوتی ہے اس میں سپنوں کا کوئ

محل بھی چھپا رکھا ہے

زیادہ بولو گی تو ہمیشہ کی طرح تھک جاؤ گی ۔ ابھی سے سسرال جانے کا شوق ہے تو بولو کسی دن تمہیں لے چلونگا

ویسے جہاں تم مجھے پہلی بار ملی تھیں وہاں  سے زیادہ دور نہیں ۔ بولو چلو گی میرے ساتھ ابھی اسی وقت

تم ساتھ چلو گے تو کیوں نہیں جاؤنگی مگر اسی وقت میرا مطلب ہے میرے پاس تو کوئ ڈھنگ کے کپڑے بھی نہیں

نہیں نہیں ایسے کیسے جا سکتے ہیں  پہلے یہاں سے سیدھے کسی بوتیک میں جا کر کمخواب کو جوڑا خریدیں گے وہاں

سے بیوٹی پارلر اور پھر  ۔۔۔ عجیب لڑکی ہو مکان دیکھنے جارہی ہو وہ بھی باہر سے مکینوں سے ملنے کا وقت

ابھی بہت دور ہے اور بن سنور کے اس وقت بیٹھنا جب میرے گھر والے تمہیں دیکھنے آئیں گے ۔ میرے پاس

ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہیں ارے تمہارے پاس سواۓ اس کالے برقعے کے  اور ہے کیا ہو گا بھی تو میں نے تو تمہیں

ہمیشہ انہی کپڑوں میں ملبوس دیکھا ہے ۔ میری مانو تو اس کالے برقعے کو بھی خیرات میں دے دو اور وہ سفید

رنگ کا شٹل کاک برقعہ خرید لو خوب سجے گا تم پر محترمہ کہہ رہی ہیں میرے پاس ڈھنگ کے کپڑے نہیں اور

اب مجھے اس بلی کی طرح کیوں گھور رہی ہو جو بیچارے معصوم سے کبوتر پر جھپٹنے ہی والی ہو اور یہ پیپر ویٹ

کیوں اٹھا لیا ہے تم نے دیکھو پھینکنا نہیں بلور کا بنا ہوا ہے مجھے چوٹ بھی لگ سکتی ہے   ارے بابا میں

مذاق کر رہا تھا دیکھو مجھے   لگ جاۓ گی   ارے بابا سنو تو  ۔ ۔ ۔

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد ۔ قسط نمبر 23

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

ہیملٹ سے بیل گاڑی تک

اے تمہارا سانس کیوں پھولا ہوا ہے بھاگتے ہوۓ آۓ ہو کیا

شروع ہو گئ آپ کی تھرڈ ڈگری کیوں آۓ ہو کہاں سے آۓ ہو دیر سے کیوں آۓ ہو اتنے سوال تو مجھے یقین ہے

منکر نکیر بھی نہیں پوچھتے ہونگے جتنے آپ کرتی ہیں اور اب اگر آپ کی اجازت ہو تو بیٹھ جاؤں

ارے تمہارا مونہہ اور ناک دھواں اور آگ اگل رہے تھے سو پوچھ لیا کہ شائد میرے شہزادے کو گلی محلے کے

آوارہ کتوں نے گدڑی پوش فقیر سمجھ کر حال احوال پوچھ لیا ہو کیونکہ تمہارا حلیہ کچھ ایسا ہی ہے

کیوں کیا خرابی ہے میرے حلیے میں اور آپ کی اطلاع کے لیۓ کائنات کی سب سے خوبصورت لڑکی سے دوستی ہے

میری ایسا ویسا نہ سمجھیے گا مجھے

اس لڑکی کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہو گا یا پھر اسے اندھے کی لاٹھی بننے کا شوق ہو گا یا پھر بیچاری تمہاری چکنی چپڑی

باتوں پر مر مٹی ہو گی لچھے دار باتیں تو تم خوب کر لیتے ہو

with that sweet tongue you can easily charm the skin off a snake

تمہاری آنکھوں میں جو شرارت بھری ہوئ ہے اس سے لگتا ہے تم جو کہنا چاہتی تھی وہ کہہ نہیں سکی

اعجاز

جی امی

ہیملٹ میں شیکسپییر نے عورت کے بارے کیا گل فشانی کی ہے

frailty , vanity or virtuosity thy name is woman

ٹھیک طرح سے یاد نہیں آ رہا

جی میرا خیال ہے

frailty

لیکن اگر آپ کا بس چلے تو آپ اس کو بدل کر

virtuosity

کر دیں حالانکہ ڈرامے کے

لحاض سے جو شیکسپیر نے لکھا وہی زیادہ مناسب ہے

جاوید

جی خالہ جان

تمہاری زبان میں بے لگام گھوڑے کو کیا کہتے ہیں

اعجاز ۔ جی معاف کی جیے گا میرا کہنے کا مطلب ہے وہی جو آپ کی زبان میں کہتے ہیں

شکریہ بیٹا میرا بھی یہی خیال تھا ۔ معاف کرنا تم دونوں کی باتوں میں مخل ہوئ

ہاہاہا سرزنش کا اس سے بہتر انداز میں نے پہلے نہ کبھی دیکھا نہ سنا ہاہاہا

serves you right my love

ہاہاہا

تم کس فتح کے شادیانے بجا رہے ہو اور آخر میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے جو مجھ پر ہر طرف سے عتاب کا نزول

ہو رہا ہے

کہا تو نہیں پر کہنے تو والی تھیں کم از کم سوچا تو تھا کہنے کے بارے میں شریف زادیوں کی سوچ پر بھی پہرے ہوتے ہیں

اور عورت جسمانی کلامی یا روحانی طور پر کائنات کی خوبصورت اور حسین ترین مخلوق ہے جب تک کہ وہ

شرم و حیا کے الہامی پردوں میں لپٹی ہوئ ہو اور اس کے بغیر وہ سنگ مرمر کا تراشہ ہوا ایک بے جان اور بے روح

مجسمہ تو ہو سکتی ہے عورت نہیں

اور تم تو جیسے دودھوں دھلے ہو ‘ شکر نہ گڑیا شرم وحیا کی پڑیا ‘ سارا دن اور رات میرے کانوں میں پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہتے ہو

اس کا عشرعشیر بھی میں تمہاری پروفیسر صاحبہ کو بتا دوں تو کھڑےکھڑے کانوں سے پکڑ کر مجھے اور اپنے چہیتے

داماد کو گھر سے نکال باہر کریں

جھوٹی کہیں کی اب کچھ ملا نہیں تو افترا پردازیوں پر اتر آئ ہو میں کبھی تمہارے سر کے قریب تک نہیں آیا اور مجھے یقین

ہے تمہارے کان تمہارے سر سے جڑے ہوۓ ہیں میری جیب میں نہیں پڑے ہوۓ جن سے میں بقول تمہارے

سرگوشیاں کرتا رہتا ہوں

بےشک کہتے نہیں ہو مگر کہنا تو چاہتے ہو نا اور مجھے پتہ ہے تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو اور شریف زادوں کو ایسی باتوں

کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے

کیا کہا تم نے

you crafty little girl

تم نے استغاثہ کا کیس انھیں پر الٹ دیا میری دلیل مجھ پر ہی عائد کر دی

کیوں اب کیا ہوا جس گناہ کا الزام مجھ پر عائد کر رہے ہو اس کا اطلاق تم پر بھی اتنا ہی بلکہ زیادہ ہوتا ہے اور وہ کیا

کہتے ہیں

he who laughs last laughs best

ہاہاہا بڑے آۓ تھے مقدمہ کرنے ہاہاہا

تمہیں تو وکیل ہونا چاہیے تھا بنا پلک جھپکاۓ گھنٹوں جھوٹ بول سکتی ہو

مقدمہ ہار گیے ہو تو کھسیانی بلی کی طرح کھمبا کیوں نوچ رہے ہو

ارے ہاں تمہارے اس کھمبے سے یاد آیا یہ باہر بجلی کے کھمبے کے پاس گاڑی کس کی کھڑی ہے کوئ مہمان آیا ہے

تمہیں ہم تینوں کے علاوہ کوئ اور یہاں نظر آتا ہے ۔ نہیں نا ۔ یہاں قریب کوئ اور گھر ہے کوئ ٹیکسی سٹینڈ

اور یہ ثمن برج والے مہاراج اپنی گاڑیاں اس بڑے سے گیٹ کے اندر لیکر جائیں گے یا باہر سڑک پر ہی چھوڑ

جائیں گے اور آخر میں کب سے آ رہے یہاں اس گھر میں آنکھیں بند کر کے آتے ہو کیا

ارے سچ کہا تم نے یہ گاڑی تو روزانہ ہی یہاں کھڑی ہوتی ہے اور منطق کے لحاظ سے تو یہ گاڑی

باڑ میں گئ تمہاری منطق اور اور انپڑھ جاہل عورتوں کی طرح مجھے کہنا چاہیے پھوٹ گئے میرے نصیب ارے تم

آدمی ہو یا گھن چکر یہ گھر میرا ہے اور اندر جو خاتون بیٹھی ہیں وہ میری ماں ہیں تم کام کے نا کاج کے ڈھائ سیر

اناج کے میرے ہونے والے شوہر نامدار ہو اور جس کے بارے میں اب مجھے سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا تو پھر

یہ گاڑی کس کی ہوئ

عجیب لڑکی ہو تم بھی یہی تو میں بھی پوچھ رہا ہوں کہ آخر یہ گاڑی ہے کس کی ۔ گاڑی نہ ہوئ کوئ آوارہ بیل ہو

گیا کسی کے بھی کھونٹے سے باندھ دو ۔ چلو چھوڑو ہمیں کیا جس کی بھی ہو گی آ کر لے جاۓ گا

ہاں تو ہم لوگ کیا بات کر رہے تھے ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد ۔ قسط نمبر 24

انجان راستے بے نام سفر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

استنبول سے امرتسر تک کا سفر

رانجھیا ‘ اج لال لال بلیاں تے بڑے ہاسے آ رۓ نے ‘ کدھرے رستے وچ ہیر تے نئں مل پئی

اوہ ہو تو آج ہم رام لیلا ہیر رانجھا کے روپ میں کھیلیں گے اسی لیے آپ لاچہ شاچہ پہن کر بیٹھی ہیں

نہیں میرا ایسا کوئ ارادہ نہیں تم دروازے سے اندر داخل ہوۓ تو تمہارے چہرے پر بڑے سندر سی مسکراہٹ تھی اس

لیۓ سوچا کوئ جاننے یا پھر جاننے والی مل گئی ہو گی اس لیۓ پوچھ لیا

جی جاننے والی ستر برس کی بڑھیا کسی زمانے میں ہمارے محلے میں ایک حویلی نما گھر میں رہتی تھیں اور یہ وہی حویلی ہے

جہاں اب آپ کے زاتی معالج ڈاکٹر برکت علی رہتے ہیں ہمارے کھیل کا میدان اور ان کا گھر بالکل آمنے سامنے تھے

اس لیۓ کھیل کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ہماری کرکٹ کی گیند ایک

شرارتی بچے کی طرح حویلی کے در ودیوار اور کھڑکیوں پر دستک دیتی رہتی تھی اور اس کے بعد وہ سارا علاقہ کھیل کامیدان

کم اور میدان کارزار زیادہ لگتا تھا یہ لوگ تقسیم ہندوستان سے پہلے کرنال میں رہتے تھے اس لیۓ کٹی پھٹی سی اردو بولتے ہیں

لڑائ شروع ہوتے ہی پہلے الزام تراشی ہوتی پھر مغلظات کا آزادانہ تبادلہ ہوتا اور آخر میں ہم لوگ نیچے سے چھوٹے چھوٹے

پتھر اور اینٹیں گولہ اور بارود کی طرح ان کی طرف پھینکتے اور اوپر سے سارے گھر کے سو ڈیڈھ سو چولہوں میں جلے ہوۓ

اپلوں کی راکھ ہمارے سروں پر انڈیل دی جاتی ۔ ان بڑی اماں کی ہمارے گھر والوں سے تھوڑی جان پہچان تھی اس لیۓ

ہمیشہ میرا نام لیکر کہتیں ‘ ارے بٹ صاحب تجھے تو ایک دن پلیگ کا گولہ لگے گا ‘ آج برسوں بعد راستے میں ان سے ملاقات ہو گئ

اتنے تپاک سے ملیں کہ پوچھو مت دیکھتے ہی پہچان لیا گلے لگایا ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں میں نے بھی چھوٹتے ہی کہا بڑی اماں

آپ تو پہلے سے بھی زیادہ جوان اور حسین لگتی ہیں

اچھا تو اسی لیۓ بڑے خوشگوار موڈ میں اندر آۓ تھے ۔ یہ عورتوں سے بات کرتے ہی تمہاری زبان میں اتنا لوچ کیوں

پیدا ہو جاتا ہے کھلنڈرے کہیں کے ۔ میں یہاں ساری ساری رات اور دن تمہارا انتظار کرتی رہتی ہوں اور تم باہر دوسری

عورتوں کے ساتھ گلچھرے اڑاتے رہتے ہو ۔

ارے تمہیں کس بات کی اور کیوں جلن ہو رہی ہے وہ اسی سال کی بوڑھی خاتون اتنے پیار اور سلوک سے ملیں تو میں کیا

انھیں جواب میں اٹھا کے پتھر مار دیتا ہم خاندانی اور وضع دار قسم کے لوگ ہیں مروت بھی کوئ چیز ہے میری امی کہتی ہیں کہ عورتوں سے ہمیشہ عزت اور احترام سے ہیش آنا چاہیے تو آپ کیوں اتنی لال اور پیلی ہو رہی ہیں

اے میاں مجنوں آپ کی امی نے یہ تو کبھی نہیں کہا ہو گا کہ گھر میں ایک عدد جوان اور خوبصورت بیوی بیٹھی ہو اور آپ

باہر اجنبی عورتوں کے حسن اور جوانی کے قصیدے پڑھتے رہیں ۔ تمہارے انہی لچھنوں کی وجہ سے مجھے ہمیشہ دھڑکا سا

لگا رہتا ہے کہ میں یہاں اس کمرے میں تمہارا انتطار کرتے کرتے کھجور کے درخت کی پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاؤں گی

اور تم کسی اور چھیل چھبیلی کی بانہوں میں بانہیں ڈالے

sunset boulevard

کی سیر کر رہے ہو گے اور یہ بڑی اماں

کیا کہہ کر گالی دیتی تھیں تمہیں زرا دوبارا کہنا

کونسی گالی

ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ تمہارا نام لیکر بد دعا دیتی تھیں

ارے وہ کچھ نہیں ایسے ہی ہم لوگ بھی تو آۓ دن ان کی کھڑکیوں کے شیشے توڑتے رہتے تھے غم اور غصے کی حالت

میں انسان کچھ بھی کہہ دیتا ہے سو انہوں نے بھی کہہ دیا کہ تمہیں پلیگ کا گولہ لگے

اور اس سے پہلے کیا کہا

اس سے پہلے کیا کہا

میں بتا نہیں پوچھ رہی ہوں اس حجام نے بالوں کے ساتھ تمہارے کان بھی کاٹ دیے کیا سنائ نہیں دیتا تمہیں ٹھیک

طرح سے ‘ وہ عورت تمہیں بٹ صاحب کہہ کر کیوں مخاطب کر رہی تھی ‘

گالی دینے سے پہلے اس نے مجھ سے نہ تو مشورہ کیا تھا اور نہ ہی میری راۓ مانگی تھی اس نے مجھے برا بھلا کہنا تھا سو

کہہ لیا اور تمہیں کس چیز پر اعتراض ہے ‘ صاحب پر بٹ پر یا پلیگ پر ‘ اور کیوں

اس نے تمہیں بٹ کیوں کہا

مجھے بٹ کیوں کہا اور کیا کہتی اور یہ بٹ کیا کوئ persona non grata ہیں جو آپ اتنی معترض دکھائ دیتی ہیں

ہاں ہاں تمہیں ایسا کیوں کہا اس نے اور آسان زبان میں بات کیا کرو تمہاری زیادہ تر باتیں تو اس شعر کی مصداق ہیں

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہان من

اعجاز بیٹا

لو اب ان کی بھی سن لو یہ تمہاری ساس بھی نا عزرائیل کی طرح بے وقت نازل ہو جاتی ہیں

جی امی

میرا ہیڈ فون نہیں مل رہا اور ہاں جو سوال تم اپنی سہیلی سے کر رہی ہو اسکا جواب میں دے دیتی ہوں

جی آپ کا ہیڈ فون سنگھار میز پر پڑا ہوا ہے اور یہ آپ میرے کس سوال اور کونسی سہیلی کی بات کر رہی ہیں

وہی سہیلی جو تمہارے سامنے کرسی پر تشریف فرما ہے اور رہا تمہارا یہ سوال کہ اس عورت نے اسے بٹ صاحب

کیوں کہا تو اس عورت نے غلط بیانی سے کام نہیں لیا کیونکہ تمہاری دوست آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ہے

اور اب آپ نے بھی پہیلیوں میں باتیں شروع کر دیں

میرا خیال ہے سوال کا بقیہ جواب اپنی دوست سے پوچھو تو بہتر ہے

اے میاں مٹھو بولنا شروع کرو ورنہ آج سے تمہاری چوری بند

سوال بعد میں پہلے یہ بتاؤ پروفیسر صاحبہ مجھے تمہاری سہیلی کیوں کہہ رہی تھیں

اس لیۓ کہ میں جب بھی تمہیں پیار سے کچھ کہوں تم جواب دینے کی بجاۓ میرے دوپٹے کے پلو میں مونہہ چھپا

لیتے ہو یا پھر بڑے بڑے لفظوں ٖ کی چادر اوڑھ لیتے ہو

اور کیا کروں تم جس طرح کی سرگوشیاں میرے کانوں میں کرتی ہو ان کا واحد علاج میرے پاس یہی ہے کہ میں

سر کو تمہارے پیچھے چھپا لوں اور گوش میں انگلیاں ڈال لوں تا کہ ‘ نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بنسری ‘

اب رہا تمہارے سوال کا جواب تو جیسے آپ کی امی حضور نے بڑی شائستہ زبان میں کہا میں آدھا تیتر اور آدھا

بٹیر ہوں میرے والد محترم ترکی سے بلخ بخارا اور قابل اور وہاں سے صوبہ سرحد پہنچے اور والدہ ماجدہ امرت سری

کشمیری ہیں اب بولیے قبول ہوں قبول ہوں قبول ہوں

جاری ہے

شہر زاد ۔ قسط نمبر 25

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

زینب کے نام

امی سنا یہ آپ ٖکے چہیتے داماد کیا کہہ رہے ہیں

تم ان کے سامنے مجھے انکا داماد کہتی ہو

تو اور کیا کہوں جو تمہارا رشتہ ہے وہی کہونگی نا

اور وہ آگے سے تمہیں کچھ نہیں کہتیں

ارے وہ ساتھ والے کمرے میں بیٹھی ہیں جا کر خود ہی پوچھ لو میرا خوامخواہ کیوں دماغ چاٹ رہے ہو

لگتا ہے ساارا آوے کا آوا ہی الٹا ہوا ہے اور وہ گاڑی کا کیا قصہ تھا تم نے بتایا نہیں ابھی تک آخر

وہ گاڑی ہے کس کی کہیں چوری چکاری کی نہ ہو اور تم لوگ خوامخواہ میں کسی مصیبت میں پھنس جاؤ

تم میری طرف ایسے کیوں دیکھ رہی ہو جیسے مجھے جانتی ہی نہیں

میں دیکھ نہیں سوچ رہی ہوں کہ آیا تم وہ ہو جو نظر آتے ہو معصوم سیدھے سادھے سے یا وہ جو

ارستو اورسقراط کی طرح باتیں کرتا ہے اور اگر یہ دونوں اندازے غلط ہیں تو میں تمہاری گرفتار محبت کیوں

ہوں کیونکہ تمہارے سر میں بھس بھرا ہوا ہے

damn it this is my car

آنسہ اعجاز ہم ایک چھوٹے سے شہر میں رہتے ہیں اور آپ نے وہ گیت تو ضرور سنا ہو گا

Sometimes you want to go

Where everybody knows your name

ایسے لگتا ہے جیسے یہ گانا ہمارے ہی جیسے شہر کے بارے میں لکھا گیا تھا ۔ یہاں آنے کے لیۓ اپنے گھر سے نکلتا

ہوں تو راستے میں جتنے لوگ ملتے ہیں سبھی مجھے جانتے ہیں اور میری بھی ان سے شناسائ ہے ۔ اس شہر میں گنے چنے لوگ ہیں

جن کے پاس گاڑی ہے اور میں ان سب کو جانتا ہوں اور میں پہلے دن سے جانتا ہوں کہ یہ گاڑی آپ کی ہے میں تو صرف

یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آپ کب اور کس وقت مجھے کچھ اپنے اور اپنی فیملی کے بارے میں بتائیں گی اب یہ تو ناممکنات میں سے

ہے کہ آپ راولپنڈے سے لاہور کے لیے نکلیں وزیرآباد ریلوے سٹیشن پر آپ نے اس بندہ ناچیز کو دیکھا دیکھتے ہی مجھ پر فدا

ہو گئیں اور پھر کچھ گھنٹوں یا دنوں بعد ایک بڑی سی گاڑی اتنا عالیشان مکان اور اس میں آپ کی دلبستگی کا ہر سامان کیا آسمان

سے ٹپک پڑا یا تو آپ کے پاس الہ دین کا طلسماتی چراغ ہے یا پھر

ناراض ہو مجھ سے امی نے کہا تو تھا کہ تمہیں اپنے بارے میں سب کچھ بتا دوں پتہ نہیں کیوں لیت و لعل سے کام لے رہی تھی

میں ناراض کیوں ہونے لگا ۔ خواجہ صاحب اس شہر کے رؤسا میں شمار کیے جاتے ہیں اور تمہاری یہ بڑی سی گاڑی بیسییوں

دفعہ میں نے ان کے گھر کے باہر کھڑی دیکھی ہے اور تمہاری لائبریری میں کتنی ہی کتابوں پر تمہارا پورا نام لکھا ہوا ہے

خواجہ blah blah blah میں لوگوں کی ٹوہ میں نہیں لگا رہتا لیکن گاڑی والے خواجہ صاحب اور تم میں تعلق قائم کرنا

کوئ ایسا مشکل کام نہیں تھا بحرحال چھوڑو ان باتوں کو

اے کیا بات ہے آج کچھ کھوۓ کھوۓ سے لگ رہے ہو کچھ ہوا کیا

نہیں کوئ ایسی خاص بات تو نہیں

کیا بات ہے بولو نا

ہمارے محلے میں ایک گھر کی نچلی منزل میں چند غریب لوگ رہتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کچھ فقیر رہتے ہیں میں اکثر

ان کے پاس جا کر بیٹھا رہتا ہوں اب بھی وہیں سے اٹھ کر آ رہا ہوں

تم اپنا اکثر و بیشتر وقت اس شہر کے فقیروں کی رفاقت میں گذارتے ہو

why am I not so surprised

تم تھوڑے

سے سنکی تو ہو اس لیۓ یہ کوئ غیر متوقع چیز نہیں ہے اب آگے بولو آخر ہوا کیا ہے

آج جب میں ان کے پاس گیا تو پتہ چلا کہ زینب کی طبیعت کافی خراب ہے میں نے اسے کہا کہ چلو میں تمہیں سرکاری

ہسپتال لیۓ چلتا ہوں لیکن اس نے صاف انکار کر دیا بلکہ مجھے کہتی ہے

don’t meddle in other people’s affairs

اس فقیرنی نے تمہیں انگریزی میں کہا کہ دوسرے لوگوں کے کاموں میں مداخلت مت کرو

آنسہ اعجاز لوگ پیدائشی غریب تو ہو سکتے ہیں فقیر نہیں ۔ اور آپ کو اس کے انگریزی بولنے پر اتنا تعجب کیوں ہو رہا ہے

کیا انگریزی صرف صاحب حیثیت لوگوں کی میراث ہے اور جہاں تک اس غریب عورت کا تعلق ہے تو اس کی بھی سن لو

اس عورت کا نام زینب ہے اچھے خاصے کھاتے ہیتے گھرانے سے تعلق ہے افتاد زمانہ نے کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا

آج سے کچھ عرصہ پہلے میری اور اس کی پہلی ملاقات اسی مکان کی سیڑھیوں پر ہوئ تھی جہاں یہ رہتی ہے میں اوپر سے

نیچے آ رہا تھا اور یہ خاتون اوپر آنے کے لیے سیڑھیوں کے پاس کھڑی تھیں میں تھوڑی جلدی میں تھا اس لیے پاؤں پھسل گیا اور سیدھا اس کی بانہوں میں آ رہا میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ایسے ہی پوچھ لیا آپ اوپر کی منزل پر رہتی ہیں کیا

میری کوئ منزل نہیں وہ سیڑھیوں کے نیچے جو تاریک سی جگہہ ہے وہی میرا بسیرا ہے اس کا جواب تھا

لیکن وہاں تو چند نابینا فقیر رہتے ہیں اور آپ

میں بھی انہی میں سے ایک ہوں اور فکر مت کرو مجھے بھی دیکھے اور سنے ہوۓ ایک زمانہ بیت چکا ہے

یہ کہہ کر وہ اوپر چلی گئ میں تھوڑی دیر وہاں کھڑا رہا اور پھر اس کے پیچھے چلا آیا اب کیا پوچھنا ہے اس نے کہا

آپ کا نام ۔ کوئ مائ جیواں کہتا ہے اور کوئ جینا تم کوئ اور رکھ لو اس نے کہا اور آپ خود اپنے آپ کو کیا

کہہ کر بلاتی ہیں میں نے پوچھا میں اپنے آپ سے باتیں نہیں کرتی لیکن اگر تمہارے لیے میرا نام جاننا اتنا ہی ضروری ہے

تو قلم سے کسی کاغذ کے ٹکڑے یا پھر اپنے ہاتھ پر ہی لکھو زینب تو یہ ہے آپ کا نام میں نے کہا ۔ پہلے پوری بات سن

لو پھر بولو اس نام میں پانچ نقطے ہیں انھیں ایک ایک کر کے مٹا دو اور دوبارا پڑھو ۔ کیا پڑھوں اب تو ایک بے مطلب

اور بے معنی سا لفظ رہ جاتا ۔ اب میرا یہی نام ہے ۔ کاتب تقدیر نے سب کچھ دیا اور پھر ان نقطوں کی طرح ایک

ایک کر کے سبھی کچھ چھین لیا اب کوئ پگلی کہتا ہے تو کوئ دیوانی کوئ گلیاں دے ککھ رولن والی سودین تے کوئ

فقیرنی اب تم بولو تم کیا کہو گے ۔ یہ تھی ہماری دوستی کی ابتدا ۔ میں نے اسے ایک دفعہ کہا بھی تھا پڑھی لکھی ہیں

دارالامان چلی جائیں یہ کیا زندگی ہے سارا دن ریلوے سٹیشن کی سیڑھیوں پر کاسہ گدائ لیے بیٹھی رہتی ہیں آگے سے کہنے

لگی ایک دوزخ سے نکل کر دوسرے جہنم میں چلی جاؤں یہ نہیں ہو گا مجھ سے ۔ کافی ہٹ دھرم سی ہے کسی بات پر

اڑ جاۓ تو ٹس سے مس نہیں ہوتی ۔ میں نے تمہارا زکر کیا تو کہنے لگی کیسی ہے میں نے کہا آپ جیسی ہی سر پھری ہے

لے آؤں کسی دن آپ سے ملوانے کہنے لگی نہیں نہیں میری پرچھائیں سے بھی اسے دور رکھنا تمہیں اچھی لگتی ہے تو

اچھی ہی ہو گی ۔ آج صبح کی ہی سن لو میں نے کہا بیماری بڑھ جاۓ گی میں آپ کو ہسپتال یا کسی ڈاکٹر کے پاس

لیے چلتا ہوں تو الٹا مجھ پر برس پڑی کہنے لگی جس نے غم دیے ہیں اسے ہی دور کرنے دو تم کیا شہر کے قاضی ہو

جو سب کی خبر گیری کرتے پھرتے ہو ‘ اودیاں اوہئ جانے ‘ اگر اس سے میری یہ حالت نہیں دیکھی جاتی تو میری

تقدیر کیوں نہیں بدل دیتا ۔ مجھے کہنے لکی حافظ شیرازی کا وہ شعر تم نے سنا ہے

در کوئے نیک نامی ما را گذر ندادند گر تو نمی‌پسندی تغییر کن قضا را.

یعنی ‘ نیک نامی کے کوچے سے ہمیں گذرنے نہیں دیا گیا اوراگر تمہیں ہمارا نیک نام نہ ہونا پسند نہیں ہے

تو پھر ہماری تقدیر کو تبدیل کر دو

آگئے ہو کر لی شاپنگبس یہ کہہ کر مجھے نکال باہر کیا وہاں سے

یہ تمہیں ہی اس طرح کے لوگ کیوں ملتے ہیں ویسے ہے تو یہ ٹھیک تم بھی کچھ ایسے ہی ہو اور اس قصے کو

سننے کے بعد مجھے پیار کے ساتھ ساتھ تم سے تھوڑا عشق بھی ہونے لگا ہے

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 26

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

پریم پجاری

تم سب عورتوں کا سوچنے کا انداز ایک جیسا کیوں ہوتا ہے

لڑکے اپنی عمر اور تجربے تک کی بات کیا کر ایک ندیا کبھی پار نہیں کی اور صاحبزارے چلے ہیں سمندر میں غوطے لگانے

اے یوسف ثانی ایک زلیخا تو تم سے سنبھالی نہیں جاتی اور پوچھ رہے ہو کہاں ہیں زنان مصر‬‎

زلیخا ۔ کس زلیخا کی بات کر رہی ہو

کیوں میں کیا تمہیں پرانی حویلی کی چڑیل دکھائ دیتی ہوں

مجھے اگر پہلے پتہ ہوتا کہ پرانی حویلی کی چڑیلیں اتنی حسین ہوتی ہیں تو وہ حویلی کب کی آباد ہو چکی ہوتی

اچھا بڑے چہک رہے ہو آج اور یہ عورت زات پر اتنی مہربانی کیوں کہیں وقت سے پہلے تمہارا دودھ تو نہیں چھڑوا

دیا تھا ویسے لگتا تو نہیں کیونکہ ابھی تک نہ تو تمہارے مونہہ سے دودھ کی بو گئ ہے اور نہ ہی تمہارے دودھ کے دانت ٹوٹے ہیں

ویسے آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ عورتوں کی سوچ کے متعلق آپ کیا گل افشانی کرنا چاہتے تھے

آپ مجھے بولنے کا موقعہ دیں گی تو کچھ عرض کرونگا نا اس بات سے مجھے یاد آیا کہ امریکہ میں ایک دفعہ جھوٹ بولنے کا مقابلہ

منعقد ہوا سب سے بڑا جھوٹ بولنے والے کے لیے دس لاکھ ڈالر کا انعام تھا ایک خاتون نے صرف ایک لائن لکھ کر وہ

مقابلہ جیت لیا

مسٹر خان آپ نے آج کے دن کا آغاز خواتین سے کیا تھا اور اب اتنی لمبی تمہید ان کی مدح سرائ کے لیے تو

باندھی نہیں ہو گی سو اپنی جان مال اور آبرو کو داؤ پر لگاتے ہوۓ بتا دیجیۓ کہ اس خاتون نے ایک لاکھ کے لیے

کیا جھوٹ بولا

صرف اتنا کہ ‘ ایک کمرے میں دو عورتیں بیٹھی ہوئ تھیں اور وہاں بالکل خاموشی تھی ‘

ہونہہ بال بال بچ گیے آج میرے ہاتھوں سے اور وہ بھی جان اور مال کی حد تک تمہاری آبرو کا فیصلہ بعد میں کرونگی

ایک بات تو بتاؤ

پوچھو

تم تھکتی نہیں ہو اس طرح کی باتیں کرتے ہوۓ

کس طرح کی باتیں میں کچھ سمجھی نہیں

تم اچھی طرح سمجھتی بھی ہو اور جانتی بھی یہ لفظوں کی آنکھ مچولی جو تم روزانہ میرے ساتھ کھیلتی ہو کیا حاصل ہوتا ہے

تمہیں اس سے آخر میں تمہیں ان باتوں سے کبھی روکتا نہیں اس لیے کہ مجھے تمہاری خوشی بحر حال سب چیزوں سے زیادہ

عزیز ہےاور ایمانداری کی بات تو یہ بھی ہے کہ تم جو کچھ بھی کہتی ہو

I find it a bit amusing

میں اس سوال کا جواب اگر نہ دینا چاہوں تو اور سچ پوچھو تو میرے پاس اس کا کوئ جواب ہے بھی نہیں بس تمہیں اپنے

سامنے دیکھتی ہوں اور جو من میں آتا ہے بنا سوچے کہہ دیتی ہوں اور

I have a confession to make

مجھے تم سے

چھیڑ چھاڑ کرنا اچھا بھی لگتا ہے ۔ چھوڑو اس بات کو تم بولو کیا کہنا چاہ رہے تھے عورتوں کے بارے میں

ارے کچھ نہیں ایسے ہی اپنی امی کی کوئ بات یاد آ گئی تھی

پھر تو میں ضرور سننا چاہوں گی تم کبھی ان کے بارے کچھ نہیں کہتے

کوئ خاص وجہ نہیں بس ایسے ہی ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں ایک دن شاپنگ کر کے واپس آیا تو ایک لڑکی ہمارے گھر سے

باہر نکل رہی تھی ہم نے ایک دوسرے کو ہیلو ہاۓ باۓ کہا وہ اپنے رستے پر ہو لی اور میں گھر کے اندر داخل ہوا

اور اب زرا غور سے ماں اور بیٹے کا مکالمہ سنو

سلام و علیکم امی

جی کر لی ۔ باہر دروازے پر مجھے پریم ملی تھی کسی کام سے آئ تھی کیا

کون پریم

آنٹی مایا کی بھانجی

تمہیں کس نے بتایا اس کا نام پریم ہے

آپ ہی نے بتایا ہو گا

میں نے تو نہیں بتایا مجھے تو اس کا نام ہی نہیں آتا

ماں جی آپ تو میری زبان ہی پکڑ کر بیٹھ گئی ہیں شائد اسی نے بتایا ہو گا کیا فرق پڑتا ہے

اے لڑکے ٹھیک طرح سے جواب دے تو نے اس کا نام پوچھا تھا یا اس نے بتایا تھا

امی اسے ہی بلا کر پوچھ لیں اور مجھے بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دیں

بھوک سے دم نہیں نکلنے والا تیرا اور غور سے میری بات سن چھٹیاں گذارنے آیا ہے ماں کے پاس تو خیر سے

چھٹیاں گذار اور واپس اپنی یونیورسٹی جا اور سن پریم مایا کی بھانجی نہیں بھتیجی ہے یہ لوگ کشمیری برہمن ہیں لڑکی تو

تم نے دیکھ لی ہے کتنی خوب صورت ہے وہ نہ ہو تمہیں مسانوں کی مٹی کھلا کر اپنے ساتھ ہی لے جاۓ اس لیے

اپنا سامان باندھ اور واپس جانے کی تیاری پکڑ

جی بہت اچھا اب مجھے کچھ کھانے کو مل سکتا ہے یا پریم کی اس طلسماتی مٹی سے ہی پیٹ پوجا کرنی ہو گی اور یہ

مسان کیا ہوتا ہے پہلے یہ لفظ کبھی سنا نہیں

اور آئیندہ سنے گا بھی نہیں مسان اس جگہہ کو کہتے ہیں جہاں یہ ہندو لوگ اپنے مردے جلاتے ہیں اور دوبارا میں تمہیں

اس لڑکی کے پاس نہ دیکھوں ورنہ اسی وقت پاکستان چلتا کر دونگی “

اور اب آپ کی ہنسی بند کیوں نہیں ہو رہی یہ کوئ

comedy sketch

نہیں تھا جو میں نے آپ کے گوش گذار کیا

ہاہاہا

serve you bloody right

تم جیسی میٹھی چھری کے ساتھ ایسا ہی لب و لہجہ اختیار کرنا چاہیے اور تمہاری

امی مجھے اچھی بلکہ بہت اچھی لگیں

she is my kind of girl

خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو

اور اس پریم کا پھر کیا ہوا اسکا نام تو تم ایسے لیتے ہو جیسے تمہاری پریمیکا ہو میرے سامنے تو بڑے جبہ و دستار

والے مولانا بن کے بیٹھے ہوتے ہو بلکہ ان سے بھی دو ہاتھ آگے انہوں نے بھی آجکل چار عدد بیویاں گھر میں رکھی

ہوتی ہیں اور باقیوں کو پیری مریدی کے چکر دیکر تعویز گھنڈے بانٹتے پھرتے ہیں ۔ بڑے آۓ پریم پجاری ایک دفعہ

ساسو ماں شگنوں کے کنگھن میری کلائیوں میں پہنا دیں پھر دیکھنا تمہارے ہاتھ پاؤں میں لوہے کی زنجیریں نہ پہنائیں

تو میرا نام اعجاز نہیں

تو پھر میرا اندازہ سچ ہی نکلا کہ سب عورتیں ایک ہی انداز میں سوچتی ہیں

ٹھیک ہی کرتی ہیں اور سنو یہ مسانوں کی مٹی کہاں ملے گی

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہرزاد ۔ قسط نمبر 27

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

نیروبی سے نیو کیمپس تک

سنو یہ ابھی ابھی راج کماری پریم کا قصہ جو تم نے مجھے سنایا ہے یہ کس صدی اور کونسے علاقے کا ہے

کیا مطلب

یہی کہ یہ واقعہ کب وقوع پذیر ہوا تھا اس ہفتے اس ماہ اس سال یا کئ سال پہلے اور گس شہر میں تمہارے اس

قصے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے تم اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہتے تو پھر کہاں رہتے ہو مجھے سو فیصد یقین

ہے کہ میرے ساتھ تو نہیں رہتے تمہارے ماں باپ لاہور کراچی یا پاکستان کے کسی اور شہر کے رہائشی نہیں ہو

سکتے کیونکہ تمہاری کہانی کے سبھی کرداروں کے نام سواۓ تمہاری امی جان کے کچھ ہندوانہ سے لگتے ہیں تو مجھے

اپنی ساسو ماں کو ملنے کے لیے کیا نئی دہلی جانا پڑیگا اور آخر میں تم ہمیشہ کہتے ہو میرا کالج یہ میرا کالج وہ اور یہاں

آپ کی امی آپ کو واپس یونیورسٹی بھیجنے کی دھمکی دے رہی ہیں کچھ فرمائیں گےاس بارے میں

جی یہ میری ہر بات میں بے بنیاد قسم کے شکوک و شبہات پیدا کر دینا آپ کے کردار کا کچھ خاصہ نہیں بنتے

جا رہے کوئ بات اگر آپ کی ٹھیک طرح سے سمجھ میں نہیں آئ یا میں سمجھا نہیں پایا تو بنا شک کیے بھی آپ

مجھ سے پوچھ سکتی ہیں کہ یہ بات کچھ بنی نہیں تا کہ میں اسے مزید آسان لفظوں میں بیان کر دوں لیکن آپ

جب تک مجھے قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہ کر دیں آپ کی بات میں بات تلاش کرنے کے نسوانی جذبے کی تسکین

نہیں ہوتی

ارے چند منطقی سے سوال پوچھنے کی اگر گستاخی کر ہی لی ہے تو زرا اپنی مردانہ فراخدلی کا ثبوت دیتے ہوۓ جواب

دے دو اس میں عورتوں کی نفسیات کہاں سے کھینچ لاۓ ہو ایک آدھ کتاب کیا پڑھ لی ہے اپنے آپکو تو جیسے

ڈاکڑ فرائیڈ سمجھنے لگے ہو ابھی تک مسیں بھیگی نہیں اور چلے ہیں نسوانیات کا درس دینے

ارے بابا آپ سے باتوں میں کون جیت سکتا ہے میں نے آپ سے کبھی کچھ چھپایا نہیں بس موقعہ نہیں ملا

ایسی باتوں کا ۔ میرے والد کینیا میں پاکستانی سفارت خانے میں کام کرتے ہیں اس لیے میری ساری فیملی

نیروبی میں رہتی ہے اور یہ قصہ پچھلے سال موسم گرما کی تعطیلات کے دوران ہیش آیا اس سال نہ جا سکا شائد

تقدیر کے کھیل ہیں آپ سے ملاقات ورنہ کیسے ہوتی ۔ اور جہاں تک پڑھنے پڑھانے کا تعلق ہے میں پنجاب یونیورسٹی

میں فائنل یئر کا طالب علم ہوں وہیں نیو کیمپس میں ہاسٹل میں رہتا ہوں اور آجکل یہاں چھٹیاں گذارنے کے لیے آیا

ہوا ہوں ایک آدھ ہفتے میں واپس چلا جاؤں گا شائد بے دھیانی میں یونیورسٹی کی بجاۓ مونہہ سے کالج نکل گیا ہو

اس کے لیے معافی چاہتا ہوں

تم واپس چلے جاؤگے کہاں اور میرا کیا ہو گا میں کہاں جاؤنگی مجھے یوں چھوڑنے کے لیے اپنایا تھا کیا تم تو کہتے تھے صدیوں

سے مجھے ڈھونڈ رہے تھے اور میں تمہاری عمر بھر کی تپسیا کا نتیجہ ہوں اور پتہ نہیں کیا کیا وہ سب جھوٹ تھا کیا اٹھ کیوں

کھڑے ہوۓ کہیں جا رہے ہو کیا

جا نہیں تمہارے پاس آ رہا ہوں

کیوں اور آج یہ الٹی گنگا کیوں بہہ رہی ہے پہلے تو تم میرے بلانے پر بھی کبھی میرے پاس تک نہیں پھٹکتے اور میرے

سوالوں کے جواب کون دیگا یا کوئ نیا جھوٹ تراشنے کے لیے تھوڑا وقت چاہیے

نہیں اتنے بھاری بھرکم مکالمے بولنے کے بعد میری پیاری سی دولہنیا تھک گئ ہو گی اس لیے سوچا کیوں نہ تمہارے سر

میں تھوڑا سا تیل لگا کر ہلکی سی چمپی بھی کر دوں اور لگے ہاتھوں کنگھی چوٹی بھی تم ہمیشہ کہتی ہو میرے ہاتھوں کی

انگلیوں میں جادو ہے اور تمہیں اس سے بڑا سکون ملتا ہے ۔ بیٹھی رہو اپنی کرسی پہ تیل بھی لگوا لو اور ساتھ ساتھ

باتیں بھی کرینگے ۔ اب بولو تم لوگ راولپنڈی سے لاہور جانے کے لیے نکلے تھے نا

ہاں نکلے تو تھے لیکن

لیکن ویکن چھوڑو جتنا سوال پوچھوں اتنا جواب دو ۔ تم لوگ کہاں کے رہنے والے ہو

تمہیں کیا ہملوگ کہیں کے بھی رہنے والے ہوں اور تم یہ سب سوال کیوں کر رہے ہو

نہیں تمہاری پڑوس میں ثمن برج ہے وہاں شاہی رتھ بھیج کر کسی راج کماری کو سندیسہ بھیج دیتے ہیں تا کہ وہ آ کر

ہماری رانی سے سوال جواب کریں میں نہیں کرونگا تو اور کون

کریگا اور اپنا سر زرا نیچے رکھو جواب زبان سے دینا ہے سر سے

نہیں ہاں تو شہزادی صاحبہ کیا فرما رہی تھیں

ہاں ہاں ہم لوگ لاہور کے رہنے والے ہیں تو

تو تو کچھ نہیں آپ لاہور سے ہیں میں غریب الدیار طالب علم لاہور میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں تو کون کس کو چھوڑ کر

بھاگ رہا ہے اس کا فیصلہ قرطبہ کے قاضی پہ چھوڑ دیتے ہیں

مجھے یقین ہے یہ سب کچھ تمہیں تمہاری چہیتی پروفیسر صاحبہ

نے ہی بتایا ہو گا ۔ سنو اب تو میں تمہیں چھوڑ دیتی ہوں لیکن آئیندہ سے زرا احتیاط برتنا اور دیکھو یہ کنگھی زرا پیار سے

کرو پیچھا کیوں چھڑا رہے

آپ سے اب پیچھا کہاں چھوٹنے والا ہے اور مہربانی کر کے آنکھیں اور زبان دونوں بند اور زرا

relax

ہو کر بیٹھیں

ارے جیدی اس دن کے بعد سے تم نے کبھی کوئ گیت ہی نہیں سنایا بالکل یاد ہی نہیں رہا کہ تم اتنا اچھا گا بھی

لیتے ہو لگتا ہے مجھے بھی تمہاری طرح بھولنے کا عارضہ ہوتا جا رہا ہے

گانے کی بات کو زرا التوا میں ڈال دیتے ہیں پہلے یہ بتایئے مجھے بھولنے کی بیماری کب سے لاحق ہو گئ ہے

اچھا تو میں ابھی ابھی کیا کہہ رہی تھی

کیا کہہ رہی تھی

تو اور بھولنا کسے کہتے ہیں خیر چھوڑو اس بات کو پہلے کوئ اچھا سا گیت یا غزل سناؤ

شادی کے بعد سن لینا جتنے بھی سننے ہونگے

ارے تم نے گیت سنانا ہے مجھے یا پیار محبت کی لوریاں جو بیچ میں شب زفاف کی شرعی حد ڈال دی اور آج یہ

تمہیں شادی کیسے یاد آگئ میں تو جب بھی اسکا زکر چھیڑتی ہوں تم ایسے چپ سادھ لیتے ہو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو

ویسے اچھا کیا تم نے یاد دلا دیا آج صبح ہی میں آئینے کے سامنے کھڑی بالوں میں کنگھی کر رہی تھی تو مجھے لگا جیسے

میرے بالوں میں چاندی کی جھلک سی نظر آنے لگی ہے میں تو ڈر ہی گئ مجھے لگتا ہے

کیا لگتا ہے تمہیں

یہی کہ my biological clock is ticking very fast اور ہمیں جلد از جلد رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جانا چاہیے

کیا اوٹ پٹانگ باتیں کر رہی ہو بائیس تیئس سال کی عمر ہے تمہاری اور ایسے کہہ رہی ہو جیسے ابھی ابھی سفینہ نوح

سے اتری ہو پتہ نہیں کس مٹی سے خمیر اٹھا ہے تمہارا بات گیت سنگیت کی ہو رہی تھی تم نے اسے کہاں

سے کہاں پہنچا دیا شادی بھی اپنے وقت پر ہو جائیگی تم اسی فکر میں کیوں گھلی جا رہی ہو

اور وہ وقت خیر سے کب آۓ گا جب میری جوانی ڈھل چکی ہو گی ادھیڑ عمر میں چہرے پر ممتا کے نور کا ظہور ہو رہا

ہو گا اور جب بچے تھوڑے سیانے ہونگے تو میں اتنی سن رسیدہ ہو چکی ہونگی کہ بچے مجھے ماں کی بجاۓ دادی ماں کہہ کر

پکارا کریں گے اللہ اللہ خیر سللہ ایک بات تو بتاؤ یہ یونیورسٹی کے بعد کیا کرنے کا ارادہ ہے کچھ مستقبل کے بارے

میں سوچ رکھا ہے یا دونوں دریا کنارے بیٹھ کر تمہاری باتوں کی بریانی کھایا کریں گے

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 28

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Moonlight Sonata

کیا سن رہی تھیں

مون لائٹ سوناٹا

تمہاری آنکھیں بند تھیں میں کافی دیر سے یہاں کھڑا ہوں

سننے کے لیے آنکھیں کھلی رکھنا شرط نہیں اور ویسے بھی خواب کھلی آنکھوں سے نہیں دیکھے جاتے

میں تو دیکھتا ہوں سنتا بھی ہوں کبھی کبھی تو چھو بھی لیتا ہوں

اچھا وہ کیسے میں بھی تو سنوں زرا

تم میرا خواب ہی تو ہو

رومانس کے موڈ میں لگتے ہو آج ٹیپ ریکارڈر بند کر دوں یا لگا رہنے دوں

لگا

رہنے دو moon light sonata is one of my favourites

لیکن صرف پہلی موومنٹ تک میں جب بھی اسے سنتا ہوں مجھ پر ایک عجیب سی اداسی کی لہر چھا جاتی ہے

ایسے لگتا ہے جیسے میں ساحل سمندر پر کھڑا ہوں اور تم ایک کشتی میں سوار ہو جسے ہوا اور پانی کی لہریں آہستہ آہستہ مجھ سے دور بہت دور لیے جا رہی ہوں کیوں سوچتا ہوں میں ایسے

شائد اس لیے کہ میرا سفینہ حیات موت اور زیست کے بھنور

میں ہچکولے کھا رہا ہے اور ایک دن وقت کی یہ دھند مجھے تمہاری

نگاہوں سے ہمیشہ کے لیے چھپا لیگی ۔ دعا مانگتے ہو میرے لیے کبھی

ہاں ہر وقت ہر آن ہر گھڑی ایک محبوب سے دوسرے محبوب کی

صحت اور درازئ عمر کی دعا ہی تو کرتا رہتا ہوں

اے رومیو میرے وہ ریکارڈ کہاں ہیں بھول گیے ہو گے آج بھی ہمیشہ کی طرح گاڑی لے جاؤ اور جب تک میں تمہارے لیے چاۓ کا بندوبست کرتی ہوں گھر سے لے آؤ یہاں سے پانچ منٹ کی تو ڈرائیو ہے

مجھے گاڑی چلانی نہیں آتی

تمہیں آتا کیا ہے سواۓ باتوں اور فلرٹ کرنے کے

یہ آئینے سے باتیں کر رہی ہو یا مجھ سے

pot calling the kettle black

سارے باہر کے کام تو تم مجھ سے کرواتے ہو تمہاری چھوٹی

موٹی شاپنگ تک میں کرتی ہوں بے قدرے کہیں کے چل کر

آئ ہوں نا تمہارے پاس اس لیے ناز نخرے دکھاتے ہو اگر

تمہیں جا کر مجھے لانا پڑتا تو پاؤں میں چھالے پڑ چکے ہوتے

یونیورسٹی واپس کب جارہے ہو امی پوچھ رہی تھیں اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ کرنا ہو گا

میں تو اس اتوار تک چلا جاؤں گا کیونکہ سوموار سے کلاسز شروع ہو جائیں گی اور بھی ایک دو کام ہونگے

ہمارے ساتھ چلو گے یا

نہیں نہیں میں خود ہی بس یا ٹرین میں چلا جاؤں گا آپ کیوں تکلف کرتی ہیں

میری ٹانگیں کافی لمبی ہیں ٹیبل کے نیچے سے بھی مارونگی تو دو دن تک پنڈلی پر پٹی باندھ کر پھرو گے اور شرم کی وجہ سے کسی کو بتا بھی نہیں سکو گے کہ ایک لڑکی سے مار کھا کے آۓ ہو۔ کیوں میرے ساتھ گاڑی میں سفر کرتے ہوۓ لاج آتی ہے کیا یا ایک عدد ساز سنگھار والے گھوڑے کا انتظام کر دوں دولہا میاں روائیتی انداز میں باقائدہ بینڈ باجہ اور بارات کیساتھ اپنی دلہن کو بیاہ

کر لے جائیں گے ۔ اور سنو جب میں نے کہا ہمارے ساتھ چلو گے تو اس کے آگے کوئ سوالیہ نشان نہیں تھا تم میرے ہمسفر ہو سفر میں بھی اور حجر میں بھی ۔ تمہیں بسوں یا ریل گاڑیوں میں دھکے کھانے کا اگر شوق ہے تو وہ کسی اور جنم میں پورا کر لینا

تمہارے پاس ایک آدھ سوٹ کیس اور بیگ کے سوا اور کیا ہو گا ہم تینوں بہ آسانی گاڑی میں آ جائیں گے

تم صرف دن اور وقت بتاؤ میں تمہیں تمہارے گھر سے لیتی چلوں گی ۔ میں تمہارے گھر آ سکتی ہوں نا

ہاں آ تو سکتی ہو مگر بہتر ہو گا اگر نہ آؤ گھر والے سوال پوچھیں گے اور

تم سے جھوٹ بولا نہیں جاۓ گا اور سچ بولتے ہوۓ تمہاری زبان میں گرہ پڑ جاۓ گی اور سچ تو یہ بھی ہے کہ آخر تم کہو

گے کیا ‘ یہ میری گرل فرینڈ ہے اور ساتھ میں اسکی امی ہیں ‘ تمہیں تو شائد بخش دیں لیکن ہم ماں بیٹیوں کو پتہ ہے کن اور

کس طرح کے القابات سے نوازا جاۓ گا ‘ نوج کیا زمانہ آگیا ہے لڑکیاں خود اپنا بر تلاش کرتی پھرتی ہیں اور اسکو دیکھو یہ

سچ مچ لڑکی کی ماں ہے یا مشاطہ ‘ بیچاری امی میری وجہ سے انکی ایسی دھلائ ہو گی اور انکے کردار کی ایسی دھجیاں اڑیں گی کہ ڈرائ کلیننگ کی دوکان سے سیدھا رفوگر کے پاس بھیجنا پڑیگا ۔

تمہارا یہ غیر ضروری بولنے کا مرض لا علاج ہوتا جا رہا ہے میرے گھر والے ایسی بھی تنگ نظری کا شمار نہیں البتہ جو چیزیں

ہمارے کلچر کا حصہ نہیں ان پر سوال تو اٹھتے ہیں صدیوں پرانی روایات آپ کی اور میری پسند اور ناپسند پر تو قربان

نہیں کی جا سکتیں آنے والے کل میں جب ہم ان کی جگہہ لے لیں گے تو ہماری سوچ بھی بدل چکی ہو گی پروفیسر صاحبہ

سے پوچھ کر دیکھو مجھے یقین ہے وہ سو فیصد میری بات سے اتفاق کریں گی

اچھا بابا ٹھیک ہے ایساکرتے ہیں میں تمہارے لیے ایک گدھا گاڑی کا انتظام کر دیتی ہوں لاہور یہاں سے صرف باسٹھ میل

دور ہے آرام سے گدھے سے باتیں شاطیں کرتے ہوۓ آ جانا ویسے بھی ایک ہی برادری کے ہو گھر میں حیدرآبادی بریانی

بنی ہے اور جاوید خان صاحب کسی پیر فقیر کی درگاہ سے دال روٹی کھانے پر بضد ہیں ۔

کیا جھگڑالو عورتوں کی طرح ہر وقت ادھار کھاۓ بیٹھی ہوتی ہو جیسے تم کہتی ہو ویسے ہی ہوگا میں اپنا سامان لیکر آ جاؤنگا

سب اکٹھے چلے چلیں گے کچھ اور کہنا یا کرنا ہے تو ابھی سے احکامات صادر کر دیجیے بعد میں شکائیت نہ کی جیۓ گا

ٹھیک یاد دلایا تم نے مجھے تمہاری امی سے ملنا ہے میرا مطلب ہے فون پر بات کرنی ہے

یہ بیٹھے بٹھاۓ میری امی جان کا زکر خیر کہاں سے نکل آیا میری کوئ شکائیت وغیرہ کرنی ہے

تم سے جتنا کہا جا رہا ہے اتنا ہی کرو گھر کا نمبر ملا کر فون مجھے دو پھر وہ جانیں اور میں

تھوڑا انتظار کر لو پھر مل لینا امی سے اتنی جلدی میں کیوں ہو

ڈرتے ہو کہیں مجھے نا پسند نہ کر دیں

نہیں ڈر یہ ہے کہ تمہاری آواز سنتے ہی کہیں گی ‘ بہو رانی جہاں کھڑی ہو وہاں سے ہلنا مت صرف اپنے کپڑوں کا سائز نمبر بتاؤ

میں تمہارے سہاگ کا جوڑا لیکر اگلی فلائیٹ سے لاہور پہنچ رہی ہوں

سچ کہہ رہے ہو بنا دیکھے مجھے پسند کر لیں گی

تمہیں دیکھنے کی کیا ضرورت ہے انکا بیٹا کسی راہ چلتی لڑکی سے نسبت قائم کرنے سے تو رہا

بس تو پھر بات پکی ہو گئ وہ کہتے ہیں نا ‘ ساس بہو راضی تو کیا کریگا موا قاضی ‘

ارے قاضی بیچارے کو کیوں کوس رہی ہو

اور کیوں نہیں کوسوں اسلام میں جو ستر سے زیادہ فرقے بندیاں وہ سب انھیں قاضیوں یا انکے بھائ بندوں کے دماغوں کی

اختراع ہیں عوام الناس کو نہ تو ان چیزوں کی فہم ہے اور نہ دلچسپی اور اپنا کام تو ایک سیدھے سادھے گاؤں کے مولوی

سے بھی چلیگا نکاح کے دو بول ہی تو پڑھانے ہیں مجھے کونسے امام رازی کی تفسیر کبیر پڑھنی ہے اور ہاں جو قاضی اور

گواہوں کے سامنے کہنا ہے ابھی بول دو تاکہ میں ٹیپ میں ریکارڈ کر لوں تمہارا کیا پتہ آخری وقت میں اقرار کی بجاۓ

انکار کر دو تمہاری تھوڑی سی

rehearsal

بھی ہو جاۓ گی چلو شاباش بولنا شروع کرو میں ریکارڈر آن کر رہی ہوں

اچھا اور مجھے کہنا کیا ہو گا

بدھو کہیں کے کوئ لمبی چوڑی تقریر نہیں کرنی تمہیں بس تین دفعہ کہنا ہو گا

قبول ہے قبول ہے قبول ہے

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 29

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

عندلیب

اعجاز تمہارا اصلی نام تو نہیں

نہیں یہ تمہارا دیا ہوا نام ہے ۔ تم جب بھی جس نام سے بھی مجھے پکارو گے میں چلی آؤنگی ۔ نام پہچان کے لیے ہوتا ہے اور میری پہچان تو تم ہو

آج تو بڑے مر مٹنے کے موڈ میں لگتی ہو پھر بھی کچھ نام تو ہو گا تمہارا

اگر یہ جانتے ہو کہ جس نام سے تم مجھے آواز دیتے ہو میرا نہیں تو یہ بھی جانتے ہو گے کہ میرا نام کیا ہے

میں تمہارے مونہہ سے سننا چاہتا ہوں

اور میں تمہارے مونہہ سے

عندلیب

جی

تمہاری طرح تمہارا نام بھی خوبصورت ہے

تمہیں اچھا لگتا ہے تو اچھا ہی ہو گا

اچھا یہ تو بتاؤ میں جب تمہیں اعجاز کہہ کر بلاتا تھا تو جواب میں تم ہمیشہ کہتی تھی ‘ کیا ہے ‘ یا ‘ سن رہی ہوں ‘ یا اسی طرح

کا کوئ کھٹا میٹھا سا جواب اور اب اپنے اصلی نام پر بڑا نرم تہذیب اور شائستگی سے بھر پور ‘ جی ‘ ایسا تضاد کیوں

Hey lover boy why are you splitting hairs

بال کی کھال نہیں اتار رہا لیکن یہ دہرا معیار کیوں مجھے تو ایسا کرارا جواب ملتا ہے جیسے میں کوئ

second class citizen

ہوں اور اوپر سے ہمارے نام کی قسمیں بھی کھائ جاتی ہیں

میں مر مٹنے کے موڈ میں تھی اور تم مار مٹنے کی باتیں کر رہے ہو اتنے پیار سے میں نے تمہیں ‘ جی ‘ کہا تھا اور تم نے لفظوں کی تکرار شروع کر دی میں جس لہجے میں بھی تم سے بات کروں اور جو بھی کہوں اس میں کبھی کڑواہٹ یا تیکھا پن نہیں ہوتا

ہمیشہ اپناہٹ کی چاشنی ہوتی ہے ۔ ویسے تمہیں شکائیت کرنی تو نہیں چاہیے جب میں پیار سے کوئ بات کہتی ہوں تو تم نئی نویلی

دلہن کی طرح دونوں ہاتھوں کا گھونگھٹ نکال کر بیٹھ جاتے ہو اب تم ہی بتاؤ کیسے اور کس طرح تم سے بات کیا کروں

اور اگر تھوڑی سی TLC چاہیے تو زرا کھل کر بولو ‘ ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں ‘

میں سائل تو ہوں لیکن آپ کی TLC کا نہیں اسے سنبھال کر اپنے دل کے

safe deposit

میں رکھ دیں

اور

password

مجھے دے دیں یہ نہیں کرسکتیں تو

I will have a rain cheque

جب چاہوں گا کیش کرا لونگا

اور اب زرا اپنی کرسی میں پیچھے ہٹ کر بیٹھو میرے کان میں شیطان کی خالہ کی طرح سرگوشیاں مت کرو

سنو تمہیں کبھی کسی لڑکی نے کہا ہے کہ

you’re so dull and boring

کیا میں اپنے منگیتر کیساتھ بھی تھوڑی

ہنسی مذاق نہیں کر سکتی یا اس پر بھی فتاوئ عالمگیری کی کسی شک کا اطلاق ہوتا ہے ۔ ہم لوگوں نے کچھ زیادہ ہی

نہیں ان جبہ اور دستار والوں کو سر پر چڑھا رکھا یہ کرو وہ نہ کرو میں تو ابھی سے کہے دیتی ہوں مجھ سے تو ایجاب و قبول کے

وقت کسی نے دوسری دفعہ پوچھا قبول ہے تو صاف کہہ دونگی کیوں ملا جی آپ اور آپ کے سب بھائ بندوں کو پہلی دفعہ کیا

سنائ نہیں دیتا جو دو دفعہ اور پہلے والا ہی سوال دوہراتے ہو اور یہ بلخ بخارا جو سامنے کی سیج پر بیٹھا ہوا ہے اسکی طرف

سے بھی میں ہاں کہہ دیتی ہوں اسے یہاں تک لاتے لاتے میری آدھی جوانی چلی گئی ہے اور یہ اتنا کاہل الوجود ہے کہ

اس سے پہلے کہ یہ تین دفعہ کہے قبول ہے میں بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہونگی اور نکاح زرا جلدی پڑھانا تہجد تک

یہیں نہیں بٹھاۓ رکھنا اور لڑکا اگر آہستہ آہستہ بولے تو اپنی طرف سے کہدینا لڑکے نے ہاں کہہ دیا ہے اور زیادہ لمبی

چوڑی دعا کرنے کی بھی ضرورت نہیں بعد میں لکھ کر بھیج دینا اور یہ رکھ لو بلینک چیک ہے میں امیر زادی ہوں تمہارے

پچاس ساٹھ سال کے حلوے مانڈے کا بندوبست ہو جاۓ گا چیک میں جتنی مرضی رقم لکھ لینا لیکن اپنی اوقات کے

مطابق میرے حیثیت کے حساب سے نہیں یہ نہ سمجھنا تمہاری لاٹری نکل آئ ہے

لگتا ہے تم نے سب کچھ پہلے سے طے کر رکھا ہے اچھی خاصی مقرر ہو اور ہاں یاد آیا تم نے باتوں باتوں میں کہا کہ

میں تمہارا منگیتر ہوں کل تک تو مجھے شوہر نامدار ہمارے ہونے والے بچوں کا باپ اور خدا جانے کیا کیا کہا جا رہا تھا

آج صرف بغیر انگھوٹھی کا منگیتر اور آنے والے کل میں مجھے پہچاننے سے بھی انکار کر دو گی

مونہہ اچھا نہ ہو تب بھی انسان اچھی بات کہہ اور کر سکتا ہے تمہاری یہ خواہش صرف خواہش ہی رہےگی کہ تم ایک

دن سو کر اٹھو گے اور میں تمہاری زندگی سے دور جا چکی ہونگی وہ کیا کہتے ہیں

if wishes were horses the beggers would ride

میں بلکہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے تھے اور یہ جوڑی اب کبھی ٹوٹنے والی نہیں انشاللہ

ویسے تم اپنی سی کوشش کر دیکھو سواۓ ناکامی کے کچھ ملے گا نہیں اور تمہارے اس

holier than thou

عکس کا

رعب مجھ پر چلنے والا نہیں میرے دل کے آئینے میں صرف ایک تصویر ہے تمہاری اور اسے حاصل کرنے کےلیے میں

سب کچھ کر گذروں گی

every thing is fair in love and war

اب تم فیصلہ کر لو پیار سے میری بات سنو

گے یا پرانے زمانے کی عورتوں کے چلتر استعمال کروں

تم یہ سب کچھ کرو گی

ہاں ہاں کرونگی

مگر کیوں

کیوں کیونکہ

I am a woman in love , I am a woman in love

اے باربرا سٹرائسنڈ تم گا بھی سکتی ہو

کیوں گانا گانے پر کیا تمہاری اجارہ داری ہے میں گا کیوں نہیں سکتی اور تمہارے لیے تو میں

Dance of the seven veils

بھی کر سکتی ہوں صرف انعام میں تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا جاۓ

Hey Salome do whatever you have to do so long as you remember my name is Javed

Not John though I would love to baptise you to wash all your sins away

So be it my love so be it and now can we sing together

I am a woman in love

She is a woman in love

And they lived happily ever after

کہانیاں عام طور پر اس چھوٹے سے فقرے پر ختم ہو جاتی ہیں لیکن ہم نے تو ابھی عندلیب یا اعجاز جو آپ کا دل چاہے کہہ لیں کی کتاب زندگی کے چند اوراق ہی پلٹیں ہیں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ

they lived happily ever after

دن کے وقت اپنے نام کی طرح چہچہاتی پھرتی ایک ڈال سے دوسرے ڈال اس کے پاؤں تو زمین پر جیسے پڑتے ہی نہیں تھے

لیکن رات کو اس کے آنسو پونچھنے والا کوئ نہ ہوتا اس کی آہیں اورسسکیاں اسکے سینے میں ہی دم توڑ دیتیں جب تک جاگتی

رہتی خون تھوکتی رہتی لیکن صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی ‘ رات کئی سو بات گئ ‘

‘ Tomorrow is another day ‘

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 30

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

اک میسنہ اور اک میسنی

گلبرگ میں کہاں رہتی ہیں میں اس علاقے کو اچھی طرح سے جانتا ہوں

تم کیسے جانتے ہو اس علاقے کو

جی میں وہاں اوریگا سنیما کے باہر ٹکٹ بلیک کیا کرتا تھا اس لیے

ان کٹے ہوۓ بالوں کے ساتھ تو بلیکیۓ ہی دکھائ پڑتے ہو گے

بالکل ٹھیک سوچا آپ نے ایف سی کالج میں اسی چیز کی تربیت دی جاتی ہے

کل یونیورسٹی میں تھے آج پھر کالج کا رخ کر لیا ہے تمہارا واپسی کا سفر کہیں مندر کی انھیں سیڑھیوں پر

نہ ختم ہو جہاں تم کپڑوں کی قید سے آزاد پڑے ہوۓ ملے تھے اور یہ تم نے ایف سی کالج کا حوالہ کیوں دیا

کیونکہ میں نے گریجویشن ایف سی کالج سے کیا ہے

اچھا تو پہلے کیوں نہیں بتایا

آپ نے کبھی پوچھا نہیں اور میں نے اسکی کوئ خاص ضرورت نہیں سمجھی کہ اپنی کتاب زندگی کے سارے اورق

آپ کے سامنے پڑھ پڑھ کر آپ کو بور کرتا رہوں

تم بعض اوقات اتنے لا تعلق کیوں ہو جاتے ہو بالکل اجنبیوں کی طرح باتیں کرنے لگتے ہو جیسے مجھے جانتے ہی نہیں

میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا آپ نے ایک چھوٹی سی بات کو اچھا خاصہ ایشو بنا دیا اوراگر آپ کو میری کسی بات سے

اس طرح کا تاثر ملا ہے تو مجھے آپ سے معافی مانگنی چاہیے

کسی سے جھگڑا کر کے آ رہے ہو کیا اور غصہ مجھ پر نکال رہے ہو مجھ سے بات نہیں کرنی تو جا کر لائبریری میں بیٹھ جاؤ

نہیں تو کرسی کا مونہہ دوسری طرف کر کے دیواروں سے باتیں کرو ورنہ اوپر چھت پہ چلے جاؤ

نہیں مجھے یہیں بیٹھ کر تم سے باتیں کرنی ہیں

لیکن مجھے تمہاری باتیں نہیں سننی

نہ سنو میں بیٹھ کر تمہاری شکل دیکھونگا

دیکھتے رہو میری بلا سے

اے یہ میری طرف ٹکٹکی لگا کر کیا دیکھ رہے ہو

you are making me nervous

ایسے کیوں دیکھ رہے ہو میری طرف

کیسے دیکھ رہا ہوں

جیسے ایک لڑکا ایک لڑکی کو دیکھتا ہے

تو اور کیسے دیکھوں میں لڑکا ہوں تو لڑکوں ہی کی طرح دیکھوں گا تمہیں اپنے بارے میں شک ہے تو کہو

مجھے کوئ شک نہیں بس تم میری طرف ایسے مت دیکھو

ارے بابا کیسے مت دیکھوں

میٹھی میٹھی پیار بھری نظروں سے میسنےکہیں کے

you know exactly what I mean

کیوں شرم آ رہی ہے اب کیا

ہاں آ رہی ہے تو کیا شرم والی بات کرو گے تو شرم آۓ گی نہیں کیا

ویسے اپنی سی بات ہے شرم اکثر تم سے شرماتی ہے لیکن جب تم شرماتی ہو تو

you look very cute

ای رومیو

will you stop now

نہیں تو میں اندر بھاگ جاؤں گی

تمہیں نے کہا تھا مجھ سے بات نہیں کرنی تو پھر کیا کروں

جو بھی کرو مگر یہ نہیں ارے ہاں مسٹر کہانی کار میسنے کو اردو میں کیا کہتے ہیں

مجھے کیا پتہ پروفیسر صاحبہ سے پوچھ لیتے ہیں

امی جان امی کہاں ہیں آپ

ساتھ والے کمرے میں ہوں اور آپ ایسے شور کیوں مچا رہی ہیں

‘ میسنے ‘ کو اردو میں کیا کہتے ہیں

‘ گھنا ‘ اور تم چلا تو ایسے رہی تھیں جیسے آسمان سر پر ٹوٹ پڑا ہو ۔ اور جاوید میاں کیسے ہو اور یہ مونہہ پھٹ میسنہ

کیا تمہیں کہہ رہی تھی

جی خالہ جان ایسے سارے القابات سے مجھے ہی نوازا جاتا ہے ۔ اور آپ کیا کسی تقریب میں جا رہی ہیں

ہاں لیکن تمہیں کیسے پتہ چلا

آپ نے ساڑھی زیب تن کی ہوئ تھی تو پوچھ لیا ماشاللہ بہت اچھی بلکہ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ کوئ کہہ

نہیں سکتا کہ آپ میرے ساتھ بیٹھی ہوئ خاتون کی ماں ہیں یا بڑی بہن

ہاہاہا تو یہ ساتھ بیٹھی ہوئ لڑکی تمہارے بارے میں جو کہتی ہے وہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہاہاہا اگر اور کوئ سوال باقی

نہ رہ گیا ہو تو میں چلوں گی

جی ضرور صرف ایک سوال اور ‘ میسنی ‘ کے لیے بھی کوئی لفظ ہے اردو زبان میں

ہے نا ہے کیوں نہیں ‘ عندلیب عرف اعجاز ‘ ہاہاہا

بدمعاش کہیں کے تم آدمی ہو یا

snake charmer

باتیں تو سنو اس کی ساڑھی میں کتنی حسین لگ رہی ہیں اور

تو اور پروفیسر صاحبہ کو دیکھو سولہ سالہ لڑکی کی طرح شرما رہی تھیں

I don’t believe it my own mother was blushing like a teenager

ان ساڑھی والی خاتون کو زرا گھر سے باہر نکلنے دو تمہاری تو میں اچھی طرح

سے خبر لونگی خدا کی پناہ بڑی بوڑھیوں تک کو نہیں بخشتے

ارے خوبصورت کو خوبصورت نہ کہنا تو کفران نعمت ہے اور میں ایسا گناہ بھلا کیوں کرونگا اور پروفیسر صاحبہ

ایسی عمر رسیدہ بھی نہیں ہیں چالیس سے زیادہ سن نہیں ہوگا

بدمعاش تمہاری زبان ہے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا

جاری ہے

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

شہرزاد ۔ قسط نمبر 31

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

محبت اور خدا

ارے بھئ اس گھر میں کوئ رہتا ہے یا باہر ‘ کراۓ کے لیے خالی ہے ‘ کا بورڈ لگا دوں

اب ہمیشہ کی طرح لیٹ آہی گیۓ ہو تو سیدھا اوپر میرے کمرے میں چلے آؤ میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی

help me pack my stuff

لاہور جانے میں اب صرف ایکدن رہ گیا ہے اور تمہاری آوارہ گردیاں ہیں کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتیں

نہ بابا نیچے کا کوئ کام ہو تو بتاؤ مجھے تمہارے کمرے میں نہیں آنا

کیوں مہندی لگی ہوئ ہے تمہارے پاؤں میں جو اوپر نہیں آ سکتے یا راستے میں

Sahara desert

ہے جسے پار کرتےکرتے تمہارے نرم و نازک پاؤں میں چھالے پڑھ جائیں گے یا

you suffer from fear of the heights

کہا نا اوپر نہیں آنا مجھے یہیں سے بولو جو کچھ کہنا یا کروانا ہے

اوہ تو یہ بات ہے ٹھیک ہے امی سے اجازت لیکر اوپرآ جاؤ

یہ مجھ سے اجازت مانگنے یا لینے کی رسم اس گھر میں کب سے شروع ہوئ ہے زرا مجھے بھی تو پتہ چلے ۔ جاوید بیٹا چلے جاؤ اوپر کم از کم اپنے پاؤں پر تو چل کر جاؤگے بصورت دیگر یہ لڑکی تمہیں بیٹیاں پہنا کر گھسیٹتی ہوئی لے جاۓ گی

سلام بڑی امی آپ اپنے اکلوتے مونہہ بولے بیٹے کو شیر کی کچھار میں بھیج رہی ہیں اور وہ بھی بغیر کسی ہتھیار کے

بڑی امی ہاہاہا کل مجھے میرا اکلوتا بیٹا جوان اور حسین کہہ رہا تھا اور آج بڑی امی کیوں بھئ کیا گناہ سر زد ہو کیا ہے مجھ سے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں جس کے لیے میں زیر عتاب آ گئ ہوں

اور رہی تمہاری شیر کے کچھار میں جانے والی بات تو اس شیرنی کے دانت تو میرے بیٹے نے پہلے دن پہلی ملاقات میں ہی اپنی اخلاقی اقدار سے توڑ دیئے تھے

اب میں آپ سے کیا اور کیسے کہوں کہ آپکی صاحبزادی سے میری کل والی بات ہضم نہیں ہو رہی تھی اس لیے اس نے مجھ پر زبان و کلام کی دفعہ 420 نافذ کر دی ہے آئیندہ مسمات عندلیب عرف اعجاز کے سوا ۓ کسی بھی

opposite gender

سے میری بات چیت

Hi and Bye

تک محدود رکھی جائیگی

امی اگر آپکی باتیں ختم ہو گئی ہوں تو اپنے مونہہ بولے فرزند ارجمند کو لوہے کی زرہ پہنا کر میرے پاس اوپر بھیج دیں کہیں میں

اسے پھاڑ نہ کھاؤں اور یہ آپ دونوں تھرڈ پرسن میں میرا زکر خیر کیوں کر رہے تھے

فرصت مل گئی میرے پریتم کو اپنی پریتیما کا دیدار کرنے کی ساری دنیا کی عورتوں سے چکنی چپڑی باتیں کرتے رہتے ہو اور

میرے ساۓ سے بھی ایسے بھاگتے ہو جیسے میں کوئ بھوت پریت ہو جو تمہیں چمٹ جاۓ گی

تمہارے چمٹنے سے ہی تو ہمیشہ خائف رہتا ہوں ورنہ تو تم اچھی خاصی قبول صورت لڑکی ہو

اچھا تو اب میں کائنات کی سب سے حسین لڑکی سے صرف قبول صورت رہ گئی ہوں سوچ لو کیا کہہ رہے ہو اور کہاں کھڑے

ہو یہاں سے دھکا دونگی تو ساری سیڑھیوں کے اوپر سے ہوتے ہوۓ اپنی نئی نویلی مونہہ بولی ماں کی گود میں گرو گے

بڑا آیا بڑی امی جان کا لاڈلا اور یہ کس شیرنی کے دانت توڑنے کی بات کر رہے تھے تم دونوں ماں اور اسکا اونچی اخلاقی

اقدار والا بیٹا یہ لو میں نے تمہارا ہاتھ پکڑ لیا ہے بلا لاؤ اس ملک کے قاضی القضا کو اور کہو اس سے تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ

سے چھڑانے کی ہمت ہے تو چھڑا لے زرا میں بھی تو دیکھوں بڑے آۓ

moral values

کے ٹھیکیدار ‘ اونچی دوکان

پھیکا پکوان ‘

‘ much cry little wool ‘

ارے کیا زمانہ آ گیا ہے ایک لڑکی ایک لڑکے سے پیار کرتی ہے اس سے

شادی کرنا چاہتی ہے اس کے ساتھ اپنا گھر بسانا چاہتی ہے لڑکے اور اسکی ماں کو اعتراض نہیں تو پھر اتنی دیواریں کیوں ہمارے بیچ کھڑی کی جا رہی ہیں اے ‘ مسٹر اخلاقی اقدار ‘ تمہیں کچھ کہنا ہے تو ابھی سے بول دو

جی بیگم صاحبہ مجھے کیا میری آنے والی نسلوں میں سے بھی کسی کو اعترض نہیں ۔ باپ رے باپ کس بھڑوں کے چھتے

میں ہاتھ ڈال دیا ہے میں نے لڑکی ہے یا انگارا ۔ تو چلیں پھر

اب کہاں بھاگ رہے ہو

جی میں کہاں بھاگ سکتا ہوں آپ نے ابھی تک میرا ہاتھ تھاما ہوا ہے میں نے سوچا شائد ہم لوگ سیدھا رسم نکاح کے

لیے قاضی کے پاس جا رہے ہیں

مذاق اڑا رہے ہو میرا زیادہ تاؤ دلاؤ گے تو انھیں کپڑوں میں اور ابھی کھنچ کر لے جاؤنگی اور سنو بیمار لڑکی سے شادی کرو گے

تو سسرال والے کہیں گے کہ بہو جہیز میں گاڑی اور بنگلے کی بجاۓ میڈیکل بلز لیکر آئ ہے ۔ اور میں نے تمہیں اوپر شادی

کب اور کس وقت ہو گی یہ طے کرنے کےلیے نہیں بلایا تھا تم ادھر ادھر کی باتوں میں بہت وقت ضائع کرتے ہو

جی ہاں مجھے فضول باتیں کرنے کی کچھ زیادہ ہی عادت ہے کہیے کس کام کے لیے مجھے بلایا تھا

کام کونسا کام ارے ہوتا رہے گا کام بھی یہ سارے نوکر آخر کس مرض کی دوا ہیں حرام خور سارا دن بیٹھے گپیں ہانکتے رہتے ہیں اب یہاں تک آ ہی گئے ہو تو میرا بلکہ ہمارا کمرا بھی دیکھ لو مجھے تمہاری پسند اور ناپسند کا بھی تو خیال رکھنا ہو گا ویسے تو

گھر کو بنانا سجانا سنوارنا عورتوں کا کام ہوتا ہے پھر بھی میں نے سوچا مسٹر بلخ بخارا گھاٹ گھاٹ کا پانی پیئے ہوۓ ہے اس

سے بھی مشورہ کر ہی لینا چاہیے تو کیسا لگا ہمارا کمرا

جی بالکل آپ جیسا بہت ہی خوبصورت

اچھا میں بہت خوبصورت ہوں کیا زرا میرے پاس آ کر کہو کتنی خوبصورت اور ابھی تک سیڑھیوں کے پاس کیوں کھڑے ہو

کمرے کے اندر کوئ پنجرہ نہیں جس میں تمہیں قید کر لونگی

تم سے کوئی بعید بھی نہیں ‘ بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا’

سنو نقاب پہننا اچھا ہے لیکن کبھی کبھی اسے رخ زیبا سے الٹ دینا انسان کی خوبصورتی میں اضافہ کا موجب ہوتا ہے

مجھے تمہاری اخلاقی اقدار پر فخر ہے لیکن انھیں فلسفیانہ شکنجے میں اتنا زیادہ نہ کسوکہ سانس لینا دوبھر ہو جاۓ اور میں

تمہیں سے تمہارا پتہ پوچھتی پھروں

میں شریعت کا پیروکار ہوں طریقت کا نہیں میں جب جب دوزانو ہو کرتمہاری صحت اور تندرستی کی دعا مانگتا ہوں اپنے اور

اپنے خالق حقیقی کے درمیان ہماری پاکیزہ محبت کی دیوار کھڑی کر دیتا ہوں اور جب مجھ پر سکینت طاری ہو جاتی ہے

تو اٹھ کر چلا آتا ہوں ۔ تم خوبصورت ہو تمہاری باتیں اور بھی زیادہ خوبصورت بھی ہیں اور شائد ٹھیک بھی ہوں لیکن

میں کسی شک کی بنیاد پر تمہاری زندگی داؤ پر نہیں لگا سکتا اس لیے کہ میں جہاں کھڑا ہوں وہاں سے ایک قدم بھی آگے

بڑھوں گا تو میرے پر جل جائیں گے

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 32

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

کلکتہ کے بیوہ گھروں کے نام

میرے  پرنٹ دیکھے ہیں تم نے کبھی پہلی دفعہ جب ان پر میری نظر پڑی تو میرے پھپھڑوں کے گرد ایک سفید سایہ ایکسرے سا دکھائی دیتا تھا اور مجھے ایسے لگتا تھا جیسے وہ میرا کفن ہے جو آہستہ آہستہ میرے سارے وجود کو ڈھانپ رہا ہے رات رات بھر جاگتی رہتی نہ مرنے کا حوصلہ تھا نہ جینے کی امنگ ایسے لگتا تھا جیسے ایک لق و دق صحرا کے بیچوں بیچ اکیلی کھڑی ہوں

نہ کوئی سکھی ہے نہ سہیلی زندگی کی الٹی گنتی شروع ہو چکی تھی پھر ایک دن کسی انجانے لکھنے والے کی ایک مختصر سی

تحریر میری نگاہوں کے سامنے سے گذری لکھتا ہے

“ بیوگی اور بیچارگی میں زمین اور آسمان کا فرق ہے فطرت کبھی بھانج نہیں ہوتی یہ کوئی کلنک نہیں جسے چھپانے کے لیے آپ سفید ساڑھی کا کفن پہن لیں یا دنیا کی ساری آسائشیں اپنے اوپر حرام کر لیں آپکا ساتھی چھن گیا ہے زندہ رہنے کا حق تو نہیں چھین لیا گیا ۔ یہ ہندوانہ رسوم و رواج اور کلچر کب تک ناسور کی طرح ہماری زندگیوں میں زہر گھولتا رہیگا ۔ میں نے دیکھا ہے بعض خواتین کو ایسے لگتا ہے جیسے

widow houses of Calcutta

کا جیتا جاگتا اور چلتا پھرتا اشتہار ہوں ۔ بیوہ ہونا اور بیوہ لگنا دو مختلف چیزیں ہیں ۔ یہ کوئی زندگی ہے اس سے تو ستی ہو جانا کہیں بہتر ہے ۔ ڈر ڈر کے سانس لینا کھانا پینا پہننا عزیز رشتہ دار محلے والے کیا کہیں گے اور میرے اپنے بچے انکا سامنا کیسے کرونگی ۔ ان سب میں سے کتنے لوگ شام کے دھندلکوں اور رات کے اندھیروں میں تمہارے آنسو پونچھنے آتے ہیں ۔ ایک بھی نہیں ۔ کب تک جانے والے کا سوگ مناتی رہو گی تمہاری اس قربانی سے کون خوش ہو گا وہ جو چلا گیا یا وہ جس کے پاس وہ چلا گیا ۔ اٹھو بہنا جیئو اور جب تک جیئو سر اٹھاکرعزت اور وقار سے جیئو ایسے نہیں جیسے اپنے کسی ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہو زندگی خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس سے مونہہ موڑنا کفران نعمت ہے شکران نعمت نہیں ۔ اور آخر میں ہمیشہ یاد رکھنا خداۓ ستودہ صفات نے تمہاری عدت صرف اور صرف چار ماہ اور دس دن رکھی ہے چار سو سال نہیں “

اب تم کہو گے میرا اس عبارت سے کیا تعلق میں کسی کی منکوحہ نہیں مطلقہ نہیں بیوگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو

تو کچھ نہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی اگر ایک خوشگوار اور نارمل زندگی بسر کرنے میں کوئ شرعی یا غیر شرعی چیز مانع

نہیں تو میں کیوں یوں گھٹ گھٹ کر زندگی گذار رہی ہوں ہاں تھوڑی بیمار ضرور ہوں لیکن خدانخواستہ ابھی حالت نزاع

میں نہیں ہوں اس لیے جب تک میرے جسم میں زندگی کی ایک بھی رمق باقی ہے میں جیئوں گی جیسے جینے کا حق ہے اور اب تو میرے سامنے ایک اعلی و ارفع مطلب اور مقصد حیات بھی ہے

اچھا ہمیں بھی تو بتائیے کچھ اس کے بارے میں

تم ۔ میرے بغیر ‘ گواچی گاں ‘ کی طرح شہر کی گلیوں اور بازاروں میں مارے مارے پھرتے رہو گے ۔ ہمارے گھر سے گلی کی

نکڑ تک دس دفعہ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہو کہ میں ابھی تک دروازے میں کھڑی ہوں یا نہیں اور جب تک میں ہاتھ اٹھا کر خدا حافظ نہ

کہوں تم وہیں پر کھڑے رہتے ہو اور جب تم میری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہو تو میں پیچھے سے تمہارے اپنے گھر تک خیر خیریت سے پہنچنے کی منتیں مانگتی رہتی ہوں مجھے لگتا ہے میرا سارا ٹرسٹ فنڈ اسی میں خرچ ہو جائیگا

ایسا کرو ایک بڑا سا پوسٹر

Fragile handle with care

کا بنوا کر میرے جسم کے ساتھ چپکا دو اور ہاں تمہارا یہ ٹرسٹ فنڈ ہے یا قارون کا خزانہ جو کبھی ختم ہی نہیں ہو گا

خزانہ تو نہیں لیکن اگر تمہاری دو تین پشتوں میں کوئی کاسینو ں جانے والا نہ نکل آیا تو گھر کی دال روٹی کا خرچہ نکل ہی آئیگا

اور یہ دال روٹی وہی ہے جو درگاہوں اور لنگروں میں بانٹی جاتی ہے یا وہ جو ہوٹل انٹر کانٹی ننٹل میں serve کی جاتی ہے

تمہیں آم کھانے سے غرض ہے یا پیڑ گننے سے

دونوں سے اور کھلانے والے ہاتھ اگر ہاتھ میں آ جائیں تو پھر تو پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں ہو گا

اچھا کام چور کہیں کے ساری عمر یونہی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہو گے تو چھوٹے تو ہوہی ساتھ میں موٹے بھی ہو جاؤ گے

لوگ ہم دونوں کو دیکھ کر فقرے کسا کریں گے ارے دیکھو “ پہلوۓ حور میں لنگور”

ٹھیک ہے کڑوا گھونٹ تو ہے لیکن کسی نہ کسی طرح پی لیا کرونگا لیکن تم کیا کر و گی جب وہ کہیں گے “ بیچاری غریب مسکین

خاندان کی ہو گی جبھی تو اس کے گھر والوں نے اس موٹو کے پلو سے باندھ دیا ہے “ میں ہوتی تو دریا میں کود کر جان دے دیتی

ویسے تم ہو بڑے

vindictive

فوری طور پر ادھار چکا دیتے ہو اور امی ہیں کہ سارا دن تمہارے نام کا کلمہ پڑھتی رہتی ہیں پتہ

نہیں کونسے تعویز گھوٹ کر پلا دیئے ہیں تم نے جاوید یہ جاوید وہ سارا دن تمہارے نام کی مالا جھپتی رہتی ہیں میں اگر غلطی سے

کبھی کہہ بھی دوں کہ اتنا بھی دودھ سے دھلا ہوا نہیں آپکا چہیتا تو آگے سے جواب ملتا ہے ‘ تمہیں نے کوئ الٹی پلٹی بات

کہی ہو گی ورنہ میرا جاوید ایسی بات کہنے یا کرنے والا نہیں ۔ ارے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوۓ ہیں علیک سلیک ہوۓ اور

وہ تو

she thinks the world of you

ان کے حساب سے تو

you cannot put a foot wrong

اے بولو

کونسا جادو کیا ہے تم نے میری ماں پر

ارے تم کیوں حسدکی آگ میں جل رہی ہو سب کو میری باتیں اچھی لگتی ہیں سواۓ تمہارے

اور تم سے یہ کس نے کہا کہ مجھے تمہاری باتیں اچھی نہیں لگتیں انھیں باتوں کیوجہ سے ہی تو مجھے تم سے پیار ہے ورنہ

شکل سے تو تم عامی سے لگتے ہو

وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس عامی کی عدم موجودگی میں آپ کی وجودیت خطرے میں پڑ جائیگی کیونکہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں کبھی فرصت سے سوچئیے گا اس بارے میں

اے ‘ عقل کل ‘ پہیلیاں مت بھجوا اور کئی دفعہ کہا ہے اپنی عمر اور قد سے بڑی باتیں مت کیا کر کیا کہنا چاہتا ہے

یہی کہ دنیا سے اگر میرے جیسے عامیوں کا وجود مٹ جاۓ تو آپ کو ‘ اہل خواص ‘ کون کہے گا اندھیرے کے بغیر روشنی

کا تصور اور اس کی قدر و قیمت ایک بے معنی سی چیز ہو گی

اچھا بابا روشن خیال تو جیتا اور میں ہاری تم تو بس حقہ اور پانی لیکر چڑھ جاتے ہو خدا کی پناہ لڑکا ہے یا افلاطون اور سن

ایک وعدہ کر مجھ سے

کیسا وعدہ

یہی کہ شادی کے بعد تو مجھے کبھی بھی ناشتے کی میز پر نظر نہیں آۓ گا

یہ کیا بات ہوئی اکیلی ناشتہ کیا کرو گی

ہاں کیونکہ تو وہاں بھی ایسی ہی فلسفیانا باتیں کریگا اور خود تو مزے سے ناشتہ کر کے کام پر چلا جائیگا اور میں بیچاری قسمت

کی ہاری سارا دن یہی سوچتی رہوں گی کہ یہ مہاشے کیا کہہ رہا تھا اور یہ سوچتے سوچتے چاۓ انڈا اور ٹوسٹ سب کچھ

ٹھنڈا ہو چکا ہو گا اور میں اپنے نصیبوں کو کوس رہی ہونگی ۔ دیکھو مجھے تم سے پیار ہے ان موٹی موٹی فلسفے کی کتابوں سے

نہیں جنہیں سارا دن اور رات طوطے کی طرح رٹتے رہتے ہو

تو ٹھیک ہے تم اس عامی لڑکے کو اس کے عامیانہ پن سمیت ہمیشہ کے لیے اپنا لو اور میں اپنی سب کتابیں ایک بڑے

سے لکڑی کے صندوق میں بند کر کے دریاۓ نیل میں بہا دونگا پھر وہ صندوق جس بھی فرعون کے ہاتھ لگ جاۓ اس

کی قسمت بولو قبول ہے

بس تو ٹھیک ہے

my hand on my heart

قبول ہے تمہارے تن من اور میرے دھن کے ساتھ ۔۔۔۔ ہاہاہا

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 33

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

لوہے کی پیٹی یا میری دلہن کا جہیز

عندلیب

جی

ایک سوال پوچھوں آپ سے

اے میرے مولا کریم مجھے اپنی حفظ و پناہ رکھنا ۔ جی پوچھیۓ میں تیار ہوں

ایک سیدھے سادھے سوال کا جواب دینے سے پہلے آپ نے پوری تسبیح کیوں پڑھ ڈالی

جی نہیں تسبیح سوال کے لیے نہیں آپ کے آغاز گفتگو کا ایک قدرتی ردعمل تھا

آپ کی باتیں بعض اوقات میری سطحی سی فہم و فراست سے بہت اونچی ہوتی ہیں یا سادہ زبان میں beyond my shallow wit اور میں سعی بسیار کے باوجود ان کی طے تک نہیں پہنچ سکتا

اگر شومئ قسمت سے میں آپ کے عقد نکاح کے حصار میں آ چکی ہوتی تو ابھی ابھی جو آپ نے سادہ سی زبان میں خامہ فرسائی

کی ہے اس بنیاد بنا کر صبح ہونے سے قبل آپ کو خلع یا فسخ نکاح کا نوٹس مل گیا ہوتا

ارے آپ نے تو ‘ بغل میں چھری اور مونہہ میں رام رام ‘ کی مثال کو سچ ثابت کر دیا آپ نے بتایا نہیں یہ بنا وضو اس

مولا کریم کی شان غفاری کے دروازے پر دستک کیوں دی جا رہی تھی

اس لیے کہ آپ جب بھی ‘ عندلیب سوال اور آپ ‘ کی

unholy Trinity

کی صلیب میرے گلے میں لٹکا دیتے ہیں تو

میرے جسم و جان میں خطرے کی ان گنت گھنٹیاں بجنی شروع ہو جاتی ہیں اور میں زہنی طور پر اپنے آپ کو آخری اور

حتمی

crucifixion

کے لیے تیار کر لیتی ہوں اور اب پلیز اپنی لفاظی بند کرو اور جلدی بولو کیا پوچھنا ہے

جی تو یہ لیجئے ‘ جب یہ بڑے بوڑھے کہتے ہی کہ لڑکی کو تین کپڑوں میں گھر سی رخصت کر دو ‘ تو ان کی مراد کونسے تین کپڑوں

سے ہوتی ہے میں یہ سوال اپنی امی حضور سے بھی پوچھ سکتا تھا لیکن ایک تو وہ یہاں ہیں نہیں خط آنے جانے میں ہفتوں بیت

جائیں گے اور ویسے بھی مجھے پتہ ہے انکا جواب کیا ہو گا ‘ کیوں تو کیوں پوچھ رہا ہے یا توکیوں اس فکر میں دبلا ہو رہا ہے تیری دلہن کے لیے مجھے جو لوہے کی پیٹی جہہیز میں ملی تھی اس میں ہر رنگ ہر سائز اور ہر فیشن کے ملبوسات بھرے ہوئے ہیں اور

وہ تین کیا تین سو سے زیادہ ہی ہونگے اور چل پھٹ اب یہاں سے اور نانی سے پوچھا تو کہیں گی ‘ کیوں چھیلے میاں بچپن کے سارے رنگ کیا پھیکے پڑ گئے جو شادی کا سرخ جوڑا سپنوں میں آنے لگا ہے ۔ اب آ جا کر تم ہی رہ گئی ہو جو میرا یہ عقدہ

حل کر سکتی ہو اور دیکھو اب اپنی ساس اور نانی ساس کی طرح کوئی سمارٹ جواب نہیں دینا

ارے تمہارا سوال گیا بھاڑ میں پہلے یہ بتاؤ مجھے جہیز میں کیا تمہاری امی کے تین سوسالہ پرانے کپڑے ملنے والے ہیں اور تم لوگ

کیا دولہن بیاہنے آؤ گے یا کسی بزرگ کی قبر پر چادر چڑھانے جو ملا سو مونڈھ دیا اور یہ لوہے کی پیٹی کتنی پشتوں سے چلی آ رہی

ہے تمہارے خاندان میں اور کبھی کسی نے اسے کھولنے کی زحمت بھی گوارا کی ہے یا یہ اعزاز مجھے ہی ملنے والا ہے اور

کون جانے پیٹی کے اندر سے بجاۓ رنگ برنگے ملبوسات کے توتن خامون

Tutankhamun

کی حنوط کی ہوئی لاش پڑی ہو جو دیکھتے ہی مجھ سے لپٹ جاۓ گی

تمہاری زبان ہے یا کولہو کا بیل جو آنکھ اور کان بند کیۓ بس چلے جا رہا ہے جواب آتا ہے میرے سوال کا تو بولو نہیں تو

میں گاڑی کو آگے بڑھاؤں

اے مسٹر گاڑی کہاں بڑھاؤں کان کھول کر سن لو تمہاری گاڑی کا لاسٹ اور فائنل ٹرمینل آگیا ہے یہ میرے گیراج کے علاوہ

کہیں اور پارک تو کیا پاس سے بھی گذری تو گاڑی کی بریکیں کاٹ دونگی تمہارے

over speeding

کے دن گیے اب اپنی

پرانی اور کھٹارا گاڑی کو

neutral gear

میں ڈالو اور گھر میں آرام سے کھیت رہو اوۓ سن رہے ہو کیا

یہ تمہاری ٹیبل کے نیچے سے لات مارنے کی عادت کچھ زیادہ ہی

momentum

اختیار کرتی جا رہی ہے اور

مجھے چوٹ بھی لگتی ہے

چوٹ پہنچانے کے لیے ہی مارتی ہوں تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہارے ساتھ footsie کھیل رہی ہوں اور اب واپس تمہارے

سوال کی طرف چلتے ہیں میں بیوٹی پارلر اور بوتیک کے دور میں پیدا ہوئی ہوں خواتین آجکل کیا پہنتی ہیں تمہارے تصور اور

تخیل دونوں سے بہت دور ہے تین کپڑوں کا دور تین سو سال پہلے رہا ہو گا مجھے نہیں علم آجکل یا تو بہت کچھ یا پھر کچھ بھی

نہیں پہنتیں اور تم کیوں پوچھ رہے ہو اگر تمہارے پاس مجھے دینے کے لیے کچھ نہیں تو تین میں ہی لے جانا اور اگر یہ بھی

نہیں تو ایسے ہی لے جاؤ جیسے کھڑی ہوں

تمہاری باتیں بسا اوقات بازاری رنگ کیوں اختیار کر لیتی ہیں پروفیسر صاحبہ کی تربیت کا اثر تو ہو نہیں سکتا

ٹھیک کہا تم نے یہ تربیت نہیں صحبت اور تمہاری رفاقت کا اثر ہے

and now back to your question

تم یہ سوال

اپنی پروفیسر صاحبہ سے بھی پوچھ سکتے ہو لیکن پہلے مجھے ایک چھوٹی سی بات کہنی ہے ہمیں ایک دوسرے کو ملے ہوۓ چند

ہفتے ہی ہوۓ ہیں لیکن میں تمہیں ایک کھلی کتاب کی طرح پڑھ سکتی ہوں مجھے یقین ہے کہ تمہیں اپنے سوال کا جواب آتا

ہے صرف میرے مونہہ سے سننا چاہتے ہو اور یہ ہے اصل سوال کہ کیوں تم مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہو مگر کہہ نہیں پا رہے

اس لیے stop beating around the bush میں تمہارے سامنے کھڑی ہوں اور میں نے شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے اور

ضرورت پڑنے پر اس میں ایک عدد دوپٹے یا چادر کا اضافہ بھی ہو سکتا ہے تو مسٹر بلخ بخارا یہ ہو گئے تمہارے تین کپڑے اور

اب سچ سچ بتاؤ

what’s bothering you

کچھ نہیں ایسے ہی اپنے بچپن کی ایک بات یاد آگئی میں جب پرائمری سکول میں تھا تو کبھی کبھار پیٹ درد کا بہانہ کرتا تاکہ سکول

جانے سے چھٹی مل جاۓ اور امی ایسے ہر موقعہ پر مجھے ایک ہی بات کہتیں اور میرا پیٹ کا درد شروع ہونے سے پہلے ہی

غائب ہو جاتا ‘ جیدی کے بچے تو ایک منٹ میں سکول کے لیے تیار نہ ہوا تو میں بغیر برقعے کے تیرے سکول چلی جاؤں گی ‘

بیچارا جیدی کا بچہ اتنی سی بات کے لیے ہلکان ہو رہا تھا ۔ برقعہ تو میں ہائی سکول کے زمانے سے پہنتی آئی ہوں ہاں یونیورسٹی

کے دنوں خاص کر لیکچرز کے دوران اور اب بھی شاپنگ کے وقت غیر شعوری طور پر نقاب الٹ دیتی ہوں اور فکر مت

کرو تمہیں میری وجہ سے پیٹ کے درد کا بہانہ کبھی نہیں کرنا پڑیگا ۔ کبھی نہیں

ایک بات اور کہنی تھی

بول دو ایک ہی دفعہ سارے

do’s and don’t s

تاکہ تمہارے دل میں کوئی حسرت نہ رہ جاۓ ویسے تو میرے پیار کی کوئی

حد نہیں لیکن اگر یہ اک سوال ہو تو میرا جواب ہو گا کہ میں تمہارے لیے کوئی بھی غیر فطری غیر اخلاقی اور غیر شرعی کام کر

گذروں گی چاہے مجھے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے لیکن مجھے چونکہ اپنے ہونے والے فرشتہ سیرت شوہر کے پروں کو

آک سےمحفوظ رکھنا ہے اس لیے میں ایسا کوئی کام کرونگی نہیں جس کے لیے اسے اپنے مالک سے شرمسار ہونا پڑے

اور اب جلدی سے بولو کیا کہنا ہے اتنی بھاری بھاری باتیں کہتے ہوۓ میری زبان تھک گئی ہے

کچھ نہیں مجھے تو بس یہی کہنا بلکہ پو چھنا تھا کہ کیا میں اپنی ہونے والی دلہن کا ماتھا چوم سکتا ہوں

یہ تھوڑا شرعی مسلہ ہے اس لیے تمہارے سامنے جو کاغذ کا ٹکڑا پڑا ہوا ہے پہلے اس پر دستخط کر دو پھر ماتھا بھی چوم لینا

ٹھیک ہے ابھی لو ایک دستخط ہی تو کرنا ہے مگر یہ ہے کیا

ہمارا نکاح نامہ ہاہاہا

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 34

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

سہیلی بوجھ پہیلی

اے میاں مجنوں گاڑی چلانا کب سیکھو گے

جب گاڑیاں خود بخود چلنی شروع ہو جائیں گی کیوں لیلی کے سارے اونٹ ساربان سمیت بھاگ گئے کیا جو باہر کھڑی کھٹارا

گاڑی کے لیے ڈرائیور کی ضرورت آن پڑی

تم اتنے کاہل کیوں ہو مجھے لگتا ہے جلد ہی تمہیں یہاں لانے کے لیے مجھے تمہارے گھر اڑن کھٹولہ بھیجنے کا انتظام کرنا پڑیگا

کاہل نہیں میرا

reflex action

بالکل کام نہیں کرتا لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کا مجھے کوئی شوق نہیں

کوئی نئی بات بتاؤ مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ تمہارے

reflex

کام نہیں کرتے دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی تمہارے پہلو میں بیٹھی ہوتی ہے اور تم برف کی سل کی طرح پڑے ہوتے ہو جیسے کوئی روبوٹ ہو

عندلیب کتنا پیارا نام ہے اس کے ایک ایک حرف پر وادیاں قطع کی جا سکتی ہیں پوری پوری غزل لکھی جا سکتی ہے اور تم you are so rude and crude

اور اپنی کہو تم بھی اپنے نام کی بالکل ضد ہو ‘ جاوید

‘ eternal one who lives forever

مجھے تو تم میں زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تمہاری عمر میں لڑکے نچلا بیٹھنا جانتے ہی نہیں بھاگ دوڑ اچھل کود اور تم ہو کہ اپنی جگہہ سے کبھی ٹس سے مس نہیں ہوتے ‘ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد ‘ یہاں کرسی پہ بیٹھے بس مجھے دیکھتے رہتے ہو جیسے میں جیتا جاگتا انسان نہیں مائیکل اینجلو کی تراشی ہوئی کوئی سنگ مرمر کی مورتی ہوں جو چھونے سے میلی ہو جاۓ گی یا لاجونتی کی بیل ہوں کہ جیسے ہی بلخ بخارا کی پرچھائیاں مجھ پر پڑی میں چھوئی موئی کی طرح کملا اور مرجھا جاؤں گی

ارے آپ تو زاتیات پر ہی اتر آئیں ایسی بھی کیا جلدی ہے گاڑی ہی تو ہے سیکھ لونگا چلانی آپ سارا دن بیٹھی مین میخ کیوں

نکالتی رہتی ہیں ابھی تو گھر کے چولہا چکی کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تو یہ حال ہے بعد میں تو میرا جینا دوبھر کر دیں گی آپ

لو اور سن لو ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری غیر زمہ داری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے بات نہیں کرنی مجھے تم سے

اور مجھے بھی کوئی ایسا شوق نہیں تم سے الجھنے کا

عندلیب بیٹا آپ ماشاللہ بڑی ہو گئی ہیں لیکن ابھی تک بچوں کی طرح behave کرتی ہیں اور جاوید آپ کو کونسا سال لگا ہے

جی خالہ جان میں عندلیب سے تین سال چھوٹا ہوں

ہاں ہاں ریڈیو ٹیلی ویژن اور اخبارات میں اشتہارات کیوں نہیں دے دیتے کہ میری ہونے والی جورو مجھ سے عمر میں تین سال بڑی ہے دیکھنا درجنوں لڑکیاں ہمدردی کے خط لکھیں گی

ارے یہ شادی کر رہا ہے مبارک ہو جاوید میاں کب اور کس کے ساتھ بھئی بڑے گھنے ہو ہوا تک نہیں لگنے دی تم نے لیکن یہ اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی سے کیوں بیاہ رچا رہے ہو کوئی ہم عمر نہیں ملی کیا مجھے کہہ دیتے میں تمہارے لیے ایک خوبصورت سی لڑکی تلاش کر دیتی ہیں میری چند ایک جان پہچان والی تم جیسا لڑکا تو انکو چراغ اٹھا کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیگا

لو ان کی سنو ‘ مدعی سست گواہ چست ‘ آپ کو دوسروں کی بہت فکر ستاۓ جا رہی ہے اپنی جوان لڑکی دکھائی نہیں دیتی کہ

اس کے بھی ہاتھ پیلے کرنے ہیں

اے لڑکی کل تک تو تم کہہ رہی تھیں مجھے کبھی شادی ہی نہیں کرنی

یہ میں نے کب کہا تھا اور ویسے بھی وہ کل کی بات تھی اب میں نے اپنا مائینڈ چینج کر لیا ہے اور کل تک آپ کے مونہہ بولے بیٹے میرے

Radar

پر بھی تو نہیں تھے

کیا انٹ شنٹ بولے جا رہی ہو اور میرے بیٹے سے تیری شادی کا کیا تعلق

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میرا وہی تعلق ہے جو لیلی کا مجنوں ہیر کا رانجھا شیریں کا فرہاد اور رومیو کا جولیٹ کے ساتھ تھا اور تھوڑے سے نام میں بھول بھی گئی ہوں یاد آنے پر بتا دونگی

غلط مثال دی تم نے ان میں سے کسی کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی

مجھے پتہ نہیں شائد ان دنوں میں محبت کی شادی کا رواج نہیں تھا اور آپ کس خوشی میں اس کی وکالت کیے جا رہی ہیں

اسکے مونہہ میں زبان نہیں ہے کیا جو ماں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے اے بنا گاڑی کے ڈرائیور بولو شادی کرو

گے مجھ سے اور امی کی طرف مت دیکھو مجھے تمہارا جواب چاہیے ابھی اور اسی وقت

ٹھیک ہے پہلے میری ایک بات سن لو پھر میں تمہارے سوال کا جواب دونگا

شکر ہے تم اپنی زبان سے بولے تو کہو کیا کہنا ہے

تمہیں پتہ ہے پرانے زمانے میں بادشاہ بیٹیوں کی شادی طے کرنے سے پہلے اپنی سلطنت کے کونے کونے میں منادی کرا دیتے تھے کہ جو شخص بھی شہزادی سے شادی کرنے کا خواہش مند ہو وہ پہلے اس کی بتائی ہوئی پہیلی کا مطلب بتاۓ اور اگر جواب

غلط ہوا تو اسکا سر قلم کر دیا جائیگا

ہو گا ایسے ہی لیکن مجھے یہ سب کیوں سنا رہے ہو نہ تو میں کسی ملک کی شہزادی ہوں اور نا ہی میں نے شادی کے لیے کوئی

شرط رکھی ہے اور یہ تم ادھر ادھر کی باتوں میں وقت کیوں ضائع کر رہے ہو

ٹھیک کہا تم نے لیکن کہا جاتا ہے کہ میرے دادا باجی کا تعلق شاہی خاندان سے تھا میرے بٹوے میں انکی ایک تصویر ہے

دیکھ لو اس سے تمہیں بخوبی اندازہ ہو جائیگا

امی جان سن رہی ہیں اپنے لاڈلے کی

cock and bull story

میرا صبر اپنی انتہائی حدوں کو چھو رہا ہے اور اس سے

پہلے کہ میں کچھ کر گذروں اس سے کہیں کہ اپنی الف لیلی ختم کرے

زرا صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں میں آپ کو اپنی بچپن کی سنی ہوئی دو پہیلیاں سنا دیتا ہوں پھر آگے بات کرتے ہیں

ہری تھی من بھری تھی لال موتی جڑی تھی

راجہ جی کے باغ میں دوشالہ اوڑھے کھڑی تھی

اور دوسری پہیلی چونکہ پنجابی میں ہے اس لیے شائد آپکو سمجھنے میں تھوڑی دشواری ہو بحر حال مجھ سے آپ مشورہ کر سکتی ہیں

لیکن صرف زبان کی حد تک

آ ٹانگا پا ٹانگا وچ ٹلم ٹلیاں آنڑ کونجاں دین بچے ندی نہان چلیاں

یہ پہیلیاں ہیں یا تمہاری گھسی پٹی شاعری

جو بھی ہے شادی کرنی ہے تو سہیلی بوجھ پہیلی ورنہ اگلی امیدوار کو آگے آنے دو ۔ gentlemen’s word ایک دن کے اندر

اندر ٹھیک جواب دے دو اسی دن برات لے آنا

وعدہ

پکا وعدہ

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 35

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

برات اور شب برات

ناک ناک

کون ہے بھائ اور کیوں شریف لوگوں کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتے پھر رہے ہو

میں بھائی نہیں تمہاری ہونے والی بیوی ہوں اور دل کا دروازہ کھولو تمہاری برات آئی ہے

شب برات آئی ہے اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا تم سچ ہی کہتی تھیں مجھے بھولنے کا عارضہ ہو گیا ہے تمہارے علم میں ہے

براۃ کے معنیٰ ہیں نجات، اور شبِ برات کا معنیٰ ہے گناہوں سے نجات کی رات۔ گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے۔ یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد کی رات ہے، شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔ اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کاموجب بن سکتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

حٰم وَالْکِتٰبِ الْمُبِيْنِ اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـهُ فِیْ لَيْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِيْنَ فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِيْمٍ

اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کردیا جاتاہے۔

بہت اچھا کیا جو مجھے یاد دلا دیا ویسے تو میں اپنے نفس کو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک رکھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ہوں توانسان ہی نا بھول چوک ہو ہی جاتی ہے تم نے ایک اچھی ہونے والی شریک حیات کا حق ادا کر دیا اب مجھے گھر جا کر

شب بیداری کی تیاری کرنی ہے اور تمہارے اور اپنے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی مانگنی ہے

جیدی کے بچے ابھی تک تو میرے ضمیر پر کوئی ایسا بوجھ نہیں اور نہ ہی میں کسی ایسے گناہ کی مرتکب ہوئی ہوں کہ مجھے اپنے

پیدا کرنے والے کے سامنے شرمسار ہونا پڑے لیکن تم نے اپنا یہ

monologue

ختم نہ کیا تو یہ شب برات تمہارے لیے کہیں شب دیجور نہ بن جاۓ اور گناہوں سے نجات کی یہ رات کہیں تمہاری زندگی کی ہی آخری رات نہ ہو

تم تو ایسی ہو جیسے انڈوں پر بیٹھی ہوئی مرغی تھوڑا سا مذاق بھی برداشت نہیں ہوتا تم سے غصہ تو جیسے ناک پہ دھرا ہوتا ہے تمہارے

مجھے وقت بے وقت کی راگنی اچھی نہیں لگتی میری جان پہ بنی ہوئی ہے اور خان صاحب کو مذاق سوجھ رہا ہے

کیوں کیا ہوا میری جان کی جان کو ابھی ابھی تو خود ہی اپنی ڈولی اٹھا کر لا رہی تھیں اور اچھے بھلے خوشگوار موڈ میں تھیں اور اب اچانک مطلع ابر آلود کیسے ہو گیا

میرے موڈ کو چھوڑو تم نے کل کہا تھا اگر میں پہیلیاں بوجھ لوں تو ہملوگ شادی کر لیں گے جب اور جس وقت میں چاہوں

کہا تھا کہ نہیں اب مکر نہیں جانا

you gave me your word

ہاں کہا تھا اور تمہیں چوبیس گھنٹے کا وقت دیا تھا اور تمہارے پاس صرف ایک منٹ ہے جواب دینے کو

and the count down begins now

اور ٹائم نہیں ملیگا

ٹائم کون مانگ رہا ہے پہلا جواب ہے چھلی اور دوسرا ٹھہرو پرچی پر لکھا ہوا ہے کچھ

gobbledygook

ٹائپ چیز ہے‘ ٹنڈاں والا کھو ( رہٹ )‘

whatever it is

یہ کونسی زبان تھی

تمہارے اباؤاجداد کی ہو گی مجھے کیا پتا لیکن پہیلی اسی زبان میں تھی ایک بات تو بتاؤ تم سچ مچ اسی دنیا کے باشندے ہو یا

کسی اور سیارے سے اس کرہ ارضی پر وارد ہوۓ ہو اور یہ تمہاری فیملی کی عورتوں کے نام بھی کچھ الٹ پلٹ سے نہیں ہیں

کیا مطلب اور زرا تمیز اور تہذیب کے دائرے میں رہیے میں بعض چیزوں کے بارے میں بہت حساس ہوں اور اپنے سے

بڑوں کی عزت اور توقیر و تکریم ان میں سے ایک ہے

اے جیدی

I am sorry

ٹھیک ہے

apology accepted

اب فرمائیے کیا کہنے جا رہی تھیں اور اس پہیلی کا میرے خاندان کی عورتوں کے نام سے کیا تعلق ہے

اب مجھے ہر لفظ بہت سوچ اور بچار کے بعد بولنا پڑیگا کیونکہ میری شادی ہو یا خدا نہ کرے نہ ہو آپ ضرور کسی نہ کسی بہانے مجھ پر ہتک عزت کا دعوی کر دیں گے ہاں تو میں بیچاری بے نکاحی کرماں ماری کہنے جا رہی تھی کہ گذشتہ روز میں ایک نہائت سنجیدہ خاموش طبع اور پروقار خاتون سے ملی جانکاری علیک سلیک کے بعد میں نے اپنا مقصد ملاقات انکے گوش گذار کیا اور تھوڑی سی گفت و شنید کے بعد ان سے اجازت طلب کرنے سے پہلے میں نے کہا بے تکلفی کی معافی چاہتی ہوں لیکن یہ آپکا نام کچھ لڑکوں جیسا نہیں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگیں میری بڑی بہن کا نام انتظار ہے شائد اس مناسبت سے گھر کے بزرگوں نے میرا نام افتخار رکھ دیا ہو گا ۔ میں نے کہا اب میں چلونگی آپ سے ملاقات میرے لیے باعث افتخار تھی اور تم بھی اسم بامسمی ہو اعجاز اسی نام سے میرا بھانجا تمہیں بلاتا ہے ناآپ کی بات کاٹنے کی معافی چاہتا ہوں لیکن میرے گھر جانے کی آخر ایسی کیا ایمرجنسی تھی اور کہاں جاتی تم نے مجھے صرف چوبیس گھنٹے کا وقت دیا تھا اس لیے اور ویسے بھی اپنا گھر بنانے کے لیے میں تمہارے تو کیا اللہ سبحان و تعاللہ کے گھر کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتی ہوں

capeesh

جی

capeesh

لیکن آپ کی اس

indiscretion

کی وجہ سے مجھے اپنی خالہ جان کا سامنا کرتے ہوۓ تھوڑا حجاب سا محسوس ہو گا امی ہوتیں تو کوئی بات نہیں تھی لیکن خالہ خود تھوڑی شرمیلی سی ہیں اس لیے مجھے ابھی سے گبھراہٹ

سی ہونے لگی ہے لیکن جیسے وہ کہتے ہیں نا

“ Que sera sera whatever will be, will be “

اب جو ہو گا سو ہو گا بحر حال آپ کے دونوں جواب ٹھیک تھے اس لیے

سرتسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آۓ

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہرزاد ۔ قسط نمبر 36

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

محبوب اور محبت

عندلیب

جی امی

ایک بات پوچھوں

جاوید کے بارے میں ہے

تمہیں کیسے پتہ چلا

آپ سوال سے پہلے کبھی تمہید نہیں باندھتیں اور نہ ہی مجھ سے کچھ پوچھنے کے لیے آج سے پہلے آپ کو کبھی میری آجازت

کی ضرورت پڑی ہے اب لے دے کر ایک ہی ایسا موضوع ہے جس پر بات کرنے سے پہلے آپ کو میری رضا چاہیے

ماشاللہ

three cheers for my one and only darling daughter

بڑی سیانی ہو گئی ہیں آپ بات زرا

زاتی قسم کی ہے اگر آپ جواب نہ دینا چاہیں تو

اب پوچھ بھی چکیے نا آپ ایسے کیوں ہچکچا رہی ہیں

بات ہی کچھ ایسی ہے میں تمہاری ماں ہوں پھر بھی مجھے شرم سی آرہی ہے پوچھوں یا نہ پوچھوں

ماما

you are freaking me out now

مجھے یہ تو پتہ نہیں آپ کیا پوچھنے جا رہی ہیں لیکن میں آپ کی بیٹی ہوں جسے

آپ اچھی طرح سے جانتی ہیں اور وہ آپ کا مونہہ بولا بیٹا ہزاروں سال پرانی روح ہے اور مجھے کچھ نہیں کہنا

ارے ایسا کچھ نہیں میں تو صرف یہ کہنے جا رہی تھی کہ میں نے کئی دفعہ دیکھا ہےکہ تم دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر خاموشی سے بیٹھے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے ہوتے ہو دنیا و مافیہ سے بالکل بے خبر اور

اور کچھ نہیں جیدی کو ایسا کرنا اچھا لگتا ہے اور مجھے ہر وہ چیز اچھی لگتی ہے جو اسے اچھی لگتی ہے جب باتیں یا ہلکے پھلکے

بحث مباحثے کے لیے کوئی اور موضوع نہیں ملتا تو ہم ایک دوسرے کی انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر آمنے سامنے بیٹھے رہتے ہیں

لیکن ایسا نہیں کہ ہم باتیں نہیں کرتے صرف زبان نہیں ہلتی آنکھیں تو ہر وقت ہر لمہہ اور ہر پل سوال جواب کرتی رہتی ہیں

اور یہ باتیں تو ہماری اس وقت بھی جاری رہتی ہیں جب ہم رات کو اپنے اپنے بستروں میں لیٹے ہوتے ہیں آپ کو شائد میری باتیں کچھ عجیب سے لگیں لیکن حقیقت یہی ہے

ارے حقیقت کچھ بھی ہو ایک مدت دراز کے بعد مجھے تمہارے چہرے پر رونق نظر آنے لگی ہے اور میری رب العزت سے یہی دعا ہے کہ تم ہمیشہ خوش رہو بلکہ تم دونوں ہی

امی جان کیا ہوا آپ تو رونے لگیں سب ٹھیک ہے میری صحت پہلے سے بدرجہا بہتر ہے انشاللہ آگے بھی سب کچھ ٹھیک ہی ہو گا باتوں باتوں میں یاد ہی نہیں رہا یہ مہاشے حسب معمول پھر لیٹ ہیں ایک تو میں اس لڑکے کی غیرزمہ دارانہ حرکتوں سے بہت تنگ آ گئی ہوں شام ہونے کو آئی ہے اور اس کی کوئی خیر خبر نہیں آوارہ گرد کہیں کا

ارے بابا آ جاۓ گا راستے میں کسی کام سے رک گیا ہو گا

کام کونسا کام کیسا کام کام ہی تو کرتا نہیں اسی لیے تو میں اسے آوارا گرد کہتی ہوں

اس عمر میں سبھی لڑکے ایسے ہوتے ہیں تھوڑے لا ابالی سے لیکن آوارگی کا طعنہ مت دو اسے اور اب تو تمہارے پلو سے

بندھ گیا ہے یا بندھنے والا ہے ڈال دینا اس کے پاؤں میں بیڑیاں

زنجیریں جسم پر تو ڈالی جا سکتی ہیں زہن پر نہیں یہ چلنے پھرنے والا نہیں روحانی اور زہنی آوارہ گرد ہے خدا جانے کون کونسی وادیوں میں گھومتا رہتا ہے اور اس ڈر سے کہ یہ مجھ سے کہیں کھو نہ جاۓ میں بھی اس کے ساتھ صحراؤں کی خاک چھانتی پھرتی ہوں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ حقیقت آشنا ہے اس لیے صاف شفاف ہے اور میں شکوک و شبہات کے باعث مجاز کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہوں اس لیے وہ جتنا لطیف ہے میں اتنی ہی کثیف ہوں بعض اوقات تو مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے ہم دونوں مختلف دنیاؤں کے مسافر ہیں یہ جو میری اس سے تھوڑی بہت آشنائی ہے محض اس وجہ سے کہ کبھی کبھار جب وہ اپنی زہنی بیاض کھول کر بیٹھتا ہے تو میں بھی تھوڑا اندر جھانک لیتی ہوں

اور اگر وہ سچ مچ کسی اور ہی دنیا کا مسافر نکلا اور تمہیں بھلا دیا یا بیچ بھنور میں چھوڑ دیا تو کیا کروگی

اسے بھولنے کی عادت ضرور ہے لیکن میں اسکی عادت نہیں جسے وہ بھول جاۓ گا وہ بھلکڑ ضرور ہے بھولا ہوا نہیں ہاں یہ

ہو سکتا ہے کہ وہ میرے گھر کا راستہ بھول جاۓ لیکن کسی اور گھر کا دروازہ بھی کبھی نہیں کھٹکھٹاۓ گا صرف دنیا کی بھیڑ میں مجھے تلاش کرتے کرتے بھٹکتا رہے گا اور یہ میں کبھی ہونے نہیں دونگی چاہے مجھے اس کا سایہ بن کر ہی کیوں نہ رہنا پڑے بشرطیکہ سینے کا زیر و بم وفا کا دامن نہ چھڑا لے

لگتا ہے میرے بیٹے نے تمہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے اب تم اسی کی زبان میں باتیں کرتی ہو اور اس پر طرح یہ کہ

بیجا اس بیچارے پر تنقید و تنقیص کے نشتر بھی چلاتی رہتی ہو

ایک تو آپ کے بیجا لاڈ پیار نے اسے بالکل ہی لاپرواہ بنا دیا ہے جب دیکھو اس کی طرفداری کرتی رہتی ہیں زرا آنے تو دو ایسی خبر لونگی کہ عمر بھر یاد رکھے گا لیجیے نام لیا اور یہ شیطان لعین کی طرح حاضر ہو گیے ارے امی حضور دیکھیے تو کون آیا ہے

“ وہ آئیں گھر ہمارے خدا کی قدرت ہے

“ کبھی ہم ان کو اور کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں “

ویسے تمہارے لیے تو شاعر کو کہنا چاہیے تھا “ کبھی ہم ان کے سر اور کبھی اپنے جوتوں کو دیکھتے ہیں “

چلئے کوئی بات نہیں شیطان ہی سہی کم از کم ہمارا زکر تو ہوتا ہے آپ کی محفل میں

بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے کل صبح سویرے ہمیں لاہور کے لیے نکلنا ہے اور ان کے سیر سپاٹے ہی ختم ہونے میں نہیں آتے اور سنو اب میں تمہاری کوئی بات سننے والی نہیں ٹھیک نو بجے میری گاڑی تمہارے گھر کے باہر کھڑی ہو گی تیار رہنا

تمہارے گھر والوں سے تو میں مل ہی چکی ہوں اس لیے اب کوئی ڈھکی چھپی بات تو رہ نہیں گئی

اتنی صبح سویرے نکلنے کی آخر کونسی مجبوری ہے لاہور یہاں سے صرف باسٹھ میل کے فاصلے پر ہے مشکل سے دو گھنٹے کا

سفر ہو گا اور تمہاری اس کھٹارا گاڑی میں ہی جا رہے ہیں نا کوئی slow boat to china تو ہے نہیں کہ عمر بیت جاۓ گی

تمہیں تو گدھا گاڑی میں بھیجنا چاہیے ٹھیک بھی لگے گا گدھے کے اوپر گدھا بیٹھا ہوا

اچھا بچو اس سے پہلے کہ بات گالی گلوچ کی حد پار کر کے ہاتھا پائی تک جا پہنچے مجھے اجازت دو اور جاوید بیٹا تیار رہنا انشااللہ

کل تم سے ملاقات ہو گی

جی انشااللہ ویسے اگر آپ کو کوئی بہت ضروری کام نہیں کرنا تو تھوڑی دیر اور یہاں ہی بیٹھی رہیں بڑوں کی موجودگی

باعث برکت اور ثواب ہوتی ہے اور اب کیسے کہوں میں آج اپنا ‘ امام ضامن ‘ گھر بھول آیا ہوں

جیدی کے بچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 37

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Best cook of the year

امی جان نوکروں نے سب سامان گاڑی میں رکھ دیا ہے چلیں اب دیر کس بات کی ہے کسی کا انتظار کر رہی ہیں کیا

راستے سے دولہے راجہ کو بھی اٹھانا ہے ورنہ دن چڑھے تک سوتے رہیں گے

کیا صبح صبح اس بیچارے کے پیچھے لگ گئی ہو تمہیں تو شائد مزا آتا ہے اس کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے میں ویسے تمہاری

اطلاع کے لیے عرض ہے کہ وہ اپنے سامان سمیت گاڑی میں بیٹھا ہمارا انتظار کر رہا ہے خدا جانے کسی نے اسے

چاۓ وغیرہ کا بھی پوچھا ہے یا صبح کا بھوکے پیٹ بیٹھا ہوا ہے میرا بیٹا

او مائی گاڈ کیا گھایا ہوگا کیسے کھایا ہوگا کہاں سے کھایا ہوگا کسی نے بتایا کیوں نہیں مجھے عجیب پاگل سا لڑکا ہے

ارے کہاں ننگے پاؤں بھاگے جا رہی ہو اب میں نے نوکر کو بھیجا ہے اسے بلانے کے لیے

کب سے آۓ بیٹھے ہو باہر

صبح کی نماز پڑھکر نکل آیا تھا سوچا تمہیں جانے کی جلدی ہے اور میرے گھر آنے کے لیے تمہیں گاڑی شہر کی طرف موڑنی

پڑتی اب ہم لوگ سیدھے جرنیلی سڑک کی طرف روانہ ہو جائیں گے اور ایسے کیوں دیکھ رہی ہو مجھے

کچھ نہیں مجھے صبح صبح تم سے اپنا ماتھا نہیں پھوڑنا دو ماہ میں پہلی دفعہ وقت پہ آۓ ہو کوئی ایسا معرکہ نہیں سر کر لیا

ویسے بھی گاڑی مجھے ڈرائیو کرنی ہے تم پچھلی سیٹ پر لیٹ کر خراٹے بھرتے رہنا

بچو مجھے تین گھنٹے تم دونوں کی جھک جھک نہیں سننی اس لیے مجھے رہلوے سٹیشن پر اتار دینا میں ریل گاڑی سے

چلی جاؤں گی ٹریفک کی جھنجٹ بھی نہیں ہو گی

ٹھیک ہے آپ ٹرین سے چلی جاٰئیں یہ صاحباں کا مرزا نیلی بار پر سوار ہو کر لاہور کا رخ کریگا اور میں یہاں پڑوس میں جو

بڑا سا دریا بہتا ہے کیا بھلا سا نام ہے ہاں یاد آیا Mississippi river وہاں سے steam boat لیکر امریکہ

چلی جاؤنگی ۔ اے تمہیں اگر اپنی جان تھوڑی سی بھی عزیز ہے تو سیدھا کچن ٹیبل پر جا کر بیٹھ جاؤ میں تمہارے لیے

ناشتہ تیار کرتی ہوں اور امی جان آپ اپنا ٹرین کا سفر کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھیے اور فی الحال کچھ اور دیکھ لیں

آپ بیجا تکلف کر رہی ہیں میں چاۓ وغیرہ کا اتنا رسیا نہیں ہوں اور اگر بھوک محسوس ہوئی تو راستے میں سے کچھ لیکر کھا لونگا

تکلف کیسا میں کوئی تمہاری بیوی نہیں جو تمہارے لیے تہہ دار پراٹھے تلنے بیٹھ جاؤنگی اور چاۓ پینے کی عادت ڈال لو میں ساری عمر کیا اکیلی ناشتے یا شام کی چاۓ وغیرہ کے لیے ٹیبل سجا کر بیٹھوں گی اور سنو جو کچھ کھانا ہے ابھی کھا لو میں تمہارے لیے راستے میں کہاں ڈھابہ ڈھونڈتی پھرونگی یہ گاڑی یہاں سی چلی تو لاہور ہی جا کر رکے گی یاد کر لو کوئی چیز رہ تو نہیں گئی سارا سامان اٹھا کر یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی ہم آ تو رہے تھے تمہارے گھر

سامان کیسا ایک اکلوتا سفری بیگ ہی تو ہے مجھے کونسا سات گدھوں کا بوجھ اٹھانا تھا

اچھا تو تمہارے علاوہ چھ اور بھی ہیں گدھوں کا اصطبل کھول لینا چاہیے مجھے پتہ نہیں میری عقل اور آنکھوں دونوں پر پردے پڑے ہوۓ تھے جو اپنے لیے ایسا بر ڈھونڈا ہےاور سنو تمہارے سارے کپڑے وغیرہ کیا ایک بیگ میں آ جاتے ہیں سائز کیا ہے تمہارے بیگ کا

عندلیب بیگم میں یہاں صرف تھوڑے دنوں کے لیے آیا تھا اس لیے زیادہ کپڑے اٹھاۓ ہی نہیں تھے یہ تو آپ کی وجہ سے

پروگرام زرا بلکہ بہت ہی لمبا ہو گیا ورنہ میں تو کب کا واپس چلا گیا ہوتا اور یہ اتنی دیر سے میرا ناشتہ بن رہا ہے چولہے میں آگ

بھی جلانی آتی ہے یا کسی نوکر کا ا نتظار کر رہی ہیں

کیوں نہیں آتی آگ جلانی دیا سلائی نہیں مل رہی اسی کو ڈھونڈ رہی ہوں

ارے ہٹو بھی آگے سے میں بنا دیتا ہوں ہم دونوں کے لیے کبھی رسوئی گھر کے اندر جھانک کر بھی دیکھا ہے اس سے پہلے

رعب تو ایسے جھاڑ رہی تھیں جیسے سند یافتہ best cook of the year award winner ہو ہونہہ ناشتہ بنا چکیں آپ

اور میں کھا چکا وہ کیا کہاوت ہے پنجابی کی “ او دن ڈبا جدوں گھوڑی چڑھیا کبا “ ہاہاہا

زیادہ باتیں بنانے کی ضرورت نہیں میں تمہاری طرح کسی تندور پر کام نہیں کرتی رہی اور یہ رسوئی گھر کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ۔ چلی تھیں گھر بسانے اور رسوئی گھر کا پتہ پوچھ رہی ہیں

مجھے وہ لوگ اچھے نہیں لگتے جو دوسروں کی عیب جوئی کرتے رہتے ہیں

اور آپ جو مجھے ہر وقت بلکہ ہر لمہہ لتاڑتی رہتی ہیں اور یہ سچ مچ میں تمہیں رسوئی کا مطلب نہیں آتا یا ویسے ہی بن رہی ہو

عجیب لوگ ہو تم بھی رہتے پاکستان میں ہو اور تعلیم حاصل کرتے ہو انگریزی میڈیم میں اور ساری عمر “ نہ خدا ہی ملا نہ

وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے “

تم تو جیسے بڑے علامہ ہو نا ادھر ادھر سے اخباروں اور رسالوں کے تراشے اکٹھے کر کے نیچے اپنا نام لکھ دیتے ہو اور

بڑے طمطراق سے کہتے ہو کہ یہ تحریر میری ہے

وہ تو میں تمہارے لیے بھی کہتا ہوں کہ تم میری ہو تو کیا تمہیں بھی میں نے ادھر ادھر سے اکٹھا کیا ہے

کیا کہا تم نے زرا پھر سے تو کہنا

اب کیا کہہ دیا میں نے

ابھی ابھی کہا نہیں تم نے کہ میں تمہاری ہوں

ہاں کہا تھا تو اوہ آ گئی نا واپس اپنی اصلیت پر

جاوید بیٹا اگر آپ دونوں کی نوک جھونک اسی طرح چلتی رہی تو لاہور تو کیا گوجرانوالہ پہنچتے پہنچتے تم دونوں بڑھاپے میں قدم رکھ

چکے ہو گے اور میں پرلوک سدھار چکی ہونگی اب میرے پاس اسکا ایک ہی حل ہے کہ میں چونکہ لڑکا اور لڑکی دونوں کی ماں

ہوں اس لیے قاضی کے فرائض بھی خود ہی انجام دے لوں اور تم دونوں کا نکاح کر دوں اور اپنے فرائض سے سبکدوش

ہونے کے بعد خود حج بیت اللہ کے لیے نکل کھڑی ہوں ۔ خدا کی پناہ ایک کیا کم تھی جو

یہ سارا قصور اسی کا ہے خالہ جان میں تو

میں تو کیا ‘ جھوٹے کہیں کے اب امی کے پلو کے پیچھے کیوں چھپ رہے ہو سارا وقت عورتوں کی طرح لگائی بجھائی کرتے

رہتے ہو اور پھر ایسے معصوم سا چہرہ بنا لیتے ہو جیسے جگادری کی بندریا ہوتی ہے ۔ جی امی جان میں تیار ہوں

تیار ہے لیکن کس چیز کے لیے

یہ ابھی ابھی جو آپ کہہ رہی تھیں

ابھی ابھی تو تم باتیں کر رہی تھیں دماغ تو نہیں چل گیا تمہارا کہیں

امی آپ بھی نا حد کرتی ہیں ابھی تو کہہ رہی تھیں کہ پہلے تم دونوں کا نکاح کر دوں تو میں نے کہا کہ میں تیار ہوں

اے نکھٹو تو بھی بول دے اپنی امی ، امی ساس اور خالہ سے کہ میں بھی تیار ہوں اور زرا زور سے بولنا تا کہ امی جان

بھی سن لیں اور امی جان میں جو قاضی بیٹھا ہوا ہے اس کے کانوں تک بھی تمہاری آواز پہنچ جاۓ

ٹھہر جا تو چوٹی کہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 38

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

پیاری اور بہت ساری باتیں

عندلیب

جی

اگر تم ہمیشہ اتنے پیار سے بولو تو زندگی کتنی حسین ہو جاۓ تمہیں پتہ ہے تمہاری آواز بھی تمہاری طرح خوبصورت ہے

ایسے لگتا ہے جیسے کسی وادی میں بلبل چہک رہی ہو تم ہمیشہ ایسے کیوں نہیں بولتی

تم جب بھی اتنے پیار سے مجھے آواز دوگے میں اتنے ہی میٹھے انداز میں تمہیں جواب دونگی

میں تو ہمیشہ ہی تمہیں پیار سے آواز دیتا ہوں

اچھا آئیندہ ریکارڈ کر کے رکھوں گی خود ہی سن لینا اپنی پیار بھری آواز

تو میں کیا جھوٹ بول رہا ہوں

میں نے یہ تو نہیں کہا

تو پھر کیا کہا ہے

پتہ نہیں لیکن میرے کان کیوں کھا رہے ہو اور گاڑی میں زرا احتیاط سے بات کرنا امی ساتھ بیٹھی ہونگی

یہ تو وہی بات ہو گئی کہ

pot calling the kettle black

میں خالہ جان کی عدم موجودگی میں بھی کبھی ایسی ویسی

بات نہیں کرتا یہ صرف اور صرف آپ ہی کا طرح امتیاز ہے اور سنو گاڑی زرا آرام سے چلانا ریلی ڈرائیورز کی طرح نہیں

اور تمہیں اپنی منزل تک آج ہی پہنچنا ہے یا ایک سال بعد اسی لیے کہا تھا گاڑی چلانا سیکھ لو تا کہ کسی سے کبھی کہنا سننا

ہی نہ پڑے لیکن تم ہو کہ تمہارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی چلو نکلو اب نوکر خود ہی گھر وغیرہ لاک کر دیں گے

جاوید بیٹا تم لوگ آگے بیٹھو میں پچھلی سیٹ پر لیٹ کر تھوڑی کمر سیدھی کر لونگی صبح سے اٹھی ہوئی ہوں تھوڑی

تھک سی گئی ہوں اور اس سے کہو گاڑی زرا انسانوں کی طرح چلاۓ

‘ یک نہ شد دو شد ‘ جیسی روح ویسے فرشتے جیسی ساس تھیں ویسا ہی انھیں داماد مل گیا ہے ‘ خوب گذرے گی جو مل

بیٹھیں گے دیوانے دو ‘ اچھا بابا ایسا کرتے ہیں میں

steering wheel

پکڑ کر بیٹھ جاتی ہوں اور آپ دونوں گاڑی

کو دھکا دیتے ہوۓ لاہور تک لے جائیں ایک تو بنا معاوضے کا ڈرائیور ملا ہوا ہے اوپر سے سو باتیں بھی سننی پڑتی ہیں اس

سے کیوں نہیں کہتیں جو آپ کے ایپرن سے بندھا ہوا ہے گاڑی چلانا سیکھ لے اس کی عمر کے لڑکے تو آسمان میں تھگلی

لگاتے پھر رہے ہیں اور یہ آپ کے نور نظر ابھی تک تین پہیوں کی سائیکل سے بھی نیچے گر جاتے ہیں

ارےآپ کیوں اتنی سیخ پا ہو رہی ہیں زرا گاڑی احتیاط سے چلانے کی استدعا ہی تو کی تھی

تم زمین پر چلتے ہویا فضا میں اڑتے ہو

جب سے آپ سے ملنے کا حادثہ ہوا ہے بہت سی چیزیں ہو جاتی ہیں کرتا نہیں ہوں آپ کیوں پوچھ رہی تھیں

زمین پر چلتے ہو تو انسانوں کی زبان میں بات کیا کرو ‘ یہ کونسی زبان ہے سیخ پا ، استدعا میں گاڑی چلاؤں گی یا ریختہ

کا ٹسٹ دونگی “ پتہ نئیں سویرے سویرے کتھوں متھے لگ گیا میرے “

ماتھے کی بجاۓ گلے لگ جاؤں تب تو شکائیت نہیں ہو گی آپ کو ہاہاہا

‘ ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

‘ کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا ‘

قاضی صاحب میرا مطلب ہے آپ کی امی حضور سے کہہ کر دو بول نکاح کے پڑھوا دیجیے ابھی وعدہ وفا کر لیں گے ورنہ

موسم سرما کی ٹھنڈی اور یخ بستہ ہواؤں کی طرح آہیں بھرتی رہیں

جیدی میں تمہیں خوبصورت نہیں لگتی کیا

اے

don’t play that Jedi card

تمہارا یہ چلتر اب پرانا ہو گیا ہے

جواب نہیں دیا تم نے کیسی لگتی ہوں میں تمہیں

مجھے سوچنے دو زرا ہاں یہ ٹھیک ہے ‘

Athena in the body of Aphrodite

اور یہ

giggle

کیوں کر رہی ہو

میں نے کوئی مزاحیہ کلمات تو نہیں کہے

اوۓ ‘ مسٹر مزاحیہ کلمات ‘ تم خچر کی طرح اتنے اڑیل کیوں ہو ابھی ابھی میں نے تمہیں کہا تھا زبان وہ بولو جو لوگ سن

بول اور سمجھ سکیں اور سنو اب یہ بات کان میں کہنے والی ہے زرا تمہیں کونسی زیادہ پسند ہے Athena یا Aphrodite

سوال مشکل ہے زرا کیونکہ تم ایک ہی وقت میں Dante’s hell and Hilton’s Shangri-la کی طرح ہو اور

مجھے تمہارے دونوں روپ پسند ہیں اور ایسی جلدی بھی کیا ہے ساری زندگی پڑی ہے ایک دوسرے کے ساتھ آنکھ مچولی

کھیلنے کی دل کا معاملہ روح کے ساتھ منسلک ہے اور روح میرے اور تمہارے حکم کی تابع نہیں تم مجھے اچھی لگتی ہو

کیوں اچھی لگتی ہو یہ اوپر والا جانے اور میں اپ اور ہم اس کے کاموں میں دخل دینے والے کون ہیں سو تم بھی ہر

سوال کا جواب مجھ سے مت مانگا کرو کہ یہ ایسا کیوں ہے اور وہ ویسا کیوں ہے اور یہ تمہاری کانوں میں کہنے والی باتیں

ویسے بھی میری سمجھ میں نہیں آتیں میں نے اپنی امی سے ایک دفعہ اسکا سبب پوچھا تھا کہنے لگیں جیدیاں تمہیں پتہ ہے

بچہ پیدا ہوتے ہی اس کے کانوں میں آزان کیوں دیتے ہیں میں نے اپنی لا علمی کا اظہار کیا تو کہنے لگیں اس لیے کہ اللہ

سبحان و تعالہ کا نام ایک دفعہ تمہارے کان میں اگر چلا جاۓ تو پھر کوئی شیطانی کلمہ کم از کم تمہارے کانوں کے راستے

تمہارے دل میں نہیں اتر سکتا ہاہاہا

جھوٹے زمانے بھر کے ابھی ایک منٹ پہلے میں تمہیں یونانی دیوی نظر آ رہی تھی اور اب تمہیں میری باتیں شیطانی

کلمات لگتے ہیں اور یہ کانوں میں ازان کا فتوی بھی تمہاری امی کا نہیں بلکہ تمہارے اپنے زہن کی پیداوار ہے اور اب

مجھے تم سے بلکہ کسی سے کوئی بات نہیں کرنی میں گاڑی سٹارٹ کررہی ہوں

شکر ہے اللہ کا اسی بہانے سفر تو آرام اور چین سے کٹ جاۓ گا خاموشی بھی اللہ تعالہ کی ایک نعمت ہے

ہاں ہاں میں ہی بہت زیادہ بولتی ہوں اب آپ دونوں افیم کی گولیاں کھا کر خواب استراحت کے مزے لیجیے اور

مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجیۓ اور زیادہ زور سے خراٹے لینے کی ضرورت نہیں

اے جیدی سو گیے کیا ارے کوئی بات تو کرو ورنہ اتنا لمبا سفر کیسے کٹے گا امی کو سونے دو بیچاری عمر رسیدہ خاتون ہیں

تھک گئی ہونگی تم تو کچھ کہو کوئی جھوٹ موٹ کا قصہ ہی سنا دو

اے لڑکی عمر رسیدہ ہو گی تیری ماں یا تیری دادی مجھے کیوں ابھی سے اپنے اباؤ اجداد کی صف میں شامل کر دیا

لیجیے ہو گیا خاموشی کا سفر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 39

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

چلے تھے صبح کو دونوں نجانے شام کب ہو گی

سفر ہے زندگی اک تو یہ عمر تمام کب ہو گی

اے

اونہوں

بات کرو کوئی ڈھائی تین گھنٹے کا سفر ہے سوتے رہو گے کیا

تم میرے اتنے قریب بیٹھی ہو کہ تمہاری سانسوں کی مہک اور دل کی دھڑکن چاہوں بھی تو مجھے سونے نہیں دیگی

پہلے بھی تو میں تمہارے سامنے ہی بیٹھی ہوتی تھی

سامنے اور ساتھ میں زمین اور آسمان کا فرق ہے

کیسا اور کتنا فرق

اتنا ہی جتنا بات اور سرگوشی میں ہوتا ہے

ایسی میٹھی میٹھی باتیں کرو گے تو گاڑی مار دونگی کہیں

مار دو اب تو

ملا ہے جب سے اے سجنی تیرے انگ سے میرا انگ

میرا جینا ہے تیرے سنگ اور میرا مرنا ہے تیرے سنگ

شعر تو تمہارے جیسا پھٹیچر ہےلیکن میرے لیے کہا ہے اس لیے جاؤ معاف کیا اور یہ شاعری کب سے شروع کر دی تم نے

ارے تم خود ایک مجسم شعر ہو کوئی کافر ہی ہو گا جو تمہیں دیکھ کر پورا دیوان نہ لکھ ڈالے اور یہ شعر میں نے خون جگر سے لکھا تھا کیسی بےزوق محبوبہ سے پالا پڑا ہے اور وہ جو تم رکشوں ٹیکسیوں اور ٹرکوں پر لکھے ہوۓ شعر ہر وقت میرے کان میں بابل

کی جادوگرنیوں کی طرح پھونکتی رہتی ہو وہ کیا ہوتا ہے

ابھی ایک منٹ پہلے میری سانسوں میں سے تمہیں پھولوں کی مہک آ رہی تھی اور اب تم مجھے

Babylonian witch

کہہ

رہے ہو

you are so vindictive

بات نہیں کرنی مجھے تم سے

ٹھیک ہے

silence is golden

ٹھیک ہےلیکن وہ کانوں والی باتیں تو کر ہی سکتے ہیں

وہ بھی تم ہی کرتی ہو

کیوں تم بھی تو کبھی کبھی کرتے ہو جھوٹے کہیں کے

ہاں میں کرتا ہوں لیکن وہ تمہارے لیے نہیں میری ہونے والی بیوی کےلیے ہوتی ہیں

تو مجھےکیوں سناتے ہو

تم نہ سنا کرو ان بڑے بڑے کانوں میں روئی کے گولے ڈال کر بیٹھا کرو

تم وہ باتیں اپنے دل میں بھی کہہ سکتے ہو

نہیں کہہ سکتا

کیوں نہیں کہہ سکتے میں بتاؤں کیوں نہیں کہہ سکتے کیونکہ تمہارے دل میں بھی چور بیٹھا ہے

چور نہیں چورنی بیٹھی ہے

سچ

اونہہ

کچھ کہو گے نہیں

کیا

کچھ بھی

نہیں اب میں نے ایک لفظ بھی کہا تو تم شرما کر اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لو گی اور پھر ہم سبکی آنکھیں روز محشرکو ہی

کھلیں گی کیونکہ گاڑی کا سٹیرنگ ویل تمہارے ہاتھ میں ہے

کوئی اور بات کرو لیکن اپنا کوئی فلسفہ لیکر بیٹھے تو سٹیرنگ چھوڑ کر تمہیں پکڑ لونگی

عندلیب

جی

کیسی ہو

ٹھیک ہوں

رات کیسے گذری

تم سے باتیں کرتے ہوۓ سویرا کب ہوا پتہ ہی نہیں چلا ۔ تم کیسے ہو

میں بھی ٹھیک ہوں جب تک جاگ رہا ہوتا ہوں خیالوں میں تم سے باتیں کرتا رہتا ہوں سو جاتا ہوں تو تمہارے سپنے دیکھتا رہتا ہوں تم نے بتایا نہیں تھا گلبرگ میں کہاں رہتے ہو تم لوگ

ایف سی کالج کے گیٹ سے نکلتے ہی مین

boulevard

کے قریب ہی ہے ہمارا گھر تم تو واقف ہو اس علاقے سے ہم پہلے سیدھے وہیں جائیں گے سامان وغیرہ رکھنے کے بعدمیں تمہیں تمہارے ہاسٹل چھوڑ آؤنگی کونسے ہاسٹل میں رہتے ہو

قائد اعظم ہال المشہور ہاسٹل نمبر ون

ویسے تو گھر میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ہوتا ہے پھر بھی احتیاط کے طور پر گھر کی سپئیر چابیاں مجھ سے لے لینا

اور سنو گھر کے دروازے کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جیسے ہی تمہارے مونہہ کا رخ میرے گھر کی

طرف ہوتا ہے میرے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور جیسے جیسے تمہارے قدم آگے بڑھتے ہیں اس میں

اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور جب میری سانس میرے گلے میں اٹکنے لگ جاۓ مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ تم

میرے گھر کے دروازے کے باہر کھڑے ہو اور میں بھاگ کر تمہارے لیے دروازہ کھول دیتی ہوں

اچھا اور اگر میں راستے میں کہیں رک جاؤں یا اپنا راستہ بدل دوں تو

تم میرے پیار کو آزمانا چاہتے ہو یا اپنی چاہت کا امتحان لینا چاہتے ہو یہ بھی کر کے دیکھ لینا اگر اپنی

ناکامی کی شرمندگی کا سامنا کر سکتے ہو تو لیکن تم مجھے کسی قسم کی آزمائیش میں ڈالو گےایسا تو میرے لیے سوچنا بھی

گناہ کے مترادف ہے ہمارے پیار کی ابتدا ہی اس کی انتہا بھی تھی اور ہے اور رہے گی ہمیشہ انشاللہ ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 40

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار
پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

شاہدرہ سے انارکلی تک

عندلیب بیٹا کہاں تک پہنچے ہیں ہملوگ لگتا ہے میری آ نکھ لگ گئی تھی
جی گوجرا نوالہ پہنچنے والے ہیں راستے میں تھوڑی دیر کے لیے پٹرول سٹیشن پر بھی رکے تھے
ویسے تو ناشتہ وغیرہ کر کے نکلے تھے پھر بھی اگر کچھ کھانے کو دل چاہے تو تھرمس میں چاۓ بھی ہے اور میں
نے سینڈوچ بھی بنوا کر رکھ دئیے تھے آگے

glove box

میں میری ٹیپس اور ہیڈ فون پڑے ہیں مجھے پکڑا دو دوبارا
سونے کی کوشش کرتی ہوں

عندلیب آپ سے ایک بات پوچھوں
ٹھہرو پہلے مجھے دیکھنے دو سورج کس طرف سے نکلا ہے آج
کیوں کچھ غلط کہہ دیا میں نے
نہیں محترم و مکرم خان بابا کبھی اتنے ادب آداب ملحوظ خاطر نہیں رکھتے اس لیے سوچا شائد دن کی ابتدا کسی اور
ڈھنگ سے ہوئی ہے بحر حال بولئے بلکہ فرمائیے کیا پوچھنا ہے ظل سبحانی نے اس نا چیز کنیز سے
انار کلی ہمارے سننے میں آیا ہے کہ تم شہزادہ عالم یعنی ہم سے بڑی زبان درازی کرتی ہو
جان عالم یہ الزام سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے اور میرے اور آپ کے دشمنوں کی کوئی سازش ہے بلکہ مجھے یقین ہے
کہ یہ دلآرام کی ہم دونوں کو علیحدہ کرنے کی کوئی نئی چال ہے اور اس سے پہلے کہ مہابلی یعنی مغل اعظم کے کانوں تک
اس خبر کی رسائی ہو شہزادہ عالم کو اس جھوٹ اور جھوٹ پھیلانے والے دونوں کا سروناش کر دینا چاہئے اور اگر جان
کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ میرے اس بیان کی صداقت کے سب سے بڑے عینی شاہد اور گواہ آپ کی اپنی زات ہے
آپ ہی کہیے میں نے اگر آپ سے کبھی گستاخانہ لہجہ میں بات کی ہو تو نیام سے تلوار نکال کر اس باندی کا سر قلم کر دیجیے
تو پھر یہ چہار سو شور و غوغا کیسا ہے کہ تم ہماری زات اور کردار پر اپنی زبان سے چرکے لگانے کی جرات کرتی ہو
جان عالم یہ لوگوں کی کم علمی اور ناسمجھی ہے اور صرف وہی لوگ جو پیار سے ناآشنا ہی نہیں اس کے حروف ابجد سے
بھی واقف نہیں ایسی باتیں کہتے اور کرتے ہیں رموز عشق دنیا سے نرالے ہیں اس کے انگ ڈھنگ اور رنگ سے صرف
وہی واقف ہے جو سوہنی کے کچے گھڑے سے چناب کی طوفانی لہروں کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتا ہے
اے جیدی کیسا عجیب اتفاق ہے نا ہم جن لوگوں کی لازوال محبت کی بات کر رہے ہیں ان میں سے ایک تو ہمیں آدھ پون
گھنٹے کے بعد راستے میں ہی مل جاۓ گا اور دوسرا لاہور پہنچنے پر
کس کی بات کر رہی ہو
تم بھی نا بات مجھ سے کر رہے ہوتے ہو اور دھیان کسی اور طرف ہوتا ہے ارے میں شہزادہ سلیم کی بات کر رہی تھی
شاہدرہ کے پاس اس کا مقبرہ ہے کہ نہیں جو ہمارے راستے میں پڑتا ہے اور انارکلی کو لاہور جا کر مل لیں گے
تم بھی عجیب لڑکی ہو میرا مقبرہ بنوا دیا اور اپنے آپ کو زندہ دیوار میں چنوا دیا
چلو چھوڑو انکا قصہ یہ بتاؤ تم نے امی سے میری شکائیت کی کہ میں تم سے جھگڑا کرتی ہوں جھوٹے کہیں کے
میں نے کب کہا بلکہ تمہاری امی ہی کہہ رہی تھیں کہ تم لوگ ہر وقت کی نوک جھونک سے تھک نہیں جاتے
اور تم نے آگے سے کیا جواب دیا مجھے یقین ہے خوب نمک مرچ لگائی ہو گی تم نے
ارے تم مجھ پر کیوں لال پیلی ہو رہی ہو انہوں نے پوچھا سو میں نے کہہ دیا کہ لڑائی تو نہیں البتہ کبھی کبھار تھوڑا
بہت کسی ایشو پر

argument

ضرور ہو جاتا ہے
اتنا کہنے کی بھی کیا ضرورت تھی امی زرا پرانے خیالات کی عورت ہیں ان کے زمانے میں مرد کے ساتھ بحث مباحثہ
کرنے والی عورت کو لوگ جھگڑالو کہتے تھے تمہی بولو میں جھگڑالو ہوں کیا بس میرا اظہار محبت کچھ اسی طریقہ کا ہے
جاوید
جی خالہ جان آپ جاگ رہی ہیں کیا
نہیں مجھے نیند میں بولنے کی عادت ہے اور ہاں یہ لڑکی جو آپ کے ساتھ بیٹھی ہے سننے میں آیا ہے آپ سے عمر میں کچھ بڑی
بھی ہے اس سے پوچھیے کہ جب وہ اس دنیا میں وارد ہوئی تو اس کی ماں کتنی عمر کی تھی شائد اس کے علم میں نہ ہو اس لیے
میں بتاۓ دیتی ہوں آٹھارا سال اور تئیس سال ماشاللہ اس کی عمر ہے اس حساب سے اس کی امی جان اکتالیس سال کی
ہوئیں تو میں کہنا یہ چاہ رہی تھی کہ اس عمر کی عورت کے خیالات بھی پرانے ہو گئے اس کا زمانہ بھی فراعنہ مصر کا زمانہ
ہو گیا اور یہ سب باتیں میرے اس جرم کی سزا ہیں کہ میں غلطی سے یہ کہہ بیٹھی کہ ہر وقت کی جھک جھک پیار اور سلوک میں بھی بعض اوقات نامعلوم سی تلخی اور دراڑیں پیدا کر دیتی ہے کچھ اور بھی کہنا ہے اسے میرے بارے میں یا میں کان لپیٹ
کر اوراس دفعہ سانس بھی بند کر کے لیٹ جاؤں اور ان محترمہ سے کہیے اپنی باتیں اپنے تک ہی محدود رکھا کریں اور مذاق اور
مزاح میں بھی احتیاط برتیے اور اپنے سے بڑوں کی عزت اور احترام کو ہمیشہ پیش نظر رکھیے
امی جان

I am sorry
خالہ جان میں بہت شرمندہ ہوں آپ سے اور صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دونوں کی طرف سے معافی چاہتا ہوں میں ہی کوئی غیر
ضروری اور بے معنی بحث چھیڑ دیتا ہوں اور پھر عندلیب کو بھی اس کا حصہ بنا لیتا ہوں
بس بس اب اتنا سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں

just keep me out of your discussions and debates
اے
کیا ہے سرگوشیاں کیوں کر رہی ہو
تو کیا گاڑی کے باہر کھڑی ہو کر چلاؤں
بولو کیا کہنا ہے
یہ امی کے سامنے ہیرو بننے کی کیا ضرورت تھی ‘ خالہ جان سارا قصور میرا تھا

‘ but thanks for trying to save my bacon

اور اس احسان کا بدلہ شادی کے بعد چکا دونگی ہاہاہا

جاری ہے

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

شہرزاد ۔ قسط نمبر 41

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

تم میرے پاس ہوتے ہو جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

پھر کچھ سوچا تم نے

کس بارے میں اور پلیز دوبارا شادی بیاہ کا زکر مت چھیڑ دینا

کیوں ساری عمر کنوارے بیٹھے رہو گے کیا

نہیں فی الحال تو میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہاں اگر تم جوگن کا روپ دھار لو تو شائد

اور میں ایساکیوں کرونگی پاگل کتے نے کاٹا ہے مجھے تمہارے ایسے پریشاں خوابوں کی تعبیر اور تکمیل کے بیچ میں عندلیب اپنے حناآلود ہاتھوں اور سرخ جوڑا زیب تن کئے ہوۓ کھڑی ہے

اتنی جلدی میں کیوں ہو وقت پہ سب کچھ ہو جائیگا

اور وہ کونسا وقت ہو گا کیا آسمان دنیا پر کوئی نیا ستارا نمودار ہو گا اسدن یا صور اسرافیل کا انتظار کر رہے

ہو جب مردے قبروں سے نکل کر آ رہے ہونگے اور تم کہو گے تھوڑی دیر رکو بھئی ہمیں شادی کرنی ہے

تم یہ باتیں اس لیے کہتے ہو کیونکہ تمہارے پاس کل ہے میرے پاس تو صرف آج ہے یا شائد اسکا بھی

تھوڑا سا حصہ اور میں اسے جینا چاہتی ہوں اپنے طور طریقے سے اپنے ڈھنگ اور اپنی مرضی سے صرف

اور صرف تمہارے ساتھ

جلد مرنے کے خوف سے تم ہر چیز بھاگتے دوڑتے کرنا چاہتی ہو یہ کیسا جینا ہوا میرے بارے میں سوچا

ہے کبھی تم نے تم تو اپنا ادھا دن گذار کر چلی جاؤ گی اور دن کے بقیہ حصے میں کیا میری چتا جلانے آؤ گی

یا پھر میری راکھ اکھٹی کرنے ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ سانس تو میں تم سے ملنے سے پہلے بھی لیتا تھا لیکن جینا تو

اب شروع کیا ہے تم چلی جاؤ گی تو کیا ہو گا زندہ لاشوں کو چلتے ہوۓ نہیں دیکھا تم نے کبھی جو ہزاروں

لمہے میں تمہارے ساتھ جی رہا ہوں تم چاہتی ہو کہ میں انھیں بھی کھو دوں صرف یہ سوچ سوچ کر کہ

کل جب تم نہیں ہو گی تو میں کیا کرونگا

اے معاف کر دو شائد اپنے آپ سے لڑتے لڑتے تھک گئی ہوں اس لیے سوچ کے دھارے غلط سمت میں بہنا شروع ہو گئیے ہیں

عندلیب تم اب اکیلی نہیں ہو میں ہوں یہاں تمہارے ساتھ ہمیں یہ لڑائی مل کر لڑنی ہے اور صرف لڑنی ہی نہیں جیتنی بھی ہے انشاللہ مایوسی گناہ تو ہے ہی ساتھ میں انسان کے جسم اور روح کو اندر سے کھوکھلا بھی کر دیتی ہے جس سے انسان کی قوت مدافعت بھی کمزور پڑ جاتی ہے

شائد سچ کہتے ہو تم لیکن میں بھی کیا کروں جب تک تم پاس ہوتے ہو سب کچھ ٹھیک لگتا ہے لیکن جیسے ہی تم جاتے ہو حوصلے پست ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور چاروں طرف صرف گھور اندھیرا دکھائی دیتا ہے کیوں چھوڑ کر چلے جاتے ہو مجھے یوں اکیلا تنہا پتہ ہے جب تم میرے پاس نہیں ہوتے تو میں تمہاری آواز اور تمہاری باتوں سے اپنا دل بہلاتی ہوں

اچھا

پوچھو گے نہیں کیسے

میں نہ بھی پوچھوں تب بھی تم بنا بتاۓ کب چھوڑو گی ویسے تم تھوڑی بلکہ کافی کھسکی ہوئی تو ہو شائد میری آواز ریکارڈ کرتی

ہو گی تم سے کوئی چیز بھی بعید نہیں

یہ ضرور امی کا کام ہے انھیں نے بتایا ہو گا تمہیں ورنہ تمہیں الہام تھوڑا ہوتا ہے

کیا مطلب تو تم سچ مچ ہماری گفتگو ریکارڈ کرتی ہو

کیوں کیا برائی ہے اس میں کسی کی چغلیاں تھوڑی کھاتی ہوں ہم دونوں کی باتیں ہی ہوتی ہیں اور تم سے مطلب

چور کہیں کی

ارے بابا کہنا میں تم سے کچھ اور کہنا چاہتی تھی تم نے مجھے کسی اور ہی بات میں الجھا دیا

اچھا تو ابھی کوئی اور بات بھی رہتی ہے

کیوں نیند آئی ہے تمہیں کیا جاؤ پچھلی سیٹ پر تم بھی اور امی کی گود میں سر رکھ کر سو جاؤ

ناراض کیوں ہوتی ہو بولو کیا کہنا ہے تمہیں

کچھ خاص تو نہیں لیکن میں سوچ رہی تھی کہ تم جلد از جلد گاڑی چلانا سیکھ لو

سیکھ لونگا بھئی کہا تو تھا تمہیں تم تو ہاتھ دھو کر پیچھے ہی پڑ گئی ہو ایسی بھی کیا ایمرجنسی ہے

پہلے تو نہیں تھی لیکن اب تو ہے ایمرجنسی مجھ سے ملنے کیسے آیا کرو گے

کشتی پر بیٹھ کر ہوا کے سنگ سنگ گھٹا کے ساتھ ساتھ

سنجیدگی سے بات نہیں سنو گے تو گاڑی سے نیچے اتار دونگی پھر آ جانا تیرتے ہوۓ

اچھا فرض کرو کہ مجھے ڈرائیونگ آتی ہے تو کیا کروں اس کے ساتھ ارے ہاں یاد آیا ابھی صبح ہی تو میری کروڑوں روپے

کی لاٹری نکلی ہے تمہاری باتوں سے یاد آ گیا لاہور پہنچتے ہی سیدھا گاڑیوں کے کسی شو روم میں چلتے ہیں بولو کونسی گاڑی

پسند ہے تمہیں تمہاری گاڑی تو ویسے بھی اب کھٹارا ہو چکی ہے اتنے جھٹکے لگتے ہیں اس میں کہ شام کو مجھے massage parlour جانا پڑیگا میرا تو ابھی سے جسم دکھنا شروع ہو گیا ہے

کھٹارا کےبچے ایک دفعہ گھر پہنچ جائیں تمہاری تو میں ایسی پٹائی کرونگی کہ مساج پارلور کی بجاۓ UCH لیکر جائیں گے تمہیں

جنگلی کہیں کے میں تو یہ کہنے والی تھی کہ میری گاڑی لے جایا کرنا لیکن تم تو ہوا کےگھوڑے پر سوار ہو اب تمہیں یہ

ٹھینگا ملیگا مجھےملنے کو اگر جی چاہے تو اومنی بس کے زریعے یا پاؤں سے چل کر آ جانا ورنہ خدا حافظ

جاوید بیٹا لاہور پہنچنے میں ابھی کتنی دیر باقی ہے

جی خالہ جان گاڑی لاہور کے مضافات میں پہنچ چکی ہے منزل بس قریب ہی سمجھیے اور مس عندلیب لفٹ دینے کا

بہت بہت شکریہ اور سنو یہاں لاہور ہوٹل کے پاس مجھے اتار دینا میری نانی ماں یہاں قریب ہی رہتی ہیں ان سے مل

کر ہاسٹل چلا جاؤنگا اور مجھے دیکھنے کو جی چاہے تو کل ایک بجے دوپہر ہاسٹل نمبر ۱ نیو کیمپس آ جانا اپنے کھٹارے سمیت

اترو گاڑی سے مجھے تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی

خداحافظ خالہ جان اور اس ڈرائیور کو یاد کرا دیجیے گا کل دوپہر ایک بجے قائد اعظم ہال

ڈرائیور ہو گی کوئی تمہاری ہوتی سوتی اور امی اسے کہہ دیں میں کسی ایرے غیرے سے ملنے کے لیے ہاسٹلز کے چکر لگانے

والی نہیں خدا حافظ

چلا گیا وہ اب کسے

kisses blow

کر رہی ہو

آپ کو ہر چیز دیکھنے کی ضرورت نہیں اور دیکھ لیا تو

comments

کیوں دے رہی ہیں

اب ماں سے شرما رہی ہو اور اس سے

argue

کیوں کرتی رہتی ہو میں نے تم دونوں کو منع بھی کیا تھا تو پھر تم کل اس کے

ہاسٹل نہیں جا رہی

کیوں نہیں جا رہی

تم تو کہہ رہی تھیں کسی ایرے غیرے کو

وہ کوئی ایرا غیرا نہیں ہے

اچھا ہاہا ۔۔ ہاہاہا

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 42

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

ایفروڈائیٹی میری ہمسفر میری شریک حیات

آپ کسی سے ملنے آئی ہیں یا کسی کا انتظار کر رہی ہیں

نہ تو میں کسی کو ملنے آئی ہوں اور نہ ہی مجھے کسی کا انتظار ہے

اوہ تو آپ شائد غلطی سے یہاں آ گئی ہیں یہ لڑکوں کا ہاسٹل ہے گرلز ہاسٹل وہ سامنے ہے

میں تو یہاں اپنی مرضی سے آئی ہوں غلطی سے نہیں لیکن تم یہاں کیا کر رہے ہو تمہیں تو گرلز ہاسٹل کے آس پاس

ہو نا چاہیے نا یہاں اپنا وقت کیوں ضائع کر رہے ہو

کیا مطلب اور مجھے کیوں لڑکیوں کے ہاسٹل کے قریب ہونا چاہیے

ان پر لائن مارنے کے لیے اور کس کے لیے راکھی بندھوانے کے لیے نہیں کہہ رہی

محترمہ میں اس چلن کا لڑکا نہیں ہوں آپ کو یوں کھڑے دیکھ کر مدد کے لیے چلا آیا انسانی ہمدردی بھی آخرکوئی چیز ہے

اے ہمدرد دواخانہ اپنا راستہ ناپ ورنہ اتنے جوتے ماروں گی کہ آنے والی سات پشتیں تک گنجی پیدا ہونگی

آپ سچ مچ کسی غلط فہمی کا شکار ہیں میں ایک بے ضرر قسم کا انسان ہوں سارا شہر میری شرافت اور صداقت

کے گن گاتا ہے میرا یقین کی جیے

لچا لفنگا سٹریٹ رومیو کہیں کا جان ہی نہیں چھوڑ رہا اکیلی خوبصورت لڑکی دیکھی اور جھٹ سے رشتہ داری نکال لی اور زرا یہ تو بتاؤ وہ کونسا شہر ہے جو تمہاری شرافت کی قسمیں کھاتا ہے وزیر آباد ایبٹ اباد قابل بلخ بخارا یا ترکی کا کوئی شہر

اوہو تو یہ آپ ہیں تلکا سندر شکنتلا دیوی افروڈائیٹی ماتا ہری وغیرہ وغیرہ وغیرہ تو آگئیں آپ اس ایرے غیرے سے ملنے

پہلے گاڑی میں بیٹھو باقی کی باتیں راستے میں کر لینا یہاں کوئی ضروری کام تو نہیں ورنہ سیدھا گھر چلتے ہیں امی کھانے پر ہمارا

انتظار کر رہی ہونگی

ارے پہلی دفعہ سسرال جا رہا ہوں اس کھٹارا گاڑی میں لیکر جاؤگی کچھ تو ہمارے شاہانہ استقبال کے لیے خاص اہتمام کیا ہوتا

آپکا حکم سر آنکھوں پہ ظل الہی ایک دو ہاتھ دو پاؤں والے گدھے کولے کر آۓ ہیں جو دعوئ کرتا ہے کہ سیدھا شاہی اصطبل سے آیا ہے آپ کی اجازت ہو تو اسے ہی کیوں نہ اس کھٹارے میں جوت دیا جاۓ

پہلے بتاؤ یہ

donkey raja

گھر گرہستی والا ہے یا ابھی تک کمیٹی کے بیل کے ساتھ شہر شہر گلی گلی آوارہ گردی کرتا رہتا ہے

عالم پناہ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں آپ کا علم اس شاہی سواری کے بارے میں مجھ انپڑھ گنوار جاہل سے زیادہ ہے کیونکہ وہ آپ کے قبیل کا ہے ۔ اور تم میرے بغیر

magic lamp

کے الہ دین اپنی اس شہزادی بدرالبدر کو کونسی شاہی سواری میں بیاہ کر لے جاؤ گے چنگچی رکشا یا بغیر سیٹ کا ریڑھا ‘ پلے نہیں تیلا تے کر دی میلہ میلہ ‘

سوج دیوتا اپالو اپنا سنہری رتھ لیے ہمارا اور ہماری ہمسفر کا بڑی بے چینی اور بے قراری سے بادلوں کی اوٹ انتظارکر رہا ہے اور سنیے یہ شٹل کاک برقع ہمیشہ کے لیے اتار پھینکیے اور یہ اطلس اور کمخواب کی عبا زیب تن کرلی جیے

جی مہاراج مگر آج کون آپ کی ہم سفر ہوگی ایفرو ڈائیٹی یا ایتھینا

جسے بھی یہ عبا پوری آ جاۓ وہی آج ہی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہماری ہمسفر ہی نہیں ہماری شریک حیات بھی ہو گی

تو پھر یہ ہمیشہ کے لیے طے ہو گیا کہ ایفروڈائیٹی ہی آپ کی شریک سفر ہو گی کیونکہ یہ عبا ایتھینا کی عقل سے چھوٹی مگر جسم سے کہیں بڑی ہے

اب جو ہے سو ہے ظل الہی کا قول واپس نہیں ہو سکتا ہم جانتے ہیں کہ ایفروڈائیٹی کیساتھ اکیلے سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں لیکن علامہ اقبال کہتے ہیں

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

اچھے شعر پڑھنے اور سننے میں مزہ تو دیتے ہیں لیکن لکھنے والے خود بھی کم ہی ان پر عمل کرتے ہیں اس لیے دوبارا سوچ لو میرے ساتھ اکیلے چل رہے ہو وہ بھی بادلوں کے اس پار اپنے پروں کا بیمہ وغیرہ کرا لیا ہے یا نہیں پیار کے ساتھ میری تم سے تھوڑی سی دوستی بھی ہے اور اچھے دوست ایک دوسرے کی عزت اور

honour

کے امین بھی ہوتے ہیں اس لیے مفت کا مشورہ دے رہی ہوں

بہت بہت شکریہ

for this word of caution

لیکن آپ کیوں اتنی

excited

ہو رہی ہیں یہ سفر شادی کے بعد کا ہے پہلے کا نہیں اس لیے زمین پر چلیے زمین پر آسمان پر اڑنے کی ضرورت نہیں

کیا غیر رومانوی قسم کے آدمی ہو سارا مونہہ کا مزا کرکرا کر دیا جس طرح کی رومان پرور باتیں لکھتے اور کہتے ہو ان پر خود عمل کرتے ہوۓ کیوں تمہارے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور سنو یہ دوہرا نقاب پہن کر مجھ سے گاڑی نہیں چلائی جاتی

یا تو جلد از جلد ڈرائیونگ سیکھ کر مجھے اس فرض سے سبکدوش کرو یا پھر تم اس کا کوئی اور حل ڈھونڈو

میں نے تمہیں تھوڑا احتیاط کرنے کو کہا تھا یہ نہیں کہ اپنا مونہہ ہاتھ باندھ کر بیٹھ جاؤ اور دیکھو کسی سے کہنا نہیں کہ میں نے یہ کہا تھا ورنہ وہ سارے زمانے کو سناتے پھریں گے

بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑھ گیا

پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

فکر مت کرو میں تمہاری عقل کا ماتم نہیں کرنے لگی اورسنو سیٹ بیلٹ ٹھیک طرح باندھ لو کہیں نیچے نہیں گر جانا مجھے گاڑی چلانی نہیں بلکہ اڑانی ہے ہم پہلے ہی کافی لیٹ ہیں اور ہاں یہ لو میرے برقعے کا نقاب تم پر تھوڑا زیادہ سجے گا ہاہاہا

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 43

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

غریب خانہ سے دولت کدہ تک

تو یہ ہے آپکا دولت کدہ

جی یہی ہے ہمارا غریب خانہ ٹھیک کہا نا میں نے

کہا تو آپ نے بالکل ٹھیک ہے لیکن پاکستان میں اسی طرح کے تھوڑے سے غریب خانے اور ہو جائیں تو یہ ملک تیسری دنیا سے نکل کر پہلی دنیا میں داخل ہو جاۓ اور سنو یہ تمہارا دربان نیپال سے درآمد کیا ہے کیا کوئی گورکھا ٹائپ چیز لگتا ہے

اے جیدی ادھر دیکھو میری طرف

are you feeling out of place or what #

کیوں کہہ رہے ہو یہ سب کچھ مجھے جب جس وقت کہو گے میں یہ سب کچھ چھوڑ کر تمہارے ساتھ چلی آؤں گی مجھے تمہاری طرح کی بڑی بڑی باتیں تو کرنی نہیں آتیں

لیکن میری زندگی جتنی بھی ہے اس کا ہر لمہہ ہر پل تمہارے نام وقف ہے میں کسی بھی ایسی زندگی کا تصور نہیں کر سکتی جس

میں تم میرے ہم سفر نہ ہو

عندلیب مجھے شائد مذاق کرنے کا سلیقہ نہیں یا بے موقعہ اور بغیر سوچے سمجھے بولتا ہوں لیکن میرا ہر گز مقصد تمہیں hurt

کرنےکا نہیں تھا اور ہاں گیٹ کھلا ہوا ہے گاڑی اندر لے جانے کا ارادہ ہے یا یہیں سے مجھے واپس بھیج دیں گی

خوش آمدید جاوید بیٹا اور اب تم لوگ گاڑی سے باہر بھی نکلو گے یا کوئی نئی بحث چھیڑکر بیٹھے ہو کہو تو یہیں کھانا بھیج دوں سلام و علیکم خالہ جان ماشاللہ مکان بھی اچھا ہے اور مکین تو اچھے ہیں ہیاے مکھن کی ڈلی ایک منٹ میں نیچے نہیں اترے تو گاڑی سمیت گیراج میں بند کر دونگی

ارے گھر بلا کر ایسے مہمان کی خاطر مدارت کرتے ہیں آپ لوگ

جاوید تم میرے ساتھ آؤ میں تمہیں گھر دکھاؤں تب تک نوکر کھانا لگا دیگا اور عندلیب تب تک fresh ہو جائیگی

میں کوئی فصل کاٹ کر نہیں آئی جو آپ مجھے واش روم بھیج رہی ہیں اور میرا کمرہ کسی غیر مرد کو دکھانے کی ضرورت نہیں

جی آنسہ عندلیب بجا فرمایا آپ نے تو پہلے کیوں نا کسی رشتہ کی بنیاد رکھ لیں تا کہ غیریت اور اجنبیت کی شرعی اور

معاشرتی دیواریں منہدم ہو جائیں اور اس کے بعد وقت بچ گیا تو آپ کا کمرہ بھی دیکھ لیں گے جسے دیکھنے کی میرے دل میں نہ تو کوئی ایسی خواہش ہے اور نہ ہی امنگ البتہ اگر آپ لیونارڈو ڈی ونچی یا رافیل کی کوئی پینٹنگ یورپ کی کسی آرٹ گیلری سے

اڑا لائی ہوں اور اسے اپنے بیڈروم میں چھپا رکھا ہو تو پھر کوئی مضائقہ نہیں میں اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لونگا

اے رومیومیرا کمرہ تو اب تم شادی کے بعد بھی نہیں دیکھ سکو گے

کمال ہے آپ شادی کر رہی ہیں اور مجھے بتایا تک نہیں اور یہ گھر کیوں اتنا سونا سونا سا لگ رہا ہے نہ کوئی جھنڈی نہ رنگ برنگے

روشنی کے قمقمے نہ باراتی اور تو اور ڈھولک کی تھاپ تک نہیں مانا کہ آپ لوگ زرا سادہ مزاج کے ہیں پھر بھی تھوڑا بہت

دھوم دھڑکا تو ہونا ہی چاہیے شادیاں روز روز تھوڑی نا ہوتی ہیں کیوں خالہ جان ٹھیک کہا نا میں نے

ٹھہر تو سہی خالہ کے سگے تیری تو میں

ارے میرا گریبان تو چھوڑئیے میرے کیوں گلے پڑ رہی ہیں پراۓ مردوں پہ یوں ہاتھ اٹھانا شریفوں کا شیوہ نہیں

کیسے مرد ہو تم اپنی ہی ہونے والی بیوی کو کسی اور کے دامن سے وابستہ کر رہے ہو

تم دونوں کی بک بک ختم نہ ہوئی تولگتا ہے دوپہر کا کھانا کہیں رات کا ڈنر نہ بن جاۓ اور جاوید تم

چلو میرے ساتھ اب میں تم دونوں میں سے کسی کی آواز نہ سنوں خدا کی پناہ تم دونوں تو بچوں سےبھی بد تر ہو

کیوں میاں مٹھو گھر کیسا لگا اور اب یہ امی کہاں چلی گئیں یہاں کھانا پڑا ٹھنڈا ہو رہا ہے

میں یہاں ہی ہوں بیٹا چلو بسم اللہ کر کے شروع کرو

ارے آپ لوگوں کو اتنا تکلف اور اہتمام کرنے کی کیا ضرورت تھی ایسا لگتا ہے جیسے پوری بارات کا کھانا ہو

تم یہی سمجھ کر کھا لو کیونکہ اس کے بعد میں مایوں بیٹھ جاؤنگی اور تم اپنے گنجے سر میں تیل لگوا لینا خاموشی سے کھانا نہیں

کھایا جاتا تم سے کیا یا بنا بات کیے کھایا ہوا ہضم نہیں ہو گا

آپ کیوں یونہی مجھ پر دھونس جما رہی ہیں میں خالہ جان کا مہمان ہوں آپ کا نہیں اور یہ آپ کے مرغن کھانے ویسے بھی

میرے حلق سے نیچے نہیں اترنے والے کیونکہ میں آجکل زرا

diet

پر ہوں جسم پر تھوڑی فربہی سی آ گئی ہے فربہی تمہارے جسم پر تو نظر نہیں آتی البتہ تمہاری عقل ضرور موٹی ہو گئی ہے اتنی چڑی سی تو تمہاری جان ہے ڈائیٹنگ لڑکیاں کیا کرتی ہیں ویسے تو تم بھی کسی لڑکی سے کم نہیں بات بات پہ تمہیں شرم آتی ہے میری مانو تو اوپر میرے کمرے میں جا کر چولی گھاگرا پہن لو ناک اور کان میں چھید میں کر دونگی

اے لڑکی کیوں ہر وقت اس بیچارے کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ ی رہتی ہو اسے بھوک نہیں تو بعد میں یا شام کو کھا لیگا

میں اس موٹو کو صرف دوپہر کے کھانے کے لیے لائی تھی شہر زاد کی الف لیلی و لیلی یعنی ایک ہزار اور ایک راتوں کے لیے

نہیں کہ رات کو میں اسے دیس بدیس کی کہانیاں سناتی رہوں اور یہ شہریار بنا مزے کرتا ا رہے اور دن کو پڑا سویا رہے

خالہ جان آپ نے فارسی کی وہ مثال تو ضرور سنی ہو گی “ آواز سگاں کم نہ کند رزق گداراں “

ماما آپ اس طرح ہنس کیوں رہی ہیں بتائیے کیا کہا اس نے آج ماں کی چادر زرا دور نظر آئی تو الفاظ کے پیچھے چھپ رہا ہے

بزدل ڈرپوک کہیں کا اے کیا گل افشانی کی تو نے اب دائیں بائیں کیا دیکھ رہے ہو اگر مجھے ہلکہ سا شک بھی ہوا کہ تو نے

میری

insult

کی ہے تو سوچ تیرے ساتھ کیا ہو سکتا ہے گھر کے اندر میں ہوں اور باہر گیٹ پر وہ سات فٹ کا لمبا چوڑانیپالی گورکھا امی اب کہہ بھی چکیں تا کہ میں بھی تو سنوں آپ کے چہیتے کے

pearls of wisdom

ارے بیٹا اسنے کوئی سخت اور غلط بات نہیں کی صرف یہ کہا ہے کہ ‘ کتوں کےبھونکنے سے فقیر کا رزق کم نہیں ہو جاتا ‘

اسکامطلب اپنی سہیلی سے پوچھ لینا اور اب میں جا رہی ہوں اوپر اپنے کمرے میں تھوڑی دیر سستانےکے لیے اور انشا اللہ

شام کی چاۓ ہم سب اکٹھے پیئں گے

اے بول کیا کہا تم نے میرے بارے میں اور اس دفعہ زرا آسان زبان میں ورنہ تو جان اور وہ گھورکھا

میں نے اس سے پہلے آپ کی شان میں کبھی گستاخی کی ہے جو اب کرونگا میں نے آپ کی سب باتوں کے جواب میں صرف

اتنا کہا تھا کہ “ تم چاہے جتنی مرضی میری برائیاں لوگوں کے سامنے کر لو اس سے میری عزت رتبے وقار اور مقام میں

کوئی فرق نہیں پڑیگا “

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 44

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

لفظوں کی آنکھ مچولی

امی تو گئیں خواب استراحت کے مزے لینے دو کھنٹے سے پہلے نیچے نہیں آئیں گی

تو ٹھیک ہے تم بھی تھوڑا آرام کر لو میں اتنی دیر میں ایف س کالج کا ایک چکر لگا کر آتا ہوں

کالج ہی کا کیوں سارے گلبرگ بلکہ سارے لاہور کا چکر لگا آؤ میں اتنی دیر میں گھر کے سارے کام ختم کر لونگی رات کا کھانا

پکا لونگی ہمارے بچوں کو لوریاں دیکر سلا بھی دونگی ابھی تک اکیلے میرے ساتھ بیٹھتے ہوۓ تمہیں ڈر کیوں لگتا ہے

میں اکثر سوچتا ہوں کہ میری عدم موجودگی میں تمہارا وقت کیسے کٹتا ہو گا کیونکہ تمہیں ٹارگٹ پریکٹس کے لیے ہر وقت کسی نہ کسی

کی ضرورت ہوتی ہو گی میں بیٹھتا بعد میں ہوں اور تمہاری یلغار پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے میرا خیال تھا کہ تم صبح کی ادھر

ادھر بھاگتی پھر رہی ہو تھک گئی ہو گی اس لیے تھوڑا آرام کر لو اور تم ہو کہ

میں ہوں کہ کیا ادھوری بات مت کیا کرو ‘ بیچارا جیدی کتنا خیال رکھتا ہے میرا اور میں کتنی ابھاگھن ہوں کہ اسکے پیار کی قدر ہی نہیں کرتی اور بجاۓ شکر گزار ہونے کے

اس کی نیک اور پاکیزہ نیت کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتی ہوں ‘ سنو اس معصوم سے چہرے کیساتھ تم جو سفید جھوٹ بولتے

ہو انھیں امی کی زات تک ہی محدود رکھا کرو چلو اٹھو میں تمہیں سارے گھر کی سیر کرا کر لاتی ہوں

گھر تو میں نے خالہ جان کیساتھ دیکھ لیا تھا

کوئی بات نہیں اب ان کی بیٹی کیساتھ دیکھ لو دوبارا دیکھنے سے تمہارے پاؤں کی مہندی نہیں اتر جاۓ گی

اپنے پاؤں پر چل کر جانے سے تو میں رہا تم میں ہمت ہے تو اپنی گود میں اٹھا کر لے چلو

میری گود تمہارے بچوں کے لیے ہے ان کے باپ کے لیے نہیں اٹھو اب پوستی کہیں کے

تمہیں بیکار قسم کی ضد کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے ابھی آدھ گھنٹہ پہلے ہی تو میں سارا گھر دیکھ کر آ رہا ہوں اتنی دیر میں

گھر کا نقشہ تو تبدیل نہیں ہو سکتا

نہیں گھر کا تو نہیں لیکن تمہارے چہرے کا نقشہ دو منٹ بعد ضرور بدل جائیگا یہ دیکھو میرے ناخنوں کو کافی لمبے بھی ہیں اور تیز بھی اور ان کو میں نے صرف ہاتھوں کی خوبصورتی کے لیے پال کر نہیں رکھا ہوا اور سنو امی نے تمہیں وہ جگہہ تو نہیں دکھائی

ہو گی جہاں بچپن میں آ نکھ مچولی کھیلتے وقت میں جا کر چھپ جایا کرتی تھی

اب تو میں یہاں سے ٹس سے مس نہیں ہونے والا

کیوں اب میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو آپ کی نازک طبیعت پر اتنا گراں گزرا ہے کہ آپ دوبارا کرسی سے چپک گئے ہیں

تم نے تو کچھ نہیں کہا لیکن میری بڑی امی کہا کرتی تھیں کہ ‘ لکن میٹی کھیڈن والیاں کڑیاں توں سو وریاں دی دوری تے رہیں ‘

مطلب آنکھ مچولی کھیلنے والی لڑکیوں سے ہمیشہ سو برس کے فاصلے پر رہنا

اچھا تو آپ کی بڑی امی نے کب اور کیوں کہا یہ سب کچھ اور آپ مجھے کیوں سنا رہے ہیں

برسوں پہلے کی بات ہے عید الفطر کے موقعہ پر میں عید کے میلے سے واپس آیا تو بڑی امی بڑی معنی خیز آواز میں بولیں

‘ جیدیاں تیری سہیلی آئی تھی دودھ کی سوئیاں لیکر جالی والی الماری سے نکال کر کھا لینا میں نے کہا آپ کس کی بات کر رہی

ہیں اور میری کوئی سہیلی شہیلی نہیں ہے ‘ سامنے والے گھر سے غزالہ آئی تھی ممتاز کی لڑکی اور یہ مت کہنا تو اسے جانتا نہیں

یہ بال میں نے دھوپ میں سفید نہیں کیے اور سن یہ لکن میٹی کھیلنے والی لڑکیوں سے

blah blah blah

‘ اے تمہیں کیا ہوا ہے اور یہ ہنسی کے فوارے کیوں چھوٹ رہے ہیں تو وہ لڑکی سچ مچ کیا تمہاری گرل فرینڈ تھی

پاگل ہو گئی ہو کیا ہمارے پڑوس میں رہتی تھی اس لیے معمولی سی جان پہچان تھی اور بس

اے لڑکیوں کی طرح شرما کیوں رہا ہے سچ سچ بتا مجھے میں تیری دوست بھی تو ہوں اور دوست ایک دوسرے کے رازدان

بھی تو ہوتے ہیں کچھ نہ کچھ بات تو ضرور ہو گی ورنہ تمہاری بڑی امی اس لڑکی کو تمہاری سہیلی کیوں کہتیں

خود ہی ان سے پوچھ لینا اسی شہر میں رہتی ہیں اور تم اتنے مزے کیوں لے رہی ہو جیسے خود بڑی پارسا ہو

میں نے کبھی اپنی پارسائی کا دعوئ نہیں کیا اور اگر کرتی تو تم یوں میرے پاس نہ بیٹھے ہوتے میں جو بھی ہوں جیسی بھی ہوں

تمہارے سامنے بیٹھی ہوں میرا کوئی ماضی نہیں شائد چند دنوں یا مہینوں کی مہمان ہوں اس لیے کوئی مستقبل بھی نہیں ہو گا

لے دے کر ایک حال بچا ہے جو تمہارے سامنے بھی ہے اور تمہارے ساتھ بھی اور اگر مجھے اپنانے میں تمہارے پاس کوئی

شرعی یا سماجی عذر ہے تو مجھے بتانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تم اگر چاہو تو میں جہاں سے تمہیں لیکر آئی ہوں واپس وہاں

چھوڑ آتی ہوں تم اپنی راہیں جدا کرنا چاہتے ہو تو اس کے لیے کسی قسم کا بہانہ یا وجہ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں اور نئی راہوں

اور راستوں پر چلتے چلتے پھر کبھی بھولے سے میری یاد آۓ تو میں تمہیں یہیں تمہارا انتظار کرتے ہوۓ ملونگی کیونکہ میری ساری

راہیں تمہیں سے شروع ہو کر تمہیں پر ختم ہو جاتی ہیں نہ کسی نئی راہ کی تلاش ہے اور نہ ہی جستجو ہاں واپس آنے میں اتنی

دیر نہ کر دینا کہ مکان تو ہو لیکن مکین سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے جا چکا ہو بقول اس شاعر کے

بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم

پس ازآن کے من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد

میں جاں بلب ہوں تو آ کہ میں زندہ ہو جاؤں

اگر میں نہ رہا اور تو آیا تو تیرے آنے کا کیا فائدہ

یہ شعر تمہاری زبانی سنا تھا تمہیں کو واپس لوٹا رہی ہوں کچھ غلط کہہ دیا ہو تو معاف کر دینا

چلو معاف کیا اور اب یہ بھی بتا دیجیے کہ

what was this tirade about

ایک لفظ کیا آپ کی شان کے خلاف کہہ دی میں نے آپ نے تو میری اچھی خاصی درگت بنا ڈالی آپ تو پنجے جھاڑ کر میرے پیچھے ہی پڑ گئیں سارا غبار نکل گیاہے یا ابھی کچھ اور کہنا ہے یا سچ مچ مجھے واپس ہاسٹل جانے کی تیاری کرنی چاہیے خود تو ہر وقت مجھے جلی کٹی سناتی رہتی ہو اور میں کبھی

بھولے سے کچھ کہہ سن لوں تو اسکا لاہور کے ہر چھوٹے بڑے چوک پر بل بورڈز بنوا کر لٹکا دیتی ہو یہ دوہرا معیار کیوں

سچی میں ایسا کرتی ہوں میں تو پھر کیا ہوا جتنا پیار تم مجھ سے کرتے ہو اس سے کہیں زیادہ پیار میں تم سے کرتی ہوں اور تم

مجھے جان بوجھ کر غصہ کیوں دلاتے ہو اے جیدی کے بچے یہ کیا کر رہے ہو دور ہٹو مجھ سے تم تو مجھے چھونا بھی ایمان کی

کمزوری سمجھتے ہو

شور کیوں کر رہی ہو سارے گھر کو اکٹھا کرنا ہے کیا اور میں تو صرف تمہارے بالوں کی اس لٹ کو پیچھے کر رہا تھا

لیکن کیوں

چاند جیسے چہرے کے آگے ایک آوارہ بادل کا ٹکڑا مجھے اچھا نہیں لگا سو میں نے ہٹا دیا اور ایک وجہ اور بھی تھی

وہ کیا

میں نے ایک دفعہ ایک شعر پڑھا تھا سوچا کیوں نہ اس کی سچائی پرکھ لی جاۓ

میرے بارے میں تھا کیا

ہاں شائد سن لو خود فیصلہ کر لینا

پردهٔ زُلفَت ز رُخ اُفتاد دُور

أُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِين

تمہاری زُلف کا پردہ [تمہارے] چہرے سے دُور گِر گیا۔۔۔ [گویا] جنّت مُتّقیوں کے لیے نزدیک لے آئی گئی۔۔۔

تم ہمیشہ ایسی باتیں نہیں کر سکتے

کر سکتا ہوں سنو گی

ہاں

کب تک

جب تک تمہاری سانسوں کی گرمی میرے رخساروں کو چھوتی رہے گی ۔۔۔۔۔ تب تک

جاری ہے

شہرزاد ۔ قسط نمبر 45

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Hope and despair

کب سے انتظار کر رہی ہو

تمہارا مطلب ہے کب سے انتظار کر رہی ہوں انتظار خانم کے بیٹے کا بڑے شاعرانہ موڈ میں لگتی ہو آج کوئی خاص وجہ تم سے خاص اور کیا وجہ ہو سکتی ہے

ہم سے مقابلہ کر رہی ہو سوچ لو ہار جاؤ گی

ہار جاؤں تو میں تمہاری اور جیت جاؤں تو تم میرے بولو کون جیتا

ہم دونوں

corny but true

کب سے کھڑی ہو یہاں بتایا نہیں تم نے

گھنٹہ بھر سے زیادہ ہو چلا ہے لاٹ صاحب ہیں کہ آنے کا نام ہی نہیں لیتے کلاس کی لڑکیوں کیساتھ خوش گپیوں میں

مصروف ہو گے میں کہاں یاد آئی ہونگی تمہیں

پوچ پوچ پوچ بیچاری عندلیب ‘ نہ جاۓ ماندن نہ پاۓ رفتن ‘ اور یہ کیا اپنے آپ سے باتیں کر رہی ہو

کچھ نہیں ابھی ابھی جو کچھ تم نے کہا اسے دوہرا رہی تھی تاکہ بھول نہ جاؤں

لکھ کے دے دوں پر کرو گی کیا فارسی سیکھنے کو دل چرایا ہے کیا

گھر جا کر امی سے اس کا مطلب پوچھونگی اور اگر کوئی غلط بات ہوئی تو پھر دیکھنا

میرا پورے سمیسٹر کا ٹائم ٹیبل تمہارے پرس میں کہیں پڑا ہو گا پھر آپ ایک گھنٹہ وقت سے پہلے میرا انتظار کیوں کر رہی تھیں

تم سے مطلب اپنے وقت کا مصرف میں تم سے بہتر جانتی ہوں تم صرف اپنے وقت کا حساب دو کیونکہ بے مقصد ادھر ادھر گھومنا تمہارا کام ہے میں گھر سے صرف اور صرف اس وقت نکلتی ہوں جب مجھے تمہیں اٹھانا ہوتا ہے یا پھر ہسپتال جاتی ہوں چیک اپ کے لیے

تم یہاں گاڑی میں بیٹھو میں اوپر اپنے کمرے سے ہو کر آتا ہوں

میں آ سکتی ہوں اوپر تمہارے ساتھ

ہاسٹل وارڈن سے اجازت لینی پڑیگی اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ اس وقت مل ہی جاۓ اور تمہیں کیا دیکھنا ہے میرے کمرے میں ایک چارپائی ہے ایک عدد میز کرسی اور کپڑے وغیرہ ٹانگنے کے لیے تھوڑی سی جگہہ اور ایک چھوٹی سی بالکونی بھی ہے

چلو پھر کبھی سہی میں دیکھنا چاہتی تھی کہ تم صبح جب کلاسز کے لیے نکلتے ہو تو بستر وغیرہ بنا کر جاتے ہو یا ایسے ہی بھاگ نکلتے ہو

ارے تم میری گرل فرینڈ ہو یا ماں یا بیوی

فی الحال تینوں ہی اور ذیادہ liberty لینے کی ضرورت نہیں جو پوچھا جاۓ صرف اتنا ہی جواب دو اب بھاگو اور جو بھی کرنا ہے جلدی کر کے واپس آؤ

کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہاسٹل چھوڑ کر تمہارے گھر شفٹ ہو جاؤں میرے پیسوں کی بچت ہو جاۓ گی اور تمہارا مجھے جانے لے جانے پر جو وقت ضائع ہوتا ہے اس میں کئی اور کام ہو جائیں گے

ارے ہاں تمہارے ساتھ رہتے رہتے میری عقل بھی کہیں گھاس چرنے چلی گئی ہے ورنہ مجھے تو پہلے دن ہی تمہیں یہ مشورہ دینا چاہیے تھا خیر اب بھی کچھ نہیں بگڑا گھر چل کر امی سے بات کرتے ہیں واہ مسٹر بلخی زندگی میں

پہلی دفعہ تم نے بھی کوئی عقل مندی کی بات ہے جی چاہتا ہے تمہاری بلائیں لے لوں

وہ بھی اب کر ہی ڈالیے بس اسی کی کسر رہ گئی تھی مجھے تو رہ رہ کر اکبر الہ آبادی کا وہ شعر یاد آرہا ہے

آدم چھٹے بہشت سے گیہوں کے واسطے

مسجد سے ہم نکل گیے بسکٹ کی چاٹ میں

عیسائی عقیدے کے مطابق تو حضرت آدم علیہ السلام نے یہ کام اماں حوا کے ورغلانے پر کیا تھا اسی لیے

وہ

Eve

کو

Evil

بنا دیتے ہیں اور مجھے لکتا ہے میں بھی کچھ اسی وجہ سے گھر سے بے گھر ہونے جا رہا ہوں

اے تمہیں ایک کمرے کی کال کوٹھڑی سے نکال کر اتنی بڑی اور عالیشان کوٹھی میں لے جا رہی ہوں اور تم ہو کہ

تمہارے مزاج ہی نہیں ملتے خیر گھر چل کر مزید بات کریں گے اب جاؤ اپنے کمرے میں اور بھول نہ جانا میں

یہاں گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں وہ نہ ہو کہ شکنتلہ بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاۓ اورادھر سادھو مہاراج کی

شکنتلہ کو دی ہوٰی بددعا کیوجہ سے راجا صاحب اپنی یادداشت کھو دیں اور انھیں شکنتلہ کی کبھی یاد ہی نہ آۓ

ایسی اپنی قسمت کہاں یہاں میں اگر ایک منٹ بھی لیٹ ہوا تو میری شکنتلہ دیوی وارڈن کی ایسی تیسی کرتی ہوئی

میرے کمرے میں آ پہنچے گی فکرمت کرو میں یوں گیا اور یوں واپس آیا

آرام سے جاؤ بھاگتے ہوۓ سیڑھیاں چڑھو گے تو کہیں پاؤں میں موچ نہ آ جاۓ دھاگوں کے تو بنے ہوۓ ہو

چلیں زیادہ وقت تو نہیں لیا میں نے اور یہ کلائی کی گھڑی کیوں دیکھ رہی ہو

کچھ نہیں

I was timing you

اڑ کے گیۓ تھے کیا یا آدھ رستے ہی سے واپس لوٹ آۓ ہو

گاڑی سٹارٹ کرو اب باقی انٹر ویو راستے میں کر لینا

جیدی

بولو میں سن رہا ہوں

تم ایسے کیوں ہو میرا مطلب ہے زمانے بھر کے سست ہو تم کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتے تمہارے سارے کام

تو میں کرتی ہوں تمہارا آخر بنے گا کیا میں نہیں ہونگی تو کیا کرو گے

تم سے پہلے زندگی ایک جانور کی مانند تھی جو کھاتا ہے پیتا ہے بھاگتا اور دوڑتا بھی ہے لیکن اسے اسکا شعور ادراک اور احساس نہیں ہوتا کہ وہ یہ سب کچھ کر رہا ہے

پھر تم سے ملا دوبارا ملنے کا وعدہ کیا اور انسانوں اور انسانیت کی صف اور دوڑ میں شامل ہو گیا اب تم کہتی ہو اور اکثر و بیشتر یاد بھی دلاتی رہتی ہو کہ اگر تم چلی گئیں تو کیا ہو گا مجھے کیا پتا میں کیا جانوں کیا ہو گا تمہیں بتاؤ پیچھے جانا بھی چاہوں تو جا نہیں سکتا اور آگے کے کے سارے رستے مسدود ہو چکے ہونگے

اے اتنی اداسی اچھی نہیں

cheer up

میں ہوں یہاں تمہارے پاس تمہارے ساتھ ہمیشہ کے لیے

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد قسط نمبر 46

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

افق کے اس پار

کہیں جانا ہے تمہیں

ہاں افق کے اس پار

میرا ہاتھ تھام کر لے چلو

پیچھے مڑ کر تو نہیں دیکھو گی

پیچھا تو پیچھے چھوڑ دیا آگے بتاؤ کہاں تک جانا ہے

جہاں تک راستہ لے جاۓ

اور اگر وہ بھی ختم ہو جاۓ تو

نئے رستے نئی راہیں تلاش کر لیں گے

میرا ہاتھ تو نہیں چھوڑ دو گے

کبھی نہیں اور اگر تم خود چھڑانا چاہو تو

میں بھلا ایسا کیوں چاہوں گی اور یہ تم مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو

کیسے دیکھ رہا ہوں

جیسے پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں

زرا گاڑی سے باہر آؤ

کیوں

وجہ بعد میں بتاؤں گا پہلے تم باہر تو آؤ

کیوں بچوں کی طرح ضد کر رہے ہو اور اگر میں باہر نہ آنا چاہوں تو

ساری عمر گاڑی میں بیٹھی رہو گی کیا کسی وقت تو باہر نکلو گی

اچھا بابا نکل رہی ہوں لو

here I am

اب کیا کروں

کچھ نہیں کھڑی رہو اس طرح

let me look at you and now turn around

جیدی کیا کر رہے ہو سارے لڑکے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں

دیکھنے دو اور سنو تم سچ مچ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو یا ایسے ہی دل لگی کر رہی ہو

تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا کہیں کیوں ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو

تمہارے ہینڈ بیگ میں کوئی شیشہ ہے میں زرا اپنا چوکھٹا دیکھنا چاہتا ہوں

جیدی کے بچے زرا ہوش کے ناخن لو کیا الٹی سیدھی ہانک رہے ہو چلو گاڑی میں بیٹھو اور مجھے بھی تماشہ مت بناؤ

اب بتاؤ کہاں سے آ رہے ہو کسی نے کچھ الٹا سیدھا کھلا تو نہیں دیا

میں بالکل ٹھیک ہوں کچھ نہیں ہوا مجھے اب گاڑی کے شیشے میں اپنی شکل دیکھو اور پھر ایک نظر مجھ پر بھی ڈال لو

مجھے ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ تم کیا کہہ رہے ہو یا کیا کہنا چاہتے ہو

یہی کہ تم نہ صرف بہت خوبصورت لڑکی ہو بلکہ صاحب حیثیت اور صاحب جائیداد بھی ہو اور میں تمہارے اپنے الفاظ

کے مطابق بلکل

plain looking

ہوں اور بھی کوئ

talent

نہیں ہے مجھ میں اور

اور کچھ نہیں اور یہاں کوئی بیوٹی یا ٹیلنٹ مقابلہ نہیں ہو رہا کہ صرف اسمیں کامیاب امیدوار ہی کو میں ٹرافی کے طور

پر پیش کر دی جاؤں گی اور یہ تم مجھے ماڈلز کی طرح گھما پھرا کر کیوں دیکھ رہے تھے

اس لیے کہ اس سے پہلے میں نے تمہیں

trousers and tops

میں کبھی دیکھا ہی نہیں ہر وقت تو وہ کالے رنگ کا

منحوس سا برقعہ پہنا ہوتا تھا تم نے اور یہ لپ اسٹک بھی کچھ تو ہے آج جو مجھ سے چھپایا جا رہا ہے

پہلے بولو تمہیں اچھا لگا یہ سب کچھ میرا مطلب ہے یہ سارا

makeover

بہت اچھا

کتنا اچھا

on a scale of ten

ابھی بتاؤں یا واپس آنے کے بعد

ہم کہیں جا رہے ہیں کیا

ہاں قاضی کے پاس

سچ اتنی خوبصورت لگ رہی ہوں یا ایسے ہی مجھے بنا رہے ہو

آزما کے دیکھ لو ابھی پتہ چل جاۓ گا سچ ہے کہ جھوٹ یہاں سے سیدھے قاضی کے پاس چلتے ہیں

اے مسٹر بلخی تم مجھے اچھی طرح سے جانتے ہو تم نے تیسری دفعہ قاضی کا نام لیا تو سٹیرنگ وہیل میرے ہاتھ میں ہے

یہ گاڑی سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے شہر کی طرف موڑ دونگی اور آدھ گھنٹہ میں ہملوگ فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے آفس میں

بیٹھے ہونگے اور ایک گھنٹے بعد میرے نام کے بعد میرے باپ کی بجاۓ تمہارا نام لکھا ہو گا بولو تیار ہو

عندلیب میں جو لفظ بھی مونہہ سے نکالتا ہوں اسے پورا کرنے کا عزم اور ارادہ بھی رکھتا ہوں تمہیں لگتا ہے کہ تمہیں اپنانے

کے لیے مجھے کسی ْملا مفتی یا قاضی کی ضرورت ہو گی اگر ایسا ہوتا تو مجھے محبت کرنے کی کیا ضرورت تھی کسی بھی راہ چلتی

لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر دو بول پڑھوا لیتا اور رہی بات تمہاری جسمانی خوبصورتی کی تو کوئی منکر حقیقت ہی اس سے انکار کریگا لیکن

پیار تو میں تم سے کرتا ہوں مجھے اچھا لگتا ہے جب میرے آواز دینے پر تم کہتی ہو ‘ جی ‘ یا جب میں کہتا ہوں ‘ اے میری طرف دیکھو‘ اور تم آگے سے تنک کر کہتی ہو ‘ کیا ہے دیکھ نہیں رہے میں

crossword

کر رہی ہوں تم نے بات کرنی ہے

یا میری شکل دیکھنی ہے ‘

رک کیوں گیے بولو نا اور کیا اچھا لگتا ہے تمہیں

سب کچھ جب میں کہتا ہوں ‘اے جب تم نے مجھے پہلی دفعہ ریلوے اسٹیشن پر دیکھا تھا اگر تمہاری ٹرین آنے سے پہلے ہی میں

وہاں سے چلا گیا ہوتا یا تمہاری گاڑی راستے میں کہیں لیٹ ہو جاتی یا اور تم میری بات کاٹ کر کہتی ہو ‘ جیدی یا کچھ نہیں تم

پہلے بھی کئی بار یہ بات کہہ چکے ہو اور میرا جواب ہمیشہ کی طرح ایک ہی ہے کہ یہ سب کچھ ہو بھی جاتا اور تم پاتال میں بھی

جا کر چھپ جاتے میں تب بھی تمہیں ڈھونڈ نکالتی ہم دونوں ایک جان دو قالب کی طرح ہیں تم دنیاکے کسی کونے میں

بھی ہو میرا

body radar

ہاتھ پکڑ کر مجھے تم تک لے جاۓ گا ‘

اے بس بھی کرو اب کہیں میری اپنی ہی نظر نہ لگ جاۓ ہمارے پیارکو

تو چلیں اب

چلو لیکن یہ مت پوچھنا کہ کہاں جانا ہے

نہیں مجھے پتہ ہے تم کہو گے ‘ افق کے اس پار ‘

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 47

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

سورایا اسفند یاری

جیدی وہ لڑکی کون تھی تمہارے ساتھ

کون لڑکی ارے وہ کوئی نہیں ایسی ہی ایک نیم دیوانی سی ہے

مجھے تو وہ اچھی بھلی لگ رہی تھی ہاں تھوڑی

exotic looks

تھیں اس کی

یہیں کی رہنے والی ہے کہیں باہر سے نہیں آئی جب سے ملی ہے جان ہی نہیں چھوڑ رہی بلا وجہ تنگ کرتی رہتی ہے

ہر وقت ایک ہی رٹ لگاۓ رکھتی ہے شادی کر لو شادی کر لو شادی کر لو

یہ کس کی بات کر رہے ہو تم

تمہاری اور کس کی

پاجی کہیں کے میں نیم دیوانی ہوں اور پتہ نہیں کیا کیا کہے جا رہے تھے مجھے یہیں چھوڑ کر چلی جاؤں گی پھر پتھروں سے

سر ٹکراتے رہنا بتاؤ نا کون تھی وہ لڑکی

ارے کس لڑکی کی بات کر رہی ہو کوئی نام پتہ بھی بتاؤ گی یا مجھے کسی قسم کا الہام ہو گا

مجھے علم ہوتا تو تم سے سر پھوڑنے کی کیا ضرورت تھی

اتنا تو یاد ہو گا کب اور کس وقت تم نے مجھے اس کے ساتھ دیکھا تھا یا وہ بھی یاد نہیں

ابھی ایک گھنٹہ پہلے تم دونوں نہر کا پل کراس کر رہے تھے اور تم ہنس ہنس کے جیسے لوٹ پوٹ ہوۓ جا رہے تھے

بات ہی کچھ ایسی تھی سنو گی تو تم بھی اپنی ہنسی روک نہیں سکو گی

اچھا ایسی کیا بات ہے اور تم نے یہ تو بتایا نہیں کہ وہ ہے کون تمہاری کلاس میٹ ہے کیا

نہیں پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسڑز کر رہی ہے ثریا اسفند یاری ایرانی نثاد ہے اور میری بہت اچھی دوست بھی ہے

تو تم لڑکیوں سے دوستی بھی کرتے ہو اور میرا اگر اتفاق سے ہاتھ بھی تمہیں چھو لے تو خدا جانے کون کونسے کلمے پڑھ کر

اپنے اوپر پھونکتے رہتے ہو خیر وہ تو بعد کی بات ہے پہلے بتاؤ ٹھٹھے کیوں اڑا رہے تھے

ارے کچھ نہیں میں نے ایسے ہی باتوں باتوں میں ایک دن کہہ دیا کہ اردو اور فارسی میں کافی الفاظ ملتے جلتے ہیں اس لیے اگر

تھوڑی سی کوشش اور ہمت کرو تو ایک نئی زبان سیکھ لو گی اور جب اور جیسے ہی موقعہ ملے ہم سب دوستوں کے ساتھ

اردو میں بات کیا کرو چاہے غلط سلط ہی سہی ثریا نے میری یہ بات

gospel

کی طرح لے لی اور موقعہ بے موقعہ اردو کی

مشق شروع کر دی قصہ مختصر یہ کہ آج صبح جب میں اپنی کلاسز کے بعد واپس آ رہا تھا تو یہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑی تھی

مجھے آتے دیکھا تو وہیں سے چلائی جاوید مجھے تم سے بات کرنی ہے میں نے دیکھا کہ وہ کچھ لنگڑا کر چل رہی تھی تو میں

نے کہا کیا ہوا

why are you dragging your feet

اوربغیر سوچے سمجھے اس سے کہا اردو میں جواب دینا

جیدی یہ رام کہانی کب تک چلے گی تمہاری ہنسی کی بات سن کر مجھے تو رونا آ رہا ہے اب ختم بھی کرو اس قصے کو

پہلے ثریا کا جواب تو سن لو یاد رکھنا میرا سوال تھا ‘ تم پاؤں گھسیٹ کر کیوں چل رہی ہو ‘ اس نے بڑی معصومیت سے

جواب دیا ‘ میرا پاؤں بھاری ہے ‘ اس لیے اس کے بعد ایک منٹ تک مکمل خاموشی تھی اور پھر ایک طوفان بد تمیزی

لڑکے لڑکیوں کے قہقہے ابھی بند بھی نہیں ہوۓ تھے کہ ثریا بیگم پہلے سے بھی زیادہ سادگی سے بولیں ‘ جاوید ‘ میں امید سے ہوں

ایک ہلکہ سا وقفہ اور پھر اس نے اپنا فقرہ یہ کہہ کر مکمل کر دیا ‘ میں امید سے ہوں کہ میرا اردو ٹھیک تھا ‘ اس کے بعد وہاں

ڈیپارٹمنٹ میں کیا کہا یا سنا گیا مجھے علم نہیں لیکن دوستوں کے قہقہوں کی آواز بہت دور اور دیر تک میرے کانوں میں آتی رہی

ثریا بیچاری ششدر سی کھڑی تھی میں نے اسکا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے راہ فرار اختیار کی نہر کا پل کراس کرنے کے بعد ہم رکے

تو میں نے اسے کہا آج سے تمہاری اردو کلاس بند ‘ کیوں میں نے کچھ

wrong

بولا ‘ جی ایک دفعہ نہیں بلکہ دو دفعہ اور صرف

غلط ہی نہیں

It was slanderous

پہلے تم نے کہا ‘ میرا پاؤں بھاری ہے ‘ اور پھر رہی سہی کسر تم نے یہ کہہ کر پوری

کر دی کہ ‘ میں امید سے ہوں ‘ اور اس سے پہلے کہ تم پوچھو تو اس میں غلط کیا ہے تو سنو اردو میں ان دونوں جملوں کا

مطلب ہے کہ ‘ ثریا اسفند یاری آپ ماں بننے جا رہی ہے ‘ اور آنسہ عندلیب میرا گمان ہے کہ یہی وہ وقت ہو گا جب آپ نے

مجھے ثریا کے ساتھ ملکر ہنستے ہوۓ دیکھا ہو گا

بیچاری یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے پرائی لڑکیوں کو الٹے سیدھے مشورے دیتے رہتے ہو اور سنو اس لڑکی نے کیا بات

کہنی تھی تم سے

مجھ سے ۔ کونسی بات ۔ مجھے تو یاد نہیں

ہاں ہاں تمہیں نے تو کہا تھا کہ اسے تم سے کوئی بات کرنی تھی

مجھے یاد تو نہیں لیکن شائد پاؤں کی چوٹ کی وجہ سے کہنا چاہتی ہو گی کہ آج ہملوگ ٹیبل ٹینس نہیں کھیل سکیں گے

تم اس کے ساتھ ٹیبل ٹینس کھیلتے ہو

گھر چل کر میں تمہارے ان پیارے اور خوبصورت سے کانوں میں سرسوں کا تیل ڈال دونگا لگتا ہے تم اونچا سننے لگی ہو ہر

بات مجھے دہرانی پڑتی ہے جب ہم دونوں کی کلاسز فری ہوں تو ثریا اکنامکس ڈیپارٹمنٹ میں آ جاتی ہے ٹینس کی ایک آدھ

گیم کے لیے اور اگر وقت ہو تو چاۓ وغیرہ کے لیے کیفٹیریا میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں

لگتا ہے یہ تم دونوں کا روز کا معمول ہے میرا مطلب ٹیبل ٹینس کھیلنا کیفٹیریا میں جا کر چاۓ سے شغل کرنا کیک اڑانا اور

کبھی کبھار سینیما میں پکچر کا پروگرام بھی بنتا ہو گا اور کچھ رہ تو نہیں گیا ارے ہاں مجھے تمہاری شادی کا کارڈ مل گیا تھا

کتنا خوبصورت تھا ہے نا کس کی چوائس تھی تمہاری ہی ہو گی آستین کے سانپ میں پچھلے زمانے کی عورتوں کی طرح سارا دن گھر میں بیٹھی تمہارے انتظار کی چکی میں پستی رہتی ہوں اور تم اپنی یونیورسٹی کی چھیل چھبیلیوں کے ساتھ راجہ اندر کا دربار

سجا کر بیٹھے ہوتے ہو

ہاہاہا یہی دیکھنا تھا مجھے تم انتظار ہی نہیں بلکہ کوسنے بھی پرانے زمانے کی خواتین کی طرح ہی دیتی ہو اور اس وقت کون کہہ سکتا

ہے کہ اس حسین و جمیل لڑکی نے ا نگلش لٹریچر میں ماسٹرز کی ہوئی ہے اور وہ کس ٹاپک پر تم نے اپنا

Thesis

لکھا تھا

ہاں یاد آیا

‘The Greek Tragedy’

واہ

I am impressed

تم کیا حقیقت میں وہی لڑکی ہو یا کوئ

impostor

ختم ہو گئی تمہاری

rhetorics

مجھے پتہ ہے تم مجھے چڑانے کی کوشش کر رہے ہو لیکن مجھ پر تمہاری ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہونے والا اب یہ تو میں کبھی ہونے نہیں دونگی کہ پیار تو میں تم سے کروں تمہارے کاموں کے لیے سارے شہر کو میں چھانتی

پھروں دکھ سکھ میں میں تمہاری ساجھے دار ہوں اور کوئی

loosey flousy

تمہیں جیب میں ڈال کر چلتی بنے ‘ درد سہیں

بی فاختہ اور انڈے کوے کھائیں ‘

اچھا کس کس کے ساتھ لڑو گی میرے لیے

زمانے بھر سے

عندلیب

کیا ہے

I love you

I love you too

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 48

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

شطرنج کا کھیل

جاوید بیٹا

جی خالہ جان

مصروفیت پہلے سے بڑھ گئی ہیں کیا نظر نہیں آتے آجکل

جی ایسی تو کوئی بات نہیں وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے کلاسز کے لیۓ جاتا ہوں واپس آتا ہوں

تو آپ کی دختر نیک اختر ہاسٹل کے باہر میرے نام کا وارنٹ لیۓ کھڑی ہوتی ہیں اس کے بعد کب کیسے اور کہاں وقت

گذرتا ہے کچھ یاد نہیں آنکھ کھلتی ہے تو ہاسٹل کے گیٹ کے باہر کھڑا ہوتا ہوں اور عندلیب دوسرے دن کہاں جانا ہے

کیا کرنا ہے واپسی کب تک ہو گی وغیرہم کی ہدایات دے رہی ہوتی ہیں آپ میری زاتی ڈائری کے پچھلے تین ماہ کے اندراج

دیکھ اور پڑھ لیں وہاں صرف اور صرف ایک فقرہ لکھا ہو گا ‘ عندلیب کے نام ‘

سچ کہہ رہے ہو

جی میری امی جان کہتی ہیں سچ بولنے سے ہزاروں بلائیں ٹل جاتی ہیں

ہاہاہا اچھا تو جو تمہاری امی نے کہا اس میں یہ بھی شامل کر لو کہ سچ بولنے سے ساری ہی بلائیں ٹل جاتی ہیں

اور رہی بات ڈائری لکھنے کی عندلیب کہتی ہے

جی عندلیب کہتی ہے کہ ساری بلائیں ٹل جاتی ہیں سواۓ اس بلا کے جس کا نام ہے عندلیب

چھپ کے کسی کی باتیں سننا غیر اخلاقی ہے

اور کسی کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق باتیں کرنا غیر اخلاقی ہی نہیں غیر شرعی بھی ہے اور ان کی سنو دنیا کو چلے ہیں

اخلاقیات پر لیکچر دینے ‘ اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت ‘ ایک گرل فرینڈ اور ایک عدد جلد ہی ہونے والی بیوی کی

موجودگی کے باوجود پرائی لڑکیوں کیساتھ نہ صرف ٹیبل ٹینس کھیلتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ چاۓ اور کافی پینے کے بہانے گپیں مارنے

کے لیے یونیورسٹی کیفٹیریا بیٹھے رہتے ہیں اور خدا جانے کہاں کہاں گھومتے پھرتے ہیں امی آپ بتائیے اس طرح کے آدمی کو

آپ کیا کہیں گی

ایک لفظ میں ‘ حاسد ‘ عندلیب بیٹا آپ تھوڑا jealousy کا شکار ہو گئی ہیں ورنہ اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ سپورٹس میں

حصہ لینا یا انکے ساتھ بیٹھ کر چاۓ وغیرہ پی لینا کوئی ایسا بڑا جرم نہیں ہے آپ شائد insecure feel کر رہی ہیں

آپ بھلا کیوں میرا ساتھ دینے لگیں بیٹھے بٹھاۓ ایک بیٹا مل گیا اب تو آپ اسی کے ناز نخرے اٹھائیں گی اور کچھ نہیں تو

ہونے والی بہو سمجھ کر ہی کبھی کبھار میری ہاں میں ہاں ملا دیا کریں

کیا اول فول بولے چلی جا رہی ہو کوئی ڈھنگ کی بات نہیں کر سکتی تو جاؤ اوپر اپنے کمرے میں جا کر بیٹھو سارا دن تو وہ

بیچارہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے اور تم ہو کہ موقعہ ملتے ہی شکایات کا دفتر کھول کر بیٹھ جاتی ہو

چھوڑیے بھی خالہ جان آپ لوگ کس غیر ضروری بحث میں الجھ گیے ہیں شائد عندلیب ٹھیک ہی کہتی ہے اور میں یہ کبھی

نہیں چاہوں گا کہ میرے کسے قول یا فعل کیوجہ سے آپ کو کسی قسم کی زہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے

ارے بیٹا تم کن تکلفات میں پڑھ گیے اسے تو عادت ہے بات میں سے بات نکالنے کی خیر تم لوگ باتیں کرو اور سنو میں نے

باتیں کرنے کو کہا ہے یہ نہ ہو کہ میرے کمرے سے قدم باہر رکھتے ہی جوتوں میں دال بٹنی شروع ہو جاۓ

اے یہ مجھے آنکھ کس خوشی میں مار رہی ہو

رہے نہ بدھو کے بدھو گھر میں تم سے زیادہ بات کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا امی پاس ہی بیٹھی ہوتی ہیں تم تو ویسے ہی چھوئی موئی

ہو اور امی کی موجودگی میں تم اور بھی

reserve

ہو جاتے ہو لیکن جیسے ہی میں تم سے کوئی بحث شروع کرتی ہوں امی

اٹھ کر بھاگ جاتی ہیں

تو تم یہ دکھاوے کی لڑائی صرف خالہ جان کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے کرتی ہو تا کہ تمہارے لیے میدان صاف ہو جاۓ

اور تم اپنی من مانی کر سکو

you are evil

وہ تو میں ہوں

every thing is fair in love and war

تمہیں پانے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں

سارا دن تو تم میرے ساتھ ساۓ کی طرح لگی رہتی ہو پھر بھی دل نہیں بھرتا تمہارا

ہاں نہیں بھرتا تو اور کان کھول کر سن لو میں تمہیں کسی کے ساتھ شئیر نہیں کر سکتی تمہیں ٹیبل ٹینس کھیلنے کا بہت شوق ہے نا

ادھر آؤ میرے ساتھ ڈرو مت میں تمہیں کہیں بھگا کر نہیں لے جا رہی

کہیں دور جانا ہےکیا

ہاں پریوں کے دیس میں ابھی سے تھک گیے ہو کیا گود میں اٹھا کر لے چلوں اتنے سوال کیوں کرتے ہو آؤ میرے پیچھے پیچھے

گھولو اس بڑے دروازے کو اور دیکھو اندر کیا ہے

گیمز روم آج ہی خرید کر لائی ہو یہ سب کچھ

جی نہیں یہ سب کچھ میری پیدائش کے وقت سے یہیں پر ہے اس دن میں کہہ رہی تھی چلو میرے ساتھ گھر دکھا دوں

لیکن تم تیار ہی نہیں ہوۓ کیسا لگا

بہت اچھا ۔ کھیلو گی یا صرف دکھانے کے لیے ہے

تم کھیلو گے ایک پاکستانی لڑکی سے یا صرف اہل فارس کو ہی اپنے جوہر دکھاتے ہو

شرط لگا کر کھیلو گی یا

بہت اچھا کھیلتے ہو کیا جو شرطیں لگا رہے ہو چلو تم بھی کیا یاد کرو گے صرف ایک گیم

winner takes all

ٹھیک ہے

winner takes all

مائی گاڈ عندلیب تمہاری تو

serve

ہی مجھے نظر نہیں آ رہی

آۓ گی بھی نہیں کیونکہ تمہاری نظر اگر سچ میں کمزور نہ ہوتی تو تمہیں اس کارنر ٹیبل پر سجی ہوئی ٹرافیاں ضرور نظر آ جاتیں

کونسی ٹرافیاں

یہ ٹرافیاں بچو جی

and this game is over

ویری گڈ مس عندلیب آپ تو کسی پروفیشنل کی طرح کھیلتی ہیں اور ہاں آپ کسی ٹرافی کا زکر کر رہی تھیں کس کی ہیں یہ

آپ کی ہونے والی بیوی کی اور کس کی اور شرط لگانے سے پہلے زرا اپنے حریف کی طاقت کا تھوڑا اندازہ کر لیا کرو

کونسی شرط کیسی شرط کہاں کی شرط

وہی شرط اور اب بھاگ کہاں رہے ہو گیمز روم کی چابی میرے پاس ہے شرط یاد ہے نا

Winner takes all , hahahahaha

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 49

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

پدمنی

حرافہ کہیں کی پرائی عورتوں کے مردوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی پھرتی ہیں کیا دیدہ دلیری ہے کل جگ آ گیا ہے کل جگ

کیا جاہل اور گنوار عورتوں کی طرح کوسنے دیتی رہتی ہو گھٹنے سے کیوں نہیں باندھ کہ رکھتیں اپنی مرد کو اگر اسپر اعتبار اور اعتماد نہیں کرتی تو تم ویسے بھی بہت وہمی اور شکی مزاج ہو

اے شک کیسا تم نے خود اقبال جرم کیا ہے کیا ہے کہ نہیں

اچھا بابا معاف کرو میری نصوح کی توبہ جو آئندہ تمہیں کچھ بتاؤں تم تو بات کو پکڑ کر ہی بیٹھ جاتی ہو

لو اور سنو ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری تمہں کیسا لگے گا اگر میں جا کر پراۓ لڑکوں کے ساتھ ٹیبل ٹینس کھیلوں

تم تو بنا شادی کے ہی مجھے خدا نخواسطہ تین طلاقیں دے دو

عندلیب

for heavens sake stop it now

ورنہ میں چلتی گاڑی سے نیچے اتر جاؤں گا اگر پیار سلوک کی کوئی بات کر

سکتی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرو

وہ بھی تو تم نہیں کرنے دیتے

کیا نہیں کرنے دیتے

پیار کی باتیں اور کیا

اوہ خدایا پاکا کیا کرے ام اس پاگل عورت کا

اوۓ خان بابا یہ پٹھانوں کی طرح مجھے برا بھلا کیوں کہہ رہے ہو

تو اور کیا پنجابیوں کی طرح تم جیسی خر دماغ تریمت کیساتھ مغز ماری کرے جب سے تم کو ملا ہے امارا جینا دوبھر ہو گیا ہے

اوۓ ولائیتی پٹھان اترو گاڑی سے گھر پہنچ گیے ہیں اور اندر جا کر امی کے سامنے نسوار خوروں کی زبان نہ بولنا ورنہ تمہارے

ساتھ میری بھی کابل قندھار کی ٹکٹ کٹوا دیں گی

اسلام و علیکم خالہ حضور

وعلیکم سلام جیتے رہیے کیوں بھئی چھوٹے نواب کیا لکھنئو سے وارد ہوۓ ہو بڑی شستہ اور ریختانی زبان میں کلام کر رہے ہیں

نصیب دشمناں طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی لکتا ہے خلاف معمول بحث مباحثہ کی بجاۓ آج آپ آرٹ اور لٹریچر کے بحر بیکراں میں غوطہ زن رہے

حسد اور جلن سے بجھے ہوۓ تیروں سے میرا سارا جسم چھلنی ہوا پڑا ہے اور آپ فنون لطیفہ اور کلچر کی بات کر رہی ہیں رانی ماں آپ بھی نا کمال کرتی ہیں اپنے اکلوتے سپوت کو ایک جاٹ کے پلو سے باندھ رہی ہیں پچھلے تین دنوں سے طوطے کی طرح

ایک ہی چیز کی رٹ لگا کر بیٹھی ہیں کہ میں پڑھنے پڑھانے کی بجاۓ بدیشی لڑکیوں کے ساتھ آوارہ گردی کرتا رہتا ہوں

ارے ہٹاؤ اسے اگر یہ خود کفر ان نعمت کرنے پر بضد ہے تو ہمیں کیا تو مجھے ایک دفعہ کہہ کر تو دیکھ تیری ماں تیرے لیے پدمنی النسل لڑکیوں کی نہ ختم ہونے والی قطار کھڑی کر دیگی

آپ جانتی ہیں کسی پدمنی نسل کی لڑکی کو

نہیں تو لیکن اگر تیری جان پہچان کی کوئی ہے تو مجھے بتا دے میں چوبیس گھنٹے میں اسے تیری دلہن نہ بنا دوں تو نام بدل دینا میرا بول جانتا ہے کسی کو

میں تو بس ایک ہی سے واقف ہوں لیکن

ارے لیکن ویلن کچھ نہیں تو نام اور کچھ اتا پتا بتا اسکا

ملکہ نو جہان

کون وہ گانے والی اے لڑکے باؤلا ہوا ہے کیا تیری دادی کی عمر کی ہو گی اور تجھے کس نے کہا کہ وہ پدمنی نسل کی ہے

خالہ جان آپ بھی نا میں مہرالنساء کی بات کر رہا تھا

اب تو بھی نا پہیلیوں میں باتیں کر رہا ہے میں گسی مہرالنسا کو نہیں جانتی لیکن تو فکر نہ کر میں کسی نہ کسی طرح جان پہچان

پیدا کر لونگی تو تو بس دلہا بننے کی تیاری کر لیکن تجھے کیسے پتہ چلا کہ وہ پدمنی نسل کی ہے

کسی تاریخی کتاب میں پڑھا تھا

کتاب میں پڑھا تھا جاوید بیٹا تو کس کی بات کر رہا ہے

now I am throughly confused

سارا دن عندلیب کے

ساتھ پتہ نہیں کہاں کہاں کی خاک چھانتا رہتا ہے تو بھی اب اس جیسی باتیں کرنے لگا ہے

میں ملکہ نور جہان شہنشاہ ہندوستان نورالدین جہانگیر کی بیگم کی بات کر رہا تھا جسکا اصل نام مہرالنسا ہے مورخ کہتے ہیں کہ

نورجہان جتنی خوبصورت تھی اس سے کہیں زیادہ زہین بھی تھی اس کی انھیں خوبیوں کی وجہ سے اسے پدمنی النسل کہا

جاتا ہے جتنا میں نے پڑھا تھا آپ کو بتا دیا

تم دونوں ملکر مجھے پاگل بنا دو گے میں اس کی شادی کی بات کر رہی ہوں اور یہ مجھے پرستان کی سیر کرا رہا ہے تم دونوں یہاں

بیٹھ کر ایک دوسرے کا سر کھاؤ میں اوپر جا رہی ہوں اپنے کمرے میں اور سنو

you two deserve each other

جٖیدی تو نے تو کمال کر دیا آج

کیسا اور کونسا کمال میں کچھ سمجھا نہیں

ارے یہی

cock and bull story

جو تم نے امی کو سنائی جس کی وجہ سے وہ ہمیں اکیلا چھوڑ گئیں

تو آپ کو لگتا ہے کہ یہ ملکہ نورجہان کے بارے میں جو کچھ میں نے کہا وہ سب کچھ میرے زہن کی اختراع تھی

تو اور کیا یہ سب سچ تھا جو تم نے پدمنی کے بارے میں کہا

سچ اور جھوٹ کا تو مجھے علم نہیں لیکن ہندوؤں کے قدیم شاستروں کے مطابق عورتوں کی چار قسمیں ہوتی ہیں پدمنی ، چترنی ،

سنکھنی اور ہستنی اور پدمنی حسن صورت اور کمال سیرت میں اول درجے کی ہوتی ہے

ایک بات تو بتاؤ تم کیا سچی میں بیس اکیس سال کے ہو کیونکہ تمہاری باتوں سے مجھے تو بعض اوقات ایسے لگتا ہے جیسے تم کوئی ہزاروں سال پرانی روح ہو جو گھومتے پھرتے راستہ بھول کر میری طرف نکل آئی ہو

شائد تم سچ کہتی ہو یہ بھولا بھٹکا ہوا مسافر کتنی صدیوں کی مسافت طے کرتا ہوا آخر اپنی منزل کے قریب پہنچ ہی گیا

جاری ہے

…………………………….

شہر زاد قسط نمبر 50

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

حسین منصور الحلاج اور ‘ اناالحق’

یاد ہے تمہیں

کیا

وہی جو میں کہنا چاہتی ہوں

مجھے کیا پتہ تم کیا کہنا چاہتی ہو

تم تو کہتے ہو کہ میرے لب کھلنے سے پہلے ہی تم جان جاتے ہو کہ میں کیا کہنے والی ہوں

تو لب کھلنے سے پہلے پوچھنا چاہیے تھا

اب تم لفظوں سےکھیل رہے ہو

تو اور کیا تم سے میرا مطلب ہے

کوئی مطلب وطلب نہیں بولو کیا کہنے والے تھے چپ کیوں ہو گیے آگے بولو یا تمہارے باقی ادھورے کاموں کی طرح تمہاری ان کہی باتیں بھی مجھے ہی پایہ تکمیل تک پہنچانی ہونگی

تم بھی نا بات کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہو لو اب مجھے یاد بھی نہیں رہا کہ میں کیا کہنے والا تھا

میں ہوں نا یاد کرانے والی ‘ تم کہنے والے تھے

اگر تم جانتی ہو کہ میں کیا کہنے جا رہا تھا تو پوچھ کیوں رہی ہو

اچھا لگتا ہے مجھے تمہارے مونہہ سے سننا پیارے لگتے ہو تم مجھے جب تمہارے قدم میری طرف بڑھتے بڑھتے

اچانک تھم جاتے ہیں تم یہی کہنے والے تھے نا ‘ کہ الفاظ سے نہیں تو کیا تم سے کھیلوں ‘ تو کھیلو مجھ سے نہ تمہاری

زبان پر گرہ لگی ہوئی ہے اور نہ ہی ہاتھ اور پاؤں زنجیروں میں جکڑے ہوۓ ہیں تم عجیب لڑکے ہو پیار بھی کرتے ہو

اور پیار کی باتیں کرنے سے پہلے انھیں ساہوکار کے ترازو سے تولنے بھی بیٹھ جاتے ہو یوں پیمانے بدلتے رہو گے تو

خود تو ڈوبو گے ہی میرے پیار کی نیا کو بھی منجدھار میں چھوڑ کر چلے جاؤ گے تمہارے لیے تو میں کسی وقت گسی جگہہ

اور گسی مقام پر بھی منصور کی طرح ‘ انا الحق ‘ کہہ کر تختہ دار پر چڑھ جاؤنگی لیکن تم مجھے کچھ کہنا بھی چاہتے ہو لیکن

دو لفظ کہنے کے بعد خاموش ہو جاتے ہو میرے پاس آنا بھی چاہتے ہو مگر راستے میں ہی رک جاتے ہو کیوں کرتے ہو

ایسا اور کب تک مجھے پتنگ کی طرح اڑاتے رہو گے دل چاہا تو ڈور کو ڈھیل دیکر کر نیلگوں آسمان میں کھلا چھوڑ دیا اور

دل نہ مانا تو ڈور کو اتنی زور سے کھینچا کہ پتنگ تمہاری اپنی چھت کے ارد گرد ہی چکر لگاتی رہے

جس منصور کی تم بات کر رہی ہو اسی نے اپنی موت سے پہلے کہا تھا کہ

اے میرے رب! اگر تو ان لوگوں کو بھی وہی کچھ دکھا دیتا جو مَیں دیکھ رہا ہوں تو یہ مجھے کبھی سزا نہ دیتے اور اگر مجھ سے وہ چیز چھپا لیتا جو ان سے چھپا رکھی ہے تو مَیں کبھی ” اناالحق “ کے نعرے نہ لگاتا۔اے میرے اللہ! میرے قاتلوں کو معاف کردے“۔

مطلب یہ کہ میں وہی کہتا یا کرتا ہوں جو مجھے حق اور سچ نظر آتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ تم سب کچھ ہو سکتی ہو مگر اتنی خود غرض نہیں کہ صرف اپنی خوشی کے لئے دوسروں کو قربان کر دو ہم دونوں کی منزل ایک ہے صرف اس تک پہنچنے کے لئے راستے اور راہیں مختلف ہیں اور تم نے کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ میں محبت کو جانچنے اور پرکھنے کے

پیمانے بدلتا رہتا ہوں میں تو صرف اپنے پیار اور چاہت کو ہر قسم کی جسمانی اور نفسانی خواہشات اور الائشوں سے

پاک رکھنا چاہتا ہوں اس لئے اس کے اظہار کے لئے بھی احتیاط کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور پھر چھوٹا مونہہ بڑی بات میری نہ تو اتنی عمر ہے اور نہ ہی تجربہ کہ میں پیار کے پیمانے وضع کرنا شروع کر دوں

جیدی امی ٹھیک ہی کہتی ہیں ہم دونوں کے بارے میں

کیا کہتی ہیں زرا ہم بھی تو سنیں

یہی کہ ہم دونوں کھسکے ہوۓ ہیں

مطلب ہم دونوں پاگل ہیں ویسے کہتی تو سچ ہی ہیں

میں تو ہوں جس طرح کی باتیں میں تم سے کہتی ہوں اور وہ باتیں بھی جو میں سوچتی تو ہوں لیکن کہہ نہیں پاتی تم سے

تمہارے جانے کے بعد جب میں اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کو یاد کرتی ہوں تو مجھے اپنے ہی آپ سے شرم محسوس ہوتی

ہے کہ نجانے تم میرے بارے میں کیا سوچتے ہو گے اور میں اپنے آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ never again

لیکن دوسرے دن جیسے ہی تم میرے سامنے آتے ہو تو پھر وہی میں ہوتی ہوں اور وہی تم ہوتے ہو ایسا کیوں ہوتا

ہے بھلا اے جیدی بتاؤ نا تمہیں ان چیزوں کا مجھ سے زیادہ تجربہ ہے

اے کیا کہہ رہی ہو کس چیز کا تجربہ میں تمہارے سوا اور کسی لڑکی کو نہیں جانتا جسکا زہنی توازن ٹھیک نہ ہو

کیوں کیا ہوا میرے زہنی توازن کو اچھی بھلی تو ہوں ہاں البتہ میزان کے ایک پلڑے میں اگر تم بیٹھے ہو تو میرا توازن

زرا ڈانو ڈول ہو جاتا ہے اور ‘ عقل کل ‘ کہیں کے یہی تو میرا سوال تھا تم سے کہ کیوں میں اپنے آپ کو سنبھال

نہیں پاتی اور گونگے اور بہرے جذبات کی رو مجھے بہا کر کہاں سے کہاں لے جاتی ہے

اے اتنا سیانا نہیں ہوں میں لیکن بات اگر صرف میزان کو بیلنس کرنے کی ہے تو جب بھی مجھے ترازو کے ایک پلڑے

میں بیٹھے ہوۓ دیکھو تو میزان کو ہلکا سا اشارہ کر دو کہ بیٹا سیدھے ہو جاؤ ورنہ دوسرے پلڑے میں یہ تلکا سندر اپنی

پوری رعنائیوں کے ساتھ بیٹھنے والی ہے دیکھو پھر کیا ہوتا ہے اور رہی تمہاری دوسری بات کہ میں تمہارے بارے میں

کیا سوچتا ہوں تو خاطر جمع رکھو سوچتا میں بھی وہی ہوں جو تم سوچتی ہو فرق صرف اتنا ہے تم جو سوچتی ہو اسے

زبان پر لے آتی ہو اور میں اسے دل کے نہاں خانوں میں چھپاۓ رکھتا ہوں تم اسے شرم و حیا کا نام دے دو یا میری

کم ہمتی اور کسی حد تک بد دیانتی اور بزدلی بھی اور سنو میں کوئی پیر کامل تو ہوں نہیں جس پر تمہاری نسوانی

خوبصورتی کا اثر نہ ہوتا ہو بلکہ اس کے بالکل بر عکس میں اور میرا دل شائد اسی بات کی خواہش کرتے ہیں کہ تم ایسی

ہی باتیں کرتی رہو اور میں سنتا رہوں صبح سے شام اور شام سے صبح تک

سچ کہتے ہو تمہیں میری باتیں اچھی لگتی ہیں

ہاں اچھی لگتی ہیں

تو کہتے کیوں نہیں

کہہ تو رہا ہوں

ارے وہ بات تو رہ ہی گئی جو میں تم سے پوچھنا چاہتی تھی

کل پوچھ لینا

ٹھیک ہے کل کر لیں گے تو اب کیا کریں

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر ۵۱

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

مس چوہدری

ہیلو عندلیب

جیدی کیا بات ہے صبح صبح فون کیوں کر رہے ہو تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا

میں ٹھیک ہوں فون اس لیے کیا کہ میں وزیرآباد جا رہا ہوں سوچا تمہیں مطلع کر دوں

خیریت تو ہے کوئی فیملی ایمرجنسی تو نہیں

نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ایک دوست سے ملنا ہے

کیسے جاؤ گے میرا مطلب ہے بس یا ٹرین یا کوئی اور انتظام ہے

ابھی تو میں ہاسٹل کے باہر کسی رکشے یا ٹیکسی کا انتظار کر رہا ہوں جو مجھے بس سٹینڈ یا ریلوے اسٹیشن تک چھوڑ آۓ

راستے میں سوچوں گا کیا بہتر رہے گا واپس آتے آتے دیر ہو جاۓ گی اس لیے انشاللہ کل ملاقات ہو گی

اے سپر مین زیادہ اڑنے کی کوشش مت کرو گر پڑو گے جہاں ہو وہیں کھڑے رہو میں آ رہی ہوں تمہیں بس سٹاپ یا

ریلوے اسٹیشن جہاں کہو گے چھوڑ دونگی زیادہ سوال جواب مت کرنا میں ایک منٹ میں نکل رہی ہوں

اے سنو عندلیب فون مت رکھناناں ں ں دھت ترے کی لڑکی ہے یا اڑن کھٹولہ ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار

رہتی ہے اب آدھ گھنٹہ ان بیگم صاحبہ کا انتظار کرو اور عشق کرو جاوید بیٹا

ہیلو ڈارلنگ زیادہ دیر تک انتظار تو نہیں کرنا پڑا

تم پاگل تو نہیں ہو کتنی سپیڈ سے گاڑی دوڑا کر آئی ہو خدا نخواسطہ کوئی حادثہ پیش آ جاتا تو

ابھی تک تو کوئی حادثہ نہیں ہوا لیکن تمہاری اس اچانک

flight to wazirabad

کی اگر کوئی معقول وجہ نہ ہوئی تو کہہ

نہیں سکتی کہ تمہارے ساتھ کس قسم کا حادثہ ہو سکتا ہے فون پر تم نے کہا تھا کسی دوست سے ملنا ہے

ہاں کہا تو تھا

پہلے گاڑی میں بیٹھو باقی باتیں بعد میں ۔ ہاں اب بولو کس دوست سے ملنا ہے اور یہ

out of the blues

سفرتم اتنے

غیر زمہ دار کیوں ہو

at the drop of a hat

میرے علم میں لاۓ بغیر کسی چیز کا فیصلہ کر لیتے ہو اور بس

کیا مطلب تمہارے علم میں لاۓ بغیر فون کیا تو تھا

اچھا منزل پر پہنچ کر کرنا چاہیے تھا تو میں کیاکر لیتی تمہارا جیدی کب تمہاری اس چھوڑی سی عقل میں یہ بات آۓ گی کہ

میں تمہارا کوئی casual affair نہیں ہوں جسے تم جب اور جیسے چاہو گے نظر انداز کر دو گے تم میں زرا

سی بھی

consideration

نہیں کسی دوسرے کے احساسات اور جذبات کی ‘ ہیلو ڈارلنگ میں جا رہا ہوں ‘ اور اٹھ

کر چلدئیے واہ کیا شان استغنائی ہے عندلیب نہ ہوئی کوئی راستے کا روڑا کنکر ہوگئی جب چاہا ٹھوکر مار کر راستے سے ہٹا دیا

اے گاڑی اور اپنی زبان دونوں کو زرا بریک لگاؤ ۔ گاڑی کو روڈ سے ایک سائڈ پر کر کے روک لو

یہ لو رک گئی گاڑی اب کیا ہے مجھے گاڑی سے نیچے اتار دو گے

کرنا تو تمہارے ساتھ ایسے ہی چاہیے لیکن مجھے گاڑی چلانی نہیں آتی اب بولو کیوں حقہ پانی لیکر چڑھ گئی ہو میرے اوپر

کچھ نہیں تم اتنے ضدی اور ہٹ دھرم ہو کہ کروگے وہی جو تم نے ٹھان لی ہے پہلے بتاؤ کچھ ناشتہ وغیرہ بھی کیا ہے یا

خالی پیٹ ہی

crusade

کے لئیے نکل کھڑے ہوۓ ہو

سٹیشن یا بس سٹاپ سے کچھ لیکر کھا لونگا

مجھے پتہ تھا اسی لیے گھر سے چاۓ کا تھرمس اور سینڈوچ لیکر آئی ہوں اور سنو میں تمہارے ساتھ ہوں وزیرآباد جاؤ یا

حیدرآباد تمہارا کیا پتہ آتے ہوۓ راستہ بھول جاؤ یاکسی اور منزل کی طرف چلدو کھانے پینے کی چیزیں پچھلی سیٹ پر پڑی

ہیں اٹھا کر آگے رکھ لو میں گاڑی سٹارٹ کرنے لگی ہوں کھاتے ہوۓ مجھے بھی اپنے ہاتھوں سے کھلاتے جانا تمہاری بھاگ

دوڑ میں وقت نہیں تھا کہ میں کچھ کھا لیتی اور خالی پیٹ اپنی دوائیاں بھی نہیں کھا سکتی

اے

come on give me a hug

گرل فرینڈ ہو تو ایسی

زیادہ مسکہ لگانے کی ضرورت نہیں اب گاڑی چلانے دو رش کا ٹائم شروع ہونے سے پہلے پہلے ہمیں شہر سے نکل جانا

چاہیے ورنہ راوی کی اس طرف ہی دو گھنٹے لگ جائیں گے

اے ایک بات پوچھوں

تمہید باندھنے کی ضرورت نہیں تم کچھ پوچھنا چاہتی ہو تو بنا پوچھے تمہیں نیند نہیں آۓ گی اور میں بھی بے چین رہونگا اس

لیئے آگے بڑھو

تمہیں پتہ ہے جیدی تم سمجھ میں نہیں آتا کیسے کہوں

you are very abrupt

تمہیں لڑکیوں سے بات کرنے کا سلیقہ

نہیں آتا جنگلی ہو بالکل کچھ نہیں پوچھنا مجھے تمہارے ساتھ آنا ہی نہیں چاہیے تھا کھاتے رہتے دھکے بسوں اور ٹرینوں کے

ارے بولو بابا کیا پوچھنا ہے مجھے تم سے گالیاں کھانے کا مزہ آتا ہے اس لیے الٹاسیدھا بول دیتا ہوں

اچھا گالیاں تو کافی ہو گئیں اب جوتوں سے تواضع کر دوں تا کہ تمہارے سر میں جو ننھے منے کیڑے کلبلاتے رہتے ہیں ان

کو بھی تھوڑا چین آ جاۓ ۔ مس چوہدری کو جانتے ہو

کون مس چوہدری

ارے وہی وزیرآباد تمہارے گھر کے پاس جو لڑکیوں کا اسکو ل ہے اسکی ہیڈ مسٹریس

جانتا تو نہیں ہاں واجبی سی جان پہچان ہے کیوں تم کس لئے پوچھ رہی ہو

ایسے ہی پوچھ لیا

ایسے ہی کیسے پوچھ لیا جیسے آٹے دال کا بھاؤ پوچھا جاتا ہے

Miss Andleeb you are not known for your subtlety

کیا جاننا چاہتی ہو بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تم جانتی تو ہو صرف میری زبانی سننا چاہتی ہو کہ وہ پنجابی کہتے ہیں نا کہ ‘ میرا اور

مس چوہدری کا ٹاکرا ‘ کیسے ہوا تھا

ہاں آخر میری رفاقت رنگ لے ہی آئی میری سنگت نے تمہیں بھی دانا و بینا لوگوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے بولو کیا ہوا تھا

چار پانچ سال پہلے کی بات ہے میں اسی برگدکے پیڑ کے نیچے بیٹھا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا جہاں تم مجھے ایک دفعہ ملی تھی کہ اتنے

میں اسکول میں کام کرنے والی ماٰئی میرے پاس آ کر کہنے لگی کہ ہیڈ مسٹریس صاحبہ مجھے بلا رہی ہیں سو میں اٹھ کر اسکے ہمراہ

ہو لیا اسکول کے گیٹ کے پاس مجھے روک کر بولی آپ یہاں رکیں میں مس چوہدری کو بلا کر لاتی ہوں تھوڑی دیر بعد

تمہاری طرح برقع باٹم پہنے مس چوہدری اپنے پورے شاہانا جاہ و جلال کے ساتھ کھڑی تھیں اور اس کے بعد پولیس والوں

کی تھرڈ ڈگری ‘

کیا نام ہے تمہارا

جاوید سکول کی مائی نے آپ کو بتا دیا ہو گا وہ اسی محلے کی رہنے والی ہے

پڑھتے ہو

جی ہاں سیکنڈ ایر پری میڈیکل کا طالب علم ہوں

تم لڑکیوں کے اسکول کے سامنے بیٹھے رہتے ہو جو اچھی بات نہیں وہاں بیٹھنا بند کر دو

جی نہیں میں اپنے محلے اور اپنے گھر کے سامنے بیٹھتا ہوں آپ کے سکول کےلیے میں اپنا گھر چھوڑ دوں کیا

میں نے گھر نہیں جگہہ چھوڑنے کے لیے کہا ہے

میرے گھر کی دائیں طرف آپ کا اسکول ہے جس کے سامنے میرے بیٹھنے پر آپکو اعتراض ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ میں

اس جگہہ کو چھوڑ دوں میرے گھر کے بالکل سامنے مسجد ہے جس کا دروازہ میرے کمرے کے بالکل سامنے ہے اور جہاں

بیٹھ کر میں اکثر مولانا عبدالغفور ہزاروی صاحب کا وعظ سنتا ہوں کل کلاں انکو بھی میرے وہاں بیٹھنے پر اعتراض ہوا تو کیا

میں خدا کو چھوڑ دونگا

تم عجیب لڑکے ہو میں نے تمہیں شہر چھوڑنے کے لیے تو نہیں کہا ویسے یہ کام تو میں پولیس کو بلوا کر بھی کروا سکتی ہوں

ٹھیک ہے تو یہی کر لیتے ہیں لیکن پولیس کے سامنے آپکو اس بات کا ثبوت دینا ہو گا کہ میں سکول کی لڑکیوں پر آوازے کستا

ہوں کسی قسم کی انگشت نمائی کرتا ہوں یا کوئی چھیڑ چھاڑ کرتا ہوں اور اگر آپ یہ ثابت کر دیں تو پولیس بلانے کی ضرورت

نہیں

I give you my word of honour

اپکو آج کے بعد میری شکل اس محلے تو کیا اس شہر میں کبھی نظر نہیں

آۓ گی اور آخری بات میں جہاں اور جس رخ بیٹھتا ہوں آپ کا سکول میری سامنے نہیں میری پشت پر ہوتا ہے اس لیے

جب تک میں اپنا رخ تبدیل نہ کر دوں آپ کے سکول کی اوٹ نہیں دیکھ سکتا البتہ اگر میں کسی قسم کا ولی اولیا ٹائپ

چیز ہوتا جن کی سنا ہے کمر میں بھی آ نکھیں ہوتی ہیں تو پھر شائد آپ کی بات میں کوئی وزن ہوتا اور اب اگر آپ کی

اجازت ہو تو میں جاؤں ‘ بس تو یہ تھی میری اور آپکی مس چوہدری کی پہلی اور آخری ملاقات اس واقعے کے تھوڑے

عرصہ بعد میں لاہور چلا آیا اب تم بتاؤ تم لوگوں کی محفل میں میرا زکر خیر کہاں سے آ گیا اور اس سے یاد آیا کہ تم نے کبھی یہ

نہیں بتایا کہ تم وہاں سکول میں کیا کرتی تھیں

ارے کچھ نہیں میری مس چوہدری سے پرانی جان پہچان ہے اسلام آباد سے آنے کے بعد ایک دن میں اس سے ملنے سکول

گئی تو کہنے لگی کہ اگر کچھ کر نہیں ہو رہی ہو تو میٹرک کی لڑکیوں کو انگریزی پڑھا دیا کرو جب تک نئے ٹیچر کا انتظام نہیں

ہو جاتا میں نےکہا ٹھیک ہے بحرحال ایک دن ہم دونوں کلاس میں کھڑی باتیں کر رہی تھیں کہ اس نے تمہیں درخت کے نیچے

بیٹھے ہوۓ دیکھا تو مجھے کہنے لگی بڑے عرصے بعد دیکھا ہے اسے میرے پوچھنے پر اس نے وہ سارا قصہ جو ابھی ابھی تم

نے بتایا ہے مجھے سنایا

اچھا کوئی نمک مرچ تو نہیں لگائی

ایسا کچھ نہیں اس نے تو بلکہ بڑی تعریف کی تمہاری کہنے لگی ڈاکٹر ی سے بہتر تھا قانون پڑھ لیتا وکیلوں کی طرح

جرح بڑی اچھی کر لیتا ہے

اچھا اورکیا کہا اس نے میرے بارے میں

کچھ نہیں یہی تو میں تم سے جاننا چاہتی ہوں ‘ مجھ سے باتیں کرتے کرتے اچانک خاموش ہو گئی مجھے ایسے لگا جیسے کچھ کہنا چاہتی

ہے لیکن شرما رہی ہے تھوڑی دیر چپ رہی پھر بولی ‘ کچھ عجیب سا لڑکا ہے لیکن باتیں بڑی پیاری کرتا ہے ‘

اب بولو کیا کہا تم نے اس سے اور وہ کیوں کہہ رہی تھی ‘ باتیں بڑی پیاری کرتا ہے’

اسی سے پوچھا ہوتا میرا کیوں دماغ چاٹ رہی ہو

اے بولو نا مجھ سے بھی باتیں چھپاتے ہو میں تو تمہاری سہیلی ہوں

اچھا اب رشوت دینے پر اتر آئی ہو ٹھیک ہے لیکن بات زرا کان میں بتانے والی ہے میری طرف جھکو تھوڑا سا دیکھو

گاڑی نہیں مار دینا کہیں دیکھو تمہارے

insist

کرنے پر بتا رہا ہوں ‘ میں نے اس سے کہا گوتم بدھ بودی کے درخت کے نیچے

بیٹھا تو اسے گیان مل گیا میں اس برگد کے پیڑ کے نیچے گیان کے لیے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیدی کے بچے تم نے سچ مچ اس سے یہ کہا

no wonder

بیچاری اپنے دوپٹے کے پلو کو دانتوں سے چبا رہی تھی تمہیں تو

ویمن پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت لاک اپ میں رکھنا چاہیے خاص کر عورتوں کو تو تمہارے ساۓ سے بھی دور ہی رہنا چاہیے

اے جیدی جو اسے کہا مجھے بھی کہہ نا اچھا لگتا ہے تمہارے مونہہ سے سننا ۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 52

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

الف لیلی و لیلی

بہت کر لیں پیار کی باتیں اب خاموشی سے گاڑی چلاؤ اور میں تھوڑی دیر کے لیے اپنی کمر سیدھی کر لوں

کیوں کیا ہوا ہے تمہاری کمر کو ضعیف العمر ہو یا شیر مادر کم ملا تھا پینے کو بیمار میں ہوں اور آرام تم کرتے رہتے ہو

میرامطلب تھا صبح کا اٹھا ہوا ہوں زرا گھڑی دو گھڑی سو لونگا

کیوں تہجد گذار ہو ساری رات سوتے نہیں کیا چلو ایسا کرتے ہیں کہ میں کسی ویران جگہہ پر گاڑی کھڑی کر لیتی ہوں

تم میری گود میں سر رکھ کر سو جانا اور میں تمہیں لوریاں سناتی رہونگی

اسکی بھی کیا ضرورت ہے گاڑی کو

neutral gear

میں ڈال دو خود بخود چلتی رہے گی اور ہم دونوں بانہوں میں

بانہیں ڈال کر چین کی نیند سو جاتے ہیں

آرام کرنے کا کہو تو تمہارے پاس سو آئیڈیاز ہونگے کوئی کام کرنے کا کہو تو سو بہانے سن لو اور سنو یہ بانہوں میں

بانہیں ڈال کر کیسے سوتے ہیں لگتا ہے کافی تجربہ ہے تمہیں ایسے سونے کا گاڑی روکوں کیا

اس طرح کی باتوں میں بڑی خوش رہتی ہو اور مجھے ایسی چیزوں کا کافی تجربہ کیوں ہے

ایسے ہی خیال آگیا تم لڑکیوں کے ساتھ ٹیبل ٹینس وغیرہ تو کھیلتے ہی ہو سوچا شائد

camping

کے لیے بھی جانے کا

کبھی اتفاق ہوا ہو میں یہ نہیں کہہ رہی کہ تم ضرور گئے ہو گے لیکن شائد تو پھر شائد ہوتا ہے

سورایا اسفند یاری پھانس کی طرح اٹک گئی ہے تمہارے گلے میں میرا ٹیبل ٹیبل بھولاۓ نہیں بھول ہاتی تم

ہاں نہیں بھول ہاتی تو ۔ تم بھول پاؤ گے اگر میں

شائد نہیں لیکن تم یہ کیوں بھول جاتی ہو کہ یہ سب تمہارے آنے سے پہلے کی باتیں ہیں

اب بھی ملتے ہو اس سے

اگر ملنے سے تمہاری مراد ٹیبل ٹینس کی گیم یا کیفیٹریا کی چاۓ یا کافی ہے تو نہیں ہاں راستے میں کہیں مل جاۓ تو ہیلو ہاۓ

بائی ضرور ہوتی ہے ایک ڈیڑھ سال کی دوستی کو یوں اچانک اور بغیر کسی وجہ کے ختم کر دینا تمہیں کوئی چھوٹی یا معمولی سی چیزلگتی ہے تمہاری وجہ سے مجھے کافی زہنی اذیت اور کرب کا سامنا کرنا پڑا میری تو سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ سورایا کو

کیا کہوں اور کیسے کہوں وہ تو بھلا ہو اس لڑکی کا جیسے ہی میں نے ٹال مٹول شروع کیا آگے سے ہنس کے کہنے لگی ‘ جاوید

تمہیں تو ڈھنگ سے جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا ‘ ملتے رہنا

we are still good friends

بہت اچھی دوست تھی وہ تمہاری

کیا مطلب تھی سورایا اب بھی میری دوست ہے میں دوستی کا کاروبار نہیں کرتا کہ ایک کو نبھانے کے لیۓ دوسری کا سودا

کر دوں اور اب آپ نے یہ زکر چھیڑ ہی دیا ہے تو کیا میں آپ سے پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ آپ مجھے بتاۓ بغیر

اس سے ملنے کیوں گئی تھیں اور بعد میں بھی آپ نے اس ملاقات کا مجھ سے زکر تک کرنا مناسب نہیں سمجھا آخر کیوں

سورایا نے تمہیں بتایا کہ میں اس سے ملی تھی

نہیں وہ اتنی کم ظرف نہیں کہ آپ سے ملاقاتوں کی تفصیل سارے شہر میں بانٹتی پھرے میرے ایک دوست نے آپ

دونوں کو کینٹین میں بیٹھے ہوۓ دیکھا تھا اسی نے مجھے بتایا تھا ابھی تک میرے سوال کا جواب نہیں دیا آپ نے

ہاں ملی تھی میں سورایا سے کیوں ملی تھی شائد جیسے امی کہتی ہیں اور ٹھیک ہی کہتی ہیں اپنی insecurities کی وجہ سے

اسے ملنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اب میں تم دونوں کی مجرم بن گئی ہوں تمہیں اس لیے نہیں

بتایا کہ دل میں ڈر سا بیٹھ گیا تھا کہ نجانے تم کیسے

react

کرو گے

بے بنیاد شکوک و شبہات خوف کو جنم دیتے ہیں اور جس پیار میں خوف کا عنصر شامل ہو جاۓ وہ کبھی زیادہ دیر تک قائم

نہیں رو سکتا ۔ رشتوں پر سے اعتبار اور اعتماد اٹھ جاۓ تو وہ ایک بوجھ بن جاتے ہیں اور بوجھ آدمی چاہےکتنا ہی توانا اور مضبوط کیوں نہ ہو جلد از جلد اتار کر پھینک دیتا ہے اور بولو خاموش کیوں ہو گئے نکال لو اپنے دل کا غبار بولو نا کچھ بھی کہو مجھے برا بھلا ہی کہو تمہاری خاموشی سے مجھے ڈر لگتا ہےجیدی پلیز میرے دل اور ضمیر پر پہلے ہی بڑا بوجھ ہے تم بات نہیں کروگے تو میں گاڑی کھڑی کر کے رونا شروع کر دونگی

میں اپنی غلطی پر نادم ہوں معاف کر دو نا سورایا سے بھی

apologise

کر لونگی پلیز

مجھے اپنی فکر نہیں تم مجھے کچھ بھی کہہ سکتی ہو لیکن کوئی باہر کا آدمی تمہارے بارے میں غلط قسم کی راۓ قائم کر لے

وہ مجھے قابل قبول نہیں اور سنو تمہیں مجھ پر اتنا بھی بھروسہ نہیں کہ بیٹھ کر اپنے دل کی باتیں مجھ سے بے خوف و خطر

کر سکو آخر کس طرح کی محبت کرتی ہو تم مجھ سے قسم کا تو پتہ نہیں بس اتنا جانتی ہوں کہ کرتی ہوں اور اس ڈر سے کہ کہیں تمہیں کھو نہ دو یا تمہیں کوئی مجھ سے چھین کر نہ لے

جاۓ اس طرح کی حرکتیں کرتی ہوں اب جانے دو نا کہا تو ہے سوری تم خود ہی تو کہتے ہو پیار میں کبھی سوری

کہنے کی گنجائش نہیں ہوتی تو پھر مجھ سے کتنی دفعہ کہلواؤ گے

ایک دفعہ بھی کافی ہے اگر بنا لب کھولے کہہ سکو تو

اچھا کہہ دونگی لیکن کیسے

pucker up your lips

شیطان کہیں کے کبھی ہنساتے ہو کبھی رلاتے ہو اور اگر میرے دونوں ہاتھ سٹیرنگ ویل پر نہ ہوتے تو یہ ڈائیلاگ جو ابھی تم

نے بولا ہے

you wouldn’t dare say that to me

کیونکہ میں سوری تو کیا الف لیلی او لیلی کی شہرزاد کیطرح ایک ہزار اور ایک راتوں کی سب داستانیں بنا لب کھولے صرف اپنی آنکھوں سے تمہیں سنا سکتی ہوں بولو سننا

چاہو گے تم رچرڈ برٹن کے سولہ والیوم اور یہ بھی بتا دو کہ کہاں سے شروع کروں اور یہ تھوڑی دیر پہلے تم نے مجھ سے

پوچھا تھا نا کس قسم کا پیار کرتی ہوں میں تم سے تو گاڑی میں بتاؤں یا گھر واپس آکر یا پھر شادی کے بعد

شیطان کی خالہ

ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر ۵۳

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Heavenly Temptations

جیدی اے جیدی سن رہے ہو کیا یا سو گئے

حسن کی بارگاہ میں عشق آنکھیں بند کر لے ایسی گستاخی تو گناہ کبیرہ ہو گی

اے عاشق بے مراد اپنی چشم عصیاں بے شک بند رکھ مجھے صرف تیرے گوش خرگوش چاہئیں

ارے کیا تازہ تازہ فرہنگ فارس پڑھ کر آ رہی ہو بولو میں ہمہ تن گوش ہوں

مجھے کبھی کبھی ایسا کیوں لگتا ہے کہ میرا جسم ایک ویران اور بنجر زمین کی طرح ہے اس میں کبھی کوئی پھل پھول لگیں گے کبھی ہریالی آۓ گی یاایسے ہی خزاں آلود زرد پتوں کی طرح بے جان بے رنگ بے روح گلیوں اور بازاراں میں لوگوں کے پاؤں تلے روندی جاتی رہوں گی میرے وجود کا ہر حصہ بیماری کا شکار ہے سواۓ اس دل اور ان آنکھوں کے کیونکہ ان میں تم اور
اور تمہارا پیار بستے ہیں بات پوچھوں ایک تم سے
پوچھو
تم مجھ سے اس لیے دور دور تو نہیں رہتے کیونکہ
‏my whole body is riddled with disease
یہ سوال ہے یا کسی قسم کا امتحان اور جواب ابھی چاہتی ہو یا تھوڑی دیر انتظار کر سکتی ہو
جانے دو ایسے ہی مونہہ سے نکل گیا
میں نے کہا جواب ابھی اسی وقت چاہیے یا گھر پہنچ کر
کہا نا جانے دو نہیں چاہیے تمہارا جواب
عندلیب گاڑی سڑک سے اتار کر ایک سائڈ پر کھڑی کر لو
لیکن کیوں
جیسے کہا ہے ویسے کرو پلیز
اچھا بابا کرتی ہوں اب کیا ہو گیا لو گاڑی کھڑی ہے
اب دوبارا کہو کیا کہہ رہی تھی
کیا کہا میں نے
میں تم سے دور رہتا ہوں اس لیے کہ تم بیمار ہو یہی کہا تھا نا تم نے زرا میری طرف جھکو اور پھر کہو زرا اور میرے قریب آؤ تھوڑا سا اور میں تمہاری سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرنا چاہتا ہوں
جیدی چھوڑو مجھے کیا کر رہے ہو چھوڑو نا پلیز جید ۔۔
جنگلی کہیں کے کیا ہو گیا تھا تمہیں میری سانس رک جاتی تو
اگر تم اس چیز کا انتظار کر رہی ہو کہ میں تم سے معافی مانگوں گا یا کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار کرونگا تو ایسا کچھ نہیں ہو گا
پچھلے پانچ منٹ جذبات سے لبریز ضرور تھے لیکن تمہیں اپنے پیار کی سچائی کا ثبوت دینے کا اس سے بہتر طریقہ میری سمجھ میں
نہیں آیا سو میں نے وہی کیا جو میرے دل نے کہا اور سچی بات تو یہ بھی ہے کہ مجھے اچھا بھی لگا
پانچ منٹ مجھے تو ایسے لگا جیسے پانچ صدیاں بیت گئیں جانور ہو تم مجھےکچھ ہو جاتا تو ابھی تک میرا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا ہے اور اپنی محبت کے اظہار کے لیے اس سے بہتر تمہیں کوئی اور جگہہ نہیں ملی تھی یوں لب سڑک گھر پہنچنے تک انتظار نہیں کر سکتے تھے کیا
‏ god I felt like a teenager
جھوٹی کہیں کی پوچھا تو تھا تم سے
ہاں پوچھا تھا لیکن مجھے کیا الہام ہوا تھا کہ تم مجھ سے گڈے گڈی کا کھیل کھیلنے جا رہے ہو شرارتی کہیں کے ساارا جسم
دکھ رہا ہے میرا اور سنو اٹھو یہاں سے اور پچھلی سیٹ پر جا کر بیٹھو لیٹو یا سو جاؤ مجھے شرم آ رہی ہے تم سے
اچھا ایک منٹ پہلے تو مجھ سے گیلے کمبل کی طرح لپٹی ہوئی تھیں اب نئی نویلی دولہن کی طرح شرما رہی ہو ٹھیک ہے
میں جا رہا ہوں پچھلی سیٹ پر اب
‏disturb
نہیں کرنا مجھے
اے میاں مٹھو چوری کھانی ہے
زیادہ گھی اور شکر میری صحت کیلیے مضر ہے
تھوڑی سی چکھ ہی لے
نا بابا نا آدم علیہ السلام نے اماں حوا کے کہنے پر شجر ممنوعہ کھا لیا تو جنت سے کرہ ارضی پر بھیج دییے گیے مجھے کسی نامعلوم جگہہ
پر لا کر پٹخ دیا تو میں کیا کرونگا
فکر کیوں کرتا ہے میں بھی تو تیرے ساتھ ہی ہونگی
ارے ایسی بد دعا تو نہ دے تو جب جب ساتھ ہو گی میں تب تب نکالا جاؤنگا
یہ تو نکالنے والے سے سوال کرنا مجھے تو اس نے بنایا ہی تیرے لیے تھا اس لیے تو جہاں بھی ہو گا میں تیری چھتر چھایا بن کر
تیرے ساتھ ہی رہونگی تیرے جسم کا حصہ تھی ہوں اور رہونگی علیحدہ کر سکتا ہے تو کر لے اور ایک بات تو بتا آج جو کچھ ہوا
اس کی تپش سے تیرے پر نہیں جلے کیا آج سے پہلے تو تو میرے ساۓ سے بھی دور بھاگتا تھا ‘ عندلیب مجھے سے زرا دور ہٹ
کر بیٹھ قرب الہی کے لیے مجھے اپنے آپ کو ہر طرح کے
‏temptations
سے بچا کے رکھنا ہو گا ‘ تو پھر آج کیا ہوا یا تجھے
پتہ تھا کہ آج کچھ ہونے والا ہے اس لئے اپنے ملکوتی پروں کا بیمہ کرا کر آیا تھا
نہیں کل کی زلیخا اپنے حسن اور جوانی سے یوسف کو خریدنے نکلی تھی آج وہی زلیخا سوالی بن کر آئی تھی جب جب زنان مصر
کا بازار لگے گا لہو بھی انھیں کا بہے گا اور انگلیاں بھی انھیں کی کٹیں گی کیونکہ برہان الہیہ کل بھی اہل حق کی آ نکھوں کے سامنے تھا اور آج بھی اہل دل کے ساتھ ہے آپ جانیں ‘ پر ‘ ترغیب گناہ پر لبیک کہنے سے جلتے ہیں پیغام محبت قبول کرنے پر نہیں
جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد قسط نمبر 54

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

شرارت نفس

ایک بات کہوں تم سے اوراسے شکائیت مت سمجھنا یہ دوہرا معیار نہیں تو اورکیا ہے مجھ غریب پر تم نے ہر طرح کے

پہرے بٹھا رکھے ہیں کوئی شرعی ہیں اور کئی خاندانی اور سماجی اور پتہ نہیں کیا کیا جو تو وقت بے وقت یا جب تجھے

ضرورت پڑے مٹی پڑی ہوئی کتابوں کو جھاڑ کھنگال کے ان میں سے ڈھونڈ لاتا ہے اور مجھے کہتا ہے یہ نہ کر اور وہ نہ کر

اور تو خود مادر پدر آزاد پنچھی کی طرح ڈال ڈال پات پات اڑتا پھرتا ہے اور آج تو تو نے سب کتابیں بالاۓ طاق رکھ

کر سارے ضابطے توڑ کر سب آفاقی اور دنیاوی قاعدے قانون اس گاڑی کے باہر پھینک دئیے اور بسم اللہ کر کے اپنی

ہونے والی بیوی کو پانچ دس منٹ کے لیے اپنے لئیے ہلال کر لیا وجہ پوچھ سکتی ہوں اور اب واپس اگلی سیٹ پر آ جا

نہیں میں یہیں پر ٹھیک ہوں اور جو کچھ ہوا اسے بھول کیوں نہیں جاتی مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں پہلے ہی امتحان میں

ٹھوکر کھا کر اوندھے مونہہ گر پڑا ہوں اور تمہاری باتوں کا بہانہ بنا کر

I took advantage of you

جیدی گاڑی کھڑی ہے آگے آ کر میرے ساتھ بیٹھو اور اب بولو

and don’t be so hard on yourself

یہاں جو کچھ ہوا اس میں ہم دونوں برابر کے شریک ہیں تم نے مجھے اپنے گلے سے لگایا لیکن میں نے تمہیں روکنے کی

ناکام سی کوشش بھی تو نہیں کی پھر تم اپنے آپ کو الزام کیوں دے رہے ہو اور کونسا ایسا آسمان ٹوٹ پڑا ہے جو تم

نے مجھے اپنے بازوؤں کے حصار میں لےلیا تو پچھلے تین ماہ سے ہم دونوں ہر وقت تو ساتھ ہوتے ہیں تم تو

ایسے behave کر رہے جیسے کوئی ان دیکھی ان سنی اور انجانی سی بات ہو گئی ہو

پھر بھی تمہاری عزت و ناموس کا پاس اور لحاض رکھنا میری اولین زمہ داری بھی ہے اور فرض بھی اور میں خود ہی

اچھا بابا سن لیا نا اب بس بھی کرو یا صلیب پر چڑھا کر ہی دم لو گے اور ایک اور بات تم نے مجھے اپنی طرف

کھینچا نہیں تھا میں تمہاری طرف جھکی تھی جب تم نے مجھے آواز دی اس میں ٹھراؤ تھا لرزش نہیں تھی تمہاری

آنکھوں میں بچوں جیسی معصومیت تھی جذبات کی سرخی نہیں اور جب تمہارے ہاتھ میرے کندھوں کو چھو رہے تھے

تو

it was a gentle touch

اگر تمہاری نیت میں فتور ہوتا یا شیطانی اکساہٹ ہوتی یا تمہارا نفس شرارت کر رہا

ہوتا تو تمہارے سانس اکھڑے ہوۓ ہوتے عورت خاص طور پر ان معاملات میں مرد سے بہت زیادہ محتاط اور حساس ہوتی ہے

مجھے اگر اس بات کا شک بھی ہو جاتا کہ میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا ہوا لڑکا جیدی نہیں ہے وہ نہیں جسے میں شائد

بے انتہا چاہتی ہی اس کے بے داغ کردار اور اس کی اخلاقی اقدار کی وجہ سے ہوں تو میں تمہیں پیچھے دھکیل ہی نہیں دیتی

بلکہ گاڑی سے بھی نیچے اتار دیتی اور پھر شائد تم زندگی بھر کبھی میرا مونہہ نہ دیکھتے اور سنو آئیندہ کبھی اس طرح کا موڈ ہو تو

مجھے کم از کم ایک دو گھنٹے کا نوٹس دے دیا کرو تاکہ میں زہنی اور جسمانی طور پر تیاری کر لوں

اے چھیڑ رہی ہو مجھے لگتا نہیں تم مجھے کبھی بھولنے دو گی اور یہ تیاری کس نوعیت کی ہے جو تمہیں دو گھنٹے کا وقت چاہیے

ارے بھئ میں لڑکی ہوں اگر مجھے پتہ چلے گا کہ امیر تیمور کے پوتے بلخ بخارا سے گھر آ رہے ہیں تو نئے کپڑے پہنوں گی کنگھی چوٹی کرونگی

شائد بیوٹی پارلر کا چکر بھی لگا آؤں آپ کو اچھا لگے گا اتنی دور سے اور اتنی دیر کے بعد گھر آؤ اور بیوی کے بالوں اور کپڑوں سے راکھ اڑ رہی ہو دادی ماں کہا کرتی تھیں مرد کا دل عمر عیار کی زنبیل کی طرح ہوتا ہے ساری دنیا کی عورتیں بھی اس میں سما جائیں

تب بھی تھوڑی سی جگہہ بچ جاتی ہے اس لیے ہمیشہ اسے اپنے حسن و جمال کے فریب میں الجھاۓ رکھو اپنی زلفوں کا جال نہ

تو اتنا تنگ رکھو کہ گھٹ کر مر جاۓ اور نہ ہی اس کے حلقے اتنے کھلے رکھو کہ slippery eel کی طرح بیچ میں سے نکل جاۓ

کافی دلچسپ باتیں کرتی ہیں آپ عندلیب بیگم لیکن یہ سب کچھ تو آپ کی دادی اماں کہتی تھیں آپ خود کیا کہتی ہیں

میں مسٹر خان انگریزی ادب کی طالبہ رہی ہوں اپنے مکالمے

thesis

کی تیاری کے دنوں میں ان گنت

Classics

پڑھ ڈالیں ہر ایک سے بقدر ضرورت خوشہ چینی کی سب کی بات کرونگی تو بات زرا لمبی ہو جاۓ گی آپ کو لبھانے کے لیے تو صرف الف لیلی و لیلی ہی کافی ہے

اچھا ہم تو ویسے ہی آپ کی زلفوں کے اسیر ہیں ہمیں لبھانے کی آپ کو کبھی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن آپ اپنی بات مکمل کر لیجۓ کہیں تشنہ لب نہ رہ جائیں

جی تو میں کہنے جا رہی تھی کہ آپ کے ساتھ مجھے شہر زاد بن کر رہنا پڑیگا تا کہ آپ ہر ڈال پر ایک نیا گھونسلہ نہ بنا لیں ہر رات آپکو ایک نئی کہانی سناؤں گی بغیر اس کہانی کے انجام کے اور کہانی اتنی دلچسپ چٹپٹی اور مصالحے دار ہو گی کہ ‘ پھر کیا ہوا ‘ سننے کے لیے دوسری رات آپ پھر میری خوابگاہ کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہونگے اور ایک ہزار اور ایک راتیں دو ڈھائی سال ایک لمبا

عرصہ ہوتا ہے اور میری الف لیلوی داستانیں سنتے سنتے آپ ماشاللہ چار بچوں کے باپ بن چکے ہونگے اور اس کے بعد اگر گسی

وقت آپکو اپنے بچوں انکی ماں اور اسکی کہانیوں سے فرصت مل جاۓ تو بے شک نیا گھونسلہ اور نئی گھونسلے والی کی کھوج کر

لینا میری بلا سے

ہاہاہا دو سال میں چار بچے آپ Wonder Woman ہیں یا آپکا Prince Charming کوئی سپر مین ہے

کیوں جڑواں بچے نہیں ہو سکتے کیا لیکن یہ سوال شہرزاد سے پوچھنا کتابوں میں تو یہی لکھا ہوا تھا اور دیکھو مزے لے لے کر

بچوں کے بارے میں الٹے سیدھے سوالات کرو گے تو یہ بڑے بڑے ناخنوں والا ہاتھ gear stick سے اٹھا کر اتنی زور سے

تمہاری زانو پر ماروں گی کہ بلبلا اٹھو گے

وہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن میرے چہرے سے زرا دور ہی رہنا

اے تمہارا چہرہ تو میرا آئینہ ہے جس میں میں اپنا چہرہ ہی نہیں اپنی ساری دنیا دیکھتی ہوں اسے کیسے زخمی کر سکتی ہوں

میرا چہرہ ہے یا جام جمشید جس میں تمہیں ساری دنیا دکھائی دیتی ہے

دنیا تو بڑی چھوٹی چیز ہے میری تو ساری کائنات اسی میں پنہاں ہے اور میں اس چہرے کو داغدار کیسے کر سکتی ہوں

جو میرے اپنے چہرے کو ہمیشہ پیار بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 55

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

زندگی کا سفر

اے میاں مٹھو تو نے اپنی چوری بھی کھا لی کھٹی میٹھی کڑوی کسیلی باتیں بھی کر لیں اب یہ تو بتا ہم کونسے اور کس

طرح کے

mission impossible

پر جارہے ہیں اور کہیں جا بھی رہے ہو یا جھوٹ بول کر اپنی محبوبہ کو اس کے

گھر اور شہر سے بھگا لاۓ ہو

اور اب کون جھوٹ بول رہا ہے آپ مجھے محبوب ضرور ہیں لیکن میری محبوبہ نہیں اور میں آپ کو بھگا کر نہیں لایا بلکہ

حقائق بلکل اس کے بر عکس ہیں آپ اپنی مرضی سے بلکہ زبردستی میری چھاتی پر سوار ہو کر آئی ہیں

اے اے مسٹر کیوں ایک باعزت اور عفت ماب لڑکی پر الزام تراشی کر رہے ہو ابھی دس منٹ پہلے یہاں اس گاڑی

میں کون کس کی چھاتی سے لگا ہوا تھا رکھو اپنے ہونے والے جڑواں بچوں کی ماں کے سر پر ہاتھ اور کھاؤ قسم کہ ایسا

ہی ہوا تھا کہ نہیں غضب خدا کا بیس اکیس برس کی تمہاری عمر ہے اور ابھی سے ایسے لچھن جھوٹ تو اتنا پکا مونہہ بنا کر

بولتے ہو جیسے برسوں سے یہی کام کرتے آ رہے ہو

ارے میں نے تو صرف آپکو کندھوں سے پکڑا تھا باقی آپ کی خواہش ضرور ہو گی لیکن ایسا کچھ ہوا نہیں تھا اور میری

کہی ان کہی کو چھوڑیں آپ خود تھوڑی دیر پہلے میری شرافت اور نجابت کی قسمیں کھا رہی تھیں

وہ تو میں نے ایسے ہی کہہ دیا تھا زرا تمہیں دلاسہ دینے کے لیۓ اب کیا کریں لڑکیاں زرا نرم دل ہوتی ہیں زرا کسی کو

تکلیف میں دیکھا فوراَ ا نکا دل پسیج جاتا ہے بھول گیۓ کیسے احساس گناہ کے بوجھ تلے دبے جا رہے تھے

چوٹی کہیں کی

you play on both sides of the wicket

چت بھی تمہاری اور پٹ بھی تمہاری مجھے پتہ تو تھا کہ یہ لفٹ مجھے کافی مہنگی پڑے گی لیکن تمہیں بتاۓ بغیر چلا جاتا تو تم یا تو میرے گھر پہنچ جاتی یا اپنے آپ کو بیمار کر لیتی

پوچھو کیا پوچھنا چاہ رہی تھیں اور تھوڑا کم بولا کرو بنا سوچے سمجھے بولے چلی جاتی ہو

ایسا ہی تو کر نہیں سکتی خاموشی سے ڈر لگتا ہے مجھے وحشت ہوتی ہے چپ رہوں تو اپنی بیماری کے بارے میں سوچ

سوچ کر ہلکان ہوتی رہتی ہوں اسی لیے تو موقع بے موقع بھاگ کر تمہارے پاس چلی آتی ہوں تمہیں برا لگتا ہے کیا

اے کیسی باتیں کر رہی ہو مجھے کب سے تمہاری کوئی بھی بات بری لگنے لگی میرے بس میں ہو تو تمہیں اپنے پہلو ہی سے

کبھی اٹھنے نہ دوں اور سنو کوئی ایسا پٹرول ہے جو ایک دفعہ گاڑی میں ڈلوا لو تو گاڑی ہمیشہ چلتی ہی رہے

ہاں ہے نا ‘ پیار کا پٹرول جب تک ڈالتے رہو گے گاڑی چلتی رہے گی لیکن تمہیں اس کی ضرورت کیوں آن پڑی کہاں اور کونسے سفر پر جانا چاہتے ہو جہاں سے واپس ہی نہیں آنا چاہتے اور تم نے یہ کیوں کہا کہ اگر تمہارے بس میں ہو تو

‘ جب میں ہی تمہارے بس میں ہوں تو اور کسی بس کی تلاش میں کیوں ہو ایک دفعہ مجھے کہہ کر تو دیکھو ساری عمر تمہارے

پاس بیٹھی رہونگی

کہہ تو رہا ہوں اور کیسے کہوں اور کوئی بیماری نہیں ہے تمہیں اگر کسی وقت کچھ کہنے سننے کو نہ ملے تو اپنے بارے میں سوچو

میرے بارے میں سوچو ہم دونوں کے بارے میں سوچو اور اگر بہت رومینٹک موڈ میں ہو تو ہمارے جڑواں بچوں کے

بارے میں سوچا کرو

اچھا میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو ساری اچھی سوچنے اور کرنے والی چیزیں تمہاری اور بچوں کے Nappies بدلنے

کا کام میرا خاندانی رئیس زادی ہوں شہزادیوں کی طرح سوچتی ہوں ایک دفعہ غلطی سے جڑواں بچوں کا نام کیا لے دیا تم تو

مجھے human incubator ہی سمجھنے لگے ۔ اے جیدی ویسے آئیڈیا ایسا برا بھی نہیں ساری عمر اکیلی رہی ہوں نا اس لیۓ

جب بھی گھر کے بارے میں سوچتی ہوں تو ہمیشہ بچوں کا شور سنائی دیتا ہے اور میرے چہرے پر بڑی سی مسکراہٹ آ

جاتی ہے سنا تم نے مجھے بچے چاہئیں اور ڈھیر سارے

ہاں ہاں ٹھیک ہے پہلے بچوں کے باپ کو تو بڑا ہونے دو

اور کتنا بڑا ہونا ہے تمہیں قد بت بڑھنے کی ایک عمر ہوتی ہے جس سے تم گذر چکے ہو اور فکر کیوں کرتے ہو جہاں تمہارے

ایک درجن بچوں کو پالوں گی وہاں تمہارے لیے بھی ایک بوتل بنا دیا کروں گی آرام سے اپنے پالنے میں لیٹ کر دودھ پیتے

رہا کرنا کام تو اب بھی میں ہی کرتی ہوں شادی کے بعد کرتی رہونگی تو کونسی قیامت ٹوٹ پڑیگی اور اب بتا بھی چکو کہ کس

کام سے ہملوگ وزیرآباد جا رہے ہیں تم نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ کسی دوست سے ملنا ہے تمہیں کون ہے وہ دوست

ملاقات کی نوعیت کیا ہے وغیرہ وغیرہ اور یوں اچانک اس طرح بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی کچھ چھپا رہے ہو مجھ سے

ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس موقعہ ہی نہیں ملا تمہیں بتانے کا

تو اب بتا دو دو تین دفعہ تو پوچھ چکی ہیں کچھ ہچکچا سے رہے ہو اور اگر کسی وجہ سے نہیں بتانا چاہتے تو تب بھی کوئی بات

نہیں ہے

I respect your privacy

اچھا اور مس عندلیب اتنی مہذب شائستہ اور

formal

کب سے ہو گئیں آپ نے مجھ سے کچھ پوچھنا ہو یا کہنا ہو تو نوک

خنجر سے پوچھتی ہیں خیر چھوڑو اس بات کو تمہیں یاد ہے میں نے ایک دفعہ زینب نامی عورت کا تم سے زکر کیا تھا

اسی سے ملنے جا رہا ہوں

زینب وہ بھکاررررررررررر

مس عندلیب زینب حالات اور زمانے کی ستائی ہوئی ایک بد نصیب عورت ضرور ہے لیکن وہ کوئی پیشہ ور بھکارن نہیں

کاسہ لیسی تو دنیا کا ہر فرد و بشر کرتا صرف جگہہ مقام اور مانگنے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے کوئی مندر مسجد اور کلیسا میں بیٹھ کر

مانگتا ہے اور کوئی زینب کی طرح ریلوے اسٹیشن کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر لیکن ہیں تو دونوں ہی سوالی مجھے افسوس کے ساتھ

کہنا پڑھ رہا ہے کہ اتنے بڑے بڑے تعلیمی اداروں سے سندیں سرٹیفکیٹ اور ڈگریاں لینے والوں سے یہ کیوں نہیں پوچھا جاتا

کہ فارغ التحصیل تو تم ہو گئے ہو لیکن علم کتنا حاصل کیا اگر تم انسان کو انسان ہی نہیں سمجھتے تو تف ہے تم پر بھی

اور تمہاری ڈگری پر بھی

جیدی پلیز میں معافی چاہتی ہوں بس ایسے ہی بے دھیانی میں مونہہ سے نکل گیا تھا میرا ہر گز یہ مطلب یا ارادہ نہیں تھا میری طرف دیکھو نا پلیز معاف کر دو میں گاڑی کھڑی کر رہی ہوں اے ادھر میری طرف دیکھ کر بات کر تم سے زیادہ مجھے

کون جانتا ہے بے خیالی میں ایک انتہائی غلط بات کہنے جا رہی تھی اللہ سبحان و تعالہ مجھے معاف کرے

اے مجھے بھی پتہ نہیں کیا ہو جاتا ہے بعض اوقات میں بھی

I get carried away

تمہیں اتنا سخت سست کہہ دیا

چلو گاڑی سٹارٹ کرو یہ سفر کچھ زیادہ ہی طویل نہیں ہو گیا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا

ہاں ٹھیک کہتے ہو تم زندگی کا سفر ہے طویل بھی ہو گا مشکلیں بھی آئیں گی اور راحتیں بھی ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 56

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

حکمت یونانی

جیدی

جی میں سن رہا ہوں

تم نے مجھے curse کیوں کیا تھا

میں نے ایسا کچھ نہیں کیا آپ کو سننے میں غلطی ہوئی ہو گی

میں نے اپنی غلطی کو تسلیم بھی کیا تھا اور آپ سے اور زینب سے غائبانہ طور پر معافی بھی مانگی تھی

مجھ سے آپ کو معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں اور رہی بات زینب کی تو جب اس سے بالمشافہ ملیں گی تو جو کہنا سننا

ہو گا اسی سے کہہ لیجیۓ گا اور میں پھر سے کہہ رہا ہوں آپ شائد کسی غلط فہمی کا شکار ہیں میں نے ایک عمومی سی بات

کی تھی آپ اسے اپنی طرف کھینچ کر کیوں اور کس لیے لے جا رہی ہیں

مسٹر خان آپ حسب عادت لفظوں کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں آپ نے جو کچھ کہا میری ایک غلط

لیکن ادھوری بات کے جواب میں کہا آپ کے عتاب کا نشانہ میری زات تھی اس لیے آپ اسے عمومی کیسے کہہ سکتے

ہیں آپ نے کہا اور جو کچھ کہا مجھے کہا اور اس کے لیے جن الفاظ کا انتخاب آپ نے کیا وہ مشفقانہ اور ناصحانہ نہیں

معا ندانہ اور قابل نفرین تھے

جی آپ بالکل ٹھیک فرما رہی ہیں مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا شائد غم و غصہ کی شدت

got the better of me

اور بجاۓ اس کے کہ میں کسی ندامت یا پشیمانی کا اظہار کروں اور اپنے جرم کا اعتراف کروں آپ سے بیکار قسم کی

بحث میں الجھا ہوا ہوں پلیز عندلیب مجھے معاف کر دیجیۓ

ہاہاہا ہاہاہا اب آیا ہے اونٹ پہاڑ کے نیچے

کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں

ارے میرے سیدھے سادھے مجنوں میں تو صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ آیا تم نکتہ چین ہی ہو یا نکتہ دان بھی اور جاؤ

معاف کیا تم بھی کیا یاد کرو گے کس رئیس زادی سے پالا پڑا تھا اور سنو وہ جو تم نے کسی man made فتوی کے

تحت دس پندرہ کےلیے مجھے اپنے لیے ہلال کر لیا تھا اس کا کوئی ایک آدھ منٹ بچا کر رکھا ہو تو مجھے تھوڑی سی

بہت زیادہ نہیں تھوڑی سی TLC چاہیے اور ایک بات اور تم کیسے دوست ہو to err is human کوئی معصوم

عن الخطا نہیں مانا کہ مجھ سے غلطی ہوٰی لیکن تم نے تو مجھے ایسے آڑے ہاتھوں لیا جیسے موقعہ کی تاک میں تھے

ہاتھوں کے لگے ہوۓ زخم تو کبھی نہ کبھی بھر ہی جاتے ہیں لیکن زبان کے لگے ہوۓ گھاؤ جاتے جاتے عمر بیت

جاتی ہے اس لیے آپ بھی نہ وہ جیسے پنجابی میں کہتے ہیں ‘ ہتھ ہولا ای رکھیا کرو ‘

جی سن بھی لیا اور مان بھی لیا اور یہ

TLC

چلتی گاڑی والی چاہیے یا اس کے لیے گاڑی روکنی پڑیگی

زبان سے پیار کے دو بول کافی ہیں میرے لیے تمہارا کیا پتہ گلے پڑ رہے ہو یا گلے لگا رہے ہو تمہیں دیکھ کر تو گرگٹ بھی

اپنے رنگ بدلنا بھول جاتا ہے

جس طرح سے تم مجھ سے چپک کر بیٹھتی ہو میں آج تک یہ سمجھتا رہا کہ تم چھپکلی ہو اور اب تم کہہ رہی ہو کہ نہیں میں

گرگٹ ہوں اور ہاں یہ اپنی سائڈ والا گاڑی کا شیشہ زرا نیچے کر دو تا کہ تازہ ہوا اندر آ سکے میرا دم سا گھٹ رہا ہے

ڈرو نہیں کچھ نہیں ہونے والا تمہیں دو دو مائیں تمہارے لیۓ دعائیں مانگتی رہتی ہیں

اور اب یہ میری دوسری ماں آپ نے کہاں سے ڈھونڈ نکالی

الو کی دم فاختہ آپ نرے گدھے ہیں ایک آپ کی امی جان اور دوسری آپ کے جڑواں بچوں کی اماں تمہاری باتوں سے

لگتا نہیں کہ تم یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے جاتے ہو کہیں لڑکیوں کے ہاسٹل کے سامنے بیٹھ کر ہر آنے جانے والی لڑکی کے

نام کی مالا تو نہیں جپتے رہتے وہ کیا کہتے ہیں

رادھا شیام کلی مینا اور سپنا

رام رام جپنا پرایا مال اپنا

آپ کو گوہر افشانی کرنے کی ضرورت نہ تھی نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہو گی کیونکہ “ من آنم کہ من دانم “ مطلب میں جیسا

ہوں خود ہی جانتا ہوں اور مجھے گرلز ہاسٹل جانے کی حاجت کب سے اور کیوں ہونے لگی شہر کی سب سے حسین لڑکی

خود چل کر بلکہ چار پہیوں والی کھٹارا گاڑی

which should be classified as vintage now

پر بیٹھ کرمیرے ہاسٹل پہنچ جاتی ہے

نا شکرے زمانے بھر کے شہر کے طول و عرض میں اسی کھٹارے کی گود میں بیٹھ کر پھرتے رہتے ہو اور باتیں کرتے ہو

لاٹ صاحب کی طرح کل کلاں کو میں بھی بوڑھی ہو جاؤں گی تو یہی کہا کروگے نا “ کھنڈر بتا رہے ہیں کہ عمارت

حسین تھی “ اترو گاڑی سے جاؤ جوتے چٹخاتے پھرو میری بلا سے

خوبصورت لگتی ہو غصے میں اور اس سے پہلے کہ میں بھول جاؤں مجھے ایک بات کہنی ہے تم سے

جی اگر کچھ رہ گیا ہو تو وہ بھی کہہ ڈالیے بیویاں دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے ہی تو ہوتی ہیں

ارے ایسا نہیں میں سنجیدگی سے تمہاری

medical condition

کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا کہ تم لوگوں نے

کبھی

alternative treatments

میرا مطلب ہے طب یونانی یا اسی نوعیت کے دوسرے علاج کے بارے میں

سوچا ہو دوسرے ممالک خاص کر مغرب میں تو اسکی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی لیکن بر صغیر میں کچھ عرصہ پہلے تک

تو حکما کا ہی سکہ چلتا تھا یونانی طب یا حکمت کو اس کے ماہرین قدیم ترین طریقۂ علاج کہتے ہیں اور اس کے موجد کے طور پر بقراط کا نام لیتے ہیں جنھوں نے کہا تھا کہ ‘قدرت ہی سب سے بڑا معالج ہے۔’

پہلے تو کسی نے نہیں سوچا لیکن اگر تم کہتے ہو تو یہ بھی آزما کر دیکھ لیتے ہیں وزیرآباد سے واپسی پر امی سے بات کرتے ہیں

تم نے آج سے پہلے کبھی اس کا زکر نہیں کیا

میں نے سوچا آپ لوگ کہیں میرا مذاق نہ اڑائیں کہ اتنے بڑے بڑے ڈاکٹرز اور سپیشلسٹ علاج تو کر رہے ہیں پھر ان

نیم حکیموں کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے اس لیے خاموش رہا

اے تو مجھ سے پیار کرتا ہے تو صرف میری فکر کر میری زات کے بارے میں تمہارا ہر فیصلہ حرف آخر ہے کیونکہ یہ

مجھ اکیلی کی نہیں ہم دونوں کی زندگی اور بقا کا سوال ہے

Kapeesh ۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 57

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

زریاب

جیدی تم نے بتایا نہیں یہ بیٹھے بٹھاۓ تمہیں حکیم لقمان کی یاد کہاں سے آ گئی

ارے بھئی پتہ چلا تھا کہ بڑے ماموں کی طبیعت کچھ ناساز ہے سو ان کی مزاج پرسی کے لیے چلا گیا باتوں باتوں میں انہوں نے زکر کیا کہ ڈاکٹری علاج سے کوئی خاص افاقہ نہیں ہو رہا تھا کسی دوست نے مشورہ دیا کہ انار کلی بازار میں ہمدرد دواخانہ والوں کے پاس چلے جاؤ وہاں ہفتہ میں ایک دن حکیم سعید کراچی سے لاہور تشریف لاتے ہیں وقت لیکر ان کو بھی دکھا دینا اسی سے مجھے یہ خیال آیا کہ کیوں نہ تمہیں بھی ان سے ملوا دیا جاۓ آخر مشورہ کرنے میں کیا قباحت ہے

تو ٹھیک ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا وزیرآباد سے واپسی پر امی سے بات کرتے ہیں تم دواخانہ والوں سے فون پر

رابطہ کر کے ان سے حکیم سعید کے لیے

appointment

لے لینا پھر ہم دونوں انارکلی جا کر ان سے مل لیں گے

بلکہ میں خود ہی ٹیلیفون ڈائریکٹری سے نمبر لیکر ان کو فون کر دونگی تمہارا کیا پتہ دوسری مصروفیات میں تمہیں یاد ہی نہ رہے

اتنا غیر زمہ دار سمجھتی ہو مجھے اور خاص کر تمہاری صحت کے بارے میں اس طرح کی لاپرواہی برت سکتا ہوں کیا

ارے ایسے ہی مذاق میں کہہ دیا تھا اور سنو ایک بات پوچھوں تم سے اگر تمہیں برا نہ لگے تو

پوچھ کر دیکھ لو لیکن تم مجھ سے برا لگنے والی بات بھلا کیوں پوچھو گی

یہ بھی ٹھیک ہے میں بری لگنے والی بات پوچھوں ہی کیوں اور اگر پوچھ بھی لوں تو تم کیا کر لو گے مجھے برا بھلا کہو گے یا پھر مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ گے کتنا اچھا لگے گا میاں بیوی کی طرح آپس میں لڑائی کرنے کا

تمہاری کوئی کل تو ڈھیلی نہیں تم دنیا کی پہلی عورت ہو گی جسے اپنے شوہر سے پٹنا اچھا لگے گا

بےوقوف ہیں آپ تم مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ گے کیونکہ میں تمہاری عورت ہوں تمہاری بیاہتا ہوں تمہاری کچھ لگتی ہوں تمہارا مجھ پرکچھ حق ہے کسی غیر عورت کے ساتھ مار پیٹ یا گالی گلوچ تو نہیں کر سکتے تم اور جہاں اپناہٹ ہو گی پیار ہو گا چاہت ہو گی وہاں یہ سب بھی ہو گا

میں نے آج تک ایسی غیر منطقی منطق نہ تو سنی اور نہ ہی پڑھی

چلو چھوڑو اس بات کو اور بتاؤ یہ اچانک بیٹھے بٹھاۓ زینب کی یاد کیسے آ گئی یا بس صبح صبح اٹھے اور چل پڑے

عام طور پر تو ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی محرک ہوتا ہے جسے بنیاد بنا کر آدمی یا تو کچھ کرتا ہے یا پھر کرتے کرتے رک جاتا ہے لیکن زینب والے معاملے میں بالکل وہی ہوا جیسے تم نے کہا صبح اٹھا مونہہ ہاتھ دھو کر کیمپس کا رخ کرنے کے لیے کمرے سے باہر نکلا تو زینب کی شبیہ آنکھوں کے سامنے آ گئی مجھے ایسے لگا جیسے وہ مجھ سے کہہ رہی ہو کہ تمہیں عرصے سے دیکھا نہیں اس کے بعد جو کچھ ہوا تم اس سے بخوبی واقف ہو اور یہ میری طرف ایسے کیوں دیکھ رہی ہو جیسے میں نے کوئی انوکھی بات کہہ

دی ہو اور مہربانی کر کے آنکھیں سڑک پر رکھو کہیں گاڑی نہ مار دینا

گاڑی کی فکر نہیں ہاں البتہ تمہاری فکر ضرور ہے اور اس سے بھی زیادہ مجھے اس بے سہارا بے کس اور بیمار سی لڑکی کی

فکر کھاۓ جا رہی ہے جو یہ جانتے ہوۓ بھی کہ تم تھوڑے

eccentric

سے ہو پھر بھی تم سے دیوانہ وار محبت کیے جا

رہی ہے ابھی سے بتا دو تمہارے سدھرنے کے کوئی امکانات ہیں یا ہم دونوں کی زندگی کی گاڑی ایسے ہی تین پہیوں پر

چلے گی

پیار میں ساہو کار اور بنیے کی طرح نفع اور نقصان کا کب سے سوچنے لگیں تم اگر مجھے بدلنا چاہو گی تو بدل جاؤنگا کیوں نہیں

بدلونگا لیکن کیا تم ایسا کرنا چاہو گی بعد میں یہ گلہ نہ کرنا کہ تم تو وہ آدمی ہی نہیں جس سے میں محبت کرتی تھی

مجھے پتہ تھا تم یہی کہو گے لیکن آج میں تمہاری محبت ہوں تمہارا پیار ہوں لیکن آنے والے کل میں ایک اور رشتے کا

اضافہ ہو جاۓ گا اور اس رشتہ کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں آج اس وقت صرف ہم دو ہیں کل ہم تین اور چار بھی

ہو سکتے ہیں تمہیں لگتا ہے کہ تم اس وقت بھی بنا سوچے سمجھے دیکھے بھالے جو تمہارے جی میں آۓ گا کر گزرو گے اور تمہارا

صرف اتنا کہہدینا کافی ہو گا ‘ زریاب بیٹا امی سے کہہ دینا میں چند دنوں کے لیے وینس جا رہا ہوں ‘

شائد نہیں لیکن میں نے ایک دفعہ پہلے بھی تم سے کہا تھا کہ کل کیا ہوگا اس کی فکر میں میں آج کو بھی قربان کر دوں یہ نہ

تو آنے والے مسائل کا حل ہے اور نہ کوئی عقل مندی اور یہ زریاب صاحب یا صاحبہ کون ہیں جن کے زریعے کوئی آدمی اس

کی امی کو یہ پیغام بھیج رہا ہے یہ سب آپ کے کوئی عزیز رشتہ دار یا جاننے والے ہیں

اب زیادہ بننے کی کوشش مت کرو تمہیں بخوبی علم ہے میں کن کی بات کر رہی ہوں

بالکل نہیں میں زریاب نام کے صرف دو آدمیوں کو جانتا ہوں ایک اپنے وقت کا بہت مشہور موسیقار گلوکار فیشن ڈیزائنر اور

نجانے کیا کیا تھا اس کا اصل نام ابوالحسن بن علی ابن نافع تھا زریاب کا لقب اسے عربوں نے اس کی خوش الحانی اور کالے رنگ کی وجہ سے دیا تھا۔ عرب ایک سیاہ رنگ کے پرندےکو زریاب کہتے ہیں جس کی آواز بہت دلنشیں ہوتی ہے اور دوسرا آدمی

ایک عورت ہے جس کے بارے میں چند سال پہلے میں نے اردو یا سیارہ ڈائجسٹ کے کسی شمارے میں پڑھا تھا لکھنے والے

کا انداز کچھ رومانوی افسانوی سا تھا لکھتا ہے “ ایک وجیہہ الشکل دراز قد فراخ پیشانی اور کسی قدر گورے رنگ کا نوجوان اپنے

غلام کی ہمراہی میں بغداد کی ایک شاہراہ سے گذر رہا تھا براق کی طرح سفید عبا زیب تن تھی جہاں سے گزرتا لوگ مڑ مڑ کر اس کو

دیکھتے راستے میں ایک جگہہ لوگوں کا مجمع لگا ہوا تھا یہ نوجوان بھی جا کر ان میں شامل ہو گیا دیکھتا کیا ہے کہ بالکل وسط میں ایک

چبوترا بنا ہوا ہے جس کے چاروں طرف ریئسان شہر کے اوباش قسم کے لڑکے ایک ا نتہائی حسین جمیل غلام لڑکی پر

بولیاں لگا رہے تھے اس نوجوان نے اپنے نوکر کو اشارہ کیا کہ بولی دوگنی کر دو ان بگڑے ہوۓ رئیس زادوں نے یہ دیکھ کر

بولی چار گنا بڑھا دی اور اس نوجوان کو ہر طرح کے طنز و مزاح کا نشانہ بنا لیا وہ تھوڑی دیر تک تو ان کا تختہ مشق بنا رہا پھر اچانک آگے بڑھا اس غلام لڑکی کے مالک سے کچھ کہا اس کے ہاتھ سے چابی لی لڑکی کو بیڑیوں کی قید سے آزاد کیا اس کا ہاتھ تھاما اور واپس اپنے راستے پر چل دیا وہاں کھڑے لوگوں کے پوچھنے پر اس نوجوان کے نوکر کہا کہ جس آدمی پر تم لوگ آوازیں کس رہے تھے وہ کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ خلیفہ وقت المہدی تھا اور ڈرنے کی ضرورت نہیں تمہیں کچھ نہیں کہا جاۓ گا لیکن یاد رکھنا کسی کی سادگی دیکھ کر اس کی حیثیت کا اندازہ کبھی نہ لگانا اور مس عندلیب اس سے پہلے کہ آپ مجھ سے سوال کریں اس غلام لڑکی کا نام زریاب تھا

جاری ہے

………………………………….

شہر زاد قسط نمبر 58

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

زریاب عندلیب خان

ہاں تو مس عندلیب اب آپ بتائیے آپ کس زریاب اور اس کے باقی اہل خانہ کی بات کر رہی تھیں

وہ تو میں تمہیں بعد میں بتاؤں گی پہلے یہ تو بتاؤ یہ سارے قصے کہانیاں جو تم مجھے سناتے رہتے ہو سنے سناۓ ہیں یاخود کتابوں

میں پڑھے ہیں اور تمہارے پاس ان خرافات کے لیے وقت کہاں سے آتا ہے اور اپنی پڑھائی کب کرتے ہو

یہ ایک سوال تھا یا سوالات کی پوری لسٹ اور تم میری گرل فرینڈ ہو میری استانی ہو یا میری اماں

ہمیں ملے ہوۓ ایک عرصہ ہو چلا ہے اب کیا ساری عمر میں تمہاری گرل فرینڈ ہی رہونگی اور ہم لوگ یونہی چھپ چھپ کر

ہی ملتے رہیں گے یا کچھ آگے بڑھنے کا بھی ارادہ ہے اور ہاں میں وہ سب کچھ ہوں جو تم نے ابھی ابھی کہا تمہیں کسی وقت

زہنی یا جسمانی تھکاوٹ ہو تو

TLC

اور

companionship

کے لئے گرل فرینڈ حاضر ہے کسی

literary pursuits

کے لئے ساتھی کی ضرورت ہو تو استانی کے فرائض بھی انجام دے سکتی ہوں اور اگر وقت پہ کھانا نہیں کھاؤ گے نیند پوری نہیں کروگے یونیورسٹی نہیں جاؤ گے اپنی پڑھائی نہیں کرو گے تو پھر ساسو ماں کا کام بھی مجھے ہی کرنا پڑیگا ویسے تو یہ آخر والی

ڈیوٹی سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ اگر تم پڑھائی میں دل نہیں لگاؤ گے تو امتحان میں پاس کیسے ہوگے اور یونیورسٹی کی ڈگری

کے بغیر تمہیں کام کیسے ملے گا اور بنا کام کے ایک نکھٹو کو اتنی خوبصورت پڑھی لکھی لڑکی کون دیگا اور بغیر شادی کے

زریاب اور اس کے بہن بھائی کیا آسمان سے ٹپکیں گے

آپ نے اتنی لمبی چوڑی تمہید تو باندھ دی لیکن بتایا پھر بھی نہیں کہ یہ زریاب آخر ہے کون اور ہماری زندگی سے اس کا کیا

تعلق واسطہ ہے

ویسے تو بڑے

clever clogs

بنے پھرتے ہو اور سیدھی ساری چیزیں تمہاری سمجھ سے بالاتر ہیں

اے میں نے کبھی اپنے سقراط یا بقرات ہونے کا دعوی نہیں کیا پھر تم نے مجھے

clever clogs

کیوں کہا یہ ایک گالی کے مترادف ہوتا ہے واپس لو اپنے الفاظ

کیوں واپس لو ں اپنے الفاظ جو کہہ دیا سو کہہ دیا پوچھے چلے جا رہے ہیں زریاب کون ہے زریاب کون ہے ‘ زریاب ہماری

بڑی بیٹی ہے ‘ اور کون ہے

حیدر آباد سے آئی ہو یا لکھنئو سے وہاں کے لوگ ہی اپنے آپ کو میں کی بجاۓ ہم بلاتے ہیں

جی نہیں میں لاہورن ہوں “ میں اور تم مل جائیں گے تو ہم بنیں گے “ مسٹر ہوشیار پور

اوہ تو زریاب میری میرا مطلب ہے ہماری بڑی بیٹی کا نام مبارک ہے اور میری ناقص عقل کے مطابق اگر زریاب بڑی ہے

تو اس کا مطلب ہے اس کے اور چھوٹے بہن بھائی بھی ہونگے تو لگے ہاتھوں ان کے ناموں سے بھی آگاہ کر دیں پلیز

وزیرآباد پہنچنے تک وہ بھی بتا دونگی اتنے اتاولے کیوں ہو رہے ہو

ایک بات تو بتاؤ یہ تمہاری گاڑی ہے یا

maternity home

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ہم لاہور سے چلے تھے تو میں بیس

اکیس برس کا نوخیز نوجوان تھا جس سے اس کے والدین کی بڑی امیدیں وابستہ تھیں پھر جانے کیا ہوا ایک دو گھنٹے کے بعد میں

ایک عدد بن بیاہی خوبصورت سی لڑکی کا شوہر اور چار پانچ چھ موٹے تازے بچوں کا باپ بن گیا تم بہت پڑھی لکھی ہو پودوں

اور جانوروں کے متعلق تو میری معلومات ہیں کہ وہ

hibernate

کرتے ہیں انسانوں میں بھی ایسا ہوتا ہے کیا

ہاں ہوتا ہے خاص کر تمہارے جیسے جانور نما انسانوں میں تو یہ وبا کی طرح عام ہے اور تم نے جواب نہیں دیا تمہارے فائنل

کے امتحانات اب زیادہ دور نہیں کوئی تیاری وغیرہ کر رہے ہو یا گرل فرینڈ کے ساتھ سیر سپاڑے کرتے رہتے ہو

کیوں اپنے جیسا فلرٹ سمجھا ہوا ہے مجھے تو تمہارے بواۓ فرینڈ کی حالت زار پر رحم آتا ہے بیچارہ جیسے ہی کلاس روم سے

باہر آتا ہے تم اسے چیل کی طرح جھپٹ لے جاتی ہو اور باقی کا سارا دن وہ تمہارے ساتھ لاہور کی سڑکیں ناپتا رہتا ہے شام کو تھکا ہارا واپس اپنے ہاسٹل کے کمرے میں آتا ہے اور پھر رات گئے تک اس کے کمرے کی بتی جل رہی ہوتی ہے

جیدی اے جیدی

جی بولیۓ

ایک مفت کا مشورہ دوں تمہیں چھوڑ کیوں نہیں دیتے ایسی لڑکی کو پیار کا ڈھونگ کرتی ہے وہ تمہارے ساتھ اگر اسے تھوڑا سا

بھی تمہارا خیال ہوتا تو اسے خود ہی سوچنا چاہیے تھا کہ اگر وہ سارا سارا دن ساۓ کیطرح اس کے ساتھ لگی رہتی ہے تو

وہ اپنی پڑھائی وغیرہ کب اور کس وقت کرے گا

کہتی تو تم ٹھیک ہو ایسا اچھا مشورہ تو ایک مخلص دوست ہی دے سکتا ہے میرا بھی یہی خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے

گرل فرینڈ سے پیچھا چھڑانے کا اور اگر وہ سچ مچ میرے ساتھ پیار کا ناٹک ہی کرتی رہی ہے تو اسے اس کی تھوڑی

سی سزا بھی ملنی چاہیے

سزا بھی دو گے اسے کیا تم بھی دکھاوے ہی کا پیار کرتے تھے اور پیچھا کیسے چھڑاؤ گے اس سے لگتا تو نہیں اتنی آسانی سے

تمہارا پنڈ چھوڑ دے گی اس طرح کی لڑکیاں تھوڑی

nutter

قسم کی ہوتی ہیں جان دینے اور لےنےنےنےنے خیر چھوڑو

اس بات کو لگتا ہے وقت آ گیا ہے کہ

بیٹھی ہےکیا بے خبر آ پہنچے ایام خزاں

آشیاں اب باغ سے اپنا اٹھاۓ عندلیب

اے یہ کونسا وقت ہے ایسا شعر پڑھنے کا خدا نہ کرے ہم دونوں میں سے کسی کا پیار آیک ڈھونگ یا دکھاوا ہو البتہ یہ گرل فرینڈ

سے پیچھا چھڑانے والی بات سچی تھی اور تم نے یہ بھی ٹھیک کہا کہ مرنے مارنے پر اتر آۓ گی چھوڑے گی نہیں مجھے اور میں

یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اپنی جان تو دے سکتی ہے مگر مجھے کچھ ہو یہ نہیں دیکھ سکتی

تم نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ گرل فرینڈ سے کیسے نجات حاصل کروگے

اس سے شادی کر کے اور کیسے اور مسز خان کو ایک سو ایک چلتر آتے ہیں ایسے لڑکیوں سے گلو خاصی حاصل کرنے کے

جیدی یہ ہنسانے اور رلانے والی باتیں ایک ہی وقت میں مت کیا کرو میں اتنے مضبوط اعصاب کی نہیں ہوں مجھے لگا تم

سچی میں مجھے چھوڑ دو گے

ہاں مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگا تھا مگر کیا کروں تمہارے پیار کو تو شائد چھوڑ دوں مگر اپنے پیار کو کبھی نہیں ‘ never ‘

وہ سرکہ بعد قتل کے قرآں کا ہو خطیب

وہ سرکہ باغ وحی خدا کا ہو عندلیب

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 59

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

ڈاکٹر زواگو

جیدی یہ بعض لوگ اتنے خود غرض کیوں ہوتے ہیں یا تو ان کی دور کی نظر اتنی کمزور ہوتی ہو گی کہ انھیں سواۓ اپنے

کوئی اور دکھائی ہی نہیں دیتا یا پھر ایسے ہی ہوتے ہیں میرا مطلب ہے پیدائشی خود غرض ارے بتاؤ نا میں کیا کہنا

چاہ رہی ہوں مجھے تمہاری طرح سے باتیں بنانا نہیں آتیں

آپ مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہیں یا یہ کہنا چاہتی ہیں کہ میں بہت باتونی ہوں

یہ کب کہا میں نے میں تو کہہ رہی تھی کہ تم زرا سقرات اور وہ دوسرا نام کیا تھا پتہ نہیں لوگ اپنے بچوں کے اتنے

مشکل مشکل نام کیوں رکھ دیتے ہیں ہاں یاد آیا

Hippocrates

تم زرا ان کی طرح سوچتے ہو

پہلے مجھے باتونی کہا اور اب منافق یہ کلمات میری مدح سرائی میں کہے جارہے ہیں یا میری ہجو لکھ رہی ہیں آپ

اوہ ہو تم سے تو بات کرنا بھی جوۓ شیر لانے کے برابر ہے بابا میں منافق والا

hypocrite

نہیں سقراط کے

دوسرے بھائی کی بات کر رہی تھی

بقراط اور یہ کیسے جانا آپ نے کہ وہ دونوں بھائی تھے

ارے ایسے ہی کہہ دیا تم بھی نا زبان ہی پکڑ کر بیٹھ جاتے ہو ایک سیدھا سا سوال پوچھنے کی غلطی کی تھی تم سے

خدا جانے بات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہو بیس سال کی بالی عمر میں آںجناب کا یہ حال ہے جب ماشاللہ چالیس

کے ہو گے تو تم سے کچھ پوچھنے سے پہلے مجھے منتیں نیازیں کرنی پڑیں گی زکات و صدقات کا انتظام کرنا پڑیگا پیسے اگر

کم ہوۓ تو شائد نفلی روزے ہی رکھ لیا کرونگی

تم نے بتایا نہیں یہ کس کی خودغرضی کی بات کر رہی تھیں اور اگر یہ سوال صرف میری زاتی راۓ جاننے کے لیے تھا

تو میرے خیال میں ہم سب تھوڑے بہت خودغرض تو ہوتے ہیں البتہ اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیۓ اگر کسی اور کے حقوق پر دست اندازی اور دست درازی شروع کر دیں تو

تو تو کچھ نہیں اور اس سے پہلے کہ تم میری بات کے جواب میں اسلامی تاریخ اور فلسفہ کا کوئی صفحہ کھول کر بیٹھ جاؤ میں

اپنا سوال واپس لے رہی ہوں ایک تو صبح سویرے مجھے گرم گرم بستر سے اٹھا کر خالی پیٹ سڑکوں پر لا کھڑا کیا اوپر

سےتمہارے درسی کتابوں کے بورنگ لیکچرز تمہاری عمر کے لڑکے کپڑوں لڑکیوں اور فلموں کی باتیں کرتے ہیں اور ایک

تم ہو کہ سواۓ کتابوں کے کسی چیز میں دلچسپی ہی نہیں تمہیں

سب جھوٹ اچھے خاصے کپڑے تو پہنتا ہوں ماڈلنگ کروانی ہے مجھ سے اور رہی لڑکیوں کی بات تو ایک دو کو تو تم نے

بھگا دیا اور باقی اتنی خوب صورت لڑکی کو میرے ساتھ دیکھ کر خود ہی میدان چھوڑ کر رفو چکر ہو گئیں اور کیا کہا تھا تم

نے ہاں فلمیں تو چلو گی میرے ساتھ اس اتوار کو الفلاح میں بڑی اچھی فلم لگی ہے

مجھے نہیں دیکھنی پنجابی ونجابی کی فلمیں زندگی میں ایک دفعہ دیکھی تھی آج تک کانوں سے سنسناہٹ کی آواز نہیں گئی

کون سے لاہور میں رہتی ہو تم الفلاح میں صرف انگریزی کی فلمیں دکھائی جاتی ہیں دیکھنی ہے تو بولو ٹکٹوں کی ریزرویشن

میں کل جا کر کرا آؤنگا فلم اچھی ہو تو بعض اوقات ٹکٹ بھی نہیں ملتے

فلم کونسی ہے ویسے تو مجھے پوچھنے کی ایسی کوئی خاص ضرورت نہیں کیونکہ تم زرا puritanical خیالات کے آدمی ہو

اور جو چیز تمہیں خود چلمن کے پیچھے سے بھی دیکھتے ہوۓ شرم لاحق ہو گی وہ بھلا مجھے کیوں دکھاؤ گے

یہ میرے moral code and values سے آپ کو خدا واسطے کا بیر کیوں ہے میں اتنا بھی رجعت یا قدامت

پسند آدمی نہیں ہوں اور معاف کیجۓ آپ بھی اتنی

bohemian

یا

non-conformist

نہیں جتنی آپ مجھےباور کرانے کی کوشش کرتی ہیں ورنہ ہم دونوں کے رستے کب کے علیحدہ ہو چکے ہوتے اور اب اس بات کاانکار یا اقرار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ جانتی ہیں میں سچ کہہ رہا ہوں اور ہاں فلم کا نام بتانے سے پہلے

آپ چونکہ لٹریچر کی طالب علم رہی ہیں اس لیے کیوں نہ آپکا ٹیسٹ لے لیا جاۓ میں آپکو مصنف کا نام بتاؤں گااور آپ کو اس کتاب کا نام بتانا ہو گا جس کے لئے وہ مشہور ہے بولیے تیار ہیں

ہاۓ رے میری قسمت اب ایک اور پاگل پن سوار ہو گیا ہے جی تیار ہوں

بورس پیسٹر نیک

ڈاکٹر زواگو ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا

جواب درست ہے اور یہ فرمائشی قسم کے قہقہے کیوں لگ رہے ہیں

نرے بدھو ہو تم یہ تھوڑی دیر پہلے گرما گرم چاۓ کیساتھ جو سینڈوچ تم کھا رہے تھے وہ جس اخبار میں لپٹے ہوۓ

تھے وہ اب بھی تمہارے پاؤں میں پڑا ہوا ہے اسے کھول کر پڑھو زرا سارا صفحہ فلمی اشتہاروں سے بھرا ہوا ہے

اور اگر تمہاری نزدیک کی نظر کمزور نہیں تو سب سے بڑا اشتہار خود بھی پڑھو اور مجھے بھی سنا دو مجھے بڑا اچھا لگتا

ہے جب تم مجھے کوئی چیز پڑھ کر سناتے ہو ہاہاہا

اے

that’s cheating

ہاں وہ تو ہے لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ

every thing is fair in love and war

فلم میں نے پہلے دیکھی ہوئی ہے

لیکن تمہارے ساتھ دیکھنے میں زیادہ مزا آۓ گا

it is a classic movie

مجھے یقین ہے تمہیں بھی بہت پسند

آۓ گی اور اب میری باری ہے

کس چیز کی باری ہم کوئی کھیل کھیل رہے تھے کیا

زیادہ بنو نہیں تمہیں بخوبی علم ہے میں کیا کہہ رہی ہوں ایک سوال تم نے کیا ایک میں کرونگی اور تمہاری طرح خالی خولی

نہیں ٹھیک جواب پر انعام بھی ملے گا تیار ہو

ہمیشہ لیکن انعام چیزوں کی شکل میں ہونا چاہیے

no hanky panky

ٹھیک ہے “ بورس پیسٹر نیک کی گرل فرینڈ جس سے

inspire

ہو کر فلم اور کتاب کی ہیروئن لارا کا کردار لکھا گیا

تھا اس کا نام کیا تھا

پہلے بتاؤ انعام میں کیا ملے گا پچھلی دفعہ کی طرح پھر نہیں کہہ دینا “ عندلیب”

میرے بغیر انعام کو لیکر کیا کروگے پھر بھی انعام وہ جو تم چاہو اور میں تمہارے جواب کی منتظر ہوں

اولگا

Olga

اور اب انعام کی رقم طے کر لیں

وہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے ایسے کیوں لگ رہا ہے جیسے تم نے یہ سب سوال جواب ایک منصوبے کےتحت کیا ہو

میں نے دیکھا ہے کہ تم ایک منجھے ہوئے شطرنج کے کھلاڑی کی طرح بساط سامنے رکھ کر اپنی ساری moves پلان

کرتے ہو اس لئے میرے ہر سوال کا جواب تمہارے پاس ہوتا ہے

مس عندلیب

you are a sore loser

خیر چھوڑو ان باتوں کو تو پھر یہ طے رہا ہملوگ اتوار کو سینما جا رہے ہیں

بالکل

it’s a date

اے مس انگلش میڈیم یہ لوگ

date

پر کیسے جاتے ہیں

کیوں اردو میڈیم تمہیں نہیں پتہ کیا

جانتا تو تم سے کیوں پوچھتا

please enlighten me

کیا کہا

enlighten

تمہارے تو چودہ طبق روشن ہو جائیں گے قریب آؤ زرا کان میں بتانے والی بات ہے ہاہاہا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 60

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

سرگوشیاں

جھوٹا فریبی ہرجائی کہتا تھا میں تمہارا سایہ ہوں تمہارے بغیر میرا اپنا کوئی وجود نہیں تم ہو تو میں ہوں سات

جنموں کے بعد تو تم ملی ہو تمہیں کھونے کا تو میں تصور بھی نہیں کر سکتا تم تو وہ دیا ہو جس سے میری روح

تک منور ہو جاتی ہے تو پھر مجھے کیوں اندھیاروں کے حوالے کر کے چلا گیا میں تو ایک ادھوری عورت ہوں

نہ جان ہے نہ جسم اور نہ ہی روح خود کیا گیا یہ سب کچھ بھی ساتھ لے گیا دو قدم تو ساتھ چل نہیں سکا

اور بات کئی جنموں کی کرتا تھا مجھے کہتا تھا کہاں تک چلو گی میرے ساتھ بیمار ہو تھک جاؤ گی میں کہتی میں بیمار ہوں تم تو نہیں اور میری رگ و پے میں تو تم سماۓ ہوۓ ہو میں میں نہیں تم ہو آبلہ پا ہوئی تب بھی چلوں گی مجھے تمہارے ساتھ چلنا ہی ہو گا میرے بغیر تو تم رستے میں ہی کہیں تھک ہار کر بیٹھ جاؤ گے کہتا تھا عندلیب تم چل نہیں سکتیں اور مجھے رستوں کی پہچان نہیں پر دونوں ملکر ایک نہ ایک دن زندگی کی اس طویل شاہراہ پر اپنی منزل کا سراغ پا ہی لیں گے بس میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھنا پر پہلے ہی دوراہے پر اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا کر ایک نئی راہ ایک نئی منزل ایک نئے

ساتھی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا جانے کیوں میرا دل نہیں مانتا میں نے اسے جھوٹا کہا جھوٹوں کے تو چہرے پر جھوٹ کا

اتنا بڑا لیبل لگا ہوتا ہے اور اس کا چہرہ تو چودویں کے چاند کی طرح روشن اور پر نور لگتا ہے میں نے اسے فریبی کہا

اسے تو شاید اس لفظ کے ہجے بھی نہ آتے ہوں میں نے اسے ہرجائی کہا ہاں ہرجائی تو وہ ہے لیکن ہرجائی والا ہرجائی نہیں وہ تو سب سے پیار کرتا ہے جہاں جاتا ہے گھر بنا لیتا ہے اسی لیے کبھی کبھی تو گھر آنا بھی بھول جاتا ہے پر وہ

ہے کہاں اسے یاد نہیں اس کے بغیر میں اس پرندے کی طرح ہوں جو کبھی اپنا گھر نہیں بناتا میرا تو گھربھی وہی ہے اور

گھر والا بھی آتے ہی امی سے پوچھے گا “ عندلیب نے وقت پہ دوائی کھائی کہ نہیں اور گھانا تو کبھی نہیں کھایا ہو گا امی

آگے سے کہیں گی جس سوال کا جواب تمہیں آتا ہے وہ پوچھتے ہی کیوں ہو تمہارے بغیر کھانا اس کے حلق سے نیچے ہی

نہیں اترے گا اور اس عمر میں میں نوالے بنا کر اس کے مونہہ میں ٹھونسنے سے تو رہی پہلے ہی سے اس کے ناز نخرے

کم تھے جو رہی سہی کسر تھی وہ تم نے پوری کر دی جاؤ تمہاری راہ دیکھ رہی ہے تم نوالہ بناکر جب تک اس مونہہ

میں نہیں ڈالو گے بھوکی بیٹھی رہے گی “ تو اب کیسے بھول گیا کہ میں بغیر اس کو دیکھے بغیر اس کے کھلاۓ کچھ کھا لونگی

تھوڑا بھلکڑ سا تو ہے لیکن میری کوئی چیز کبھی نہیں بھولتا اے جیدی مجھے بھوک لگی ہے کہاں ہے تو

عندلیب اے عندلیب میں یہاں ہوں تیرے پاس بھوک لگ رہی تھی تو کہا کیوں نہیں میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں

کھلا دیتا ڈرائیونگ کے لیے صرف ہاتھ چاہئیں مونہہ نہیں اور یہ اپنے آپ سے باتیں کر رہیں تھیں کیا

پتہ نہیں لگتا ہے کھلی آ نکھوں سے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہی تھی مجھے ایسے لگا تم مجھے چھوڑ کر چلے گیے ہو

کہاں چلا گیا ہوں اور وہ بھی چلتی گاڑی میں سے سپر مین ہوں میں کیا

مذاق مت اڑاؤ میرا میں پہلے ہی ڈری ہوئی سی بیٹھی ہوں اور یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے

اے مجھے کیوں الزام دے رہی ہو سپنوں کی دنیا تم سجا کر بیٹھی ہوتی ہو اور اگر کوئی غلط چیز دیکھ لو تو مجھے قصور

وار ٹھہراتی ہو یہ تو ناانصافی ہو گی

میں وہ بات نہیں کر رہی تم مجھ سے شادی کیوں نہیں کر لیتے تاکہ میرے سارے شکوک و شبہات ہی ختم

ہو جائیں میں جس چیز کے بارے میں سوچوں گی ہی نہیں تو مجھے بھلا اس کے خواب کیوں آئیں گے

تو کر لو کس نے تمہارے ہاتھ پاؤں باندھے ہوۓ ہیں “ کل کی کرتی آج اور آج کی کرتی اب “ جہاں جا رہے ہیں

وہاں میرے گھر کے سامنے مسجد ہے مولوی بھی مل جائیگا گواہان بھی اور اگر کہو گی تو ڈولی اور کہار بھی

سچ کہہ رہے ہو میں ڈولی میں بیٹھوں گی

نہیں ساتھ میں مجھے بھی بٹھا لینا سہرہ باندھ کر گھوڑے پر بیٹھنے کا مجھے کوئی ایسا شوق بھی نہیں

آپ کو ہمارے شادی بیاہ کے رسوم و رواج مضحکہ خیز لگتے ہیں آپ کی اطلاع کے لیے لڑکیاں تو ساری عمر ان کے

خواب دیکھتی ہیں تیل مہندی مایوں بٹھانا آرسی مصحف سات سہاگنیں اور پتہ نہیں کیا کیا

how romantic

کتنا مزہ آۓ گا نا جیدی پر میری تو کوئی سہیلی ہی نہیں ڈھولک پہ تھاپ کون دیگا اور پیروں میں مہندی

تم کچھ اوٹ پٹانگ قسم کی لڑکی ہو ابھی تو چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کی باتیں کر رہی تھیں اور اب مجھے سات

سہاگنوں کے لیے مقامی اخبار میں اشتہار دینا پڑیگا ۔ اے اگر تم سچ میں اپنے آپ کو اتنا غیر محفوظ سممھتی ہو

تو جب جہاں اور جس وقت تم شادی کے بندھن میں بندھناں چاہو میں تمہیں تیار ملونگا

میں جانتی ہوں اور چاہتی بھی ہوں مگر کر نہیں سکتی

اس لیے کہ تمہاری صحت اس چیز کی اجازت نہیں دیتی یا کوئی اور وجہ ہے اگر تو پہلی وجہ ہے تو نکاح کی رسم

ہو جانے دو رخصتی جب تم چاہو گی ہو جاۓ گی

مجھے پتہ ہے کہ تم ساری عمر میرا انتظار کر سکتے ہو اور کرو گے بھی لیکن میرے انکار کی وجہ میری بیماری نہیں بلکہ

تمہارا مستقبل ہے ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے کسی کی خود غرضی کی بات کر رہی تھی تو وہ کسی اور کی نہیں بلکہ اپنے

ہی بارے میں کہہ رہی تھی تمہارے فائنل کے امتحانات سر پہ کھڑے ہیں اور میں تمہیں دن رات اپنے پلو سے باندھے

رکھتی ہوں یہ سب کچھ آج سے بند ہم واپس آکر تمہارا ایک ٹائم ٹیبل تیار کریں گے اور تمہیں بڑی سختی سے

اس کو

follow

کرنا پڑیگا میرے لیے بہت مشکل تو ہو گا لیکن ہماری آئندہ زندگی کے لیے اس سے بہتر اور

کوئی حل نہیں

تو اگلے دو ماہ مجھے تمہاری شکل صرف خوابوں میں ہی نظر آۓ گی یہ مشکل نہیں ناممکن ہے کچھ اور سوچتے ہیں

اور کچھ نہیں میں نہ تو تمہیں کالے پانی بھیج رہی ہوں اور نہ ہی قید تنہائی ہمیں صرف اپنے

timings

تھوڑے

ایڈجسٹ کرنے ہونگے اور زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں یہ سب کل سے ہو گا اور آج تو آج ہے کل کس

نے دیکھا تم میرے قریب بیٹھے ہو بالکل قریب اور وہ سب باتیں ایک ہی سانس میں کہہ ڈالو جو کانوں سے

ہوتے ہوۓ دلوں میں اتر جاتی ہیں ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 61

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

صورت پھول یا حقیقت پھول

اے سپنوں کے سوداگر ہم وزیرآباد پہنچنے والے ہیں بولو کہاں جانا ہے مجھے اور شہر میں کونسے راستے سے داخل ہونا ہے

دریاۓ پلکھو کے اوپر جو ریلوے ٹریک ہے اس کے نیچے والی سڑک سے لیکن گاڑی اپنے گھر والے راستے کی بجاۓ دوسری

سڑک کی طرف موڑلینا اور پولیس اسٹیشن اور جامعہ مسجد کے عقبی دروازے کے پاس کہیں بھی گاڑی روک لینا سوال تو تم

نے ایسے پوچھا تھا جیسے لاہور کی طرح اس شہر کے بھی تیرہ دروازے ہوں

تمہاری طرح میں اس شہر میں نہ تو پیدا ہوئی ہوں اور نہ ہی پلی بڑی ہوں سیدھا سا سوال تھا اس میں جگت مارنے کی کیا

ضرورت تھی اور مجھے کیا پتہ پولیس اسٹیشن یا جامعہ مسجد کہاں پر ہیں میں کیا یہاں ٹیکسی یا رکشہ سروس چلاتی رہی ہوں

اور سنو زیادہ نخرے دکھاؤ گے تو ڈرائیونگ چھوڑ کر پیسنجر سیٹ پر جا کر بیٹھ جاؤں گی خود ہی دھکے دیتے ہوۓ گاڑی کو

جہاں بھی جانا چاہو لے جانا ایک تو نوابزادے کی چاکری کرو اوپر سے باتیں بھی سنو ہونہہ

ہاہاہا غصے میں تمہارا حسن دوبالا ہو جاتا ہے اور یوں چیں بچیں ہونے کی ضرورت نہیں میں یہاں تمہارے ساتھ تو بیٹھا ہوا ہوں

تم گاڑی چلاتی رہو میں تمہیں گائیڈ کرتا رہوں گا اور مجھے کیا پتہ تم کس شہر یا گاؤں کی رہنے والی ہو

میں اس شہر کی رہنے والی بھی ہوتی تو کیا فرق پڑتا تمہارے گھرکی عورتیں کیا کورٹ کچہری کرتی ہیں جو ان کو پولیس تھانوں کے

بارے میں علم ہوتا ہے اور رہی بات جامعہ مسجد کی تو عورتوں کے لئے یہ زیادہ افضل ہے کہ وہ گھر کی چار دیواری میں

نماز کا فرض ادا کریں اس لیے انکا مسجدوں کے محل وقوع کے بارے میں لا علم ہونا کوئی گناہ نہیں

ارے مولاناصاحب آج تو بڑے شعلہ بیان مقرر کی طرح تقریری موڈ میں لگتی ہو کبھی نماز شماز بھی پڑھتی ہو یا یونانی دیوی

دیوتاؤں کے سنگ

Mount Olympus

پر تخت بچھا کر بیٹھی رہتی ہو

پڑھتی ہوں نماز کیوں نہیں پڑھتی تمہیں دکھا کر پڑھا کروں یا آگے بٹھا کر کیونکہ تم میرے ناخدا ہو اور یوں میری

insult

کروگے تو راستے بھر بات نہیں کرونگی تم سے پھر چپ کا روزہ رکھ کے بیٹھے رہنا ہونہہ نماز نہیں پڑھتی خود تو جیسے بڑے

ملا دو پیازہ ہو نا آۓ ہیں بڑے حاجی لق لق دو لیکچر کیا ڈاکٹر اسرار احمد کے سن لیے اپنے آپ کو مجدد دین ہی سمجھنے لگے

امام الوقت ہو کیا

لاکھ لاکھ شکر ہے اللہ کا میں تو سمجھتا تھا کہ انگریزی میڈیم کی ہے

Greek mythology

میں مہارت رکھتی ہے

یونانی سانحہ پر

thesis

لکھی ہے اس سے شادی کرنے سے پہلے تو مجھے اسے مقدس پانی سے نہلانا ہو گا کلمہ حق پڑھاناہو گا تب کہیں جا کر بات بنے گی

جیدی میں سچی میں تم سے کلام نہیں کرونگی تم ابھی تک میرا مذاق اڑا رہے ہو تم سمجھتے ہو ہر انگریزی میڈیم میں تعلیم

حاصل کرنے والا دین اور مذہب سے بر گشتہ ہو جاتا ہے اور اپنی کہو تمہیں لگتا ہے کہ ہر اردو میڈیم ہاتھ میں تسبیح اور

بغل میں جا نماز لیکر چلتا ہے اور یہ میں تمہیں نہیں کہہ رہی ایک جنرل بات کر رہی ہوں

ارے آپ تو مرنے مارنے پر ہی تل گئیں دلیل تو آپ نے بڑی قاطع قسم کی دی میں تو آپ سے دل لگی کر رہا تھا لیکن

مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ کی مذہب سے جان پہچان صرف رسمی قسم کی نہیں

ارے میرے بھولے سیاں تمہیں کیا پتہ کہ میں نے یہ باتیں صرف تمہیں خوش کرنے کے لیے ہی کہی ہوں کیونکہ میں جانتی

ہوں کونسی چیزیں تمہارے مزاج کے موافق اور کیسی باتیں تمہارے مزاج کے خلاف ہیں اور میں نے پہلے بھی کئی دفعہ

تم سے کہا ہے کہ تمہاری خوشی مجھے ہر حال اور ہر قیمت پر منظور ہے تم مجھے اگر کہو گے کہ رات ہے تو میں کہوں گی

ہاں رات ہے اور اگر کہو گے کہ دن ہے تو میں کہوں گی کہ دن ہے اور اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی جیت میری ہے

کیونکہ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ میرا جیدی کبھی مجھے رات کو دن اور دن کو رات کہنے کے لیے نہیں کہے گا

بڑا مان ہے تمہیں مجھ پر

کچھ تو ہے پر یہ نہیں پتہ کہ کیا ہے امی کہتی ہیں میں کئی دفعہ کمرے میں کسی کام سے آتی ہوں تم دونوں آمنے سامنے بیٹھے

دنیا و مافیا سےبے خبر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانک رہے ہوتے ہو اور کمرے میں مکمل سکوت طاری ہوتا ہے

اور میں جیسے آتی ہوں ویسے ہی واپس چلی جاتی ہوں تم دونوں کیا

telepathic

ہو میں آگے سے کبھی جواب نہیں

دیتی کیونکہ میرے پاس اسکا کوئی جواب ہی نہیں تم زرا ملنگ ٹائپ ہو ہے تمہارے پاس امی کے سوال کا جواب

ان کے سوال کا جواب تو میرے پاس بھی نہیں لیکن یہی بات انہوں نے ایک دفعہ مجھے بھی کہی تھی

تو پھرتم نے کیا کہا آگے سے

کچھ نہیں بس یہی کہ آپ کمرے کی بات کرتی ہیں میں اور عندلیب تو ساری رات باتیں کرتے رہتے ہیں جبکہ وہ

اپنے بیڈ روم میں ہوتی ہے اور میں اپنے ہاسٹل کے کمرے میں ۔ میں اس سے جب جیسے اور جہاں چاہوں بات بھی کرسکتا

اسے دیکھ بھی سکتا ہوں اور چھو بھی سکتا ہوں انہوں نے خاموشی سے میری بات سنی اور چلی گئیں

کچھ کہا نہیں انہوں نے

کہا تھا “ ’آنچہ می بینم بہ بیداریست یا رب یا بخواب’ “

کیا مطلب

یہی کہ ‘ یا رب یہ سب جو میں دیکھ رہی ہو کیا حالت بیداری میں ہے یا اک خواب ‘

اے جیدی سچ کہہ رہے تھے کیا

کیا سچ کہہ رہا تھا

یہی کہ تم میری غیر موجودگی میں بھی مجھے دیکھ اور چھو سکتے ہو

تمہارا تو پتہ نہیں لیکن عندلیب کو دیکھنے اور چھونے کے لیے مجھے حواس خمسہ کی ضرورت نہ تھی اور نہ کبھی ہو گی

مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم مجھے چھونے کا پاگل پن بھی کر سکتے ہو تمہیں تو میری پر چھائیں سے بھی ڈر لگتا ہے

ہر وقت تو نہیں لیکن کبھی کبھی جب رات زیادہ تاریک اور لمبی لگنے لگے تو دل کو سمجھاتا ہوں کہ عندلیب ‘ محض صورت

پھول نہیں ہے بلکہ حقیقت پھول بھی ہے ‘ تو اپنا ہاتھ تمہارے ہاتھ پر رکھ دیتا ہوں

اے تم پاگل تو نہیں یا شائد ہم دونوں ہی ۔۔۔۔۔

جاری ہے

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

شہر زاد قسط نمبر 62

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

قربتیں اور فاصلے

جیدی ایک بات پوچھوں تم سے

جی پوچھیے اور یہ آپ کا آج کا آخری سوال ہوگا کیونکہ اس کے بعد ہم جس کام کے لئے گھر سے نکلے تھے اسے بھی پورا کرنا ہے

جتنا پیار میں تم سے کرتی ہوں تم کیا اس سے زیادہ پیار مجھ سے کرتے ہو

وہ کہتے ہیں ناکہ ‘ شنیدہ کے بود مانند دیدہ ‘ یعنی سنی ہوئی چیز دیکھی ہوئی چیز سے افضل نہیں ہو سکتی لیکن یہاں تو میں آپ کو

سن بھی رہا ہوں اور دیکھ بھی رہا ہوں سو لوگوں کی اس بات پر کیسے یقین نہ کروں کہ خوبصورت لڑکیاں اکثر عقل سے بالکل

عاری ہوتی ہیں یہ پیار کوئی ٹھوس قسم کی شے ہوتی تو اسے ترازو کے پلڑوں میں ڈال کر دیکھ لیتے کہ کس کا وزن زیادہ ہے لیکن

یہ سوال پوچھا کس

context

میں جا رہا ہے زرا اس پر بھی روشنی ڈال دیں

میں صرف اس لیے پوچھ رہی تھی کہ جب مجھے تم سے کہنا ہوتا ہے کہ جیدی تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو تو کوئی بڑے بڑے لفظ

ہی زہن میں نہیں آتے اور ایک تم ہو کہ میری آ نکھیں مانند غزال ناک ستواں ہونٹ رسیلے بال گیسو اور گال پتہ نہیں کیسے

آخر میں تمہاری طرٖح کی باتیں کیوں نہیں کہہ سکتی

یہ تو مجھے پتہ نہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک چیز پڑھی تھی تم بھی سن لو

حضرت موسے علیہ اسلام کا ایک وادی سے گذر ہوا تو انہوں دیکھا ایک چرواہا اپنی بھیڑیں چرا رہا ہے ان کے دیکھتے ہی دیکھتے

اس نے ایک بھیڑ کے بچے کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا اور اس سے کہنے لگا کہ اگر تو میرا خدا ہوتا تو میں تجھے نہلاتا دھلاتا تیرے

بالوں میں کنگھی کرتا تیری آنکھوں میں سرما لگاتا تجھے پیار کرتا حضرت موسے علیہ السلام نے اس چرواہے سے کہا یہ کیا اناپ

شناپ کہہ رہا ہے اسی وقت وحی کا نزول ہوا ‘ موسے چھوڑ دے اسے وہ ایک بھیڑیں چرانے والا ہے اور اسکے پیار کی انتہا وہی ہے جس کا مشاہدہ تو نے ابھی ابھی کیا ہے

‘ ‘ Exalted be thy name ‘

تو میرے کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ

ہم دونوں اس چیز کا مقابلہ تو نہیں کر رہے کہ کون بہتر طور اور طریقے پر اپنے پیار اور محبت کا اظہارکر سکتا ہے پھر تو کسی جاہل

گنوار اور ان پڑھ انسان کو محبت کرنے کا حق ہی نہ رہے میں تو صرف تمہاری آواز سنتا ہوں تم کیا کہتی ہو کیسے کہتی ہو یا کن

الفاظ میں کہتی ہو میں نا تو اسے کسی پیمانے سے جانچتا ہوں اور نہ ہی کسی ترازو میں تولتا ہوں تم جب کہتی ہو ‘ جیدی تم

مجھے بہت اچھے لگتے ہو ‘ تو اس سیدھے اور سادے سے فقرے کو دنیا کی کوئی زبان بھی اس سے زیادہ بہتر انداز میں نہیں

کہہ سکتی

جتنی تیزی سے تمہاری زبان چلتی ہے اتنے ہی تمہارے ہاتھ پاؤں چلتے تو میں اس بیماری میں بھی وہ نہ کرتی جو کر رہی ہوں

مجھے تمہارے سوال کی سمجھ آ جاۓ گی تو جواب بھی دے دونگا تم بغیر طلاع دیئے بات کا رخ کسی اور طرف کیوں موڑ

دیتی ہو اور یہ میرے ہاتھ اور پاؤں کی سستی سےتمہاری بیماری کا کیا تعلق

کتنی دفعہ تمہیں کہا ہے کہ جا کر گاڑی چلانا سیکھو اور تم ہو کہ تمہارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی میں تمہاری بیوی کم اور

ڈرائیور زیادہ ہوں کبھی کبھی تو میں اتنا تھک جاتی ہوں کہ مجھے تم پر غصہ آنے لگتا ہے چوبیس گھنٹے میرے پیار کا ڈھول

سارے زمانے میں پیٹتے رہتے ہو لیکن کرتے کیا ہومیرے لیۓ سواۓ ان چکنی چپڑی باتوں کے میرا سارا دن تمہیں ہاسٹل سے

لانے واپس چھوڑنے اپنی دوائیاں لانے آۓ دن مختلف قسم کے چیک اپس کے لیۓ یونائیٹڈ کرسچئین ہسپتال کے چکر اور

امی کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں گذر جاتا ہے اور رات سوسال کے بوڑھوں کی طرح کھانستی رہتی ہوں اور ٹیپ لگا کر

تمہاری باتیں سنتی رہتی ہوں

وہ سامنے بڑا سا گیٹ ہے دیکھ رہی ہو جہاں لکھا ہوا ہے ‘ جموں اور کشمیر کے مہاجرین کی سراۓ ‘ وہاں گاڑی روک لو

کیوں یہاں کیوں تمہیں تو ریلوے اسٹیشن کے پاس جانا تھا نا

ہاں اسٹیشن وہ سامنے ہے پہلے مجھے تم سے کچھ کہنا ہے ہاں اب بولو کیا کہہ رہی تھیں اور سنو یہ سب کچھ سارے کام جن

کا تم نے زمہ اٹھا رکھا ہے ایسا نہیں کہ میں انکو

appreciate

نہیں کرتا لیکن تم اتنی ضدی ہو کہ کسی کی کوئی بات سنتی

بھی تو نہیں میں اپنی کلاسز کے بعد یونیورسٹی بس یا رکشہ پکڑ کر بھی تمہارے گھر آ سکتا ہوں اپنے دوسرے چھوٹے موٹے کام

جیسے پہلے کرتا تھا اب بھی کر لونگا وہ سب بھی تمہیں منظور نہیں بولو کیا چاہتی ہو مجھ سے اور یہ تمہارے ریکارڈ کی سوئی میرے

ڈرائیونگ سیکھنے پر ہی کیوں اٹکی ہوئی ہے ادھر آؤ میرے کندھے کے ساتھ ٹیک لگا کر تھوڑی دیر کیلیۓ آرام کر لو پھر آگے

چلتے ہیں اور زیادہ اپنے زہن پر زور مت دو یہاں سے فارغ ہو لیں تو واپس جا کر ان شا اللہ کچھ سوچتے ہیں

اے جیدی مجھے تمہارے کام کر کے جتنی خوشی ہوتی ہے تم اسکا اندازہ بھی نہیں کر سکتے ایک تو مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں

پتہ نہیں کیا الٹی سیدھی ہانکتی رہتی ہوں ارے میں تمہیں یہ تو بتانا بھول ہی گئی کہ کل شاپنگ مال میں ایک پرانی دوست

سے ملاقات ہو گئی میری کلاس فیلو بھی تھی ایک زمانے میں ہماری کافی گاڑھی چھنتی تھی لیکن بیماری کے بعد میں نے ہر ایک

اور ہر چیز سے ناطہ توڑ لیا تھا ۔ ہم لوگ دیر تک کافی ہاؤس میں بیٹھی پرانی یادیں تازہ کرتی رہیں میں نے تمہارا زکر بھی

کیا تھا اس سے کہنے لگی کیسا ہے

پھر تم نے کیا کہا ضرور کوئی جھوٹ بولا ہو گا جیسے

he is tall dark and handsome

جھوٹ کیوں کہتی سو میں نے کہہ دیا

he is short pug nosed and ugly

مجھے یقین ہے اس نے سن کر یہی کہا ہو گا ‘ تو یوں کہو جیسی خود ہو ویسا ہی لڑکا بھی تلاش کر لیا ‘ ‘ اللہ نے ملائی جوڑی

ایک اندھا اور ایک کوڑھی ‘ ہاہاہا

ہاہاہا

very funny

ہم دونوں نے ایسا کچھ نہیں کہا ہاں میں نے بس اتنا کہا تھا کہ تھوڑا

conservative

سا ہے آگے

سے بولی ‘ تمہارا مطلب ہے مولانا ٹائپ ان لوگوں کی بھی خوب کہی شادی سے پہلے پاس آتے نہیں اور شادی کے بعد پاس

سے جاتے نہیں بڑے

possessive اور jealous

ہوتے ہیں تمہیں کالج اور جونیورسٹی کی بجاۓ کسی مدرسے وغیرہ

میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے تھی چلو تمہاری شادی میں تحفہ دینے کے لیۓ کچھ زیادہ سوچنا نہیں پڑیگا ایک آدھ جلباب لے

دونگی تمہیں ‘

بھلا ایسا کیوں کہا اس نے

ارے بابا جس نے کہا اس سے پوچھنا چاہئیے تھا نا کہ کیوں کہا مجھے کیا الہام ہوا ہے جو جانوں کس perspective میٖں

آپ کی دوست نے یہ زہر اگلا ہے پہلے تو یہی غلط ہے کہ شادی سے پہلے پاس آتے نہیں اور تم میرے کندھوں سے ٹیک لگا

کر مزے سے لیٹی ہوئی ہو اور رہی شادی سے بعد کی بات تو یہ کچھ غیر منطقی سی بات نہیں لگتی تمہیں شادی بیاہ تو لوگ

قربتوں کے لیے کرتے ہیں فاصلوں کے لیۓ نہیں ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 63

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

اپنے ہی شہر میں اجنبی

اب آگے جانے کا ارادہ ہے یا یہ تمہاری مونہہ بولی کھٹارا یہاں مہمان سراۓ کے پاس ہی کھڑی رہے گی

کیوں میرے ساتھ بیٹھے بیٹھے تھک گئی ہو کیا

نہیں اگرکچھ کرنا نہیں صرف بیٹھ کر باتیں ہی کرنی ہیں تو کیوں نا کوئی بہتر

romantic venue

تلاش کریں یہاں تو لگتا ہے کہ

دو دیواروں کے بیچ میں کھڑے ہیں

تمہیں کوئی بہتر لوکیشن معلوم ہو تو وہاں چلے جاتے ہیں

ہاں ہے نا کیوں نہیں دریاۓ پلکھو ideal for sun sand and skinny dipping ہاہاہا

ہاہاہا بڑھاپے میں بچپن کی یاد آ رہی ہے جو برہنہ بدن نہانے کا شوق چرایا ہے

بوڑھے ہو گے تم یا تمہاری کوئی ہوتی سوتی روح تو تمہاری ہزاروں سال پرانی ہے ہی جسم بھی کیا ایسا ہی ہے

میری ہوتی سوتی تو تم ہی ہو اور اگر میں ہزار سال کا ہوں تو تم مجھ سے تین سال بڑی ہو ابھی تھوڑی دیر پہلے کہہ رہی تھیں

جیدی مجھے پیار محبت کی باتیں کرنی نہیں آتیں اس طرح کی باتوں میں تو تمہارا دماغ شیطان کی خالہ سے بھی زیادہ تیز چلتا ہے

اور ویسے بھی وہ عام لوگوں کی گذرگاہ ہے کوئی آپکا

private beach نہیں جہاں آپ اپنی modesty

کو خیر باد کہہ کر

جنت کے باغوں کی طرح کپڑوں کی قید سے آزاد ہو کر دندناتی پھریں گی

اگر تمہارا خیال نہ ہوتا تو یہ بھی کر گذرتی لیکن پھر تم کیا کروگے

like an ostrich bury your head in the sand

یہ تمہارا شہر ہے مجھے تو لوگ زیادہ سے زیادہ یہی کہیں گے ‘ چھوڑو کوئی پگلی ہے دیوانگی کا دورہ پڑا ہو گا ‘ اور بس

اور میں میری نگاہوں کے سامنے یہ سب کچھ کرتے ہوۓ تمہاری نسوانیت تم پر غالب نہیں آ جاۓ گی

نہیں تم سے کیسی لجا کونسی حیا کیسی شرم ازل سے تمہاری تھی ابد تک تمہاری ہی رہونگی اور ویسے بھی تم میری طرف دیکھتے

ہی کب ہو اور کبھی بھولے سے دیکھ بھی لو تو ایسا گمان ہوتا ہے جیسے کوئی اجنبی ہو یا ملائک جذبات سے بالکل عاری

ایسے کیوں کہہ رہی ہو ہاں جب تم ایسی ویسی باتیں کرتی ہو تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیا اور کیسے جواب دوں کئی دفعہ دل میں

آتا ہے کہ تم سے کہوں ‘ دیکھو ایسی باتیں مت کیا کرو ورنہ میری اک نگاہ غلط سے تم اس طرح پگھل جاؤ گی جیسے موم کی گڑیا ہوتی ہے ‘ لیکن کہہ نہیں پاتا اور ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہوں شائد اس وقت اس لمہے میرا چہرہ خالی خالی سا لگتا ہو گا ورنہ

تم بھی اگر میرے لیے اجنبی ہو تو پھر میں اس بھری دنیا میں جانتا کسے ہوں ۔ یہ اپنا

skinny dipping

کا شوق گھر جا کر

باتھ ٹب میں پورا کر لینا البتہ

sun and sand

کے لیے پلکھو کنارے چلے چلتے ہیں وہاں بیٹھ کر اگر تمہارا دل چاہےتو

sand castles

بناتی رہنا میں کوشش کرونگاکہ تمہارے یہ ریت کے گھروندے اور خوابوں کے محل وقت اور حالات کے سیل رواں میں کہیں بہہ نہ جائیں

یہ تمہارے لہجے میں ایسی مایوسی اور اداسی کیوں جھلک رہی ہے سنو تمہارے ساتھ مل کر بنا ہوا ہر گھر چاہے اس کے

در و دیوار مٹی اور گارے ہی کے کیوں نہ ہوں ہمیشہ سلامت رہیں گے میں قد میں تم سے لمبی ہوں اس لیے چھت کو میں

سنبھال لونگی اور دیواریں تم مضبوطی سے تھامے رکھنا تو ہمارے پیار کا یہ تاج محل ہمیشہ کھڑا رہے گا

جی سن لیں اپ کی باتیں اب گاڑی سٹارٹ کریں اور وہ جہاں آپ کو مسجد کے مینار نظر آ رہے ہیں وہاں ان کے نیچے

جہاں بھی جگہہ ملے گاڑی کھڑی کر دیں دو ڈھائی گھنٹے کا سفر تھا ایسے لگ رہا جیسے tears and laughter کا سمندر

پار کر کے آ رہے ہوں ۔ ٹھیک ہے یہاں دیوار کے ساتھ گاڑی پارک کر دو اور سنو زینب کا تو تم جانتی ہی ہو وہ کسی

وقت کہیں بھی ہو سکتی ہے اس لیے تم یہاں گاڑی میں بیٹھ کر

crossword puzzle

کرو میں تب تک اسٹیشن کےاندر جا کر دیکھتا ہوں مل گئی تو ٹھیک ہے ورنہ جہاں رات وغیرہ بسر کرتی ہے وہاں جا کر دیکھنا ہو گا

ٹھیک ہے اور جہاں اور جس کام سے جا رہے ہو وہی کرنا وہ نہ ہو کہ راستے میں لوگوں سے علیک سلیک شروع کر دو

وہ تو اسی صورت میں ممکن ہے کہ میں چہرے پر کسی قسم کا نقاب یا ماسک پہن لوں ورنہ اگر کوئی جان پہچان والا مل

گیا تو پھر کچھ کہہ نہیں سکتا

والے کی تو خیر ہے کوئی پہچان والی نہ ڈھونڈ لینا اور نکلو اب جلدی سے جاؤ اور جلدی سے واپس آؤ ورنہ یہیں چھوڑ کر

رفو چکر ہو جاؤں گی ۔۔۔۔۔ اے کیا ہوا آدھ رستے سے ہی واپس آ رہے ہو ہمیشہ کی طرح کچھ بھول گئے کیا

نہیں زینب وہاں پر نہیں ہے ساری جگہہ خالی پڑی ہے اسکے گھر میرا مطلب ہے جہاں وہ رہتی ہے وہاں جانا پڑیگا

ادھرادھر دوکانوں والوں سے پوچھ گچھ کر لیتے شائد

شائد کیا تم بھی نا بعض وقت بے تکی باتیں کرتی ہو لوگوں سے کیا جا کر پوچھوں کیا کہوں ان سے کہ وہ عورت جو

اسٹیشن کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر سارا دن بھیک مانگتی ہے اس وقت وہ کہاں مل سکتی ہے وہ سب تو یہی سمجھیں گے نا

کہ یا تو میرا دماغ چل گیا ہے یا پتہ نہیں کیا

تو اب کیا کرنا ہے کتنی دور ہے وہ جگہہ جہاں زینب رہتی ہے اور گاڑی کا رخ کس طرف موڑوں

جگہہ تو دور نہیں مسجدکے پیچھے جو گلی ہے وہیں رہتی ہے تم ہمارا گھر تو دیکھ چکی ہو وہاں سے مشکل سے دو منٹ

کی دوری پر ہے

تو پھر سوچ کیا رہے ہو گاڑی کو ادھر ہی چھوڑ جاتے ہیں سامنے پولیس سٹیشن ہے گاڑی بھی محفوظ جگہہ پر کھڑی ہے

تھوڑی سی پیدل مارچ کر لیتے ہیں صبح سے بیٹھے ہوۓ تھے تھوڑی ٹانگیں بھی سیدھی کر لیں گے اے کیا بات ہے

کوئی پرابلم ہے تو بولو اوہ سمجھی میرے ساتھ نہیں جانا چاہتے تو ٹھیک ہے میں جتنی دیر تک تم اپنے کاموں سے فارغ

نہیں ہو جاتے اخبار وغیرہ دیکھتی رہونگی میری فکر مت کرو

نہیں گاڑی لاک کرو تم میرے ساتھ چل رہی ہو میں تمہیں اکیلا یوں چھوڑ کر نہیں جا سکتا کوئی دیکھتا ہے تو دیکھتا رہے

لوگ کیا کہیں گے اس سے بچنے کے لیے میں تمہیں کسی ناواقف جگہہ پر چھوڑ جاؤں کیوں ویسے بھی مجھے جاننے والے

لوگ اس شہر میں اب کم ہی رہ گیے ہیں چھٹیوں میں کبھی کبھار چند دنوں کیلیے یہاں آتا ہوں اور بس کچھ عجیب سا

لگتا ہے یہ کہتے ہوۓ کہ میں اپنے ہی شہر میں ایک اجنبی کی طرح کھڑا ہوں ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 64

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

ہیلن آف ٹراۓ

گاڑی تو لاک ہے نا دوبارا چیک کر لو

ہاں لاک ہے اور یہ بیگ اٹھا لو اس میں تھوڑے سینڈوچز پڑے ہوۓ ہیں

یہ کیوں وہاں چاۓ پینے جا رہی ہو کیا

ہاں چاۓ پینے جا رہی جو کہا ہے کرو سوال جواب کا وقت نہیں میرے پاس اور اب خاموشی سے میرے ساتھ ساتھ چلے

آؤ ہاتھ پکڑ لوں تمہارا

اگر تم چاہو تو

چاہتی ہوں اسی لیے پوچھا ہے مجھے اچھا لگے گا اور زرا تمہارے محلے کی لڑکیوں کو بھی تو پتہ چلے you are already spoken for مجھے پہلے پتہ ہوتا کہ مجھے یوں تمہارے محلے سے گذر کر زینب کے پاس جانا ہو گا تو میں زرا تیار ہو کر آتی

کیوں یہ محلہ ہے یا زنان مصرکا بازار جہاں سے یوسف ثانی زلیخا کے ساتھ گذرنے والے ہیں

نہیں لیکن میں پھر بھی ہیلن آف ٹراۓ

the face that launched a thousand ships

کی طرح لگناچاہتی تھی زرا لوگوں کو بھی تو پتہ لے مسٹر خان کی ہونے والی بیوی ایک شہزادی لگتی ہے اس لباس میں تو ایسے

لگتا ہے جیسے ابھی ابھی سو کر اٹھی ہوں یہ سب تمہارے کام ہیں بس مونہہ اٹھایا اور چل دیئے

تمہیں کہیں بھی بن ٹھن اور سنور کے جانے کی ضرورت نہیں تم ہر وقت اور ہرلباس میں شہزادی ہی لگتی ہو اور ویسے

بھی میں زرا وہمی قسم کا آدمی ہوں بہت زیادہ خوب صورت لگو گی تو کسی بری نظر والے یا والی کی نظر لگ جاۓ گی

اور پھر میں تمہاری کیا ہر وقت نظر ہی اتارتا رہونگا

اس کی کیا ضرورت ہے تم ہو نا میرے ساتھ “ نظروٹو “ ہاہاہا

لو پہنچ گیے ہم اپنی منزل پہ تمہاری باتوں میں راستہ کب کٹ گیا پتہ ہی نہیں چلا تم زرا یہاں سیڑھیوں کے پاس رکو میں

اندر جا کر دیکھتا ہوں دعا کرو یہیں پر مل جاۓ ورنہ ہم کہاں اسے ڈھونڈتے پھریں گے

اندر آ جاؤ تم کہیں راستہ بھول کر تو ادھر نہیں آ نکلے

زینب بی میرے ساتھ ایک مہمان بھی ہے

ساتھ لیکر آۓ ہو تو اب کیا اسے گلی میں اکیلا چھوڑ دو گے لے آؤ اسے بھی

کہاں ہیں آپ اندھیرا بہت ہے کچھ دکھائی نہیں دے رہا

روشنی سے ایکدم اندھیرے میں آۓ ہو اس لیے اور میں ابھی تک وہیں ہوں جہاں تم چھوڑ کر گئے تھے اپنی مہمان کا

رسمی تعارف ہی کرا دیتے خیر میں خود ہی اس سے بات کر لیتی ہوں

جی سلام وعلیکم میں

میں جانتی ہوں تم کون ہو جاوید نے زکر کیا تھا تمہارا یہاں میرے پاس تمہیں بٹھانے کے لیے کوئی کرسی وغیرہ تو ہے نہیں

اس لئے جہاں جی میں آۓ بیٹھ جاؤ اور اگر کھڑا رہنا چاہو تو بھی تمہاری مرضی اور یہ بھی بتا دو کہ کس نام سے بلاؤں تمہیں

وہ نام جو تمہارے ماں باپ نے تمہیں دیاہے یا وہ نام جو اس کا دیا ہوا تحفہ ہے

جو آپ کے دل میں آۓ کہہ کر آواز دی لیجئے آپ ناراض تو نہیں مجھ سے بن بلاۓ آ گئی ہوں نا جاوید تو کہتا تھا

اس کی چھوڑو وہ تو سانس بھی زور سے نہیں لیتا کہ اس کی گرمی سے لوگوں کو کہیں بخار نہ آ جاۓ

آپ کہتی ہیں تو مانے لیتی ہوں ورنہ جو کچھ اس نے کہنا اور کرنا ہوتا ہے وہ کہے اور کئے بغیر پیچھے نہیں ہٹتا میں تو ہمیشہ

کہتی ہوں “ جیدی تیرے ایک ہاتھ میں شاعر کا قلم اور دوسرے میں جراح کا نشتر ہوتا ہے ایک دل میں اتر جاتا ہے اور دوسرا دل کو چیرتا ہوا نکل جاتا ہے “

یہ آپ لوگ میرے بارے میں ہی باتیں کرتی رہیں گی تو مجھ سے بات کون کرے گا

گھر سے ہو کر آۓ ہو یا سیدھا یہیں چلے آ رہے ہو

جی نہیں پہلے ریلوے سٹیشن گیا تھا آپ کو دیکھنے آپ ملی نہیں گاڑی وہیں تھانے کے قریب چھوڑ کر سیدھا آپ کے پاس

چلے آۓ یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ عندلیب کو بنا آپکی آجازت آپ سے ملوانے لے آیا ہوں نجانے آپکا ردعمل کیا ہوگا اس لئے

گھر جانے کے بارے میں سوچنے کی مہلت ہی نہیں ملی

تو اب سوچ لو ویسے یہ تمہاری پرانی عادت ہے کام پہلے کرتے ہو اور اس کے نتائج کے بارے میں بعد میں اور میری مانو تو

پہلے گھر کا رخ کرو سوچ بعد میں لینا اتنی دیر میں میں اور بہو رانی

girls talk

کر لیں گتو یوں کہئے آپ مجھے گھر بھیج نہیں یہاں سے بھگا رہی ہیں تا کہ میدان آپ دونوں کے لئے صاف ہو جاۓ

یونہی سمجھ لو جاؤ اب باتوں میں وقت مت ضائع کرو تم لوگوں کو واپس بھی جانا ہے

جی ٹھیک ہے ملتا ہوں تھوڑی دیر میں خدا حافظ

بی بی آپ نے مجھے بہو رانی کہا

اور کیا کہتی مجھے دنیا کو چھوڑے ہوۓ اتنا عرصہ ہو چکا ہے کہ شائد میں

social etiquette

سے بیگانہ ہو چکی ہوں اگرتمہیں برا لگا ہو تو معاف کر دینا کچھ سخت سست کہنا چاہو تو بھی کوئی بات نہیں میں ایک بھکارن ہی تو ہوں یہ لڑکا مجھے

اپنی ماں کی طرح مانتا ہے اس لئے

ارے ارے یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں اس رشتے سے چونکہ میرے کان مانوس نہیں اس لئے اور پھر میں آپ سے دوبارا

یہ الفاظ سننا چاہتی تھی کیونکہ میرے کانوں بلکہ دل و دماغ میں ابھی تک گھنٹیاں بج رہی ہیں

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 65

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

زینب عندلیب دو عورتیں دو کہانیاں

میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ڈرتی ہوں کہ اگر آپ کو اچھا نہ لگا تو

تم بھی عجیب لڑکی ہو مجھ سے ڈرتی ہو لوگوں کے حقارت سے پھینکے ہوۓ پیسے اٹھانے والی ایک بے سہارا جس کے نہ تو

سر پر آسمان کی چھت ہے اور نہ ہی پاؤں کے نیچے زمین کا فرش جو بھی کہنا چاہتی ہو اور جیسے بھی کہنا چاہتی ہو پوری

آزادی سے کہو مجھے تو یہ بھی یاد نہیں کہ آخری بار میں نے یہ پورا فقرا کب کہا تھا کہ “ مجھے یہ پسند نہیں یا مجھے یہ اچھا

نہیں لگتا “ Why don’t you understand I am a pariah an untouchable زمانے کی ایک ٹھکرائی

دھتکاری ہوئی عورت پوچھو جو پوچھنا چاہتی ہو

ایسا کیوں سوچتی ہیں میں آپ کی اتنی عزت کرتی ہوں اور جاوید

he thinks the world of you

وہ تو آپسے اتنا پیار کرتا ہے کہ مجھ سے بھی آپ کے لئے لڑنے کےلئے تیار ہو جاتا ہے میں تو صرف یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ

اب سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے کہوں اور اگر جاوید کو پتہ چل گیا کہ میں نے آپ سے یہ کہا تھا تو وہ الٹا ناراض ہو گا

اب کہہ بھی چکو اسے الہام نہیں ہوتا اور خاطر جمع رکھو میں اس سے کچھ نہیں کہونگی

امی اور میں لاہور اتنے بڑے گھر میں اکیلی رہتی ہیں آپ کیوں نہیں میرے ساتھ چلی چلتیں امی کو بھی بہت اچھا

لگے گا اور مجھے یقین ہے کہ جاوید کو تو ازحد خوشی ہو گی

نہیں کبھی نہیں میں اپنی بد نصیبی کا سایہ بھی تم پر پڑنے نہیں دونگی ۔ بڑے گھر میں رہنا چاہتی تو اپنے ہی گھر کو خیر باد کیوں کہہ

دیتی چادر اور چار دیواری اگر مجھے راس آئی ہوتی تو یوں سڑکوں پہ ماری ماری نہ پھر رہی ہوتی چھوڑو کوئی اور بات کرو

لیکن آخر کیوں

اور میں اگر کہوں کہ آخر کیوں نہیں جس دنیا میں تم لوگ رہتے ہو میں اسے بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں میرے قدموں کے

نشان وقت کی آندھیوں نے مٹا دیئے ہیں میں ان عورتوں میں سے ہوں جو سہاگن بننے سےپہلے ہی ابھاگن بن جاتی ہیں جن کی نہ تو ڈولیاں اٹھتی ہیں اور نہ ہی جنازے جاوید نے ایک دفعہ کہا تھا

بی بی بعض لوگوں کی قسمت کاتب تقدیر قلم سے نہیں چوانتے سے لکھتا ہے میں نے کہا یہ کونسی زبان ہے کچھ عجیب سا لفظ ہے میرے کان اس سے نا آشنا ہیں کہنے لگا میں مانسہرہ ڈسٹرکٹ کا رہنے والا ہوں وہاں ہندکو زبان بولی جاتی ہے چوانتے کا مطلب ہے “ جلتی ہوئی لکڑی “

مجھے ایسے لگا جیسے وہ میری بات کر رہا ہو جیسے جیسے میری تقدیر لکھی جا رہی تھی ویسے ویسے آگ اسے جلاتی جا رہی تھی اور

آخر میں وہاں پر جلی ہوئی راکھ کے سواکچھ نہیں بچا تھا اور تم مجھے دوبارا بسانے کا خواب دیکھ رہی ہو کہا نا چھوڑ دو

اس قصے کو میں تو خالی صفحوں کی ایک کتاب ہوں اور اب تو وہ کتاب بھی ورق ورق ہو کر گلیوں بازاروں اور گندی نالیوں

میں پڑی ہوئی ہے مجھے اکٹھا کرنے کی کوشش کروگی تو اپنا دامن بھی داغدار کر لو گی کچھ اپنی کہو تمہاری صحت کیسی ہے اب

جی پہلے سے کافی بہتر ہے کبھی تو آخری گھڑیاں گننے لگتی ہوں اور کبھی آنے والے پچاس سالوں کے پروگرام بنانا شروع

کر دیتی ہوں جیدی ساتھ ہوتا ہے تو لگتا ہے ہزار سال جیئوں گی اور نہیں ہوتا تو دوسراسانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے

جیدی کہہ کر بلاتی ہو اسے

ہاں مجھے اچھا لگتا ہے اسے جیدی کہنا

اور جاوید وہ کیا کہتا ہے تمہیں

ایک نام ہو تو بتاؤں کئی نام رکھ چھوڑے ہیں اس نے میرے ہر دن اک نیا نام نئی پہچان میں تو صرف اس کی آواز سنتی ہوں

اور آگے سی جی کہہ دیتی ہوں پوچھتی ہوں تو کہتا ہے

we share a muse-artist dynamic

جسے ثبات نہیں ہزاروںرنگ اور شکلیں ہیں اس کی تم میری پریرتا میرا

inspiration

ہو یونانی دیو مالا میں فن کی نو دیویاں ہیں اور میں تو ابھی دو تک پہنچا ہوں جب باقی سات ختم ہو جائیں گے تو پھر سوچوں گا کہ تمہیں کیا نام دوں میرے ہر سوال کا جواب ہوتا ہے اس

کے پاس چور کہیں کا یونیورسٹی لائبریری سے میرے

thesis

کی نقل کرا کر لے آیا تھا اس میں سے پڑھ پڑھکر مجھے پر اپنی علمیت کا رعب ڈالتا رہتا ہے

بہت پیار کرتا ہے تم سے

ہاں بہت لیکن پیار تو وہ سبھی سے کرتا ہے

Casanova

کہیں کا ہر ایک سے فلرٹ کرتا ہے اور اس کے لئے عمر کی بھی

کوئی قید نہیں

everyone and anything in skirt

ہر ایک سے ایسے ملتا ہے جیسے انھیں برسوں سے جانتا ہو آپ

جانتی نہیں ہیں اسے

he is such a charmer

جانتی ہوں دل لگی تو کرتا ہے پر دل لگاتا نہیں پہلی دفعہ مجھے ملا تو کہنے لگا آپ کی آنکھیں بہت خوب صورت اورجھیل کی

طرح گہری ہیں میں وقت حالات اور لوگوں کی ڈرائی اور ستائی ہوئی عورت ہوں ایک دم سے زرا چونک گئی مگر جب میں نے

اس کے چہرے پر پنظر ڈالی تو وہ مجھے اتنا بھلا اور معصوم سا لگا کہ میں نے بے اختیار اسے اپنے گلے سے لگا لیا اور اس کی

پیشانی کو چوم لیا زمانے نے تو مجھے ماں بننے کی نعمت سے محروم کر دیا لیکن اس ایک لمہے کے بعد میں نے کبھی اپنے آپ کو

بے اولاد نہیں سمجھا میں جب بھی اسے اپنے سینے سے لگاتی ہوں تو میری چھاتیوں کے سوتے جاگ اٹھتے ہیں دودھ سے بوجھل ہو جاتا ہے میرا سینہ اور مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میری گود کبھی خالی تھی ہی نہیں

جاری ہے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

شہر زاد قسط نمبر 66

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Welcome to motherhood

رکو گے ایک آدھ دن یا آج ہی واپسی کا ارادہ ہے

مجھے تو آدھی سوئی ہوئی کو اٹھا کر لایا ہے اس لئے کچھ پتہ نہیں کہتا تھا زینب بی بی کو ملنے جا رہاہوں لگتا تو نہیں یہاں

دیر تک رکے گا یونیورسٹی بھی جانا ہو گا روز روز کلاسز

bunk

کر کے ادھر ادھر تو نہیں پھرسکتا تم چھوٹے بچوں کی طرح اس کی ہر چیز کا خیال رکھتی ہو

خاصہ لا پرواہ ہے ہر چیز اسے بتانی پڑتی ہے ورنہ سارا دن بیٹھا کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا ہے کھانا پینا تک یاد نہیں رہتا اسے

نوالے تک توڑ کر ڈالتی ہوں اس کے مونہہ میں

میں نے تو سنا ہے تم چھوٹے بچوں کی طرح ضد کر کے اس کے ہاتھ سے کھاتی ہو

اس نے بتایا آپکو آ لینے دو اسے وہ خبر لونگی کہ یاد رکھے گا چغل خور کہیں کا ویسے آپس کی بات ہے مجھے اس کے ہاتھ سے کھانا

اچھا لگتا ہے اور آپ کو ایک راز کی بات بتاؤں دیکھنے والوں کو وہ جیدی کے ہاتھ لگتے ہونگے مجھے تو وہ اپنے ہی لگتے ہیں آپ

نے سنا یا پڑھا ہو گا “ ایک آدمی اپنے محبوب سے ملنے گیا دیکھا تو گھرکا دروازہ بند تھا اس نے دروازے پر دستک دی اندر سے

آواز آئی کون ہے اس نے کہا میں ہوں جواب آیا غلط جگہہ پر آئے ہو یہ آدمی واپس چلا گیا سات سال کی ریاضت عبادت اور

مجاہدے کے بعد واپس آیا پھر دستک دی پھر وہی سوال دہرایا گیا کون ہے اس نے کہا “ تم “ آواز آئی دروازہ کھلا ہے چلے آؤ

اچھی جوڑی ہےماشااللہ تم دونوں کی جاوید کو بھی زمانے بھر کے قصے کہانیاں یاد ہیں

یہ قصہ بھی اسی کا سنایا ہوا ہے میں نے اس طرح کی پیروں فقیروں اور درویشوں کی حکایات کبھی نہیں پڑھیں

بڑا عجیب لڑکا ہے کبھی سوال نہیں کرتا پھر بھی سب کچھ پوچھ لیتا ہے ایک دن مجھ سے کہنے لگا گئے دنوں کی یاد تو

آتی ہو گی میں نے اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں کوئی سوالیہ نشان بھی نہیں تھا اس کے باوجود میں برسوں کی پیاسی ندی

ساگر سے ملنے کے لئے بند توڑ کر باہر نکل آئی آ نکھوں کے سوتے تھے کہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے چپکے سے

بیٹھا رہا دلاسہ بھی نہیں دیا گلے سے بھی نہیں لگایا میں کہتی رہی یہ سنتا رہا خونچکاں ہچکیاں آہیں آنسو اور میری کہانی میں نے کہا

رومال ہی دے دیتے کہنے لگا میرا رومال آپ کے آنسؤں کے بوجھ کا متحمل نہیں ہو سکتا ان کا آپ کے گالوں پر بہنا اور خشک

ہونا ہی بہتر ہے برسوں کی خشک سالی کے بعد برکھا کا پہلا چھینٹا اس قطرے کی طرح ہوتا ہے جو سیپ میں جاتے ہی موتی

بن جاتا ہے اتنی انمول چیز آپ مجھے دے دینا چاہتی ہیں اور وہ بھی بنا مول کے عندلیب کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ میں

اپنے سارے دکھ درد بھول کر صرف اس کی باتیں سنتی ہوں اور سچ تو یہ بھی ہے کہ مجھے اسکی اکثر باتوں کی سمجھ ہی نہیں آتی

سمجھ تومجھےبھی کم ہی آتی ہے لیکن میں تو صرف چاہتی ہوں کہ وہ بولتا رہے اور میں سنتی رہوں اور بسا اوقات تو وہ بالکل

خاموش بیٹھا ہوتا ہے ایک تصویر کی طرح اور میں پھر بھی اس کی آواز سن رہی ہوتی ہوں

لگتا ہے چند دنوں میں عشق کی ساری منزلیں طے کر لی ہیں تم نے

یہ تو مجھے پتہ نہیں لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ شعوری غیر شعوری یا لا شعوری طور پر میں ہمیشہ سے جیدی کے

وجود کا ایک حصہ رہی ہوں میں نے اس پہلی دفعہ ریلوے سٹیشن پر اپنے دوستوں کے ساتھ دیکھا تو مجھے اس کا چہرہ نظر

نہیں آ رہا تھا لیکن جیسے ہی اس نے مڑ کر میری جانب دیکھا میرے دل نے کہا عندلیب “ یہ پیا ملن کی گھڑی ہے تیرا

سہاگ تیرے سامنے کھڑاہے “ جو میری نظروں نے دیکھا میرے دل نے قبول کیا اور اسکی صداقت کی شہادت دی

ناک ناک کوئی گھر پر ہے یا

آئیے مہاراج میں تو سمجھی تھی حسب عادت پرانے دوستوں کی بیٹھک سجا کر کہیں خوش گپیوں میں لگے ہو گے گھر کی یاد تو آپ

کو آئی نہیں ہو گی کہیے گھر تو مل گیا نا آپ کو راستہ تو نہیں بھولے کہیں مانا کہ یہ آپ کا شہر ہے لیکن آپ بھی تو آخر آپ ہیں

جو اپنے کمرے میں بھی اپنے آپ کو تلاش کر رہے ہوتے ہیں

تم عورتوں کا بھی نا خود ہی مجھے اصرار کر کے گھر بھیجا تو کیا کرتا وہیں سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر زور سے چلاتا “ میں آیا تھا میں آیا

ہوں میں جارہا ہوں “ خدا حافظ اور وہاں پر بھی وہی پولیس چیک اپ کیوں آۓ ہو کیسے آۓ ہو کتنے دن رہو گے سامان

وغیرہ کہاں ہے جھوٹ بولا نہیں گیا سو کہہ دیا عندلیب کے کسی کام کے سلسلہ میں آیا ہوں خالہ کہنے لگیں تو گھر کیوں نہیں لاۓ پاؤں میں مہندی لگی ہوئی ہے اسکے کیا میں نے کہا پاؤں میں مہندی تو نہیں لگی لیکن اس کا پاؤں بھاری ہے اور اس

حالت میں اتنی سیڑھیاں چڑھنا اس کے لئے ٹھیک نہیں

کیا کہا تم نے

you swine

میرا پاؤں بھاری ہے یا نہیں لیکن یہ مذاق تمہیں کافی بھاری پڑنے والا ہے اور یہ تمہارے ہاتھوں میں بڑا سا لفافہ کس چیز کا ہے

کچھ نہیں خالہ کہہ رہی تھیں اس حالت میں لڑکی کو بازاری چیزیں کھلانے کی ضرورت نہیں اس لئے تمہارے لئے کچھ پھل فروٹ

بھیج دیئے ہیں راستے بھر کھاتی جانا

جیدی کے بچے باز آ جا اپنی حرکتوں سے

اوھ مائی گاڈ یہ ابھی سے اپنی ماں کو تنگ کر رہا ہے

کون کس کی ماں کو تنگ کر رہا ہے یہ کیا اول فول بولے جارہے ہو

بی بی یہ ابھی ابھی کہہ نہیں رہی تھی ‘ جیدی کے بچے باز آ جا ‘ میں نے سوچا میرے بیٹے سے باتیں کر رہی ہے

کیوں چھیڑ رہے ہو بیچاری کو اب جانے بھی دو ویسے اس کی خالہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں غلط چیزیں کھانے سے ماں اور

بچے دونوں کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے اور دیکھو بہت خیال رکھنا اسکا اور ہاں یاد آیا تمہارا گاڑی کا سفر ہے پٹرول کی بو سے

اس حالت میں اکثر عورتوں کو متلی ہونےلگتی ہے خاص کر پہلا بچہ ہو تو اس لئے راستے میں کہیں سے لیموں خرید لینا

اور راستے میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد بہو کو چٹاتے رہنا تاکہ طبیعت زرا سنبھلی رہے

زینب بی بی آپ بھی اس بدمعاش کے ساتھ مل گئی ہیں

ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 67

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

میرے رہبر میرے رہنما

پھر کب ملو گے

جب آپ یاد کریں گی

وہ تو میں روز اور ہر وقت کرتی ہوں تو کیا تم میرے پاس بیٹھے رہو گے

لاجواب کر دیا آپ نے مجھے میرا مطلب تھا آتا جاتا رہونگا اور اب تو اللہ میاں نے ایک خوب صورت سے ڈرائیور کیساتھ

گاڑی بھی بھیج دی ہے اب میرے پاس کوئی معقول بہانہ بھی نہیں ہو گا

گاڑی ڈرائیور کس کی بات کر رہے ہو

عندلیب اور کس کی اب بھی تو اسی کی گاڑی میں آیا ہوں

ارے اس بیچاری کو کہاں روز روز اپنے ساتھ گھسیٹتے پھرو گے اور وہ بھی میرے خاطر

زینب بی بی آپ بھی نا ابھی تھوڑی دیر پہلے میں آپ کی بہو رانی تھی اب پھر مجھے پرایا کر دیا اور آپکو کیا لگتا ہے میں آپ کو

ایسے ہی بے سہارا چھوڑ کر چلی جاؤنگی میں تو گھر سے یہ تہیہ کر کے نکلی تھی وزیراباد کو چھوڑنے سے پہلے آپ کا کوئی نہ کوئی انتظام کر کے جاؤنگی کسی کو اچھا لگے یا برا

عندلیب بیٹا میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ میں جہاں اور جس حال میں رہ رہی ہوں وہیں ٹھیک ہوں

جی بی بی مجھے اچھی طرح سے یاد بھی ہے اور آپ کی مرضی کے خلاف کوئی بات کروں گی بھی نہیں بس آپ دیکھتی جائیں

ارے بھئ کوئی مجھے بھی بتاۓ گا یہ کیا کھچڑی پک رہی ہی آپ دونوں کے بیچ میں آپ نے تو بڑی صفائی کے ساتھ مجھے دودھ

میں سے مکھی کی طرح اٹھا کے باہر پھینک دیا

اے دولہے راجہ اپنے کام سے کام رکھو اتنی جلدی بھول گیۓ کیا اس حالت میں مجھ سے بیکار قسم کی بحث مت کرنا

کس حالت کی بات کر رہی ہو تم تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے

عجیب چغد قسم کے آدمی ہو خود ہی تو کہہ رہے تھے میں عنقریب ممتا کے عہدے پر فائز ہونے والی ہوں اتنی جلدی بھول

بھی گیۓ خدا جانے آگے کیا ہو گا اب یہ مت کہہ دینا کہ میں تو اس لڑکی کو جانتا بھی نہیں

اوہو تو آپ آ گئیں اپنی اصلیت پر میں تو سمجھا تھا میں اصل عندلیب کو کہیں پیچھے چھوڑ آیا ہوں اور تم

کوئی

imposter

ہو اور اب مہربانی کر کے مجھے بتانے کی زحمت گوارا کریں گی کہ آپ دونوں میں کس بات پر بحث ہو رہی ہے شائد میں کسی قسم کا سمجھوتا کرانے میں آپ دونوں کی مدد کر سکوں

جیدی تمہاری عقل و دانش صرف تمہاری کتابی دنیا تک محدود ہے اس کے باہر تم بس کنویں کے مینڈک ہو اس لیۓ

خاموشی سے بیٹھ کر یا تو کوئی کتاب نکال کر پڑھو یا پھر باہر بازار کا ایک چکر لگا آؤ اور ہاں آتے آتے میرےلیۓ وہ دو چار

لیمون بھی لیتے آنا جن کا بی بی نے زکر کیا تھا تمہارا ہونے والا سپوت بھی تمہاری طرح کا ہی ہے تمہاری “ باتیں “اور

اس کی “ لاتیں “ ختم ہونے میں ہی نہیں آتیں ارے زینب بی بی یہ تو شاعری ہو گئی “ بات لات اور ہونہار بروا کے چکنے

چکنے پات “ فلاسفر کا بیٹا ہے نا آخر گود تک ابھی پہنچا نہیں اور ماں عندلیب سے

Calliope

بن گئی ہے “ واہ رے میرے راج دلارے جتنے نٹ کھٹ اتنے پیارے “ باپ کے بازو ماں کی آنکھ کے تارے اور پیار کریں تجھے لوگ یہ سارے

واہ رے میرے راج دلارے “

this is a miracle

یہ تو جیسے لوری ہو گئی

Exalted be thy name

لاکھ لاکھ شکر

میرے پالنہار rejoice o human kind because today is the day of celebrations let us sing and dance because here comes The blessed Andleeb mother of a holy child

جاوید

جی بی بی

تم اس لڑکی سے بیاہ رچانے جا رہے ہو کیا تم نے تو کہا تھا صرف بیمار ہے یہ تو نہیں کہا کہ اسے کسی قسم کے دورے بھی

پڑتے ہیں اور یہ کہہ کیا رہی تھی اور یہ

calliope

کون ہے اور کیا ہے میرے تو خاک بھی پلے نہیں پڑا یہ اچانک اسے ہوا کیا

مجھے کیا پتہ میں تو اچھی بھلی آپ کے پاس چھوڑ کر گیا تھا اور کیلی اوپی ایک یونانی موسیقی کی دیوی کا نام ہے عندلیب کی کوئی

دور پار کی رشتہ دار ہوگی اسی لئے اس کا رنگ اتنا سرخ و سفید ہے

چلو جانے بھی دو اب اس قصے کو میرا خیال ہے اب تم لوگ جانے کی تیاری کرو

بی بی ہم کوئی دور دیش نہیں جا رہے لاہور یہاں سے صرف دو گھنٹے کی مسافت پر ہے اور میں اپنی بات مکمل کرنے سے پہلے

یہاں سے جانے والی نہیں ہوں آپ یہ جگہہ کسی وجہ سے چھوڑنا نہیں چاہتیں منظور شوق سے یہیں رہیں میرے دادھیال

اسی شہر کے رہنے والے ہیں میں کسی کی ڈیوٹی لگا دونگی کہ وہ اگر روزانہ نہیں تو ہفتے میں دو تین بار آ کر آپ کاحال احوال

پوچھتا رہے اور مجھے فون پر مطلع کر دیا کرے اور میں کہے دیتی ہوں اس سے کم پر میں رازی نہیں ہونگی ورنہ میں آپ کے

پاس ہی ڈیرہ جما کر بیٹھ جاؤنگی اور اس معاملے میں آپ کے بیٹے کو بھی مونہہ کھولنے کی اجازت نہیں

اس کی ضرورت تونہیں کیونکہ میں اس زندگی کی عادی ہو چکی ہوں لیکن اگر تم دونوں کی خوشی اسی میں ہے تو

تو کچھ نہیں اور ہاں ہم دونوں یہی چاہتے ہیں اور اب آپ دونوں یہاں بیٹھ کر باتیں کریں اور میں اتنی دیر میں اپنے گھر

والوں سے مل کر آتی ہوں

اے اکیلی کہاں بھاگی جا رہی ہو راستہ معلوم بھی ہے تمہیں چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں گاڑی میں بٹھا کر واپس آ

جاؤں گا ان گلیوں کے موڑ توڑ سے تم اچھی طرح واقف نہیں ہو کہیں راستے میں ہی نہ بھٹکتی رہنا

اچھا تم ہو نا میرے رہبر اب کیوں بھٹکوں گی بھلا ۔ نہیں کبھی نہیں ۔ کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 68

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

کفارا

جیدی اے جواب دے نا آگے سے

اونہوں

اونہوں کیا زرا پیار سے تو بول

کیا کہوں میرا مطلب ہے کیسے کہوں

ارے بولنے کے سوا تجھے آتا کیا ہے اور اب وہ بھی مجھ سے پوچھ رہا ہے کیسے بولوں ارے ایسے بول نا عندلیب مائی ڈارلنگ میرا پیار میری آخری محبت یہ آخر والی چھوڑ دے اس کا مطلب ہو گا مجھ سے پہلے تو کسی اور بلکہ کئی اور لڑکیوں سے

پیار کی پینگیں بڑھاتا چڑھاتا رہا ہے اور میں سب کچھ معاف کر سکتی ہوں شرک نہیں ارے جیدی سنا تم نے میں نے ابھی ابھی کیا کہا اللہ اللہ

another miracle

یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے اللہ سبحان و تعالہ نے اپنی زبان میرے مونہہ میں ڈال دی ہو جب سے تم لوگوں نے مجھے اس مقدس بچے کی نوید سنائی ہے میری تو جیسے کایہ ہی پلٹ گئی ہے

میرے اندر سے جیسے گھنٹیوں کی آواز سنائی دیتی ہے

Hallowed be thy name O Lord

ہر وقت مبارک اور سلامت کی

صدائیں میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہیں

عندلیب بیگم اس سے پہلے کہ اس ایک بچے کی قلقاریوں کی آواز بہت سے بچوں کے شور میں گم ہو جاۓ پلیز آکاش کی

بلندیوں سے کرہ ارضی پر واپس آ جائیے مجھے تو آپ کے چہرے پر کوئی ملکوتی قسم کا حسن یا نور نظر نہیں آ رہا

تمہیں کیوں نظر آنے لگا رشک اور حسد کی پٹی نے تمہاری آ نکھوں کے دئیے جو بجھا دئیے ہیں آپکو مجھ سے جلن اس لیے ہو رہی

ہے کہ آپ جہاں کل تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں جبکہ میں خواجہ عندلیب بنت وقت

has been elevated

کیوں شہزادی صاحبہ اہل فارس نے آپ کے لیے تخت طاؤس بھیجا ہے کیا اور یہ انگریزی آپ کچھ زیادہ ہی نہیں بولنے لگیں

آج کل بات بات پر

bard of Avon

سے رشتہ ناطہ جوڑ لیتی ہیں اور کبھی

mount olympus

پر یونانی دیوی دیوتاؤں کے جلو میں کھڑی ہوتی ہیں اور ابھی دو ہی منٹ پہلے Gospels سے بھی اقتباسات پڑھے جا رہے تھے یہ زینب بی بی نے ضرور

تمہیں کچھ گھوٹ کر پلا دیا ہے تم تو

intellectually

مجھے چیلنج کرنے لگی ہو ہاں وہ کاغذی لیمون جو تم لیکر آۓ تھے اس کی سکنجبین بنا کر پلائی تھی تمہیں بھی پینی ہے کیا اور کیا مطلب ہے تمہارا کہ میں

تمہیں

intellectually

چیلنج کرنے لگی ہوں ہماری اس چھوٹی سی فیملی میرا مطلب ہے تم میں اور جونئیر جاوید میں سے سب سے زیادہ کون پڑھا ہوا ہے بولو اور زرا زور سے بولنا تا کہ آتے جاتے لوگ بھی تو سنیں

اپنی ڈگریوں کا رعب دکھا رہی ہیں ارے کاغذ کے چند اوراق ہی تو ہیں

اچھا میری اتنے برسوں کی محنت اور مشقت کا صلہ چند کاغذ کے ٹکڑے ہیں تو تمہارے لئے کیا آسمانی صحیفے اتریں گے

اور تم تو مجھ سے ایسے مقابلہ کر رہے ہو جیسے میرا ہونے والا شوہر نہیں بلکہ میری سوت ہو

green eyed monster

ارے عندلیب بیگم میری تو نصوح کی توبہ جو آپ سے مقابلہ کرنے کے بارے میں سوچوں بھی تو مجھے تو چونکہ آپ غصے

کی حالت میں اور جھانسی کی رانی کی طرح ہاتھ میں تیغ و تفنگ لئیے اپنے حریفوں کے سر قلم کرتی ہوئی زیادہ حسین لگتی ہیں

اس لئیے آپ سے ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ اور دل لگی کرتا ہوں چلئیے اب غصہ تھوک دیجئے اور کہئیے کیا کہنا یا پوچھنا چاہ

رہی تھیں ویسے بھی آپ کو ہر وقت خوش دیکھنا اور آپ کے ہر قسم کے آرام کا خیال رکھنا ہمارا فرض منصبی ہے

اور ہاں تم نے بتایا نہیں زینب بی بی کے لئیے کیا انتظام کیا ہے

فکر مت کرو میں نے ان کے کھانے پینے کا سب انتظام کر دیا ہے اور میں نے بی بی سے کہا تھا جس دن مجھے پتہ چلا کہ آج

آپ نے کھانا نہیں کھایا تو میں بھی بھوک ہڑتال کر دونگی اور آپ کو پتہ ہے کہ بنا کھانے کے میں اپنی دوائی نہیں کھا سکتی

مجھے کہنے لگیں تم مجھے بلیک میل کر رہی ہو میں نے بھی ڈنکے کی چوٹ سے کہہ دیا کہ ہاں کر رہی ہوں بلیک میل آگے سے

ہنس پڑیں اور مجھے گلے سے لگا لیا

عندلیب

جی

تمہیں پتہ ہے

you make me so proud

میں ہمیشہ سے بی بی کے لئیے کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن تمہیں پتہ ہے نہ کہ وہ کتنی ضدی ہیں میری ہر بات کو سنی ان سنی کر دیتی تھیں تم نے گتنی آسانی سے انھیں راضی کر لیا کتنے برسوں سے

میرے سینے پر ایک بوجھ سا تھا جو آج تم نے اتار دیا تھینکس

I do love you very much

کچھ بھی تو نہیں کیا میں نے میرے بس میں ہوتا تو انھیں ساتھ لیکر جاتی لیکن وہ کسی قیمت پر میرے ساتھ چلنے کے لئیے

رضامند نہیں ہو رہی تھیں بحر حال میرا آدمی روزانہ انھیں کھانا بھی پہنچا دیا کریگا اور مجھے ان کی صحت کے بارے میں

بھی مطلع کرتا رہیگا میرا دل نہیں کر رہا تھا ان کے پاس سے اٹھنے کو خدا جانے کس جرم کی سزا دے رہی ہیں اپنے

آپ کو یا پھر کسی اور کے گناہوں کا کفارا ادا کر رہی ہیں

میرا المیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے لکھنے کے لئیے تخلیق کیا گیا

جب مجھے لکھنا آیا تو مجھے بے رحمی سے توڑ دیا گیا

پوچھا کیا لکھوں

تقدیر جواب آیا

کہا لکھ دونگا تو لوگ سوال کریں گے

کیسا سوال

یہی کہ ‘ چاہتے ہیں سو آپ کرے ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

نہیں کہیں گے

کیوں

میں جانتا ہوں جو تو نہیں جانتا

لیکن نام تو میرا بدنام ہو گا

نہیں ہو گا بدنام تیرا نام

کیوں

صرف تجھے ہی تو توڑا ہے وہ تو باقی ہے

کون

وہی جسکی کہانی تو لکھتا رہا ہے

تو مجھے کیوں توڑا

تقدیر ۔۔۔۔۔ جب کہانی لکھی جا چکی تو نہ قلم کی ضرورت رہی نہ ہی قلم کار کی

لیکن کیوں

یہی تو تیرا المیہ ہے اپنا ہی نوحہ کہتا رہا اور اب بیٹھا گریہ کر رہا ہے

تو صاف کیوں نہیں کہتا ‘ کہانی کا کفارا قلم ادا کر رہا ہے ‘

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 69

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

زیب النسا مخفی

جی عندلیب آپ غالباٗٗ کچھ کہنا چاہ رہی تھیں اور اس سے پہلے کہ ہملوگ حسب عادت کسی اور بے معنی اور لا یعنی

بحث میں الجھ جائیں کہیں کیا بات ہے پھر آپ کو شکائت ہو گی کہ میں دوسرے مردوں خاص کر شوہروں کی طرح

کبھی دھیان سے آپ کی بات نہیں سنتا

میں نے تو کبھی اس طرح کی کوئی شکائیت آپ سے نہیں کی اور نہ ہی مجھے دوسرے مردوں یا شوہروں کا کوئی ایسا

تجربہ ہے لیکن آپ ایک بات تو بتائیے یہ آج آپ اتنے شائستہ مہذب سلجھے ہوۓ اور محتاط انداز میں گفتگو کیوں کر رہے ہیں

مجھے تو آپ ویسے بھی ہر حال میں قبول ہیں پھر بھی آپ کا یہ پر وقار اور شاہانہ انداز تکلم اگر میں گاڑی نہ چلا رہی ہوتی تو

ضرور جھک کر آپ کو کورنش بجا لاتی

عندلیب بیکم گفتگو شخصیت کی آئینہ دار ہوتی ہے

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ کلام اور گفتگو انسان کا تعارف ہوتی ہے۔ ہر انسان اپنی زبان کے پردے کے پیچھے چھپا ہے، اگر اسے پہچاننا ہے تو اسے بولنے کا موقع دیں جلد ہی اس کی شخصیت عیاں ہو جائے گی۔

گفتگو انسان کے اخلاق و کردار کی نمائندگی بھی کرتی ہےاور آپکی شخصیت کی عکاس بھی ہوتی ہے۔ آپ اپنی گفتگو سے دوسروں کے دل بھی جیت سکتے ہیں اور اسی گفتگو کی وجہ سے اپنی بنی بنائی ساکھ کو خاک میں بھی ملا سکتے ہیں۔

سقراط کے پاس ایک آدمی بڑے کروفر سے آیا اور بیٹھ گیا سقراط نے کہا، ’’آپ کچھ بولیے تاکہ میں آپ کی شخصیت کا اندازہ لگا سکوں‘‘۔

اس لیے ہمیں گفتگو کرتے ہوئے اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ ہماری گفتگو ہمارا تعارف بن رہی ہے۔ ہم سنجیدہ اور برمحل گفتگو کریں گے تو یہ ہمارے متعلق اچھا تاثر چھوڑے گی۔ اگر گفتگو غیر سنجیدہ اور غیر ضروری ہوگی تو یہ ہماری شخصیت کا منفی تاثر چھوڑے گی۔

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کہا کہ نجاۃ کس کام میں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’اپنی زبان کی حفاظت کر‘‘۔

اسی طرح ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ایک سفر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور کردے۔ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیلی جواب دیا، جس میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور جہاد وغیرہ کا ذکر کیا اور آخر میں فرمایا، ’’ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے کیا میں تمہیں وہ نہ بتا دوں؟‘‘ حضرت معاذ فرماتے ہیں، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے نبی!

پھر آپ نے اپنی زبان پکڑی، اور فرمایا: ’’اسے اپنے قابو میں رکھو‘‘، میں نے کہا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں اس پر پکڑے جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ’’تمہاری ماں تم پر روئے، معاذ! لوگ اپنی زبانوں کی کمائی کی وجہ سے تو اوندھے منہ یا نتھنوں کے بل جہنم میں ڈالے جائیں گے؟‘‘

خوبصورت گفتگو کے حوالے سے مجھے زیب النسا مخفی جو کہ ایک مغل شہزادی اور شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی بیٹی تھی کا

ایک واقعہ یاد آگیا

ایران کے ایک شہزادے نے ایک مصرعہ کہا

در ابلق کسے کم دیدہ موجود

(درا بلق کس نے دیکھا ہے، بہت کم موجود ہوتاہے)۔ایک موتی کو درا بلق کہتے ہیں، وہ سفید اور چمکدار ہوتاہے، مگر اس میں ایک باریک سی کالی لائن ہوتی ہے،اس کو ابلق کہتے ہیں، تو اس نے کہا کہ درا بلق کس نے دیکھا ہے؟

پہلا مصرعہ تو اس نے بنا لیا لیکن دوسرا مصرعہ اس سے نہیں بن رہا تھا، چنانچہ اس نے کہا: جو بندہ دوسرا مصرعہ بنائے گا میں اس کو بڑا انعام دوں گا ۔ یہ بات چلتے چلتے ایران سے ہندوستان تک پہنچی، یہاں کے شعراء نے بھی کافی طبع آزمائی کی لیکن کچھ نہ بنا، مخفی نے بھی اس مصرعہ کی شہرت سن لی تھی، ایک دن اتفاقی طور پر اس شعر کا دوسرا مصرعہ کہہ دیا۔ہوا یوں کہ ایک مرتبہ نہانے کے بعد اس نے اپنی آنکھوں میں سرمہ ڈالا۔۔۔ سرمہ ڈالنے سے کئی مرتبہ آنکھوں میں پانی آ جاتا ہے۔۔۔ سرمہ ڈالنے کے بعد جو اس نے آئینہ دیکھا تو وہ آنکھ سے نکلا ہوا پانی آنسو کی شکل میں پلکوں کے اوپر تھا اور اس میں سرمے کی وجہ سے ہلکی سی لائن تھی، اس نے دیکھتے ہی کہا کہ یہ تو درابلق کی طرح ہے، چنانچہ اس نے وہیں دوسرا مصرعہ کہہ کر شعر مکمل کر دیا کہ ۔درا بلق کسے کم دید موجود مگر اشک بتاں سرمہ آلود ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے چت کبرا موتی کبھی نہ دیکھا ہو مگر محبوب کی سرمگی آمکھ سے ٹپکا ہوا آنسو ۔ یہ بات اس شہزادے تک پہنچی، اس شہزادے نے کہا: شاعر کو میرے پاس بھیجو، میں اس کو بڑا انعام دینا چاہتا ہوں، جب یہ بات اورنگزیب عالمگیر تک پہنچی تو بیٹی سے کہا:بیٹی! میں تجھے کہتا نہیں تھا کہ تو شعر نہ کہا کر، کسی مصیبت میں ڈالے گی، اب دیکھو شہزادہ کہتا ہے کہ جس شاعر نے یہ کہا ہے، وہ میرے پاس آئے، میں اسے انعام دینا چاہتا ہوں

سمجھدار بیٹی نے اس کا حل بھی ایک مکمل شعر کی شکل میں پیش کردیا۔ اور کہا کہ میرا یہ شعر اس ایرانی شہزادے تک پہنچا دو وہ خود سمجھ جائے گا۔

زیب النساء نے شعر لکھا

درسخن مخفی منم چوں بوئے گل در برگ گل

ہر کہ دیدن میل دارد در سخن بیند مرا

(میں اپنے کلام میں ایسے ہی پوشیدہ ہوں، جیسے پھول کی خوشبو اس کی پتیوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

جو کوئی مجھے دیکھنا چاہے اسے چاہیے کہ میرا کلام پڑھ لے، مجھے دیکھ لے گا)

جب یہ شعر شہزادے تک پہنچا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ کوئی خاتون ہے۔

زیب النساء کے شعر کا پہلا مصرعہ(درسخن مخفی منم۔۔۔) شہرۂ آفاق حیثیت اختیار کر کے زبان زدعام ہوگیا۔ جہاں بھی گفتگو کی خوب صورتی کا پیغام دیا جاتا ہے وہاں یہ مصرعہ پڑھا جاتا ہے

مولانا جاوید بلخی اپنا داہنا ہاتھ آگے بڑھائیں گے زرا

کیوں اپنے پیار اور چاہت کی ہتھکڑی سے ہمیں باندھنا چاہتی ہیں آپ

جی نہیں کنیز کا ایسا کوئی ارادہ نہیں وہ تو صرف آپ کے مبارک ہاتھوں پر بیعت کرنا چاہتی ہے تا کہ اس کی دنیا اور

آخرت دونوں ہی سنور جائیں اور جہاں تک بات ہتھکڑی لگانے کی ہے اس کی بھی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ آپ جہاں اور

جس طرف سے مرضی شروع کریں میری ساری کڑیاں آپ کی کڑیوں سے ہی جڑی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔

جاری ہے

…………………………………….

شہر زاد قسط نمبر 70

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

یہ ا فسانہ تیری محبت کا

کب تک لکھونگا یہ افسانہ تیری محبت کا

قلم رکتا ہی نہیں اور آنسو تھمتے ہی نہیں

اے میاں مٹھو اتنا خاموش کیوں ہے یاد ستا رہی ہے کسی کی

ہاں تمہاری

میں تو تمہارے ساتھ بیٹھی ہوں

ہاں ساتھ بیٹھی ہو لیکن پاس تو نہیں بیٹھی

ہاہاہا اچھا اور پاس کیسے بیٹھتے ہیں اور تم سچ میں وہی کہہ رہے ہو جو میں سمجھ رہی ہوں آخر کوہ ہمالیہ پر صدیوں سے جمی

ہوئی برف ایک دن تو پگھلنی ہی تھی اور سن جو کچھ کہنا ہے زرا جلدی سے بول اس سے پہلے کہ پیار اور پیا ملن کی یہ گھڑی بیت جاۓ

اور ہاں یہ ہماری

romantic interlude

کے لئے تمہیں ہمیشہ وہی وقت کیوں ملتا ہے جب میں تمہاری پکار پر لبیک نہیں کہہ سکتی میرا مطلب ہے کہہ تو سکتی ہوں پر مجھے گاڑی کسی ویران سڑک کے کنارے روکنی پڑے گی

اے میاں مٹھو کی کڑوی کسیلی چوری زرا سانس تو لے کیوں بنا بریک کے بھاگےجا رہی ہے میں تو صرف یہ کہنا چاہ رہا تھا

کہ ساتھ ساتھ تو ہیں پر ایک ساتھ نہیں ایک سیدھی اور معصومانہ سی بات کو تم نے Gordian Knot بنا کر رکھ دیا ہے

اچھا جیسا تو ویسی تیری معصومانہ باتیں مجھے تو اب بھی پتہ نہیں تو کیا کہہ رہا ہے لیکن اگر تجھے riddles میں باتیں کرنے کا

بہت شوق چرایا ہے تو

here comes Miss Andleeb the scholar

بول

metaphorically

بول رہا تھا یا

metaphysically

اور اگر یہ بھی نہیں تو پھر سچ وہی ہے جو میں نے سمجھا اور کہا

تمہاری اتنی لمبی

running commentary

کے بعد سچ پوچھو تو مجھے خود یاد نہیں کہ میں کیا کہنا چاہ رہا تھا

اے لڑکے باتیں بند کر تو زہنی تھکاوٹ کا شکار ہے اور بس ۔ اپنا سر میرے کندھوں سے لگا اور آنکھیں بند کر لے لیکن

دیکھ کہیں سو نہیں جانا ورنہ میں گاڑی مار دونگی کسی کو

عندلیب

اب کیا ہے تم تو لڑکیوں سے بھی بد تر ہو دومنٹ خاموش نہیں رہ سکتے کیا

لاہور پہنچ کر شادی کر لیں

کہا نا چپکے سے بیٹھو ۔ کیا کہا تم نے زرا پھر کہنا میں نے ٹھیک طرح سنا نہیں

اپنے آپ سے باتیں کر رہی ہو کیا میں نے تو تم سےکچھ نہیں کہا خود ہی تو مجھے بولنے سے منع کیا تھا

ہاں شائد میں سمجھی تم شادی کی بات کر رہے ہو پر باسی کڑی میں بھی کبھی ابال آیا ہے

کیوں نہیں اگر بوڑھی گھوڑی لال لگام پہن سکتی ہے تو باسی کڑی میں ابال کیوں نہیں آ سکتا

اے میں بوڑھی ہوں کیا

مجھ سے تو تین سال بڑی ہو

دوبارا کہا تو یہ ٹانگ بریکس سے اٹھا کر ایسی جگہہ ماروں گی کہ نہ بتا سکو گے نہ دکھا سکو گے

سو سنار کی اک لوہار کی سارا دن مجھے جلی کٹی سناتی رہتی ہو اور میں بھولے سے کچھ کہہ دوں تو بنا شادی کے مجھے

خلع کا نوٹس بذریعہ

recorded delivery

بھیج دیا جاتا ہے

اتنی بری بری باتیں کیوں کہتے ہو کوئی اچھی مثال بھی تو دے سکتےتھے خیر چھوڑو ان سب باتوں کو کوئی چھوٹی چھوٹی اور

پیاری پیاری باتیں کرتے ہیں

نہیں کر سکتے

کیوں نہیں کر سکتے

تم اتنی نک چڑھی ہو ناک پر مکھی تک تو بیٹھنے نہیں دیتی کوئی چھوٹی سی چیز تمہاری مرضی منشا یا مزاج کے خلاف ہو جاۓ ایک

طوفان کھڑا کر دیتی ہو اب تم ہی بتاؤ کوئی کیسے تم سے پیار محبت کے افسانے پڑھے

سچ کہہ رہے ہو لیکن یہ سب تب تک تھا جب تک تم میری زندگی میں نہیں آۓ تھے اب تم مجھے اپنے رنگ میں رنگ لینا

اور اگر تمہیں پھر بھی کسی قسم کی شکائیت ہو تو مجھے چھوڑ دینا کوئی گلہ نہیں کرونگی چپکے سے تمہاری دنیا سے واپس

چلی جاؤنگی ۔ ہمیشہ کے لئیے ۔ امی ٹھیک ہی کہتی تھیں تھیں کہ تم جیسی خود سر اور ضدی لڑکی کیساتھ کوئی آدمی دو

دن سے زیادہ نباہ نہیں کر سکتا ۔ جیدی تمہیں پتہ ہے نا میں تم سے کس قدر محبت کرتی ہوں لیکن میں اتنی خود غرض کیسے

ہو سکتی ہوں کہ اپنی ہی محبت کے لئیے اپنی محبت کا گلہ گھونٹ دوں اور تم میری محبت ہی تو ہو ۔ میں تو شائد اپنے آپ کو

بدل نہ سکوں لیکن تم ۔ تم آج سے آزاد ہو میں تمہیں تمہارے ہاسٹل ڈراپ کر دونگی تمہاری جو تھوڑی بہت چیزیں ہمارے

ہاں پڑی ہوئی ہیں وہ میں نوکر کے ہاتھ کل تک بھجوا دونگی ۔

عندلیب

جی

زرا تھوڑی دیر کیلئے گاڑی سڑک سے اتار کر کھڑی کر سکتی ہو

کیوں تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا

ہاں ہاں میری طبیعت کو کچھ نہیں ہوا تم زرا گاڑی ایک طرف کر کے کھڑی کر لو

ہاں اب بولو کیا کہہ رہی تھیں یہ سچ ہے کہ تم نک چڑھی ہو زمانے بھر کی ضدی اور جانے کیا کیا ہو لیکن ان سب چیزوں

کے ہونے یا نہ ہونے سے ہماری ایک دوسرے کے لئیے محبت اور چاہت کا کیا تعلق ہے کیا میں نے یا تم نے پیار کا

اظہار یا اقرار کرنے سے پہلے کسی قسم کا کوئی سوالنامہ بھیجا تھا کہ اگر تو اس میں لکھی گئی ساری شرائط پر ہم دونوں پورا

اترتے ہیں تو ٹھیک ہے ہم ایک دوسرے سے پیار کر سکتے ہیں ورنہ نہیں ۔ پیار تو بس پیار ہے ہو گیا تو ہو گیا نہ تو ہونے سے

پہلے آپ کو بتا کر آتا ہے اور نہ ہی ہونے کے بعد آپ کو پتہ چلتا ہے کہ یہ ہوا کیسے ۔ اور اب گاڑی بعد میں اسٹارٹ کرنا

پہلے بتاؤ تمہارے اس

goody bag

میں کوئی بچا کھچا سینڈوچ پڑا ہے یا نہیں کیونکہ مجھے بڑے زوروں کی بھوک لگی ہے

پیٹو کہیں کے ادھر میری جان پر بنی ہوئی تھی اور تم ہو کہ چھوڑو جانے دو

typical man

بھوک لگی ہے مجھے

بھرا ہوا ہے بیگ کھانے پینے کی چیزوں سے چلو شروع ہو جاؤ

سنو آئندہ تم نے کبھی مجھے چھوڑنے کی بات کی تو پورے پانچ منٹ بات نہیں کرونگا تم سے

پیار نہیں کرتے مجھ سے کیا

کرتا ہوں

تو پھر پانچ منٹ تک کیسے بنا مجھ سے بات کئیے رہ سکتے ہو

نہیں رہ سکتا

تو پھر یہ پانچ منٹ کیسے

میں نے کہا تھا میں پانچ منٹ تم سے بات نہیں کرونگا یہ تو نہیں کہا کہ تم مجھ سے بات نہیں کر سکتی

اے

Did I say I loveyou

جی میرا مطکب ہے

Yes you did and I love you too

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 71

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

سوئمبر

خان صاحب اٹھئیے آ گیا آپکا آشیانہ اب گاڑی چھوڑنے کے بھی پیسے لیں گے کیا

ارے کچھ تو شرم کرو اپنے ہونے والے شوہر نامدار کو گھر سے نکال رہی ہو اور اس کھٹارےکو تم گاڑی کہتی ہو میں تو اس

میں اپنا مونہہ چھپا کر بیٹھتا ہوں کہ مجھے کوئی دیکھ کر میری حیثیت کے متعلق غلط اندازے لگانا نہ شروع کر دے

ہاں ہاں بڑے لاٹ صاحب ہو نا تم لیکن میں بہت تھک گئی ہوں گھر جا کر آرام کرنا چاہتی ہوں اس لئیے مجھے تمہارے

ساتھ کوئی debate نہیں کرنی اور تم بھی جا کر کمر وغیرہ سیدھی کر لو اور سنو یہ بچے ہوۓ سینڈوچ بھی لے جانا

کمر پھر سیدھی کر لونگا ابھی مجھے کیمپس جانا ہے لائبریری سے چند ایک کتابیں چاہئیے تم جاؤگھر جا کر آرام کرو میں بھی نا

بنا سوچے سمجھے کام کرتا ہوں تمہارے کئی قسم کے

health issues

ہیں پھر بھی تمہیں اتنے لمبے سفر پر ساتھ لے گیا

ارے بس بھی کرو میرے مارکو پولو تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے سنٹرل ایشیا کا چکر لگا کر آۓ ہیں اور ہاں اگر کیمپس ہی

جانا ہے تو اوپر جا کر بیگ وغیرہ اپنے کمرے میں چھوڑ آؤ میں تمہیں راستے میں تمہارے ڈیپارٹمنٹ کے قریب اتار

دونگی واپسی پر خود آ جانا

جی نہیں بہت بہت شکریہ گاڑی میں زیادہ دیر لگے گی مجھے صرف نہر کا پل کراس کرنا ہے پانچ منٹ ہی کا تو راستہ ہے چلئیے

راستہ ناپئیے اپنا اور گاڑی ریلی ڈرائیورز کی طرح مت چلائیے گا انشااللہ کل ملاقات ہو گی آپ سے

کل کل کیوں ابھی دوپہر ہے پھر شام ہو گی اور پھر اتنی لمبی رات میں اتنی دیر تمہارے بغیر کیسے رہونگی اور رات کا

کھانا کیا ہاسٹل میس میں کھاؤ گے آگے تمہارے جسم پر چڑیا جتنا گوشت ہے نا بابا نا ایسے کام نہیں چلے گا تم جاؤ اپنے

سارے کام دھندے کر لو میں دو تین گھنٹوں کے بعد تمہیں لینے آونگی خدا حافظ

ارے سنو تووووووووووووووو چلی گئی چل بیٹا مجنوں اس شہر سے تو وہ تپتی ہوئی ریت اور صحرا ہی اچھی تھی کم از کم

رات کو کھلی فضا نیلگوں آسمان اور جھلمل کرتے ستاروں سے آنکھ مچولی کھیلتے ہوۓ سوتا بھی اپنی مرضی سے تھا اور جاگنے پر بھی کوئی پابندی نہیں تھی واہ ری قسمت کس نیم پاگل سی لڑکی سے واسطہ پڑا ہے

ناک ناک ناک ناک

کون ہے بھئی

خان صاحب میں ہوں اسمئیل ہاسٹل کا چوکیدار

دروازہ کھلا ہے کہوکیسے آنا ہوا

وہ جی آپ کی کوئی مہمان آئی ہیں نیچے گاڑی میں آپ کا انتظار کر رہی ہیں

اچھا انھیں جاکر کہو مکین مکان چھوڑ کر کب کا جا چکا آپ غلط دروازے پر دستک دے رہی ہیں

بڑی عجیب بات ہے

کیا عجیب بات ہے اسمئیل مجھ سے کچھ کہا تم نے یا اپنے آپ سے باتیں کر رہے ہو

نہیں جی مجھے لگتا ہے بی بی جی کو شائد پہلے ہی سے پتہ تھا کہ آپ یہی کہنے والے ہو

اچھا تمہیں کیسے پتہ چلا

جی انہوں ہی نے کہا تھا کہ اگر صاحب کہیں کہ غلط دروازے پر دستک دے رہے ہو تو ان سے کہنا کہ بی بی کہتی تھیں “ میں

اپنے پیچھے سارے دروازے بند کر کے آئی ہوں اس لئیے اگر اگلے دس منٹ میں تیار ہو کر تم نیچے نہ آۓ تو میں اوپر آ رہی ہوں

اور یہ نہ سمجھنا کہ یہ گیٹ کیپر یا ہاسٹل کا وارڈن مجھے روک پائیں گے

ہاہاہا اسمئیل تم چلو میں پانچ منٹ میں تیار ہو کر آ رہا ہوں اور سنو بی بی جی سے اور کچھ نہیں کہنا

جی صاحب جی ۔ خان صاحب جی یہ آپ کی گھر والی ہیں کیا

اسمئیل میرے دوست یہ میری گھر والی کی بھی ماں ہے تم چلو میں تمہارے پیچھے پیچھے آ رہا ہوں

عندلیب خانم گھر سے آ رہی ہیں یا بیوٹی پارلر سے آ نکھوں میں کاجل گالوں پہ لالی کسی پربجلیاں گرانے کا ارادہ ہے کیا

ہاں ہے تو سجنی اپنے ساجن سے ملنے سات سنگھار کر کے آئی ہے سوئمبر کی رسم شروع ہوا ہی چاہتی ہے آزما لے اپنی قسمت

کون جانے راج کماری تیرے ہی گلے میں ور مالا ڈال دے بول تیار ہے

جہاں تک میرا علم ہے اپنی پسند کا خاوند منتخب کرنے کے لئے ہندو راجاؤں اور عالی خاندان ہندوؤں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ جب لڑکی کی شادی کرنا ہوتی تھی تو دن تاریخ مقرر کر کے اعلان کرایا جاتا تھا کہ شادی کے خواہشمند آکر اپنے کرتب اور ہنر دکھائیں اور لڑکی جسے پسند کرے گی اُس سے شادی کی جائے گی یہ رسم اور تقریب سوئمبر کہلاتی تھی اب نہ تو میں تیر و تفنگ

کے میدان کا کھلاڑی ہوں اور نہ ہی مجھےکسی قسم کے فنون سپاہ گری کی کبھی تربیت دی گئی تھی تو پھر تو میری حیثیت اس

گھوڑے جیسی ہو گی جسے انگریزی زبان میں

also ran

کہتے ہیں یعنی وہ اسپ تازی جس نے ریس میں حصہ ہی نہ لیا ہو

اب یہ تو پرانے زمانےکے رسوم و رواج ہیں نہ تو راج پاٹ رہے نہ ہی راج کماریاں البتہ آپ کو اگر اس طرح کی عہد رفتہ

کی بظاہر رومانوی قسم کی رسومات سے دل چسپی ہے تو میں صوبہ سرحد میں وادی اگرور کا رہنے والا ہوں وہاں پر کچھ اس سے

ملتی جلتی رسم ہے جسے مقامی لوگ تمن مارنا کہتے ہیں ۔ پہاڑ کی چوٹی پر ایک جھنڈی یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز زمین میں

گاڑ دی جاتی ہے اور دولہے راجہ کے ہاتھ میں ایک بندوق تھما دی جاتی ہے کہ چل بیٹا لگا نشانہ اور اگر تو اس نے وہ

جھنڈی جسے ہم تمن کہتے ہیں بندوق کی گولی سے اڑا دی تو باراتی دلہن کی ڈولی کندھوں پر اٹھا کر لے جاتے ہیں اور خدا

خواستہ دولہا کا نشانہ چوک گیا تو باراتیوں کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑتا ہے ۔ اب سننے میں آیا ہے کہ دولہا یا اس کے عزیز و

اقارب یا باراتیوں میں سے کوئی بھی یہ خدمت سر انجام دے سکتا ہے ۔ تو تیار ہیں آپ عندلیب خانم اس سرحدی

پختونستانی سوئمبر کےلئے جواب مجھے ابھی اسی وقت چاہیے تا کہ میں جا کر زرا بندوق چلانے کی پریکٹس وغیرہ کر لوں

سچ کہہ رہے ہو یا اپنے پاس سے کوئی نیا قصہ تراش لیا ہے تم نے ۔ خیر سچ بھی ہو لیکن میں اس طرح کے رومانس کے

لئے تیار نہیں خاص کر تمہارے ہاتھ میں بندوق نہ بابا نہ میں تو ڈولی میں بیٹھی بیٹھی سو سال کی ہو جاؤنگی لیکن بنا مقابلے

کے تم میری ڈولی نہیں اٹھا سکتے کوئی اور کھیل ڈھونڈتے ہیں ۔ کیرم کھیلنا جانتے ہو

زیادہ تو نہیں لیکن کھیل لیتا ہوں کیوں

بس تو پھر طے رہا میں جیتی تو کنوارے بیٹھے رہنا اور اگر کسی معجزے سے تم جیت گئے تو ڈولی اور ڈولی والی

دونوں تمہارے شرط منظور ہے تو کل تین بجے دوپہر ہمارے گیمز روم میں ملاؤ ہاتھ

او کے اور یہ رہا میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر ۷۲

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

خوابوں کے مسافر

سلام بیگم صاحبہ

سلام

خیریت سے ہیں آپ

کیوں بیمار لگتی ہوں تمہیں کیا

جی میں نے یہ تو نہیں کہا

تو پھر کیا کہا تم نے

جی میں نے تو صرف آپ کا حال پوچھا تھا

کیوں کیا ہوا میرے حال کو اچھا بھلا تو ہے البتہ تم مجھے ضرور مفلوک الحال لگتے ہو

بیگم صاحبہ آپ پتہ نہیں کیا کہہ رہی ہیں جی میرا سوال تو صرف اتنا تھا کہ آپ کیسی ہیں

جوان ہوں حسین ہوں ایک دفعہ جہاں سے گذر جاؤں لوگ پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتے ہیں مجھے کیوں نظر کمزور ہے تمہاری کیا

پوچھتا ہے کیسی ہوں ارے اتنی خوبصورت لڑکی تو کبھی تمہاری اماں نے بھی نہیں دیکھی ہو گی

جی اچھا بی بی جی تو پھر میں اپنی اماں کو بلا لوں تا کہ وہ بھی آپ کو ایک نظر دیکھ ہی لیں

بلا لے بلالے پر وہ ہیں کہاں بھاگ گئیں تجھے چھوڑ کر کیا

جی نہیں بھاگ کر نہیں گئیں بحری جہاز میں گئی ہیں میرے ابا بھی ساتھ ہی ہیں

اچھا تو گئی کہاں ہیں

نیروبی گئی ہیں جی میرے لئے لڑکی دیکھنے

کیوں پاکستانی لڑکیوں میں کیا خرابی ہے خوبصورت نہیں ہیں کیا

نہیں جی ایسا تو نہیں کہا میں نے جی آپ بھی تو پاکستانی ہیں اور چشم بددور خوب صورت بھی بس ایک بیماری ہے ان میں جی

بیماری کیسی بیماری

وہی بیماری جو آپ کو بھی ہے بی بی جی

اےلڑکے تو ہوش میں تو ہے اپنے مجھے کیا بیماری ہے

بہت زیادہ بولنے کی جی

ارے ستیا ناس ہو تیرا کلموہے مونہہ میں کیڑے پڑیں تیرے کم بخت اس عمر میں اتنی زبان چلاتا ہے تو آگے کیا ہو گا تیرا

شادی کر لیں میرے ساتھ بی بی جی آگے میرا کیا ہو گا وہ بھی آپ کو دھیرے دھیرے پتہ چل جاۓ گا

اے غنڈے موالی چل پھٹ یہاں سے تجھ سے شادی کرتی ہے میری یہ ٹوٹی ہوئی جوتی

اتنی بڑی گاڑی اور ٹوٹی ہو جوتی میں تم کو مالکن سمجھتا رہا اور تم ایک معمولی سی ڈرائیور نکل آئیں دھت تیرے کی

آدھ گھنٹہ ایک نوکرانی پر ضائع کر دیا پتہ نہیں آج صبح سویرے کس منحوس کا چہرہ دیکھا تھا

اپنا تھوبڑا ہی دیکھا ہو گا نہیں تو کیا

Queen of Sheeba

تم سے ملنے آئی ہو گی

ارے تم تو انگریزی بھی بول لیتی ہو

لے ہور کی پوری پنج جماعتیں پڑھی ہیں میں نے تیری طرح کوئی انپڑھ نئی ہوں

لے بھئی فیر تے موجاں ہو گئیاں کہ

اوۓ کادیاں موجاں منڈیا

دسیا تے سی تینوں ویا کرا لے میرے نال بڑا خوش رکھاں گا تینوں

اوۓ اپنے ہوش وچ رہ تے زیادہ جوش وچ ناں آ جے بی بی جی نوں پتہ چل گیا ناں کہ میں ایتھے تیرے نال عشق پیچا لان

لگ پیاں تو اونہاں نے گت پٹ کے میرے ہتھ پھڑا دینی اے چل جا تے اتوں خان صاحب نوں بلا لیا

ٹھیک اے پر جو میں کیا اے پلیں ناں چنگا فیر رب راکھا

ساری بہت دیر انتظار تو نہیں کرنا پڑا

سانس کیوں پھولا ہوا ہے تمہارا یونیورسٹی سے بھاگتے ہوۓ آۓ ہو کیا

نہیں تو ۔ اگر جلدی میں نہیں ہو تو سامنے کیفیٹیریا میں بیٹھ کر چاۓپیتے ہیں

پھر سہی کبھی

I will take a rain cheque

بھول گئے کیا آج ہمارا کیرم کا ٹورنامنٹ شروع ہونے والا ہے

بھولا تو نہیں لیکن میرا خیال تھا تم نے ایسے ہی مذاق میں بات کہی تھی

میں تمہیں کوئی کامیڈین لگتی ہوں ارے پیار کرتے ہو لڑکی سے تو جنگ شنگ کرو اس کے لیے تم نے تو پہلے ہی ہتھیار

پھینک دیئے ۔ کوئی بات نہیں اگر ہار بھی گئے تو کم از کم کوشش تو کرو چلو پرانی دوستی کا لحاض کرتے ہوۓ

میں تمہیں

head start

دے دونگی اب تو ٹھیک ہے نا

جس لہجے میں تم بات کر رہی ہو لگتا ہے تمہیں بہت یقین ہے اپنی جیت کا اور دیکھو اللہ میاں کو arrogance

پسند نہیں ایسا نہ ہو

جیدی مائی ڈارلنگ کچھ ایسا ویسا نہیں ہونے والا خواب دیکھنے بند کر دو اور ہاں کھیل شروع ہونے سے پہلے وضو کر کے

کچھ نفل وغیرہ پڑھ لینا شائد کوئی آسمانی مدد آ ہی جاۓ اور فکر مت کرو میں بھی تو ہوں میری دعائیں تو ہمیشہ تمہارے

ساتھ ہیں چاہے تم میرے خلاف ہی کیوں نہ کھیلو

تو پہلے کیوں نہیں بولا لیکن اس سے پہلے مجھے ہوٹل انٹر کانٹیننٹل ایک بڑا urgent فون کرنا ہے اور سنو تمہارے پاس

کوئی سرخ رنگ کا سوٹ وغیرہ ہے

اے یہ کیا بہکی بہکی سی باتیں کر رہے ہو سرخ جوڑا کسی کی شادی ہے کیا

ہاں تمہاری اسی لیے تو شہر کے سب سے اعلے ہوٹل میں

bridal suite

بک کرنی ہے مجھے

اچھا میری شادی ہو رہی ہے لیکن کس سے

مجھ سے اور کس سےتمہیں لگتا ہے کیرم کا یہ میچ تم مجھ سے جیت جاؤ گی میری مانو تو گھر جا کر دلہن بننے کے تیاریاں

شروع کر دو ۔ میچ شروع ہونے میں پندرہ منٹ باقی ہیں چلو سیدھے تمہارے گھر چلتے ہیں فون بھی وہیں سے کر لیں گے

یار عندلیب تھوڑے پیسے ادھار دے دو میرے تو اپنے پاس کوئی ڈھنگ کا سوٹ نہیں ہے اور چلے ہیں دولہا بننے

ریڈی میٹ سوٹ خرید لونگا چلو بھی اب گاڑی سٹارٹ کرو مجھے یہ میچ ہر حال میں جیتنا ہے ۔ مجھے یہ میچ ہر حال

میں جیتنا ہے مجھے یہ میچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری آج شادی ہو رہی ہے ۔ میں آج دلہن بنوں گی ۔ میں آج دلہن بنوں گی جیدی تمہیں یہ میچ میرے لئے جیتنا ہو گا

تمہیں یہ میچ ہر حال میں میرے لیے جیتنا ہو گا ۔ میں آج تمہاری دلہن بنوں گی ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 73

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

The Champion

اے دولہے راجہ تم نے سپنوں کے شیش محل وقت سے کچھ پہلے ہی نہیں تعمیر کر لئے

یہ بھی آپ کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے کہ مجھ جیسے شریف زادے کو ریس کا گھوڑا بنا دیا ورنہ شرفا اس طرح کے خرافات

سے دور کا بھی تعلق نہیں رکھتے ہماری خاندانی روایات کے مطابق سلسلہ جنبانی شروع ہوتا ہے لڑکے والے لڑکی کا ہاتھ مانگنے اس کے گھر جاتے ہیں دست سوال دراز کرتے ہیں لڑکی کو بلایا جاتا ہے جو بنی سنوری شرماتی لجاتی چاۓ اور کیک کا ٹرے لئے

کمرے میں لڑکھڑاتے ہوۓ قدموں سے اندر داخل ہوتی ہے اور پھر کپ میں چاۓ انڈیلتے وقت جان بوجھ کر گرم گرم چاۓ

بیچارے ہونے والے دولہا کے کپڑوں پر گرا دیتی ہے اور پھر اپنی ماں کے کہنے پر دولہا کے کپڑے صاف کرنے کے بہانے

اسے واش روم میں لے جاتی ہے اور پھر

اور پھر تمہارا سر اور میری یہ ٹوٹی ہوٰی جوتی ۔ ابھی کیرم کا میچ شروع بھی نہیں ہوا اور تم فرار کی راہیں تلاش کر رہے ہو

یاد رکھنا میرا فیصلہ اٹل ہے میں تیری ڈولی میں تب بیٹھوں گی جب تو مجھ سے پہلے میچ کے انتیس پوائنٹ سکور کریگا تو

نہیں تو گلبرگ کی لمبی اور کھلی سڑکیں ماپتے رہنا اور اب تو جو

head start

میں نے تیری حالت پر رحم کھاتے ہوۓ تجھے

دینے کا وعدہ کیا تھا وہ بھی میں نے

withdraw

کر لیا ہے

اچھا میرے جیتنے کی دعا تو کروگی نا کہ وہ بھی

withdraw

ہو گئی ہے

سوچوں گی اس بارے میں بھی کیونکہ اب مقابلے کی نوعیت تھوڑی مختلف ہوگئی ہے جانے کیوں مجھے یوں محسوس ہوتا ہے

جیسے تمہیں یہ گمان بلکہ یقین ہو چلا ہے کہ تم بغیر میری مدد کے بھی مجھے ہرا سکتے ہو

اور راجکماری صاحبہ کسی سے ہار مان لیں ان کی اتنی بڑی انا کو ٹھیس نہیں لگ جاۓ گی ہے نا یہی بات

کافی عقل مند ہو گئے ہو میری صحبت کی وجہ سے

لی جئے پہنچ گئے میدان جنگ میرا مطلب ہے آپ کے گھر تین منٹ رہ گئے ہیں تین بجنے میں اب اگر آپ کی آجازت ہو

تو طبل جنگ بجا دیا جاۓ تا کہ سارے تماشائی اپنی اپنی سیٹوں پر اور کھلاڑی میدان کارزار میں پہبچ جائیں and let the match begin

جیدی

کسی نے ہمیں پکارا

ہاں زریاب خان کی امی نے

آج بڑے دنوں کے بعد ہماری بڑی بیٹی کا اسم مبارک آپ کے مونہہ سے سنا ہمیں بڑا اچھا لگا بولیے کیسے یاد کیا ہمیں

ایک بات پوچھوں تم سے جھوٹ تو نہیں بولو مجھ سے اور کھاؤ اپنی بیٹی کے سر کی قسم

ارے ارے تم کافی نہیں ہو جو بار بار زریاب کو بیچ میں گھسیٹ رہی ہو پوچھو کیا پوچھنا ہے

پتہ نہیں مجھے کیوں ایسے لگ رہا ہے جیسے تم مجھ کچھ بتا نہیں رہے

آپ پہیلیاں کیوں بجھوا رہی ہیں زرا کھل کر بات کی جئے میں کچھ سمجھا نہیں

میں خود نہیں جانتی کہ میں کیا پوچھ رہی ہوں چلو

let’s start the game

زرا رکو ایک منٹ تمہاری امی جان کہاں ہیں میں یہ میچ ان کی موجودگی میں کھیلنا چاہتا ہوں

کیوں ان کی موجودگی میں کیوں میں کیا کھا جاؤں گی تمہیں اور یہ تم ادھر ادھر کی باتوں میں وقت کیوں ضائع کر رہے ہو

آپ انھیں بلوائیں گی یا نہیں ورنہ میں میچ سے اپنا نام

withdraw

کر لونگا

اچھا ٹھیک ہے جیسے تم کہو

امی ۔ امی جان زرا نیچے آئیے یہ آپ کے چہیتے آپ کو یاد کر رہے ہیں

اسلام وعلیکم خالہ جان کیسی ہیں آپ

وعلیکم اسلام جاوید بیٹا کیسا رہا تمہارا وزیرآباد کا ٹرپ

جی ٹھیک تھا اور ٹھیک تو ہونا ہی تھا ایسا ڈرائیور روز روز تھوڑا ہی نا ملتا ہے ہاں ایک بات ہے کوئی کمزور مثانے کا آدمی آپ

کی صاحب زادی کے ساتھ اگر گاڑی میں بیٹھ جاۓ تو اس کے ساتھ بڑا زاتی نوعیت کا حادثہ ہو سکتا ہے

ہاہاہا ہاہاہا مجھے تجربہ ہو چکا ہے اس حادثے کا

یہ آپ دونوں ماں بیٹا کیا بات کر رہے ہیں اور یہ مثانہ کس چڑیا کا نام ہے

جی یہ آپ کی تیز رفتاری کی بات ہو رہی ہے اور اس چڑیا کو آپکی زبان میں

urinary bladder

کہتے ہیں

جھوٹ کیوں بولا تم نے امی کے ساتھ کون چلا رہا تھا گاڑی میں یا تم اور بہادر خان تمہارا تو زور سے کھانسنے سے بھی

وی وی نکل جاتا ہے میری

over speeding

کا اس سے کیا تعلق

عندلیب

that’s very rude you should apologise

اسے کبھی کچھ نہیں کہتیں آپ ہمیشہ مجھے ڈانٹ پلاتی رہتی ہیں

میں یہاں تم دونوں کے روز روز کے بچگانہ جھگڑوں کا تصفیہ کرانے نہیں آئی بولو کیوں بلایا تھا مجھے

میں نے نہیں یہ آپ کے لاڈلے ہی اس بات پر مصر تھے کہ جب یہ میرے ساتھ کیرم کا میچ کھلیں تو آپ انکا گھٹنا پکڑ کر

رکھیں تا کہ اس کی برکت سے یہ مجھ سے جیت جاۓ

اور تم نے اسے یہ تو بتایا نہیں ہو گا کہ تم کالج چیمپئن رہ چکی ہو

اچھا میں کیرم کی چیمپئن بھی رہ چکی ہوں اوہ سوری جیدی سچی بالکل بھول چکی ہوں اب میں کیا کیا یاد رکھوں

کوئی بات نہیں مس عندلیب اب سے ٹھیک ایک گھنٹہ بعد آپ سچ مچ یہ بھول جائیں گی کہ آپ کبھی کیرم کھیلی بھی تھیں

اور ہاں آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں اگر میں اپنے

striker

کے ساتھ کھیلوں

کیوں اس کے اوپر تمہارا نام کھدا ہوا ہے کیا ہاہاہا

جی ہاں آپ نے ٹھیک کہا میں جس شہر کا رہنے والا ہوں وہ سارے بر صغیر میں چھریاں چاقو بنانے کے لیے مشہور ہے

جس میں رنگ برنگے مسالے استعمال کیے جاتے ہیں کئی برس پہلے میرے دوستوں نے مجھے تحفے کے طور یہ سٹرائکر بنا کر

دیا تھا آج اچانک یاد آ گیا میں نے سوچا اچھے دنوں کی یادگار چلو

good luck charm

کے طور پر اس سے ہی کھیل کا

آغاز کرتے ہیں خالہ جان یہ لیں سٹرائکر زرا دعا پڑھ کر اس پر پھونک دیں

ارے واہ سٹرائکر تو بہت خوب صورت ہے اور یہ اوپر کیا لکھا ہوا

The Champion

جی خالہ جان

The Champion

جاری ہے

………………………………….

شہر زاد قسط نمبر 74

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

نیوٹن ہال کا چمپئین

کیوں مسٹر خان یہ سٹرائیکر کھیلنے کے لئیے ہے یا فریم کرا کے دیوار پر ٹانگنے کے لئیے

اتنی بے چین کیوں ہیں آپ ڈولی میں بیٹھنے کے لئیے ایک گھنٹے ہی کی تو بات ہے اور پھر اوہ ساری خالہ جان معافی

چاہتا ہوں آپ کی موجودگی کا احساس ہی نہیں رہا

یہ ڈولی شولی کا کیا چکر ہے بھئی اور یہ تم معافی کس چیز کی مانگ رہے ہو

جی خالہ جان ہے تو یہ بڑی بچگانہ سی بات لیکن عندلیب نے اسے اپنے لئیے انا کا مسئلہ بنالیا ہے کہہ رہی ہیں کہ جب تک

میں ان کو کیرم کی گیم میں ہرا نہیں دونگا وہ میرے ساتھ شادی نہیں کریں گی

اوہ تو یہ بات ہے تو ٹھیک ہے میں اپنے بیٹے کے لئیے ایسی چاند سی دلہن لیکر آؤں گی کہ زمانہ دیکھے گا میرے بیٹے کے لئیے

لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں

وہ تو ٹھیک ہے خالہ جان لیکن اب یہ دو اناؤں کے ٹکراؤ کی بات ہے مجھے بھی شادی اسی لڑکی سے کرنی ہے ورنہ ساری

عمر کنوارا بیٹھا رہونگا

لیکن اس سے جیتو گے کیسے پہلے کھیلتے رہے ہو کیا

کھیلتا تھا کسی زمانے میں لیکن اب تو مدت ہوئی کبھی کیرم بورڈ کے قریب بھی نہیں گیا لیکن آپ زیادہ فکر مند نہ ہوں

میں نے اس مقابلے کی حامی صرف اس لئیے بھری تھی کہ یہ عندلیب کی خواہش تھی ورنہ میں کھیل کو صرف ایک کھیل

ہی سمجھتا ہوں ہار جیت سے زیادہ سروکار نہیں رکھتا اب بھی اگر جیت میری ہوئی جو آپ دونوں سمجھتی ہیں کہ ناممکنات

میں سے ہے تو مجھے خوشی ہو گی لیکن اگر میں ہار گیا تو کم از کم عندلیب تو اپنی جیت پر بہت خوش ہو گی اور مجھے تو اس کی

خوشی ہر شے پر مقدم ہے

اے فلاسفر تیری آدھی سے زیادہ باتیں میرے کبھی پلے ہی نہیں پڑتیں اور ابھی ابھی جو تو نے کہا وہ شائد تیری پیاری خالہ جان

کی سمجھ میں تو آیا ہو گا لیکن

it was beyond my shallow wit

ایک بات تو بتا ابھی تھوڑی دیر پہلے تو کہہ رہا تھا

کہ ایک گھنٹے کے بعد میں بھول جاؤں گی کہ میں کبھی کیرم کھیلی بھی تھی کیا کہنا چاہ رہا تھا تو

یاد نہیں ایسے ہی مونہہ سے نکل گیا ہوگا

جیدی سچ سچ بتا تو کیا کہہ رہا تھا تو دنیا کا کاہل ترین آدمی ہے سارا دن ہاتھ پر ہاتھ دھر ے بیٹھا رہے گا وقت ضائع کرے گا

لیکن تو اپنے الفاظ کبھی ضائع نہیں کرتا بنا سوچے سمجھے تو کبھی کچھ نہیں کہتا بول کیامطلب تھا اس بات کا ورنہ

ایک تو تم اتنی جلدی دھمکیوں پر اتر آتی ہو جیسے مجھ سے کوئی خدانخواستہ ناقابل معافی گناہ سرزد ہو گیا ہو میں نے تو صرف یہ کہا

تھا کہ اس کھیل کا غیر متوقع نتیجہ بھی نکل سکتا ہے ایک دو ٹرافیاں کیا جیت لیں تم تو اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھنے

لگی ہو دو ہاتھ ہی ہیں تمہارے بھی کوئی لکشمی دیوی کی طرح بارا ہاتھ نہیں

اچھا لگاؤ بورڈ پھر

you don’t know what’s going to hit you

ہاہاہا

likewise

تم بریک کرو گے یا

جی نہیں آپ کی جئیے ٹاس کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں

بیوٹی فل بریک مس عندلیب ماشااللہ آدھی گیم تو آپ نے پہلے ہاتھ میں ہی جیت لی مجھے تو لگتا ہے کہ میں یہاں بیٹھکر آپ

کا مونہہ مبارک دیکھتا رہونگا اور آپ گوٹیاں پاکٹ کرتی رہیں

میرا مونہہ دیکھنے کی بجاۓ اپنا مونہہ زرا بند کر کے بیٹھو اور مجھے زرا سکون سے کھیلنے دو لو اتنا آسان شاٹ تمہاری بک بک

کی وجہ سے خطا ہو گیا یہ لو اب تمہاری باری ہے اور نکالو زرا وہ اپنا the Champion والا سٹرائیکر ہم بھی تو دیکھیں

مسٹر وزیرآباد کی انگلیوں کی کرامات

مذاق اڑا رہی ہیں میرا کوئی بات نہیں اتنا حق تو بنتا ہی ہے آپکا خالہ جان بڑی خاموشی سے مینا کے چہکنے کی آواز سن رہی

ہیں کہیں بوریت سے نیند تو نہیں آ رہی اٹھئے جاگئے اب طوطے کی باری ہے اور دعا کی جئے طوطے مینا کی یہ کہانی زرا

جلد اپنے انجام کو پہنچے اور وہ کیا کہتے ہیں ہاں یاد آیا and they lived happily ever after اور اگر آپ اور کچھ

نہیں کر رہیں تو اپنی کلائی کی گھڑی پر وقت دیکھ لیں کیونکہ میں نے کہا تھا ایک گھنٹے سے زیادہ کا گھیل نہیں ہو گا

اے شیخ چلی تیری باری ہے اب کھیل لے وہ نہ ہو کہ دوبارا موقعہ ہی نہ ملے

عندلیب جانم ساری خانم مجھے اچانک یاد آیا کہ مجھے اپنی ایک assignment مکمل کرنی ہے اس لیے مجھے جلد از جلد واپس

ہاسٹل جانا پڑیگا اس لئے اگر آپ رضامند ہوں تو پوری انتیس نمبر کی گیم کے بجاۓ اسی ایک گیم سے فیصلہ کر

لیتیے ہیں جو جیتا وہی سکندر بولئے منظور ہے تو لائیے اپنا ہاتھ

ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں چلو لو اپنی ٹرن

دس تک کن سکتی ہو اور اگر جواب ہاں میں ہے تو شروع کر دو

ایک دو تین چار اور یہ سرخ رنگ کا جوڑا پہنے ہوۓ جو گوٹی ہے اسے کیا کہتے ہیں ہاں کوئین اور یہ گیا اسکا کورارے

عندلیب یہ گیم آپ نے شروع کی تھی نا تو اس کا مطلب ہے آپ کی سفید رنگ کی گوٹیاں تھیں بلکل آپ جیسی اور دوسری

بلیک رنگ کی تھوڑی مجھ سے ملتی جلتیں لیکن یہ اتنی کم کیسے رہ گئیں مجھے لگتا ہے یہ اس طلسماتی سٹرائیکر کا کمال ہے

ارے خالہ جان یہ عندلیب کہاں چلی گئی ابھی تو دو عدد گوٹیاں باقی رہتی ہیں مجھے لگتا ہے تیار ہونے چلی گئی ہے دلہن کو

ہار سنگھار کرنے میں کافی وقت لگتا ہو گا ارے یہ کیا ہوا

how could I miss the easiest shot in the whole universe ٹھیک ہی کہا ہے بزرگوں نے اللہ میاں کو arrogance

کسی حالت میں بھی پسند نہیں چلئے اب آپ کی

باری ہے کر دیجئے

the end

مجھے لگتا ہے اپنی ہی نظر لگ گئی مجھے

ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا اور یہ گئی میری آخری گوٹی چلئے مسٹر خان با ندھیے اپنا بوریا بستر گل برگ کی خوبصورت اور کشادہ سڑکیں آپ کا بے چینی اور بے صبری سے انتظار کر رہی ہیں اور ہاں جانے سے پہلے یہ تو بتاتے جاؤ کہ دو سال پہلے جب تم نے ایف سی کالج

کو الوداع کہا تو تمہارے ہاسٹل کیا نام ہے اس کا ہاں نیوٹن ہال وہاں کا سنگل اور ڈبلز کا چمپئین کون تھا واقف ہو تم اس

کے نام سے کیا کہا زرا زور سے کہو مجھے زرا اونچا سنائی دیتا ہے جاوید اقبال خان ارے یہ تو تمہارا نام ہے تمہارا کوئی جڑواں بھائی تو نہیں ۔ کوئی کام تمہیں ڈھنگ سے بھی کرنا آتا ہے تم سمجھتے تھے مجھے پتہ نہیں چلے گا گذشتہ روز جب میں تمہارے ہاسٹلکے باہر کھڑی تھی تو تمہارے دوست سکندر سے ملاقات ہو گئی باتوں باتوں میں نے اس سے کہا یہ تمہارے خان صاحب کہاں گم ہیں آج ہمارا کیرم کا میچ ہے اور ان حضرت کا کہیں دور دور تک پتہ نہیں کہنے لگا آپ جانتی ہیں خان ہمارے ہاسٹلکا سنگلز اور ڈبلز دونوں کا چیمپئین تھا ۔ جھوٹے مکار کہیں کے بتایا کیوں نہیں اور مجھ سے ہارنے کی کیا ضرورت تھیتمہیں ہرا کر تمہیں جیتنا مجھے اچھا لگے گا کیا ۔ اب میں چلوں گا مجھے اپنی

assignment

مکمل کرنی ہے

جاوید بیٹا تم کچھ بھول نہیں رہے

جی نہیں تو

اپنی دلہن کو ساتھ نہیں لیکر جاؤ گے

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 75

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

مولانا رومی

اے

ہونہہ

اتنا خاموش کیوں ہے

ایسے ہی

ایسے ہی کیا امی کی موجودگی میں تو بڑی بڑی باتیں کر رہا تھا اب کیوں مونہہ میں گھونگھنیاں ڈال کر بیٹھا ہے میری کسی بات

پر ناراض ہے کیا ایک بات تو بتا

میں جیت کر نہیں جیتی اور تو ہار کر نہیں ہارا

پوچھا آخر جو میں نے منصف سے

کونسا کس طرح کا کھیل تھا یہ

لب نہ کھولا کچھ نہ بولا وہ لا جواب تھا بیچارا

جیدی یہ تو شاعری ہو گئی تیری صحبت کا کچھ زیادہ ہی اثر نہیں ہو گیا مجھ پر ارے کچھ تو بول اور کچھ نہیں تو میری شاعری کی جھوٹی موٹی تعریف ہی کر دے مجھ سے بھی بات نہیں کرے گا ٹھیک ہے ہاسٹل واپس جانا چاہتا ہے نا تو چل میں تمہیں

چھوڑ آتی ہوں مجھے یاد تو نہیں لیکن اگر کچھ کہا سنا ہو تو معاف کر دینا چل اٹھ میں گاڑی نکالتی ہوں

میں ابھی ہاسٹل نہیں جانا چاہتا

میری طرف سے ابھی تو کیا کبھی بھی نہ جا میں تمہیں روزانہ یونیورسٹی چھوڑ بھی آیا کرونگی اور

کہیں باہر چلیں میرا یہاں دم گھٹ رہا ہے پلیز

ارے تو یوں کہہ کہ میرے ساتھ لمبی سی ڈرائیو پہ جانا چاہتا ہے اور یہ پلیز کہنے کی کیا ضرورت تھی اجنبی ہو اور یہ بیٹھے بٹھاۓ

آخر تمہیں ہوا کیا ہے تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا

جانے کیوں اپنے آپ کو اکیلا اور تنہا سا محسوس کر رہا ہوں

میں ہوں نا تمہارے پاس پھر بھی اور سنو I don’t give a damn تمہارے ملائکہ والے پر اگر جلتے ہیں تو جلا کریں مجھے جو

کرنا چاہئیے میں کرونگی اور تم بعد میں مجھے لعنت ملامت کرتے رہنا

آخر ایسا کیا کرنا چاہتی ہیں آپ جو

کیا کرنا چاہتی ہوں میں

I want to give you a hug

اور کیا کرنا چاہتی ہوں

اے چھوڑو مجھے اب اور یہ مجھے آگے پیچھے سے ٹٹول کرکیا چیک کر رہی ہو

کچھ نہیں صرف اپنی تسلی کر رہی تھی کہیں تمہارا دودھوں دھلا جسم کہیں سے ٹوٹ پھوٹ تو نہیں گیا اور

thank god

تمہارے پر بھی کہیں سے جلے ہوۓ نہیں لگتے کم از کم مجھے کہیں سے دھواں اٹھتا ہوا تو دکھائی نہیں دیا

مذاق اڑایا جا رہا ہے میرا ۔ اے مسز خان تھینک یو اس

TLC

کے لئیے

یو آر ویری ویلکم مسڑ خان اور یوں چھپ چھپ کر چوری چوری سے میرے دل کے دروازے پر دستک کیوں دیتے ہو

تم میری زندگی میں ایک مسیحا بن کر آۓ تھے میرے بیمار جسد میں اپنے پیار کی روح ڈال کر تم نے مجھے پھر سے جینا

سکھا دیا مانا کہ میں اب بھی ٹھیک نہیں ہوں مگر تمہارے ہر مرض کا تریاق ہے میرے پاس تمہارے سبھی دکھوں دردوں

کا مداوا بن سکتی ہوں میں لیکن میں جب بھی تمہاری طرف ایک قدم بڑھاتی ہوں تم دو قدم پیچھے ہٹ جاتے ہو اور یہ

فاصلے یہ دوریاں دن بدن بجاۓ کم ہونے کے بڑھتی جاتی ہیں

ارےبابا آپ کہاں اور کن بھول بھلیوں میں کھو گئیں اور میں بھلاکیوں آپ سے دور بھاگنے لگا اور ویسے بھی آپ نے نہ صرف میرے بقول آپکے نازک اندام ہاتھ پاؤں میں اپنے پیار کی بیڑیاں ڈالی ہوئی ہیں بلکہ سوچوں پر بھی پہرے بٹھا رکھے ہیں

کرام الکاتبین بھی شائد کبھی کبھار اللہ میاں سے ایک آدھ دن کی چھٹی لیکر ادھر ادھر چلے جاتے ہونگے لیکن آپ کے یہ

چوکیدار “ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد “ کے مصداق اپنی جگہہ سے ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔

جھوٹے کہیں کے تم تو گرگٹ کے بھی باپ نکلے ایک منٹ میں رنگ بدل لیا ابھی تھوڑی دیر پہلے کہہ رہے تھے میں کتنا

اکیلا اور تنہا ہوں میرا یہاں دم گھٹ رہا ہے اب اتنے بڑے بڑے ڈائیلاگ بولتے ہوۓ تو تمہارا دم الٹا نہیں ہوا اب

تو مجھے لگ رہا ہے یہ سارا ڈرامہ تم نے مجھے گلے لگانے کے لئیے رچایا تھا ہم کسی ڈرائیو کے لئیے نہیں جا رہے نکلو یہاں

سے اور جاکر تھوڑی ٹھنڈے ہوا کھاؤ ویسے بھی بنا کسی مقصدکے راستہ بھولی ہوئی گاۓ کی طرح سڑکوں پر مارے مارے پھرنا

تمہارا پسندیدہ مشغلہ ہے آوارہ گرد کہیں کا

اے یہ آوارہ گرد کسے کہہ رہی ہو اور اگر کہنا ہی ہے تو کم ازکم راہ آورد تو کہو خاص کر تمہارے لئیے ترکی اور بلخ کے

حسین اور خوبصورت ملاپ سے بنا کر بھیجا گیا ہوں

آوارہ گرد ہو یا کیا بولا تم نے راہ آورد

what in the name of grace is this

اے یہ کس بلا کا نام ہے یا

کوئی نئی کستوری ڈھونڈ کر لاۓ ہو

تم سے زیادہ خوشبودار کستوری تو کوئی ہو نہیں سکتی لیکن راہ آورد

souvenir

کو کہتے ہیں کسی بلا کو نہیں انگریزی کی

بجاۓ تھوڑی اپنی قومی زبان پڑھ کیتیں تو کل کلاں مجھے اگر اپنے کام دھندے کےسلسلہ میں کہیں دوسرے شہر یا ملک جانا

پڑ گیا تو خط و کتابت کیسے کروگی

کیوں انگریزی میں خط لکھنا اس ملک کی خارجہ پالیسی کے خلاف ہے کیا

نہیں لیکن اردو میں اپنی محبوبہ کو پیار بھری چٹھیاں لکھنے کا لطف ہی کچھ اور ہے Dear Andleeb یا اسی طرح کی

کوئی اور opening line ہو گی تو تم بغیر پڑھے خط اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دوگی

اچھا اور اگر اردو میں خطاطی کرو گے تو کیا کہو گے “ جان من عندلیب “ sooooooo cheesy

نہیں آدھی رات کو قندیل جلا کر بیٹھوں گا اور مولانا رومی کی شہرہ آفاق مثنوی سے آغاز کرونگا

امروز چو هر روز خرابیم خراب

مگشا در اندیشه و برگیر رباب

صدگونه نماز است و رکوعست و سجود

آنرا که جمال دوست باشد محراب

Today we’re wasted with the spirit. Drunk like every day

Lock up your angst and musings. There is music you must play

There are a hundred ways to make prostrations in that Mosque

Where a Beloved’s beauty is your Mecca. Turn and pray

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 76

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

سرمد شہید

سرمد تو حدیثِ کعبہ و دیر مَکُن

در کوچۂ شک چو گمرہاں سیر مَکُن

رو راہ روی ز شیطان آموز

یک قبلہ گزیں و سجدۂ غیر مَکُن

سرمد تو کعبے اور بُتخانے کی باتیں مت کر، شک و شبہات کے کوچے میں گمراہوں کی طرح سیر مت کر، مستقل مزاجی سے اپنی راہ پر چلنا شیطان سے سیکھ، ایک قبلہ پسند کر لے اور غیر کو سجدہ مت کر

کیا ہوا تھا تمہیں

کب

ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے تو کہہ رہے تھے مجھے یہاں گھٹن سی محسوس ہو رہی ہے یہ تم اکثر کھوۓ کھوۓ سے کیوں رہتےہو

تم میرے پاس ہوتے ہوۓ بھی پاس نہیں ہوتے بتاؤ نا کیا بات ہے

کچھ بھی تو نہیں تمہیں ایسے ہی وہم ہو چلا ہے

وہم کیسا تم میرےسامنے تو بیٹھے ہوتے ہو اور مجھے باتیں کرتے کرتے کئی دفعہ احساس ہوتا ہے کہ تم مجھے دیکھ تو رہے ہو

مگر میری آواز تمہارے کانوں تک نہیں پہنچ رہی بولو نا کچھ تو ہے کیا چھپا رہے ہو مجھ سے میں تو اپنے دل کی ہر بات تم سےبلا جھجک کہہ دیتی ہوں یہاں تک کہ وہ باتیں بھی جو میں امی سے بھی نہیں کہہ پاتی ارے بول نا کیا غم ہے تجھے

شیخ فریدالدین عطار کہتے ہیں:

بجز غم خوردنِ عشقَت، غمے دیگر نمی دانم

کہ شادی در ہمہ عالم ازیں خوشتر نمی دانم

تیرے عشق کے غم کے سوا مجھے کوئی اور غم نہیں ہے اور میں سارے جہان میں اس سے بہتر خوشی کی کوئی اور بات نہیں جانتا کہ مجھے فقط تیرا غم ہے۔

بہت خوبصورت شعر ہے لیکن ہزار بار کہہ چکی ہوں لفظوں کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش مت کیا کر جو پوچھ رہی ہوں

اس کا جواب دے

عجیب بے زوق قسم کی لڑکی ہے

کوئی بات نہیں بابا تم تو پنجے جھاڑ کر پیچھے ہی پڑ جاتی ہو بات صرف اتنی سی ہے کہ میں پچھلے چار پانچ برس سے ہاسٹلز میں رہ رہا

ہوں جو میری طبیعت اور مزاج سے بالکل متضاد ہے مجھے گھرمیں اپنی فیملی اپنے عزیز و اقارب کیساتھ رہنا زیادہ اچھا لگتا ہے

یہاں ہاسٹل میں کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میرا نہ تو کوئی گھر بار ہے نہ کوئی فیملی ایک ایسا شخص جس کا کوئی وجود

ہی نہیں نہ کوئی نشان اور نہ ہی کوئی منزل ایک

void

سا ہے زندگی میں خلا میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہوں ۔ اے کہاں چلدی

اٹھ کر میں نے اپنی بات تو ابھی مکمل بھی نہیں کی ۔ مجھے تو چھوڑ بہت پیار آ رہا ہے آج

کیوں جس سے پیار کرتی ہوں اس پر پیار نہیں آۓ گا تو کیا کسی ناآشنا کو گلےلگا لوں ۔ یہ سب میری وجہ سے ہے میں اتنی

خودغرض ہوں کہ اپنے اور اپنی بیماری کے علاوہ کسی چیز کو اہمیت ہی نہیں دیتی تمہیں بھی نہیں ورنہ جو سوال میں اب کر رہی

ہوں وہ مجھے ہفتوں پہلے تم سے پو چھنا چاہئیے تھا اور تم بھی تو مجھ سے کوئی چیز شئیر نہیں کرتے آخر کیا حیثیت ہے میری

تمہاری زندگی میں ۔ پیار کے علاوہ کیا ہم بہت اچھے دوست نہیں ہیں میری امی کو تم ماں نہیں سمجھتے یہ گھر کیا اب بھی

صرف میرا ہی گھر ہے جیدی میں تمہاری کچھ لگتی بھی ہوں یا نہیں

ارے ایسا نہیں ہے تمہارے تو اپنے ڈھیروں مسائل ہیں اوپر سے اپنی غلط سوچوں کا بوجھ بھی تم پر لاد دوں ایسا نہ مجھ سے

ہو گا اور نہ ہی میں کرونگا ۔ ہم کسی اور

topic

یا ایشو پر بات نہیں کر سکتے

ہاں کر تو سکتے ہیں کیونکہ جب تم کسی چیز کا جواب نہیں دینا چاہتے تو فرار کی راہیں ڈھونڈتے ہو خیر پھر سی کبھی وزیرآباد

جاتے ہوۓ راستے میں تم نے زکر کیا تھا کہ الفلاح سینما میں ڈاکٹر زواگو لگی ہوئی ہے کب جانا چاہتے ہو تاکہ میں

ایڈوانس بکنگ کرا لوں اور کونسا وقت تمہیں سوٹ کرے گا

یہ تمہارا کام ہے سو تم جانو مجھے کونسے سولا سنگھار کرنے ہیں پاجامہ قمیض میں بھی کہو گی تو چل پڑوں گا

تو ٹھیک ہے رات کو بارا سے صبح کے تین بجے والا شو دیکھیں گے میں بھی نائٹی پہن کر آ جاؤنگی پورے کا پورا باکس ہی

ریزرو کر لونگی جب تک دل چاہے گا فلم دیکھیں گے اگر بیچ میں نیند آ گئی تو پڑے سوتے رہیں گے صبح اٹھ کر تم تو

مسجد شہدا جو قریب ہی ہے وہاں نماز پڑھ آنا اور میں اتنی دیر میں تمہارے لئیے گوالمنڈی چوک سے روغنی نان گرما گرم

پاۓ کا سالن اور نمکین کشمیری چاۓ لے آؤنگی اور اب تم بولو پھر کیا کریں گے تمہارا سر ہر چیز کا فیصلہ مجھے ہی کرنا

ہے تو تم پھر کس مرض کی دوا ہو

ۂاہاہا بہت حسین لگتی ہو غصے میں اور تم بھی نا ایک منٹ میں ہتھے سے اکھڑ جاتی ہو میرا کہنے کا مطلب تھا تم جب بھی کہو گی

میں تمہیں تیار ملونگا میرے خیال میں چھ سے نو بجے والا شو ہی ٹھیک رہے گا کیونکہ آخری شو دیکھنے بیٹھ گئے تو تمہیں

گھر پہنچتے پہنچتے رات کے دو ڈھائی بج جائیں گے یہ فلم ہے بھی کافی لمبی اور جہاں تک زندگی کےسارے فیصلے تمہارے

اختیار میں دینے کا تعلق ہے تو یہ سستی نہیں تم پر اعتماد اعتبار اور اعتقاد ہے میرا اسی لئیے سب کچھ تمہاری رضا پر چھوڑ

دیا ہے اوراگر میں یہ نہیں کر سکتا تو تمہارے پیار کا دم کیسے بھر سکتا ہوں وہ کہتے ہیں نا کہ

سرمد گلہ اختصار می باید کرد

یک کار ازیں دو کار می باید کرد

یا تن برضائے یار می باید داد

یا قطع نظر ز یار می باید کرد

سرمد گلے شکوے کو مختصر کر، ان دو کاموں میں سے ایک کام کر، یا اپنے آپ کو یار کی رضا پر چھوڑ دے، اگر رضائے محبوب تجھے گراں گزرتی ہے تو پھر تو یار سے تعلق رکھنے کا شوق چھوڑ دے

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر ۷۷

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

کوچہ دوست

عندلیب خان تم کیا سارا دن میرے ہاسٹل کے باہر بیٹھی پہرہ دیتی رہتی ہو

ہاں ۔ حافظ شیرازی کہتے ہیں

عَلی الصباح چُو مردم بہ کاروبار رَوند

بلا کشانِ محبّت بہ کوئے یار روند

صبح صبح جیسے لوگ اپنے اپنے کاروبار کی طرف جاتے ہیں، محبت کا دکھ اٹھانے والے عشاق بھی ایسے ہی اپنے دوست کے کوچے کی طرف نکل جاتے ہیں۔

میں تمہارے نام کی تسبیح پڑھتے ہوۓ سوتی ہوں ساری رات تمہارے سپنے دیکھتی رہتی ہوں بستر چھوڑنے سے پہلے پانچ منٹ تک تم سے من ہی من میں باتیں کرتی ہوں اور جب تمہاری گستاخیاں میری شوخیوں سے بڑھ جائیں تو سونے والے کمرےسے بھاگ کھڑی ہوتی ہوں اور جب اپنے ہوش و حواس میں آتی ہوں تو تمہارے ہاسٹل کے گیٹ کے سامنے کھڑی ہوتی ہوں کب تیار ہوئی

کس وقت ناشتہ کیا کب اپنی دوائیاں کھائیں گاڑی میں بیٹھی کچھ یاد نہیں ہوتا کیا تم اب بھی مجھے اس بات کا الزام دو گے

کہ میں ہر وقت یہاں تمہارے ا نتظار میں کیوں کھڑی ہوتی ہوں کہو تو تمہارے اگلے سوال کا جواب بھی ابھی دے دوں کیونکہ

مجھے پتہ ہے اب تم کہو گے کہ مجھ سے ملنے سے پہلے کیا کرتی تھیں وہی جو اب کرتی ہوں تمہارا انتظار تمہارے بارے میں سوچتی رہتی تھی کب ملو گے کیسے ملو گے کہاں ملو گے کیسے پہچانوں گی کہ تم ہو کیسے جانوں گی کہ تلاش ختم ہوئی میرے پاؤں کہتے ہم لیکر چلیں گے تمہیں یار کی گلی

آنکھیں کہتیں جسے دیکھتے ہی ہم شرم سے جھک جائیں وہی تیرا محبوب ہو گا اور دل دل کیا کہتا تھا دل کہتا تھا جیسے ہی تیری آنکھیں بند ہوں میری دھڑکن تیز ہو کر رک جاۓ تو سمجھ لینا کہ تیری منزل تیرے سامنے ہے – مجھے اچھا لگتا ہے تیرا انتظار کرنا

تیرا ہجر تیرا انتظار ہی تو میری زندگی کی بقا ہے میری حیات کی بچی کھچی گھڑیاں اگر انتظار کے بیٹے کے انتظار میں گذر جائیں تو

سودا برا نہیں لوگوں کی تو عمریں گذر جاتی ہیں محبوب کی گلی کے چکر کاٹتے پھر بھی وصل یار سے محروم رہتے ہیں میں تو بڑی

خوش نصیب ہوں جب بھی چاہتی ہوں تیرا دیدار کر لیتی ہوں تھوڑا انتظار ہی تو کرنا پڑتا ہے ۔

سرمد غمِ عشق بوالہوس را نہ دہند

سوزِ دلِ پروانہ مگس را نہ دہند

عمرے باید کہ یار آید بہ کنار

ایں دولتِ سرمد ہمہ کس را نہ دہند

اے سرمد، غمِ عشق کسی بوالہوس کو نہیں دیا جاتا، پروانے کے دل کا سوز کسی شہد کی مکھی کو نہیں دیا جاتا، عمریں گزر جاتی ہیں اور پھر کہیں جا کر یار کا وصال نصیب ہوتا ہے، یہ سرمدی اور دائمی دولت ہر کسی کو نہیں دی جاتی

اے میری شکنتلا دیوی یہ صبح سویرے شاستر وں کی کونسی کتاب پڑھ کر آ رہی ہو

اے میرے راجہ اندر وہی جو تیرے سامنے کب کی کھلی پڑی ہے جسے پڑھنا تو درکنار تو چھوتے ہوۓ بھی شرماتا ہے ویسے یہ اشعار شاستروں سے نہیں تیری ڈائری سے پڑھے تھے اور پتا ہے وہ تمہاری چہیتی کیا کہہ رہی تھی تمہارے بارے میں

تمہارے علاوہ بھی کوئی چہیتی ہے میری

ہے تبھی تو کہہ رہی ہوں

اب آگے بھی کچھ بولو گی یا مونہہ کھلوائی کے بھی پیسے دینے پڑیں گے تمہیں

میں زینب کی بات کر رہی ہوں

بی بی نے تم سے کچھ کہا اور وہ بھی میرے بارے میں جھوٹی کہیں کی مجھے وہ خود ہر بات کہہ بھی سکتی ہیں اور کہتی بھی ہیں

تیرے جیسی وکیل کی ضرورت انھیں کب سے پڑنے لگی

جب سے باری تعالہ نے اسے عورت زات پیدا کیا ہے اسے سمجھنے اور سمجھانے کے لئیے ایک اور عورت کی ضرورت ہوتی ہے

مانا کہ وہ تم سے دل کی بہت سی باتیں کہہ دیتی ہیں لیکن ہر بات نہیں

آپ مجھے کوئی بات بتانے والی تھیں میں بڑی بے چینی سے انتظار کر رہا ہوں اب کہہ بھی ڈالئیے اور مہربانی کر کے عورتوں کی نفسیات پر لیکچر کسی اور وقت کے لئیے اٹھا رکھئیے

ارے بھئی ایسی بھی کیا بے چینی ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ باتوں باتوں میں زینب کہنے لگیں کہ شادی بیاہ کا بھی کوئی ارادہ ہے

اور میرے جواب کا انتظار کئیے بغیر کہنے لگیں جاوید دنیاوی معاملات میں زرا لاپرواہی کی حد تک سست ہے اس لئیے سبھی کام

تمہیں خود ہی کرنے ہونگے شادی کے لئیے گواہان قاضی وغیرہ وغیرہ اسے بتانےکی بھی ضرورت نہیں پاؤں میں بیڑیاں پہنا کر

کھینچتے ہوۓ لے جانا ورنہ قیامت تک کنواری بیٹھی رہو گی یہ آخر والا فقرہ میں نے اپنے پاس سے لگا دیا ہے

یہ سارا قصہ مجھے سنانے کی آخر کیا ضرورت تھی

صرف تمہیں زہنی طور پر تیار کر رہی ہوں کیونکہ میں اس معاملے میں زینب بی بی سے سو فیصد متفق ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ جلد یا بدیر مجھے تمہارے ساتھ یہی کرنا پڑیگا

تو میری غیر موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوۓ آپ دونوں نے اور کیا کیا گل افشانی کی میرے بارے میں اور مجھے یقین ہےکہ تم ہی کچھ نہ کچھ کہتی رہی ہو گی اور وہ آگے سے ہوں ہاں کر کے تمہیں جواب دیتی رہی ہونگی

جی نہیں حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے وہ بنا سانس لئیے تمہاری باتیں کرتی رہیں جاوید یہ جاوید وہ اور میں خاموشی سے بیٹھی

سنتی رہی سنتی رہی اور سنتی رہی آخر مجھ سے نا رہا گیا تو میں نے ان سے ایک سوال پوچھا صرف ایک سوال “ آپ کو

جاوید کیسا لگتا ہے “ سوال سن کر تھوڑی دیر کو چپ ہو گئیں جیسے سوال کی گہرائی کو ماپ رہی ہوں پھر بولیں “ میری زبان

سے پوچھ رہی ہو میری آنکھوں سے یا پھر میرے دل سے “ میں نے کہا آپ سے کہنے لگیں اگر یہی سوال میں تم سے کروں تو

جو جواب تمہارا ہو گا اس میں میری رضا بھی شامل کر لینا

تم اکثر اس بات کی مجھ سے شکایت کرتی ہو کہ تمہیں میری آدھی سے زیادہ باتیں سمجھ نہیں آتیں تو سمجھ لو ابھی ابھی جو تم نے مجھ سے بات کی وہ بالکل میرے پلے نہیں پڑی زرا آسان لفظوں میں کہو

جیدی صرف ایک فقرہ کہونگی اس سے زیادہ نہیں اور اس کے بعد مزید سوال بھی نہیں کرنا

“ زینب نے ساری دنیا تو چھوڑ دی ہے لیکن تمہیں نہیں “

اور چھوڑے گی بھی نہیں کیونکہ مجھ میں وہ اسے دیکھتی ہے جس کے لئیے اور جس کے ساتھ وہ مر نہ سکی اور اب برسوں

سے دن میں سو بار مرتی ہے اور پھر بھی مر نہیں پاتی اور اب تم بھی کوئی سوال نہیں کرو گی ۔ اور ایک بات تو بتاؤ

تم دونوں اس اندھیری کوٹھڑی میں اس طرح باتیں کر رہی تھیں جیسے دن کا اجالہ ہو اور تم ایک دوسرے کو دیکھ بھی

سکتی ہو

جیدی تمہیں سمجھ تو نہیں آۓ گی پھر بھی سن لو

“ اندھیرا جتنا گہرا اور تاریک ہوتا ہے عورت کی آنکھیں اتنی ہی زیادہ دیر اور دور تک دیکھ سکتی ہیں “

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 78

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

ڈائری

میری ڈائیری پڑھی تھی تم نے

ہاں لکھی ہوئی چیز پڑھنے کے لئیے ہی ہوتی ہے سو میں نے پڑھ لی کیوں تم نے فریم کرا کے دیوار پر ٹانگنی تھی کیا

ڈائری بڑی زاتی نوعیت کی چیز ہے

کوئی بات نہیں میں بھی تمہاری زات ہی کا ایک حصہ ہوں بلکہ بڑا حصہ شمسی حساب سے بھی اور جسمانی لحاض سے بھی

تمہارے ایسے کونسے راز تھے جو مجھ پر عیاں ہو گئے ہیں تم نے پہلے کبھی نہیں بتایا تمہاری کوئی گرل فرینڈ بھی ہے چیزیں

چھپاتے ہو مجھ سے وہ تو اگر تم اپنا بیگ گاڑی میں نہ بھول جاتے تو مجھے کبھی پتہ بھی نہ چلتا کہ تم روزانہ ڈائری بھی لکھتے

ہو امی کو جب میں نے بتایا کہ تمہاری ڈائری میرے ہاتھ لگ گئی ہے تو انہوں نے چھوٹتے ہی کہا کسی کی پرسنل

چیزوں کے بارے میں انکی اجازت کے بغیر جانکاری حاصل کرنا اخلاقیات کے منافی ہے اس وقت تو میں نے انھیں

کہہ دیا کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں اور سچی میں اس وقت میں نے تمہارا بیگ اٹھا کر اپنی بیڈ سائڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور

بالکل اس کے بارے میں بھول گئی یہ تو رات کو سونے سے پہلے اچانک میری نظر تمہارے بیگ پر پڑی اور اس کے بعد

صبح کے چار بجے تک ایک طرف تم تھے اور دوسرے جانب تمہاری کبھی شربتی اکھیوں والی اور کبھی

angle eye

اور کبھی غزالی آنکھوں والی گرل فرینڈ اور تم دونوں کے درمیان بڑے مزے سے گرما گرم کافی کے پیالے کے ساتھ میں

لیٹی ہوئی تھی ۔ ڈائری پڑھتے پڑھتے صبح کی نماز کا وقت ہو چلا تھا سو نماز بھی پڑھ لی اور اللہ میاں سے اپنے اس

چھوٹے سے گناہ کی معافی بھی مانگ لی

اور آپ کو معافی مل گئی کیوں مل گئی اور کیسے مل گئی جب کہ گناہ گار آپ میری ہیں اللہ میاں کی نہیں اللہ سبحان و تعالہ کی

ڈائری یا ڈائریاں پڑھنے پر کوئی قدغن نہیں بلکہ بنا پڑھے اور جانے انپر عمل پیرا کیسے ہونگی اس لئیے خود بھی ان کا مطالعہ کریں

اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں لیکن بات میری ڈائری کی ہو رہی تھی اس لئیے اس گناہ کی جزا یا سزا دینابھی میرا اسحقاق

ہے فجر کی نماز کی ادائیگی کا اجر آپ کو ملے گا لیکن آپ کو مجھ سے معافی مانگنی ہوگی بصورت دیگر آپ کو سزا ملے گی

معافی اور وہ بھی تم سے مونہہ دھو رکھو اپنا البتہ سزا دینے کا اختیار ہے تمہیں اور میں بھگتنےکے لئیے تیار ہوں بولو کیا سزا ہے

اور ہاں سزا تجویز کرنے سے پہلے یہ مت بھولنا کہ ہم ایک جان اور دو قالب ہیں جتنی چوٹ مجھے لگے گی اس سے زیادہ

تکلیف تمہیں ہو گی

یہ یاددہانی کرانی کیا ضروری تھی سزا سنانے کا سارا مزہ ہی کرکرا کر دیا ۔

مجھے سزا ملے گی اور آپ اس سے لطف اندوز ہونگے that is sadistic یہ آخر کس طرح کی محبت ہے لوگ محبوب کے حصول کے لئیے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں اور آپ اس کی جان لینے پر تلے ہوۓ ہیں آخر میں نے ایسا کیا کیا ہے جس کی پاداش میں آپ مجھے قابل مصلوب سمجھتے ہیں

اوہ تو آپ ابھی تک اپنے آپ کو معصوم سمجھ رہی ہیں جی نہیں میری پیاری سی دولہنیا

گفتار میں، کردار میں، زبان میں، اختیار اور بے باکی میں حد سے تجاوز اچھا نہیں ہوتا یہاں تک کہ دوست کا دیدار بھی اس کی منشا سے زیادہ نہیں کیا جاتا چہ جائیکہ ان امور میں آپ اپنی حدود خود طے کرنے لگ جاؤ

قبولِ خاطرِ معشوق شرطِ دیدار است

بحکمِ شوق تماشا مکن کہ بے ادبی است

دوست جس حد تک پسند کرے اسی حد تک نظارہ کرنا چاہیئے، اپنے شوق کے موافق نہیں دیکھنا چاہیے کہ یہ بے ادبی ہے

آپ شائد اس لیے اسے برا نہیں سمجھتیں کیونکہ آپ نے اس ڈائری جو بھی پڑھا سب کچھ آپ سے متعلق تھا لیکن

وہ سب باتیں آپ سے منسوب ہونے کے باوجود آپ کی نہیں تھیں میری تھیں ۔ آپ نے میری اور میرے محبوب کی باتیں

چھپ کر سننے کا جو اخلاقی جرم کیا ہے اس سے میں تھوڑا

embarrassed

سا محسوس کر رہا ہوں

ہاہاہا Jedi , my darling, always A Puritan

بولو کیا سزا ہے میری بلکہ ہم دونوں کی

زرا قریب آئیں گی میرے

کیوں یہاں سے نہیں کہہ سکتے میں اونچا تو نہیں سنتی

کان میں کہنے والی ہے

اچھا بابا اب کہہ بھی چکو لو آگئی پاس اے تھوڑا زور سے تو بول

بس اتنی سی بات اور تو اسے سزا کہہ رہا ہے تو نے کہا کان میں کہنے والی ہے تو میں سمجھی خیر چھوڑ میری سمجھ کو

تو چاہتا ہے کہ میں تیری ڈائری کے چند اوراق اونچی آواز میں تمہیں پڑھکر سناؤں اور یہی میری سزا ہے

ہاں اور جہاں سے میں کہوں وہیں سے تم پڑھنا شروع کرو گی یہ لو یہاں سے شروع کرو اور جب تک میں نہ کہوں پڑھتی رہو

ٹھیک ہے دولہے راجہ

your wish is my command “

آج یادوں کی بارات کی شام ہے پتہ نہیں کیوں سارا دن

شہنائیوں کی آواز میرے کانوں میں گونجتی رہی وقت کاٹے نہیں کٹ رہا پتہ نہیں عندلیب کیا کر رہی ہو گی “

کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئیں

میں نہیں پڑھونگی آگے مجھ سے نہیں پڑھا جاۓ گا مجھے شرم آتی ہے تمہارے سامنے یوں پڑھتے ہوۓ یہ کیسی سزا ہے

میں نے کب کہا کہ یہ سزا ہے میں نے تو صرف مشرقی عورت کی شرم وحیا کے آئینے کو تمہارے اس خوبصورت سے

چہرے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور دیکھنا چاہتا تھا کہ تم کتنی دیر تک بغیر پلکیں جھپکاۓ اس میں دیکھ سکتی ہو

کیوں لکھا ہے تم نے یہ سب کچھ

کہہ نہیں سکا تم سے سو لکھ دیا

کیوں نہیں کہہ سکے میں تو انتظار کرتی رہی کہ تم کب کہو گے اور میں کب سنوں گی

جس وجہ سے تم آگے پڑھ نہیں سکی اسی وجہ سے میں تمہیں کہہ نہیں سکا

اب کہہ دو

نہیں

پلیز جیدی میرےلئیے صرف ایک دفعہ

نہیں

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 79

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

قصہ آدم علیہ السلام اور ابلیس

ایک بات پوچھوں تم سے

بس ایک ہی پوچھنا

نفل پڑھوں گی اگر تم نے ایک کا بھی ایمانداری سے جواب دے دیا تو

آج ہی پوچھو گی یا

ہاں ہاں آج ہی بلکہ ابھی ۔ نہاتے ہو کبھی

یہ کس طرح کا سوال ہے

میرا مطلب ہے کپڑے وغیرہ پہن کر نہاتے ہو یا نہاتے وقت ان کو اتار دیتے ہو

کیوں تم کیوں پوچھ رہی ہو اور دیکھو اگر تم نے کوئی ایسی ویسی بات کی تو

نہیں یونہی میں سوچ رہی تھی کر اگر تو تم نارمل لوگوں کی طرح کپڑوں کی قید سے آزاد ہو کر نہا رہے ہو اور اچانک

تمہاری نظر اپنے ہی جسم پر پڑ جاۓ تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ تم

excuse me

کہہ کر گھبراہٹ میں بنا سوچے

سمجھے باتھ روم سے باہر نکل آؤ گے

ہاہاہا very funny مذاق اڑا رہی ہو میرا

یہ مذاق نہیں تھا تم اتنے شرمیلے ہو کہ تم سے بعید نہیں کہ تم اپنی آنکھیں بند کر کے باتھ ٹب میں بیٹھتے ہو گے مجھے یاد ہے

تم نے کہا تھا ایک ہی سوال پوچھنا لیکن لگے ہاتھوں ایک اور بات بھی بتا ہی دو

میں سن رہا ہوں بولتی جاؤ

اس ڈائری میں جو کچھ تم میرے بارے میں لکھتے ہو کبھی دوبارا اسے پڑھتے بھی ہو یا جو لکھ دیا سو لکھ دیا

دوبارا پڑھنے کی کیا ضرورت ہے میرے ہاتھوں کا لکھا ہوا ہے میں اس کی زیر زبر پیش سے واقف ہوں

آخر تم کہنا کہا چاہ رہی ہو

کچھ نہیں پہلے کی طرح کا ایک اور آوارا سا خیال زہن میں آیا کہ اگر تمہیں اپنی ہی میرے بارے میں لکھی گئی باتیں

کبھی پڑھنے کو دل چاہے تو تم تو شرم سے اپنی آنکھوں کے آگے ہاتھ رکھ لو گے کہ کہیں تم اپنے آپ ہی کو یہ کام کرتے

ہوۓ نہ دیکھ لو

یہ آپ میری برائی کر رہی تھیں یا اچھائی بیان کر رہی تھیں ۔ میں نے سنا بھی ہے اور پڑھا بھی ہے کہ حضرت عثمان غنی

رضی اللہ تعالہ عنہا اتنے شرمیلے تھے کہ نہاتے وقت کبھی اپنے جسم کیطرف نہیں دیکھتے تھے ۔

جیدی ایک بات تو بتا

کتنے سوال کرو گی آج تمہارے لئیے میری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے جہاں سے چاہو جب چاہو اور جیسے چاہو پڑھ لو

میں تو سمجھتا تھا ہم دونوں ایک دوسرے کے خیالات تک پڑھ لیتے ہیں پھر یہ سوال کیوں

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مجھے تمہارے مونہہ سے سننا اچھا لگتا ہے اور دوسری یہ کہ اگر ہم باتوں کی بجاۓ آنکھوں سے

باتیں کریں گے تو جن نگاہوں اور جتنے پیار سے تم میری طرف دیکھتے ہو مجھے حجاب سا محسوس ہونے لگتا ہےاور میں

بے چینی کا شکار ہو جاتی ہوں

اچھا پوچھو پھر کیا پو چھنا چاہتی ہو

میں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ تم بولتے بولتے اچانک رک جاتے ہو اور پھر بات کا رخ کسی اور جانب موڑ دیتے ہو اور

کل رات جب میں تمہاری ڈائری پڑھ رہی تھی تو وہی چیز مجھے تمہاری تحریر میں بھی نظر آئی

تم جانتی ہو نا کہ حضرت آدم اور اماں نے جب شجر ممنوعہ چکھ لیا تو کیا ہوا

تم بتاؤ کیا ہوا

درخت کا پھل کھاتے ہی دونوں کے ستر کھل گئے اور وہ پتوں سے اپنے جسموں کو ڈھانپنے لگے اسی وقت اللہ رب العزت کی ندا آئی “کیا میں نے تمہیں اس درخت سے روکا نہ تھا اور نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے رب کریم کے اس عتاب سے آدم و حوا بہت پشیمان ہوئے لیکن ابلیس کی طرح نافرمانی کرنے کی بجائے رب تعالیٰ سے معافی کے طلبگار ہوئے ۔آدم و حواعلیھما السلام نے رب تعالیٰ سے التجا کہ ”اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا،اب اگر تو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہوجائیں گے “ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا تو قبول فرما لی لیکن جنت تو پھر بھی ہاتھ سے گئی

اور اس سارے واقعے کا میرے سوال سے کیا تعلق ہے مولانا بلخی صاحب

میری نظر میں تو ہے ۔ میں جب بھی آپ سے باتیں کرتے ہوۓ یا اپنی ڈائری میں آپ کے بارے میں کچھ لکھتے ہوۓ کسی

ایسے مقام ہر پہنچتا ہوں جہاں مجھے حجاب سا محسوس ہونے لگے شرم آنے لگے ۔ شرم جس کا احساس انسان کی فطرت میں

ودیعت ہے یہ کوئی اکتسابی چیز نہیں ہے اور نہ تہذیب کے ارتقا سے مصنوعی طور پر پیدا ہوئی ہے، بلکہ ایک ایسا احساس ہے جوخدا نے انسان کے اندر الہام کر دیا ہے اور جیسے ہی مجھ پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے میں فوری طور پر رک جاتا ہوں

اور پھر اپنی باتوں یا جو کچھ میں لکھ رہا ہوں اس کا رخ کسی اور طرف موڑ دیتا ہوں کیونکہ میرے لئیے کسی بھی ایسی چیز کو

احاطہ تحریر یا تقریر میں لانا جس سے تمہارے رخ زیبا پر پڑی ہوئی چلمن ہٹ جاۓ شجر ممنوعہ کھانے کے مترادف ہو گا جس

کی سزا کے طور پر تم عندلیب میری جنت مجھ سے چھین لی جاۓ گی

استعارہ ہی سہی لیکن میں کیا تمہاری جنت ہوں

نہیں تو اور کیا حوروں کو کرہ ارضی کے لئیے تخلیق کیا گیا تھا

میں حور ہوں کیا

جو بھی ہو پر یہاں کی تو نہیں لگتی اور کسی دوسری دنیا سے میں واقف نہیں

چاپلوس flattery is not going to get you anywhere

اچھا how about love

پاس آ کر کہہ پھر سوچوں گی

بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا

شیطان کہیں کا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 80

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

کب لینے آؤں میں تمہیں

تو اب کیا صرف دیکھنے آئی تھیں

ہاں صبح سویرے دیوتا کے درشنوں کے لئے آئی تھی سو کر لئے

کوئی پھول شول بھی لائی ہو دیوتا کے چرنوں کے لئیے

ہاں لائی تو ہوں لیکن چرنوں کے لئے نہیں ور مالا ہے کہو تو گلے میں ڈال دوں

تم کہہ رہی تھیں دیکھنے آئی تھی تو مونہہ دکھائی میں کیا دو گی

مونہہ کے بدلے مونہہ میں گاڑی سے نیچے اتروں یا تم گاڑی کے اندر آؤ گے

بس بس ایسی باتوں میں تجھے مات دینے کے لئے مجھے دوسرا جنم لینا پڑیگا

اسی لئے تجھے سو بار کہا ہے اپنے زبان سے بولا کر میری زبان کو اپبے مونہہ میں ڈالے گا تو نہ تو نگل سکے گا

اور نہ ہی اگل سکے گا چاہئیے تو بول

اتنی بڑی زبان اپنے ہی پاس رکھ ۔ فلرٹ کہیں کی

ہا ہا ہا تو تو بڑا پارسا ہے نا اور سن یہ معصوم سا چہرہ اپنی چہیتی خالہ جان کو دکھایا کر میں جانتی ہوں تیرا اصلی روپ تو

جان بوجھ کر مجھ سے

double meaning

کے سوال پوچھتا ہے اور میں بھی تیرے ہی وجود کا ایک حصہ ہوں وہی جواب

دیتی ہوں جو تو سننا چاہتا ہے چٹخارے بھی لیتے ہو اور پھر بھولا سا مونہہ بنا کر کہتے ہو گندی گندی باتیں کیوں کرتی ہو شرم نہیں

آتی تمہیں ۔ ہاں نہیں آتی پھر تجھے آتی ہے نا جا جا کر دوبارا سر کے سارے بال کٹا اور مجاور بن کر کسی خانقاہ میں

بھکشوؤں کی طرح بیٹھ جا کام چور تو ہے ہی مفت کی روٹیاں توڑنا

ہاہاہا خالہ جان کہتی ہیں عندلیب کی شخصیت کا یہ رخ میں نے تمہارے آنے سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا

کونسا رخ

یہی سوال جب میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگیں جب تک تم اس کی زندگی میں داخل نہیں ہوۓ تھے یہ کافی سنجیدہ اور

خاموش طبع لڑکی تھی لیکن اب تو ایسے لگتا ہے جیسے اس کی کایہ ہی پلٹ گئی ہو یہ پہلے والی عندلیب تو لگتی ہی نہیں

اب بھی جب تک تم آ نہیں جاتے اپنے کمرے میں لیٹی کتابیں پڑھتی رہتی ہے لیکن جیسے ہی تم گھر میں داخل ہوتے ہو

چپ کیوں ہو گئیے آگے بولو کیا کہا انہوں نے

آگے تم بتاؤ

کیا بتاؤں

یہی کہ میرے آ نے سے پہلے زندگی کیسی تھی میری قربت میں وقت کیسے گذرتا ہے اور میرے جانے کے بعد کیا کرتی ہو

یا میرے جانے کے بعد کیا کروگی

اتنے سارے سوال اور اتنا تھوڑا وقت پھر بھی کوشش کرتی ہوں ۔ تمہارا یہ سوال تھوڑاٹھیک نہیں کیونکہ تم سے پہلے کا مطلب تو یہ ہوا کہ میری زندگی میں ایک ایسا وقت بھی تھا جب تم نہیں تھے میں ایسی کسی چیز یا خیال کے متعلق بات کرنا تو

درکنار اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی کیونکہ تم ہمیشہ سے میرے لا شعور کے کسی گوشے میں مستور تھے پھر بھی اگر تو جاننا ہی

چاہتا ہے تو میں یہی کہہ سکتی ہوں

چو عشق را تو ندانی، بپرس از شب ھا

بپرس از رُخِ زرد و ز خشکیِ لب ھا

“ چونکہ تو عشق کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتا سو پوچھ ان راتوں سے جو عشاق پر گزرتی ہیں، عشاق کے ان زرد چہروں اور لبوں کی خشکی سے پوچھ کہ عشق کیا چیز ہے “ تمہارے آنے سے پہلے “ ایک کبھی نہ ختم ہونے والی لمبی طویل سرد اور تاریک رات

خزاں آلود خشک پتے بیمار جسم گلیوں اور بازاروں کی خاک چھانتی ہوئی آوارہ اور بے چین روح اور کیا سننا چاہتا ہے اور

وہ کہتے ہیں نا

ہزار گونہ ادب، جاں ز عشق آموزَد

کہ آں ادب نتواں یافتن ز مکتب ھا

جان، عشق سے، ہزار قسم کے ادب آداب سیکھتی ہے اور یہ ایسے ادب آداب ہیں کہ کسی مکتب میں نہیں سکھائے جاتے

سو میں نے بھی اپنے ان دیکھے اور انجانے محبوب کے عشق سے سرشار ہو کر اپنا سفر جاری رکھا اور تمہاری جستجو اور

تلاش میں سرگرداں رہی اور جب تم مل گئۓ تو بقول مولانا رومی

مردہ بدم زندہ شدم، گریہ بدم خندہ شدم

دولتِ عشق آمد و من دولتِ پایندہ شدم

میں مُردہ تھی زندہ ہو گئی ، گریہ کناں تھی مسکرا اٹھی ، دولتِ عشق کیا ملی کہ میں خود ایک لازوال دولت ہو گئی

اور سن تیرا آخری سوال کہ “ تیرے جانے کے بعد “ تو کس کی بات کر رہا ہے تجھے لگتا ہے میں تجھے جانے دونگی

میرے دل کے سو دروازے نہیں ہیں جن سے تیرا آنا جانا لگا رہے گا ۔ ایک دریچہ تھا جو کھلا اور پھر ہمیشہ کے لئیے

بند ہو گیا ۔ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر ۸۱

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Cupid and Psyche

داسی نے اپنے دیوتا کے چرن تو چھو لئیے اب کیا اس کی مورتی کو چرانے کا ارادہ ہے

ہاں ہے تو روز روز یہاں آنے سے بہتر ہے اسے ساتھ ہی لے جاؤں

اور رکھو گی کہاں اتنی بڑے مورتی کو

یہاں اپنی چھاتی سے لگا کر رکھوں گی اور کہاں

پتھر کی ہے سوچ لو

اچھا تم کچھ بھول نہیں گئیے یہ چھاتی زریاب کی ماں کی ہے آخر کتنی دیر لگے گی اس کے پتھر دل باپ کو موم ہوتے ہوۓ

ایک دن ایک سال ایک صدی ایک عمر آخر کتنی دیر ایک دن تو یہ برف پگھلے گی میں اس دن اس گھڑی اس لمہے کا

انتظار کرونگی

اے انگریزی میڈیم تجھے کیا ہو گیا ہے یہ سچ مچ تو ہی ہے یا

Erato

کی روح تو تجھ میں حلول نہیں کر گئی آجکل بات بات پر

حافظ شیرازی اور مولانا روم اور خدا جانے کس کس کے شعر پڑھے جا رہے ہیں اور وہ بھی اہل فارس کے لہجے میں

“ ایراٹو “ ہونہہ ۔ چور کہیں کے میں نے غلطی سے تمہاری پرسنل ڈائری کیا پڑھ لی تم تو مجھے صلیب پر چڑھانے والے تھے

اوراب یہ کیا ہے Erato کہاں سے پڑھکر آۓ ہو یہ نام تم ماسٹرز معاشیات میں کر رہے ہو یا یونانی مائتھالوجی میں دیکھوجھوٹ

مت بولنا آج صبح ہی جب میں نے امی سے پوچھا کہ یہ میرے

Thesis

کی کاپی لائبریری کے ٹیبل پر کیوں پڑی ہوئی ہے

تو پتہ ہے انہوں نےکیا جواب دیا

“ stop pointing fingers

سواۓ ایک آدمی کے اس کمرے میں کوئی نہیں جاتا “

اب تم بتاؤ اس گھر میں کتنے آدمیوں کا آنا جانا رہتا ہے سواۓ تمہارے گھرکے نوکر

greek mythology

پڑھکر کیا

nectar اور ambrosia

بنا کر ہمیں کھلایا کریں گے

اے خوامخواہ میں الزام تراشی مت کرو اور یونانی دیومالا پر تمہاری کیا اجارہ داری ہے کہ تمہارے سوا اسے کوئی پڑھ ہی نہیں

سکتا اور معاف کی جئیے گا کسی کی پرسنل ڈائری اور مقالے میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور آپ ایسا کیوں سمجھتی ہیں کہ

مجھے سواۓ اکنامکس کے کچھ اور آتا ہی نہیں میں نے بھی بہت سے یونانی دیوی اور دیوتاؤں کے بارے میں پڑھ رکھا ہے

ہاں ہاں ان میں سے چند ایک تو شائد تمہارے قرابت دار بھی ہوں کیونکہ تمہارے آباؤاجداد ترکی سے آۓ تھے اورترکی اور

یونان کی سرحدیں آپس میں تھوڑی بہت ملتی بھی ہیں

عندلیب بیکم میں نے تو بڑی فراخدلی سے آپ کی فارسی شاعری پر دسترس کی تعریف کی تھی لیکن آپ نے تو میرے خلاف

محاز جنگ کھول لیا ہے اس کا مطلب ہے آپ مجھ پر اعتماد نہیں کرتیں اور میں نے کہیں پڑھا تھا ٹھیک طرح سے یاد نہیں

کب اور کہاں لیکن وہ فقرہ مجھے اتنا اچھا لگا کہ میں نے اسے زبانی یاد کر لیا سنیں گی آپ

بولو

I am all ears

ویسے بھی تم اوروں کی کہی اور لکھی ہوئی باتیں مجھ پر اپنے علم کا دھونس جمانے کے لئیے ایسے

سناتے ہو جیسے وہ تمہاری کہی ہوئی ہیں

آپ نے جو ابھی ابھی ہماری انسلٹ کی اسے ہمیں وقتی طور پر نظر انداز کر دیں گے اور اپنی بات کو جاری رکھیں گے

ہاں تو ہم کہہ رہے تھے کہ آپ ہم سے محبت کا دعوی بھی کرتی ہیں اور ہم سے اتنی بدظن بھی ہیں کہ ہماری کہی ہوئی ہر

شے آپکو جھوٹ اور فریب لگتی ہے میرا گمان ہے کہ

Cupid

کو بھی کچھ ایسی سچویشن درپیش تھی اسلئیے اس

نے

Psyche

جو کہ اس کی محبوبہ تھی سے کہا تھا

“without trust there can be no love “

اور یہ

phrase

تو نے کہیں پڑھی تھی پر تجھے یاد نہیں کہ کہاں ۔ جھوٹاکہیں کا یہ سب کچھ تو میرے تھیسس میں سے

پڑھکر آ رہا ہے اور بن ایسے رہا ہے جیسے سو سال پہلے پڑھا تھا جیدی تیرے جیسا چور میں نے آج تک نہیں دیکھا

میرے ہی گھر میں نقب لگاتا ہے اور چرایا ہوا مال بھی مجھے ہی بیچ رہا ہے مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے وہ مقالہ میں نے

نہیں تو نے لکھا تھا اور دیکھ غلط بات نہ کہا کر میں خدانخواستہ بد ظن کیوں ہونے لگی تم سے میں تو یہ سب کچھ پیار میں

کہتی ہوں کیونکہ مجھے تیرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا اچھا لگتا ہے اور امی تو اکثر یہ کہتی ہیں کہ اس نوک جھونک کے بغیر تم

دونوں کا کھانا ہضم نہیں ہوتا

ارے باتوں میں یاد ہی نہیں رہا تم پوچھ رہی تھیں کب لینے آؤں ۔ ہم کہیں جا رہے ہیں کیا

اوہو تو آپ کو حسب معمول یاد ہی نہیں کہ ہمیں کہیں جانا بھی ہے تو ٹھیک ہے میں بھی بتانے والی نہیں یاد آ جاۓ تو

مجھے کہیں سے فون کر دینا اچھا اللہ حافظ

ارے ارے رکو تو ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر کیوں سوار رہتی ہو مجھے یاد آگیا ہم لوگ شام کو ڈاکٹر زواگو دیکھنے

جا رہے ہیں لیکن اس وقت آپ کی تشریف آوری کا مقصد میرا مطلب ہے فلم کے لئیے تو ہمیں شام کو نکلنا ہے نا

ہاں ہاں مجھے بھی پتہ ہے لیکن تم کسی اور طرف نہ چل نکلو اس لئیے یاد دہانی کے لئیے آئی تھی پھر سے یاد کر

لو کہیں اور تو نہیں جانا تمہیں

ملا کی دوڑ مسجد تک ہاسٹل سے کیمپس اور کیمپس سے واپس ہاسٹل اور کہاں جانا ہے مجھے

تیرے ملا اور مسجد سے مجھے کسی کا لطیفہ یاد آگیا “ایک نوجوان لڑکی کا زہنی توازن کچھ ٹھیک نہیں تھا بہت سے دوا دارو

سے بھی کوئی آفاقہ نہ ہوا تو کسی عزیز نے مشورہ دیا کہ لگتا ہے لڑکی پر کوئی آسیب آ گیا ہے اس لئیے اسے کسی مولوی

کے پاس لے جائیں شائد دم درود سے ہی ٹھیک ہو جاۓ لڑکی کے والدین اس بات پر راضی ہو گئے اور اپنی بیٹی کو

لیکر علاقے کی مسجد کے امام کے پاس چلے گئیے اور اسے کہا کہ کوئی وظیفہ وغیرہ پڑھیں تا کہ جنات اس لڑکی کا پیچھا

چھوڑ دیں مولانا صاحب کہنے لگے کسی بھوت پریت کا سایہ نہیں جوان جہان لڑکی ہے شادی کر دیں خود بخود ٹھیک ہو

جاۓ گی ماں باپ کہنے لگے اس حالت میں اس کے ساتھ کون شادی کریگا مولانا صاحب تو جیسے سہرہ تکیے کے نیچے ہی

رکھ کر بیٹھے ہوۓ تھے ایکدم سے بولے میں ہوں نا مجھ سے بیاہ دیں لڑکی کو اس نیک کام کی ابتدا مجھ سے ہی کیوں نہ ہو

لڑکی نے یہ سنتے ہی اپنے آٹھ نمبر کے پاؤں سے جوتا اتارا اور مولانا صاحب کی دھلائی کر دی مولانا بہت چیخے چلاۓ کہ

مجھے اس لڑکی سے بچاؤ لیکن ماں باپ وہاں سے بھاگ لئیے کہ لڑکی پر تو اب جن آ گئیے ہیں اب تم جانو اور یہ جن “

مس عندلیب اوروں کا تو مجھے علم نہیں لیکن جو بھوت آپ کے سر پر سوار ہے نا وہ بھی صرف اور صرف ۔۔۔۔۔

ہے ہمت تو آگے بول کیونکہ میرے جوتے کا سائز بھی آٹھ ہی ہے

سچ کہہ رہی ہو بول دوں پھر نہ کہنا جیدی تو ایسی باتیں کہتا ہے تو مجھے شرم آتی ہے تم سے

جھوٹ تمہیں اس طرح کی باتیں آتی ہی نہیں

کہہ دوں پھر سر نہ ہلا آگے سے مونہہ سے بول

تیری مرضی بول چاہے نہ بول لیکن

don’t give those suggestive looks

مجھے شرم آتی ہے

اے

کیا ہے

مجھے پھر سے تم سے پیار ہو گیا ہے

مجھےبھی سن تو نے ابھی ناشتہ تو نہیں کیا ہو گا میں تیرے لئے سینڈوچ بنا کر لائی تھی یہ لیتا جا کینٹین سے چاۓ لیکر

کھا لینا دیکھنا بھولنا نہیں شام کوملیں گے انشااللہ

انشااللہ

I love you

ہاں ہاں

I know you do

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 82

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

ٹشن

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

مسڑ خان تیار ہیں ارےےےےے یہ تم ہو ہم لوگ فلم دیکھنے جا رہے ہیں یا تمہاری کوئی

modelling assignment

ہے آج تو بڑے

dashing

لگ رہے ہو تمہارےارادے مجھے کچھ زیادہ

honourable

نہیں لگ رہے ہو جاۓ پھر آج

کیا ہو جاۓ آج

وہی جو پہلے کبھی نہیں ہوا

کیوں آج کیا ہوا ہے

آئینہ نہیں دیکھتے کیا

my beau has never looked so handsome

پہلے میرے پاس آ جلدی سے تیری نظر تو

اتاروں ٹھہر پہلے مجھے ڈارک گلاسز پہن لینے دے کہیں میری اپنی نظر ہی نہ لگ جاۓ تمہیں

دیکھ تیرے ہاتھ لگنے سے بہتر ہے تیری نظر لگ جاۓ پر میں تیرے پاس آنے سے رہا

ہاہاہا ا چھا چل اندر گاڑی میں تو بیٹھ ورنہ فلم کےلئیے لیٹ ہو جائیں گے

لی جئیے صاحب ہم اندر آ گئیے اور اب زرا ہم اپنی دلہن کا ہار سنگھار بھی دیکھ لیں کہ آپ ماشااللہ کیا پہن کر آئی ہیں

کیوں دولہے میاں ہم لوگ بائی سکوپ دیکھنے جا رہے ہیں یا کسی کی بارات پر مدعو ہیں جو مجھے بن سنور کر آنا چاہئیے تھا

یار عندلیب تم بھی نا بعض اوقات پینڈو عورتوں کی طرح

behave

کرتی ہو آج ہملوگ میرا مطلب ہے مسٹر اور مسز

خان پہلی دفعہ کسی

social event

کے لئیے اکٹھے جا رہے ہیں اس لئیے زرا ٹشن سے جانا چاہئیے

مجھے یہ تو پتہ نہیں کہ یہ ٹشن وشن کیا ہوتا ہے لیکن میں تو بل باٹم اور ٹاپس پہن کر آئی ہوں اور اگر تمہیں یہ ٹھیک نہیں لگ

رہا تو واپس گھر چلتے ہیں میں جلدی سے یہ والے کپڑے بدل کر کوئی سکرٹ وغیرہ پہن لونگی

ارے بابا میں نے ایسے ہی مذاق میں اپ سے کہا تھا ورنہ آپ تو ہر لباس میں شہزادی ہی لگتی ہیں

دیکھ میاں مٹھو چوری چاہیے تو بول لیکن مسکہ لگانے کی ضرورت نہیں

تیری بنا شکر کی چوری میرے حلق سے نیچے نہیں اترتی اس لئیے خود ہی کھا لے اور اس سے پہلے کہ میں تیری چکنی چپڑی باتوں میں

بھول جاؤں تجھے پتہ ہے نا یہ فلم کافی لمبی ہے تین گھنٹوں سے کم نہیں ہو گی اگر پورے نو بجے بھی ختم ہو پھر بھی سینیما گھر سے

نکل کر میرے ہاسٹل پہنچتے پہنچتے رات کے دس بج جائیں گے اور پھر آدھ پون گھنٹہ آپ گاڑی میں بیٹھ کر گپیں مارتی رہیں گی

صاف صاف کہو جو کہنا چاہتے ہو

and stop beating around the bush

بہت زیادہ لیٹ نہیں ہو جاؤ گی تم میرا مطلب ہے اتنی رات گئے اکیلی سفر کرو گی مجھے فکر لگا رہے گا

تو پھر کیا کروں ساری رات تمہارے ہاسٹل کے باہر گاڑی میں بیٹھی رہوں

نہیں ایسا کرتے ہیں کہ واپسی پر تم مجھے اوریگا سنیما کے پاس اتار کر گھر چلی جانا اور میں وہاں سے کوئی رکشہ پکڑ لونگا

تمہارے دماغ میں بھس تو نہیں بھرا ہوا میں رات کو گیارا بجے تمہیں ایک ویران سنسان سڑک پر چند آوارہ کتوں کی

رفاقت میں چھوڑ خود آرام سے گھر کی راہ لوں مجھے تو رات بھر چین کی نیند نہیں آۓ گیء

میں تمہاری طرح لڑکی تو ہوں نہیں جو مجھے کوئی اٹھا لے جاۓ گا اور یہ لاہور ہے یہاں لوگ سوتے ہی کب ہیں

ہاں ہاں تم تو جیسے ہرکولیس ہو نا چلو چھوڑواس بحث کو بعد میں طے کر لیں گے کہ کیا کرنا ہے کیونکہ ہم الفلاح

پہنچ چکے ہیں اور اب جلدی سے سوچو گاڑی کہاں پارک کرنی ہے

سوچنا کیا ہے وہ سامنے

PIA

آفس اور

Snack Bar

کے درمیان جو جگہہ ہے وہاں کھڑی کر دو

ارے واہ دولہے راجہ اس ایریا میں رکشا ٹیکسی چلاتے رہے ہو کیا

جی نہیں یہاں سے دس بارہ منٹ کے فاصلے پر آپ کا سسرال ہے کہو تو وہاں لے چلوں فلم کسی اور روز دیکھ لیں گے

ہاہاہا

I love your sense of humour

یہ مذاق نہیں حقیقت ہے وہ سامنے اسمبلی ہال کے بغل میں جو کھلا سا میدان ہے اسے روڑا گراؤنڈ کہتے ہیں کیونکہ یہ چھوٹے

چھوٹے کنکروں سے بھری ہوئی ہے اور یہاں پر میں اور میرے ماموں زاد بھائی باقی دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتے تھے

اچھا بابا مان لیا آپ روڑا گراؤنڈ کے روڑے ہیں فلم شروع ہونے میں زیادہ دیر نہیں اس لئے کچھ کھانے پینے کا سامان لے

آؤ مجھے تو ابھی سے اتنی سخت بھوک لگ رہی ہے میں جا رہی ہوں باکس نمبر ایک میں آ جانا میں نے سارا باکس ہی

بک کر لیا تھا

فلم دیکھنے آئی ہو یہاں پر یا پیٹ پوجا کرنے اور یہ سارا باکس بک کرانے کی آخرکیا ضرورت تھی گیلری میں بیٹھتے ہوئی آپ

کی شان میں کوئی کمی واقع ہو جاتی ہے اور سنو اسراف اللہ تعالہ کو پسند نہیں

مجھے اسراف کا مطلب نہیں آتا اس لئیے میری طرف سے تم اللہ تعالہ سے معافی مانگ لینا اور باکس میں نے اس لیے

بک کرایا ہے کہ

I have some health issues

اور تم سے تو اب میں نے دس منٹ تک بات نہیں کرنی سارا

دن تو میں تمہیں لانے لیجانے میں گذار دیتی ہوں اب بھی بھاگتی ہوئی تمہاری طرف آئی تھی شام کی چاۓ تک نہیں پی

ویسے بھی روٹی سے زیادہ تو میں دوائیاں کھاتی ہوں اور یہ کھانے کا سامان میں تمہارے لئے منگوا رہی تھی اپنے لئے نہیں

جا رہا ہوں جا رہا ہوں ناراض کیوں ہو رہی ہو اور دیکھو یہاں اگر روٹھ کر بیٹھ جاؤ گی تو مجھے منانے کا صرف ایک ہی

طریقہ آتا ہے کہو تو ابھی آزما لوں ورنہ تھوڑا انتظار کر لو جب تک ہم لوگ باکس میں نہیں پہنچ جاتے وہاں صرف ہم

دونوں ہی ہونگے اور اندھیرا بھی اور

I am not buying your health issues story

کیوں چٹکیاں کاٹتی ہوں میں تمہیں جو مجھ سے دور بھاگتے ہو اتنے ہی ڈرو ہو تو نیچے جا کر ہال میں بیٹھ جانا

اب جاؤ گی بھی یا کھڑے کھڑے باتیں بناتی رہو گی میں جا رہا ہوں

اے عندلیب کہاں بیٹھی ہو روشنی سے ایکدم اندھیرے میں آیا ہوں کچھ دکھائی نہیں دے رہا کہیں غلط باکس میں

تونہیں آ گیا

اب آ ہی گئے ہو تو خاموش رہو فلم شروع ہو چکی ہے اور سنو غلط باکس میں تو نہیں آۓ لیکن جس لڑکی کے ساتھ

فلم دیکھنے آۓ ہو وہ ضرور غلط ہے ہاہاہا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 83

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Someday we’ll meet again

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

جیدی

جی میں سن رہا ہوں

مجھے سردی سی لگ رہی ہے

سچ کہہ رہی ہو یا

میں زیادہ دیر تک ایر کنڈیشنڈ برداشت نہیں کر سکتی میرا جسم دکھنے لگتا ہے

تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا گھر سے کوئی شال وغیرہ ساتھ لے آتے

لائی تو تھی لیکن گاڑی میں بھول آئی ہوں

ارے تو ایسے کہو نا میں جا کر لے آتا ہوں

نہیں میں تمہارے ساتھ چلونگی تم دائیں بائیں دیکھے بغیر روڈ کراس کرتے ہو

اچھا تو اب مجھے ہر جگہہ تمہاری انگلی پکڑ کر جانا ہو گا کیا

ارے بھئی اگر آپ لوگ خاموش نہیں بیٹھ سکتے تو باہر چلے جائیں ہمیں تو چین سے فلم دیکھنے دیں

جیدی چپکے سے نکل چل یہاں سے نہیں تو

these people are going to lynch us

مائی گاڈ عندلیب

it was so embarrassing

مجھےلگتا ہے ہماری آواز کچھ زیادہ ہی اونچی تھی اس لئیے گیلری میں سے

کسی کو ہمیں

shut up call

دینی پڑی

یہ سارا تمہارا کیا دھرا ہے کیوں اتنی اونچی آواز میں بولتے ہو

میں نے کیا کیا ہے تمہیں بے جا ضد کر رہی تھیں کہ میرا ہاتھ پکڑ کر لے چلو گی کہیں میں کسی گاڑی کے نیچے نہ آ جاؤں

جیسے کہ میں کوئی دودھ پیتا بچہ ہوں

اچھااچھا ٹھیک ہے میں یہاں کھڑی ہوں یہ لو گاڑی کی چابی اور بھاگ کر پچھلی سیٹ سے شال اٹھا لاؤ

یہ لو اپنی شال اور سنو اب جب تک فلم ختم نہ ہوجاۓ گونگے کا گڑ کھا کر بیٹھی رہنا آواز نہ آۓ مجھے تمہاری

اوکے باس

بڑی خاموش ہو کچھ کہو گی نہیں کیسی لگی فلم

تمہیں بتایا تو تھا فلم میں نے پہلے دیکھی ہوئی ہے

it is a classic

ڈیوڈ لین کی ساری فلمیں

masterpiece

ہوتی ہیں فلم

کا ہر فریم قابل دید ہے

it is really spellbinding

انقلاب کے

backdrop

میں بنی ہوئی فلموں کا انجام عام

طور پر المناک ہی ہوتا ہے لیکن

it was really tragic the way Yuri died

تم کہو تمہیں کیا اچھا لگا

سب کچھ مائیکل جارے کا

Lara’s Theme was so nostalgic melancholic and heart-rending

کچھ عجیب سی دل کو اداس کر دینے والی

tune

تھی لیکن ہم لوگ

فلم کے بارے میں پھر کسی وقت بات کر لیں گے ابھی تو آپ گاڑی لیکر گھر جائیں اور میں رکشہ پکڑ کر اپنے ہاسٹل کی

راہ لونگا ورنہ مجھے ڈراپ کرنے کے چکر میں آپ آدھی رات کو گھر پہونچیں گی

مسٹر خان میں اس وقت رات کے نوبجے آپ سے کسی قسم کی بحث کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں اور میری طبیعت بھی

کچھ ناساز سی ہے اس لیۓ آپ نہ تو رکشا پکڑیں گے اور نہ ہی میں آپ کو ہاسٹل ڈراپ کرنے جا رہی ہوں

تو ٹھیک ہے جیسا کہ میں نے آپ سےپہلے بھی کہا تھا میرے ننیھال یہاں قریب ہی رہتے ہیں میں رات وہاں بسر کر

لونگا اور صبح ہاسٹل کی راہ لونگا اب تو خوش ہیں آپ

جی نہیں

read my lips

تم کہیں نہیں جا رہے آج کی رات تم اپنے سسرالی مہمان ہو کوئی اگر مگر کرنے

کی کوشش بھی کی تو جہاں تم رات گذارو گے اسی چھت کے نیچے تمہاری بیوی بھی تمہارے ساتھ ہو گی اور اب اچھی

طرح سوچ کر فیصلہ کرلو “ تمہاری سسرال یا میری سسرال “

گھر سے پلان کر کے آئی ہو مجھے یقین ہے تم نے میرے سونے وغیرہ کا انتظام بھی پہلے سے کر دیا ہو گا

“ نہ گھوڑا دور نہ ہی میدان “ گھر جا کر خود ہی دیکھ لینا

اور خالہ جان وہ کیا سوچیں گی یار عندلیب تم بھی نا بعض اوقات مجھے

moral dilemmas

میں پھنسا دیتی ہو

دیکھ وہ کہتے ہیں نا ارے کیا کہتے ہیں ہر ٹیلی ویژن ڈرامے میں ہاں یاد آیا

tension

تو بھی زیادہ ٹینشن مت لے

اور ایک تو مجھے تیری سمجھ نہیں آتی تو جو کہتا ہے نا اس طرح کی باتیں ہمارے معاشرے میں لڑکیاں کرتی ہیں لیکن یہاں

پر تو گنگا ہی الٹ بہہ رہی ہے اگر مجھے یا میرےگھر والوں کو کسی قسم کا اعتراض نہیں تو تمہیں کیا پرابلم ہے

چلیے بیگم صاحبہ گاڑی سٹارٹ کی جئیے آپ سے بھلا باتوں میں کون جیت سکتا ہے

یہ ہوئی نا بات اب آرام سے آنکھیں بند کر لو

and enjoy the ride

جی ٹھیک کہا آپ نے

I have been taken for a ride

La La Lala

La La La Lala

Hon Hon Hon Hon

Hey Jedi , That’s beautiful, what’s it

Lara’s theme, you want me to sing it for you

Never stop

Somewhere my love there will be songs to sing

Although the snow covers the hope of Spring

Somewhere a hill blossoms in green and gold

And there are dreams, all that your heart can hold

Someday we’ll meet again, my love

Someday whenever the Spring breaks through

You’ll come to me, out of the long-ago

Warm as the wind, soft as the kiss of snow

Lara, my own, think of me now and then

Godspeed, my love, till you are mine again

Warm as the wind, soft as the kiss of snow

Godspeed, my love, till you are mine again

That’s so romantic ,Jedi

Shall we sing together

Someday we’ll meet again , my love

Someday we’ll meet again

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 84

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

تم ہو نا میرے پاس

یہ آپکا گھر اندھیرےمیں کیوں ڈوبا ہوا ہے

میں یہاں تمہارے ساتھ گاڑی میں بیٹھی ہوں مجھے کیا پتہ لائٹ چلی گئی ہوگی فیوز اڑ گیا ہو گا اب نیچے اتر کر گیٹ تو کھلواؤ

جیسے آپکا حکم ملکہ عالیہ

ارے بھئ کوئی ہے گیٹ تو کھولو

جی صاحب جی کھول رہا ہوں ایک منٹ رکئے زرا

کیوں میاں گھر میں بلیک آؤٹ ہے انڈیا کے ساتھ جنگ تو نہیں چھڑ گئی کہیں

نہیں صاحب جی اللہ نہ کرے زرا لائٹ چلی گئی ہے لیجئے آ بھی گئی

جیدی تم اندر جاؤ میں گاڑی کو گیراج میں چھوڑ کر آتی ہوں

اسلام و علیکم خالہ جان

وا علیکم السلام ۔ کیسے ہو جاوید بیٹا

جی ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں

شکر ہے اللہ کا تم بیٹھو میں تم دونوں کے لئیے کھانا لگواتی ہوں

جی ہم نے وہاں سنیما میں ہی تھوڑا بہت کھا لیا تھا اس لئیے کوئی خاص بھوک نہیں

اے چڑیا کی چونچ اپنی بات کر مجھے تو بڑے زوروں کی بھوک لگی ہے سلام امی جان

جیدی اٹھ جا کر مونہہ ہاتھ دھو کر زرا

fresh

ہو جا ایسے ہی نہ بیٹھ جانا کھانے کے لئیے

ارے تیرا پیٹ ہے یا گیہوں کا کھیت کتنی دفعہ کھاتی ہو دن میں

جب تو کما کر کھلاۓ گا تو گن لینا میرے مونہہ کے نوالے اب اٹھ

کیوں اسے غلط سلط باتیں کہتی رہتی ہو

پہل اس نے کی تھی” پیٹ گیہوں کا کھیت “ بھلا کوئی ایسے بھی کہتا ہے پرائی لڑکیوں کو ۔ گستاخ کہیں کا

اچھا وہ پرایا کب سے ہو گیا اور تم لوگوں نے فلم دیکھی بھی تھی یا وہاں بھی تمہاری جملے بازی چلتی رہی اور کہیں سنیما

مالکان نے تمہیں تھیٹر سے نکال باہر تو نہیں کیا

ہاہاہا آپ نے اچھا یاد دلایا آج اس کی بھی نوبت آ ہی گئی تھی بس بال بال بچ گئے اور یہ بھی انھی مہا شے کی بدولت

ان کی سرگوشی کم اور خر گوشی زیادہ ہوتی ہے اورآپ کو لگتا ہے کہ میں اس سے الٹی سیدھی باتیں کرتی ہوں حالانکہ

حقیقت اور سچائی یہ ہے کہ میں اسے ہمیشہ وہی کہتی ہوں جو اسے میرے مونہہ سے سننا اچھا لگتا ہے میں کھاتی پیتی اور

پہنتی بھی اسی کی مرضی سے ہوں وہ میرا چھوٹا بھائی بھی ہے اور بہن بھی میری سب سے عزیز سہیلی بھی اور جو وہ

ہے وہ تو ہے ہی

اور وہ کیا

میرا جیدی ۔ میرا پیارا سا جیدی

آپ مجھے یاد کر رہی تھیں کیا

اے میں نے تمہیں مونہہ ہاتھ دھونے کے لئیے کہا تھا تم کیا راستے ہی سے واپس آ گئیے ہو

ہاں تمہیں نے تو کہا تھا کہ آج سے ہر جگہہ تمہاری انگلی پکڑ کر چلا کروں سو آدھ راستے ہی سے واپس آ گیا

اچھا بڑے فرمانبردار ہو گئیے ہو چلو اور کیوں نہ لگے ہاتھوں تمہارا

nappy

بھی چینج کرا دوں

اے اٹھو تم دونوں باقی نوک جھونک ڈنر ٹیبل پر کر لینا اور میں سونے جا رہی ہوں رات کے گیارا بجنے کو ہیں

عندلیب یہ سب کچھ کیا ہم دونوں کھائیں گے

نہیں تم کہتے ہو تو پڑوسیوں کو بھی دعوت نامہ بھیج دیتے ہیں ارے بابا جتنی بھوک ہے اتنا کھا لو نہیں تو اچھے بچوں کی

طرح گرم دودھ کا ایک گلاس پی کر سو جانا لیکن مجھے تو کچھ کھانے دو چل دودھ کوچھوڑ کچھ میٹھا کھا لے

ٹھیک ہے مجھےتھوڑی سی

Rice Pudding

ڈال دو اور یہ مجھے عجیب سی نظروں سے کیوں دیکھ رہی ہو اب کیا کیا میں نے

میں تمہیں نہیں تمہیں دیکھ رہی ہوں

یہ کیا بات ہوئی بھلا

ایک وہ ہے جو میرے سامنے کھڑا ہے اور دوسرا یہاں جو میرے دل میں ہے

اچھا تو پھر میں کیا ہوں

ایک پرچھائیں جو سامنے ہے وہ جسم ہے اور جو میرے دل میں ہے وہ میری روح اور میں ان دونوں کو ایک دوسرے

میں مدغم کر دینا چاہتی ہوں تاکہ میں آئینے میں جب بھی اپنے آپ کو دیکھوں تو مجھے تم نظر آؤ لیکن یہ اس وقت تک

ممکن نہیں جب تک کہ تم تم ہو میں نہیں

اے کہاں چلی گئیں اپنے دونوں ہاتھ میرے ہاتھوں میں دے دو اور یہاں دیکھو میری آنکھوں میں اور جو تمہیں

نظر آۓ وہی سچ ہے یہ آج اچانک شک کیسا

شک نہیں ایسا لگتا ہے جیسے تم پہلی بار میرے گھر آۓ ہو اپنے گھر ہمارے گھر it looks and feels like a surreal dream

پہلے تم آ کر واپس چلے جاتے تھے آج نجانے کیوں ایسے لگ رہا ہے جیسے تم ہمیشہ کے لئیے میرے پاس

آ گئیے ہو کبھی نہ واپس جانے کے لئیے

پگلی واپس تو وہ جاتا ہے جو آیا ہو میں تو کبھی گیا ہی نہیں

دیکھو ابھی سے بول دیتی ہوں بعد میں نہ کہنا بتایا نہیں

کیانہیں بتایا

یہی کہ مجھے زرا نیند میں چلنے کی عادت ہے

تو مجھے کیوں بتا رہی ہو چلنے کی عادت ہےتو چلتی رہنا ہاں اگر ٹانگوں کے ساتھ زبان بھی چلتی ہے تو سوچنا پڑیگا

ساتھ میں دونوں ہاتھ بھی چلتے ہیں بتاؤں کیسے

جی نہیں پھر کبھی سہی رات کافی جا چکی ہے ہمیں اب سونے کی تیاری کرنی چاہیے

اچھا میں تمہیں اتنی دور سے لوریاں سنانے کے لیے ساتھ لائی ہوں

دیکھو زیادہ دیر تک جاگتی رہو گی تو بیمار ہو جاؤگی

نہیں جیدی آج کچھ نہیں ہو گا مجھے “ تم ہو نا میرے پاس “

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 85

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Open sesame

اے چل تجھے تیرا کمرا دکھا دوں

ابھی تو آپ کہہ رہی تھیں کہ میں تم سے لوریاں سننے کے لئیے تمہیں یہاں نہیں لائی تو اب مجھے سونے کے لئیے

کیوں بھیج رہی ہیں

میں صرف سونے کا کمرا دکھانے کا کہہ رہی ہوں سونے کےلئیے نہیں کہا چلو اٹھو ابھی اور یہ لو تمہارے کمرے کی چابی

یہ کمرا اسی گھرمیں ہے یا مجھے کسی ہوٹل میں بک کر دیاہے اور کیا مجھے کوئی کرایہ وغیرہ بھی دینا پڑیگا

زیادہ باتیں مت کرو میں نے تمہاری ضرورت کی ساری چیزیں رکھنے کے بعد کمرا لاک کر دیا تھا

کب سے پلان کر رہی تھیں یہ سب کچھ کوئی

surprise

تو نہیں اس طلسماتی دروازےکے پیچھے اور یہ دروازہ سچ مچ

اس چابی سے کھل بھی جاۓ گا یا مجھے “ کھل جا سم سم” کہنا پڑیگا

وہ کیا ہوتاہے کوئی پاس ورڈ ہے کیا

جی ہاں

open sesame

کیوں الف لیلی ہزار داستان نہیں پڑھی کیا

پڑھی ہے لیکن انگریزی میں اب مجھے کیا پتہ تھا کہ اللہ میاں بھی اپنے خاص خاص بندوں کے ساتھ کبھی کبھار مذاق کر

لیتے ہیں ایک تو بالکل عامی سا نین نقش والا لڑکا میرے پلو سے باندھ دیا جسے میں نے صبر شکر کر کے کسی نہ کسی طرح

سے قبول کر ہی لیا تھا لیکن اردو

medium

کا پڑھا ہوا یہ کڑوی گولی ہضم نہیں ہو رہی مجھ سے اور ہو گی بھی کیسے پیٹ

میں جاۓ گی تب نا میں تو اسے زبان کے نیچے دبا کر بیٹھی ہوئی ہوں

او ہو تو اسی لئیے اتنی کڑوی زبان ہے تمہاری ۔ اور یہ عامی شکل کا لڑکا کسےکہہ رہی ہو تم اپنے آپ کو بہت خوبصورت

سمجھتی ہو نا ارے میں وادی اگرور کا رہنے والا ہوں جہاں ہر دوسری لڑکی نیلی اور سبز آنکھوں اور سنہری بالوں والی

ہوتی ہے

اچھا اور تم تو بڑے شہزادہ سیف الملوک ہو نا جس کے لیے پریوں کی شہزادی بدر البدر انتظار کر رہی ہے

اس کا نام بدر الجمال ٹھا

تمہیں کیسے پتہ

لگتا ہے آپ اپنے ملک کی

folk lores

کے بارے میں زیادہ نہیں جانتیں ۔ جھیل سیف الملوک ہماری وادی سے زیادہ فاصلے

پر نہیں اورشہزادہ سیف الملوک اور بدر الجمال کے رومانس کا قصہ ہمارے علاقے کا بچہ بچہ جانتا ہے

ارے اب یہاں کھڑے کھڑے قصہ ہی سناتے رہو گے یا کمرے کا دروازہ بھی کھولو گے

کھل جا سم سم

wow

عندلیب یہ کیا ہے بھئی یہ سونے کا کمرا کم اور سکندریہ کی لائبریری زیادہ دکھائی دیتا ہے

یہ اتنی ساری کتابیں آپ کہاں سے اٹھا لائی ہیں

دیکھ میاں مٹھو میں تیری طرح فلاسفر تو نہیں ہوں لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ انسانی زندگی چھوٹی چھوٹی خوشیوں

سے عبارت ہے ہم اپنی ساری عمر بڑی بڑی چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور جو چیز ہماری نظر کے سامنے اور

ہماری دسترس میں بھی ہوتی ہے انھیں بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ میں تمہاری پسند اور ناپسند سے بخوبی واقف ہوں

اور مجھے پتہ ہے کہ میرا جیدی

Loves books

اس لیے میں نے

Interior decorator

کی مدد سے تمہارے

بیڈ روم کے ساتھ ایک چھوٹی سی لائبریری بھی بنوا دی

اور یہ کتابیں

مال روڈ پر فیروز سنز والوں کو ایک چھوٹی سی لسٹ دے دی تھی

یہ اتنی ڈھیر ساری کتابیں آپ کو چھوٹی سی لسٹ دکھائی دیتی ہے

ہاں لسٹ پر لکھا تھا

“ English , French and Russian classics “

جتنی بھی آپ کے سٹاک میں ہیں

ٹالسٹائی اینا کرنینا

War and Peace ,

ٹرجینیو

fathers and sons

میکسم گورکی ، وکٹر ہیوگو

اے

stop it

ابھی نہیں ساری عمر پڑی ہے بعد میں پڑھتے رہنا

اچھا طریقہ نکالا ہے تم نے مجھ سے جان چھڑانے کا چلو یہ تو ہوگئی میری

intellectual side

اور

اور کی فکر مت کرو جب کتابیں پڑھتے پڑھتےتھک جاؤ یا اکتا جاؤ تو لائبریرین سے جی بہلالینا

اچھا خوبصورت ہے

کون لائبریرین

اور کون

ہاں خوبصورت ہے

تمہارے جیسی ہے

ارے تمہیں تھوڑی دیر اس کے ساتھ دل بہلانے کو کہا ہے گھر بسانے کےلئیے نہیں پرائی لڑکیوں کو سہانے سپنے

دکھاتے ہوۓ تیرے زبان پر چھالا تک نہیں پڑتا اور میرا سایہ پڑتے ہی تیرے وہ نام نہاد ملکوتی پر جلنے شروع ہو جاتے ہیں

اور تو جل تو جلال تو کا ورد شروع کر دیتا ہے

اور کیاکروں لائبریرین تو زیادہ سے زیادہ میرےگلے لگے گی اور تو تو میرے گلے پڑ جاۓ گی

اچھا اچھا اب بہت زیادہ باتیں مت بنا بتا کمرا کیسا لگا تجھے

آئیڈیل لگتا ہے تو اپنا سارا

Trust fund

مجھ پر ہی خرچ کر دیگی

اے مجھے اچھا لگتا ہے تیرے لئیے چھوٹے چھوٹے تحفے خریدنا ویسے بھی پیسے کا اس سے بہتر مصرف کوئی ہو ہی

نہیں سکتا تو نے مجھے کہا تھا کہ ہم اپنے گھرمیں ایک چھوٹی سی لائبریری بنائیں گے تو میں نے سوچا کون جانے کل ہو

یا نہ ہو تو کیوں نہ میں کل کو اپنے جیدی اور اپنے لئیے آج کر لوں

عندلیب

جی

ت

تم اتنی خوبصورت باتیں کب سےکرنے لگی ہو

جب سے تم میری زندگی میں آۓ ہو

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 87

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Oliver story

عندلیب بیگم لگتا ہے آج مجھے انہی کپڑوں میں سونا پڑیگا

تو پہلے کیا ہمساۓ کے کپڑے پہن کر سوتے تھے

ہاہاہا ۔۔۔ آپکو بڑا مذاق سوجھ رہا ہے ۔ مجھے کوئی الہام تو نہیں ہوا تھا کہ آپ سنیما سے مجھے hi – jack کر کے سیدھا اپنے گھر

لے آئیں گی ورنہ سونے کے کپڑے ایک بیگ میں رکھ کر ساتھ لے آتا

ہاں ہاں بہت زیادہ واویلا کرنے کی ضرورت نہیں کپڑوں کا بھی انتظام ہو جاۓ گا اوراگر کچھ نہ ہی ہوا تو بنا کپڑوں کے ہی

سو جانا تمہارا اکیلے کا کمرا ہے ہاں احتیاط کے طور پر اندر سے چٹخنی چڑھا لینا

oh damn

یاد آیا تمہارے کمرے میں تو

کنڈی نام کی کوئی چیز ہی نہیں اور اس گھر کی مالکن کو نیند میں چلنے کی عادت ہے اب تیرا کیا ہو گا جیدی ہاہاہا

کمروں کے دروازے اندرسے بند نہیں ہو سکتے گھر کےمکینوں کو سوتے میں چلنے کی عادت ہے میرے تو جسم کے رونگٹے ابھی

سے کھڑے ہونے شروع ہو گئۓ ہیں اے زرا جلدی سے بتانا رات کے بارا بجنے میں کتنا وقت رہتاہے

کیوں کوئی کام یاد آ گیا کیا

نہیں میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرے پاس اس بھوت بنگلے سے زندہ سلامت نکل بھاگنے کو کتنا وقت رہ گیا ہے

مجھے تو تم لوگ کوئی خون آشام قسم کی مخلوق لگتے ہو اور میں نے

Bram Stoker

کی کتاب میں پڑھا بھی ہے کہ آدھی رات

کے بعد یہ لوگ لوگ اپنی اصلی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور معصوم لوگوں کو دبوچ کر انکا خون چوستے ہیں

اچھا اور یہ خون آشام کس بلا کا نام ہے

ٹھیک کہا تم نے یہ بلا ہی ہوتی ہے اوہ بھول گیا تم تو انگریزی میڈیم ہو نا تمہیں کیا خاک سمجھ آۓ گی

Dracula

ہاں ڈراکولا کہتے ہیں اسے تمہاری زبان میں ویسے تو مجھے لگتا ہے کہ انگریزوں نے یہ لفظ ہم سے ہی مستعار لیاہے

اچھا وہ کیسے

ارے صاف صاف تو لکھا ہے “ ڈرا “ اور “ کولا “ مشرقی افریقہ میں جو زبان بولی جاتی ہے اس کا نام ہے سواحلی

یعنی وہ زبان جو ساحلی علاقوں میں بولی جاتی ہے اور اس زبان میں “ کولا “ کا مطلب ہے “ کھانا “ اور سواحلی زبان

کا یہ لفظ اصل میں عربی زبان سے لیا گیا ہے جیسے ہم کہتے ہیں نا “ کلو وشربو “ یعنی کھاؤ اور پیو تو اب ان دونوں کو

ملاکر پڑھو تو کیا لفظ بنا “ پہلے ڈراؤ اور پھر کھا جاؤ “

ہاہاہا تو اتنی خوبصورت لڑکی تمہیں ڈراکولا لگتی ہے

اور کیا یہ بلائیں میرے جیسے معصوم اور بھولے بھالے نوجوانوں کو اپنے حسن کے جال میں پھنسا کر لے آتی ہیں اور

رات بارا بجے کے بعد ان کے دانت بڑے بڑے اور نوکیلے ہو جاتے ہیں اور ہاتھ بدل کر

fangs

بن جاتے ہیں

جیدی کے بچے یہ کیا بولے جا رہے ہو مجھے تو اب اپنے آپ سے ڈر لگنے لگا ہے ۔ اور سن وہ کتابوں والی شیلف کے

پاس سے ہٹ کر سامنے والی کپڑوں کی الماری کھول شائد تیرے رات کے پہننے کے لئے کچھ مل جاۓ

مجھے ایسے کیوں لگ رہا ہے کہ ایک اور

surprise

میرا منتظر ہےےےےےےےےےے اے یہ کیاہے

وہی جو تو دیکھ رہا ہے ۔ تجھے ایرک سیگال کی

Love Story کا sequel

یاد ہے

آلیور سٹوری ہاں کیوں

ایسے کیوں دیکھ رہے ہو میری طرف

میں دیکھ رہا ہوں کہ تم تھوڑی پاگل ہو زیادہ پاگل ہو یا بالکل پاگل ہو ۔ مجھے پتہ ہے تمہیں Oliver Story کیوں یاد آ

رہی ہے میں نے وہ کتاب اتنی دفعہ پڑھی ہے کہ مجھے اسکا ایک ایک لفظ یاد ہے

‘Hey, Marcie, it’s eleven-thirty. ‘

‘Do you have a curfew, Oliver?’

‘Oh, no. I also don’t have other things. Like clothes, for instance

‘Was I coy or vague?

‘Let’s say you weren’t crystal clear, ‘ and I wasn’t about to show up with my little

Canvas over-night bag. ‘

That was deliberate, I must confess

Why

Look at the bed there are more than a dozen shirts of silk, all your size.

‘Suppose I want to stay a year?

‘This may sound somewhat odd, my friend, but if you’ve got the inclination. I’ve

got all the shirts. ‘

‘Marcie?’

‘Yes?’

‘I’ve got a lot of … inclination. ‘

عندلیب

کیا ہے

مارسی تو صرف ایک درجن ریشمی قمیضیں لیکرآئی تھی آپ تو پورا وارڈروب اٹھا لائی ہیں

ہاں مارسی صرف ایکدن اور ایک سال کا ساتھ چاہتی تھی تم میری زندگی کے ساتھی ہو اورسن آلیور سٹوری میں نے

بھی پڑی ہے تو نے جان بوجھ کر آخری لائن نہیں پڑھی

تم سے مطلب نہیں پڑھی تو نہیں پڑھی ویسے بھی وہ کان میں کہنے والی بات ہے

تو کان میں کہہ دے

مجھے شرم آتی ہے ایسی باتیں کہتے ہوۓ

اچھا اور پڑھتےہوۓ نہیں آتی

اے چھوڑ نا کوئی اور بات کر جب تجھے پتہ ہے کے آگے کیا لکھا ہوا تھا تومجھ سے کیوں سننا چاہتی ہے

ہاہاہا چل رہنے دے تو آج میرا مہمان خصوصی ہے اس لئیے تجھے معاف کیا ویسے بھی میرا مقصد تو پورا ہو ہی گیا تھا

کیسا مقصد

تو جب بولتے بولتے اچانک رک جاۓ تو میری بجاۓ زمین کی طرف دیکھنا شروع کر دیتا ہے اور تیرے گالوں پر ہلکی سے

سرخی آ جاتی ہے اور

dimple

سا پڑ جاتا ہے اس کا مطلب ہے تو حجاب کی وجہ سے جوکہنا چاہتا تھا کہہ نہیں پا رہا اور

مجھے تیرے شرمیلے نین اور شہابی گال بڑے پیارے لگتے ہیں

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر ۸۷

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

waltz

میں جا رہی ہوں اپنے کمرے میں چینج کرنے کے لئے تم بھی جلدی سے نائٹ سوٹ پہن کر نیچے لاؤنج میں آ جاؤ

لاؤنج میں کس لئے اب سونے کا وقت ہے تم بھی جا کر آرام کرو اور مجھے بھی سونے دو شب بخیر اور سنو

ان سب

surprises

کے لئے بہت بہت شکریہ

کہاں بھاگے جا رہے ہو اور صبح کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی تمہیں کیسے پتہ چل گیا کہ شب بخیر تھی

پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس کپڑے بدلنےکے لئے انھیں فضول باتوں میں ضائع مت کرو bye for now

ارے سن تو ووووووووو ہمیشہ ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہے خدا جانے کس چیز کی گھٹی دی گئی تھی

نچلا بیٹھنا تو جیسے آتا ہی نہیں اسے ۔ چل بیٹا تیاری پکڑ

ارے واہ مونہہ ہاتھ دھو کر آیا ہے کیا بڑا نکھرا نکھرا سا لگ رہا ہے اور چھوٹا چھوٹا بھی اور اور اور جیدی

ایسے کیا دیکھ رہا ہے میری طرف

تمہیں دیکھ رہا ہوں

کیوں پہلی دفعہ دیکھا ہے کیا

ہاں پہلی دفعہ اس طرح اس لباس میں ۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا اپسرائیں صرف ہندو دیومالائی قصے کہانیوں میں پائی جانے

والی کوئی آسمانی مخلوق ہیں تم تو جیتی جاگتی چلتی پھرتی باتیں کرتی حقیقت ہو اور اب اپنا جسم کیوں چرا رہی ہو

تم ایسے دیکھ جو رہے ہو اس لئے

شرم آ رہی ہے

ہاں

تم نائٹی پہن کر کھڑی ہو جس میں سے تمہارا سارا جسم جتنا جھلک رہا ہے اس سے کہیں زیادہ چھلک بھی رہا ہے اور سنو

یہ تمہارا خیال ہے کہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں تمہیں تو کہتی ہو نا کہ میں تمہارے جسم و جان کا مالک ہوں تو پھر میں تمہیں

دیکھ رہا تھا یا اپنے آپ کو اور مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ چند روز پہلے تم میرا مذاق اڑا رہی تھیں کہ اگر نہاتے وقت

اتفاق سے میری نگاہ اپنے ہی جسم پر پڑ جاۓ تو میں گھبرا کر باتھ روم سے باہر نکل آؤنگا

جیدی میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تم کیا کہنا چاہ رہے ہو

یہی کہ تم نے جو بات مذاق میں کہی تھی میں زاتی زندگی میں تھوڑا بہت ایسا ہی ہوں جتنی شرم تمہیں مجھ سے آ رہی ہے

اس سے کہیں زیادہ

embarrassment

مجھے ہو رہی ہے تمہیں ایسے لباس میں دیکھتے ہوۓ ۔ اے رکو تو کہاں

بھاگے جا رہی ہو ۔ اب کیا ہو گیا اسے

جیدی کہاں ہو تم

واش روم میں

وہاں کیا کر رہے ہو

کرکٹ کھیل رہا ہوں آپ بھی آ جائیں ۔ ارے بھئی واش روم میں لوگ کبڈی کھیلنے تو نہیں جاتے ایک منٹ رکئیے میں

باہر آ رہا ہوں خود ہی دیکھ لیں میں کیا کر رہا تھا

یہ تم نے کپڑے کیوں بدل لئیے کہیں جا رہے ہو مجھ سے ناراض ہو کیا کچھ بولو تو سہی

آپ خاموش ہوں تو میں کچھ عرض کروں ۔ میں نہ تو کہیں جا رہا ہوں اور میں آپ سے بھلا ناراض کیوں ہونےلگا

میرے نائٹ ڈریس کی وجہ سے اور تم ٹھیک ہی توکہہ رہے تھے مجھے نائٹی کے اوپر گاؤن پہننا چاہیے تھا پتہ نہیں مجھے

تمہارے سامنے آتے ہوۓ یا تم سے کسی بھی قسم کی بات کرتے ہوۓ کبھی حجاب محسوس نہیں ہوتا

اچھا اور مجھے تمہارے علاوہ کسی سے شرم نہیں آتی ہاہاہا اور سنو

I am sorry I kind of over-reacted

شائد اسلئے کہ میں زہنی طور پر اس کے لئے تیار نہیں تھا ہم لوگ ابھی ابھی ایک انگریزی فلم دیکھ کر آ رہے ہیں اور

ان فلموں کئی دفعہ ایسے

scenes

ہوتے ہیں جو ہماری اخلاقی اقدار کے بالکل منافی ہوتے ہیں لیکن چونکہ ہماری

دکھائی جانے والی چیز سے کسی قسم کی جذباتی وابستگی نہیں ہوتی اور اس طرح کے شاٹس تھوڑے بہت متوقع بھی

ہوتے ہیں اس لئے انکا

impact

بھی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور یہاں آپ اچانک بغیر کسی پیشگی وارننگ کے

پورے پانچ فٹ آٹھ انچ کی Lady Gadiva in Lahore اور آپ جانیں میں مٹی کا مادھو ہوں مائیکل اینجلو کا

سنگ مرمر کا تراشا ہوا

Statue of David

نہیں جس میں سب کچھ ہے سواۓ دھڑکتے ہوۓ دل کے اور سنیں

آپ کو کبھی کسی نے بتایا نہیں کہ آپ جب بغیر حجاب اور نقاب کے نکلتی ہیں تو دن کو آفتاب اور رات کو

ماہتاب دونوں آپ کے حسن بے مثال کی تاب نہ لاتے ہوۓ بدلیوں کے گھونگھٹ سے باہر ہی نہیں نکلتے

تم سچی میں وزیرآباد میں ہی پیدا ہوۓ تھے کیونکہ زبان تو تمہاری پرانی دہلی اور لکھنو کی لگتی ہے اور سنو اتنی

مبالغہ آرائی کی کیاضرورت ہے میں تو ایسے بھی تمہاری ہوں اور ویسے بھی تمہاری ہی ہوں جب جی چاہے دو بول

پڑھا کر ساتھ لے جاؤ بلکہ خود ہی پڑھ لو آدھے مولوی تو تم ہو ہی میں تو بنا بولوں کے بھی تمہارے سنگ چلنے کو

تیار ہوں انہی دو کپڑوں میں بلکہ تین کپڑوں میں تمہیں شرم آ رہی تھی نا مجھے صرف نائٹی میں دیکھ کر اسلئے میں اوپر

سے گاؤن پہن آئی ہوں اور تم کہو یہ پینٹ شرٹ پہن کر کہاں کی تیاری ہے

ڈانس کی کرو گی میرے ساتھ لیکن اس سے پہلے جو کچھ پہن کر آئی ہو اسے اتار دو

خود تو کپڑے پہن کر بیٹھے ہو اور مجھے کہہ رہے ہو کہ میں کپڑے اتار دوں ۔ یہاں تمہارے سامنے

عجیب غیر حاضر دماغ کی لڑکی ہو میں نے صرف گاؤن کا کہا ہے سارے کپڑوں کا نہیں

مجھے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ تم تھوڑے سنکی قسم کے آدمی ہو اور تمہارے ساتھ رہتے رہتے میں بھی نیم پاگل

ہو چکی ہوں ابھی تھوڑی دیر پہلے تمہیں اعتراض تھاکہ میں بڑے revealing کپڑے پہن کر تمہارے سامنے آئی ہوں

اور اب جو میں ان کپڑوں کے اوپر گاؤن پہن کر آئی ہو تو تم مجھے کہہ رہے ہو کہ اسے اتار دوں

ارے اتنے بڑے اور بھاری گاؤن کیساتھ ہم Waltz کیسے کر سکتے ہیں

ہم لوگ میرا مطلب ہے میں اور تم والز کرنے جا رہے ہیں

کیوں نہیں کر سکتے ہم

سولہ آنے کر سکتے ہیں “ ارے میاں بیوی راضی تو کیا کریگا موا قاضی “ او کے مائی ون اینڈ اونلی رومیو وہ گیا گاؤن

اور یہ آئی عندلیب اپنے جیدی کی بانہوں میں ۔۔۔۔۔

man Downtown

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 88

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Waltz II

عندلیب تمہارا ریڈیوگرام کونسے کمرے میں ہے

لائبریری والے کمرے میں کیوں گرام کو اس وقت کیا کرنا ہے

ارے بابا ڈانس کیامیوزک کے بغیر ہو گا چلو چھوڑو اب نیچے لائبریری میں کون جاۓ

میاں مجنوں میں نے لائبریری والا کمرا کہا تھا لائبریری نہیں

آپ اس کمرے کی بات کر رہی ہیں جہاں ہم اس وقت کھڑے ہیں

کیوں اسے میرا کمرا کہتے ہوۓ تمہاری زبان لڑکھڑاتی ہے کیا

لیکن مجھے تو یہاں دور دور تک کوئی الیکٹرونک

gadget

دکھائی نہیں دے رہا

یہ اپنی کتابیں دیکھ رہے ہیں آپ یہ

revolving bookcase

ہے اب اسے زرا گھما دیتے ہیں

voila

اور یہ رہا آپ کا ریڈیو گرام اورکچھ

آپ نے اس غریب الدیار پر اتنے پیسے لٹا دئیے اور وہ بھی صرف ایک رات کےلئے

مسٹر خان میں عام طور پر آپ سے صرف ایک دو سیکنڈز کے لیے ناراض ہوتی ہوں جو کہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم

ہو جاتے ہیں لیکن غلط بات کہنے اور کرنے پر یہ ناراضگی ایک دو صدیوں پر بھی محیط ہو سکتی ہے اور ابھی ابھی آپ

نے جو کہا اس سے نہ صرف میری

insult

ہوئی ہے بلکہ

you have hurt my feelings as well

ارے بابا ایسے ہی مونہہ سے نکل گیا

دوبارا مونہہ سے نکلا تو سو برس تک مونہہ نہیں دیکھونگی

kapeesh

Kapeesh

اب بول کیا کرنا ہے

میں نے جو ریکارڈز تجھے دئیے تھے کہاں رکھے ہیں وہ

وہیں پر ہونگے کہیں تجھے والز کرنا ہے نا میں لگا دیتی ہوں کچھ

نہیں مجھے اپنی پسند کا میوزک چاہیے

تیری پسند کا ہی ہو گا زرا سانس تو لے او کے

put your dancing shoes on

Here comes Shostakovich – the second Waltz

Do do do do Do do do do

La la la la ra la la

Now what

اپنا بایاں ہاتھ میرے بائیں ہاتھ میں دے اور

let it swing with the beat

اور دایاں ہاتھ میرے کندھے پر رکھ اور

تھوڑا سا آگے تو آ مجھے اپنا رائٹ والا ہاتھ تیری پشت پر رکھنا ہے ون ٹو تھری

Now move with the rhythm

تھوڑا سا relax تو کر why are you so stiff ارے بابا sway swing

اب ایک قدم پیچھے جا اور اب دو قدم آگے

اب رکنا نہیں جب تک ریکارڈ ختم نہ ہو جاۓ

Do do do do La la la lala

اب

move in a circle

اے enjoy yourself تم ابھی بھی relaxed نہیں ہو آنکھیں بند کر لو لیکن

move

کرتی رہو

that’s it

تم رک کیوں گئے ریکارڈ تو ابھی چل رہا تھا میں نے کوئی غلط

step

لیا اور یہ تم مجھ پر ہنس رہے ہو کیا

نہیں اپنے آپ پر کیونکہ آخری دو

steps

کے بعد مجھے آپ کے بغلوں میں دونوں ہاتھ ڈال کر آپ کو فلور سے اوپر

اٹھانا تھا اور ایک تو

you are head taller than me

اور دوسرے آپ کی یہ خوبصورت سی نائٹی مجھے چاروں طرف سے

ایسے گھیرے ہوۓ تھی کہ مجھے کچھ نظر ہی نہیں آ رہا تھا ۔ اور یہ آپ کا سانس کیوں پھولا ہوا ہے

اس لیے کہ مجھے دمے کا مرض ہے ۔ رات کو ایک بجے آنجناب کو رقص کرنے کا شوق چرایا تھا پہلے سے بتایا ہوتا تو شائد

میں اس کے لئے زہنی اور جسمانی طور پر تیار بھی ہوتی پچھلے آدھ گھنٹے سے مجھے چکر دے رہے ہو اور اوپر سے کہتے ہو میرا

سانس کیوں دھونکنی کی طرح چل رہا ہے اور مجھے یہ تو بتاؤ تم کس مٹی کے بنے ہوۓ ہو

آپ یہ الزام تراشی زرا بند کریں گی میں نے آپ سے کہا تو تھا کہ آدھی رات ہونے کو آئی ہے خود بھی آرام کریں اور

مجھے بھی سونے دیں اور آپ نے تنک کر کہا تھا “ تم ہو نا میرے پاس “ مجھے کچھ نہیں ہو گا تو اب شکائت

کیوں کر رہی ہیں

ارے بھلے مانس میرا مطلب تھا بستر پر بیٹھ کر گپیں ماریں گے کوئی مستقبل کا پروگرام بنائیں گے مجھے کیا پتہ تھا کہ اس کمرے

میں رقص و سرور کی محفل جمنے والی ہے ۔ تم آخر چاہتے کیا ہو مجھ سے کبھی مجھے سات پردوں میں چھپا کر رکھنا چاہتے ہو

اور کبھی مغربی موسیقی کی دھنوں پر میرے ساتھ رقص کرنا چاہتے ہو اس بات سے متعلق مجھے اقبال کا ایک شعر

یاد آیا تمہاری ہی ڈائری میں پڑھا تھا سنو گے فارسی زبان کا ہے

ضرور سنوں گا لیکن ایک بات تو بتاؤ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ تم فارسی کا شعر صرف ایک دفعہ سنتی ہو اور تمہیں کبھی

بھولتا نہیں جب کہ میں اسے دس دفعہ پڑھ لوں تب بھی مجھے یاد نہیں رہتا کوئی خاص وجہ ہے اس کی

میرا خیال ہے کہ تم اس سوال کا جواب تھوڑا بہت جانتے ہو صرف میرے مونہہ سے سننا چاہتے ہو اس وقت

شعر سن لو وجہ پھر کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھو

جیسے آپ کی مرضی ارشاد فرمائیں

وقت است کہ بکشائم مے خانۂ رومی باز

پیرانِ حرَم دیدم در صحنِ کلیسا مست

اب وقت آگیا ہے کہ میں حضرت رومیؒ کا میخانہ دوبارہ کھولوں، اسلئے کہ میں نے حرم کے پِیروں کو کلیسا کے صحن میں مست دیکھا ہے یعنی ہمارے امام ہی راہ سے کُراہ پر گامزن ہیں

ہاہاہا آپ نے جس

reference

میں یہ شعر سنایا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ مجھ پر طنز کے تیر چلا رہی ہیں

اور اگر میرا اندازہ درست ہے تو آپ نے کب سے اس بندہ بے دام کو امامیت کے عہدے پر فائز کر دیا ہے

ہمیشہ سے جب سے ملے ہو جو کہتے ہو کہتی ہوں جو کرتے ہو کرتی ہوں تمہارا دن میرا دن اور تمہاری رات میری رات ہے

جس چیز سے ایک دفعہ منع کر دو اس کے نزدیک تک نہیں جاتی اور امام کسے کہتے ہیں

اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا امام راہ سے گمراہ ہو گیا ہے

گمراہ تو خیر نہیں لیکن سیدھی راہ چلتے چلتے کبھی کبھار ان دیکھے راستوں پر بھی چل نکلتا ہے

آپ نے آگے بڑھکر روکا کیوں نہیں اسے

پتہ نہیں شائد اس لئے کہ وہ اندیکھا انجانا راستہ میری ہی گلی میں سے ہو کر گذرتا ہے ۔ ایک بات بتا تو جب میرے

ساتھ ڈانس کر رہا تھا تو تجھے کسی قسم کی

feeling

نہیں ہو رہی تھی

کس طرح کی

feeling

پتہ نہیں میرا مطلب ہے اس سے پہلے

we have never been so close

سچ کہوں میرے تو دل کی دھڑکن

ایسے چل بلکہ بھاگ رہی تھی جیسے ریل گاڑی ہو

اچھا تو جان میں چونکہ طرح سوچتا نہیں اس لئے میرے دل کی گاڑی کبھی پٹڑی سے نیچے بھی نہیں اترتی

جھوٹا کہیں کا تجھے کیا لگتا ہے میں ڈانس کرتے وقت تیرے چہرے کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی

اچھا کیا دیکھا پھر تو نے

وہی جو اب بھی تیرے گالوں پر پڑے ہوۓ

dimple

کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے

جب تجھے پتہ ہے تو سوال کیوں کرتی ہے

تمہارے مونہہ سے سننا اچھا لگتا ہے مجھے پر تو تو کبھی کہتا ہی نہیں

اچھا کہہ دونگا کسی دن

اب کہہ دے نا

شب بخیر

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 89

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

عمر خیام

اتنی جلدی کیا ہے تجھے سونے کی تیرا من نہیں کرتا مجھ سے باتیں کرنے کو

ہاں کرتا ہے لیکن میں اس وقت نیچے لاؤنج میں جانے والا نہیں

کس نے کہا ہے تجھے نیچے جانے کو یہیں بیٹھ جاتے ہیں تیرے کمرے میں

نہیں میرے کمرے میں ٹھیک نہیں

کیوں کیا خرابی ہے تیرے کمرے میں مچھر کاٹتے ہیں یہاں

مچھر کے کاٹے کا علاج ہے میرے پاس پر تیرے کاٹے کا تریاق تو حکیم لقمان کے پاس نہیں اور ویسے بھی میرا کمرا

حجلہ عروسی ہے جہاں وقت سے پہلے تیرا داخلہ بالکل بند ہے

اے

what in the name of grace is

حجلہ عروسی

حجلہ عروسی

is a bridal chamber

کیوں میرا داخلہ کیوں بند ہے کیا میں عروسہ نہیں لگتی

لگتی تو ہے لیکن ہے نہیں جب تک کہ ہم دونوں نکاح کے حصار میں نہیں آ جاتے

تو لے آ مجھے حصار میں نکاح نہیں کر سکتا تو مسیار کر لے وہ بھی نہیں کر سکتا تو متعہ ہی کر لے

ہاہاہا متعہ کر لوں تیرے ساتھ کیوں شیعہ مسلک کی ہے تو

میں تو تیرے مسلک کی ہوں تیری ہوں تیری ہو کر رہنا چاہتی ہوں تیرے سنگ جینا تیرے سنگ

ارے بس بس اس سے پہلے کہ تو سارے مکاتیب فکر سے میرے خلاف کوئی فتوی لے آۓ بیٹھ جا باتیں ہی کرنی ہیں نا تجھے

تو چل شروع ہو جا شادی بیاہ کی بات تو نے خود ہی تو کہا تھا کہ جب تک میرے فائنل کے امتحانات نہیں ہو جاتے اس کے

بعد ہی ان کے بارے میں کچھ سوچا جاۓ گا تو اب جلدی کیسی

ارے بابا یہ تو ایسے ہی باتوں میں سے بات نکل آئی ورنہ میری بھی کوئی ایسی مت نہیں ماری گئی کہ تجھ جیسی مصیبت کو

بنا سوچے سمجھے جانے پہچانے دیکھے بالے جلدی میں اپنے پلو سے باندھ لوں

اے تو لڑکی نما گرگٹ ہے یا گرگٹ نما لڑکی ابھی ایک منٹ پہلے تک تو میرے ساتھ بغیر کس قسم مذہبی معاشرتی اور

سماجی بندھنوں کے بھاگنے کو تیار بیٹھی تھی اور اب میں تجھے مصیبت لگنے لگا ہوں دیکھ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا جو بھی

فیصلہ کرنا ہے بڑی سوچ بچار کے بعد ہی کرنا یہ ایک دوستانہ مشورہ ہے آپ ایک خوبصورت پڑھی لکھی اور صاحب حیثیت

لڑکی ہیں کوئی اپنے معیار کا بر ڈھونڈ لیں میرے ساتھ آپ کی زندگی تو ایسے گھسٹتی ہو ئی چلے گی جیسے پھٹے ہؤۓ

ٹائر کی گاڑی چلتی ہے

سچ کہہ رہا ہے تو اس زاویے سے تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں ابھی تو بالی عمر کے عشق کا بھوت سوار ہے

جب اتر جاۓ گا تو ساری عمر ٹسوے بہاتے گذر جاۓ گی میری ۔ اے یہ کن باتوں میں الجھا دیا ہے تم نے مجھے

میری بات کانوں سے بھی سن اور تعویز بنا کر بازو پر بھی باندھ لے اور ایک عدد گلے میں بھی لٹکا لے جب تک

میری سانس کی ڈور بندھی ہے تب تک تو میں سایہ بن کر تیرا پیچھا کرتی رہونگی تو میرا بواۓ فرینڈ ہے میرا دوست ہے

تھوڑا جھوٹا سچا پیار بھی کرتی ہوں تجھ سے اور اگر وقت نے بے وفائی نہ کی اور فرشتہ اجل کو تھوڑی دیر میرے گھر کی

چوکھٹ سے دور ہی روکے رکھا تو شائد شادی کے بندھن میں بھی بندھ جاؤں اب تو خود ہی سوچ اتنے سارے رشتوں

کو ایک ہی دفعہ تو خیرباد کہہ نہیں سکتی اور اگر ایک ایک کر کے توڑنا شروع کیا تو اس کے لئے عمر خضر چاہئے جو میرے

پاس ہے نہیں سو اچھا برا تو جیسا بھی ہے مجھے قبول بھی ہے اور مجھے تیرے پر ہی قناعت کرنی پڑے گی

آپ نے مجھ جیسے نا چیز کو جو شرف قبولیت بخشا ہے اس کے لئے بندہ بے دام ساری زندگی ممنون اور احسان مند

رہے گا تھوڑی دیر پہلے تو مجھے یہ خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ آپ مجھے رات کے اس پچھلے پہر کہیں اپنے گھر سے ہی نہ نکال

دیں اور پھر میں ہونگا اور “ سگ راہ “ اور اس سے پہلے کہ آپ کی طبیعت کا گرگٹ کوئی اور رنگ بدلے مجھے آپ

اجازت دیں تا کہ میں تھوڑی سی نیند کر لوں مجھے یقین واثق ہے کہ آپ بھی میری مہمان نوازی سے تھک چکی ہونگی

دیکھ جیدی میں تجھے اچھی طرح سے جانتی ہوں تو مجھے صرف اس لئے بھگا رہا ہے تا کہ بعد میں آرام سے ساری رات

لائبریری کی کتابوں کو الٹ پلٹ کرتا رہے تو خود مجھ سے کئی دفعہ کہہ چکا ہے کہ کتابیں تیرا پہلا پیار ہیں ۔ اے چاۓ

پئیے گا کچن بھی نہیں جانا پڑیگا میں نے کیٹل وغیرہ سب کچھ تیرے کمرے میں رکھا ہوا ہے سچ یہاں بیٹھ کر گرما گرم

چاۓ بسکٹ اور باتیں ہونگی بڑا مزہ آئیگا بول کیا کہتا ہے دیکھ انکار نہیں کرنا پلیز

وہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر تیری طبیعت خراب ہو گئی تو

نہیں نہیں کچھ نہیں ہو گا مجھے

I promise you

تو بیٹھ جا اس لاؤنجر میں تب تک میں چاۓ بناتی ہوں

ضد کرتی ہو تم چھوٹے بچوں کی طرح

تمہارے ساتھ ہی تو کرتی ہوں اور دیکھ میں تیرے لئے ایک سپیشل تحفہ بھی لائی ہوں

آج کونسا موقعہ ہے تحفے تحائف لینے دینے کا ایک آدھ دن رک جاتی تو

کیوں ایک آدھ دن کے بعد کیا ہونے والا ہے

میری سالگرہ

مذاق مت کر اور یہ امی بھی نا کوئی بات بھی اپنے پیٹ میں نہیں رکھ سکتیں اور یہ لے اپنی چاۓ اور یہ رہا تیرا تحفہ

کیا ہے اس چھوٹے سے پیکٹ میں کوہ نور تو نہیں آٹھا لائی

ارے کھول کر تو دیکھ اس پتھر سے کہیں زیادہ انمول ہے جسے تو کوہ نور کہتا ہے

بتا نا کیا ہے

رباعیات عمر خیام سپیشل تصویری ایڈیشن ہے پانچ چھ زبانوں کے تراجم کے ساتھ

یہ کہاں سے مل گیا تجھے

it is beautiful

تجھے کیا کہیں سے بھی ملا ہو تمہیں آم کھانے سے غرض ہے یا پیڑ گننے سے اور کارڈ تو پڑھ ہے نا ہم دونوں کے بارے میں

گر دست دهد ز مغز گندم نانی

وز می دو منی ز گوسفندی رانی

با لاله رخی و گوشه بستانی

عیشی بود آن نه حد هر سلطانی

‏A Book of Verses underneath the Bough,
‏A Jug of Wine, a Loaf of Bread—and Thou
‏Beside me singing in the Wilderness—
‏Oh, Wilderness were Paradise enow!

‏Omar Khayyam

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 90

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

سالگرہ

اے یہ ابھی تھوڑی دیر پہلے سالگرہ کے بارے میں کیا کہہ رہا تھا تو

یہی کہ 31 مارچ میرا جنم دن ہے کیوں تجھے پتہ نہیں کیا

ارے ہاں تو نے فون پر بتایا تو تھا کہ میں اس دنیا میں وارد ہو گیا ہوں ملنا ہے تو آ جا پر گھر والوں نے آنے ہی نہیں دیا

کہنے لگے تو ایک نا محرم سے کیسے مل سکتی ہے بیچاری عندلیب

اب تجھے یاد نہیں رہا تو میں کیا کروں تمہیں ویسے بھی عادت ہے میری ہر بات ایک کان سے سننے کی

تمہاری زیادہ تر باتیں میری سمجھ اور فہم سے بالاتر ہوتی ہیں اس لئے انھیں ان سنا کرنا ہی بہتر ہوتا ہے اور مجھے اچھی

طرح یاد ہے تو نے کہا تھا تیری برتھ ڈے جون کے مہینے میں ہے

وہ بات بھی کسی حد تک ٹھیک تھی

جیدی تیری کوئی چیز ٹھیک ہے بھی کہ نہیں پہلے تو کہتا تھا کہ میں وزیرآبادی کشمیری ہوں پھر تو کسی نامعلوم وادی اگرور

کا پٹھان بن گیا وہاں سے جو تو پنکھ لگا کر اڑا تو سیدھا سرحد پار کر کے بلخ بخارا جا پہنچا اور میں دیوانہ وار تیرے پیچھے

بھاگتے ہوۓ ابھی لنڈی کوتل تک ہی پہنچی تھی کہ تو نے پھر ایک لمبی سی اڑان لی اور ترکی جا پہنچا اور آخری بار

اور ایک ہی بار مجھے بتا دے کہ تو ہے بھی کہ نہیں

کیا مطلب میں ہوں بھی کہ نہیں اور یہ مجھے ٹٹول ٹٹول کر کیا دیکھ رہی ہو

کچھ نہیں چیک کر رہی تھی کہ تو سچ مچ گوشت پوست کا بنا ہوا انسان ہی ہے نا کہیں سراب تو نہیں

کیا کہانیاں بنا رہی ہو میری سکول رجسٹریشن کے وقت کسی نے میری بجاۓ میری بڑی بہن کی تاریخ پیدائش لکھوا

دی اور بعد میں سالوں تک کسی کو پتہ ہی نہیں چلا لیکن میری تاریخ پیدائش مارچ میں ہو یا جون میں تمہاری صحت پر

اس سے کیا فرق پڑتا ہے

گدھے کے کدھے ہی رہو گے تم ارے بابا فرق پڑتا بلکہ بہت بڑا فرق پڑتا ہے اس لئے کہ میری ایک بہت پیاری سہیلی

کا برتھ ڈے بھی اسی دن ہے

ارے بھئی ہزاروں لوگ اس دن پیدا ہوۓ ہونگے ان میں سے ایک عدد آپ کی سہیلی بھی ہونگی لیکن آپ کا مسلہ

کیا ہے مجھے تو آپ نے ابھی ابھی برتھ ڈے کا تحفہ بھی دے دیا ہے اپنی دوست کے لئے بھی اس کی پسند کی کوئی

چیز خرید لیں اور اللہ اللہ خیر سللہ

نام نہیں پوچھو گے میری سہیلی کا

میں پوچھ کر کیا کرونگا

پھر بھی

کیا نام ہے تمہاری دوست کا عندلیب

عندلیب

ارے تمہاری ہمنام ہے کیسا حسین اتفاق ہے ۔ ہے نا

جیدی

I swear I am going to hit you now

تیرے سے بڑا گدھا میں نے آج تک نہیں دیکھا

ارے بھئی ایسا کیا کہہ دیا میں نے جو مجھے ایسے غیر انسانی القابات سے نوازا جا رہا ہے

کچھ نہیں جا جا کر سو جا میرے نصیب کی طرح اور سن کل تیری کلاس کس وقت ہے

بارا بجے لیکن پہلے ہاسٹل جانا ہے مجھے

اچھی بات ہے صبح وقت پر اٹھ جانا گڈ نائیٹ

ارے ایسی بھی کیا بے مروتی اتنی روکھی پھیکی سی گڈ ناٰیٹ

no kiss no cuddle

شٹ اپ اینڈ گو ٹو سلیپ اور دیکھ وہ سامنے جو دروازہ ہے نا وہ میرے کمرے میں کھلتا ہے اگر کسی چیز کی ضرورت پڑے

یا ڈر لگے تو مجھے آواز دے لینا جا رہی ہوں میں صبح ملوں گی

چلی گئی کہتی ہے ڈر لگے تو مجھے آواز دینا جیسے اس سے زیادہ خوفناک چیز بھی اس کرہ ارضی پر کوئی اور ہے

اے کیا باتیں کر رہا ہے اپنے آپ سے یہی نا کہ شکر ہے جان چھوٹی اس بلا سے

میں نے ایسا کچھ نہیں کہا جھوٹے سچے اندازے مت لگایا کر اور لائٹ بجھا کر سو جا

گڈ نائٹ ڈارلنگ

ناک ناک مسٹر خان

are you decent

اندر آ جاؤں میں

جی صبح بخیر آپ کو بھی اور یہ اتنی مہذب کب سے ہو گئیں آپ

اے صبح سویرے اللہ اور رسول صلی الہ علیہ وسلم کا نام لے میرے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے اور اٹھ جلدی سے شاور

لیکر نیچے آ جانا امی ناشتے کی ٹیبل پر تمہارا انتظار کر رہی ہیں اور سن شاور کا پانی ٹھیک سے مکس کر لینا ایسا نہ ہو کہ ایکدم

گرم پانی سے تیرے نرم و نازک بدن پر تھرڈ ڈگری

burn

لگ جائیں

اچھا آپ ہی یہ نیک کام کیوں نہیں کر دیتیں میرے لئے

اچھا نہلا بھی نہ دوں تمہیں آیا ہوں میں تمہاری دس منٹ میں تیار ہو کر نیچے آ جا تمہارے کپڑے ہینگر میں ڈال کر الماری

میں ٹانگ دیئے تھے میں نے

تم کمرے میں آئی تھیں میرے

ہاں آئی تھی ایک دیوانی ہی ایک سودائی کے حجرے میں آ سکتی ہے کیوں کسی اور حور پری کو

expect

کر رہے تھے تم مجھے پتہ تھا تم ایسے ہی کپڑے اتارکر بیڈ پر پھینک دوگے اس لئے میں نے تمہارے اٹھنے سے پہلے ہی انھیں ٹھیک سے طے کر کے الماری میں رکھ دیا تھا میں جا رہی ہوں

and don’t take too long

سلام و علیکم خالہ جان

وعلیکم اسلام کیسے مزاج ہیں اور نیند تو ٹھیک طرح سے کی نا میں تو کسی نئی جگہہ پر سو ہی نہیں سکتی ساری رات کروٹیں

بدلتی رہتی ہوں آؤ بیٹھو

جی شکریہ عندلیب نظر نہیں آ رہی مجھے تو کہہ کر آئی تھی کہ میں تمہیں ناشتے کی ٹیبل پر ملونگی

عندلیب کون او ہاں عندلیب لگتا ہےگیراج سے گاڑی لینے گئی ہے ابھی آ جاۓ گی تم ناشتہ شروع کرو لوآ بھی گئی

میرا خیال تھا تم اب تک ناشتے سے فارغ ہو چکے ہو گے یونیورسٹی نہیں جانا کیا لیٹ ہو جاٗ گے تو مجھے الزام دو گے

چھوڑو ناشتے کو میری آج صرف ایک کلاس ہے بعد میں کیفٹیریا سے کچھ لیکر کھا لونگا چلو چلتے ہیں

ارے بیٹا ایسے کیسے خالی پیٹ جاؤ گے ایک آدھ ٹوسٹ کھانے میں آخر دیر ہی کتنی لگتی ہے

امی یہ میری اور آپ کی طرح نہیں کھاتا طوطے کی طرح کتر کتر کے کھاتا ہے اور کہتا ہے جلدی سے کھاؤں تو ہضم نہیں

ہوتا اس لئے جانے دیں اسے بھوکا ہی ۔ اے اٹھ نا اب ٹکر ٹکر مونہہ کیا دیکھ رہا ہے میرا رات کو کتنی دفعہ کہا تھا

تجھ سے وقت پر سو جانا مجھے یقین ہے کوئی کتاب پڑھنے بیٹھ گیا ہو گا

اچھا خالہ جان خدا حافظ

خدا حافظ بیٹا فی امان اللہ اور ہاں بھولنا نہیں پرسوں عندلیب کی سالگرہ ہے سارے ملکر

celebrate

کریں گے

یہ خالہ جان آج بہکی بہکی سی باتیں کیوں کر رہی ہیں پہلے کہہ رہی تھیں عندلیب کون اب کہہ رہی ہیں عندلیب کی سالگرہ ہے

ارے بابا پرسوں عندلیب کی نہیں میری سالگرہ کا دن ہے ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 91

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

کس نام سے پکاروں

مسٹر خان سیٹ بیلٹ باندھ لیں پلیز یہ گاڑی ہے گھوڑا گاڑی نہیں مجھے بھی ساری دنیا میں ایک پینڈو ہی ملنا تھا

آپ بھی نا موقعے ڈھونڈتی رہتی ہیں مجھے لتاڑنے کے ابھی تو میں سیٹ پر ٹھیک طرح سے بیٹھا بھی نہیں تھا اور

آپکا حکم نامہ پہلے ہی جاری ہو گیا زرا سانس تو لینے دیا ہوتا اور یہ خالہ جان کے سامنے اتنا بڑا جھوٹ کہ میں نے

تو اس سے کتنی دفعہ کہا تھا کی جلدی اور وقت پر سو جانا اور وہ زبردستی میرے کمرے میں دھرنا دے کر بڑی

حویلی کی کوئی چڑیل بیٹھی ہوئی تھی کیا جھوٹی زمانے بھر کی

ہاں کبھی کبھار اپنا بھرم رکھنے کے لئے جھوٹ کا بھی سہارا لینا پڑتا ہے مذہب بھی اس کی اجازت دیتا ہے

اے اے کیوں کفریہ جملے بولتی ہو زبان پر چھالے پڑ جائیں گے اور آگے جا کر جو گرما گرم سلاخیں لگیں گی وہ الگ سے

تو اپنی فکر کر کل رات کو جو تو ایک خوبصورت سی نا محرم لڑکی کیساتھ لہک لہک کر رقص کر رہا تھا نا تجھے تو اتنے

ڈنڈے پڑیں گے کہ نانی یاد آ جاۓ گی اور میری فکر مت کر مجھے کچھ نہیں ہونے والا واپس آ کر دو نفل پڑھ لونگی

اور

all forgiven and forgotten

ویسے بھی اللہ میاں لڑکیوں کی دعا زرا جلدی سے سن لیتا ہے

ارے تو قوم یہود میں سے تو نہیں ہے مذہب میں اس طرح کی افترا پردازیاں انھیں کا شیوہ تھا

کیا کیا یہ ابھی ابھی کیا کہا تو نے میں تجھے یہودن لگتی ہوں

جی نہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کہا صرف تمثیل اور تقابل کے طور پر عرض کیا تھا کہ جس طرح آل یہود دینی معاملات

میں افراط و تفریط کے مرتکب ہوتے تھے کچھ اسی قسم کے فتوے آپ کی زبان مبارک سے بھی سننے میں

آ رہے ہیں ۔ اور یہ آپ کی سالگرہ کیا حقیقت میں 31 تاریخ کو ہے پہلے تو کبھی زکر نہیں کیا آپ نے

ابھی کل رات ہی کو تو کہا تھا

تم تو کہہ رہی تھیں تمہاری کسی ہمنام سہیلی کی برتھ ڈے ہے

جیدی تمہارے سامنے جو شیشہ لگا ہوا ہے اس میں دیکھ کر بتا کیا نظر آتا ہے تجھے

کچھ عجیب سا سوال ہے لیکن مجھے تو اس میں صرف اپنا ہی چوکھٹا دکھائی دیتا ہے کیوں تمہارے خیال میں کیا نظر آنا

چاہئے مجھے یہ آئینہ ہے یا جام جمشید جس میں ساری دنیا سما جاۓ

نہیں جام جمشید تو نہیں آئینہ جاوید ضرور ہے دوبارا نظر ڈال شائد اس بار تمہیں دو بڑے بڑے کانوں والا گدھا دکھائ

دے جاۓ ۔

ارے بابا سیخ پا کیوں ہو رہی ہیں آپ اس نیلگوں عرش سے اس خاکی فرش پر کب اتریں میں کیا جانوں

اچھا اور کیا جانتے ہو میرے بارے میں

سچ کہا تم نے میں کچھ بھی تو نہیں جانتا تمہارے بارے میں ۔ تم کون ہو کہاں سی آئی ہو تمہارا حسب نسب کیا ہے

کچھ بھی تو نہیں پتا مجھے البتہ ایک بات تو میں پورے وثوق کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ کم سخن سنجیدہ اور پروقار

خاتون جن کو میں خالہ جان کہہ کر مخاطب کرتا ہوں دنیا میں کچھ بھی ہو سکتی ہیں لیکن تمہاری ماں نہیں

کب سے جانتے ہو یہ حقیقت

شروع سے ہی ۔ تم مجھے گدھا کہتی بھی ہو اور سمجھتی بھی ہو لیکن میں اتنا گدھا بھی نہیں کہ اپنے ملک کے ریت رواج

سے واقف نہ ہوں ہم لوگ اپنے دین سے کتنے ہی بر گشتہ کیوں نہ ہوچکے ہوں لیکن اتنے

liberal

اور آزاد خیال نہیں

ہوۓ کہ ایک نوجوان لڑکی اپنے والدین کی موجودگی میں ایک غیر لڑکے کیساتھ یوں آزادانہ اختلاط یامیل جول رکھے اور

اس کے گھر والوں کو اس پر کسی بھی قسم کا اعترض نہ ہو ۔ آپ سن بھی رہی ہیں یا میں ایسے ہی بولے چلا جا رہا ہوں

اے کہاں ہو اتنی خاموش کیوں ہو کچھ بولو تو ۔ عندلیب

جی

تمہیں لگتا نہیں کہ ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں آج سے تین چار ہفتے پہلے تھے

کونسے مقام پر کیا کہہ رہے ہو تم

تم کیا کہہ کر بلاتی ہو مجھے جاوید ، جیدی یہی نا

ہاں کیوں اور کیا کہوں

یہی کہو آہستہ کہو زور سے کہو دل چاہے تو چلا کر کہو کیونکہ یہ میرا نام ہے لیکن تمہیں ۔ تمہیں کیا کہوں کس نام سے پکاروں میں مجھے تو آج تک یہ بھی نہیں معلوم کہ تمہارا نام کیا ہے

پوچھا کیوں نہیں

جب بھی پوچھا یہی جواب ملا “ جس نام سے بھی پکارو گے دوڑی چلی آؤں گی”

تم مجھ سے جواب مانگ رہے ہو سوال کر رہے ہو یا پھر گلہ کر رہے ہو

کچھ بھی نہیں گاڑی روک لو ورنہ ہم اپنی منزل سے بہت دور نکل جائیں گے

میری منزل اس گاڑی سے باہر نہیں میرے ساتھ ہے ۔ کیوں کر رہے ہو ایسی باتیں ۔ کب آؤں تمہیں لینے

پتہ نہیں کلاس کے بعد مجھے لائبریری جانا ہے دیر بھی لگ سکتی ہے

وقت بتا کر نہیں جاؤ گے تو یہیں تمہارے ہاسٹل کے باہر بیٹھی رہونگی

میں اس وقت جلدی میں ہوں کمرے سے چند ایک چیزیں لینی ہیں اور پھر کلاس کے لئے بھاگنا ہے خدا حافظ

خدا حافظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارے تم کب آئیں میں تو کلاس سے سیدھا چلا آ رہا ہوں لائبریری جانے کی بھی ضرورت نہیں پڑی ایک دوست سے

بنے بناۓ نوٹس مل گئے تھے لیکن تم اتنی جلدی کیوں آ گئیں اگر میں لیٹ ہو جاتا تو

تو کیا میں تھوڑی دیر اور تمہارا انتظار کر لیتی

اچھا میں اپنی کتابیں وغیرہ کمرے میں رکھ کر آتا ہوں کپڑے بھی چینج کر لونگا یوں گیا اور یوں آیا

کیوں بھئی اسمائیل کیسے ہو

میں تو ٹھیک ہوں پر بیگم صاحبہ ضرور تھک گئی ہونگی صبح سے یہیں بیٹھی ہیں

کیا کہا صبح سے تمہارا مطلب گھر واپس ہی نہیں گئیں

جی خان صاحب جی میں صبح سے گیٹ پر ہوں میں نے تو انکو کہیں آتے جاتے نہیں دیکھا

اچھا ایک کام کرو یہ لو میرے کمرے کی چابی یہ کتابیں میرے کمرے میں رکھ دینا

جیدی کیا ہوا تم تو کپڑے تبدیل کرنے جا رہے تھے واپس کیوں آ گئے کچھ بھول گئے ہو یا پھر کچھ یاد آ گیا

یہ کیا پاگل پن ہے گیٹ کیپر کہہ رہا تھا تم صبح سے ادھر ہی بیٹھی ہو بھوکی پیاسی

تم نے بھی تو کچھ کھایا پیا نہیں اور میں نے تمہیں کہا تو تھا وقت بتا کر نہیں جاؤ گے تو ادھر ہی بیٹھی رہوں گی چاہے کتنے

ہی موسم بیت جائیں ویسے بھی جو لذت تیرے انتظار میں ہے وہ تیرے وصل میں کہاں وہ کہتے ہیں نا

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ

وصل سے انتظار اچھا تھا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 92

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Wedding bells

ناراض ہو

کچھ کہا میں نے

کیوں نہیں کہا میں تمہاری جگہہ پر ہوتی تو ضرور کہتی ۔ میں نےاگر تمہیں اپنے بارے کبھی کچھ نہیں بتایا تو پوچھ لیا ہوتا

مجھ سے میں نے جان بوجھ کر تم سے کچھ نہیں چھپایا جانے کیوں یہ بات رہتے رہتے رہ گئی

یہ میری ناراضگی کی وجہ نہیں ہے

تو پھر کیوں مونہہ لٹکا ہوا ہے میں تو سمجھی تم

غلط سمجھی آپ میں لوگوں کی زاتی زندگی میں دخل اندازی یا ان کے بارے میں کسی قسم کی جانکاری حاصل کرنے کو

معیوب سمجھتا ہوں آپ کسی خاص وجہ کے بغیر بھی مجھے اپنے بارے کچھ بتانا نہیں چاہتیں تو مجھے آپ کی اس

خواہش کا احترام کرنا چاہیٖۓ نا کہ میں اسے اپنی انا کا مسلہ بنا کر بیٹھ جاؤں ۔ میں نے تم سے پوچھا تھا گھر واپس کیوں

نہیں گئیں تمہاری طبیعت خراب ہو جاتی تو

تم مجھ سے لڑائی کر کے گئے تھے ایسے کیسے گھر واپس چلی جاتی اور میری طبیعت کو کچھ نہیں ہوا

میں نے کوئی لڑائی نہیں کی تم سے تمہیں ایسے ہی وہم ہو چلا ہے

ہاں لڑائی تو نہیں کی لیکن روٹھے ہوۓ تو ہو مجھ سے ۔ کیا جاننا چاہتے ہو میرے بارے میں

چھوڑو اس قصے کو یونیورسٹی کیفیٹیریا چلتے ہیں تمہیں بھی بھوک لگ رہی ہو گی

نہیں

I am not properly dressed

اگر تمہیں کچھ اور نہیں کرنا توگھر چلتے ہیں

جیسے تمہاری خوشی راستے میں سے کچھ کھانے کے لئے لیتے چلیں

ہمارا گھر تمہارےہاسٹل کی کینٹین نہیں اور ویسے بھی جہاں ہم دونوں اکٹھے ہونگے وہاں اور کچھ کھانےکو ہو یا نہ ہو TLC تو ہو

گی پیٹ کو کچھ ملے یا نہ ملے روح کو غذا ملتی رہنی چاہیے ۔ اے فلاسفر ٹھیک تو کہا نا میں نے

صبح کی دوائی کھا کر نکلی تھیں گھر سے کیا ۔ نہیں نا ۔ جھوٹ بھی نہیں کہہ سکتیں کیونکہ میں آپ کے ساتھ تھا

ارے ایک وقت کی دوائی نہیں کھائی تو کونسا آسمان ٹوٹ پڑا ہے ابھی گھر جا کر کھا لونگی تم بھی نا کوئی نا کوئی بہانہ ڈھونڈ

کر

argument

شروع کر دیتے ہو ۔ ارے یاد آیا برتھ ڈے کا کیا پروگرام ہے

میرے پروگرام کی بھی خوب کہی تم نے ارے بابا میں پچھلے کئی برسوں سے ہاسٹلز میں رہ رہا ہوں اور سچ پوچھو تو میں نے

آج تک نہ تو کبھی سالگرہ منائی ہے اور نہ ہی اس بارے میں کبھی سوچا ہے اور تم نے کل رات یہ کیوں کہا تھا کہ ہم

دونوں کی سالگرہ ایک ہی دن ہونا بہت اہمیت کا حامل ہے

ہاں میرے لئے تو ہے تمہارے لئے شائد نہ ہو

یہی تو جاننے کے لئے سوال کیا تھا کہ ایسی کیا بات ہے میں تو اسے محض ایک اتفاق سمجھتا ہوں اور کچھ نہیں

بتاتی ہوں پہلے تمہیں مجھ سے یہ وعدہ کرنا ہو گا کہ تم مجھ پر ہنسو گے تو نہیں

اگر کوئی ہنسنے والی بات ہو گی تو ضرور ہنسوں گا

اگر ایسا ہے تو پھر تمہیں جاننے کی بھی کوئی ضرورت نہیں

اب بتا بھی دو

suspense

کیوں

create

کر رہی ہو اچھا بابا وعدہ رہا کوئی نہیں ہنسے گا یہاں کئی سال پہلے ایک ہندو جوتشی نے میری جنم کنڈلی بنائی تھی جس کے مطابق میرا اور میرے ہونے والے پتی دیو کا سن پیدائش

اور دن ایک ہی ہو گا کل رات جب تم نے کہا کہ تم جون میں نہیں بلکہ مارچ اور وہ بھی اکتیس کو پیدا ہوۓ ہو تو مجھے اس

جیوتشی کی برسوں پہلے کہی ہوئی بات یاد آ گئی

چلیں اس کی آدھی شرط تو پوری ہوئی تو ایسا کرتے ہیں کہ ہم لوگ منگنی کر لیتے ہیں اور جب کسی معجزہ سے ہماری سن

پیدائش بھی ایک ہو گئی تو ہم لگن بھی کر لیں گے ہاہاہا

جھوٹے تم نے نہ ہنسنے کا وعدہ کیا تھا چلو اب لگے ہاتھوں اپنا سن پیدائش بھی بتا ہی ڈالو

تم ہمیشہ سے کہتی رہی ہو کہ مجھ سے تین سال بڑی ہو تو پھر تو تمہیں پتہ ہوناچاہئیے

وہ تو میں اندازے سے کہتی تھی تم ابھی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہو جبکہ میں ماسڑز کر چکی ہوں

یہ اندازہ غلط بھی تو ہو سکتا ہے کیونکہ میں نے اپنی تعلیم کے دو تین سال ضائع بھی کئے ہیں

تم نے اس سے پہلے کبھی اس بات کا زکرنہیں کیا

اب کر تو رہا ہوں

کب ہوئے تھے تم پیدا

تمہارے کان میں کہونگا ساری دنیا کو تھوڑے ہی نا بتانا ہے

یہاں ہم دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا بھی ہے یا

you’re suffering from paranoia

ویسے بھی میں گاڑی چلاؤں

یا اپنے سر کو تمہارے مونہہ کے قریب لے آؤں ایکسیڈنٹ کرانا ہے کیا

انیس سو اڑتالیس نہ ایک دن کم نہ ہی ایک دن زیادہ ۔ اےکیا ہوا بیچ سڑک کے گاڑی کیوں روک دی اور یہ اتنی زور

سے بریکس کیوں لگا دئیے میرا سر ڈیش بورڈ سے جا ٹکراتا تو جنگلی کہیں کی رشوت دے کر ڈرائیونگ لائیسنس خریدا ہے کیا

دوبارا بول اور اس دفعہ زور سے بولنا میں زرا انچا سنتی ہوں

سنتی ہی نہیں بولتی بھی اونچا ہی ہو میں نے جو کہنا تھا سو کہہ چکا اور میرے جسم میں رپلائی بٹن نہیں ہے اور یہ

آج میرے یوم پیدائش پر آپ کے ریکارڈ کی سوئی کیوں اٹک گئی ہے

public holiday

تو منانے کا ارادہ نہیں آپکا

نہیں پبلک ہالیڈے تو نہیں البتہ اگلے برس انشااللہ ہماری دونوں کی سالگرہ کے ساتھ ہی ہماری شادی کی بھی پہلی سالگرہ

منائی جا سکتی ہے کیونکہ اب تو اس جیوتشی کی کہی ہوئی دونوں باتیں ٹھیک ہیں

اچھا وہ کیسے

وہ ایسے میرے دولہے راجہ کہ تمہاری ہونے والی دلہن بھی اسی سال مہینے اور دن پیدا ہوئی تھی جس سال مہینے اور دن آپ

نے اس جہان فانی میں اپنا قدم مبارک رکھا تھا ۔ اوراب اپنی سیٹ بیلٹ زرا مضبوطی سے تھام لیں

اے بنت جنات گاڑی تو زرا انسانوں کی طرح چلا

نہیں مجھے یہ خوش خبری جلد از جلد امی کو بتانی بھی ہے اور سنانی تو ہے ہی ۔

اے بولو نا کچھ کر رہے ہو کیا

کچھ نہیں یادوں کی تسبیح ہاتھوں میں لئے بکھرے ہوۓ دانوں کو سمیٹ کر تیرے پیار سے بنے ہوۓ دھاگے

میں پرو رہا ہوں جب اور جس دن یہ مالا تیار ہو گئی تیری صراحی دار گردن میں ڈال دونگا اور اب تو ایسے لگتا ہے

جیسے وہ دن زیادہ دور نہیں

میں انتظار کروں گی اس دن کا اس گھڑی کا اس لمہے کا اس وقت تک جب تک کہ میرا اپنا وقت پورا نہیں ہو جاتا

نہیں تیرے وقت کی ڈورمیری سانسوں کے ساتھ بندھی ہے قدرت اتنی بے رحم اور سفاک نہیں ہو سکتی کہ ہمارے پیار

کی کمند کو اس وقت توڑ ڈالے جبکہ لب بام صرف دوچار ہاتھ رہ گیا ہو

تمہیں لگتا ہےایسا ہی ہو گا جیسا تم کہہ رہے ہو

نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ایسا ہی ہو گا یقین نہیں آتا تو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خود ہی دیکھ بھی لو اور ہو سکے

تو پڑھ بھی لو جہاں اس وقت بھی ہمارے پیار کی کہانی لکھی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 93

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

شہرزاد

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

چلو اترو گھر آ گیا میں گاڑی گیراج میں چھوڑ کر آتی ہوں تم اتنی دیر میں اپنےکمرے میں جا کر مونہہ ہاتھ دھو لو

میرے کمرے میں آپ کچھ بھول نہیں رہیں یہ آپ کا گھر ہے میرا ہاسٹل نہیں

جی نہیں مسٹر خان یہ میرا نہیں ہم دونوں کا گھر ہے اور اگر آپ کی یادداشت کمزور نہیں تو کل رات آپ جس کمرے

میں سوۓ تھے وہ آپ ہی کا کمرا تھا اور اب آپ مہربانی کر کے وہی کریں جیسا کہ آپ سے کہا گیا ہے اور باقی

کی بحث کسی اور وقت کے لئیے اٹھا رکھئیے

سلام و علیکم خالہ جان کیسی ہیں آپ

و علیکم اسلام ٹھیک ہوں اور یہ محترمہ کہاں ہیں صبح تمہیں ہاسٹل ڈراپ کرنے گئی تھی اور اس کے بعد سے اس

کی کوئی خیر خبر نہیں کم از کم مجھے کہیں سے فون پر ہی مطلع کر دیتی کے وہ تمہارے ساتھ ہے مجھے اتنی فکر لگی ہوئی تھی

کہ خدانخوسطہ کہیں نصیب دشمناں اس کی طبیعت نہ خراب ہو گئی ہو غیر زمہ داری کی بھی کوئی تو حد ہوتی ہے

میں نے اس پوچھا تو تھا کہنے لگی یونیورسٹی کیفیٹیریا کے فون سے گھر اطلاع کر دی تھی

اے اے جھوٹے کہیں کے لوگوں پر جھوٹ باندھتے ہو زبان کالی ہو جاۓ گی

ارے آپ کب آئیں اور یہ چھپ چھپ کے دوسروں کی باتیں سننا گناہ صغیرہ ہے

اچھا اور یہ دو منٹ پہلے جو بہتان تم نے مجھ پر باندھا ہے وہ گناہ کبیرہ ہے کہ نہیں ۔ نہ تم مجھ سے لڑائی کر کے جاتے نہ

ہی میں تمہارے انتظار میں ہاسٹل کے باہر بیٹھی رہتی ۔

میں نے کوئی لڑائی نہیں کی صرف یہی کہا تھا کہ تم مجھ سے باتیں چھپاتی ہو غلط کہا تھا میں نے کیا بولو جواب دو

بچو پہلے مہذب لوگوں کی طرح بیٹھ کر کچھ کھا لو پھر ساری عمر پڑی ہے لڑتے رہنا آپس میں میرا تو بھوک سے دم

نکلا جا رہا ہے اور تم ہو کہ سوتنوں کی طرح ایک دوسرے کو کوسنے دے رہے ہو

جیدی تم گئے تھے اوپر اپنے کمرے میں یا اس وقت سے ادھر ہی کھڑے امی سے میری جھوٹی سچی شکائتیں لگا رہے ہو

آپ لوگ کھانا شروع کریں میں دو منٹ میں ہاتھ مونہہ دھو کر آتا ہوں

ابھی تک بچپنا گیا نہیں تم دونوں کا چوبیس گھنٹے کسی نہ کسی بات پر تمہاری بحث چل رہی ہوتی ہے ۔ مجھے یقین ہے آج

بھی تم نے ہی کچھ نہ کچھ الٹی سیدھی بات کی ہوگی ۔ کیا کہا تم نے اسے

کچھ نہیں کہا میں نے اسے بات ہم کچھ اور کر رہے تھے بیچ میں میری بات کاٹ کر کہنے لگا آپ میری ماں نہیں ہیں

اوہ ۔ تو پھر تم نے کیا جواب دیا

کچھ نہیں مجھے کچھ کہنے سننے کی مہلت ہی نہیں دی اس نے کہنے لگا تم بغیر کس وجہ کے بھی اپنے بارے میں اگر کچھ نہ

بتانا چاہو تو تمہاری خوشی

اپنا نام بتایا تم نے اسے یا ابھی تک عندلیب ہی چل رہا ہے اب تو میں خود کئی دفعہ تمہارا اصلی نام بھول جاتی ہوں

مجھے بتانے کی ضرورت نہیں وہ جانتا ہے میرا نام کیسے یہ تو نہیں پتہ لیکن

my gut feeling is he knows

اسے

آنے دیں ابھی پتہ چل جاۓ گا

یہ مہاشے ہے کہاں مونہہ ہاتھ دھونے گیا تھا یا پورا غسل کر کے آۓ گا

جیدی کے بچے تو نیچے آۓ گا یا میں اوپر آؤں

کیوں چلا رہی ہو جب تیار ہو گا خود ہی آ جاۓ گا

آپ کو لگتا ہے یہ مونہہ ہاتھ دھو رہا ہے ارے وہاں کتابوں کے پاس کھڑا ورق گردانی کر رہا ہو گا ۔ کتابوں کو ایسے

چھاتی سے لگا کر رکھتا ہے جیسے پہلی رات کی دلہن ہو

ہاہاہا بڑا عجیب سا

expression

ہے لیکن ہے بڑا دلچسپ بلکہ چٹخارے والا پہلے کبھی سنا نہیں

آپ کو لگتا ہے مجھے اس طرح کی باتیں کرنا آتی ہیں ایسی بازاری قسم کی

similes and metaphors

اسی کے زہن

کی اختراع ہیں خدا جانے کس قسم کے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے

اب کس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہیں مس بے نام

تم سے مطلب کئی دفعہ کہا ہے اپنے سے بڑوں کی بات میں دخل مت دیا کرو اور سنو جتنا تمہاری پلیٹ میں ڈالوں

سارا ختم کرنا کیونکہ تمہارا بچا ہوا کھانا پھر مجھے کھانا پڑتا ہے ۔

آپ مبالغے سے کام نہیں لے رہیں کچھ ۔ آدھی کھائی ہوئی پلیٹ چھوڑ دینا کھانے کے آداب کے خلاف ہے اور میں

اپنے ہر کام میں ادب آداب کا ہمیشہ بہت خیال رکھتا ہوں

ارے بابا مذاق میں کہا تھا تم کسی چینی خانقاہ میں تو نہیں پلے بڑے کیسے زاہد اور خشک قسم کے انسان ہو تم سر

درد کہیں کا اب اکیلے بیٹھ کر زہر مار کرو میں جا رہی ہوں اپنے کمرے میں

غصہ تو جیسے ناک پہ دھرا رہتا ہے شہزادی صاحبہ کے بیٹھو ادھر کہیں نہیں جا رہی تم ۔ آج میرے ہاتھ سے کھا لو

تم بھی کیا یاد کرو گی کس رئیس زادے سے پالا پڑا ہے

بگڑا ہوا رئیس زادہ ۔ یہ اتنی دیر سے اوپر کیا کر رہے تھے اور دیکھو جھوٹ مت بولنا کہیں اپنی نئی نویلی دلہنوں

کی نقاب کشائی میں تو مصروف نہیں تھے

اچھا تو یہ نئی نویلی دولہنیں لیکر کون آیا تھا میرے لئے اور ابھی تو میں نے ان کتابوں کے ٹائیٹلز بھی ٹھیک طرح سے

نہیں پڑھے اور وہ آپ کی سوتنیں بن گئیں

ہاں ہاں میں ہی غلطی سے ساری کی ساری لائیبریری تمہیں خوش کرنے کے لئے اٹھا لائی تھی لیکن تمہاری جوانی صرف اور

صرف میرے نام ہے جب بوڑھے ہو جاؤ گے تو آرام سے بیٹھ کر لیٹ کر یا چلتے پھرتے پڑھتے رہنا کوئی نہیں پوچھے گا تمہیں

کم از کم میں تو نہیں ہاں ہمارے بچوں کا میں کہہ نہیں سکتی اور یہ بے نام کسے کہہ رہے تھے

جس کا کوئی نام نہ ہو اسے کیا کہتے ہیں

اچھا clever clogs تو بتا Nikolai Rimsky Korsakov اور Arabian Nights میں کیا چیز مشترک ہے

تمہارا نام ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 94

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

شہرزاد

کب سے جانتے ہو میرا نام اور مجھے کوئی رومانٹک جواب نہیں چاہئیے کہ ہمیشہ سے

تمہارے ڈیپارٹمنٹ گیا تھا ایک دفعہ

میرا نام معلوم کرنے کیلئے ۔ مجھ سے پوچھ لیا ہوتا

تم نے بتایا نہیں میں نے سمجھا شائد کوئی مصلحت ہو اس لئیے اور تمہارے ڈیپارٹمنٹ میں اکیلا نہیں آپ کے ساتھ

گیا تھا آپ کو شائد یاد نہیں رہا آپ مجھے لائبریری میں بٹھا کر خود کسی کو ملنے چلی گئیں مجھے کچھ اور کرنے کو نہ ملا تو

آپ کی نرم و نازک لائبریرین کی خیریت دریافت کرنے چلا گیا

کون نگہت وہ کافی کم گو سی لڑکی ہے بغیر کام کے کسی سے زیادہ بات چیت نہیں کرتی

ہاں بات تو میں نے اس سے کام سے ہی شروع کی تھی پھر نام پر چلا گیا اور پھر رام اور اس کے بعد رام کی لیلا

اور اس کے بعد

بس بس اب اتنے

Casanova

بھی نہیں ہو کہ دنیا کی ساری حسینائیں تم پر مر مٹیں ۔ اس نے بتایا تمہیں میرا نام

نہیں اس نے تو صرف اتنا کہاتھا کہ یہ الف لیلے تمہاری کوئی عزیز ہے میں نے کہا کہ ابھی تو نہیں لیکن شائد جلد ہی

کوئی رشتہ استوار ہو جاۓ لیکن الف لیلے یہ کیسا نام ہے کہنے لگی یہ اس کا نام تو نہیں لیکن سب لوگ اس کے نام

کی مناسبت سے اسے الف لیلے کہتے ہیں ۔ ہماری گفتگو ابھی یہیں تک پہنچی تھی کہ اوپر سے آپ بن بلاۓ مہمان

کی طرح نازل ہو گئیں اور ہماری بات اور ملاقات آپ کی پیاری اور کم سخن نگہت سے ادھوری ہی رہ گئی

بہت یاد آ رہی ہے اس کی لے جاؤں اسے ملانے کو

پھر سہی کبھی اب تھوڑی سی اپنی بات کر لیں

کرو میں سن رہی ہوں

نہیں اب تم کرو کیونکہ مجھے سننا ہے

ناراض ہو ابھی تک

اگر میں شادی سے انکار کر دیتا تو

کیسی شادی کس کی شادی تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا کہیں جیدی تم ٹھیک تو ہو

میں ٹھیک ہوں میرا کہنے کا مطلب تھا کہ ہمارے نکاح کے وقت اگر مولانا صاحب کہیں کہ آپ کو فلاں بنت فلاں

اپنے نکاح میں قبول ہے تو مجھے جب آپکا نام ہی معلوم نہیں تو میں اس رشتے سے انکار بھی کر سکتا ہوں ۔کر سکتا ہوں

کہ نہیں آپ ہی بتائیے

جی بالکل کر سکتے ہیں ۔ اور زندگی میں اگر ایسا وقت آ گیا تو ضرور کر لیجئے گا لیکن ابھی وہ وقت نہیں آیا اور شائد کبھی نہ بھی

آۓ یوں لگتا ہے جیسے صبح کی دوڑ دھوپ سے زیادہ آپ میرے ساتھ چلتے چلتے کچھ تھک سے گئے ہیں اس لئے اوپر اپنے کمرے میں جا کر تھوڑا آرام فرما لیں اور اگر واپس اپنے ہاسٹل جانا چاہیں تو چلیں میں آپ کو چھوڑ آتی ہوں ابھی اسی وقت

جی اس تکلف کی ضرورت نہیں میں بس یا رکشا لیکر چلا جاؤنگا دو دن آپ کی گاڑی میں بیٹھنے کے باوجود نہ تو میں بسوں کا

انتظار کرنا بھولا ہوں اور نہ ہی رکشوں کے جھٹکے اور سڑکوں پر اڑتی ہوئی دھول

جیسے آپ کی خوشی

خالہ جان تو آرام کرنے کے لئے اوپر اپنے کمرے میں جا چکی ہیں انھیں میری طرف سے خدا حافظ کہہ دی جئیے گا

جی کہہ دونگی

خدا حافظ اور جانے انجانے میں غلطی سے کچھ کہہ دیا ہو تو معاف کر دیجئیے گا

غلطیاں تو ہم جیسے

mortals

سے سرزد ہوتی ہیں اور آپ تو جاوید ہیں جس کو کبھی فنا نہیں آپ غلط بات کیوں کریں گے

اور آپ ہاں یاد آیا آپ کا تو کوئی نام ہی نہیں اور ایک بےنام سے گلہ شکوہ اور شکائیت کیسی

گھر سے نکلنے کے بعد گیٹ کی داہنی دیوار پر ایک نام لکھا ہے ایک نظر پیچھے مڑ کر اس پر ڈال لیجئیے گا یہ شکائیت بھی

دور ہو جاۓ گی اور کچھ

حیرت ہے پتھروں پر کندہ کئیے ہوۓ نام تو صرف شہر خموشاں کے باسیوں کے حصے میں آتے ہیں اور آپ تو ماشااللہ

جی نہیں سارے تو نہیں چند نام شہر خموشاں سے ادھار لیکر شہر زادوں کے لئے وقف کر دئیے جاتے ہیں

تو آپ شہر زاد ہیں

جی شہزادہ عالم کنیز کو عرف عام میں شہرزاد ہی کہا جاتا ہے

جیسے گھر بنتے بیٹوں لیکن سجتے سنورتے بیٹیوں سے ہیں ویسے ہی شہر میں اگر شہر زاد یعنی شہر کی بیٹی نہیں ہو گی تو شہر اور خاص

کر شہر دل بسے گا کیسے

شہر دل آئی تو تھی آپ کے دل کی دنیا آباد کرنے کے لئیے آپ نے خود ہی اس ٹھکرا دیا

ٹھکرایا تو نہیں صرف یہی کہا تھا کہ دلہن کی پہچان کے بغیر اقرار انکار میں بھی بدل سکتا ہے

یہ تو شرف قبولیت نہ بخشنے کا ایک بہانہ تراش لیا آپ نے

دنوں کی نہیں ہفتوں کی نہیں مہینوں کی رفاقت اور قربت بھی آپ کو ایک بہانہ لگتی ہے آپ نے ہمیں اس قابل بھی نہ

سمجھا کہ اپنا نام اپنی پہچان اپنا تعارف ہی ہم سے کرا دیتیں بحرحال آپ کی خوشی اسی میں تھی اس لئے ہم بھی جب تک

اور جہاں تک ہو سکا خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہے میرا خیال میں کافی کہہ اور سن لیا اب آپ سے رخصت چاہیں گے

جانے سے پہلے دیکھ اورسوچ لو تمہاری کوئی قیمتی چیز اس گھر میں رہ تو نہیں گئی پھر شائد کبھی ان راہوں سے تمہارا

گذر نہ ہو اور کبھی بھولے سے اس گلی میں آ ہی نکلو تو کون جانے اس گھر کے مکین ہی گھر چھوڑ کر جا چکے ہوں

پچھلے کئی برس سے ہاسٹلز میں رہ رہا ہوں اپنا کفن کندھوں پر اٹھاۓ پھرتا ہوں میرے پاس نہ تو پیچھے چھوڑنے کی کوئی چیز ہے اور نہ ہی ساتھ لے جانے کو جیسے خالی ہاتھ آیا تھا ویسے ہی خالی دامن جا رہا ہوں اور اگر کچھ رہ بھی گیا ہو تو تم souvenir

سمجھ کر ہی رکھ لینا نہیں تو میری طرح اسے بھی اس بڑے سے گھر کے بڑے سے گیٹ کے باہر پھینک دینا

میں اگر تمہیں نہ رکھ سکی تو تمہاری باقیات کو رکھ کر ساری عمر کیا تمہاری یادوں کا ماتم کرتی رہوں گی اور گھر گھروندے ہوٹلوں

کی طرح چھوٹے اور بڑے نہیں ہوتے جب تک کہ ان میں رہنے بسنے والے کے دل اتنے تنگ نہ ہوجائیں کہ خود ہی ان میں

اپنی خود غرضی اور تنگ نظری کی اتنی بڑی بڑی دیواریں کھڑی کر لیں کہ ان کو در و دیوار پستہ قد نظر آنے لگیں

بڑی بڑی باتیں کرنے لگی ہیں آپ آج کل

نہیں جیدی میں نہ تو کوئی بڑی اور نہ ہی نئی بات کر رہی ہوں ۔ ہم تو ہر چیز کو

recycle

کر رہے ہیں دنیا میں ہر اچھی

بات کہی ، لکھی اور سنی جا چکی ہے

we are living in a age of mediocrity

ارے ہم سے تو وہ کھنڈر تک

نہیں سنبھالے جا رہے جن پر ہمارے اباؤ اجداد نے اتنی عالیشان عمارتیں کھڑی کی تھیں ۔ ہم بونوں کی دنیا میں رہتے ہیں

بونوں کی دنیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 95

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Re-union

کچھ غلط تو نہیں کہا نا میں نے کہ ہم چھوٹے لوگوں کی دنیا میں رہتے ہیں

جی سچ کہا آپ نے میں نہ صرف کوتاہ قامت بلکہ کوتاہ نظر اور کوتاہ اندیش بھی ہوں اسی لئیے آپ کی قدر و قیمت کا

صحیح اندازہ نہ لگا سکا ایک حساب سے تو یہ آپ کے حق میں بہتر ہی ہوا نا کہ آپ کی مجھ سے وقت پر ہی جان چھوٹ گئی

چلوں گا میں اب اپنا بہت خیال رکھئیے گا

جا رہے ہو

جی میرا اس وقت چلے جانا ہی بہتر ہے اللہ حافظ

شائد ٹھیک ہی کہتے ہو تم خدا حافظ

عندلیب ارے بھئ کہاں ہو تم لوگ اور یہ جاوید کہاں چلا گیا

عندلیب کون عندلیب امی جان وہ جو مجھے اس نام سے پکارتا تھا وہ تو چلا گیا اب کوئی بھی کبھی بھی مجھے اس نام سے آواز نہیں

دیگا آپ بھی نہیں وہ تو چلا گیا خود تو گیا ساتھ میں اپنا دیا ہوا نام بھی لے گیا

کون چلا گیا کہاں چلا گیا کس کی بات کر رہی ہو تم میں نے تو تم سے جاوید کے بارے میں پوچھا تھا

میں نے کہا تھا نا آپ سے جیسے باقی سب چلے گئے یہ بھی ایکدن مجھے اکیلا چھوڑ کر چلا جائے گا

تم کیسی لڑکی ہو اس نے کہا میں جا رہا ہوں اور تم نے اسے خوشی خوشی رخصت کر دیا یہ دیوانگی نہیں پاگل پن ہے

اس سے محبت کے بڑے بڑے دعوے بھی کرتی ہو اور ہمالیہ سے اونچی انا بھی ہے جاؤ اس کے پیچھے زیادہ دور نہیں

گیا ہو گا اور گیا بھی کیا یہیں کہیں سڑک کے کنارے بیٹھا تمہارا انتظار کر رہا ہو گا بھول گئیں کیا تمہارے بغیر تو اس اپنے

گھر کا راستہ تک نہیں آتا ۔ جاؤ تلاش کرو اسے ویسے بھی میں اکیلی تمہارے آنسو پونچھتے أونچھتے اب تھک چکی ہوں

اور اگر اس نے واپس آنے سے انکار کر دیا تو

تو پھر وہ تمہارے ساتھ کبھی تھا ہی نہیں اور یہ سوال جواب تم مجھ سے بعد میں کر لینا اب بھاگ بغیر جوتوں کے

بیگم صاحبہ گیٹ کھولوں گاڑی کے لئے یا پیدل جا رہی ہیں باہر

نہیں بابا گیٹ کھولنے کی ضرورت نہیں جاوید صاحب کچھ دیر پہلے گھر سے نکلے تھے کالج ساٰئڈ کی طرف گئے ہیں یا مارکیٹ

کی طرف

جی سنیما کی طرف گئے ہیں کہیں تو میں بھاگ کر انھیں بلا لاؤں زیادہ دور نہیں گئے ہونگے

شکریہ بابا میں خود ہی دیکھ لونگی

کب سے انتظار کر رہے ہیں بس کا

جی ۔ مجھ سے مخاطب ہیں آپ

لگتا تو ایسا ہی ہے کیونکہ ہم دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا تو یہاں ہے نہیں اور بجلی کے کھمبوں سے لگ کر کھڑا تو ہوا جا

سکتا ہے لیکن ان سے بات چیت نہیں کی جا سکتی

اوہ سچ کہا آپ نے ۔ جی میں تو ابھی ایک دو منٹ پہلے ہی آ کر کھڑا ہوا ہوں میرا خیال میں بس آتی ہی ہو گی آپ کو

زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑیگا

ہاہاہا مجھے لگتا ہے آپ کوئی رئیس زادے ہیں اور اومنی بس سروس سے قطعی نا واقف ہیں ورنہ اتنے یقین اور اطمینان سے

یہ بات نہ کہہ پاتے اور آپ نے ہمارے شہر کی بسوں کے متعلق وہ ہلکہ پھلکا لطیفہ بھی نہ سنا ہو گا

جی میں اس شہر میں نووارد ضرور ہوں لیکن امیر زادہ نہیں اور جب تک بس نہیں آ جاتی آپ کا لطیفہ ہی سن لیتے ہی ہیں ارشاد

یہ ارشاد کون ہے کسی دوست کو آواز دے رہے ہیں کیا میں کوئی پیشہ ور لطیفہ گو تو ہوں نہیں کہ آپ اپنے دوست احباب

کو بھی دعوت دے رہے ہیں

جی ارشاد سے میرا مطلب تھا کہ سنائیے میں ہمہ تن گوش ہوں

کیا گوش ہوں تم کیا کسی پاس پڑوس کے ملک سے آۓ ہو میرا مطلب ہے ایران وغیرہ سے

جی نہیں میں آفاقی مخلوق ہوں اللہ میاں کا اوتار ہوں لوگوں کی عاقبت سنوارنے کے لئیے اوپر سے بھیجا گیا ہوں اب

براۓ کرم وہ لطیفہ سنا دیں یا مجھ غریب کا پنڈ چھوڑ دیں

ارے تو غصے کیوں ہو رہے ہو یوں کہو نا کہ لطیفہ سننا ہے “ ایک بس سٹاپ پر لوگ کھڑے بڑی دیر سے بس کے آنے

کا انتظار کر رہے تھے گرمیوں کے دن بیچاروں کا گرمی سے برا حال تھا ان لوگوں میں سے ایک آدمی کے پاس ٹرانسسٹر

ریڈیو تھا جس میں گانے وغیرہ چل رہے تھے اچانک ریڈیو والوں نے نارمل ٹرانسمیشن روک کر بریکنگ نیوز دینا شروع کر دی

کہ امریکہ کا خلائی طیارہ اپالو ۱۱ چاند پر پہنچ چکا ہے اور نیل آرم سٹرانگ اس وقت چاند پر چہل قدمی کرنے میں مشغول ہیں

ایک مسافر جو گھنٹہ بھر سے بس کا انتظار کرتے کرتے بے حال ہو چکا تھا پوری زور سے چلایا کہ “ دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے

اور ایک ہم ہیں کہ ابھی تک بس کا انتظار کر رہے ہیں “ ہاہاہا لطیفہ کیسا تھا اچھا تھا نا مجھے یقین تھا تمہیں پسند آۓ گا

یہ آپ مجھے لطیفہ سنا رہی تھیں یا ایک بری خبر کی نوید یعنی آپ کا کہنے کا مطلب ہے کہ مجھے گھنٹوں بس کا انتظار کرنا پڑیگا

ہاں اور کیا بس میں جانا ہے تو انتظار تو کرنا ہی پڑیگا ورنہ اپنے گھر والوں کو کہیں سے فون کر دے کہ اپنے سپوت کے لئے

کسی اڑن کھٹولے کا انتظام کر دیں

جی میرے والدین تو دوسرے ملک میں رہتے ہیں وہ اتنی دور سے کہاں میرے لیئے سواری کا ا نتظام کرتے پھریں گے میں

گیارا نمبر کی بس سے چلا جاؤں گا ویسے بھی مجھے نیو کیمپس تک ہی تو جانا ہے

گیارا نمبر کی بس یہ کونسی بس ہے بھئ میں نے تو کبھی اس کے بارے میں نہ پڑھا نہ سنا

لگتا ہے آپ کوئی امیر زادی ہیں ورنہ ہم جیسے غریب اور متوسط طبقہ کے سب لوگ تو زیادہ تر اسی پر سفر کرتے ہیں

آپ اتنی حیرانی سے کیوں میری طرف دیکھ رہی ہیں جانتی ہیں گیارا نمبر کی بس کا مطلب ہے دو ٹا گیں

ہاہاہا کافی دلچسپ اور مخولئیے قسم کے لڑکے ہو اور میں امیر زادی تو نہیں شہر زادی ضرور ہوں میرا مطلب ہے میرا نام

شہر زاد ہے

nice to meet you

مسٹر جو بھی آپ کا نام ہے

جی میں ہمیشہ سے تھا ، ہوں اور رہونگا بھی اگر شہر زاد ی ی ی ی ی نے اپنے شہر دل سے کبھی نکال باہر نہ کیا تو

میرا مطلب ہے میرا نام جاوید ہے

مجھے پیچھے کیوں چھوڑ آۓ تھے

تم نے مجھے گھر سے جو چلے جانے کو کہا تھا

تم کسی گھر یا چار دیواری میں نہیں بلکہ یہاں میرے دل میں رہتے ہو اور تمہیں کہا تو تھا “ دیکھو اپنی کوئی چیز چھوڑ کر نہ جانا “

کہا تھا کہ نہیں

ہاں کہا تو تھا

تو پھر ساتھ کیوں نہیں لیکر گئے مجھے ۔ میں تمہاری نہیں ہوں کیا

ہاں ہو تو ۔ سنو

I have a confession to make

میں گھر سے نکل تو آیا تھا لیکن منزل کا تعین کئے بغیر کہ کہاں جانا ہے

یہ سامنے ایف سی کالج کی عمارت ہے جو دو سال تک میرا

alma mator

ہی نہیں میرا گھر بھی تھا لیکن مجھے ایسے لگ رہا

تھا جیسے میں کس اجنبی شہر میں ہوں اور میں بس سٹاپ پر کسی بس کا نہیں کسی رہبر کسی راستہ بتانے والے کا انتظار

کر رہا تھا اور اگر تم نہ آتیں تو میں ساری عمر تمہاری راہ دیکھتا رہتا

till the end of time

اوہ جیدی

my love , my darling

یہ لے میرا ہاتھ تھام اور لے چل مجھے جہاں تیرا دل چاہے

میرے پاس کوئی گھر تو نہیں ہاں یہ دل کی دنیا ہے

تو وہیں لے چل

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 96

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

عروس البلاد

تم کیا سچ مچ میرے بغیر راستہ بھول جاتے ہو اور یہ میں نہیں امی کہہ رہی تھیں

نہیں میں راستہ کبھی نہیں بھولتا ہاں بھلا ضرور دیتا ہوں

یہ کیا بات ہوئی بھلا

میں اگر کسی وجہ سے اس راستے پر واپس نہ جانا چاہوں تو میرا زہن

dark mode

میں چلا جاتا ہے ایک اندھیرا سا

چھا جاتا ہے اور میں کوشش کے باوجود راستوں کی بھول بھلیوں سے اپنے آپ کو نکال نہیں سکتا

تم جب کبھی اس طرح کی باتیں کرنے لگتے ہو تو میں کسی انجانے خوف کا شکار ہو جاتی ہوں

یہ صرف تمہارے سوال کا جواب تھا تم تک پہنچنے کے لئے مجھے زمینی راستوں کی کبھی ضرورت نہیں پڑے گی

تو کیا پنکھ لگا کر اڑتے ہوئے یا پھر ہواکے دوش پر سوار ہو کر میرے پاس پہنچو گے

نہیں میں تمہاری خوشبو سونگھتے ہوۓ بھی تم تک پہنچ سکتا ہوں وہ کہتے ہیں نا کہ نر اور مادہ ایک دوسرے کی خوشبو

سے بھی ایک دوسرے کی پہچان کر لیتے ہیں

یہ نر اور مادہ کیا ہوتا ہے

اسی لئے ہمیشہ کہتا ہوں تھوڑی سی اپنی قومی زبان سے بھی شد بد ہونی چاہیے نر اور مادہ مطلب

male and female

جیدی

I swear you are so rude , crude uncultured

اور گندہ ہم لوگ جانور ہیں کیا

اور کیا وہ کہتے ہیں نا کہ

man is a social animal

دیکھ ہم اس بس سٹاپ سے ابھی زیادہ دورنہیں اس طرح کی

unromantic

باتیں کرو گے تو واپس وہیں

چھوڑ آؤنگی اور دیکھ ہماری ابھی ابھی صلح ہوئی ہے مجھے تیرے ساتھ کوئی نئی بحث نہیں چھیڑنی

ارے ہاں یاد آیا اب میں تمہیں کس نام سے بلایا کرونگا

تمہارے لئے کچھ بدلا ہو گا میرے لیے نہیں میں نے پہلے دن تمہیں کہا تھا جس نام سے بھی پکارو گے دوڑی چلی آؤنگی

شہر زاد

جی ۔ شہر یار کچھ کہنا ہے تمہیں

اے یہ شہر یار کون ہے کوئی رقیب روسیاہ بھی پیدا ہو گیا میرا

جی نہیں اگر میں شہر زاد ہوں تو آپ چونکہ میرے سب سے پیارے اور اکیلے دوست ہیں تو آپ کا سب سے موزوں

نام شہر یار ہی ہو سکتا ہے اور افسانوی تایخ کے مطابق بھی یہ دونوں نام لازم و ملزوم ہیں اور کوئی اعتراض اور ہاں

یاد آیا تم بلخ کے رہنے والے ہو نا اور یہ الف لیلوی کردار شہر یار سمر قند کا شہزارہ تھا جو تمہارے علاقے کے آس پاس

ہی کہیں واقع ہے اب فیتہ لیکر ماپنا نہ شروع کر دینا اس لئے یہ نام تم پر ایسے فٹ آتا ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ

آپ شائد بھول رہی ہیں ہم دونوں صرف اچھے دوست ہیں اور جن کرداروں کی آپ بات کر رہی ہیں وہ میاں بیوی تھے

اے زیادہ باتیں نہ کر عدالتیں بھی ابھی کھلی ہیں اور خدا کا گھر تو ہر وقت کھلا رہتا ہے کوئی نہ کوئی حلوہ پوری کھانے والا

ملا مل ہی جائے گا جو پیسے لیکر ہمارا نکاح پڑھا دے گا اے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو مجھے

کیونکہ تم مجھے اچھی لگتی ہو

کب سے

ہمیشہ سے

کہا کیوں نہیں کبھی

کہونگا تو تم شرما کر بھاگ جاؤ گی

نہیں بھاگوں گی تم کہہ کر تو دیکھو

اچھا یہاں آؤ میرے پاس اور گھٹنوں کے بل بیٹھ جاؤ

یہاں لب سڑک اور گھٹنوں کے بل کیوں کھڑے کھڑے نہیں کہہ سکتے کیا

نہیں کہہ سکتا تبھی تو ۔ تم مجھ سے تین انچ لمبی ہو اور مجھے جو کچھ بھی کہنا ہے تمہاری آنکھوں میں دیکھ کر کہنا ہے

اچھا بابا یہ لو بیٹھ گئی اب جلدی سے کہدو جو بھی تمہیں کہنا ہے اور ۔۔۔ اور ۔۔۔ میں ہمیشہ سے سننا چاہتی تھی

اے بولو نا اب کیا کہنے والے تھے تم ۔ کہاں کھو گئے ہو ۔ جیدی کہاں ہو

جی اچھا سوال ہے “ کہاں ہوں میں ، جب سے ملی ہیں آپ کچھ کھو گیا ہوں میں “ کسی وقت تو مجھے ایسے لگتا ہے جیسے

پتلیوں کا تماشا چل رہا ہے ۔ ڈور آپ کے ہاتھوں میں ہے اور سٹیج پر صرف ایک پتلی ناچ رہی ہے “ میں “ جس طرف

آپ ڈور کھینچتی ہیں اسی جانب کھنچا چلا جاتا ہوں ۔ روزانہ مونہہ اندھیرے اٹھتا ہوں تیار ہو کر کلاسز

attend

کرنے کے

لئیے کیمپس چلا جاتا ہوں ۔ واپس آتا ہوں تو ایک داروغہ جیل کی طرح ہاسٹل کے باہر آپ کھڑی ہوتی ہیں اور اب تو

آپ کی گاڑی بھی مجھے پولیس وین کی طرح لگنے لگی ہے ۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے کہاں جاتا ہوں باقی کا دن کہاں اور

کیسے گذرتا ہے

it is all a blur

اچھا وہ کیا لفظ ہے جو تم اکثر بولتے ہو “ نا شکرہ “ ٹھیک کہا نا میں نے ناشکرے ہو تم نا شکرے ۔ میں تمہیں اٹھاتی ہوں

کھلاتی ، پلاتی ، سلاتی اور اور پیار بھی کرتی ہوں اور کبھی شکائت کا ایک لفظ میرے مونہہ سے سنا ہے تم نے اور

پھر بھی اپنے آپ کو کٹ پتلی سمجھتے ہو تم تو میرے بارے میں کیا کہتے ہو تم میں کون ہوں

تم شہر یار ہو شہر دل کی اکیلی ملکہ عروس البلاد

سچ ۔ جھوٹے کہیں کے

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 97

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Sartre

گھر چلیں اب کتنی دیر سے سڑکوں پر مٹر گشتی کر رہے ہیں امی جان بھی فکر کر رہی ہونگی

کیوں خالہ جان کو کس چیز کی فکر لا حق ہو گی

تم جو مجھ سے لڑائی کر کے گھر سے نکلے تھے

اس میں فکر کرنے کی کونسی بات ہے انھیں پتہ ہے میں گھر سے جا سکتا ہوں تمہاری زندگی سے نہیں میں جب بھی گھر سے نکلتا

ہوں تاک میں ایک جلتا ہوا چراغ ہمیشہ چھوڑ کر جاتا ہوں تا کہ اندھیرے میرے گھر میں اپنا گھر نہ بنا لیں اور مجھے بھی امیدوں

کے دئیے جلانے کی بجاۓ یقین کی شمع بغیر کسی دقت کے میری منزل تک پہنچا دے

تو ایک سیدھی سی بات کو

Sartre’s Being and Nothingness

کیوں بنا دیتا ہے حرام ہو جو مجھے تیری کوئی بات

بھی پلے پڑی ہو “ اندھیرے اجالے ، اجالے اندھیرے “ اس طرح کی باتیں صرف اپنی کتابوں تک محدود رکھا کر

ارے اتنی بڑی بڑی ڈگریاں گولڈ میڈل لینے کی کیا ضرورت تھی جو چولہہ چکی ہی کرنا تھا

جو کرنا تھا تھا سو کر لیا

I want to live now , get married, have children and be a wife

ایک اچھی بیوی

that’s my dream

شہر یہ سپنا نہیں ایک ڈراؤنا خواب ہے

a nightmare

ہم سے تو ایک کولہو کے بیل کی ذندگی زیادہ دلچسپ اور

رنگین ہو گی اور تجھے میں کیا اکبری منڈی کا پانڈی لگتا ہوں جو ساری عمر بس آٹے اور دال کا مول تول کرتا رہے گا

پانڈی ۔ یہ کیا ہوتا ہے کوئی ہنڈیا نما چیز ہے کیا

جی نہیں پانڈی ایک

common labourer

کو کہتے ہیں

اور کیا خرابی ہے ایک عام مزدور ہونے میں تم کونسے راجہ اندر ہو اور سنو میں کیا ساری عمر تمہاری گرل فرینڈ کا رول

ہی پلے کرتی رہونگی اور یہ ابھی ابھی تم نے مجھے کیا کہہ کر مخاطب کیا تھا

شہر ۔ کیوں اب یہ نہ کہہ دینا کہ یہ بھی تمہارا نام نہیں ہے

اے زیادہ فرینک ہونے کی کوشش مت کر میرا نام شہرزاد ہے شہر نہیں

اور میرا نام بھی جاوید ہے پھر آپ کیوں مجھے جیدی کہہ کر بلاتی ہیں

میں پیار سے کہتی ہوں اور پیار میں سب کچھ جائز ہے ۔ چھوڑو ان باتوں کو یہ بتاؤ کل تمہارا پہلا پیریڈ کس وقت ہے

دس بجے کیوں پوچھ رہی ہو میرا سارے مہینے کا ٹائم ٹیبل تمہارے بیگ میں کہیں پڑا ہوا ہے

تمہارے پیچھے بھاگتی ہوئی نکلی تھی بیگ اٹھانے کی ہوش کسے تھی اور سنو آئیندہ کبھی مجھے اکیلا چھوڑکر گئے تو تمہاری اور

اپنی جان ایک کر دونگی ۔ ایک بات مانو گے میری

نہیں

سن تو لو پہلے بغیر سنے کیسے انکار یا اقرار کر سکتے ہو

ہاں کر سکتا ہوں کیونکہ مجھے پتہ ہے تم کیا کہنے جا رہی ہو

اچھا بولو کیا کہنے جا رہی ہوں الہام ہوتا ہے تمہیں یا وحی کا نزول ہوتا ہے تم پر

جو بھی ہو مجھے واپس ہاسٹل جانا ہے مجھے ایک assignment مکمل کرنی ہےاور میں رات تمہارے ہاں نہیں گذار سکتا یہی

کہنا چاہتی تھی نا تم میں تمہیں اچھی طرح سے جانتا ہوں

کیوں نہیں رہ سکتے تم assignment تم یہاں رہ کر بھی کر سکتے ہو اور میں تمہاری مدد بھی کر سکتی ہوں

کیسی مدد تم انگلش لٹریچر کی طالبہ تھیں یا معاشیات کی اور خوب جانتا ہوں میں تمہیں ہر پانچ منٹ بعد کسی نہ کسی بہانے سے

میرے کمرے کے چکر لگاتی رہو گی اور ویسے بھی نوٹس کے لئیے جن کتابوں کی ضرورت ہو گی وہ ہاسٹل میں پڑی ہیں

دیکھ ہم واپس گھر پہنچ گئے ہیں اندر جا کر امی کے سامنے کوئی الٹی سیدھی باتیں نہیں کرنا

خاطر جمع رکھئیے میں ایسا کچھ نہیں کہونگا جس سے آپ کی ساکھ اور عزت پر کسی قسم کا حرف آۓ

پاکستانی اردو میں بات کرو لکھنو اور پرانی دلی کی نہیں ۔ میں نے تم سے صرف رسمی طور پر پوچھا تھا ورنہ تمہارے پاس انکار

یا اقرار کا کوئی اختیار نہیں میرا فیصلہ اور لفظ آج سے آخری ہے امی جان سے سلام دعا کرو اور اس کے بعد ہم لوگ

تمہارے ہاسٹل جا رہے ہیں

assignment

کے لئیے جو کتابیں ضرورت ہیں اٹھاؤ اور واپسی

kapeesh

اگر ایسا ہے تو پھر پوچھنے کی زحمت کیوں گوارا کرتی ہیں آپ

سلام خالہ جان

چہل قدمی کرنے گئیے تھا کیا

بس کچھ ایسا ہی سمجھ لیں اور یہ آپ نے میرے پیچھے ہنٹر والی کو کیوں بھیج دیا تھا تھوڑی سی تو آزادی میسر آئی تھی

آپ نے وہ بھی سلب کر لی تختہ دار پر لٹکنے والے آدمی کے پاس بھی مجھ سے زیادہ

options

ہوتی ہیں

ہاہاہا اچھا بیٹا ابھی سے اتنا سر پر چڑھا کر رکھو گے تو آگے کے لئیے تو تمہارا اللہ ہی حافظ ہے

امی میں آپ کے بیٹے کو لیکر اس کے ہاسٹل جا رہی ہوں اسے وہاں سے کوئی کتابیں چاہییں لیکن ہم لوگ آدھ پون

گھنٹہ میں واپس آ رہے ہیں جیدی آج رات ہمارا مہمان ہو گا پھر آپ دونوں ماں بیٹا ساری رات بیٹھ کر میرے خلاف

پلاننگ کرتے رہیں

چلو یہ بھی ٹھیک ہے تم لوگ جانے کی تیاری کرو اور میں رات کے کھانے میں اپنے بیٹے کے پسند کی کوئی ڈش

تیار کرواتی ہوں

چلئیے خانصاحب اٹھئیے خود اپنے پاؤں سے چل کر گاڑی تک جائیں گے یا پھر آپ کی مونہہ بولی امی جان آپ کو گود

میں اٹھا کر لے جائیں گی ویسے تو میں بھی آپ کو

piggy back

دے کر لے جا سکتی ہوں ۔ امی ہم یوں گئے اور یوں

واپس پھر سب بیٹھ کر شام کی چاۓ پیئں گے ۔

شہر زاد گاڑی زیادہ تیز نہیں چلانا پلیز

کیوں ڈر لگتا ہے لڑکی ہونا چاہئیے تھا تمہیں

تم تو لڑکی ہو پھر تمہیں ڈر کیوں نہیں لگتا

اس لئیے کہ مجھے تمہارے کام بھی کرنے پڑتے ہیں ۔ اور سنو میں راستے میں بیکری کے پاس تھوڑی دیر کے لئیے گاڑی روکوں

گی چاۓ کے لئیے کچھ بسکٹ وغیرہ لے آنا ۔ چاۓ سے یاد آیا لگتا ہے باقی چیزوں کی طرح

table manners

بھی

مجھےہی تمہیں سکھانے پڑیں گے

کیوں میں کیا میز کے نیچے بیٹھ کر یا لیٹ کر کھاتا ہوں

نہیں لیکن میں نے اکثر دیکھا ہے کہ تم بسکٹ کو اکثر چاۓ میں

dunk

کر کے کھاتے ہو

ارے وہ ۔ وہ تو میں اس لئیے کرتا ہوں کہ کچھ نہیں تمہیں بتانے والی بات نہیں

کیوں ایسی کیا اور کونسی بات ہے جو تم مجھے بھی نہیں بتا سکتے

ہے کوئی کان میں کہنے والی بات

تو ٹھیک ہے میرے کان میں ہی کہہ دو

پھرنہ کہنا وارننگ نہیں دی تھی لاؤ اپنے کان میرے پاس ۔۔۔

کیا کہاتم نے گنڈے موالی بدمعاش کہاں سے سیکھی اس طرح کی باتیں

تم سے اور کس سے

میں نے کب کہی تھی یہ بات

یہ تونہیں لیکن اسیطرح کی باتیں تم ہر وقت مجھے کہتی رہتی ہو

اچھا پھر سے کہنا زرا پہلی دفعہ میں نے زرا ٹھیک طرح سے سنا نہیں تھا

اور یہ ابھی گنڈہ اور موالی جیسے خطابات اور القابات سے کسے نوازا جا رہا تھا

اسے کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کربولے تو آخر تم شجر ممنوعہ کے آس پاس آ ہی گئیے

ہاہاہا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 98

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

نئی زندگی کی نئی شروعات

جیدی تیرا ہاسٹل آ گیا ہے دیکھ آنے جانے والی بات کرنا کہیں دوستوں کیساتھ خوشگپیاں نہ شروع کر دینا

ایسی قسمت کہاں اپنی آپ کی وجہ سے سارے دوست یار چھوڑ کر کب کے چلے گئیے اب تو میرے اپنے ہی

کمرے کا دروازہ مجھے کوئی اجنبی سمجھ کر پھٹ سے میرے مونہہ پر بند ہو جاتا ہے اورمجھے اس کی منت سماجت کرنی

پڑتی ہے تب جا کر کہیں دوبارا بند کواڑ کھلنے شروع ہوتے ہیں

بیچارا جیدی چل اٹھا اپنا سامان اور میرے ساتھ گھر چل یہاں اب تیرا کوئی نہیں لیکن فکر مت کر میں ہوں نا ساری

دنیا تجھ سے مونہہ موڑ لے لیکن شہرزاد کے شہر دل کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ تیرے لئیے کھلا رہیگا

یہاں جان پر بنی ہے اور آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے بجاۓ مرہم رکھنے کے میرے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہیں

زیادہ ڈرامہ مت کر ہر وقت انہی دوستوں کے ساتھ تو ہوتے ہو میرےساتھ تھوڑا وقت کیا گذار لیتے ہو جتانا

بھی شروع کر دیا اتنی کمی محسوس ہوتی ہے اپنی پہلی والی زندگی کی تو چلے جاؤ واپس اپنی اسی دنیا میں

اچھا میرا تو خیال تھا کہ یہ one way ticket ہے واپسی کے سارے راستے کب کے بند ہو چکے ہیں

میری تو ہر راہ تمہیں سے شروع ہو کر تمہیں پرختم ہوتی ہے

اچھا شاید اسی لئیے کوئی راہ فرار نہیں مل رہی مجھے ہر راستے پر تم پولیس چوکی بنا کر کھڑی ہو

اب جاؤ گے بھی یا یونہی باتیں بناتے رہو گے میں نے امی سے وعدہ کیا تھا کہ شام کی چاۓ سب بیٹھ کر اکٹھے پیئں گے

کیوں بھئی اسمائیل ٹھیک تو ہو

جی خانصاحب جی اللہ کا شکر ہے آپ آجکل ہاسٹل میں کم ہی نظر آتے ہیں

سچ کہا تم نے میں آج کل اپنے آپ کو بھی کم ہی نظر آتا ہوں

جی کیا کہا آپ نے مجھے سمجھ نہیں آئی

شادی ہو گئی ہے تمہاری یا ابھی تک لنڈورے ہی پھر رہے ہو

جو ابھی تو نہیں ہوئی

اسی لئیے تمہیں میری باتیں سمجھ نہیں آتیں

خانصاحب جی آپ نے شادی کر لی کسی کو پتہ بھی نہیں چلا

اچھا مجھے بھی ابھی ابھی تم سے ہی پتہ چلا ہے کہ میری شادی ہو گئی ہے میں زرا جلدی میں ہوں پھر تم سے بات کرونگا

آ گئیے پتہ بھی نہیں چلا اور یہ چوکیدار سے کیا راز و نیاز ہو رہے تھے سب سے بڑے گھل مل کر باتیں کرتے ہو کہیں

الیکشن وغیرہ لڑنے کا ارادہ تو نہیں تمہارا

اسمائیل اچھا آدمی ہے اس لئیے میں اس سے گپ شپ کر لیتا ہوں کہہ رہا تھا آپ نے چپکے سے شادی بھی کر لی اور

کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی میں نے کہا لڑکی بھگا کر لایا ہوں اس لئیے ہر چیز صیغہ راز میں رکھنی پڑی

یہ کس کی شادی کی بات کر رہے ہو کون کس کو بھگا کر لایا ہے تمہاری باتیں بعض اوقات میرے پلے نہیں پڑتیں

ارے بھئی میں اپنی میرا مطلب ہے ہماری شادی کی بات کر رہا تھا

اچھا تو تم مجھے گھر سے بھگا کر لاۓ تھے اور ہم نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف خفیہ طور پر شادی بھی کر لی اور

کمال کی بات تو یہ ہےکہ دلہن کو بھی اس بات سے بے خبر رکھا گیا ہے

ارے بابا میں نے اسے کچھ نہیں کہا اس نے خود ہی دو جمع دو چار کر لیا ہم ہر وقت تو دونوں اکٹھے ہوتے ہیں وہ

بیچارہ سیدھا سادھا آدمی ہے اور اب تو میں رات رات بھر واپس ہاسٹل بھی نہیں آتا تو اس نے سوچا ہو گا

خان صاحب شریف آدمی ہے سکینڈل وغیرہ سے بچنے کے لئیے شادی کر لی ہو گی

اے شریف آدمی ابھی جا کر اسے کہہ کر آؤ کہ میں مذاق کر رہا تھا ورنہ یہ کسی اور سے اس بات کا زکر کریگا اور پھر

یہ خبر ایک سے دوسرے دوسرے سے تیسرے اور ہوتے ہوتے کل تک مقامی اخباروں میں آ چکی ہو گی اترو ابھی اسے

کہہ کر آؤ عجیب گدھے ہو تم بھی بات کی نزاکت کو بھی سمجھا کرو

ہر وقت تو مجھے ادھر ادھر لئیے پھرتی ہو لگتا ہے میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی جواب دے گئی ہے رکو میں ابھی اس

سے بات کر کے آتا ہوں ۔

چلیں یاد کر لو کوئی اور چیز تو نہیں چاہئیے

assignment

کے لئیے

نہیں اورآپ کو حسب معمول یاد کرا دوں گاڑی زرا احتیاط سے چلائییے گا ریلی ڈرائیورز کی طرح نہیں

ڈرپوک کہیں کا بہت زیادہ ڈر لگتا ہے تو آ میری گود میں آ کر بیٹھ جا اب میری طرف کدھر آ رہا ہے بیٹھ نا جلدی سے

تم نے خود ہی تو کہا کہ آ کر میری گود میں بیٹھ جا میں نے سوچا اس طرح کی آفر روز روز تو ملنے والی نہیں اسی لئیے

تمہاری طرف آ رہا تھا

ارے اسے تو دیکھو ہماری ہی بلی اور ہم سے ہی میاؤں میاؤں بڑا شوق ہے تجھے جوان لڑکیوں کی گود میں بیٹھنے کا چل جا کر

اپنی جگہہ پر بیٹھ اور کس کر سیٹ بلٹ باندھ لینا وہ نہ ہو میں گاڑی سٹارٹ کروں اور تمہارا سر ڈیش بورڈ سے جا ٹکراۓ

اسی لئیے کہا تھا گاڑی زرا آرام اور سہج سے چلائیے گا ہم لوگ گاڑی میں ہیں اگر دیر سویر ہو گئی تو ہماری گاڑی چھوٹ نہیں

جاۓ گی ۔

اے یہ اچانک خاموش کیوں ہو گئیے کوئی بات ہی کرو یوں ٹکٹکی لگا کر مجھے کیوں دیکھ رہے ہو کچھ کہنا یا پوچھنا چاہتے ہو

آپ اپنی نظریں سڑک پر رکھیں مجھ پر نہیں اور تمہیں کیسے پتہ چلا کہ مجھے کچھ پوچھنا ہے

تمہیں پتہ ہے میں جب اپنے

thesis

کے لئیے

research

کر رہی تھی تو اس زمانے میں یونانی کلچر تاریخ فلسفہ ڈرامہ

غرض کہ جو کچھ لائبریری سے ہاتھ لگا سب پڑھ ڈالا ہفتہ میں ایک آدھ دفعہ لاہور آرٹ کونسل بھی جایا کرتی تھی

آپ کہنا کیا چاہتی ہیں

یہی کہ میں لوگوں کی حرکات و سکنات کو ان کے چہرے کے تاثرات کو صرف دیکھتی ہی نہیں انکا تجزیہ بھی کرتی رہتی ہوں

میرے لئیے یہ ایک عادت ثانیہ بن چکی ہے اور تمہیں تو میں اس وقت بھی دیکھ اور پڑھ رہی ہوتی ہوں جب تم میرے

پاس بھی نہیں ہوتے ۔ بولو کیا پوچھنا چاہتے ہو یہی نا کہ میں کون ہوں کہاں سے آئی ہوں وغیرہ وغیرہ

ہاں پوچھنا تو یہی چاہتا ہوں لیکن اگر اب بھی تم مجھے اندھیرے میں رکھنا چاہتی ہو تو آج کے بعد یہ سوال تم کبھی

کبھی میرے مونہہ سے نہیں سنو گی

کیوں جاننا چاہتے ہو یہ سب کچھ میری زندگی کی کہانی لکھنے کا ارادہ ہے کیا

تمہاری زندگی کی کہانی تو نہیں لکھنی لیکن تمہارے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات تو کرنی ہے مجھے

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 99

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Pearly gate

پہلے تم بتاؤ کتنا جانتے ہو میرے بارے میں

صرف اتنا کہ تم خواجہ صاحب کی بیٹی ہو ۔ میں نے سنا تھا کہ ان کی دو بیویاں ہیں اور دوسری بیوی کا تعلق ایران

سے ہے اور پہلے میرا خیال تھا جو کہ اب یقین میں بدل چکا ہے کہ تم بھی میری طرح آدھی تیتر اور آدھی بٹیر ہو

تمہیں لڑکیوں سے بات کرنے کا سلیقہ نہیں آتا جنگلی کہیں کے

how rude

آدھی تیتر آدھی بٹیر

چلو بابا معاف کر دو لیکن جو میں نے کہا وہ سچ ہے کہ نہیں

سچ ہے لیکن تم نے یہ کیوں کہا کہ پہلے میرا خیال تھا لیکن اب یقین ہے ۔ کوئی وجہ اس یقین کی

ہاں ایک نہیں دو تین وجہیں ہیں تمہاری رنگت چہرے کے خدوخال اور سب سے بڑھکر تمہیں یاد ہے میں نے تم سے

ایک دفعہ پوچھا تھا کہ میرے سناۓ ہوۓ فارسی کے اشعار تمہیں یاد کیسے رہتے ہیں اور تمہارا پڑھنے کا انداز اور

لہجہ بھی ایکدم سے مختلف ہوتا ہے اور ایک وجہ اور بھی ہے جو پہلی تمام وجوہات سے زیادہ مضبوط ہے

اچھا بولتے جاؤ میں سن رہی ہوں

نہیں پہلے میں تم سے کچھ پوچھوں گا اور تمہارا جواب ہی میری وجہ اور دلیل بھی ہے

پوچھو اور دیکھو سارے سوال ایک ہی دفعہ اور آج اور اسی وقت پوچھ لو پھر شائد کبھی تمہیں موقعہ نہ ملے

تمہیں سورایا اسفند یاری یاد ہے ارے وہی میری ٹیبل ٹینس پارٹنر

ہاں کیوں اور وہ بھی کوئی بھولنے والی چیز ہے

تم جب

behind my back

اس سے ملنے گئی تھیں تو تم نے اس سے کس زبان میں گفتگو کی تھی

جیدی

that wasn’t behind your back

مجھے اس سے ہر حال میں ملنا تھا میں جاننا چاہتی تھی کہ تم دونوں کی

دوستی کس نوعیت کی ہے ۔ صرف دوستی ہے یا

میرا خیال ہے میں تمہیں اس سوال کا جواب پہلے ہی دے چکا ہوں لیکن میرا سوال اب بھی تمہارےجواب

کا منتظر ہے

جب سورایا نے تمہیں بتا ہی دیا تھا کہ ہماری تمام گفتگو فارسی میں ہوئی تھی تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو

نہیں اس نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ تمہاری دوست اہل فارس کی طرح فارسی بولتی ہے

چلو اب تو جواب مل گیا نا کہ فارسی میری مادری زبان ہے

مجھے کیوں نہیں بتایا

تم جان کر کیا کرتے

تمہاری سنگ مرمر کی مورتی بناتا اس کی آرتی اتارتا کیسی لڑکی ہو تم میری دوستی کا دم بھرتی ہو پیار کے دعوے کرتی ہو دن

میں سو دفعہ میری دلہن بنتی ہو کہتی ہو میں زریاب کی ماں ہوں اور میں تمہیں ٹھیک طرح سے جانتا بھی نہیں

اب جانے بھی دو نا پلیز کتنی دفعہ کہوں کہ اس موضوع پر زیادہ بات کرنا میرے لئیے باعث تکلیف ہے تمہیں نے ایکدفعہ

کہا تھا نہ کہ جو دوست مجھے یہ کہے کہ ہم دونوں میں سے ایک کو چن لو تو میں اسے بنا کوئی سوال کئیے چھوڑ دیتا ہوں تم خود

ہی سوچو وہ کیسا دوست ہو گا جو اپنے ہی دوست کو امتحان کی مشکل میں ڈال دے

ارے بابا تم کس امتحان کی بات کر رہی ہو

یہ امتحان ہی ہوا نا تم جاننا چاہتے ہو میں بتانا نہیں چاہتی لیکن تمہاری ناراضگی بھی مول لینا نہیں چاہتی

چلو اتنا ہی بتا دو کہ تمہاری امی جان حیات ہیں اور اگر ہیں تو کہاں ہیں اور تمہارے پاس کیوں نہیں

امی اور ابو کی

separation

ہو چکی ہے اور وہ ہمدان میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہیں

اور خالہ جان ان کیساتھ تمہارا کیا رشتہ ہے

میری گورنس ہیں بچپن سے میرے ساتھ ہیں اور اپنی ماں سے زیادہ عزیز بھی اور اب بس بھی کرو یا مجھے

رلانا چاہتے ہو ۔ مجھے خوش نہیں دیکھنا چاہتے تم

تم اتنی خوبصورت کیوں ہو

یہ کیا بات ہوئی بھلا

تمہیں نے کہا کہ مجھے خوش نہیں دیکھنا چاہتے اور دنیا میں ایسی کوئی لڑکی نہیں جس کے حسن کی تعریف بھلے وہ جھوٹی

ہی کیوں نہ ہو کو سن کر اس کے چہرے پر رونق نہ آ جاۓ

شیطان کہیں کے باتیں بنانی تو کوئی تم سے سیکھے چل اتر اب ہم گھر پہنچ چکے ہیں اور دیکھ امی سے ہماری آج کی گفتگو

کے بارے میں کچھ نہیں کہنا ورنہ

ورنہ کیا کبھی تو پیار بھری باتیں کیا کر ہر وقت لڑتی رہتی ہے چلا جاؤنگا تو اکیلی رہ جاۓ گی

اے ایسے کیوں کہتا ہے پتہ ہے جب تک تم ملے نہیں تھے تنہائی کا احساس تو ہوتا تھا لیکن کبھی تنہا نہیں تھی تم ہر وقت ہر لمحہ ہر پل ہر گھڑی میرے ساتھ ہوتے تھے لیکن اب اگر تم تھوڑی دیر کے لیئے بھی میری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہو تو میں اس چھوٹے سے پرندے کی طرح ڈال ڈال اڑتی پھرتی ہوں جسے اپنا گھونسلہ نہیں مل رہا ہوتا مجھے لگتا ہے جیسے بھری دنیا میں اکیلی رہ گئی ہوں یہ لے تھام لے میرا ہاتھ اور اسے اس وقت تک نہیں چھوڑنا جب تک کہ ہم دونوں pearly gates of

heavens

کے اندر داخل نہیں ہو جاتے

میں نے تو ایسے ہی بنا سوچے کہہ دیا تھا ورنہ تجھے چھوڑ کر جاؤنگا کہاں جب تک تیری تلاش میں رہا برسوں بیت گئیے تو نہیں ملی پھر ایک آواز آئی جنگلوں اور صحراؤں میں کیا ڈھونڈتا پھرتا ہے

تیری نزدیک کی بینائی کمزور ہے کیا سب کی آوازوں پر لبیک کہتا ہے کبھی اپنی آواز بھی سن وہ کہتے ہیں نا

nearer from church further from God

میں دشت و کوہسار میں سرگرداں رہا اور جب تھک ہار کر بیٹھ گیا تو تیری آواز آئی

جیدی مجھے ملنے سے پہلے اپنے آپ سے مل ہم ایک روح دو قالب ہیں اپنی روح کو آزاد چھوڑ وہ خود میرے پاس چلی آۓ گی اور پھر جس دن جس وقت جس گھڑی اپنے آپ کو ملنے کے لئیے نکلا اسی وقت تو میرے سامنے آ کھڑی ہوئی ۔ چل آ جا اندر چلیں اپنی دنیا میں ہماری دنیا میں ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 100

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

آؤ فارسی سیکھیں

سلام و علیکم خالہ جان چاۓ ٹھنڈی تو نہیں ہو گئی

و علیکم اسلام نہیں چاۓ تو ابھی بنی بھی نہیں اور یہ ماشاللہ سورج آج کدھر سے نکلا ہے

کیوں آج کوئی خاص ہونی تھی یا ہوئی ہے

ہاں بہت خاص بلکہ خاص الخاص بات میرے دونوں بچے ایک ساتھ مسکراتے ہوۓ گھر میں داخل ہوۓ اور نہ تو

شہرزاد کے ہاتھ میں چپل تھی اور نہ تمہارے ہاتھ میں اس کے سر کے بال تم دونوں ٹھیک تو ہو

ہاہاہا it’s a facade , a temporary truce شائد دونوں سارے دن کی بھاگ دوڑ سے تھکے ہوئے ہیں اس لئیے

تھوڑا تازہ دم ہو لینے دیں اور ویسے بھی ابھی تو ساری رات پڑی ہے اور آپ سے کیا پردہ میں تو پابند سلاسل ہوں

مجھے گھر کے اندر داخل ہونے کا پروانہ ہی اس شرط پر ملا تھا کہ مجھے خامہ فرسائی کی اجازت ہو گی اور نہ ہی میرے

صریر خامہ کا شور سنائی دیگا ۔ میری قوت گویائی سلب کر لی گئی ہے قلم توڑ کر کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیا گیا ہے

اور آزادئ راۓ کا ہر ہر طریقہ آپ کی ہونہار صاحبزادی کے پاس رہن ہے

ہاہاہا جاوید اتنی بھیانک قسم کی سزا تو ہمارے ہاں صرف اپنے سیاسی حریفوں کو دی جاتی ہے محبت کے دعوے

داروں کو نہیں اور یہ اتنی ثقیل قسم کی اردو کہیں مغلیہ سلطنت کے زوال کے دنوں میں تو پیدا نہیں ہوۓ تم

جی نہیں اپنی معلومات میں اضافہ کر لیجئیے یہی سزا ہر ہونے والے شوہر نامدار کے نامہ اعمال اور نکاح نامے میں بھی حروف

جلی سے لکھی جاتی ہے اور رہی بات اردوۓ معلی کی تو مجبوری ہے جب سے ناچیز کے علم ناقص میں یہ بات لائی گئی ہے

کہ عروس البلاد کا تعلق اہل فارس اور جانشین تخت جمشید سے ہے میری زبان شیریں کلام ہوتی جا رہی ہے

ہاہاہا واہ بھئی واہ پھر تو آج سے اس گھر میں شیکسپیر اور لارڈ بائرن کی بجاۓ سعدی اور حافظ شیرازی کا زکر ہوا کریگا

ارے آپ کو تو ہم بالکل بھول ہی گئے آپ کب سے ہمارے ساتھ کھڑی ہیں اور میں سمجھا آپ گاڑی گیراج میں

چھوڑنے گئی ہیں کیا ہوا اتنی خاموش کیوں ہیں اوہ اب سمجھا آپ کو تو ہماری زبان ہی نہیں آتی ٹھہرئیے میں یہی فقرہ

فارسی میں کہنے کی کوشش کرتا ہوں بس آپ کو میری تھوڑی مدد کرنی پڑیگی

جیدی ۔ شما از من لذت می برید

اے

what was that

آخر آ گئی نا اپنی اصلیت پر گالی تو نہیں دی نا مجھے کہے دیتا ہوں بہت برا آدمی ہوں میں

برا آدمی

you are rotten to the core

آپ دونوں ملکر میرا مذاق اڑا رہے ہیں اور جیدی تجھ سے تو میں سمجھ لونگی

زرا اوپر تو آ دیکھ کیسا مزا چکھاتی ہوں تجھے

یہی فقرا زرا فارسی میں بول

بیا طبقه بالا من با تو برخورد خواهم کرد

تمہارا لہجہ کچھ دھمکی آمیز نہیں تھا ارے بابا زرا پیار سے تو بول

اچھا تو تمہیں لگتا ہے میں تمہیں پیار کا سبق پڑھانے کے لئیے اوپر بلا رہی ہوں

میں تو یہی سمجھا تھا

غلط سمجھے تھے تھے بچو پڑھانے کے لئیے نہیں سبق سکھانے کےلئیے ایک دفعہ اوپر آ پھر دیکھنا کیسے درگت بناتی ہوں تیری

اور سن جلدی سے چاۓ پی اور بھاگ لے اپنے کمرے کی طرف اور جب تک اپنی

assignment

پوری نہ کر لے تیری

شکل نہ دیکھوں میں ۔ فارسی سیکھے گا “ اوباش صفت “

اے کیا کہا تم نے مجھے آتا ہے اس لفظ کا مطلب

اور بھی اچھا ہے

hooligan

پرائی لڑکیوں کو تنگ کرتا ہے

خالہ جان سن رہی ہیں آپ مہمانوں کو گھر بلا کر ان کے ساتھ ایسا ہتک آمیز سلوک روا رکھتے ہیں میں بطور احتجاج

بنا چاۓ پئے اپنے کمرے میں جا رہا ہوں اور اب رات کے کھانے پر ہی آپ سے ملاقات ہو گی

ارے بیٹا میں نے تیری پسند کے شامی کباب بنواۓ تھے ہمارے ساتھ نہیں بیٹھنا تو پلیٹ میں ڈال کر ساتھ لےجا

معاف کیجئیے گا خالہ جان میں تھوڑی دیر کے لئیے اپنے آداب کو بھول گیا تھا میں یہیں آپ کیساتھ بیٹھ کر چاۓ پیؤں گا

کسی کو اچھا لگے یا نہ لگے اور مہمانوں سے بد سلوکی کرنے والوں سے روز محشر کو اللہ میاں خود نپٹ لیں گے

اور تم جو امی کیساتھ ملکر میری کھلی اڑا رہے تھے اس کی پوچھ گچھ نہیں ہو گی تم سے کیا ۔

لگتا ہے تمہارے

truce

کو میری ہی نظر لگ گئی لیکن پلیز میری خاطر تھوڑی دیر کے لئیے ایک دوستانہ اور خوشگوار

ماحول قائم کر لیں تا کہ آرام اور چین سے شام کی چاۓ سے لطف اندوز ہو لیا جاۓ ۔ کیا خیال ہے

جی خالہ جان خیال تو نیک ہے اور میری طرف سے خاطر جمع رکھئیے میں اب کچھ کہنے سننے والا نہیں ہوں

واہ بڑی جلدی پارسائی کا چولہ پہن لیا ۔ بہروپیہ کہیں کا ۔ چل آ بیٹھ جا تھوڑی دیر کے لئیے دوستی کر لیتے ہیں

ارے ہاں یاد آیا شہر زاد تم نے کوئی کتابیں منگوائی تھیں ایک بڑا سا پارسل آیا تھا تمہارے نام

جی امی لیکن آپ کو بنا کھولے کیسے پتہ چلا کہ اس میں کتابیں ہی ہونگی

شیری بیٹا فیروز سنز والے دہی بھلے تو بیچتے نہیں اس لئیے سوچا کتابیں ہی ہونگی

ہاہاہا خالہ جان پھر بھی کھول کر دیکھ ہی لیں شائد چاکلیٹ وغیرہ کے ڈبے نہ ہوں

تمہیں بڑا مذاق سوجھ رہا ہے ۔ جی امی آپ کا اندازہ سو فیصد درست ہے کتابیں ہی ہیں ۔

تم نے کب سے دوبارا کتابوں سے دوستی کر لی میں تو تمہیں کب سے کہہ رہی تھی لیکن تمہیں ہمیشہ کہتی تھیں کہ جتنا

پڑھنا تھا سو پڑھ لیا اور نہیں پڑھا جاتا مجھ سے اب کیا ہوا کہیں بلخی صاحب کی دوستی کا رنگ تو نہیں چڑھ گیا

ارے آپ بھی نا کہاں کی کڑیاں کہاں سے ملاتی رہتی ہیں ۔ یہ کتابیں بلخی صاحب کی سنگت کیوجہ سے نہیں بلکہ آپ

آپ کے چہیتے بلخی صاحب ہی کے لئیے منگوائی ہیں میں نے ۔

کتابیں ۔ میرے لئیے منگوائی ہیں ۔ کہاں سے منگوائی ہیں ۔ کیسے منگوائی ہیں ۔ کون لیکر آیا ہے

لو اور سن لو یہ تو وہی بات ہو گئی کہ “ ساری رات ہیر رانجھا سنتے رہے اور صبح اٹھ کر پوچھتے ہیں کہ ہیر لڑکی تھی

یا لڑکا “ اور یہ کتابوں کا سنتے ہی تمہاری کیوں رال ٹپکنے لگی ہے ۔ میں نے تجھے surprise دینا تھا لیکن امی جان

نے نادانستگی میں بانڈا ہی پھوڑ دیا

خالہ جان دل خوش کر دیا آپ نے ۔ کہاں ہے وہ پارسل زرا دیکھیں تو کونسی کتابیں ہیں

اے چپکے سے بیٹھ کر پہلے اپنی چاۓ پی پھر اوپر کمرے میں جا کر اپنی

assignment

مکمل کر اور اس کے بعد میری

تھوڑی سی

TLC

تھوڑی سی چاپلوسی وغیرہ کر پھر سوچونگی کتابوں کے بارے میں

ارے بتا تو سہی کونسی کتابیں منگوائی ہیں تو نے اور تجھے کیا پتہ میں کس قسم کی کتابیں پڑھنا پسند کرتا ہوں

زیادہ باتیں مت کر مجھے سب پتہ ہے تیری پسند اور ناپسند کا اور یہ والی کتابیں تو میں نے تیری

wish list

پڑھکر ہی

آرڈر کی تھیں اور ایسے کیوں دیکھ رہے ہو میری طرف تو نے اپنی ڈائری میں وش لسٹ لکھی ہوئی تھی کہ نہیں

چور کہیں کی کئی دفعہ تجھے منع کیا ہے کسی کی پرسنل ڈائری پڑھنا اخلاقیات کے منافی چیز ہے

ہو گی اور ویسے بھی تیری ڈائری میں سواۓ “ شہرزاد نے آج یہ کیا شہرزاد نے آج وہ کہا شہرزاد آج ایسے لگ رہی تھی

شہر زاد شہرزاد شہرزاد “ مجھے یقین ہے اتنی بار تو

Arabian nights

میرا نام نہیں آیا جتنی دفع تیری ڈائری

کے اوراق میں لکھا ہوا ہے ۔ اے اب اوپر کہاں بھاگے جا رہے ہو

کیا ضرورت تھی تمہیں اس کی ڈائری میرے سامنے پڑھنے کی بیچارا

he must be feeling embarrassed

جا اس کے پیچھے اب تو نے اسے ناراض کر دیا ہے

جی میں جا رہی ہوں لیکن آپ فکر مت کریں جیدی مجھ سے ناراض نہیں ہوتا ۔ کبھی نہیں ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 101

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

صوفیہ لارین

ناراض ہو

تم سے ۔ نہیں تو ۔ شہرزاد میں تمہاری کسی بات سے کبھی بھی ناراض نہیں ہوتا

میں نے تمہاری ڈائری جو پڑھکر امی کو سنا دی وہ ٹھیک نہیں تھا

I shouldn’t have done that

ارے بابا کوئی بات نہیں مجھے تھوڑا حجاب سا محسوس ہوا اس لئیے وہاں سے اٹھ کر چلا آیا

ساری ڈارلنگ ۔ لو میں تمہاری چاۓ سارے لوازمات کے ساتھ اوپر ہی لے آئی ہوں ۔ پیو گے میرے ہاتھ سے

تمہارے ہاتھ سے کچھ بھی پی لونگا مگر اس وقت نہیں ۔ تم جانتی ہو نا میں چاۓ کا اتنا رسیا نہیں ہوں لیکن تم

لے آئی ہو اس لئیے پی لونگا اب ایک دو گھنٹے کے لئیے مجھے تنہا چھوڑ دو جیسے ہی میری Assignment

مکمل ہو جاۓ گی میں نیچے آ جاؤنگا

ٹھیک ہے اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آواز دینا میں اپنے کمرے میں ہی ہونگی

اچھا ہے تم بھی تھک گئی ہو گی تھوڑا آرام کر لو

ناک ناک ناک ناک شہرزاد سو رہی ہو کیا

اگر میں سو رہی ہوں تو تم باتیں کس سے کر رہے ہو ۔ کوریڈور میں کیوں کھڑے ہو پردہ کرتے ہو مجھ سے کیا

اگر تم اٹھ گئی ہو تو نیچے چلیں

اندر تو آ یا وہیں سے کھڑے کھڑے باتیں کرے گا

اچھی بات ہے میں آ رہا ہوں

are you decent

اگر تمہارا مطلب ہے کہ میں

properly dressed ہوں یا نہیں تو اندر آ کر خود ہی دیکھ لینا

ارے تم ابھی تک بستر میں لیٹی ہوئی ہو تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا

ویسے تو ٹھیک ہوں زرا بیٹری چارج ہونے والی ہے لیکن تم یہاں کیا کر رہے ہو میں نے تمہیں کہا نہیں تھا جب تک

تیری

assignment

مکمل نہیں ہو جاتی کمرے سے باہر نہیں نکلنا

گھڑی تو دیکھ شام کے سات بجنے والے ہیں اور میری

assignment

تو کب کی ختم ہو چکی اور ویسے بھی میں

آپ کے حکم کی خلاف ورزی کیسے کر سکتا ہوں آپ تو میرا کورٹ مارشل کرا دینگی

بیٹھ جا کھڑا کیوں ہے ابھی تھوری دیر میں نیچے ڈائننگ روم میں چلتے ہیں ارے بیٹھ نا میرا مونہہ کیوں تک رہا ہے

کہاں بیٹھوں کوئی ڈھنگ کی جگہہ تو یہاں نظر آ نہیں رہی مجھے

تخت طاؤس منگواؤں میرے شہزادے کےلئیے ادھر بیڈ کے آئنتی پائنتی کہیں بھی بیٹھ جا میرے کمرے میں جو

لاؤنجر پڑا ہوا تھا وہ میں نے اٹھوا کر تیرے کمرے میں رکھوا دیا تھا ۔ کیا سوچ رہا ہے اوہ تو یہ بات ہے چل ایسا کر

وہ سامنے ٹیلی فون پڑا ہوا ہے ڈائریکٹری میں سے قریبی مسجد کا فون نمبر دیکھ کر وہاں سے مولانا صاحب کو بلوا لے

کیا اوٹ پٹانگ باتیں کر رہی ہو

او جیدی کیا کروں میں تیرا ۔ میں تجھے اچھی طرح سے جانتی ہوں تو اس وقت تک میرے پاس نہیں بیٹھے گا جب تک کہ

مولانا صاحب آ کر ہم دونوں کا نکاح نہیں پڑھا دیتے

میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا جس کے ایسے معنی اخذ کئیے جا رہے ہیں آپکی

power of deduction

کچھ ضرورت

سے زیادہ کام کر رہی ہے میں تو اس لئیے

کچھ اس لئیے نہیں بیٹھ جا ورنہ میں نے زبردستی تیری شادی کرا دینی ہے

کس کے ساتھ

صوفیہ لارین ، کلاڈیا کارڈینالے یا پھر جینا لولو بریجیڈا میں سے کوئی بھی چن لے لیکن فی الحال اسی کی ساتھ گذارا کر جو تیرے سامنے ہے بول کیا کہتا ہے لیکن بیٹھ کر بتا تجھے کون سی پسند ہے

ویسے تو تیرے سمیت ساری ہی مجھے پسند ہیں لیکن وہ جو ہے نا

dove eyed

وہ کچھ زیادہ اچھی لگتی ہے

کس کی بات کر رہا ہے صوفیہ لارین کی تجھے اس کی آنکھیں اچھی لگتی ہیں اس لئیے

نہیں نہیں شادی میں اس کی آنکھوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے کرنا چاہتا ہوں

کس وجہ سے مجھے تو بتا کیا خاص بات ہے اس میں

ہے کوئی وجہ لیکن تیرے بتانے والی نہیں

اچھا میری طرف دیکھ میری آنکھوں میں جھانک میں وہ وجہ تیری آنکھوں میں پڑھ لونگی دیکھ میری آنکھوں میں

اچھا پڑھ لے اگر پڑھ سکتی ہے تو اور اگر ہو سکے تو مجھے بھی بتا دینا ہاہاہا اے مجھے گھور کیوں رہی ہو

جیدی میری بیڈ کے پاس جو چپل پڑھے ہیں ان میں سے ایک اٹھا کر زرا مجھے دینا

یہ لے لیکن ایک کیساتھ کیا کروگی کسی کی پٹائی کرنی ہے کیا ارے کیا کر رہی ہو مجھے کیوں مارا تم نے

گنڈے کہیں کے تیری آنکھوں میں جو لکھا ہے اس کا یہی علاج ہے اپنی ہونے والی بیوی کی بغل میں بیٹھ کر پرائی

عورتوں کے بارے میں ایسا سوچتے ہوۓ تجھے تھوڑی سی بھی لاج شرم نہیں آتی

اے جھوٹا الزام مت دے مجھے تو نے وہی پڑھا جو تیرے من میں چھپے شیطان نے تجھے بتایا میرے لبوں سے تو نے

کچھ نہیں سنا اور تو میری مشاطہ تو ہے نہیں جو ہر ایرے غیرے سے میرا لگن کراتی پھرتی ہے ۔ اچھا چھوڑ ان باتوں کو

وہ کتابوں والا پارسل کہاں رکھا ہے تو نے زرا دیکھوں تو میری الف لیلوی شہزادی نے میرے لئیے کیا منگوایا ہے

اوہ تو اس لئیے آۓ ہو میرے کمرے میں ۔ کتابیں ۔ میں بھی سوچوں یہ تکسی کا مقدس پودا اس ابھاگن کے آنگن میں

بغیر کسی تپسیاکے کیسے آ گیا ۔ تو یوں کہو کتابیں لینے آۓ ہو اپنی اس لئیے اتنا مسکہ لگا رہے ہو

ارے وہ تو میں نے ایسے ہی زرا پوچھ لیا تھا کتابیں تم نے میرے ہی لئیے تو منگوائی ہیں سو جلد یا بدیر مجھے مل ہی

جائیں گی اس میں چاپلوسی کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے

تو ٹھیک ہے پھر کتابیں کل صبح یونیورسٹی جانے سے پہلے تمہیں مل جائیں گی

اے come on یار تو میری سب سے پیاری دوست ہے ایسے ترسا ترسا کر تو نہ دے کتابیں ہی تو ہیں اور توکہہ رہی تھی

تیری بیٹری چارج ہونے والی ہے ڈاکٹر کے پاس تو نہیں چلنا

نہیں بس زرا تھکاوٹ ہے تھوڑی دیر لیٹی رہونگی ٹھیک ہو جاؤنگی وہ سامنے والی الماری میں میری دوائیوں کا بیگ پڑا ہے

وہ مجھے لا دے اور پانی کا ایک گلاس بھی میری میڈیسن کا وقت ہے

یہ لے اور تو سارا دن کرتی کیا رہتی ہے سواۓ مجھے یونیورسٹی سے لانے اور لیجانے کے

کچھ نہیں تمہیں چھوڑ کر آتی ہوں اور پھر

اور پھر کیا

گھر کے کام کاج نوکروں کے حوالے ہیں میں تو بیٹھی تمہارے راہ تکتی رہتی ہوں یا پھر گھڑی کی سوئیوں کو کوستی رہتی ہوں

کہ کب وہ مجھے تمہیں یونیورسٹی سے واپس لانے کا سگنل دیں گی

یہ بھی کوئی زندگی ہے بھلا

کوئی شکوہ شکائیت نہیں مجھے تمہارا ساتھ ہے تو اور کیا چاہئیے مجھے

اے اگر میں تیرے کمرے سے کوئی چیز میرا مطلب ہے اگر مجھے کچھ پسند آ جاۓ تو کیا میں بنا پوچھے لے جا سکتا ہوں

ہاں لیکن ایسا کیوں نہیں کرتا “ کمرے والی کو ہی لے جا “ کہاں روز روز پوچھتا رہے گا

کہاں لے جاؤں میرا تو کوئی گھر نہیں

یہ ساتھ والا تیرا کمرہ ہے نا وہیں لے جا ۔۔۔۔۔

جاری ہے

قسط نمبر 102

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

حجت اللہ البالغہ

کچھ افاقہ ہوا دوائی کھانے سے یا ابھی تک طبیعت ناساز ہے

سر میں ہلکا سا درد ہے

میں دبا دوں

زرا پیار سے تو پوچھ ایسے لگتا ہے جیسے کہہ رہے ہو “ گلا دبا دوں “

اچھا اچھا زیادہ باتیں مت کر پلنگ سے نیچے اتر کر غالیچے پر بیٹھ جا

کیوں یہاں بیٹھے بیٹھے سر نہیں دبا سکتا مجھے ٹھنڈے فرش پر ضرور بٹھانا ہے

تیرے سر میں درد ہے یا نہیں لیکن تیری باتوں سے میرا سر ضرور دکھنے لگا ہے جس پوزیشن میں تو لیٹی ہے اس میں

ٹانگیں تو دبائی جا سکتی ہیں سر نہیں

دولہےراجہ اوپر آ جا اور یہ نئی نویلی دلہن کے نخرے بند کر

میں جا رہا ہوں اور تجھے بھی اس چھیڑ چھاڑ سے فرصت ملے تو نیچے آ جانا

ارے سن تو وہ کتابیں چاہئیں یا کسی مقامی لائبریری کو خیرات میں دے دوں سوچ لو

بلیک میل کر رہی ہو مجھے کتابوں کے حوالے سے

تیرے پاس آنا مجھے گوارا نہیں

پر یہ کتابیں ملیں گی دوبارا نہیں

شہرزاد

you are playing dirty

ہاں وہ تو ہے تو بھی تو روز روز میرے شکنجے میں نہیں آتا

ہاتھی کی یاد داشت ہے میری بھولونگا نہیں میں اور کیا ہوۓ وہ وعدے اور قسمیں اور پیار وار

سب جھوٹ تھا اور یہ فلمی ڈائیلاگ بولنا بند کر ۔ ہاتھی کی یاد داشت ہے کھاتا تو چوہے کی طرح ہے اور سن مجھے تیرے

ساتھ زیادہ بحث نہیں کرنی اور تو اتنا ڈرتا کیوں ہے مجھ سے صرف اتنا ہی تو کہا ہے کہ میرے ساتھ پلنگ پر بیٹھ کر

میرا سر دبا دے اور کہا بھی تو نے خود ہی تھا اب بھاگ کیوں رہا ہے تو آدمی ہے یا بنگالی رس گلہ جسے میں اٹھا کر

مونہہ میں ڈال لونگی

ٹھیک ہے اللہ میاں سب کی عزت و ناموس کا رکھوالا ہے چل بیٹا جاوید چڑھ جا پیار کی سولی پر ۔ دیکھ میں اتنا بڑا

خطرہ مول لے رہا ہوں کم از کم ایک ہی کتاب یا اس کے لکھنے والے کا نام بتا دے پلیز

ٹھیک ہے تو بھی کیا یاد کریگا مجھے نام ٹھیک طرح تو یاد نہیں مصنف کوئی ولی اللہ ہے اور مجھے لگتا ہے کتاب شاید حج کے

کے مسلے مسائل کے بارے میں تھی

شاہ ولی اللہ دہلوی کی حجت اللہ البالغہ تو نہیں سچ کہہ رہی ہے تو

اور میں جھوٹ کیوں بولنے لگی اور یہ تو بالغوں کی کتابیں پڑھتا ہے کوئی مخرب الاخلاق قسم کی کتاب تو نہیں ہے دیکھ جھوٹ

نہیں بولنا مجھ سے کہے دیتی ہوں تو سیدھا سادھا لڑکا ہے اس لئیے تجھے خبردار کر رہی ہوں

ہاہاہا حجت اللہ البالغہ اور بالغوں کی کتاب ہاہاہا اس سے بڑا لطیفہ نہیں سنا میں نے کبھی

کیوں اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے

تمہارے فائنل کے امتحان کب ہو رہے ہیں

تم کیوں فکر میں دبلی ہو رہی ہو امتحان مجھے دینا ہے یا تمہیں اور اس سوال پوچھنے کی کوئی خاص وجہ

میں نہیں تو کیا وہ پرانے باغ کی چڑیل آکر تم سے پوچھے گی ایسے سوال ۔ بھول گئیے کیا جس دن صبح کو تمہارا آخری پرچہ ہو

گا اسی روز بعد دوپہر ہمارا نکاح پڑھا جاۓ گا

اوہ تو یہ شادی بیاہ کابھوت ابھی تک آپ کے سر پر سوار ہے

کیوں شادی نہیں کرنی کیا یونہی ساری عمر چھپ چھپ کر ملتے رہیں گے ہم میں تھک گئی ہوں اس روز روز کی آنکھ مچولی سے ایسے لگتا ہے جیسے ہم لوگ

teenagers

ہوں اور سن

I want you make an honest woman out of me

اب تو مجھے اپنے سر میں ایک آدھ سفید بال بھی دکھائی دینے لگا ہے

ٹک ٹک ٹک بیچاری شہرزاد لوگ کیا کہیں گے آخر اتنی پیاری کنواری کنہیا کا شیام اسے بیچ بھنور میں کیوں اور کیسے چھوڑ گیا

یہ آخر ہر دوسرے تیسرے دن تجھے اپنے سر میں چاندی کے بال کیوں نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور جب میں کہتا ہوں کہ آج ابھی اسی وقت لگن کر لے میرے ساتھ تو پھر تو خود ہی کہتی ہے کہ نہیں پہلے تیری پڑھائی ختم ہو جاۓ شادی بیاہ

کے لئیے تو ساری زندگی پڑی ہے

چل چھوڑ اس قصے کو آ میرا سر دبا دے زرا پھر نیچے امی کے پاس چلتے ہیں اور سن کتابوں کا پارسل صبح سے تیرے کمرے میں میز پر پڑا ہوا ہے

پہلے کیوں نہیں بتایا مزا آتا ہے تجھے میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا چل اسی خوشی میں I will give you a hug

اس کی ضرورت نہیں لیکن اگر تیرا اپنا دل چاہتا ہے تو پھر دوسری بات ہے اور ایک اور بات ابھی سے بتاۓ دیتی ہوں

شادی آج ہو یا دوسرے جنم میں مجھے جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ نہیں چاہئیے سارے رسوم و رواج کا اہتمام کروں گی بھی اور

کراؤنگی بھی ۔ بنا تیل مہندی اور مایوں بیٹھے بھی کوئی شادی ہوتی ہے گھر گرہستی والی لڑکی ہوں کوئی بنجارن نہیں اور

ویسے بھی چار شادیوں کی آجازت ہے تجھے ہے مجھے نہیں اس لئیے مجھے تو اپنے سارے چاؤ چونچلے ایک ہی

دفعہ پورے کرنے ہیں

اللہ ہی خیر کرے ابھی تو رات شروع بھی نہیں ہوئی اور آپ مائیوں بیٹھ گئی ہیں اور میرے کانوں میں ڈھولک اور دف

بجنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں اس رفتار سے تو کل میں خود یونیورسٹی جانے کی بجاۓ اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر

انھیں سکول چھوڑنے جا رہا ہونگا

تیرے مونہہ میں گھی شکر ۔سچ جیدی اگر ایسا ہو جاۓ تو کتنا اچھا ہو ۔ ہے نا ارے بول نا ۔۔۔۔۔

جاری ہے

قسط نمبر 103

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Psycho

شہر زاد ایک بات تو بتا تو کیا سارا دن بیٹھی یہی شادی بیاہ اور بچوں کے سپنے ہی دیکھتی رہتی ہے

اور کیوں نہ دیکھوں ہر عورت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ایک اچھا سا گھر ہو نیک سیرت شوہر ہو بچے ہوں اور تو

تیرے خواب تو بس ایک چیز کے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں کتابیں ہوں

volumes and volumes

اور ایک

عدد لائبریری ہو جسکا تو اکیلا مالک ہو اور اس خواب سے کبھی تیری آنکھ نہ کھلے

تو نہیں ہو گی اس خواب میں کیا

ہاں ہونگی لیکن صرف تمہاری چاۓ کافی یا کھانا لانےکے لئیے کبھی کبھی تو میں سوچتی ہوں کہ اللہ میاں مجھے ایک

کتاب کی شکل میں پیدا کرتا تو کتنا اچھا ہوتا کم از کم ہر وقت تیرےساتھ تو ہوتی اور خوش قسمتی سے اگر تو اس

کتاب کو کھول اسکا ایک آدھ صفحہ روزانہ پڑھ لیتا تو تجھ سے ملاقات بھی ہو جاتی اور تھوڑی بہت ٹی سی ایل بھی ہو جاتی

شہرزاد تجھ پر تو وہی مثال صادق آتی ہے کہ “ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد “ تجھے ٹی سی ایل کے علاوہ بھی کوئی چیز

یاد رہتی ہے سارا دن تو ایک بھنورے کی طرح میرے ارد گرد منڈلاتی رہتی ہے پھر بھی تیرا جی نہیں بھرتا چپکو کہیں کی

اے برہمچاری تو کیوں اس موہ مایہ کے چکر میں پھنسا ہوا ہے تجھے تو کسی مندر یا کسی پہاڑ کی کھو میں بیٹھ کر تپسیا کرنی

چاہئیے دنیا جسموں کے ملن ملاپ کی جگہہ ہے شریروں کو ملنے دے آتماؤں کا ملن پرماتما پر چھوڑ دے

شہر زاد یہ گیتا اور مہا بھارتا کے پاٹ بت پرستوں کو سنا بت شکنوں کو نہیں میں تیری چکنی چپڑی باتوں میں آنے والا نہیں

اے چکنے گھر بیٹھے تجھے گھی اور شہد میں چپڑی ہوئی

served on a silver and gold platter

حسین اور جوان

دوشیزہ مل گئی ہے کفران نعمت مت کر ورنہ دینے والا کبھی کبھی چھین بھی لیتا ہے

ارے شام کا وقت ہے بددعائیں تو مت دے محبوبہ تو بعد میں بنی دوست تو میری ہمیشہ سے تھی

جب بھی بولو گے غلط ہی بولو گے ۔ کہہ محبوبہ ہمیشہ سے تھی دوست اب بنی ہو

اچھا بابا تو ہمیشہ سچ کہتی ہے لیکن اب نیچے جا کر خالہ جان کے پاس بیٹھ میں جلدی سے شاور لیکر آتا ہوں

I am sweating like a pig

تجھے ٹیمپریچر سیٹ کرنا آتا ہے یا میں کر دوں

تو کر دے نا پلیز تجھے پتہ ہے نا کہ مجھے ایسے کام نہیں کرنے آتے

اچھا جب تک میں یہ کروں تو جا کر الماری سے اپنے لیئےکپڑے نکال لے

یس مادام

شہرزاد جاوید کہاں ہے اس نے اپنی

assignment

مکمل کرلی یا ابھی لکھ رہا ہے

assignment

تو کب کی مکمل ہو گئی اس وقت کہاں ہے ابھی آپ کو پتہ چل جاۓ گا

کیا مطلب اور یہ تم مسکرا کیوں رہی ہو کیا کر کہ آئی ہو تمہارا بچپنا نہیں گیا ابھی تک

شہرزاد شہرزاد کہاں ہو تم

شیری یہ جاوید کیوں چلا رہا ہے کیا کیا ہے تم نے

کچھ نہیں کیا مجھے کہہ رہا تھا کہ شاور لینا ہے

temperature

سیٹ کر دو سو میں نے کر دیا

تھوڑا اوپر نیچے ہو گیا ہو گا خود تو اسے کچھ کرنا نہیں آتا بس میرے

apron

سے بندھا رہتا ہے

کیوں ہر وقت تنگ کرتی ہو بیچارے کو لو آ رہا ہے اب سمبھالو خود ہی

اے میسنی یہ کیا حرکت تھی جل جاتا تو

جلانے کے لئیے ہی تو کیا تھا

لیکن آخر کیوں

بدھو یہ بھی نہیں جانتا تیرے زخموں پر پیار کا مرہم میرے سوا اور کون رکھ سکتا ہے

اگر مرہم ہی رکھنا تھا تو پھر جلانا ہی کیوں مقصود تھا

اپنی محبت کی کسک اور تیری چاہت کی جلن دیکھنے کے لئیے ۔ کبھی کبھی عاشق اور محبوب کو امتحان کی جلتی ہوئی بھٹی

میں سے گذرنا پڑتا ہے ۔ جب تک ہجر کی تاریک راتوں میں انجانی منزلوں کی طرف ننگے اور آبلہ پا چلیں گے نہیں عشق کی

معراج کو کیسے پہنچیں گے ۔ جیدی تو نے سنا ابھی ابھی میں نے کیا کہا لگتا ہے میں تیری زبان بولنے لگی ہوں

ایک بات تو بتا تو پاگل ہے یا میں

دونوں کیوں

مجھے تو آج تک کسی نے پاگل پن کا طعنہ نہیں دیا

مجھے بھی نہیں میں تو صرف اور صرف اپنے جیدی کی دیوانی ہوں

دیوانی نہیں

psycho

ہو پوری جلتے ہوۓ پانی کی دھار سے بچنے کے لئیے ایک دم سے پیچھے ہٹا تو سر دیوار سے جا ٹگرایا

ابھی تک سر دکھ رہا ہے میرا ۔ پاگل سر پھری

سچ کہہ رہے ہو مجھے دکھاؤ کہاں لگی ہے

God I am sorry

جیدی

شہرزاد چھوڑ مجھے یہ کیا پاگل پن ہے عید کا موقعہ نہیں جو مجھے گلے سے لگا رہی ہو

اے لڑکے تیری کوئی کل سیدھی بھی ہے

I was only trying to comfort you

پیار بھی ہضم نہیں ہوتا تجھ سے کیا

دور ہی رہ کر بات کیا کر مجھ سے ۔ بڑی ہوشیار سمجھتی ہو نا اپنے آپ کو مجھے پتہ تھا تم یہی کرو گی اس لئیے میں نے شاور

میں جانے سے پہلے ہی ٹمپریچر چیک کر لیا تھا یہ چیخنے چلانے کی اداکاری تو میں نے تمہیں دکھانے کے لئیےکی تھی ہا ہا ہا

اب اوپر کہاں بھاگے جا رہی ہو

تمہاری کتابوں کا پارسل چھپانے اور کہاں یہ کتابیں اب ایک ہفتہ سے پہلے تمہیں نہیں ملنے والی

معاف کی جئیے گا خالہ جان میں ابھی گیا اور ابھی واپس آیا ۔ ٹھہر جا تو چوٹی کہیں کی

لو یک نہ شد دو شد ابھی تک دونوں کا بچپنا گیا نہیں اور چلے ہیں بینڈ باجہ اور بارات لیکر ۔۔۔۔۔

جاری ہے

قسط نمبر 104

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

How to whistle

کیوں آۓ ہو میرے پیچھے

مجھے پاگل کتے نے نہیں کاٹا جو تیرے پیچھے آؤں

تو پھر یہاں کیا کر رہے ہو

میری کتابیں کہاں چھپا کر آئی ہو

بڑے سقراط بنے پھرتے ہو بتانا ہوتا تو چھپاتی کیوں جاؤ جا کر ڈھونڈ لو

شہرزاد

stop playing games with me

ہاہاہا بڑے اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہے تھے نا اب خمیازہ بھگتو اس کا ساری رات پڑی ہے جا جا کر اپنی پیاری

اور چہیتی کتابوں کو تلاش کرو شائد کسی کونے کھدرے میں پڑی ہوئی مل ہی جائیں

چٹیا پکڑ کر کھینچی تو سب کچھ اگل دو گی

میں تم سے لمبی ہوں ہاں اگر اپنے پیار کا واسطہ دو گے تو زمین پر بیٹھ جاؤنگی میری چٹیا کھینچنے کا شوق بھی پورا کرلینا

لیکن بتاؤنگی پھر بھی نہیں اب ہٹو میرے راستے سے مجھے کچن میں جاکر دیکھنا ہے کہ رات کے کھانے کے لئیے کیا بن

رہا ہے ۔ کوئی سپیشل ڈش بنواؤں تمہارے لئیے ۔

کتابیں نہیں دو گی تو بھوک ہڑتال کر دونگا اکیلی بیٹھنا پھر ڈنر ٹیبل پر

میری بلا سے ایک وقت کا کھانا نہیں کھاؤ گے تو دبلے نہیں ہو جاؤ گے

صبح تک بات بھی نہیں کرونگا تم سے

اچھا ہے تم ویسے بھی ضرورت سے کچھ زیادہ ہی بولتے ہو آج بڑے آرام اور چین کی نیند آۓ گی گڈ ناٰٹ ڈارلنگ

میں واپس یونیورسٹی جا رہا ہوں

باہر گیٹ پر بڑی بڑی مونچھوں والا سات فٹ کا نیپالی کھڑا ہے کوشش کر دیکھو اور کچھ

زرا سوچنے دو وہ

TV

ڈراموں میں کیا ڈائیلاگ بولتے ہیں ہاں یاد آیا

I hate you I hate you I hate you

شکر ہے کم از کم انگریزی تو ٹھیک بول لیتے ہو ورنہ پاکستانی ٹیلی ویژن ڈراموں میں اکثر غلط انگریزی بولی جاتی ہے

اور اوپرسے تلفظ الامان الحفیظ

زیادہ تر لکھنے والے میری طرح اردو میڈیم کے پڑھے ہوۓ ہیں وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں پہلے اردو میں سوچتے ہیں پھر

اسے انگریزی میں ڈھال لیتے ہیں جیسے اگر کسی نے کہنا ہو کہ “ مجھے آپ پر فخر ہے “ تو جانتی ہو وہ کیا کہے گا

مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ وہ کیا کہے گا لیکن اگر مجھ سے پوچھو گے تو جواب ہے I am proud of you

جی نہیں موصوف کہیں گے

I am proud on you

ہاہاہا اچھا اس طرح کے چٹکلے بہت یاد کر رکھے ہیں تم نے لیکن کتابیں تمہیں پھر بھی نہیں ملیں گی

چھوڑ کتابوں کو میں تیرے ساتھ چلونگا تم کھانے پکانے کی تیاری کرنا میں وہاں بیٹھ کرتم سے باتیں کرونگا

اے کیا ہوا اتنی جلدی ہار مان گئیے کتابیں نہیں چاہئیں کیا

نہیں ایسا تو نہیں لیکن مجھے کتابوں سے زیادہ کتابوں والی سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے

سچ کہہ رہا ہے یا مجھے بنا رہا ہے

شہرزاد بنانے والے نے جس رعنائی بانکپن اور نزاکت سے تجھے تراشا ہے اس کی کوئی نظیر تو مل نہیں سکتی اس لئیے

میں تجھے بنانا بھی چاہوں تو نہیں بنا سکتا لیکن اگر تو بننے کے موڈ میں ہے تو

I am more than happy to oblige

مسکے لگانے بند کر کتابیں چاہئیں نا میرے باتھ روم میں پڑی ہیں جا کر جلدی سے اٹھا لے اس سے پہلے کہ میں

اپنا

mind change

کر لوں

اے شہرزاد

did I say I love you

کہا تو نہیں لیکن اب کہہ لے ۔ سنا نہیں کیا مکھن لگانا بند کر اور بھاگ یہاں سے

امی میں کچن میں جا رہی ہوں زرا دیکھوں وہاں کیا بن رہا ہے رات کے لئیے

تمہاری سہیلی نظر نہیں آ رہی کہیں کمرے میں تو بند نہیں کر آئی اسے

آپ جیدی کو اب بھی میری سہیلی کہتی ہیں

تم بھی تو یہی کہتی ہو اسے اور کسی حد تک یہ ہے بھی ٹھیک چوبیس گھنٹے تو تم دونوں کے راز و نیاز چلتے رہتے ہیں

وہ بیچارا بھی کیا کرے جب سے وہ تم سے ملا ہے اسے کسی چیز کا ہوش ہی نہیں آج کل تو وہ اپنے ہاسٹل بھی کم ہی

جاتا ہے جیسے ہی اس کلاسز ختم ہوتی ہیں تم اسے اٹھا کر یہاں لے آتی ہو

تو پھر کیا ہوا تئیس سال اس نے میرے بغیر گذارے ہیں اب وہ میرا ہے صرف میرا اور ہاسٹل جا کر کیا کریگا آپ

کو پتہ ہے ہاسٹل میں رات کے ایک دو بجے تک دوستوں کے ساتھ

scrabble

کھیلتا رہتا ہے اور باقی وقت میں اپنی

گرل فرینڈ کیساتھ گپیں ہانک رہا ہوتا ہے

یہ کیا کہہ رہی ہو تم اور تمہیں کیسے پتہ کہ وہ اپنی لیڈی فرینڈ کیساتھ رات گئے تک باتیں کرتا رہتا ہے

اور مجھے کیوں اور کیسے پتہ نہیں ہو گا میں اس کی گرل فرینڈ ہی تو ہوں

اوہ میں سمجھی تم کسی اور لڑکی کی باتیں کر رہی ہو

اور یہ موصوف ہیں کہاں اتنی دیر سے اوپر بیٹھا آخر کر کیا رہا ہے کتابیں پڑھنے تو نہیں بیٹھ گیا

میں یہاں ہوں گیا تو تھا اپنی کتابیں لینے لیکن آپ کے باتھ روم کی حالت زار دیکھ کر رہا نہ گیا مجھ سے اس لئیے آپ کے

چاروں طرف بکھرے ہو ۓ بڑے اور چھوٹے کپڑے طے کر کے انھیں ٹھیک طرح سے رکھ رہا تھا اسی میں تھوڑی دیر

ہو گئی اور بجاۓ شکر گزار ہونے کے آپ مجھے کوسنے دے رہی ہیں

شکر گزار پٹے گا تو میرے ہاتھ سے کسی دن تو کر کیا رہا تھا میرے باتھ روم میں شرم نہیں آتی تجھے یوں لڑکیوں کے باتھ

لو ان کی سنو آپ کا دماغ تو نہیں چل گیا آپ نے خود تو مجھے وہاں بھیجا تھا کتابیں لانے کے لئیے

ہاں ہاں میں نے کتابوں کے لئیے بھیجا تھا تمہیں تاک جھانک کرنے کے لئیے نہیں بے شرم کہیں کا

مجھے یہاں کھڑے ہو کر تیری جلی کٹی نہیں سننی میں واپس جا رہا ہوں اپنے کمرے میں اگر کسی چیز یا کام کے لئیے میری

ضرورت ہو تو بلا لینا

Remember whistle if you need me, you know how to whistle

نہیں تم سکھا دو

اتنا مشکل تو نہیں

you put your two lips together and blow

کیا کہا تم نے

you dirty little twit, I am going to kill you

اچھا

catch me if you can hahahahaha

جاری ہے

قسط نمبر 105

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

بند کواڑوں کے پیچھے

شہرزاد کیا ہوا ہے تمہیں کیوں اس بیچارے کو ہر وقت برا بھلا کہتی رہتی ہو

بیچارا آپ کو اب بھی وہ بیچارا دکھائی دیتا ہے

کیوں آخر اس نے ایسا کہا کیا ہے جو تم آپے سے باہر ہو رہی ہو

آپے سے باہر آج وہ میرے ہاتھ سے اگر بچ کر نکل گیا تو میرا نام بدل دی جئیے گا

تم آخر مجھے بتا کیوں نہیں دیتیں کہ اس سے ایسا کونسا گناہ کبیرہ سر زد ہو گیا ہے کہ اس کا کوئی کفارا ہی ادا

نہیں ہو سکتا تمہیں ویسے بھی عادت ہے باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی

سچ کہہ رہی ہیں واقعی آپ نے سنا نہیں یہ مہاشے ابھی ابھی کیا گل فشانی کرکےگئیے ہیں بس اتنا کہہ سکتی ہوں کہ

اگر آپ اس وقت باوضو بیٹھی ہیں تو جیدی مہاراج کا الوداعی ڈائیلاگ سن کر آپ کا وضو ٹوٹ جاۓ گا

اچھا پھر تو میں ضرور سنوں گی کبھی کبھی آدمی کو جوانی کی یادیں تازہ کر لینی چاہئیں

امی جان آپ بھی نا

ہاہاہا کیا ہوا تم خود ہی تو کہا کرتی ہو کہ میں نے چالیس سال کی ہی عمر میں اپنے اوپر بڑھاپا طاری کر لیا ہے اور اب بغیر

سنے تو سنی سنائی بات ہو گی شائد تم نے وہ مطلب نکالا ہو جو اس نے کہا نہ ہو

آپ جانب داری سے کام لے رہی ہیں کیونکہ آپ اسے دودھوں سے دھلا ہوا سمجھتی ہیں پکا میسنا ہے میسنا اور آپ کی

اطلاع اور تسلی کے لئیے میں نے اپنی طرف سے کوئی مطلب نہیں نکالا اس نے پہلے جو کہا سو کہا اور پھر مجھے

آنکھ بھی ماری

that devil incarnate winked at me

آپ پھربھی اسے معصوم کہیں گی

ہاں اس نے جو کچھ بھی کہا ہو گا تیرا ہی پڑھایا ہوا سبق ہو گا تو ہی اس سے اس طرح کے الٹے سیدھے مذاق

کرتی رہتی ہے سو کہہ دیا ہو گا اس نے بھی آخر جواب جہان لڑکا ہے اور یہ تو اوپر کہاں جا رہی ہے کہے دیتی ہوں

لڑائی نہیں کرنا اس سے

مجھے کیا ضرورت ہے لڑائی کرنے کی ایسا مزا چکھاؤں گی اسے کہ یاد رکھے گا

یہ اپنے آپ سے کیا باتیں کر رہی ہو شیری پلیز

no arguments

میں تھک گئی ہوں تم دونوں کی ہر وقت

کی جھک جھک سے خدا جانے یہ لڑکی کیا کرنے جا رہی ہے اب

یہ لیجئیے میں واپس بھی آ گئی آپ خواہمخواہ میں پریشان ہو رہی تھیں

ادھر میری طرف دیکھ اور بتا کیا کر کہ آئی ہے اور یہ تیرے چہرے سے شرارت کیوں ٹپک رہی ہے

ارے قسم لے لیں مجھ سے کچھ بھی تو نہیں کیا میں نے میں تو جیدی کے قریب تک نہیں گئی ہاں صرف اس کے

کمرے کا دروازہ باہر سے لاک کر دیا ہے میں نے میں بھی دیکھتی ہوں کیسے وہاں سے باہر نکلتا ہے ہاہاہا

شہرزاد تم کچھ بھول نہیں گئی

کیا نہیں بھول گئی

یہی کہ اسے باہر آنے کی چنداں ضرورت بھی نہیں ساری رات بیٹھا کتابیں پڑھتا رہے گا

ہاہاہا یہی تو وہ کر نہیں سکے گا

کیا مطلب

آپ کو لگتا ہے اس کی بلی کی آنکھیں ہیں جو وہ اندھیرے میں بھی دیکھ سکے گا

میں سمجھی نہیں تو کیا کہہ رہی ہے

بلڈنگ کے جس ونگ میں جیدی والا کمرا ہے اس کا سرکٹ بورڈ باقی گھر سے علیحدہ ہے اب سے ٹھیک دس منٹ

بعد میں نے اس کے سرکٹ بورڈ میں سے پلگ نکال دینا ہے پھر دیکھوں گی کیا کرتا ہے

ہاہاہا شہرزاد بیٹا اپنے آپ کو دھوکہ دے رہی ہو یا پھر مجھے بہلا رہی ہو

کیوں میں بھلا ایسا کیوں کرونگی

دیکھ سکو گی اسے اندھیرے میں اکیلا تن تنہا بیٹھا ہوا

کیوں ۔ کیوں نہیں دیکھ سکونگی بھلا اور آپ بھی نا ہر بات میں اس کی طرفداری کرنا چھوڑ دیں اور یہ آپ اس

طرح مجھے کیوں دیکھ رہی ہیں جیسے میں کوئی انہونی بات کر رہی ہوں

میں تمہاری ماں تو نہیں لیکن تم میری بیٹی ضرور ہو اور مجھ سے زیادہ تمہیں کون جانتا ہے لکھ کر رکھ لو جتنی دیر جاوید

اندھیرے میں بیٹھا رہے گا تم بے چین روح کی طرح اس کمرے کے چکر لگاتی رہو گی

وہ تو بعد کی بات ہے کہ میں کیا کروں اور کیا نہیں کرونگی لیکن آپ نے یہ کیوں کہا کہ آپ میری ماں نہیں ہیں اب

مجھے آپ سے بھی بات نہیں کرنی ۔

ساری بیٹا مجھے ایسا نہیں کہنا چاہئیے تھا بس ایسے ہی مونہہ سے نکل گیا ۔ اے رکو نا کہاں جا رہی ہو کیوں اس بیچارے

کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہو

لے آئی ہو پلگ نکال کر ہو گیا دل ٹھنڈا چل اب بیٹھ جا آ کر ماں کے پاس

آپ اب بھی ہنس رہی ہیں مجھ پر

میں نے تو کچھ کہا بھی نہیں

کہنے کی کیا ضرورت ہے آپ جو کہنا چاہتی ہیں وہ آپ کے چہرے پر لکھا ہوا ہے

یہ اب آپ نہیں آپ کا

guiltily conscious

بول رہا ہے اور میری بیٹی نے اپنی روائیتی جلدی میں اس بات پر تو

غور کیا ہی نہیں ہو گا کہ جاوید جب تک اکیلا اس اندھیر کوٹھڑی میں بند رہیگا آپ بھی تو اس وقت اکیلی ہی بیٹھی رہیں گی

ام ی ی ی ی ی آپ کیوں بار بار اندھیرا اکیلا کہہ کہہ کر میرا

resolve

کمزور کر رہی ہیں مجھے اسے سزا دینی ہے اور

وہ میں اسے دیکر رہونگی چاہے کچھ بھی ہو جاۓ

مجھے کیا تو جان اور وہ بیچارہ جانے جو اکیلا اس اندھیرے کمرے میں بیٹھا نجانے کیا کر رہا ہو گا

اوہ مائی گاڈ

how callous , cruel and careless of me

کیا ہوا کیوں آپنے آپ کو یوں کوس رہی ہو

مجھے تو یاد ہی نہیں رہا

ارے کیا یاد نہیں رہاکچھ بتا بھی تو مجھے گھبراہٹ سی ہونے لگی ہے

جیدی

کیا ہوا جاوید کو

اسے تو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے اوہ مائی گاڈ

کہاں جا رہی ہو

کیا مطلب کہاں جا رہی ہوں اوپر اور کہاں اسے کچھ ہو گیا تو

ہاہاہا چلی تھیں بدلہ لینے ۔ کہتی تھی امی میں نے جیدی کو کمرے میں بند کر دیا ہے ۔ بیچاری شہرزاد اپنے

ہی پیار پر قفل چڑھانے چلی تھی ۔ ہو گیا دروازہ بند ۔۔۔۔۔

 خالی پڑا ہے

جاری ہے

قسط نمبر 106

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Desperate Measures

امی ۔ امی جان کہاں ہیں آپ

ارے بابا میں وہیں ہوں جہاں پر مجھےچھوڑ کر گئی تھیں اور یہ تمہارے چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑ رہی ہیں

وہ وہاں پر نہیں ہے کمراارے کس کی بات کر رہی ہو کون کہاں نہیں ہے

جیدی کی اور کس کی

ارے بابا وہیں کہیں کمرے میں چھپا بیٹھا ہو گا

میں نے کمرے ایک ایک کونا چھان مارا پتہ نہیں اسے زمین کھا گئی یا پھر آسمان نگل گیا

تمہیں ٹھیک طرح سے یاد ہے کہ جب تم نے دروازہ لاک کیا تو وہ کمرے کے اندر ہی تھا

کیا کہہ رہی ہیں آپ اس نے باقاعدہ مجھے wave

 کیا تھا وہ سمجھا ہو گا کہ میں ایسے ہی دروازے کے کو

بند کر رہی ہوں اب کیا کروں میں مجھے تو عجیب سی

feeling

ہو رہی ہے امی آپ ہی کچھ بتائیں نا

چل میں تیرے ساتھ اوپر چلتی ہوں دونوں ملکر اسے ڈھونڈتی ہیں

یہ لیں آپ بھی اپنی تسلی کر لیں واش روم بھی دیکھ لیں

سن یہ پائیں باغ کی طرف کھلنے والی کھڑکی تو نے کھولی تھا یا پھر

میں نے تو نہیں کھولی لیکن آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں آپ کو لگتا ہے کہ وہ یہاں سے نیچے کود گیا ہو گا اتنی اونچائ سے

تو پھر کیا وہ ہوا میں تحلیل ہو گیا دیکھ اپنے آپ کو زیادہ پریشان مت کر یہیں کہیں ہو گا آ جا ۓ گا آ جا نیچے

چلتے ہیں

اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کرونگی ۔ اس نے تو ایسا کچھ کہا بھی نہیں تھا اور کہا بھی ہوتا

تو کونسی ایسی قیامت ٹوٹ پڑی تھی وہ مجھے کچھ بھی کہہ سن سکتا ہے میں اسی کی تو ہوں ۔ امی آپ ہی بتائیں ہوں کیا

میں جیدی کی نہیں ہوں آپ کچھ بولتی کیوں نہیں میرا سانس میرے سینے میں رک رہا ہے

ارے سنبھال اپنے آپ کو نیچے گر جاۓ گی سیڑھیوں سے لے میرا ہاتھ تھام لے

ارے بھئی کہاں تھے آپ لوگ میں یہاں آپ لوگوں کو ڈھونڈتا پھر رہا ہوں اور شہرزاد اسے کیا ہوا ہے اس کا رنگ

کیوں پھیکا پڑا ہوا ہے طبیعت تو ٹھیک ہے اس کی

جاوید بیٹا اسے لے جا کر صوفے پر بٹھا دے میں اس کے لئیے پانی کا گلاس لیکر آتی ہوں

اے شہر آنکھیں تو کھول لڑکھڑا کیوں رہی ہے اپنا سارا بوجھ میرے کندھوں پر ڈال دے ۔ بیٹھ جا یہاں پر

اور یہ تو نے اپنی حالت کیا بنا لی ہے بول تو سہی اب میری طرف ٹکر ٹکر کیا دیکھ رہی ہے

کچھ نہیں تھک گئی ہوں زرا مجھے سر کے نیچے رکھنے کے لئیے

cushion

پکڑا دے میں تھوڑی دیر لیٹنا چاہتی ہوں

تکیہ کیوں میں آخر کس مرض کی دوا ہوں میرے زانو پر سر رکھ کر لیٹ جاؤ

کہاں چلے گئیے تھے مجھے چھوڑ کر

میں کہیں نہیں گیا یہاں تمہارے پاس بیٹھا ہوں ۔ اور آنکھیں بند کر کے خاموشی سے لیٹی رہو

کیوں میں باتیں کیوں نہیں کر سکتی بیمار تھوڑا ہی ہوں تھکاوٹ سی ہو گئی ہے زرا اور یہ امی کہاں چلی گئیں

پانی لینے گئی تھیں ابھی آ جائیں گی لو آ بھی گئیں

یہ لو اٹھ کر پانی پی لو کئی دفعہ تمہیں کہا ہے اتنی بھاگ دوڑ مت کیا کرو لیکن تم کسی کی سنتی کہاں ہو ہمیشہ اپنی من مانی

کرتی ہو سارا دن گاڑی لیکر سارے شہر میں گھومتی رہتی ہو

ہمیشہ مجھے جھاڑ پلاتی رہتی ہیں اسے کچھ نہیں کہتیں

کیوں اس نے کیا کیا ہے

کیا کیوں نہیں ہزار بار کہہ چکی ہوں اسے گاڑی چلانا سیکھ لے لیکن اس کے سر پر تو جوں تک نہیں رینگتی سارا دن شہر کی

سڑکوں پر اس کے لئیے ماری ماری پھرتی رہتی ہوں ۔ اگر اسے گاڑی چلانی آتی تو سارے کام یہ کرتا میں نہیں

تو جلدی سے ٹھیک ہو جا میں کل ہی جا کر کسی ڈرائیونگ سکول میں اپنے آپ کو رجسڑ کرواتا ہوں اب تو خوش

ہے نا تو

اے میں تو پوچھنا بھول ہی گئی تم سے یہ

Houdini’s act

کیا کیسے میں تو تجھے کمرے میں لاک کر کے آئی تھی پھر تو

وہاں سے باہر کیسے نکلا ۔ کمرے کے دروازے پر قفل چڑھا ہوا تھا لیکن تو وہاں سے غائب تھا ۔ کوئی جادو ٹو نے کا چکر تو

نہیں

ارے ہاں جاوید بیٹا شیری تو کہہ رہی تھی کہ اس نے تمہیں تمہارے کمرے میں قید کر دیا ہے

جی آپ کی صاحبزادی نے ایک انتہائی خطرناک مذاق کیا تھا میرے ساتھ جبکہ وہ بخوبی جانتی ہے کہ مجھے اندھیرے سے

خوف آتا ہے ایک دو منٹ تک میں نے دروازا کھلنے کا انتظار کیا میرا خیال تھا کہ یہ محترمہ کہیں پاس ہی کھڑی ہونگی اور جھٹ

سے دروازہ کھول دیں گی لیکن جیسے ہی مجھے احساس ہوا کہ یہ دروازہ بند کر کے نیچے جا چکی ہے تو I was panic stricken

میں نے گھبراہٹ میں پائیں باغ کی طرف کھلنے والی کھڑکی کھولی تا کہ تھوڑی سی روشنی اور تازہ ہوا اندر آۓ

لیکن تم نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ تم بند کمرے سے باہر کیسے نکلے

پرندوں کی طرح ہوا کے سنگ سنگ گھٹا کے ساتھ ساتھ ۔ آؤچ ۔۔۔ شہرزاد میرے ہاتھ پہ کیوں کاٹا تم نے

شکر کر ہاتھ پر ہی کاٹا ہے کہیں اور نہیں اب بتا کیسے نکلا اس کمرے سے ورنہ

جانور کہیں کی تو لڑکی ہے یا جنگلی بلی انسانوں کی طرح بات نہیں کر سکتی ۔ کھڑکی کیساتھ برساتی پانی کے نکاس کا لوہے کا پائپ

تھا تھوڑا

risky

ضرور تھا لیکن وہ کہتے ہیں نا

desperate situations require desperate measures

اس لئیے

اللہ کا نام لیکر پائپ کے سہارے گھسٹتا ہوا نیچے اتر آیا ۔ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو مجھے

نیچے گر جاتے چوٹ لگ جاتی تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کہاں جاتی سوچا تھا اس بارے میں

یہ سب کچھ مجھے اندھیرے میں بند کرنے سے پہلے تمہیں سوچنا چاہئیے تھا

اپنا سر نیچے کر ۔ زرا اور نیچے ۔ اب بول کیا کہہ کر بھاگا تھا اوپر ۔ بتاؤں سیٹی کیسے بجائی جاتی ہے

اونہوں اور زرا زور سے بول میرے کانوں میں سرگوشیاں کیوں کر رہی ہے

کیا کہا تھا تو نے دوبارا کہہ ۔ شہرزاد

put your lips together and blow

کروں اب

کیا کرنا چاہتی ہو

وہی جو تو نے کہا تھا

my lips are next to yours

بول اب

اے

you two

مجھے جا لینے دو بعد میں سیٹیاں بجاتے رہنا ۔۔۔۔۔

جاری ہے

قسط نمبر 107

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

منگنی کی انگوٹھی

طبیعت کیسی ہے اب

ٹھیک ہوں

ہوا کیا تھا دوائی تو وقت پہ کھائی تھی نا

یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا

میری وجہ سے میں نے کیا کیا ۔ میں تو وہاں تھا بھی نہیں

تم مل جو نہیں رہے تھے اس لئیے میں پریشان ہو گئی تھی

اتنی معمولی سی بات کے لئیے اپنے آپ کو پریشان کرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی

میری جان پر بنی ہوئی تھی اور تم اسے معمولی بات سمجھتے ہو ۔ تمہیں کب سمجھ آۓ گی کہ میری سانسیں چلتی بھی

تمہاری سانسوں کیساتھ ہیں اور رکیں گی بھی تمہاری سانسوں کے ساتھ اور یہ ٹارزن بننے کی کیا ضرورت تھی

اب جانے بھی دو نا غلطی میری تو نہیں تھی پھر بھی

I am sorry

کوئی اور بات نہیں کر سکتے ہم لوگ

کتابیں لگا دیں شیلف میں

میں نےتو ابھی تک کتابوں کا پارسل بھی نہیں کھولا

تو پھر وہاں اکیلے کمرے میں بیٹھے کیا کر رہے تھے

جو ہمیشہ سے کرتا آیا ہوں جب بھی موقعہ ملتا ہے یادوں کی بیاض کھول کر بیٹھ جاتا ہوں

کیا لکھ رہے ہو آجکل

تمہارے بارے میں سننا چاہو گی

کیا لکھو گے یہی نا کہ “ شہر یار میرا پیار ہم نے ابھی محبت کی پہلی سیڑھی پر قدم بھی نہیں رکھا تھا اور وہ موت کی دہلیز تک

پہنچ چکی تھی تپ دق کی آخری سٹیج پر تھی ڈاکٹرز نے چھ ماہ کا وقت دیا تھا ملنے سے پہلے ہی بچھڑنے کی گھنٹی بج چکی تھی “

اے ہر وقت مایوسی کی باتیں کیوں کرتی رہتی ہو اب تو ڈاکٹرز بھی کافی پر امید لگتے ہیں

جیدی میں تو صرف ایک بات جانتی ہوں کہ میری زندگی اور موت کے بیچ میں تو اور تیری محبت کھڑی ہے باقی تو جان اور بول

کیا لکھا ہے تو نے میں سن رہی ہوں

“ جس عورت کے پاؤں تلے جنت ہے اس کے باقی جسم و جان کی کیا انتہا ہو گی ۔ جس کوکھ سے ایک نبی ایک پیغمبر جنم لیتا ہے وہاں انوار الہیہ کی روشنیوں کے سوا اور کیا چیز آپکو رقص کرتی ہوئی نظر آۓ گی شائد ایسی کوئی آنکھ بنی ہی نہیں یا بنائی ہی نہیں گئی جواس نورکی تاب بھی لا سکے بصارت تو دور کی بات ہے شائد بصیرت بھی اس کا احاطہ نہ کر سکے “

اے تو تو کہہ رہا تھا کہ میرے بارے میں لکھ رہا ہے اور یہ کیا تھا

کیوں تو عورت نہیں ہے کیا

تجھے کیا نظر آتی ہوں لیکن مہربانی کر اور عرش معلی سے ارض مقدس پر اتر آ اور تجھے کتنی دفعہ کہا ہے اپنے قد اور عمر سے

بڑی باتیں مت کیا کر اور کسی کی نہیں تو میری ہی نظر لگ جاۓ گی تجھے اور ایک بات تو بتا تو ہمیشہ میرے ہاتھ کی

انگلیوں کیساتھ کیوں کھیلتا رہتا ہے اچھا لگتا ہے تجھے ایسا کرنا

یہ تو پتہ نہیں کہ کیوں کرتا ہوں لیکن اپناہٹ کا احساس ہوتا ہے لیکن اگر تجھے برا لگتا ہے تو آئیندہ کبھی نہیں کرونگا

ہاہاہا مجھے تیری کوئی بات بری نہیں لگتی سچ پوچھ تو تیری تو بری بات بھی مجھے بری نہیں لگتی

یہ کیا بات ہوئی بھلا

دیکھ یہ عورتوں کی باتیں ہیں اور تو ٹھہرا برہمچاری تیری سمجھ میں نہیں آنے والیں اس لئیے زیادہ مت سوچ

شہرزاد تیرے ہاتھ کیوں اتنے خالی خالی سے ہیں

کیوں بھرے بھرے موٹے موٹے سے ہونے چاہئیں کیا

میرا مطلب تھا نہ کوئی انگوٹھی نہ چھلا نہ رنگ برنگی چوڑیاں نہ کنگن

مجھے یاد پڑتا ہے یہ سوال تو ایک دفعہ پہلے بھی مجھ سے پوچھ چکا ہے اور میں نے کہا تھا کہ سبھی لڑکیوں کی طرح مجھے بھی

ان سب چیزوں کا شوق تھا لیکن اس موزی بیماری نے زندگی کے سب رنگ چھین لئیے مجھ سے لیکن اے بسنت بہار

اب تو آ گیا ہے نا تو زندگی بھی لوٹ آئی ہے اور زندگی کی ساری رونقیں بھی ۔ کیوں کچھ لیکر آیا ہے اپنی دلہن کے لئیے

نہیں تو میں نے تو ایسے ہی پوچھا تھا ۔ ارے ہاں یاد آیا وہ میرا چھوٹا سا بیگ جس میں میرے ہاسٹل کے کمرے کی

چابیاں وغیرہ ہوتی ہیں کہیں رکھ کر بھول گیا ہوں تم نے تو نہیں دیکھا

بھلکڑ ہو پورے تم ۔ خود ہی تو دیں تھیں مجھے سنبھال کر رکھنے کو کیوں پوچھ رہے ہو واپس ہاسٹل جانا ہے کیا

کہیں نہیں جانا مجھے یاد آیا تو پوچھ لیا

جیدی ۔ جیدی ۔ جیدی میں تیری رگ رگ سے واقف ہوں تو کبھی بے وجہ سوال نہیں کرتا وہ سامنے ٹیبل پر پڑا ہوا

ہے کیوں چابیوں کے ساتھ کوئی ہیرے موتی رکھے ہوۓ ہیں کیا

ہاں ہیں تو ابھی دیکھ لینا زرا دو منٹ کے لئیے اپنی آنکھیں بند کر

بند آنکھوں سے کیسے دیکھونگی

چھو کر دیکھ لینا نہیں تو میری آنکھوں سے دیکھ لینا ۔

اچھا بابا یہ لو آنکھیں بند کر لیں میں نے اور جو کچھ کرنا ہے جلدی کر

the suspense is killing me

ارے ایسی بھی کیا بے صبری چل کھول لے آنکھیں دیکھ کیا لایا ہوں میں تیرے لئیے

انگوٹھی ۔ کہاں سے لیکر آیا ہے اتنی خوبصورت انگوٹھی

چرا کر لایا ہوں جوہری کی دوکان سے ۔ عجیب لڑکی ہو تم بھی نہیں چاہیے تو جس کی تھی اسے واپس کر دونگا

کس کی تھی اور میں کیوں پہنوں کسی کی اترن ایک چھلا ہی لے آتے لیکن نیا تو ہوتا

اوہ سچ کہا تم نے میری عقل بھی نا کسی وقت گھاس چرنے چلی جاتی ہے I am sorry

کوئی بات نہیں اور یہ تمہارا مونہہ کیوں لٹک گیا ہے ۔ تم نے بتایا نہیں یہ انگوٹھی آخر ہے کس کی راستے میں گری

ہوئی تو نہیں ملی کہیں

نہیں نہیں ایک دور پار کی رشتہ دار ہیں انہوں نے دی تھی اپنی بہو کے لئیے

ارے جاوید بیٹا یہ انگوٹھی تو بہت خوبصورت ہے اور یہ کونسا

gemstone

ہے

جی میری اور آپ کی زبان میں تو اسے زمرد یا فیروزا کہتے ہیں اور یہ

English medium

خاتون جو کہ اس

couch

پر لیتی ہوئی ہیں وہ

Emerald

کہتی ہیں

شہرزاد کے لئیے لاۓ ہو کیا

جی لایا تو انھیں کے لئیے تھا لیکن یہ فرما رہی ہیں کہ میں کسی کی اترن نہیں پہنتی

جھوٹ بولے کوا کاٹے ۔ ابھی مجھے کہہ رہا تھا کہ اس کی کسی رشتہ دار نے اپنی ہونے والی بہو کے لئیے دی ہے ۔ اسے

پوچھیں اگر یہ کسی کی بہو کے لئیے ہے تو پھر تیرے پاس کیا کر رہی ہے اور سوچنے والی بات تو یہ بھی ہے کہ اس خاتون نے

یہ انگوٹھی تیرے ہاتھ میں کیوں تھما دی

شیری بیٹا میں نے زندگی میں ایک سے بڑا ایک بیوقوف دیکھا ہے لیکن آپ تو سب کی سرغنہ نکلیں

ارے میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو آپ مجھ لعن طعن کر رہی ہیں

آپ کے سر میں بھیجا ہے یا بھس یہ انگوٹھی جاوید کی امی جان کی ہے اور ساس کی دی ہوئی چیزیں بہو کے لئیے اترن نہیں

ہوتیں شگن کے طور پر دی جاتی ہیں اور اس طرح کے رسوم و رواج ہماری ثقافتی اور تہذیبی وراثت ہیں ۔ جاوید بیٹا میں

تھوڑی دیر میں کھانا لگوا رہی ہوں اس عقل کی اندھی کو لیکر جلدی سے آ جاؤ

جی نہیں میں آپ کے ساتھ آ رہا ہوں کیونکہ آپ کے اٹھتے ہی جو بھونچال اس کمرے میں آنے والا ہے اس کے جھٹکے میں

ابھی سے محسوس کرنے لگا ہوں

جیدی کے بچے تیرا ایک قدم بھی اس کمرے سے باہر نکلا تو تو تو ۔۔۔۔۔

جاری ہے

قسط نمبر 108

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

پیار کے دو بول

اے بھاگ کہاں رہا ہے سنا نہیں امی نے کیا کہا تھا “ اسے ساتھ لیکر آنا “

مجھے تو چھوڑلکشمی کے بارا ہاتھ ایک چھڑاتا ہوں تو دوسرے سے پکڑ لیتی ہے

ہاہاہا جیتے جی تو تجھے چھوڑنے والی نہیں میرے بعد تو آزاد ہے جو جی میں آۓ کرتے رہنا

تجھ سے پہلے کوئی پہل نہ تھی

شہرزاد تیرے بعد کوئی بعد نہیں

تو ہی اول ہے میرا اور تو ہی آخر

تو چھپی دل میں ہے میرے اور تو ہی ظاہر

بیٹھا صحرا میں ہوں کب سے کہ خشک ہیں آنسو

بہتی نہیں نینوں کی برکھا ساون بھی گیا بن برسے

وعدہ لیا کیوں مجھ سے اشک بہانا نہ کبھی

میں چلی جاؤں اگر مجھ کو رلانا نہ کبھی

جیدی نہ تو تجھے علم عروض سے واقفیت ہے اور نہ ہی تیرا قافیہ اور ردیف کبھی ٹھیک ہوتا ہے اس لئیے مجھ پر اپنی بے سر و پا

شاعری کی دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش مت کیا کر

ارے تم نے تو میرے شاعرانہ غبارے کی ہوا ہی نکال دی تھوڑی جھوٹی موٹی ہی تعریف کر دیتیں

ایک بات تو بتا یہ تجھے ہر بات کو قصے کہانیاں بنا کر پیش کرنے کی عادت کیوں ہے سیدھی طرح نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ

انگوٹھی میری امی کی ہے

یہ کہنے کی مہلت ہی کہاں دی آپ نے چھوٹتے ہی مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا اس کلنک کا داغ ابھی دھویا ہی

تھا کہ آپ نے کہا راستے میں کسی کی گری پڑی ہوئی ملی ہو گی ۔ سنئیے محترمہ میں بلخ کے شاہی خاندان کا چشم و چراغ ہوں

آپ کی طرح کوئی

nouveau riche

ٹائپ چیز نہیں ہوں

اے بلخ کے جلا وطن شہزادے میں تجھے نو دولتیا لگتی ہوں خاندانی رئیس ہیں ہملوگ ٹھیک سے دیکھ شکل صورت سے

پہلوی خاندان کی شہزادی لگتی ہوں کہ نہیں ۔ اور باتیں زرا کم کر اگر انگوٹھی لے ہی آۓ ہو تو اب پہنا بھی دو کہ پہلے

رنگ برنگا ربن کٹے گا شہنائیاں بجیں گی اور پھر بلخی صاحب اپنی ہونے والی دلہن کو انگوٹھی پہنائیں گے

خالہ جان کے سامنے ہو گی یہ منگنی کی رسم ورنہ تیرا کیاہے کل کلاں کوئی بات ہوئی تو تو صاف انکار کر دیگی کہ میں تو اس

شخص کو جانتی بھی نہیں کہاں کی منگنی کیسی منگنی کونسی منگنی

تو پہناۓ گا یا میں خود ہی پہن لوں ویسے بھی یہ انگوٹھی میری ساس نے میرے لئیے بھیجی ہے

زیادہ باتیں مت کر لا دے اپنا ہاتھ بسم اللہ ۔ اللہ سبحان و تعالہ جوڑی سلامت رکھے ہمیشہ

مذاق اڑا رہا ہے میرا یا دعا دے رہا ہے مجھے

my God Jedi , I don’t believe it . It is official now

ارے بھئی کیا کہہ رہی ہیں آپ آخر ایسا کیا ہوا ہے جس پر حکومت وقت کی سرکاری مہر لگ گئی ہے زرا ہم بھی تو جانیں

کیا مطلب آپ کو لگتا ہے یہاں ابھی ابھی کچھ ہوا ہی نہیں عجیب ہونک قسم کے آدمی ہیں آپ بھی اور سنئیے آپ زرا

مجھ سے پرے ہٹ کر بیٹھئیے اب میں آپ کی گرل فرینڈ نہیں کسی کی منگیتر اور ہونے والی بیوی ہوں اس لئیے

حفظ مراتب کا خیال رکھئیے

ارے واہ ہماری ہی بلی اور ہمیں سے میاؤں میاؤں خیر بواۓ فرینڈ نہ سہی ہم آپ کے دوست تو ہیں ہمیں نہیں بتائیے گا

کہ کون ہیں یہ آپ کے منگیتر اور ہونے والے شوہر نامدار کوئی ہماری جان پہچان کے ہیں یا پھر دوبئی وغیرہ سے

امپورٹڈ مال ہیں

کیوں تمہیں کیوں بتاؤں اس وقت سے برساتی مینڈک کی طرح ٹرا رہے ہو اور سنو اٹھو یہاں سے اور اپنا

راستہ ناپتے نظر آؤ ہم مذہبی قسم کے لوگ ہیں اور نامحرموں سے الگ تھلگ ہی رہتے ہیں

ارے تو پردہ کر لو بھگانے کی کیا ضرورت ہے کہاں گیا وہ تمہارا

shuttle cock

برقع جو پہن کر وزیرآباد کی سڑکوں پر

مٹر گشت کیا کرتی تھیں

وہاں بھی تمہارے وجہ سے پہنتی تھی تمہیں ہی ڈر تھا کہ کہیں تمہاری ہونے والی دلہن کو لوگ دیکھ نہ لیں

اچھا تو پھر مجھے اجازت ہے جانے کی انشااللہ اب شادی کے بعد ہی ملیں گے

ہاہاہا میں تو ایسے ہی تجھے چھیڑ رہی تھی اب کہاں جانے دونگی اب تو ہماری سگائی ہو گئی ہے اے دولہے راجہ تجھے کیسے

لگ رہا ہے مجھے تو ابھی سے ڈھولک کی تھاپ سنائی دینے لگی ہے “ راجہ کی آۓ گی برات رنگیلی ہو گی رات “

ارے تم کیسی لڑکی ہو ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے تم سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا اور اب بدائی کے گیت گا رہی ہو اور

زبان تو ایسے جیسے چھالیہ کتر رہی ہو اور ایک بات تو بتا

what are you so excited about

ایک انگوٹھی ہی تو

پہنائی ہے میں نے تمہیں کونسی بینڈ باجہ اور برات آ گئی ہے تمہاری

دیکھ یہ لڑکیوں کی چیز ہے تیری سمجھ میں نہیں آۓ گی میں آج سے تیرے نام سے منسوب ہو گئی ہوں

اور

till death do us part

میرا نام ہمیشہ تیرے نام کیساتھ لکھا جاۓ گا مائی گاڈ جیدی اس چھوٹی سی رسم کی

وجہ سے ہم دونوں کس قدر قریب آ گئیے ہیں

ارے تو مونہہ سے بول نا ساتھ کیوں چپکی جا رہی ہو ابھی تو کہہ رہی تھی کہ میں نامحرم ہوں اور اب میں تیرا محرم ہو گیا

اے میاں مٹھو چوری کھانی ہے کہ نہیں یہ ساری باتیں انگوٹھی پہنانے سے پہلے سوچنی تھیں تو جنم جنم سے میرا تھا

ہماری روحیں ازل سے ایک تھیں اب صرف جسموں کا میل ہونے جا رہا ہے زیادہ تنگ کریگا تو ابھی اس وقت مسجد سے

امام صاحب کو اٹھا لاؤں گے ویسے بھی آج جمعہ کا مبارک دن ہے

تجھے کس نے کہا آج جمعہ کا دن ہے

نہیں ہے تو کوئی بات نہیں نکاح پڑھتے پڑھتے ہو جاۓ گا مجھے تو تیرے افسانے کا وہ ڈائیلاگ یاد آرہا ہے “ شہرزاد

میرا حجلہ عروسی تیرا انتظار کرتا رہیگا اور میری شب زفاف تم پر ادھار رہیگی “

تو پاگل ہے کیا پتہ بھی ہے تو کیا کہہ رہی ہے

تجھے تو پتہ ہے نا تو بس ٹھیک ہے ضروری نہیں کہ دونوں کو ہر چیز کا پتہ ہو ۔ تو ہمیشہ اچھی اچھی پیاری پیاری چیزیں لکھتا

ہے تو یہ بھی کوئی پیاری چیز ہی ہو گی ۔ پیار کتنا پیارا لفظ ہے ۔ ارے بول ہے نا ۔۔۔۔۔

جاری ہے

قسط نمبر 109

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

کیسے محبت کر بیٹھے

اے اب رات کے کھانے کے لئیے چلیں یا پھر نکاح کے سوکھے ہوۓ چھوہاروں سے ہی پیٹ بھرا جاۓ گا

اپنی بات کر پیٹو کہیں کے میں تو پیار کے دو بولوں سے بھی سیر ہو جاؤں گی جیدی ویسے تو ہے بڑا کٹھور دل دنیا کی

سب سے حسین لڑکی تجھ پر اپنا تن من اور دھن لٹانے کو تیار بیٹھی ہے اور ایک تو ہے کہ رات کے کھانے کے لئیے

زلیخا وقت کو ٹھکرا رہا ہے سوچ لے یہ وقت یہ گھڑی اور یہ راا ا ا ا ا ا ت دوبارا نہیں آنے والی

اونہوں میں تیری میٹھی میٹھی باتوں میں نہیں آنے والا اپنی کمبی لمبی زلفوں کے جال تو پہلے بھی کئی دفعہ مجھ پر پھینک

چکی ہے اور یہ رات کے اوپر آپ کی خوبصورت زبان کی سوئی کیوں اٹک گئی تھی دیکھ ابھی ابھی تیری سگائی ہوئی

ہے پراۓ لڑکوں پر ڈورے ڈالنے بند کر تیرے منگیتر کو ہوا بھی لگ گئی تیرے

indiscretions

کی توشادی سے پہلے ہی تجھےفارغ خطی بھیج دیگا

اچھا تو تو پرایا لڑکا ہے ۔ ادھر آ زرا میرے پاس تجھے اپنا بنا لوں آ جا میرا میاں مٹھو اور وہ جو اصلی گھی شکر کی چوری

میں نے اپنے منگیتر کے لئیے بنائی ہے اس میں سے تھوڑی سی تو بھی چکھ لے اور یہ فارغ خطی کیا ہوتا ہے

میرا سر تو اٹھے گی یا زبردستی آٹھا کر لے جاؤں مجھے سچ مچ بھوک لگ رہی ہے

سچ کہہ رہا ہے مجھے اٹھا کر لے جاۓ گا کیسے جیسے گود میں لے جاتے ہیں تو لے جا میں تو کب سے انتظار کر رہی تھی

اس گھڑی کا لیکن میں زرا بھاری بھر کم ہوں تجھ سے اٹھائی نہیں جاؤنگی ایسا کیوں نہیں کرتا روز روز مجھے اٹھانے سے

بہتر ہے ایک ہی دفعہ ڈولی میں بٹھا کر کیوں نہیں لے جاتا

اور یہ تو نے آنکھ کیوں ماری دیکھ پھر کہے دیتا ہوں شریف زادیوں کے لچھن ایسے نہیں ہوتے

اےبلخ بخارا میں صرف امیر زادی ہوں شریف زادی ہو گی کوئی تیری ہوتی سوتی

جیدی

کیا ہے

ایک بات پوچھوں جھوٹ تو نہیں بولے مجھ سے

تم لڑکیاں بھی عجیب ہوتی ہو ہمیشہ چن کر وہ سوال کرتی ہو جن کا جواب تمہیں پہلے سے معلوم ہوتا ہے

سوال کا جواب دو منطق نہ پڑھاؤ مجھے سیدھی طرح یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ نہیں بولو نگا

اچھا بابا نہیں بولونگا اب لکھ کر دے دوں کیا اور پوچھنے کی بھی کیا ضرورت ہے مجھے پتہ ہے تم کیا پوچھنے والی ہو

اچھا

clairvoyant

ہو کیا جو تمہیں چیزوں کے وقوع پزیر ہونے سے پہلے ہی پتہ چل جاتا ہے

نہیں ایسی کوئی پاور تو مجھ میں نہیں لیکن فکر مت کرو میرا کسی سے کوئی

affair

نہیں چل رہا

ہاہاہا جیدی جیدی جیدی تم اور افئیرز ارے میرے بھولے بھالے سیاں تمہیں پتہ ہے نا امی تمہیں میرا بواۓفرینڈ نہیں

میری سہیلی کہتی ہیں مجھے تو آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ تم مجھ سے کیسے محبت کر بیٹھے اس بات سے مجھے ایک اور

بات یاد آ گئی وہ تمہاری ایرانی گرل فرینڈ کیا نام ہے اس کا

سورایا اسفندیار اور کئی دفعہ تمہیں کہا ہے وہ میری بہت اچھی دوست تو ہے لیکن میری گرل فرینڈ نہیں کچھ کہا اس نے

تمہیں میرے بارے میں

تم جانتے ہو نا

I don’t beat around the bush

میں نے جب اس سے تمہارے بارے میں پوچھا تو کہنے لگی تمہیں

کیسے پتہ کہ جاویدتم سے محبت کرتا ہے میں نے کہا اس کی باتوں سے اور کیسے آگے سے ہنس کے کہنے لگی وہ تو سب لڑکیوں سے

ایسے ہی باتیں کرتا ہے میں نے کہا تم سے بھی کہنے لگی میں اپنی ہی بات کر رہی تھی میں نے ایک دفعہ اس سے پوچھا بھی تھا

میں کیسی لگتی ہوں تمہیں کہنے لگا تم خوبصورت ہو زہین ہو اور میری دوست بھی ہو کیوں پوچھ رہی ہو ایسے ہی میں نے کہا

تم نے کبھی کہا نہیں میں سمجھی شائد تمہاری نزدیک کی نظر کمزور ہے آگے سے بڑے غیر جذباتی سے لہجے میں کہنے لگا میری نظر

تو ٹھیک ہے لیکن میں اپنی آنکھوں کو آنکھوں کے پیچھے چھپا کر رکھتا ہوں ا نھیں کبھی اپنے دل تک نہیں پہنچنے دیتا یہ اس

موضوع پر ہماری پہلی اور آخری گفتگو تھی

شہرزاد تم پہیلیوں میں باتیں کیوں کر رہی ہو صاف صاف کہو جو کہنا چاہتی ہو

am I not capable of loving someone

مجھ میں کسی قسم کی کوئی نفسیاتی کمزوری ہے جس کی وجہ سے میں لوگوں سے

relate

نہیں کر سکتا

خدا نہ کرے ایسا تو نہیں کہا میں نے میرا کہنے کا مطلب صرف اتنا تھا کہ تم عام لڑکوں کی طرح

casual affairs

کرنے والے غیر سنمیدہ اور دل پھینک قسم کے نہیں ہو ۔ خیر چھوڑو اس غیر ضروری بحث کو ویسے ہم لوگ بات کیا کر

رہے تھے تمہاری بیجا مداخلت سے ہملوگ ہمیشہ اپنے اصل موضوع سے ہٹ جاتے ہیں

تم مجھ سے کچھ پوچھنا چاہ رہی تھیں اور تمہارا خیال تھا کہ میں تم سے حقیقت کو چھپانے کی ناکام کوشش کرونگا

ایسا کیوں میرا مطلب ہے ناکام کیوں

اس لئیے کہ تم جانتی ہو ہم دونوں

telepathically connected

ہیں اس لئیے اگر میں جھوٹ بولونگا تو پکڑا جاؤنگا

لیکن میں تو کبھی بھی تم سے سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہتا

ہاں یہ بھی سچ ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ تم دنیاکے سست ترین آدمی ہو تمہیں کوئی کام کرنا نہیں آتا سواۓ باتیں بنانے

کے قصے کہانیاں کرنے کے اور اور مجھے یاد نہیں میں کیا کہنے والی تھی ۔ ارے ہاں تمہیں پتہ ہے میں تم سے اتنی محبت

کیوں کرتی ہوں

نہیں تو میں تو خود نہیں جانتا کہ تم مجھے اتنی اچھی کیوں لگتی ہو

اچھا تو مجھے سہارا دیکر ڈائننگ روم تک لے جا وہاں ڈنر ٹیبل پر بیٹھ کر دونوں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں کہ

آخر ہم دونوں ایک دوسرے سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں

Kapeesh

کپیش ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 110

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

A midnight feast

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

اے کھانا تیری پسند کا نہیں تھا کیا

میں نے کب کہا کہ کھانا میری پسند کا نہیں

تو پھر اتنا کم کیوں کھایا

اپنے پیٹ کی چوڑائی کے حساب سے کھاتا ہوں تیری زبان کی لمبائی کے حساب سے نہیں

جیدی

that’s very rude

تجھ سے زیادہ تو میرا طوطا کھا لیتا ہے

اچھا تونے طوطے بھی پالے ہوۓ ہیں میں نے تو آج تک اس گھر میں پنجرہ نما کوئی چیز نہیں دیکھی

فکر نہ کر میں کر رہی ہی پنجرے کا انتظام اس کے لئیے مجھ سے بچ کر کہاں جاۓ گا

یہ تو طوطے کی بات ہی کر رہی ہے نا میرا مطلب ہے اڑنے والا پھڑ پھڑانے والا پنچھی

اب تو طو کہہ یا طا رہے گا تو میرا طوطا ہی نیلگوں آسمان میں بھی اڑنا چاہے گا تو میں تیرے سنگ ہونگی

اچھا بچو میں تو چلی اپنے کمرے میں اور دیکھو آپس میں زرا صلح صفائی سے رہنا اور وقت پر سو جانا

جی خالہ جان شب بخیر بس میں بھی اب اٹھنے کی تیاری کر رہا ہوں مجھے کل زرا جلدی یونیورسٹی پہنچنا ہے

ارے بیٹھ ادھر خالہ جان کے چہیتے چلی گئیں وہ سونے کے لئیے اپنے کمرے میں تو کدھر بھاگ رہا ہے

بھاگ نہیں رہا اوپر جا رہا ہوں اپنے کمرے میں مجھے بھی سونے کی تیاری کرنی ہے

اچھا تو میں تجھے ہاسٹل سے اس لئیے اٹھا کر لائی ہوں کہ تو آرام سے سو جاۓ اور میں تیرے ساتھ والے کمرے میں لیٹ

کر آدھی رات تک کروٹیں بدلتی رہوں

کس نے کہا تجھے رت جگا کرنے کے لئیے تو بھی جا کر سو جا تیری طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی تجھے تو آرام کی زیادہ

ضرورت ہے

مجھے کیا ضرورت ہے اور کیا نہیں ہے تو اس کی زیادہ فکر مت کر میں چاۓ کا تھرمس بھر کر اوپر لا رہی ہوں اور ساتھ تیرے

کھانے کے لئیے کوئی بسکٹ بھی رات کو اگر کسی وقت بھوک لگی تو we are going to have a midnight feast

اور کچھ کچن سے چاہئیے تو ابھی بول دے میں آدھی رات کو اٹھ کر تیرےلئیے نیچے نہیں آنے والی

اسکا مطلب ہے تو نہ خود سوۓ گی اور نہ ہی مجھے سونے دیگی مجھے پتہ تھا تو یہی کرنے والی ہے پتہ نہیں کیوں میں ہمیشہ تیری

باتوں کے چکر میں آ جاتا ہوں

you have a devious mind

ارے اب تو میں تیری منگیتر بھی ہوں تیرا دل نہیں کرتا مجھ سے باتیں کرنے کو تیری عمر کے لڑکے تو اس طرح کے

موقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور ایک تو ہے کہ تیرے مزاج ہی نہیں ملتے میں سوچ رہی تھی کہ دونوں مل بیٹھ کر شادی

بیاہ کی بات کریں گے مستقبل کے بارے میں پلاننگ کریں گے اور تجھے سونے کی پڑی ہے آخر تیرا مسلہ کیا ہے میں

تجھے اچھی نہیں لگتی کسی اور کو پسند کرتا ہے خدانخواسطہ بیمار ہے یا پھر کوئی اور بات ہے

شہرزاد

don’t let your imagination run away with you

دیکھ تیرا سارا دن تو مجھے یونیورسٹی سے لانے اور

لے جانے میں گذر جاتا ہے اور پھر اور بھی کئی قسم کے گھر کے کام کاج تجھے کرنے ہوتے ہیں اور اوپر سے تیری بیماری

تو آرام کس وقت کرتی ہے وقت پہ سوۓ گی نہیں تو گھر کی بجاۓ ہسپتال میں پڑی ہوگی

ڈرتا ہے کہ میں تجھے چھوڑ کر چلی جاؤنگی ۔ ہاں چلی جاؤنگی جانا تو ہے مجھے ایک دن لیکن تجھے چھوڑ کر نہیں تیرے ساتھ میرا جسم اور روح دونوں کا سودا ہوا تھا روح تو ہمیشہ تیرے ساتھ رہے گی جسم کو بھی ساتھ رہنے دے نا

I don’t have the

luxury of time

گنے چنے تو دن ہیں میرے پاس تو چاہتا ہے میں وہ بھی نہ جیئوں مانگے تانگے کے چند سانس ہیں وہ بھی

سسک سسک کر گذار دوں کیوں جیدی آخر کیوں میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح ہنسنا چاہتی ہوں کھیلنا چاہتی ہوں اوروں کا تو

مجھے پتہ نہیں لیکن تم تو نہ روکو مجھے اور ویسے بھی تمہارے سوا میرا ہے کون اور تم بھی

you treat me like a pariah

اے

you are over reacting

میں نے ایسا کچھ نہیں کہا

I love you

کیوں کرتی ہو ایسی باتیں جو تمہارے جی میں آۓ کرو میں نے تمہیں روکا نہیں صرف احتیاط برتنے کو کہا ہے تمہارے ڈاکٹرز بھی تو یہی مشورہ دیتے ہیں سنی ان سنی کرو گی تو بستر سے لگ جاؤ گی

ارے گھنٹہ آدھ گھنٹہ میرے ساتھ گذار لو گے تو کونسی قیامت ٹوٹ پڑے گی ساری رات تھوڑی تمہارے گھٹنوں سے لگی بیٹھی

رہوں گی اور بیٹھی بھی رہوں تو کسی کا کیا جاتا ہے میں تمہاری منگیتر ہوں خالی خولی گرل فرینڈ تھوڑی نا ہوں

یہ منگنی کی انگوٹھی تو لگتا ہے میرے ہاتھ کی ہتھکڑی اور پاؤں کی بیڑیاں بن گئی ہے چلئیے صاحب آپ نے ہر حال میں

اپنی من مانی ہی کرنی ہے تو کسی قسم کی بحث بے سود ہو گی میں جا رہا ہوں اوپر آپ چاۓ کا تھرمس وغیرہ وغیرہ لیکر

میرے پیچھے پیچھے آ جائیں اور لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیں کہ میں اپنے کمرے میں آپ کا ا نتظار کروں یا پھر

یا پھر کیا میرے کمرے میں جا کر بیٹھو گے جیدی کیا ہو گیا ہے تجھے تیری عقل کہیں گھاس چرنے تو نہیں چلی گئی

ارے بابا اب کیا کہہ دیا ہے میں نے اپنی نئی نویلی منگیتر کو جو اتنی سیخ پا ہو رہی ہیں

تم نے بات ہی ایسی کہی ہے اچھا لگے گا کیا جو ابھی سے جا کر اپنی ہونے والی دلہن کے بیڈ روم میں ڈیرے ڈال کر

بیٹھ جاؤ گے ۔ آخر لوگ کیا کہیں گے شرم و حیا کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں آخر تو ہی بتا ٹھیک کہہ رہی ہوں نا میں

اوہ خدایا پاکا “ دا ښځه لیونۍ ده “

اوۓ خان صاحب پشتو میں برا بھلا تو نہیں کہہ رہا مجھے سچ سچ بتا کیا کہا تو نے اچھی بات تو نہیں کہی ہو گی ورنہ اپنے

آباؤاجداد کو یاد کرنے کی کیا ضرورت تھی گجھے

آپ بھی ٹھیک کہتی ہیں اور میں نے بھی کوئی ایسا غلط نہیں کہا صرف یہی کہا کہ کس پاگل عورت سے واسطہ پڑا ہے

اچھا ابھی واسطہ پڑا کہاں ہے زرا میرے پاس آ کر دیکھ میرے پاگل پن کو ۔ ارے ہاں یاد آیا میں نے بھی نا پشتو

سیکھنی شروع کر دی ہے زیادہ تو نہیں لیکن تجھے دینے کے لئیے ایک دو گالیاں ضرور سیکھ لی ہیں سنے گا

اب تو نے سیکھ لی ہیں تو نکال لے اپنے دل کی بھڑاس چل شروع ہو جا

ٹھہر پہلے مجھے اپنی ڈائری نکال لینے دے خاصی مشکل زبان ہےاس لئیے میں نے لکھ لیا تھا ہاں یہ رہی مائی گاڈ جیدی یہ کیسی

زبان ہے میں اپنا لکھا ہوا نہیں پڑھ سکتی کوشش کرتی ہوں “ زه ستا سره مینه لرم “ ٹھیک پڑھا نا میں نے

جی بالکل ٹھیک اور اگر میں اس گالی کا جواب اسی گالی سے دوں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا میرا کہنے کا مطلب ہے کہ

اگر آپ کوئی اچھی بات کرتیں تو میں بھی جواب میں اس سے کسی بہتر چیز کا انتخاب کرتا لیکن آپ کو تو مجھے گالی دینا تھی سو

دے لی اور اب جواب دینے کی میری باری ہے اور آپ نے جو کہا میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہونگا کیونکہ آپ نے سب

کچھ تو کہہ دیا اور مجھے بھی آپ کو یہی کہنا ہے کہ مجھے آپ سے محبت ہے

اے یہ کیا بات ہوئی تمہیں کوئی گالی دے تو تم اس کا گریبان پکڑنے کی بجاۓ اس سے اظہار محبت کرتے ہو

نہیں لیکن آپ نے مجھے گالی تو دی نہیں جو پشتو کے الفاظ آپ کے اس خوبصورت مونہہ سے نکلے تھے ان کا مطلب آسان

اردو میں تو یہی ہے کہ آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں اس لئیے میں نے یہ کہہ کر کہ میں بھی آپ سے بہت پیار کرتا ہوں

اقرار وفا کر لیا کہیں تو ایک دفعہ پھر کہہ دوں

کہہ دو میں نے پہلی دفعہ سنا نہیں تھا

کیا ۔ شہرزاد

you are so crafty

تمہیں پتہ تھا تم کیا کہہ رہی ہو اور ایسے معصوم بن رہی تھیں جیسے کچھ خبر ہی نہ ہو

ہاہاہا بڑے اپنے آپ کو بقراط سقرات سمجھتے ہو نا ایک سیدھی سادھی لڑکی نے تمہیں الو بنا دیا

جی ہاں بالکل جلیبی کی طرح سیدھی جھوٹی مکار زمانے کی

ارے اوپر تو چل کیا ساری باتیں یہیں کھڑے کھڑے کر لیگا ابھی تو ساری رات پڑی ہے

شیطان کی خالہ مجھے تیری نیت میں تھوڑا فتور سا لگتا ہے اس لئیے میں خالہ جان کے کمرے میں جاکر زمین پر کچھ بچھا کر سو

جاؤنگا لیکن تیرے ساتھ اوپر نہیں جانا مجھے ایک انگوٹھی سے تیرا یہ حال ہے تو اپنی ساس کے کنگن پہننے کے بعد کیا ہو گا

اوپر کمرے میں چل پھر بتاتی ہوں کیا ہو گا وہ سنا نہیں تو نے “ وہی ہو گا جومنظور خدا ہو گا “

۔۔۔۔ جل تو جلال تو ۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 111

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

فرنچ کس

بے شرم

ایک ایک سیڑھی چڑھتا جا اور بے شرم کی تسبیح پڑھتا جا

ہونہہ

a wasted exercise

کیونکہ تجھ پہ کوئی اثر ہونے والا تو ہے نہیں پتہ نہیں کس مٹی کی بنی ہوئی ہے تو

چکنی مٹی کی جو بوند بھی شرم کی پڑتی ہے پھسل جاتی ہے اور کچھ اور تو تو بڑا پارسا بنا پھرتا ہے نا پھر پرائی لڑکیوں کیساتھ کیوں سارا سارا دن اور کبھی کبھار تو رات کو بھی گل چھرے اڑا رہا ہوتا ہے اس وقت تیری شرافت کیوں مونہہ لپیٹ کر سو جاتی ہے

اے جھوٹ کیوں بول رہی ہو سواۓ تیرے میں کسی کیساتھ نہیں پھرتا اور تو میری منگیتر ہے

اچھا انگوٹھی تو ابھی آدھ گھنٹہ پہلے پہنائی ہے وہ بھی زبردستی اور اس سے تین ماہ پہلے کیا ریہرسل کر رہا تھا یا میں نے تجھے

فری انٹری کا پاس دیا ہوا تھا جیدی تو بھی نا آج کل کے مفتیوں مولانوں کی طرح ہو گیا ہے وہ بھی کتاب اور سنت

سے نہیں بلکہ اپنی پسند نا پسند کو دیکھتے ہوۓ چیزوں کو حرام حلال کرتے رہتے ہیں

شائد ٹھیک کہتی ہے تو اوپر آ پھر بات کرتے ہیں

جیدی کس کمرے میں بیٹھا ہے تو

تیرے منگیتر کے کمرے میں اور کہیں تو ویسے بھی نہیں جا سکتا تو کہہ رہی تھی میرے کمرے میں نہ جانا کیونکہ تیرے منگیتر کو

اچھا نہیں لگتا کہ کوئی اس کی منگیتر کی خواب گاہ میں جاۓ

ہاہاہا بڑے مزے لے لیکر منگیتر منگیتر کی رٹ لگا رہا ہے ایک بات تو بتا تیری منگیتر کے منگیتر کیساتھ بھلا میرا کیا رشتہ بنا

میں کیا جانوں لیکن تو فکر نہ کر میں اپنی منگیتر کے منگیتر سے پوچھ کر تجھے بتا دونگا

چاۓ ابھی پیئے گا یا تھوڑی دیر میں

شہرزاد تجھے پتہ ہے میں چاۓ زیادہ نہیں پیتا اور خاص کر رات کے وقت تو بالکل نہیں کیونکہ مجھے پھر نیند نہیں آتی

پھر تو میں تمہیں زبردستی پلاؤں گی کیونکہ مجھے تیرے ساتھ بہت ساری باتیں کرنی ہیں اور یہ کتابوں کا پارسل تیرے بستر

کے اوپر کیوں پڑا ہوا ہے جیدی تو اتنا disorganised کیوں ہے your things are all over the place چھوٹے

بچے ہو کیا تمہاری کتابوں کے لئیے میں نے سپیشل شیلف بنواۓ تھے لیکن تیری آدھی کتابیں قالین کے اوپر اور باقی

کمرےمیں چاروں طرف بکھری پڑی ہوتی ہیں تجھے یونیورسٹی چھوڑ کر واپس آتی ہوں تو آدھا دن تیرے کمرے میں تیری چیزیں

کو انکی کی اپنی اپنی جگہوں پر رکھنے میں گذر جاتا ہے تیرے جیسا غیر زمہ دار آدمی میں نے آج تک نہیں دیکھا

اور دیکھے بھی نہیں

کیا مطلب ہے تیرا دیکھے گی بھی نہیں اپنے آپ کو

Casanova

سمجھتے ہو کیا

نہیں کاسانووا تو نہیں لیکن تو خود ہی تو کہتی رہتی ہے “ جیدی میری تلاش تجھی سے شروع ہوئی تھی اور تجھی پر ختم ہو گئی “

اچھا اچھا رہنے دے تجھے خوش کرنےکے لئیے کہہ دیا ہو گا اپنی بیماری سے زیادہ تو مجھے تیری فکر کھاۓ جاتی ہے کہ میرے جانے

کے بعد تیرا کون خیال رکھے گا

my god Jedi the kind of things I do for you

تیرے ہاتھوں کے ناخن تک تو

میں کاٹتی ہوں اور تو کیا کرتا ہے سواۓ سارا دن گئے دنوں کے قصہ خوانوں کی طرح لڑکوں کی چوپال لگا کر بیٹھا انھیں اپنے

جھوٹے سچے افسانے سناتا رہتا ہے اور رات گئے تک ہاسٹل میں

scrabble

کھیلتا رہتا ہے

ارے تم بھی عجیب لڑکی ہو خود ہی کہتی ہو جیدی مجھے تیرے کام کرنے سے بڑا سکون ملتا ہے دن کے وقت مجھ پر صدقے

واری اور رات کو چاقو چھری قینچی کٹاری اور تیرا یہ ڈائیلاگ میں پہلے بھی ہزار بار سن چکا ہوں تیری ساسو ماں سے وہ

ہمیشہ مجھے کہتی تھیں بلکہ اب بھی کہتی ہیں “ خدا جانے میرے جانے کے بعد اس لڑکے کا کیا بنے گا ابھی تک میں نوالا چباکر

اس کے مونہہ میں ڈالتی ہوں “ اور دیکھ خدا کی شان امی اللہ سبحان و تعالہ ان کو صحت اور لمبی عمر عطا فرماۓ وہ بھی

میرے ہاس ہیں اور تو بھی مل گئی اور نوالے بنا بنا کر تو تو بھی کھلاتی ہے مجھے چبا میں خود لیتا ہوں دیکھا الللہ میاں

سبب الاسباب ہے کوئی نہ کوئی وسیلہ بن ہی جاتا ہے اور بہت بہت شکریہ میرے سب کام کرنے کا

اچھا اب بہت مسکہ لگانے کی ضرورت نہیں “ محبت کے رشتوں میں گنجائش نہیں ہوتی شکریہ کی “

ارے واہ آج تو آپ نے

Love Story

کے مشہور زمانہ ڈائیلاگ کا بڑی سلیس اردو میں ترجمہ کر دیا

Cheers

اے طوطے تیری باتوں میں اتنی مٹھاس کیوں ہوتی ہے

تیرے پیار کی چوریاں جو ہر وقت کھاتا رہتا ہوں

اچھا چوری سے بہتر چیز کھاۓ گا ساری زندگی میٹھی ہو جاۓ گی تیری کونسی چیز

ادھر آ زرا میرے قریب کان میں بتانے والی ہے اور ڈر مت میں کان خور نہیں ہوں جو تیرے ہاتھ پاؤں پھولے جا رہے ہیں

شہرزاد تیرا ماضی قریب کا کان میں بتانے والی چیزوں کا ریکارڈ کچھ زیادہ شریفانہ تو نہیں لیکن اب چونکہ تو میری

منسوبہ بھی ہے اس لئیے تھوڑا بہت خطرہ مول لینے میں کوئی حرج نہیں چل بول اب میرے کان میں جو بھی کچھ تجھے

کہنا ہے ویسے سرگوشیاں کرنے کی ایسی ضرورت بھی کیا ہے ہم دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا تو یہاں ہے نہیں

ہاں ہاں میں جانتی ہوں لیکن مجھے نا کسی وقت اپنی ہی مونہہ سے نکلی ہوئی باتوں سے شرم آتی ہے اس لئے تیرے کان میں

کہنا چاہتی ہوں اب زیادہ باتیں نہ کر اور سن دھیان سے

کیا کیا کہا تو نے بے شرم زمانے بھر کی انتظار نہیں کر سکتی شادی تک

ارے ایک چھوٹے سے ۔۔۔۔۔

French K

کا ہی تو کہا ہے چل ایسے کر ایک رین چیک لکھوا لے مجھ سے شادی کے

بعد کیش کروا لینا ویسے آپس کی بات ہے تو اب تک جتنے

Rain Cheques

مجھ سے لکھوا چکا ہے نا ان کو کیش کروانے

کی پریکٹس ابھی سے شروع کر دے شادی کے بعد تیرے پاس وقت نہیں ہو گا سمجھ رہا ہے نا میں کیا کہہ رہی ہوں

مجھے تیری باتیں نہیں سمجھنی تو جلدی سے رین چیک لکھ کر اپنے پیار سے دستخط کر دے

سچ کر دوں اپنے پیار سے تیرے

Blank sorry Rain cheques

پر دستخط اور کہاں کہاں کروں

کیا کہاں کہاں کروں

دستخط تو نے خود ہی تو کہا ہے اپنے پیار سے بھرے دستخط کر دے یہاں کر دوں تیرے ناک سے نیچے والی ہلکی گلابی

سی جگہہ پر یا پھر کہیں اور کہیں اور کہیں اور ۔۔۔۔۔

بے شرم

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 112

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

سرخ جوڑا

زرا یہ تو بتا کوئی ایسا بھی ہے جو تمہیں پیار نہ کرتا ہو

آپ یہ بھی تو کہہ سکتی تھیں کہ کوئی ایسا ہے جسے تم پیار نہیں کرتے

او جیدی جیدی جیدی

او سیمی سیمی سیمی

جی جی جی

میں نے تمہیں تمہارے نام کی بجاۓ سیمی کہا

تو پھر بھول گیا ہے میرے راجہ میں تو ہمیشہ تمہاری آواز پر لبیک کہتی آئی ہوں اپنے نام پر نہیں تجھے سیمی اچھا لکتا ہے تو

سیمی ہی سہی تیرے نام سے جڑی ہوئی ہر شے مجھے پیاری ہے لیکن یہ محترمہ ہیں کون کوئی آپ کی X flame ہیں یا

کوئی X Y Z نہیں میری زندگی میں نہ تم سے پہلے کبھی کوئی تھی اور نہ ہی کبھی ہوگی

تو پھر کون ہے یہ جیدی میں تیری رگ رگ سے واقف ہوں تو ہر چیز کو ماپ اور تول کر کرتا اور کہتا ہے دیکھ جھوٹ مت

بول مجھ سے خود ہی بتا دے ورنہ تو جانتا ہے نا ہم دونوں

connected

ہیں ایک دوسرے کے خیالات تک پڑھ لیتے ہیں

ارے بابا کیوں ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئی ہے ایسے ہی بے خیالی میں ایک نام میرے مونہہ سے نکل گیا اور آپ نے تو مجھ

پر پولیس کی تھرڈ ڈگری شروع کر دی میرے کپڑوں سے پرفیوم کی خوشبو تو نہیں آ رہی یا میری قمیض کے کالر پر کوئی

لپ اسٹک کے رنگ برنگے دھبے تو نہیں لگے ہوۓ

اچھا میں تو تیرے ادھر ادھر کے کپڑے بھی چیک کروں گی کہیں جلدی میں الٹے تو نہیں پہنے ہوۓ اور ایسے کیوں دیکھ رہے

ہو میری طرف آدھی سے زیادہ تو تیری گھر والی میں ہوں ہی لو اور سنو درد سہیں بی فاختہ اور انڈےکوے کھائیں پچھلے تین ماہ

سے تیری ہر ضرورت کا خیال میں رکھ رہی ہوں تیرا کپڑا لتا تیرا کھانا پینا تجھے یونیورسٹی لانالے جانا اور تو اور تیرے ہاتھوں

اور پیروں کے ناخن تک تو کاٹتی ہوں میں اور تو بیٹھا دوسری لڑکیوں کے خواب دیکھتا رہتا ہے دیکھ جیدی تجھے تو میں کچھ

کہہ نہیں سکتی کیونکہ تو میرا وہ طوطا ہے جس میں میری جان ہے لیکن تیرے ارد گرد میں نے کسی لڑکی کی پرچھائیں بھی دیکھی

تو میں اس کا جغرافیہ پوچھنے سے پہلے اسے تاریخ کا ایک حصہ بنا دونگی

kapeesh

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ تو میرا سب سے حسین خواب ہے یا میرا بد ترین

nightmare

ایک دفعہ تو ریل کی پٹڑی سے نیچے اتر جاۓ تو پھر تجھے واپس ٹریک پر لانا جوۓ شیر سے کم نہیں کتنی دفعہ تجھے کہہ چکا ہوں میں اس نام کی کسی لڑکی تو کیا کسی پرندے سے بھی واقف نہیں

کیا کہا تو نے پھر لڑکی کی بات کی مجھے پتہ ہے لڑکے

campus slang

میں لڑکیوں کو

birds

کہتے ہیں انگلش میڈیم کی پڑھی ہوئی ہوں تم لڑکوں کے سب لچھنوں سے واقف ہوں میں شادی کے دو یا چار جتنے بول بھی ہوتے ہیں مجھے پتہ نہیں

ان سے پہلے پہلے اپنے چال چلن اور طور طریقے سدھار لے ورنہ ۔۔۔۔۔ اور یہ تو نے اپنے کانوں پر ہاتھ کیوں رکھ لئیے

ہیں اب تجھے میری آواز بھی بری لگنے لگی ہے اور یہ بڑبڑا کیا رہا ہے مونہہ ہی مونہہ میں

میری ایسی ہمت کہاں میں تو ایک پرانا گیت گنگنا رہا تھا

کیسا گیت زرا میں بھی تو سنوں

ایسا خاص تو نہیں کہتی ہو توبتمہیں بھی سنا دیتا ہوں گا کر سناؤں یا

جیدی

غصے کیوں ہوتی ہو لو سن لو “ مجھے میری ہونے والی بیوی سے بچاؤ “

اے دھیان سے سن ایک ہی بار کہوں گی

I am the only girl you are ever

going to share your pillow with

ورنہ تیری اور اپنی جان ایک کر دونگی ویسے تو ہم دونوں کی جان اور روح ایک ہی ہے لیکن وہ دوسرے معنوں میں ہے

سن لیا ملکہ عالیہ اور اب وہ چاۓ کا ایک پیالہ مجھے بناکر دے ہی دیں بلکہ پورا تھرمس ہی میرے حلق میں انڈیل دیں

ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ رات کو چاۓ پینے سے تجھے نیند نہیں آتی

جی وہ تب کہا تھا جب ماشل لا نہیں لگا تھا اب نہیں

تب جب اب کوئی اردو ڈکشنری لکھ رہے ہو کیا

نہیں لکھ تو کچھ نہیں رہا اور لکھ بھی کیسے سکتا ہوں تم میرے حواس پر اس طرح سوار ہو کہ مجھے کچھ سوجھتاہی نہیں جب بھی کوئی تخلیقی کام کرنا چاہتا ہوں ایک حسن کی دیوی اپنی پوری جلوہ آفرینیوں کیساتھ میرے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور

کہتی ہے لکھ لکھتا رہ جب تک کہ تیرا قلم ٹوٹ نہیں جاتا لیکن صرف میرے بارے میں لکھ دنیا اور اس سے ماورا کے متعلق

ہی لکھے گا نا تو تیری دنیا بھی میں ہوں اور ماورا بھی شہرزاد تیرے جسم کا کوئی ایسا حصہ نہیں جس پر میں نے وادیوں کی وادیاں

قطع نہ کی ہوں میرا بیگ نکال کر دیکھ اس میں جتنی بھی ڈائریاں ہیں تیرے ہی نام سے شروع ہوتی ہیں اور تیرے ہی نام پر ختم

ہوتی ہیں

جیدی پچھلی تین مہینے سے ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ شمع اور پروانے کی طرح رہ رہے ہیں میں ساری رات تیری قربت کے لئیے جلتی رہتی ہوں اور تو مجھے حاصل کرنے کی جستجو میں اپنے آپ کو قربان کرتا رہتا ہے کب تک ہم دونوں

یہ ابدیت اور فنا کا کھیل کھیلتے رہیں گے آخر کب تک ختم کر نا اس دوری کو اپنا کیوں نہیں لیتا تو مجھے آخر

میں ساری ساری

رات بستر پر کروٹین بدلتی رہتی ہوں تھک جاتی ہوں تو کمرے سے باہر نکل کر ایک بے چین روح کی طرح کوریڈار میں پھرتی

رہتی ہوں بستر پر لیٹی ہوتی ہوں تو ٹک لگا کر تیرے دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہوں کہ شائد تو بھی میرے لئیے اتناہی

بے چین اور بے قرار ہو اور آکر مجھے اپنی بانہوں کے حصار میں لے ۔۔۔۔۔ جیدی تجھے پتہ ہے نا میں تجھ سے کتنا پیار

کرتی ہوں اور تو بھی تو کرتا ہے شائد مجھ سے بھی زیادہ تو پھر ہم دونوں کیوں اپنی اپنی جگہہ تڑپ رہے ہیں میں نے ہی

تجھے سے کہا تھا تیرے فائنلزکے امتحانات کے بعد ہم شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے لیکن مجھ میں اب اتنی سکت

نہیں رہی میرا جسم دن بدن لاغر ہوتا جا رہا ہے میں اپنی رہی سہی زندگی کا ہر پل ہر لمحہ تیرے ساتھ گذارنا چاہتی ہوں پلیز

جیدی پلیز بس کر اب اس سے پہلے کہ میری سانسیں رک جائیں میری روح اور میرا جسم ہمیشہ کے لئیے ایک دوسرے کو

الوداع کہہ دیں میں تیری دلہن بننا چاہتی ہوں مجھے بھی سرخ جوڑا پہننا ہے مجھےبھی اپنی سہاگ رات منانی ہے

مجھے بھی مجھے بھی مجھے بھی ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 113

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

دو بول پیار کے

جیدی یہ تصویر کتنے سال پرانی ہے

کونسی تصویر

یہ جو تمہارے آئڈینٹٹی کارڈ پر لکی ہوئی ہے

گذرے دنوں کی یاد گار ہے

ہاں ہاں یہ تصویر گئے دنوں کی ہو سکتی ہے لیکن تم تو نہیں تم میرا گذرا ہوا کل بھی تھے آج تو ہو ہی اور آنے والا کل بھی

میں تو جب بھی ہمارے بارے میں سوچتی ہوں تو کل آج اور کل نہیں سوچتی کیونکہ میں جب سے تمہارے ساتھ ہوں

وقت تو جیسے تھم سا گیا ہے

تم باتیں بڑی اچھی کرتی ہو

اچھا اس لئے کہ اس وقت میرے مونہہ میں تمہارے زبان ہے ہاہاہا

یہ اچانک ہنسی کا دورہ کیوں پڑگیا آپ جناب پر

کونسی دنیا میں رہتے ہیں آپ میاں مجنوں آپ نے شائد یا تو سنا نہیں کہ میں نے ابھی ابھی کیا کہا یا پھر اس پر غور

نہیں کیا ورنہ آپ مجھ سے یہ سوال کبھی نہ کرتے

شہرزاد تیری یہ پیاری پیاری سی باتیں بعض اوقات بالکل میری سمجھ سے بالاتر ہوتی ہیں

ارے بدھو نمبر ون سوچ زرا تم نے جب مجھ سے کہا کہ میں باتیں بڑی اچھی کرتی ہوں تو میں نے کیا جواب دیا تمہیں

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تم نے کہا کیونکہ اس وقت میرے مونہہ میں تمہاری ۔۔۔۔۔ چھی چھی چھی گندی ہر وقت

اسی طرح کی باتیں سوچتی رہتی ہو کیا

کیوں کیا خرابی ہے اس طرح کی باتیں سوچنے میں اور پھر یہ میری سوچ ہے تمہیں کیا پرابلم ہے اس سے اور میں اپنے

منگیتر جو میرا ہونے والا شوہر بھی ہے اسی کے بارے میں تو سوچتی ہوں تم کیا شہر کے قاضی ہوجو لوگوں کی سوچوں

پر بھی پابندی عائد کر دو گے بڑا آیا

platonic lover

میرا جو جی میں آۓ گا سوچوں گی اور کروں گی بھی

ہاں ہاں ٹھیک ہے جو تمہارے جی میں آۓ کرو لیکن میری زبان تو نکالو اپ مونہہ سے ہاہاہا

اب تمہیں کیا ہوا اور یہ بے وقت اور بےموقعہ کا قہقہہ

کچھ نہیں ایسے ہی ہاہاہا

جیدی میں کچھ اٹھا کر دے ماروں گی تمہارے سرپر بول کیا بات ہے اور یہ تمہاری بتیسی کیوں نکل رہی ہے

مجھے لگتا ہے دن رات تمہارے ساتھ رہنے کی وجہ سے میں بھی اب تمہاری ہی طرح سوچنے لگا ہوں

اچھا میں بھی سنوں تمہاری وہ سوچ جو میری سوچ سے ملتی جلتی ہے

ارے کچھ نہیں ایسے ہی ایک اڑتا ہوا آوارا سا خیال تھا تم سن کر کیا کروگی

جے ے ے ے دی موت کے ساۓ تیرے سر پر منڈلا رہے ہیں کہے دیتی ہوں میں تجھے

ارے بابا تم کہہ رہی تھی نا کہ میری زبان تمہارے مونہہ میں

ہاں ہاں بولو بولو اب رک کیوں گئے

میرا مطلب ہے پتہ نہیں کیا مطلب ہے میرا ارے چھوڑ نا اس قصے کو

بات پوری کر جلدی سے ورنہ ابھی مسجد سے کسی سوۓ ہوئےخطیب کو اٹھا لاؤں گی تا کہ ہمارا نکاح پڑھا دے اور اس

کے بعد ہاہا جانتا ہے نا اس کے بعد کیا ہو گا

ارے دہمکی کیوں دے رہی ہو ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اگر میری بجاۓ تیری زبان میرے مونہہ میں ہوتی تو تو تو

عجیب گھن چکر قسم کے آدمی ہو تم بھی اتنی سی بات کہنےکے لئیے گھنٹہ لگا دیا اور یہ تو تو تو تو کیا کر رہا تھا تتلا ہے کیا

اور کیا خرابی ہے میری زبان میں

خرابی تو کوئی نہیں لیکن

لیکن کیا کتنی دفعہ تجھے کہا ہے میرے ساتھ ادھورے جملے مت بولا کر مجھے الجھن سی ہونے لگتی ہے

میرا کہنے کا مطکب تھا کہ یہ ایک ناممکن سی بات ہے ایسا ہو نہیں سکتا

جیدی تو نا مجھے پاگل کر دے گا ارے بابا کیوں نہیں ہو س ک ت ا

لڑائی تو نہیں کرے گی میرے ساتھ اگر میں نے سچ سچ کہا تو

اوہ میرے خدا کس پاگل کے ہتھے چڑھ گئی ہوں میں اور اوپر سے اس

Nutter

سے میں نے منگنی بھی رچا لی ہے

بول جیدی بول پلیز بول دے اب میرے صبر کا اور امتحان مت لے اس کا پیمانہ تو کب کا لبریز ہو چکا ہے

دیکھ شہرزاد لکھ کر دے مجھے تیری باتوں کا مجھے اعتبار نہیں بعد میں مکر جاۓ گی کہ میں نے تو ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا

ٹھیک ہے لکھ دیتی ہوں جہاں بھی تو کہتا ہے اپنے خون سے لکھوں یا تیرے خون سے

you bloody …..

گالی کیوں دے رہی ہو مجھے ارے سیدھی سی تو بات ہے تیری اتنی بڑی گز بھر کی زبان میرے چھوٹے سے پیارے

سے مونہہ میں کیسے آۓ گی ہے نا نا ممکن سی بات ٹھیک کہا نا میں نے اور یہ مجھے ایسے کیوں گھور رہی ہے جیسے

کوئی جنگلی بلی معصوم سے کبوتر پرجھپٹنے سے پہلے دیکھتی ہے

جیدی کے بچے تجھے ماروں گی تو چوٹ مجھے لگے گی اس لئیے بھاگ یہاں سے لیکن جاتے جاتے میری زبان لیتا جا

تھوڑے دن اپنے پاس رکھ تیرے مونہہ کا مزا بھی نہ بدل گیا تو نام بدل دینا میرا

گندی

تجھے اچھی نہیں لگتی میری باتیں

لگتی ہیں

تو پھر

تو پھر کیا

تو کیوں نہیں کرتا اس طرح کی باتیں

دو بول پڑھوا لے پھر کرونگا جی بھر کے

تو ہی پڑھ دے نا دو بول ۔۔۔۔۔ پیار کے

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 114

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

A midnight feast

جیدی تو کہتا تھا نا کہ رات کے وقت چاۓ پینے سے تجھے نیند نہیں آتی

کہتا تھا نہیں اب بھی یہی کہتا ہوں کیوں

کیوں کچھ نہیں چاۓ ٹھیک نہیں تو رات کو دودھ پی لیا کر صحت کے لئیے بھی اچھا ہے اور نیند بھی بھر پور آتی ہے

ادھر آ کر بیٹھ جا کرسی کے اوپر میں نیچے کچن میں سے تیرے لئیے دودھ گرم کر کے لاتی ہوں پی کر میری گود میں سر رکھکر آرام سے سو جانا

بڑا پیار آ رہا ہے مجھ پر آج کیا بات ہے بول جلدی سے کیا چاہتی ہے مجھ سے

کیوں آج سے پہلے تیرے سارے کام پرانی حویلی کی چڑیل کر کے جاتی ہے کیا

شہرزاد ادھر دیکھ میری طرف میری آنکھوں میں اور دوبارا کہہ جو بھی تجھے کہنا ہے تیری رگ رگ سے واقف ہوں میں

اچھا اچھا ٹھیک ہے دودھ نہیں پینا تو نہ پی لیکن ادھر آکر کرسی پر بیٹھنے کی بجاۓ بستر پر لیٹ جا سارے دن کی بھاگ

دوڑ سے تھک گیا ہو گا میں تیرے سر میں مساج کروں گی اور ساتھ میں مزے مزے کی باتیں بھی کریں گے ٹھیک ہے

شہرزاد تو اتنی لمبی تمہید کبھی نہیں باندھتی پلیز

get it over with

میری زندگی کے سارے دئیے ایک ایک کر کے بجھتے جا رہے ہیں دن کی روشنی میں تو ملا نہیں شام کے دھندلکوں میں

تیرا روشن چہرہ نظر آیا اور رات کے ختم ہونے سے پہلے میری زندگی کا چراغ بھی گل ہو جاۓ گا

کیوں کرتی ہے ایسی باتیں کیوں ۔ آ مل کر دعا کریں کہ اس رات کا کبھی سویرا ہی نہ ہو اور تم تو مجھ سے کچھ کہنے والی

تھیں یہ گفتگو کا رخ ایک دم سے کسی اور طرف کیوں موڑ دیا کہو نا جو بھی کہنا ہے

پہلے وعدہ کرو جو میں کہوں گی تم مان لو گے

وعدہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں میں نے آج سے پہلے تیری کوئی بات ٹالی ہے جو اب نہیں مانوں گا بول کیا چاہتی ہے تو

شادی کرنا چاہتی ہے نا تو ٹھیک ہے کل صبح میں امی سے فون پر بات کر کے ان سے اجازت لے لونگا ڈیڈی سے وہ

خود ہی بات کر لیں گی ٖیہی کہنا چاہتی تتھیں نا تم

جیدی کتنے اچھے ہو نا تم دیکھو میری زندگی کا کوئی بھروسہ تو ہے نہیں آج ہوں کل شائد

کہہ تو دیا ہے اب آج کی رات انتظار کر لو اور انشااللہ کل کا سورج غروب ہونے سے پہلے ہم شادے کے بندھن میں

بندھ چکے ہونگے

ارے میں بھی نا ایسی بھلکڑ ہوں کوئی چیز مجھے یاد ہی نہیں رہتی تیری فون والی بات سے یاد آیا آج صبح ہی میری بات

زینب سے ہوئی تھی تمہارے بارے میں بہت پوچھ رہی تھیں کیسا ہے کیا کر رہا ہے پڑھائی کیسی چل رہی ہے اور

تم لوگ شادی کب کر رہے ہو وغیرہ وغیرہ

ارے تو مجھے کیوں نہیں بلایا میں بھی ان سے بات کر لیتا ۔ ٹھیک تو ہیں نا بی بی

تمہیں کیسے بلاتی تم تو اس وقت یونیورسٹی میں تھے ۔ ویسے ٹھیک ہے

ہے نا کچھ عجیب سی بات ہم ایک ایسی عورت کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ وہ ٹھیک ہے جو سارا دن ریلوے

اسٹیشن کی سیڑھیوں پر بیٹھی بھیک مانگ کر گذارا کرتی ہے آندھی ہو یا طوفان گرمی ہو یا سردی دن ہو یا رات اس کے لئیے

چھٹی کا کوئی دن نہیں اور جس دن اس کا کاسہ گدائی آنے جانے والے مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام

رہے تو وہ سارا دن اور ساری رات بھوکی پیاسی کسی کے گھر کے ایک اندھیرے کونے میں پڑی انسانوں اور انسانیت

کا ماتم کرتے کرتے سو جاتی ہے ہاہاہا اور تم کہہ رہی ہو ‘ زینب بی بی ٹھیک ہے ‘

یہ اس طرح ہنس کیوں رہے تھے

کچھ نہیں شائد اپنی بےبسی پر رونے کا یہ بھی ایک انداز ہے

بات پوچھوں ایک اور دیکھ بنا سوچے جواب دینا

بنا سوچے جواب دوں تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا کہیں اور بالفرض اگر میں ایسا کوئی معرکہ سر انجام دے بھی لوں تو وہ کس قسم

کا جواب ہو گا میں کوئی بھیڑ بکری تو ہوں نہیں کہ بنا سوچے سمجھے سر ہلا دونگا لیکن یہ تو ہوئی منطق کی بات جو تیری عقل

اور دانش سے ماروا ہے اس لئیے

fire away

پوچھ جو کچھ پوچھنا ہے تجھے

زینب تجھے کیسے لگتی ہے

جیسے تو لگتی ہے ۔ ایک عورت کیوں تو کیوں پوچھ رہی ہے میرا مطلب ہے یہ کس قسم کا سوال ہے

رک رک زرا ۔ تو نے کہا زینب تجھے میرے جیسی لگتی ہے ۔لیکن مجھ سے تو تو محبت کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ

کیا اناپ شناپ بولتی رہتی ہو جو مونہہ میں آیا سو کہہ دیا اور بنا پوچھے اور جانے لفظوں کے مطلب مت نکالا کرو

ہاں ہاں عقل و دانش کی بانٹ تو اللہ میاں نے تیرے سے ہی شروع کی تھی اور تمھی پر ختم کر دی لیکن میں نے جو سوال

تم سے پوچھا ہے اس کا ٹھیک ٹھیک جواب دے اور سن تو بخوبی جانتا ہے کہ میں تجھ سے کیا پوچھ رہی ہوں اس لئیے

اپنی کسی منطق اور فلسفے کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش بھی مت کرنا

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ یا اس سے ملتا جلتا سوال ایک دفعہ تو پہلے بھی مجھ سے کر چکی ہے اور شک کا کانٹا ایک دفعہ انسان کے دل میں چب جاۓ تو وہ اس وقت تک نہیں نکلتا جب تک کہ اس کی جان نہ لےلے اس میں کوئی شک نہیں

کہ میں بی بی کو بہت عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور میرے دل میں ان کے کئیے ایک

soft corner

موجود ہے لیکن وہ اس چیز اور جذبے سے بالکل مختلف ہے جو میں تیرے لئیے رکھتا اور محسوس کرتا ہوں

دیکھ جیدی وہ بھکارن ہو یا بادشاہزادی میں تجھے کسی کیساتھ بانٹ نہیں سکتی میں جب تک زندہ ہوں تو سوۓ گا بھی میری

بانہوں میں اور جاگے گا بھی میرے بازؤں کے حصار میں جب چلی جاؤنگی تو جو تیرے جی میں کرتے رہنا اور ایک اور

بات بھی سن لے میں ایک عورت ہوں اور کوئی دوسری عورت اس کے مرد کے بارے کیا سوچتی اور اسے کس نگاہ سے

دیکھتی ہے تجھ سے زیادہ جانتی ہوں اور تو جو مرضی کہتا رہ لیکن زینب تجھے صرف ایک مرد کے روپ میں دیکھتی بھی ہے اور

تجھ سے محبت بھی کرتی ہے ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 115

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

چار نمبر کی بس

شہر زاد

جی

ایک بات تو بتا

پوچھیں

واہ اس وقت تو بڑے مودبانہ موڈ میں لگ رہی ہو

جیدی اپنی شامت کو آواز مت دے اور جو کچھ تجھے پوچھنا ہے نا آج کی رات ہی پوچھ لے کون جانے کل ہو یا نہ ہو

کیوں بھئی کل کوئی خاص بات ہونے والی ہے کیا

ارے کیا لال بھجکڑ آدمی ہو کل ہمارا نکاح ہونے والا ہے ابھی سے بھول گئے تمہیں نے تو کہا تھا کہ کل صبح تم

اپنی امی جان سے فون پر بات کر کے ان سے آجازت لے لو گے اور بعد دوپہر ہم شادی کر لیں گے

ایسا کہا تھا میں نے کیا سچ ہی کہتی تھیں تم میری یادداشت کچھ کمزور سی ہوتی جا رہی ہے خیر وہ تو کل کی بات کل جب

آۓ گا تو دیکھ لیں گے ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ تو کیا مجھے کسی غریب مسکین کی گاۓ سمجھتی ہے جس کو توکسی کے

کھونٹے سے بھی باندھ دیتی ہے

کیسی گاۓ کونسا کھونٹا تیرا دماغ تو نہیں چل گیا لگتا ہے رات کافی جا چکی ہے اور تجھے نیند آ رہی ہے خود سوجاۓ گا

یا shall I tuck you in , my little baby

بن تو ایسی رہی ہو جیسے پتہ ہی نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں

ارے کیا پہیلیاں بجھوا رہے ہو صاف صاف کہو کیا کہنا چاہتے ہو

تھوڑی دیر پہلے تم مجھے زینب کے پلو سے باندھ رہی تھیں اور زیادہ عرصہ نہیں گذرا تم یہی بات سورایا کے حوالے

سے بھی کہہ رہی تھیں تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں چودویں صدی کا کوئی یوسف ثانی ٹاٰئپ چیز ہوں جو شہر کی ساری

زلیخائیں مجھ پر مر مٹی ہیں سبھی کا تو مجھے علم نہیں لیکن ایک دو جن کو میں جانتی ہوں وہ تو ضرور تمہارا دم بھرتی ہیں اور ان بیچاریوں کو بھی میں

موردالزام نہیں ٹھہراتی یہ سب تمہارا ہی کیا دھرا ہے

ارے کیا واہی تباہی بولے چلی جا رہی ہو میں نے کیا کیا ہے تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے میں بجاۓ پڑھنے پڑھانے کے

سارا دن لڑکیوں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہوں کتنی دفعہ تو میں کہہ چکا ہوں میرا کسی لڑکی سے کوئی تعلق نہیں اب کیا گیتا یا

بائبل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤں یا مجھے

lie detector test

کرانا پڑیگا

نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں اور میں نے یہ کب کہا کہ تم بھی انھیں اسی طرح پسند کرتے ہو جیسے وہ تمہیں چاہتی

ہیں میں تو صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ

شہرزاد مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ تم آخر کہہ کیا رہی ہو

کچھ نہیں چھوڑ اس قصے کو صرف اتنا بتا کہ کتنا پیار کرتا ہے تو مجھ سے

یہ تو پتہ نہیں لیکن میں جب بھی تجھے دیکھتا ہوں تو ایسے لگتا ہے

کیسےلگتا ہے ۔ اے جیدی بتا نا

ایسے لگتا ہے جیسے چاروں طرف سمندر ہے اوراس کی لہریں خاموشی سے اپنے اوپر پھیلے ہوۓ آکاش کو کہہ رہی ہوں

دیکھ ہم دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں تو برستا ہے تو میری چھاتی تجھے پناہ دیتی ہے میں سورج کی تمازت

برداشت نہیں کر سکتا تو بھاپ کی شکل میں تیری گود میں سما جاتا ہوں اور میں ساحل پر کھڑا ان دونوں نیلگوں گہرائیوں

کو تیری ان بڑی بڑی جھیل جیسی آنکھوں میں ڈوبتے ہوۓ دیکھتا ہوں تو اگر تینوں کی اتھاہ گہرائیوں کو کسی دنیاوی

پیمانے سے ماپ سکتی ہے تو بتا پھر میں تیرے سوال کا جواب دونگا کہ میں تجھ سے کتنا پیار کرتا ہوں

تو جب ایسی باتیں کرتا ہے تو ایک انجانا سا خوف مجھے گھیر لیتا ہے

کیسا خوف

ایسے لگتا ہے جیسے تو کسی اور دنیا سے آیا ہے اور ایک دن اچانک جیسے تو میری زندگی میں آیا تھا ویسے ہی خاموشی سے بن کہے بن بتاۓ واپس اپنی دنیا میں چلا جاۓ گا اور میں پھر سے اکیلی اور تنہا رہ جاؤنگی

پتہ نہیں کہاں کہاں اور کونسی وادیوں میں پھرتی رہتی ہو میں یہاں ہوں تیرے پاس تیرے ساتھ اور تو جہاں بھی جب

بھی کہیں جاۓ گی میں تیری پرچھائیں کی طرح تیرا تعاقب کرتا رہونگا اور کل کے بعد تو

کل کے بعد کیا ہو گا ۔ جیدی تجھے میں نے ہزار بار کہا ہے میرے ساتھ ادھوری بات مت کیا کرو مجھے کچھ ہونے لگتا

ہے ایسے لگتا ہے جیسے میرے ساتھ کوئی انہونی ہونے والی ہے کیوں بھول جاتا ہے ہمیشہ کہ میں ایک جان لیوا مرض

میں مبتلا ہوں اور اور اور

اور کچھ نہیں ۔ کچھ نہیں ہو گا تجھے

ارے جیدی ایک بات تو میں بھول ہی گئی

آپ اور کوئی بات بھول جائیں نا ممکنات میں سے ہے یہ بات

کیوں میں کوئی بات کیوں نہیں بھول سکتی

ہاں بھول سکتی ہیں لیکن صرف وہ بات جو آپ کسی وجہ سے یاد نہ رکھنا چاہتی ہوں

بحث نہیں کرنی مجھے تیرے ساتھ اور نہ ہی تیرا کوئی گھسا پٹا فلسفہ سننا ہے میں تو صرف یہ کہنے جا رہی تھی کہ کل

انشااللہ میری شادی ہونے والی ہے اور میں نے ابھی تک کیا پہننا ہے کیا نہیں پہننا اس کا بھی فیصلہ نہیں کیا

اچھا تو پہلے یہ طے کر لیتے ہیں کہ کل آپ نے کیا نہیں پہننا اور مجھے تو آج بلکہ ابھی ابھی یہ پتہ چلا کہ ایسے بھی کپڑے

ہوتے ہیں جو نہیں پہننے والے ہوتے ہیں ۔ اے شہرزاد اگر وہ پہنے ہی نہیں جاتے تو انھیں بنایا کیوں جاتا

ہے اور اگر وہ غلطی سے بن بھی گئیے تو انھیں خریدتا کون ہے

یہ تو مجھے نہیں پتہ لیکن ایک بات تو پکی ہے میرا اگر ایک بچہ بھی تیرے جیسا ہوا تو میں تمہیں اور اس کو خود

چار نمبر کی بس پر بٹھا کر آؤنگی سنا تم نے

آخر چار نمبر بس ہی کیوں کوئی اور نمبر بس یا کوئی ٹیکسی رکشا وغیرہ وغیرہ سے کام نہیں چل سکتا

اس لئیے کہ صرف چار نمبر بس ہی سیدھی پاگل خانے جاتی ہے ۔ اور اب تو مجھے اپنی زہنی حالت پر بھی کچھ شک

سا ہونے لگا ہے غضب خدا کا پنجاب یونیورسٹی کی سب سے زہین اور حسین لڑکی ایک پاگل کی محبت میں گرفتار ہو

کر اس سے شادی کرنے چلی ہے یہ تو اچھا ہوا مجھے وقت پر ہوش آ گیا ورنہ

ورنہ کیا جلدی بول زرا ۔ ارے بول نا ورنہ کیا

are you having second thoughts

You wish

کیا مطلب

ارے مطلب وطلب کچھ نہیں تیرے ساتھ رہتے رہتے میں بھی کچھ سنکی سی ہوتی جا رہی ہوں بنا کسی مطلب کے بھی

بولتی رہتی ہوں چل اٹھ میرے ساتھ چل جا کر شادی کے لئیے کپڑوں کا انتخاب کریں

پاگل تو نہیں ہو گئیں آدھی رات کو تیرے لئیے کونسی دوکان کھلی ہو گی

ارے بدھو گھر سے باہر نہیں صرف میرے بیڈ روم تک جانا ہے ۔ اپنی شادی کی شاپنگ تو میں نے اسی وقت شروع کر

دی تھی جس دن تو مجھے ملا تھا ۔ مجھے پہلے دن سے علم تھا کہ ہماری شادی اچانک ہو گی اس لئیے میری ساری تیاری تو

کب سے مکمل ہے اور سن اس سے پہلے کہ تو کوئی سوال کرے دولہا کی شیروانی دولہن سے بھی پہلے خریدی گئی تھی

شہر زاد

کیا ہے

بات کہوں تجھ سے ایک

آجازت لیکر کرنے والی ہے کیا

نہیں

تو

ہمارا ایک بھی بچہ اگر تیرے جیسے نہ ہوا تو میں خود اس کو چار نمبر کی بس پر چڑھا کر آؤنگا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 116

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

Whirling Dervishes

ایک تو یہ رات ہی ختم ہونے میں نہیں آ رہی ۔ جیدی تیری گھڑی میں ٹائم کیا ہوا ہے

وہی جو تیری گھڑی میں ہوا ہے کیوں کل کہیں جانا ہے تجھے

ہاں اپنے ہونے والے بچوں کی ماں کی شادی میں شرکت کرنی ہے مجھے سیدھا جواب کیوں نہیں دیتا

اچھا اکیلی جاۓ گی یا مجھے بھی ساتھ چلنا پڑیگا

ارے دونوں کیسے جا سکتے ہیں بچوں کے پاس کون رہے گا اور میں اپنے بچوں کو نوکروں کے حوالے کر کے نہیں

جا سکتی مجھے تو ہر حال میں جانا پڑیگا کیونکہ میرے بغیر یہ شادی کیسے ہو گی

اچھی بات ہے پھر تو مجھے ہی رکنا پڑیگا اور سنو آتے ہوۓ ایک

doggy bag

میں میرے لئیے بریانی وغیرہ لیتی

آنا مجھے ہوٹلوں وغیرہ سے منگوا کر کھانا اچھا نہیں لگتا

یار جیدی سچ بتا تو زیادہ نہیں لیکن تھوڑا سا تو

excited

ہو گا کل سے ہم لوگ ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے

والے ہیں بول نا تجھے کیسا لگ رہا ہے ہاہاہا

اب کیا ہوا یہ اچانک ہنسی کا دورا کیوں پڑ گیا آپ کو

کچھ نہیں ایسے ہی ایک آوارہ سا خیال زہن میں آ گیا تھا

اچھا زحمت گوارا کریں گی ہمیں بتانے کا تا کہ ہم بھی آپ کی خوشیوں میں شریک ہو جائیں ویسے تو اگر یہ کوئی آوارہ

خیال ہے اور آپ کے اپنے زہن کی پیداوار ہے تو اس خیال میں آوارگی کا عنصر تو ضرور ہو گا

بہت زیادہ میری باتوں کا تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں میں تو صرف یہ کہنے جا رہی تھی کہ کل کے بعد وہ جو ہم دونوں

ایک دوسرے کے کان میں باتیں کیا کرتے تھے وہ تو بالکل بند ہو جائیں گی

اچھا ایسے کیوں نہیں کرتیں آج رات ہی مجھے ہر وہ چیز اور بات جو ہم لوگ کل کے بعد کر سکیں گے یا بقول آپ نہیں

کر سکیں گے اسکی پوری لسٹ لکھ کر یا پھر زبانی دے دو

نہیں آج رات تو نہیں ہاں البتہ کل رات کی صبح کو ضرور دے دونگی

شہر زاد تیرے خمیر میں شرم نام کی کوئی چیز گندھی ہوئی ہے کہ نہیں جو مونہہ میں آتا ہے پٹاخ سے کہہ ڈالتی ہو

ارے تم کیوں سیخ پا ہو رہے ہو بھلا ایسا کیا کہہ دیا میں نے

آہاہاہا اب اتنی بھولی بننے کی اداکاری چھوڑو اور یہ تمہاری آنکھیں ہیں نا وہ چغلی کھا رہی ہیں ان باتوں کا جو تم کہہ نہیں رہی

ہو اور کہنا چاہتی ہو

اچھا تو بہت سیانا ہے نا تو تو کہہ دے جو میں کہنا چاہ رہی ہوں

اے میں ایک انتہائی شریف اور سیدھا سادھا آدمی ہوں تیری طرح کی باتیں نہ تو مجھے آتی ہیں اور نہ ہی میں کرونگا

کیوں شریف لوگ کیا شادی نہیں کرتے یا شادی بیاہ کی باتیں نہیں کرتے

نہ تو میں نے کسی قسم کا سنیاس لیا ہوا ہے اور نہ ہی میں کوئی برہمچاری ہوں جس نے ساری عمر شادی نہ کرنے کی

قسم کھائی ہو لیکن میں ہر چیز اور ہر کام اپنے وقت پر کرنے کا قائل ہوں جس سے میرا ضمیر بھی مطمئن رہے اور

میرا رب بھی مجھ سے راضی رہے

یار جیدی تو بھی نا بالکل کھٹی ڈکار کی طرح ہے سارا مزا ہی کرکرا کر دیا تو نے مونہہ کا سواد بھی گیا اور میرا

سارا موڈ بھی چوپٹ کر دیا اتنی مزے مزے کی باتیں کر رہے تھے ہملوگ اور تو نے سارے رنگ میں

بھنگ ڈال دیا ارے تم سے زیادہ رنگین مزاج تو وہ ترکی کے

whirling dervishes

ہیں اللہ کا زکر بھی

ناچتے ہوۓ کرتے ہیں تو تو بالکل مٹی کا مادھو ہے ہاہاہا ہاہا

اب پھر کوئی آوارہ خیال گھومتے پھرتے آپ کے پاس چلا آیا ہے یا پاگل پن کا دورا پڑ نے والا ہے

ارے نہیں

you are going to love me for this

لے تو بھی کیا یاد کریگا مجھے پکا یقین ہے کہ تو اس

چیز کو بالکل بھول چکا ہو گا

اب بتا بھی چکو

the suspense is killing me

جانے کیوں لگتا ہے کہ

I am going to live to regret it

کیونکہ تو کبھی بھی اپنے پسندیدہ موضوع سے بہت دور نہیں جاتی

نہیں تو نہ سہی میں تو تیرے ہی مطلب اور فائدے کی بات بتانے والی تھی لو اور سنو بھلے کا تو آج کل زمانہ

ہی نہیں رہا مجھے کیا ہے میں جا رہی اپنے کمرے میں سونے کے لئیے گڈ نائٹ

شہر زاد تو نے ایک قدم میرے کمرے سے باہر نکالا تو

this wedding is off

تو بنا بتاۓ جاۓ گی تو میں ایک

پل کے لئیے بھی سو نہیں سکوں گا اور یہی سوچتا رہونگا کہ تو مجھے کیا بتانے والی تھی

ہاہاہا اب آیا ہے اونٹ پہاڑ کے نیچے جیدی تیرے سے زیادہ میں تجھے جانتی ہوں ویسے بھی بنا بتاۓ میں تیرے کمرے

سے کہاں جانے والی تھی

ٹھیک ہے ٹھیک ہے اب بول کیا ہے وہ میرے فائدے والی بات

تجھے یاد ہے نا میں جب بھی تجھے کوئی hanky panky بات کرتی ہوں تو تو آگے سے ہمیشہ ایک ہی بات کہتا ہے

اچھا مجھے تو یاد نہیں لیکن کچھ بھی ہو اس بات سے مجھے کیا فائدہ ہونے والا

تو بھی نا ہر چیز مجھ سے سننا چاہتا ہے ارے تو کہتا نہیں ہے

I will take a rain cheque

ہاں کہتا ہوں تو پھر یہ بات کو گھما پھرا کیوں رہی ہے سیدھی طرح کہتی کیوں نہیں جو کہنا چاہتی ہے

پہلے تو مونہہ دوسری طرف کر پھر بتاؤں گی مجھے شرم آتی ہے ایسے کہتے ہوۓ

کیوں ایسی کونسی بات ہے جو تو میرے مونہہ پر نہیں کہہ سکتی اور یہ تمہیں کب سے شرم آنے لگے شرم تو خود تم سے

گھبراتی شرماتی بلکہ مونہہ چھپاتی ہے چل ایسے کر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ اور کہہ ڈال جو بھی کہنا ہے

ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ اپنے سارے

rain cheques

اکٹھے کر لے اور ۔۔۔ اور

ارے گونگے کی ماں آگے تو بول کیا کروں میں ان چیکوں کیساتھ

میرے سر میں مار گدھا کہیں کا ارے کل ہماری شادی کے بعد ان سارے چیکوں کو ایک ہی دفعہ کیش کرا لینا اور کیا

شادی ۔۔۔ چیک ۔۔۔۔کیش کرا لینا ۔۔۔۔۔ کیا کہہ رہی ہے تو اوہ

چوٹی ۔ گندی زمانے بھر کی ٹھہر اب مونہہ چھپا کر بھاگ کہاں رہی ہے

ہاہاہا کل ملونگی لگن منڈپ میں پوجا کے پھولوں کیساتھ اپنے جیدی کے چرنوں میں چڑھانے کے

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 117

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

عجیب باؤلی سی لڑکی ہے خود ہی بات کرتی اور پھر خود ہی شرما کر پلو میں مونہہ چھپا لیتی ہے اکیلی ہی اپنے سپنوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہے مجھے بھی اپنے کھیل میں شریک نہیں کرتی

کرنا تو چاہتی ہوں پر میں جب بھی تیرے سپنوں کی دہلیز پر اپنا قدم رکھتی ہوں تو

ارے کب سے کھڑی ہے میرے دروازے کے باہر بلی کی طرح دبے پاؤں چلتی ہو کیا

اپنے آپ سے کیا باتیں کر رہا تھا

کچھ نہیں تجھے ہی یاد کر رہا تھا پتہ نہیں تیرے جاتے ہی ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کسی لق و دق صحرا میں کھڑا ہوں

زندگی نے ایک ایسے چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جس کی آگے چار سو راہیں کھلتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی راہ میری

منزل کی نشاندہی نہیں کرتی لگتا ہے تجھے پانے سے پہلے ہی کھو دونگا

اے جیدی کیا ہوا تجھے

last minutes wedding jitters

شادی سے پہلے ہی تیرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے ہیں ادھر آ میرے پاس امی ٹھیک ہی

کہتی ہیں تو نا میرے بغیر سچ مچ ‘ راستہ بھولی ہوئی گاۓ ‘ کی طرح ہے

come I will give you a hug

میں ٹھیک ہوں اب تو آ گئی ہے نا بس اتنا ہی کافی ہے اور سن کل ہماری شادی ہونے والی ہے لوگ کہتے ہیں

شادی سے پہلے دولہا دولہن کا ایک دوسرے کو دیکھنا کوئی اچھا شگون نہیں ہوتا اس لئیے کم از کم چند گھنٹوں ہی کے

لئیے پرانی روایات کا تھوڑا سا بھرم رکھ لے اور بھاگ لے یہاں سے تجھے باتیں ہی کرنی ہیں نا تو ہم دونوں کے

بیچ والا جو دروازہ ہے اسے کھول دے اور بے شک ساری رات گپیں مارتی رہنا اور بہتر تو یہ ہے کہ ہم دونوں

تھوڑی سی نیند کرلیں میری تو خیر ہے لیکن دولہن کو

you know , you should look your best

اور اگر

خدانخواستہ تیری طبیعت بگڑ گئی تو

ارے مونہہ نہ بھی ٹھیک ہو تب بھی بات تو اچھی کرنی چاہئیے اللہ میاں سے دعا کر سب کچھ خیر خیریت سے

نپٹ جاۓ تو تو مرد ہے چار چار شادیاں کر سکتا ہے لیکن میری تو ایک ہی شادی ہونی ہے اس لئیے سب کچھ بالکل ٹھیک اور میری مرضی کے مطابق ہونا چاہئے
شہر زاد تو واپس کسی کام سے آئی تھی یا صرف میرا دماغ چاٹنے
اچھا تیرے پاس دماغ نام کی بھی کوئی چیز ہے

that’s news

ارے بابا آئی میں اپنے کسی کام کی وجہ سے تھی تو نے
مجھے اپنی ہی بیکار قسم کی باتوں میں الجھا لیا اور اب مجھے بالکل یاد نہیں کہ میں تیرے جیسے سر پھرے کیساتھ کیوں
مغز ماری کر رہی ہوں اوہ یاد آ گیا چل اٹھ میرے ساتھ میرے کمرے میں چل
مجھے نہیں جانا تیرے کمرے میں
کیوں ۔ کیوں نہیں جانا اوہ تو یہ بات ہے ارے میاں مٹھو میں تجھے وہاں چوری کھلانے کے لئیے نہیں لے جا رہی
ڈرتا کیوں ہے اتنا وہ میرا کمرا ہے کوئی تیرا حجلہ عروسی نہیں جہاں تو شب زفاف گزارنے جا رہا ہے
شہرزاد اتنے بڑے بڑے اور ثقیل قسم کے لفظ کہاں سے پڑھ لئیے تو نے
اپنے ہونے والے شوہر کی پرسنل ڈائری میں سے اور کہاں سے مجھ سے تو ایک لفظ کہنا ہو تو تیری زبان میں لکنت آ
جاتی اور ایسے لگتا ہے جیسے پیدائشی ہکلے ہو اور وہاں ڈائری بھری پڑی ہے جیدی اور شہرزاد کی رنگین داستان
محبت سے اس کی ایک دو لائینیں بھی میں پڑھ کر امی کو سنا دوں جو تیری پارسائی کی ہر وقت قسمیں کھاتی رہتی ہیں
تو اس عمر میں بھی ان کو ٹھنڈے پسینے آ جائیں چور زمانے بھر کا اب بیٹھا شرما کیوں رہا ہے
منع کیا ہے نا میں نے تمہیں کئی بار پرائی پرسنل ڈائری پڑھنا ایک سنگین اخلاقی جرم ہے
وہ تو ٹھیک ہے لیکن تو میرے لئیے پرایا کب سے ہو گیا اور ویسے بھی اس ڈائری میں سواۓ تیرے اور میرے کسی
تیسرے آدمی کا کہیں دور دور تک زکر نہیں اور اب تو نے ڈائری کی بات چھیڑ ہی دی ہے تو ایک بات پوچھوں تجھ سے
کونسی بات اور سن جو کچھ مرضی پوچھ لیکن پلیز

my diary is not open for debate
ہاہاہا کیوں شرم آ رہی ہے کیا چل تو بھی کیا یاد کریگا نہیں پوچھتی لیکن ایک بات ہے تیری ڈائری پڑھ کر وہ ہے نا
امریکن رائٹر کیا بھلا سا نام ہے ہاں

Harold Robbins

اس کی یاد تازہ ہو گئی پڑھی ہے کوئی کتاب اس کی
ہاں ایک دو شائد تین چار یاد نہیں لگتا ہے ساری ہی پڑھیں ہیں
سچ کہہ رہا ہے چل بتا اس کی

best trilogy

اور اگر تو نے ٹھیک ٹھیک بتا دیا تو تجھے مونہہ مانگا انعام بھی ملیگا
دیکھ مکر نہیں جانا اپنے وعدے سے
نہیں مکرتی کبھی نہیں نام بول کتابوں کے تینوں کے نام کسی بھی آرڈر میں ہوں مجھے منظور ہو گا
نمبر ون

The inheritors ,

نمبر دو

The dream merchants

نمبر تین نہیں پہلے انعام کا طے کر لیں
پھر بتاؤں گا تیسری کتاب کا نام
جیدی کے بچے

cheat

مت کر پہلے نام بتا اور طے کیا کرنا ہے تجھے کہا تو تھا مونہہ مانگا انعام اور کیا تجھے
لکھ کر دوں اسٹامپ پیپر پر
نمبر تین

The carpetbaggers

لا دے مجھے اپنا پرس میں اپنا انعام خود ہی نکال لونگا ویسے بھی مجھے کل کے
لئیے کافی پیسوں کی ضرورت ہے
کیوں تو کون سا پوری بارات لیکر آ رہا ہے جو تجھے پیسوں کی ضرورت آن پڑی دن کے وقت کیوں نہیں بولا اس
وقت کونسے بنک کھلے ہونگے تمہارے لئیے اور میں پرس میں لاکھوں کروڑوں روپے لے کر نہیں گھومتی رہتی
اور تو نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ تجھے کتنی اور کیوں بہت بڑی رقم کی ضرورت ہے
تو بھی عجیب لڑکی ہے پہلے کیسے بتا دیتا ابھی شام کے وقت تو ہم نے چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کی بات کی ہے
جیدی میں شادی نہیں پیسوں کے بارے میں سوال کر رہی ہوں کیا کریگا تو بہت سے پیسوں کیساتھ
شہرزاد کل ہم لوگ شادی کر رہے ہیں یا نہیں
اوہ خدایا کس پاگل سے واسطہ پڑا ہے میرا ۔ ہاں کر رہے ہیں تو پھر
تو پھر کیا لوگ سہاگ رات کو اپنی دولہنوں کو مونہہ دکھائی کا تحفہ نہیں دیتے کیا یا تمہارے ہاں کوئی اور رسم ہے
اور بنا پیسوں کے میں تمہارے لئیے تحفہ کیسے خریدوں گا ۔ بول
اوہ یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں اور بغیر ٹحفے کے تو تو اپنا مونہہ دہو رکھ جو میں تجھے اپنے قریب بھی پھٹکنے دوں
لیکن تو میرے ہی پیسوں سے میرے لئیے تحفہ خریدے گا یہ کیا بات ہوئی
تیرے پیسوں سے نہیں شرط میں جیتی ہوئی رقم سے خریدوں گا اب تو کوئی اعتراض نہیں تجھے
چل ٹھیک ہے جتنی رقم تجھے چاہئیے کل صبح بنک سے

withdraw

کر لیں گے لیکن پیسے ایک شرط پر دونگی
مجھے تیری ہر شرط منظور ہے بول کیا کرنا ہے مجھے
کوئی خاص نہیں کل ہماری شادی ہے نا تو آج رات ہم لوگ اس کی تھوڑی سی ریہرسل کریں گے
اچھا شادی کی ریہرسل بھی ہوتی ہے پہلے تو نہیں سنا کبھی میں نے خیر بتا مجھے کیا کرنا ہے اور جلدی کر زرا
ورنہ ہماری باتوں میں ہی صبح کی آزان ہو جائیگی
ادھر آ میرے پاس تیرے کان میں بتاؤں گی تجھے کیا کرنا ہے
اے یہ کس قسم کی ریہرسل ہے اور زرا زور سے تو بول
کیوں کم سنائی دیتا ہے تجھے کیا زرا اور قریب کر اپنے کان
اچھا ٹھیک ہے اور جلد بتا کیا کرنا ہو گا مجھے کیا کہا دوبارا کہہ شہر زااااااااااد ۔۔۔۔۔
گندی ۔ ۔۔۔۔جنگلی بلی

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 118

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

کیمپس رومانس ہوتے بڑے مزے کے اور

very exciting as well

ہے نا جیدی

تجھے کیا پتہ کہہ تو ایسے رہی ہے جیسے اس میں بھی ماسٹرز کر کے آئی ہے

کیا نہیں لیکن سنا تو ہے میری ساری سہیلیاں کسی نہ کسی ارے میں تمہیں کیوں بتا رہی ہوں یہ ساری باتیں

یہ classified stuff ہے girl talk , you know

اے بتا نا ہماری شادی ہونے والی ہے ایک دوسرے سے کوئی چیز چھپاتے ہیں بھلا اور پھر میں تیرا دوست بھی

تو ہوں دوست ہر چیز

share

کرتے ہیں

آہاہاہا ۔ اے مکھن کی ڈبیا بڑا شوق ہے تجھے لڑکیوں کی باتیں سننے کا بہت سن اور کہہ لیں تو نے دوسری لڑکیوں

کی باتیں اب آج اور اس وقت سے تو صرف اس خوبصورت بلکہ سب سے حسین لڑکی پر توجہ دے جو تیرے

سامنےکھڑی ہے

Kapeesh

چل دوسری لڑکیوں کی نہیں لیکن سب سے خوبصورت والی کی بات تو کر سکتے ہیں نا

اے اپنی ہونے والی بیوی کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہوۓ تجھے شرم نہیں آتی

تجھے نہیں آتی تو مجھے کیوں آۓ تیرے خیال میں تو میرا ہاسٹل کا کمرہ کم اور راجہ اندر کا اکھاڑہ زیادہ ہے جہاں سارا

دن اور رات اپسراؤں کی ریل پیل لگی رہتی ہے

شائد ایسا ہی ہو مجھے کیا پتہ یونیورسٹی کیمپس کی ہر دوسری لڑکی سے اگر دوستی نہیں تو جان پہچان ضرور ہے

شہرزاد تو اچھی طرح جانتی ہے میں

casual affairs

جیسے روگ پالنے والا لڑکا نہیں ہوں لیکن یہاں بات تیری

ہو رہی تھی میری نہیں تو کیمپس کی حسین ترین امیر ترین اور نجانے کیا کیا ترین لڑکی تھیں تیرے ارد گرد

تو لڑکے

Merry-go-round

کی طرح گھومتے ہونگے

ہاہاہا جیدی کہاں سے یہ مثالیں ڈھونڈ کر لاتا ہے تجھے سن کر بڑی مایوسی ہو گی لیکن نہیں ایسی کوئی بات نہیں تھی

میں تیرا انتظار کرتے کرتے اگر بوڑھی بھی ہو جاتی تب بھی میں تیرا ہی انتظار کرتی تمہیں پتہ ہے میرے سارے

کلاس میٹس میری غیر موجودگی میں مجھے کیا کہتے تھے

ہاں میں جانتا ہوں

they used to call you a prude

جیدی

that’s very rude

یہ کان میں کہنے والی بات تھی

uncouth

جنگلی کہیں کا بات نہیں کرنی مجھے تیرے

ساتھ لڑکیوں سے بات کرنے کا بھی سلیقہ نہیں وحشی میں جا رہی ہوں تیرے کمرے سے

چل جاوید بیٹا یہ حسین بلا تو ٹلی اب چین کی بنسری بھی بجا اور چادر تان کر خواب خرگوش کے مزے بھی لے کیونکہ tomorrow is the first day of the rest of your turbulent life, so help me Go

رو تو ایسے رہا ہے جیسے لڑکی بیاہ کر نہیں لا رہا گھر جمائی بن کر جا رہا ہے

چور ابھی تک باہر کھڑی میری باتیں سن رہی ہے بھاگ یہاں سے سدھر جا ورنہ

ورنہ کیا شادی کر لے گا مجھ سے توکر لے فکر نہ کر جا رہی میں اب اکیلا بیٹھ یہاں بلاۓ گا تب بھی نہیں آؤنگی

شہر زاد تیری طبیعت تو ٹھیک ہے نا بیٹا

کیوں میری طبیعت کو کیا ہوا اچھی بھلی تو ہوں

تو پھر مجھے کیوں آدھی رات کو اٹھا لائی ہے

تو اور کس کو بلا کر لاتی مشران منڈو کو

وہ کون ہے آج سے پہلے یہ نام تو کیا یہ لفظ ہی میں نے نہیں سنا

مجھے کیا پتہ آپ کے چہیتے سے سنا تھا سوچا شائد آپ جانتی ہوں میرا خیال ہے

it is kind of Joe Bloggs

تو نے بتایا نہیں اس وقت میری یاد کیسے آ گئی خاص کر جاوید کی موجودگی میں تو تجھے سواۓ اس کے کوئی اور دکھائی بھی

نہیں دیتا ہے کہاں وہ تم دونوں کی پھر سے لڑائی تونہیں ہو گئی کہیں واپس اپنے ہاسٹل تو نہیں چلا گیا

ارے بابا دم تو لیں ایک سانس میں اتنے سوال کہیں نہیں گیا آپ کا لاڈلہ اپنے کمرے میں بیٹھا کوئی کتاب پڑھ رہا ہو گا

سواۓ کتابیں پڑھنے کے اسے آتا کیا ہے جل ککڑی کہیں کا

اوہ تو خیر سے لڑائی کر کے آئی ہو ضرور میری شہزادی نے ہی گوئی گل افشانی کی ہوگی بول کیا کہا تو نے اس سے

کچھ نہیں کہا میں نے ہے ہی جاہل گنوار پینڈو بات نہیں کرنی مجھے اس سے

کس سے جس سے شادی کرنے چلی ہو اچھا میں نے تو آج تک ایسی شادی نہ سنی اور نہ ہی دیکھی جہاں دولہا دولہن ایک

دوسرے سے بات کرنے کے بھی روادار نہ ہوں ارے ہاں اس سے یاد آیا تو پھر ایجاب و قبول کون کریگا

آپ مذاق اڑا رہی ہیں میرا

نہیں میں بھلا ایسا کیوں کرونگی اس کے لئیے آپ خود ہی کافی ہیں بتا نا کس بات پر جھگڑا ہوا تم دونوں کا

ارے کچھ نہیں ایسے ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے گال پھلا لیتا ہے میں نے تو صرف اتنا ہی کہا تھا کہ کل ہماری شادی ہے

کیوں نہ آج اس کی ریہرسل کر لیں

کیسی ریہرسل کونسی ریہرسل زرا ہم بھی تو سنیں

آپ کو بتانے والی نہیں اسے بھی میں نے اس کے کان میں بتائی تھی

شہرزاد کیا کہا تو نے اسے تو پاگل تو نہیں ہو گئی کہیں تجھے کئی دفعہ کہہ چکی ہوں جاوید عام لڑکوں سے بہت مختلف ہے اس

سے بات کرتے وقت تھوڑی احتیاط کیا کر

ہاں ہاں مجھے پتہ ہے لیکن ہے تو لڑکا ہی نا کوئی ملائکہ میں سے تو نہیں اور آپ کو ایک راز کی بات بتاؤں میں جو کچھ اس کے

کانوں میں کہتی ہوں وہ وہی بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ رنگین باتیں میرے متعلق اپنی ڈائری میں لکھتا ہے اور اب

آپ کیوں

blush

کر رہی ہیں

مجھے تو تم دونوں ہی کھسکے ہوۓ لگتے ہو

ماما

when you bare your soul to another human being

تو جسم کی ایک ثانوی سی حیثیت رہ جاتی ہے

جیدی میرے جسم جان اور روح کا ایک حصہ ہے میں اسے کبھی دنیاوی پیمانوں سے نہیں ناپتی جب ہم اکٹھے ہوتے ہیں تو

ہماری پرچھائیں بھی زمین پر نہیں پڑتی انسان کا سایہ تو جسم کیساتھ بنتا ہے نا امی میں اور جیدی تو کبھی جسموں کیساتھ ملے ہی

نہیں ہیں شائد اس لئیے مجھے کبھی اس سے کچھ بھی لہتے ہوۓ کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی ویسے بھی آپ تو

جانتی ہی ہیں

I love to tease him

مجھے بہت اچھا لگتا جب میری کسی بات سے شرما کر اس کے سرخ سرخ

گالوں پر

dimple

پڑ جاتے ہیں

اچھا

I would love to be a fly on the wall

کل جب شادی کے بعد تیرے جیدی کی باتوں سے تیرے سرخ

و سفید گالوں پر شرم سے اس سے بھی بڑے

dimples

پڑ رہے ہونگے

ام می ی ی ی ی آپ کو پتہ بھی ہے آپ کیا کہہ رہی ہیں

ہاں وہی جو تو جیدی کے کان میں کہتی ہے اور وہ اپنی ڈائری میں ہاہاہاہاہا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 119

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولے بسرے دن بھولی بسری یادیں

شہرزاد تو نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ آدھی رات کو مجھے کیوں اٹھا لائی ہے

پہلے آپ بتائیں آپ خوش نہیں آپ کی بیٹی کی کل شادی ہو رہی ہے

یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے بھلا مجھ سے زیادہ اور کون خوش ہو گا اس شادی سے اور پھر تو

نے جس کو اپنا شریک سفر منتخب کیا ہے وہ پرایا ہوتے ہوۓ بھی اپنوں سے پیارا لگتا ہے میں

تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایک دن تجھے دلہن کے روپ میں دیکھوں گی یاد ہے ہم دونوں ماں

بیٹیاں جب اسلام آباد سے چلی تھیں تو سب ڈاکٹروں نے یہی کہا تھا کہ خاکن بدہن

یہی نا کہ

my days are numbered

ایک دو ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں ہے میرے پاس

ماما یہ سب کچھ میری زندگی جیدی کی دی ہوئی ہے ۔ جیدی کی

ارے لڑکی تو نے مجھے کن باتوں میں الجھا دیا ابھی تک نہیں بتایا کہ اتنی رات گئیےمجھے یہاں اپنے

کمرے میں کیوں لیکر آئی ہے

شادی کا جوڑا پسند کرنے کے لئیے اور کس کے لئیے آپ کے چہیتے سے پوچھ لیتی لیکن مجھے پتہ ہے اس نے

یہی کہنا تھا شہرزاد تو ہر لباس میں شہزادی لگتی ہے کچھ بھی پہن لے

تو پھر وہی کر جو جاوید کہتا ہے یہ سارا بناؤ سنگھار تو اسی کے لئیے تو کر رہی ہے

آپ بھی نا کمال کرتی ہیں میں ایک دن زندگی کا صرف ایک دن شہزادی نہیں دلہن لگنا چاہتی ہوں اور بس

اچھی بات ہے

let us see what you have got

ہینگرز سے سارے ڈریس اتار کر پلنگ پر

ڈھیر کر دے میں اتنی دیر میں تیرے ٹیپ ریکارڈر پر کوئی میوزک لگاتی ہوں

زینب بی بی آپ اور جیدی ۔ جیدی اور آپ ۔ آپ دونوں ایک دوسرے کے کافی قریب لگتے ہیں

نہیں تو تمہیں کیسے پتہ چلا اس نے کچھ کہا تم سے میرے بارے میں

نہیں آپ جانتی ہیں وہ اس طرح کی باتیں کسی سے نہیں کرتا مجھ سے بھی نہیں

تو پھر

کچھ نہیں بس مجھے ایسا لگا کہ جو آپ کی زبان کہتی ہے وہ آپ کی آنکھیں نہیں کہتیں ایک بات پوچھوں

آپ سے جواب نہ دینا چاہیں تو بھی میں اسے آپ کا جواب ہی سمجھوں گی

ہاہاہا ۔ ہاں جیدی مجھے اچھا لکتا ہے یہی جاننا چاہتی ہو نا تم لیکن اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکوں گی

کیونکہ میں اپنی بد نصیبی کا سایہ تک نہیں پڑنے دونگی اس پر

وہ جانتا ہے آپ اس سے میرا مطلب ہے the way you feel about him

مجھے نہیں پتہ معصومیت سے ہر بات کہہ کر چلا جاتا ہے اور میں دنوں تک اس کی کہی ہوئی باتوں کو یاد

کر کے ٹھنڈے پسینے میں نہاتی رہتی ہوں جب بھی آتا ہے اسٹیشن کی جن سیڑھیوں پر میں اپنا

کاسہ گدائی رکھ کر بھیک مانگتی ہوں وہیں ایک سیڑھی پر میرے ساتھ دھرنا مار کر بیٹھ جاتا ہے

میں پوچھتی ہوں بھیک دینے آۓ ہو یا لینے تھوڑی دیر میری آنکھوں میں دیکھتا رہتا ہے اور پھر

کشکول اٹھا کر اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتا ہے اور مجھے اس کی چشمے کے پیچھے چھپی ہوئی آنکھوں میں سواۓ

کبھی نہ بہنے والے آنسوؤں کے کچھ نظر نہیں آتابس دھندلائی پتھرائے ہوئی آنکھوں سے میری

طرف دیکھتا رہتا ہے اور پھر دو لفظ ‘ بی بی گھر چلیں ‘ سنائی دیتے ہیں اور مجھ کچھ یاد نہیں رہتا

نہ وہ اسٹیشن نہ بازار نہ ہی چلتے پھرتے لوگ وہ میرا ہاتھ تھامے رہتا ہے تب تک جب تک ہم اس

اندھیر کوٹھڑی میں نہیں پہنچ جاتے جسے وہ میرا گھر کہتا ہے ۔ قدرت نے میرے جیدی کو اتنے رنگ

اور روپ دئیے ہیں کہ انھیں بڑے سے بڑے کینوس پر بھی پورا نہیں اتارا جا سکتا ارے ہاں کینوس

سے یاد آیا میں نے ایک دن اس سے پوچھا ‘ جیدی تو اگر ڈی ونچی ہوتا تو کس اینگل سے میری تصویر

بناتا ‘ کہنے لگا ‘ بی بی عورت کے جسم کے ان گنت زاوئیے ہیں دنیا کا کوئی مصور انھیں اپنے برش اور

کینوس کے احاطے میں نہیں لا سکتا اورجس تخلیق کو دیکھ کر مصور کائنات خود شرما گیا ہو اس کے

نشیب و فراز دیکھ کر بھلا میرے جیسا آدمی اپنے ہوش و ہواس کیسے قائم رکھ سکتا ہے اور آپ بات

کر رہی ہیں اسے کینوس پر اتارنے کی کبھی کبھار آتا ہے مجھے ملنے کو اور میں اس کے جانے کے بعد بھی

کئی دنوں تک اسی کی زبان بولتی رہتی ہوں

واؤ شہرزاد یہ ٹیپ ریکارڈر پر کیا لگا ہوا تھا

she is in love believe me this woman is in love

مگر یہ ہے کون اور کس جیدی کے بارے میں باتیں کر رہی ہے

امی کی جان کتنے جیدیوں کو جانتی ہیں آپ جی ہاں یہ خاتون آپ کے ہونہار سپوت کے بارے میں ہی

گل اور گوہر افشانی کر رہی تھیں اور یہ اکیلی ہی نہیں اس جیسی اور بھی کئی ایک آپ کے بیٹے کے نام

کی ور مالا اپنے اپنے گلے میں پہن کر سارے شہر میں پھررہی ہیں

مگر یہ ہے کون اور جاوید کو کیسے جانتی ہے

بھکارن ہے ایک

کیا تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا

کیوں میرے دماغ کو کیا ہوا

سچ کہہ رہی ہو کوئی گدا گر ہے

جی آپ نے گداگر کہا میں نے بھکارن لیکن رہی وہ پھر بھی ایک فقیرنی کی فقیرنی

میں یہ تو جانتی ہوں کہ تم دونوں تھوڑے کھسکے ہوۓ ہو لیکن ایک فقیرنی come on give me a break please

ماما یہ آپ کا مونہہ بولا بیٹا بڑی پونچی ہوئی چیز ہے آپ نے تو اس کا صرف ایک ہی روپ دیکھا ہوا ہے

کون سی چیز یہ تو آج کل کس طرح کی زبان بولنے لگی ہے

یہ سب کچھ انھیں حضرت کی دین ہے پونچی کا مطلب ہے اس کی پہونچ بہت اوپر تک ہے جیسے درویش قلندر

نہیں ہوتے میں نے تو اسی کئی مرتبہ مراقبے کی حالت میں بھی دیکھا ہے

اے لڑکی کیا انٹ شنٹ بولے چلی جا رہی ہے اور اگر وہ ایسا ہی ہے جیسا تو کہہ رہی ہے تو پھر اس سے

شادی کیوں کر رہی ہے

اس کی آپ فکر مت کریں کل رات کے بعد اس کے پاس مراقبوں میں جانے کے لئیے وقت نہیں بچے گا

ارے کل رات کونسی قیامت ٹوٹنے والی ہے اس کرہ ارضی پر جس سے یہ سارا نظام شمسی درہم برہم ہو

جاۓ گا تیری باتیں آج کل میری سمجھ سے بالاتر ہوتی جا رہی ہیں

اس قیامت کا نام ہے شہرزاد اور کل میری اس درویش سے شادی ہونے والی ہے نظام شمسی کا تو مجھے علم

نہیں لیکن جیدی کا سارا نظام ضرور بے نظام کر دینا ہے آپ کی بیٹی نے زرا کل رات کی سویر تو ہونے دیں

لڑکی تجھے پتہ ہے تو کیا کہہ رہی ہے تیری زبان ہے کہ ۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 120

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

اے نوشے میاں کیا کر رہے تھے اکیلے اکیلے

اپنی دولہن کا انتظار

کیوں میرے کمرے میں نہیں آ سکتے تھے کیا یا میری بجاۓ تمہارے پاؤں میں مہندی لگی ہوئی تھی

کہتے ہیں محبوب کے انتظار میں بہت لذت ہوتی ہے

ارے پچھلے تین ماہ سے ہم دونوں کے ساۓ تک آپس میں جڑے ہوۓ ہیں تو کس انتظار کی باتیں کر رہا ہے اور دیکھ

یہ اپنی شاعرانہ باتیں اب بند کر دے ہمیشہ کے لئیے صرف اپنی ڈائری لکھتا رہ اور اس میں بھی سارے چیپٹرز بند

سواۓ شہرزاد کے میرے بارے میں جو دل میں آۓ لکھ بلکہ جو سوچتا تھا پر لکھ نہیں سکتا تھا اب اس پر جو

شرعی پابندیاں تو نے عائد کی ہوئے تھیں وہ بھی کل کے بعد سب اٹھ جائیں گی پوری آزادی سے لکھ اور دیکھ زرا

مزے مزے کی باتیں لکھنا جسے پڑھتے ہوۓ مجھے تھوڑی سی شرم بھی آۓ سمجھ گئیے نا میں کیا کہہ رہی ہوں تھوڑی سی

مبالغہ آرائی بھی کر لینا میری

figure

کے بارے میں میری باتیں تیری سمجھ میں آ بھی رہی ہیں یا میں ایسے ہی

بولے چلی جا رہی ہوں

شہرزاد اور لڑکیوں کا تو مجھے پتہ نہیں لیکن تیری ہر بات میں جانتا بھی ہوں اور اب تو تھوڑی تھوڑی سمجھنے بھی لگا ہوں

اچھا تو بتا ابھی ابھی میں نے کیا کہا تجھے اپنی

figure

کے بارے میں

یہی کی تو بہت سڈول جسم کی مالک ہے بالکل

hourglass

کی طرح

ارے ارے ارے لڑکے کیا ہو گیا ہے تجھے اپنی ہونے والی بیوی کے بارے میں ایسے لکھے گا اور یہ باتیں کہاں سے

سیکھ کر آیا ہے میں تو تجھے بڑا سادھو سنت سمجھتی تھی

hourglass

ہاہاہا جیدی تو بھی نا کہاں سے پڑھ کر

آ رہا ہے یہ

terminology

کتابوں سے اور کہاں سے ابھی پچھلے دنوں میں

Judith Krantz

کی

Scruples

پڑھ رہا تھا ساری کتاب فیشن

انڈسٹری اور ماڈلنگ کے بارے میں تھی وہاں اسی طرح کی چیزیں لکھی ہوتی ہیں اور بڑی

explicit and open

زبان میں ارے تو کونسی صدی میں رہ رہی ہے آدمیوں کو تو چھوڑ عورتیں عورتوں کے بارے میں ایسی تفصیل سے

باتیں لکھتی ہیں کہ پڑھ کر تیرے کان مونہہ اور ناک گرم اور سرخ ہو جائیں

اے لڑکے زیادہ بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کر میرے کان اور مونہہ گرم ہوں یا نہ ہوں لیکن کل سے بلکہ آج اور ابھی سے

تیری ساری کتابیں بند خاص کر وہ کتابیں جو پچھلے دس بیس برس میں لکھی گئی ہیں صرف مذہبی کتابیں پڑھا کر اور اگر

ناول وغیرہ پڑھنے کو جی چاہے تو مراتالعروس یا توبتہ النصوح پڑھ لیا کرنا کبھی کبھار نسیم حجازی کے تاریخی ناول بھی پڑھنے

کی اجازت ہے لیکن گلشن نندہ کے ‘ بند کواڑ ‘ جیسی کتابوں سے کوسوں دور رہنا ورنہ تیرے سارے دروازے اور

کھڑکیاں میں نے بند کر دینی ہیں

Kapeesh

ارے واہ مس انگلش میڈیم تجھے یہ سارے نام کس نے بتاۓ ہیں

I am really impressed

جیدی زیادہ ہوشیاری نہ کر میرے ساتھ یہ سب نام میں نے تیری پرسنل ڈائری میں پڑھے ہیں محلے کی دھوبن نہیں بتا کر

گئی مجھے میں بھی سوچوں یہ سارا دن سر جوڑ کیا پڑھتا رہتا ہے

ارے میرے پیچھے کیا ہر وقت پنجے جھاڑ کر پڑی رہتی ہے تجھے پتہ ہے میں زیادہ تر ادبی کتابیں پڑھتا ہوں وہ بھی زیادہ تر

ٹالسٹائی میکسم گورکی Turgenev وغیرہ وغیرہ کی classics کبھی کبھار یار دوست پاپولر کلچر پر کوئی اچھی کتاب

دے دیتے ہیں تو پڑھ لیتا ہوں اور بس

بس بس اب زیادہ اپنی علمیت کا رعب نہ جھاڑ مجھ پر اور ہاں یہ پاپولر کلچر کے نام پر بازار میں جو مخرب الاخلاق قسم

کی کتابیں بکتی ہیں نا وہ تیرے جیسے معصوم اور بھولے بھالے لڑکے کے پڑھنے کی نہیں اور ایک آخری چیز

واش روم ریڈنگ بالکل نہیں ہو گی سن لیا نا سب کچھ بھولنا نہیں اور یہ تیری بتیسی کیوں نکل رہی ہے تجھے کیا

لگتا ہے میں کوئی کامیڈی شو کر رہی تھی پچھلے آدھ گھنٹے سے

ارے بابا میں تو تیری اس واش روم ریڈنگ والی بات پر مسکرانے کی ناکام سی کوشش کر رہا تھا اب کوئی واش

روم میں بھی بیٹھ کر کتابیں وغیرہ پڑھتا ہے

کیوں نہیں پڑھتا ۔ سب سے پہلے تو میں خود پڑھتی ہوں خیر کتابیں تو نہیں پڑھتی لیکن

لیکن کیا اخبار یا رسالے پڑھتی ہو لیکن چیز تو ایک ہی ہوئی نا کتابوں اور رسالوں میں فرق ہی کیا ہے

بیچ میں بولنے کی تیری عادت نہیں جاۓ گی کبھی پڑھتی وڑتی کچھ نہیں صرف

crossword puzzle

کرتی ہوں

تیرا دل چاہے تو تو بھی کر سکتا ہے لیکن سارا دن وہیں نہ گذار دینا لیکن یہ والا رول مجھ پر اپلائی نہیں ہوتا

آپ پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا کیوں آپ کیا راجہ رسالو کی بیٹی ہیں اور ایک مہربانی کریں گی یہ جتنے قواعد اور

ضوابط آپ نے پچھلے آدھ گھنٹے میں میرے گوش گذار کئیے ہیں ان کی پوری لسٹ مجھے لکھ کر دے دیں بلکہ ایسا

کریں کہ انکا تعویز بنا کر یاتو میرے گلے میں لٹکا دیں یا گھوٹ کر پلا دیں ورنہ میں بھول جاؤں گا

مجھ پر یہ قانون اس لئیے لاگو نہیں ہوتا کیونکہ ایک تو میں لڑکی ہوں اور لڑکیوں کے ہزاروں مسلے مسائل ہوتے ہیں

اور دوسری بات جو زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ واش روم ہماری سب سے بڑی پناہ گاہ ہوتی ہے خاص کر شوہروں سے

چھپ کر بیٹھنے کی اس سے بہتر کوئی اور جگہہ ہو ہی نہیں سکتی ہم وہاں بیٹھ کر اپنی آنے والی ساری زندگی

پلان کر سکتی ہیں اس کے علاوہ ایک اور وجہ ہے لیکن میں تمہیں بتا نہیں سکتی

شہرزاد کیا بات ہے ادھر میری طرف دیکھ میری آنکھوں میں اور بول

ناراض تو نہیں ہو گا مجھ سے تو

میں آج تک کبھی ناراض ہوا ہوں تم سے جو آج ہونگا

come on, out with it

جیدی تو بھول جاتا ہے کہ میں تپ دق کی مریضہ ہوں کبھی کبھی میری طبیعت جب بہت خراب ہوتی ہے تو میں جا کر

واش روم میں بیٹھ جاتی ہوں خون تھوکتی رہتی ہوں اور تھوڑا رو بھی لیتی ہوں

اے ادھر آ میرے پاس آج کے بعد یہ کبھی نہیں ہو گا سن رہی ہو کبھی نہیں

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 121

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

آج اس گھر میں کسی کا سونے کا کوئی ارادہ ہے یا نماز فجر کے بعد ہی بستر کا رخ کرنا ہے

کیوں تو مائیوں بیٹھا ہوا ہے کیا جو کل کی اتنی جلدی ہے تجھے ۔ بیٹھ نہیں سکتا تھوڑی دیر کے لئیے میرے پاس

اب بھی آپ کے پہلو سے پہلو لگا کر بیٹھا ہوں اور کل کے بعد تو انشااللہ ہمیشہ کے لئیے ہی آپ کے پلو سے

باندھ دیا جاؤں گا مجھے تو سوچ کر ہی خوف آ رہا ہے

کس چیز کا خوف آ رہا ہے تجھے زرا میں بھی تو سنوں

اسی چیز کا جس کا مظاہرہ ابھی ابھی تو نے کیا ہے تیور تو دیکھو ان کے ابھی سے ہی مزاج نہیں ملتے تو شادی کے بعد

کیا ہو گا ابھی تک تو دن کے ایک دو بجے سے پہلے آپ کی صورت نظر نہیں آتی تھی لیکن کل کے بعد سے تو

صبح اٹھتے ہی پہلی نظر آپ کے چہرہ مبارک پر پڑے گی سوچ کر ہی میرے تو ٹھنڈے پسینے چھوٹ رہے ہیں

جیدی کے بچے موت تیرے سر پر منڈلا رہی ہے

شکر ہے ابھی تو سر پر ہی منڈلا رہی ہے کل کے بعد تو جانے کہاں کہاں ۔۔۔۔۔

ہزار دفعہ بولا ہے تجھے ادھوری بات مت کیا کر مجھے الجھن سی ہونے لگتی ہے بول کیا کہنے والا تھا

کچھ نہیں کہنے والا تھا میں ایسے ہی میرے مونہہ سے نکل گیا تھا تم تو زبان ہی پکڑ لیتی ہو

تم بتاؤ گے یا پھر میں بتا دوں کہ تم کیا کہنے جا رہے تھے

جب میں نے کچھ کہا ہی نہیں تو تمہیں کیا الہام ہو جاۓ گا کہ میرے زہن میں کیا تھا

خیر میں ایسی بھی کوئی ولی اللہ نہیں جو مجھ پر الہامی کیفیت طاری ہو جاۓ گی لیکن تو شائد بھول گیا ہے کہ ہم دونوں

ایک دوسرے کے خیالات تک پڑھ لیتے ہیں اور اب بھاگ کیوں رہا ہے دیکھ میری طرف میری آنکھوں میں اور

سوچ تو کیا کہنے جا رہا تھا ۔ اے دیکھ نا اب چھپ کیوں رہا ہے

مجھے نہیں دیکھنا ویکھنا کسی کی بھی طرف کوئی اور بات کر ورنہ میں سونے جا رہا ہوں

اوہ تو یہ بات ہے

کیا بات ہے اب تیرے شیطانی دماغ میں کیا خیالی پلاؤ پک رہا ہے

میں بھی سوچوں یہ میری طرف دیکھنے سے کیوں کترا رہا ہے

اچھا تو اتنی ہی clairvoyant ہے تو بتا میں کیا کہنے والا تھا

بول دوں یا پھر تیرے کان میں کہوں

کیوں کان میں کیوں

بات ہی کچھ ایسی ہے ۔ میں تو بول دونگی لیکن پھر تو شرما کر ایک مہینہ کے لئیے گم ہو جاۓ گا اور

کل میں شادی کے لئیے اتنے شارٹ نوٹس پر نیا دولہا کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں گی نا بابا نا کان میں ہی کہے دیتی ہوں

مجھے نہیں سننا کچھ بھی میرے کان پک گئیے ہیں تیری کان والی باتیں سن سن کر کل تیری لیلتہ الزفاف ہے اپنے شوہر نامدار

کو سنا دینا شائد اسے دکچسپی ہو تیری زو معنی باتوں میں

ارے یہ کونسی لیلی ہے جو شادی کی رات میرے شوہر کےساتھ آۓ گی جان نہیں لے لونگی ان دونوں کی

اے مس انگریزی میڈیم لیلتہ الزفاف کا مطلب ہے شب عروسی مطلب سہاگ رات اور تو پہلی ہی رات اپنے

سہاگ کو مارنے کے چکر میں ہے ویسے تو اچھا ہی ہے بیچارا ساری عمر جو تمہارے کھونٹے سے بندھا سسک سسک کر

مرے گا بہتر نہیں پہلی ہی رات ایک جنت کے خواب کی تعبیر دیکھتا ہوا دوسری جنت میں چلا جاۓ ایسے کیا دیکھ

رہی ہے میری طرف میں کوئی لاطینی زبان میں تو باتیں نہیں کر رہا تھا جو تیری سمجھ سے بالاتر ہو

لاطینی تو خیر نہیں لیکن یہ جو تو کبھی کبھار پرانی دہلی کی اردوۓ معلی بولنا شروع کر دیتا ہے نہ وہ میرے پلے نہیں پڑتی

اور اب بھی جو تو نے کہا خاک بھی میری سمجھ میں نہیں آیا ۔کہاں سے ڈھونڈ کر لاتے ہو یہ سارے الفاظ میرے تو

حلق سے ہی نیچے نہیں اترتے خدا جانے کس طرح کی کتابیں پڑھتے ہو تم ارے ہاں کتابوں سے یاد آیا وہ جو کتابیں میں نے

تیرے لئیے فیروز سنز سے منگوائی تھیں ان میں سے ایک کا تو نام بھی کچھ عمیب و غریب قسم کے تھا

اب تو میری کتابوں کے پیچھے لگ گئی ہے کیوں کیا ہوا میری کتابوں کو تو ہی تو خرید کر لاتی ہے میرے لئیے اور

کس کتاب کی بات کر رہی ہے تو

مجھ سے تو پڑھا ہی نہیں گیا کچھ بالغوں کے حج کے بارے میں تھی شائد

بالغوں کا حج ارے یہ کونسا حج ہے بھئی شہرزاد تو کہیں شاہ ولی اللہ دہلوی کی حجت اللہ البالغہ کی بات تونہیں کر رہی

ہاں ہاں اسی کی مجھے اچھی طرح سے یاد ہے لکھنے والے کا نام شاہ سے شروع ہو تا تھا

شہرزاد بیکم کل ہماری شادی ہے اور پرسوں صبح کو سب سے پہلا کام پتہ میں نے کیا کرنا ہے

شکر ہے تو بھی کوئی کام کریگا ورنہ سارا دن تو تو مٹرگشتی کرتا رہتا ہے بول کیا کام کرنا ہے میرے دولہا داجہ نے

تجھے دوبارا کلمہ حق پڑھا کر مسلمان کرنا ہے

ارے بدھو کہیں کے اس کے لئیے صبح کا انتظار کرنے کی کیا ضرورت ہے رات کو ہی اسلام قبول کروا لینا

پیار کا کلمہ تم سکھا دینا باقی ہم دونوں مل کر پڑھ لیں گے ٹھیک کہا نا میں نے

چوٹی زمانے کی تو نے مجھے آنکھ کیوں ماری تیری زبان ہے کہ ٹھہر جا تو اب بھاگ کہاں رہی ہے

ہاہاہا بائی بائی بلخ بخارا کل ملیں گے دوبارا ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 122

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

جیدی آخر یہ صبح کب ہو گی صدیوں سے یہ دونوں جڑواں بہنیں اکٹھی رہ رہی ہیں آخر کب تک یہ آپس میں روٹھی رہیں گی

مل بیٹھ کر گلے شکوے دور کیوں نہیں کر لیتیں عجیب لڑکیاں ہیں ایک آتی ہے تو دوسری چپکے سے اٹھ کر چلی جاتی ہے

شہرزاد تم تو سونے گئیں تھیں اور یہ کن جڑواں بہنوں کی باتیں کر رہی ہو

ارے دن اور رات کی اور کس کی مجھے لگتا ہے سوتیلی ہونگی تبھی تو ان کے مزاج نہیں ملتے

تمہاری عقل تو گھاس چرنے نہیں چلی گئی سوتیلی کیسے ہو سکتی ہیں

کیوں نہیں ہو سکتیں اور تمہیں لڑکیوں کی باتوں کا کیا پتہ

بابا تم نے خود ہی تو ابھی ابھی کہا کہ وہ جڑواں بہنیں ہیں اور جڑواں سوتیلی کیسے ہو سکتی ہیں

ارے تم تو بڑے سیانے ہوتے جا رہے ہو ہو نہ ہو یہ سب میری صحبت کا اثر ہے اور تم نے بتایا نہیں یہ آج شب

ہجراں کی طرح رات کو کیا ہو گیا ہے ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی ضرور تو نے ہی کوئی جنتر منتر کیا ہو گا تیری شروع

سے نیت ہی نہیں تھی مجھ سے شادی کرنے کی منافق زمانے بھر کا اور یہ شب ہجراں کیوں اتنی تاریک اور طویل

اور خدا جانے کیا کیا ہوتی ہے

شہرزاد میں تیرے بےسروپا سوالوں سے تھوڑا تنگ آ گیا ہوں ارے خدا کی بندی مجھ سے تو ایسے پوچھ رہی ہے جیسے

میں نے دو تین سو عشق کئیے ہوں اور ہزاروں ہجر کی راتیں کاٹی ہوں سچ پوچھو تو میں نے سواۓ تیرے اس

طرح کا کوئی روگ نہیں پالا اور لوگ جانے کیوں ہجر کی راتوں کو طویل کہتے ہیں مجھے تو لگتا ہے جیسے میری وصل کی رات کبھی بھی ختم نہیں ہوگی چاہے میں ختم ہو جاؤں

ارے گود میں بیٹھ کر داڑھی کے بال نوچ رہے ہو میرے سامنے ہی میرے منگیتر کو بد دعائیں دے رہے ہو کیسے

دوست ہو تم آخر اور سنو یہ وصل کی رات کونسی اور کیسی ہوتی ہے جو تم پر اتنی بھاری پڑ رہی ہے

اوہ خدایا پاکا یہ عورت مجھے پاگل کر دے گی دیکھ شہرزاد تو نا صرف انگریزی میں بات کیا کر یہ اردو تیرے بس کا روگ

نہیں لیکن تو بولے گی نا تو میری جان کو ضرور کوئی روگ لگا دیگی ۔ وصل کا مطلب ہے اپنے محبوب سے ملنا

جیسے میں اور تو ملتے ہیں

لیکن میں اور تم تو روزانہ ہی ملتے ہیں بلکہ اب تو رات کو بھی تو زیادہ تر میرے پاس ہی ہوتا ہے تجھے اچھا نہیں لگتا میرا

ساتھ تو پہلے بول دیتا شادی تک کی نوبت ہی نہ آتی چل خیر اب بھی کچھ نہیں بگڑا البتہ کل رات کیا کہا تھا تو نے

ہاں یاد آیا لیلتہ الزفاف گذارنے کے بعد زرا معاملہ تھوڑا پیچیدہ ہو جاتا پھر میں تجھے چھوڑنے والی نہیں تھی اب اس

عمر میں کہاں نکلوں گی میں ایک نیا شوہر ڈھونڈنے جس سے میں تھوڑا بہت پیار بھی کرتی ہوں

شہر تم زرا کم نہیں بول سکتی اور یہ تم ایک فقرے میں کتنے ٹاپک بدلتی ہو مجھے تو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ہم لوگ بات

کیا کر رہے تھے اور تم نے یہ کیوں کہا کہ ابھی تک مجھ سے تھوڑا سا ہی پیار کرتی ہو میں تو

ارے تم تو کچھ نہیں ایسے ہی مونہہ سے نکل گیا تھا تمہیں پتہ نہیں تم مجھے کتنے اچھے لگتے ہو اور میں تمہیں کبھی بتانے

والی بھی نہیں ہوں تمہیں تو میں نے پہلے سے ہی اتنا سر پر چڑھا رکھا ہے کہ اپنے سارے کام مجھ سے گرواتے ہو

جھوٹی کہیں کی میں نہیں کرواتا تم خود کرتی ہو “ جیدی مجھے اچھا لگتا تیرے ناز نخرے اٹھانا “

ہاں ہاں ٹھیک ہے کہا ہو گا کسی اچھے موڈ میں یاد کرانے کی چنداں ضرورت نہیں لیکن سن کل سے سب

کچھ بدل جاۓ گا

it is pay back time now

کل سے تجھے میرے سارے کام بھی کرنے ہونگے اور میرے ہر طرح

کے ناز نخرے بھی اٹھانے ہونگے جیسے

breakfast in bed

میرے باتھ ٹب میں پانی بھرنا وغیرہ وغیرہ سنو

تمہیں انڈا ونڈا بنانا آتا ہے نا یا وہ بھی سکھا نا پڑیگا تمہیں کچھ آتا جاتا تو ہے نہیں خدا جانے کونسی صدی کے آدمی ہو تم

نہیں بیگم صاحبہ میں نے تو کبھی مرغی ہی نہیں دیکھی انڈوں کو کیا جانوں میں یونیورسٹی پڑھنے جاتا ہوں کسی ڈیری فارم پر

کام نہیں کرتا اور اگر یہ سارے کام مجھے ہی کرنے ہیں تو کل سے یہ جو نوکروں کی ایک فوج بھرتی کر رکھی ہے انھیں چھٹی

دے دینا اور لگے ہاتھ یہ بھی بتا دو کہ میں کل سے آپ کا کمرہ شئیر کرونگا یا آپ میرا سرونٹ کوارٹرز میں بستر لگوا

دیں گی اور میری تنخواہ وغیرہ کا بھی ابھی سے بتا دیں آپ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی ہیں اس لئیے مجھے آپ پر

بھروسہ نہیں کل ہر چیز سے کہیں مکر ہی نہ جائیں

ارے تو تو بڑا ہوشیار ہو گیا ہے چل چھوڑ ان سب کاموں کو صرف میں جب جیسے اور جس وقت بھی چاہوں گی تو

میری تھوڑی سی

TLC

کر دیا کرنا

Kapeesh

اے ٹھہر زرا

not so fast

یہ تیری

TLC

یمیں کیا کیا شامل ہو گا

کوئی خاص نہیں

just the usual stuff you know

نو I don’t know

کیونکہ تم

usual

نہیں بلکہ بہت ہی

unusual

قسم کی لڑکی ہو تمہاری کہی ہوئی ہر بات کے دس

مطلب نکلتے ہیں خاص کر جب تم اپنا جملہ ختم کرتے وقت مجھے ساتھ میں آنکھ بھی مارتی ہو تو میرے جسم کی ساری

سرخ بتیاں ایک دم سے جلنے بجھنے لگ جاتی ہیں

جیدی کے بچے تو بڑی باتیں کرنی شروع ہو گیا ہے اچھا پوچھ کیا پوچھنا چاہتا ہے تو

یہی کہ مجھے تیرے لئیے کیا کیا کرنا ہو گا اور میری ڈیوٹی کے اوقات کیا ہونگے اور ہفتے میں کوئی چھٹی وغیرہ بھی ہو گی کہ نہیں

بس یہی یا کچھ اور بھی ایک ہی دفعہ سب کچھ پوچھ لے

نہیں اور کچھ نہیں پوچھنا مجھے

ٹھیک ہے ادھر آ میرے پاس تیرے کان میں بتاؤں گی کہ تجھے کیا کیا کرنا ہے

کیوں کان میں کیوں ایسا کونسے کام ہیں جو تو مجھے یہاں کھڑے کھڑے نہیں بتا سکتی

تو ادھر تو آ یا وہیں کھڑے ہو کر بحث کریگا مجھ سے پتہ ہے دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں زرا اور قریب کاٹنے نہیں

لگی میں تجھے زرا اور قریب تھوڑا اور

اللہ بچاۓ مجھے شیطان کے شر سے لے بول اب زرا زور سے تو بول مجھے تو کچھ بھی سنائی نہیں دیا دوبارا کہہ زرا ہاں ہاں کیا کیا کہا تو نے چوٹی

گندی زمانے بھر کی برات سر پر کھڑی ہے اور گلی محلے کے لڑکوں کیساتھ مستیاں کرتے شرم نہیں آتی تجھے

ہاں آتی تو ہے لیکن تجھے دیکھتے ہی چلی جاتی ہے اور گلی کا منڈا تیرے جیسا سوہنا ہو تو میں کیا کروں ہاہاہا ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر123

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

اے دودھ ملائی اور مکھن کل رات کا دن نکلتے ہی تیری

freedom of speech

پر مکمل پابندی اور آسان اردو میں اسے

کیا کہیں گے ہاں یاد آیا زبان بندی ہو گی اور سن یہ پابندی صرف صنف نازک یعنی حوا کی بیٹیوں تک محدود ہے عمر کی کوئی

قید نہیں کیونکہ تو جو ہے نا

anyone and everyone in long or short skirts

کے لئیے خطرناک ہے

ارے اپنی ایسی قسمت کہاں تو پرچھائیں کی طرح تو میرے ساتھ ہوتی ہے وہاں کسی اور کی دال کہاں گلنے والے ہے

یہ تو سچ کہا تو نے کیونکہ تیری جہاں پرچھائیں پڑتی ہے نا وہاں شہرزاد یعنی میں اپنے پورے پانچ فٹ آٹھ انچ بغیر ہیل کے جوتوں کیساتھ کھڑی ہوتی ہوں اس لئیے وہ وہاں سے رفو چکر ہو جاتی ہیں ورنہ تو جس طرح کی رس بھری باتیں کرتا ہے نا یہ ساری لڑکیاں تجھ سے شہد کی مکھیوں

کی طرح چمٹ جائیں اور دیکھ اب تو نا زرا سدھر جا پرائی لڑکیوں سے چکنی چپڑی باتیں کرنا اب تجھے زیب نہیں دیتا

ماشااللہ چھ بچوں کا باپ بن گیا ہے تو اپنے آپ کو ساٹھا پاٹھا نہ سمجھ

شہرزاد تجھ پر نا شائد نیند کا غلبہ ہو گیا ہے یہ بیٹھے بٹھاۓ تو نے مجھے بنا ایک عدد بیوی کے ایک دو نہیں پوری آدھی درجن

بچوں کا باپ بنا دیا جا اپنے کمرے میں جا کر سو جا اور مجھے بھی آرام کرنے دے وہ نہ ہو کل جب مولانا صاحب ہم

دونوں سے ایجاب اور قبول کی رسم ادا کرنے کا کہیں تو ہم دونوں خراٹے بھر رہے ہوں

وہ ایک عدد بیوی تو تیرے سامنے بیٹھی ہے اور اگر بیوی ہے تو انشااللہ بچے بھی آ ہی جائیں گے تو بس اللہ کا نام لیکر کل

رات کے بعد سے دن گننا شروع کر دے دو تین سال میں چھ بچے تو ہو ہے جائیں گے

تو اپنے آپ کو الف لیلی والی شہرزاد نا سمجھ جس کے کہانیاں سناتے سناتے تین چار بچے ہو گئیے تھے

جیدی ایک بات پوچھوں تم سے

رب خیر کرے آج سورج کہیں شمال جنوب سے تو نہیں نکل آیا

کیوں ایسا کیا کہہ دیا میں نے ابھی تو میں تم سے سوال پوچھنے کی اجازت ہی مانگ رہی تھی

وہی تو ورنہ آپ ہمیشہ بات پہلے کرتی ہیں اور اجازت بعد میں مانگتی ہیں بحر حال پوچھئیے جو بھی پوچھنا ہے آپ کو

تم مجھے خود غرض تو نہیں سمجھتے

اب لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیجئیے کہ ایسا نیک خیال میرے زہن میں کیوں آۓ گا اور اگر آپ کو میری راۓ ہی مطلوب

ہے تو میں

in all fairness and honesty

یہی کہونگا کہ شہرزاد کچھ بھی ہو سکتی ہے لیکن خود غرض نہیں

اب بتائیے آپ نے یہ سوال کیوں پوچھا

بس ایسے ہی خیال آیا تجھے تو معلوم ہے کہ میں جب تم سے ملی تو ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ میں بس چند ہفتوں اور مہینوں

کی مہمان ہوں اور فل سٹاپ

آپ کہنا کیا چاہتی ہیں یا پہیلیوں میں ہی بات کرتی رہیں گی اب کہہ بھی ڈالئیے پلیز

تم کہیں یہ تو نہیں سوچتے کہ خود تو مرنے والی تھی ہی مجھے کیوں اپنی بیمار زندگی میں شامل کر لیا خود تو آگے کا ٹکٹ کٹا لے

گی اور مجھے بیچ راہ میں چھوڑ کر چلی جاۓ گی

ابھی ٹھوڑی دیر پہلے آپ خالہ جان کو اٹھا کر لائی تھیں کہ وہ آپ کو شادی پر کونسا جوڑا پہننا ہے اور کونسا نہیں پہننا

اور ان کے ساتھ میچنگ زیورات کونسے ہونگے کل کونسے بیوٹی پارلر میں جایا جاۓ وغیرہ وغیرہ کے متعلق آپ کو اپنا

قیمتی مشورہ دے سکیں اس کے بعد آپ نے مجھے چھ عدد بچوں کا کنوارا باپ بنا دیا اور اب آپ اس بنا شادی کے

دولہے کو اس کے آدھی درجن بچوں سمیت اکیلے چھوڑ کر پرلوک سدھارنے کا پلان بنا رہی ہیں مجھے براۓ مہربانی

صرف اتنا بتا دیں کہ آپ کا

order of priority

کیا ہے تا کہ میں چین سے اپنے بستر پر جا کر سکون اور اگر ہو سکے

تو آرام سے سو سکوں اور لگتا ہے یہ میری آخری سکون بھری نیند ہو گی

کیوں ایسا کیوں کہا تم نے اپنے الفاظ واپس لو ابھی اور اسی وقت ورنہ کل کا سب پروگرام کینسل میں کونسی مری جا

رہی ہوں تم سے شادی کرنے کے لئیے اور یہ تم نے ابھی ابھی اتنا لمبا اور ٹھنڈا سانس کیوں لیا تنگ آ گئیے ہو مجھ

سے صاف صاف کہتے کیوں نہیں کہ میں ایک بیمار اور قریب المرگ لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا بہانے بازیوں پر

کیوں اتر آۓ ہو کہتا تھا شہرزاد تو دنیا کی حسین ترین لڑکی ہے میں کتنے جنموں سے تیری تلاش میں تھا تو میری دیوی جس

کے چرنوں میں میں اپنی شردھا کے پھول چڑھاتا ہوں اور پتہ نہیں کیا کیا کہاں گئیے تیرے وہ سب جھوٹے دعوے

اور مجھے دیکھو یونیورسٹی کی سب سے زہین لڑکی گولڈمیڈلسٹ جس کے آگے پیثھے

street romeos

کی لائنیں لگی ہوتی

تھیں میں نے کیسے تیری ہر بات پر اعتبار کر لیا

دیوی چرنوں کی دھول شردھا کے پھول میں نے کہا یہ سب کچھ تیرے بارے میں ممھے لگتا ہے میں نا تازہ تازہ مہابھارت یا

تو ٹیلی ویژن پر دیکھ کر آیا ہونگا یا پھر کسی کتاب میں پڑھا ہو گا اور تجھے

Impress

کرنے کے لئیے ایک ہی سانس میں

سارا ڈائیلاگ بول دیا ہو گا ارے پاگل میں سٹریٹ رومیو تو نہیں ہوں لیکن تجھے حاصل کرنے کے لئیے میں کسی بھی لائن

میں ساری عمر کھڑا رہ سکتا ہوں میں سارے دن کی دوڑ دھوپ کے بعد تھوڑا زہنی اور جسمانی طور پر تھک گیا ہوں اس

لئیے سوچ کچھ رہا ہوں اور مونہہ سے کچھ اور ہی نکل رہا ہے لیکن اس سے پہلے کہ میرا زہن نیند سے بوجھل ہو جاۓ

اور میرے سوچنے سمجھنے کی صلاصیت بالکل جواب دے جاٰئے تو نے مجھ سے پوچھا تھا ناکہ میں کہیں تمہیں مطلب پرست

موقع پرست خود غرض اور خدا جانے کیا کیا سمجھتا ہونگا تو سنو پہلی بات تو یہ ہے کہ میں تمہارے بارے میں کبھی منفی انداز

میں سوچتا ہی نہیں اور رہی تمہاری بیماری کی بات تو جلد یا بدیر ہر آدمی کو جانا تو ہے ہی بیماری سے جاۓ یا کسی

حادثے کا شکار ہو جاۓ یا بغیر کسی وجہ کے چلا جاۓ شائدمیں نے تم سے پہلے بھی اس بات کا زکر کیا تھا کہ میں تم سے

ملنے سے پہلے بھی جانتا تھا کہ تم ہو کہاں ہو کیسی ہو کبھی مجھے ملو گی نہیں ملو گی اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا

عمر کے ساتھ ساتھ یہ احساس یقین میں بدلتا چلا گیا اور پھر ایک دن اچانک تم اپنی پوری رعنائیوں کیساتھ میرے سامنے

کھڑی تھیں ہم نے کبھی ایک دوسرے سے کسی تعارف کے لئیے نہیں کہا کوئی سوال نہیں کیا ہم ایک دوسرے کے

سامنے کھڑے تھے اور وقت جیسے تھم سا گیا تھا میری بے چین اور بے قرار روح کو قرار آگیا میری تلاش ختم ہو گئی

پیاس بجھ گئی میری اب سوچو اگر تم مجھے کبھی نہ ملتیں تو کیا ہوتا میں ساری عمر تمہاری تلاش میں سر گرداں مارا مارا

پھرتا رہتا سڑکوں کی خاک چھانتا رہتا اور ایک دن تھک ہار کر یا تو جان دے دیتا یا کسی خانقاہ کے باہر پڑا رہتا اور بس

اب خدانخواستہ اگر تقدیر کے بے رحم ہاتھ تمہیں مجھ سے چھین کر لے بھی جائیں تب بھی میں تمہاری یادوں کے

سہارے اپنی بقیہ زندگی گذار سکتا ہوں لیکن تمہارے نہ ملنے کی صورت میں جو خلش اور خلا میری زندگی میں رہ جاتی وہ

نہ تو مجھے مرنے دیتی اور نہ ہی زندہ رہنے دیتی ۔ خلاؤں میں گھورنے سے کہیں بہتر ہے کہ میں تیری یادوں کے ساتھ اپنی

صبحیں اور شامیں گزاروں ۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 124

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

جیدی ایک بات کہوں تجھ سے

جب سے تو ملی ہے نا سواۓ تیرے آواز کے اورکسی کی آواز میرے کانوں تک پہنچتی ہی نہیں تجھے کچھ کہنا ہے تو بلا جھجک

کہہ دے مجھے تو ویسے بھی تیری باتیں سننا اچھا لگتا ہے ۔ بول نا اب مجھےکیوں ٹکٹکی لگا کر دیکھ رہی ہے

جیدی تجھےکتنی دفعہ کہا ہے مجھے بیچ میں ٹوکا نہ کر میں بات بھول جاتی ہوں

میں نے کہاں ٹوکا تجھے تو نے مجھ سے ایک سوال کیا تھا اسی کا جواب دینے کی کوشش کر رہا تھا

بولنے کی کیا ضرورت تھی بس اپنا سر ہلا دیتے اور تیرا جواب بھی تو شیطان کی آنت کی طرح لمبا اور ٹیڑھا ہوتا ہے

ہاں تو میں کہہ رہی تھی کیا کہہ رہی تھی میں دیکھا نا پھر بھلا دیا مجھے یاد آگیا ۔ تو نا جب اس چھوٹے سے مونہہ سے

فلسفیانا باتیں کرتا ہے نا تو مجھے بہت بھولا بالا اور پیارا لگتا ہے اور دیکھ مجھ سے وعدہ کر کہ تو ہمیشہ ایسا ہی رہے گا

کیسا فلسفیوں کی طرح

نہیں کل رات سے تیرا ہر طرح کا فلسفہ بند میں صرف تیرےبھولے پن کی بات کر رہی تھی

شہرزاد میں نے تھوڑی دیر پہلے بھی تجھے کہا تھا کہ مجھے ایک لسٹ بنا کر دے دے کہ کل دوپہر یا شام یا جس وقت بھی

ہمارا نکاح پڑھا جاۓ اس کے بعد مجھ پر کون کونسی پابندیاں عائد کر دی جائیں گی کیونکہ آج شام کو جیسے ہی آپ نے

وہ منگنی کی انگوٹھی پہنی ہے میں آپ کے مونہہ سے صرف یہی سن رہا ہوں جیدی تو کل رات سے یا کل رات کی

سویر کے بعد صرف سانس اپنی مرضی سے لے سکے گا اس کے علاوہ تیرے سارے معاشی معاشرتی اور سیاسی حقوق

بحکم شہرزاد جاوید خان ضبط کر لئیے جائیں گے

اے جیدی رک رک زرا یہ ابھی ابھی تو نے کیا کہا زرا پھر سے کہنا تو

کیا کہا میں نے سواۓ اپنے حقوق کی ضبطی کے

ارے وہ نہیں میں اپنے نام والی بات کر رہی ہوں کیا نام لیا تھا تو نے میرا شہرزاد جاوید خان

اور کیا کہوں کیوں پسند نہیں آیا شہزادی صاحبہ کو

کیوں اپنے پاس سے بولے جا رہے ہو

I love it

سچ مجھے تو

can I give you a hug

جی نہیں اپنی حدود میں رہئیے کم از کم کل شام تک

اے ملا دو پیازہ ایک معصوم سی پیار کی جپھی دے رہی تھی میں کوئی اچھوت تو نہیں جسے چھوتے ہی تیری ساری عمر کی

تپسیا بھنگ ہو جاۓ گی اب بھی وقت ہے یہ سنسار تیرے رہنےکی جگہہ نہیں ہے تو برہمچاری قسم کا آدمی ہے بیاہ شادی

تیرے بس کا روگ نہیں میری مان سنیاس لے لے اور کسی خانقاہ وغیرہ میں جا کر رہ بڑی شانتی میں رہے گا

شہرزاد یہ آدھی رات کو مجھے بھکون گیتا کے پاٹ مت پڑھا اور جا کر اپنے کمرے میں سو جا اور مجھے بھی سونے دے

ارے تجھے سونے کی اتنی جلدی کیا پڑی ہے خوابوں میں کسی گرل فرینڈ کو ملنے کا وقت تو نہیں دے کر آیا ویسے تو

بڑا معصوم بنا پھرتا ہے لیکن ہے تو بائی نیچر ایک compulsive flirt میں نا تجھے اچھی طرح جانتی ہوں

جو تیرے جی میں آۓ کہتی جا میں نے کل کی بجاۓ آج ہی سے اپنے کان بند کر لیے ہیں

جیدی اے جیدی

کیا ہے

کیا مطلب کیا ہے میری طرف دیکھ نا میری آنکھوں میں

بہت خوبصورت ہیں کتنی دفعہ کہوں

جب تک میری سانسیں چلتی رہیں یا تمہیں دیکھتے دیکھتے بنا کچھ کہے چپکے سے ہمیشہ کے لئیے بند ہو جائیں

ایسا کیوں کہتی ہو تمہیں اچھے لگتے ہیں میری آنکھوں میں آنسو

میں چلی گئی تو تم آنسو بہاؤ گے میری یاد میں کیا

نہیں میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا

آنکھوں سے تو نہیں لیکن دل میں تو برکھا برستی رہے گی تمہاری

دل تو تیرے ساتھ چلا جاۓ گا

اور آنکھیں ان کو کیسے روک پاؤ گے وہ تو چھم چھم کرتی ہوئی تمہارے رخساروں پر آ جائیں گی

نہیں میری آنکھوں کے سوتے کبھی سرد اور خشک تو نہیں ہونگے لیکن تیری یادوں کے وہ موتی جو میری آنکھوں میں جنم

لیں گے کبھی میری پلکوں کے حصار سے باہر نہیں نکلیں گے ورنہ اندھیرے مجھے نگل لیں گے میں اپنی قوت بصارت

ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے کھو دونگا ۔ تو بھی نا عجیب لڑکی ہے مجھے کن باتوں میں لگا دیا اور سن یہ کہیں آنے جانے کی باتیں

مت کیا کر تو کہیں نہیں جا رہی مجھے چھوڑ کر تجھے لگتا ہے میں تجھے اتنی آسانی سے جانے دونگا

اے مہا شے تو کیا کر لے گا عزرائیل کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے پھسلا لے گا کیا

نہیں لیکن

I am going to have a date with destiny

بھلا وہ کیسے میں بھی تو سنوں

تو نے اپنی ماسٹرز کی ڈگری کے لئیے یونانی دیومالہ پر مقالہ لکھا تھا نا تجھے یاد تو ہو گا اس میں جو تین

fate and destiny

کدیویاں ہیں نا انھوں نے جب کسی انسان کی زندگی کا آخری فیصلہ کرنا ہو تو اس کا

life thread

کاٹ دیتی ہیں تجھے یاد ہے

اس دیوی کا نام جس نے موت اور زندگی کا یہ میکنزم چنا تھا

ہاں

Atropos

کیوں اوہ تو پرنس آف بلخ اور بخارا ایٹروپس کو اپنی باتوں کے سنہری جال میں پھنسا کر اپنی ہونے والی

دولہن کی زندگی کا دھاگہ نہیں کاٹنے دینگے ۔ جیدی تو بھی نا خدا جانے کہاں کہاں کی کوڑیاں کھینچ کر لاتا ہے اور پھر کیسے

کیسے ان کی کڑیاں آپس میں ملاتا ہے

ارے بابا ایٹروپس ایک دیوی ہی سہی لیکن ہے تو ایک عورت ہی نا تو بس باقی تو مجھ پر چھوڑ ایسا منتر پڑھونگا نا

کہ

Mount Olympus

کو چھوڑ کر میرے ساتھ یہاں گلبرگ لاہور میں گھر بسانے کے لئیے تیار ہو جاۓ گی

اچھا تو مجھے بھی وہ منتر سکھا دے تاکہ میں بھی ایک آدھ دیوتا کو اپنی زلفوں کا اسیر بنا کر لے آؤں

زرا قریب آ میرے تیرے کان میں بتاؤں گا

اچھا اب تو بھی میری طرح کانوں میں باتیں کرنے لگا ہے چل آگئی بتا اب

کیاااااااااااااا غنڈے موالی کہاں سے اور کس سے سیکھ کر آیا ہے ایسی باتیں

ہاہاہا بتا دوں تجھ سے تو میرے کان میں ہمیشہ ایسی ہی باتیں کرتی ہے

اچھااااااااا اور کیا کیا باتیں کرتی ہوں میں تیرے کان میں

کل تک انتظار کر گندی زمانے بھر کی

کل کیوں آج کیوں نہیں آ جا مل کر ریہرسل کر لیں ہاہاہا اب شرما کر بھاگ کہاں رہا ہے ہاہاہا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 125

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

میں جا رہی ہوں سونے کے لئیے اور دیکھ گھڑی میں الارم لگا کر سونا وہ نہ ہو کل پھولوں کی سیج پر میں اکیلی بیٹھی

لاٹ صاحب کا انتظار کر رہی ہوں

Kapeesh

سوؤں گا تو جاگوں گا نا صبح کے دو بجنے والے ہیں پچھلے چار گھنٹوں سے یہی کہے جا رہی ہو کہ میں جا رہی ہوں لیکن

ایک دفعہ جاتی ہو اور چار دفعہ واپس آتی ہو دیکھ میری مان یہ آنے جانے کا چکر چھوڑ اور یہیں میرے کمرے میں چادر تان

کر سو جا ایک ہی الارم میں دونوں اٹھ جائیں گے بول کیا کہتی ہے

واہ رے میاں مٹھو بڑا چہک رہا ہے آج مجھے جس چیز کی دعوت دے رہا ہے نا وہ میں نے اگر قبول کر لی تو تیری گھڑی کا الارم

صور اسرافیل سے پہلے نہیں بولنے والا پچھلے ایک گھنٹے میں تو میری زبان میں باتیں کرنےلگا ہے یہ ابھی ابھی جو تو کہہ رہا تھا نا وہ

زرا بالغوں والی باتیں ہیں اور تیری تو ابھی داڑھی مونچھ بھی نہیں آئی اس لئیے میری مان وہ باتیں مت کیا کر جس کے

معنی اور مطلب سے تو بے خبر ہے پرائی لڑکیوں کو ایسی پیشکش دوبارا مت کرنا میری تو خیر ہے مجھے تو بنایا ہی تیرے لئیے

گیا ہے شادی کر کے اپنا لے یا شادی کے بغیر میں ہر دونوں صورتوں میں تمہاری ہوں

شہرزاد تو ایک سیدھی سی بات کو سگمنڈ فرائڈ کی تھیوری بنا کر کیوں پیش کر رہی ہو میں نے تو ایک معصومانہ بات کی تھی اور

تو نے اس بات کا بتنگڑ بنا دیا تجھے نا

obsession

ہے اس طرح کی باتیں کرنے کا

because it tickles your fancy

ہے نا یہی بات مزا آتا ہے تجھے مجھ سے ایسی چھیڑ چھاڑ کرنے کا

ہاں آتا ہے تو پھر تیرے ساتھ ہی توکرتی ہوں اور میں نا تجھے نا محرم نہیں سمجھتی کیونکہ میں آسمانوں سے ہی تیرے نکاح میں آئی تھی لیکمن تو اپنی سنا ہر لڑکی کیساتھ اتنا گھل مل کر باتیں کرتا ہے جیسے ابھی اسی وقت اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر لے جاۓ گا

شیری

you are so vindictive

تو نے صرف میری بات کا بدلہ اتارا ہے ورنہ تجھ سے بہتر مجھے اور کوئی نہیں جانتا

میرے ساتھ یونیورسٹی میں جتنی بھی لڑکیاں پڑھتی ہیں وہ صرف میری کلاس فیلوز ہیں میری ان سے دوستی نہیں ہے وہ

میرے بارے کیا سوچتی ہیں یا کہتی ہیں مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں اور تو نا صرف ان کو جانتی ہے بلکہ اب تک ان سب

کا انٹرویو بھی لے چکی ہے تیرا کیا خیال تھا کہ مجھے اس بات کا پتہ نہیں چلے گا

چل گیا ہے تو کیا ہوا کیا کرلے گا تو ہم عورتیں ایسی ہی ہوتی ہیں کپڑے کی دوکان پر دو گز لٹھا خریدنے جائیں گی تو دوکاندار

سے ہر رنگ کے دس تھان کھلوا کر دیکھیں گی اور تو تو جیتا جاگتا بھاگتا دوڑتا انسان ہے اور اوپر سے میرا ہونے والا

شوہر نامدار بھی تجھے کیا لگتا ہے تیرا حسب و نسب جانے بغیر میں تجھ سے شادی رچانے بیٹھ جاتی مانا کہ میں بہت سیدھی

سادھی لڑکی ہوں مجھے زیادہ ول فریب بھی نہیں آتے مگر سودا خریدنے سے پہلے اسے ٹھوک بجا کر ضرور دیکھتی ہوں

اور وہ ایرانی لڑکی کیا بھلا سا نام تھا اس کا سورایا اسفندیاری وہ تو تیرے ڈیپارٹمنٹ کی بھی نہیں اور تیرے اپنے الفاظ

کے مطابق وہ صرف تجھ سے ملنے اور تیرے ساتھ ٹیبل ٹینس کھیلنے ہر روز اکنامکس ڈیپارٹمنٹ آتی تھی مجھے پنجاب

یونیورسٹی کو خیرباد کہے صرف ایک سال کا عرصہ گذرا ہے تجھے کیا لگتا ہے مجھے یاد نہیں رہا کہ تیرے اور تیری چہیتی کے

بلاکس میں اور کتنے ڈیپارٹمنٹس آتے ہیں اور ٹیبل ٹینس روم تو ہر بلڈنگ میں تھے لیکن اسے پانچ دریا پارکر کے صرف

وہیں تیرے ہاس کیوں آنا ہوتا تھا ۔ تیرے ساتھ ٹیبل ٹینس کی گیم کھیلنے یا پھر کوئی اور کھیل تم دونوں کے بیچ چل رہا تھا

ارے تو میرے بیوی بننے جا رہی ہے یا میری ساس ۔ خدا جانے کیوں وہ لڑکی تیرے اعصاب پر سوار ہو گئی ہے اور

یہ سوال اسی سے جا کر پوچھ خداکی پناہ دو لڑکیوں کے بیچ میں سینڈوچ بنکر رہ گیا ہوں میں سچ ہی کہتی تھی وہ تیرے

بارے میں کون ۔ کس کی بات کر رہا ہے تو ۔کیا کہا اس نے میرے بارے میں

سورایا اور کون کیا کہا اس نے اور کیوں کہا مجھے تو وہ ٹھیک طرح سے جانتی بھی نہیں پھر اسے کیا حق پہنچتا ہے میرے بارے میں کسی

بھی قسم کی راۓ قائم کرنے کا لیکن یہ بعد کی بات ہے پہلے یہ بتا اس نے کہا کیا

and it better be good

ورنہ

ہوائی فائرنگ مت کر اس نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ ‘ جیدی باقی تو ٹھیک ہے خوبصورت ہے زہین بھی ہے لیکن

لیکن کیا تجھے میں میں نے ہزار دفعہ کہا ہے آدھ میں بات مت چھوڑا کر مجھے اختلاج قلب کی بیماری ہے

دھیرج رکھ زرا اور یہ دو دو منٹ بعد بیچ میں کیوں ٹپک پڑتی ہے اسی لئیے میری بات کبھی ختم نہیں ہو پاتی اور فکر مت

کر اس نے کوئی بد تعریفی نہیں کی صرف اتنا ہی کہا تھا کہ تھوڑی شکی مزاج کی ہے

یہ کہا اس تخت جمشید کی وارث نے حرافہ کٹنی کہیں کی اور وہ بھی میرے ہونے والےشوہر کی موجودگی میں خیر اس سے

تو میں کل اپنی رسم نکاح سے پہلے ہی نپٹ لونگی ورنہ میرے دل کی آگ کیسے ٹھنڈی ہوگی اس کی وہ خوبصورت سی چٹیا نہ

کاٹی تو میرا بھی نام شہرزاد نہیں لیکن اس سے پہلے تو بتا جواب نہیں دے سکتا تھا اسے یا اس نے اپنے پیار کی گنگنیوں سے

تیرا مونہہ پہلے ہی سے بند کردیا تھا

Casanova

کہیں کا مجھے کہتا تھا ‘ شہرزاد کل ہماری شادی کی پہلی رات ہو گی جو

آنے والی ہزاروں راتوں کی امین ہو گی ‘ ارے تجھ سے بڑا خائن تو میں نے نہ آج تک دیکھا اور نہ ہی سنا اپنی منگیتر کی

موجودگی میں ہی اپنی سابقہ گرل فرینڈ کی باتیں کر رہا ہے کلجگ آ گیا ہے کلجگ

مائی گاڈ جنت مکانی ڈاکٹر اسرار احمد کہا کرتے تھے کہ لوگ اتنے دھڑلے سے سب کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں لیکن ان

کی زبان پر ایک چھالہ تک نہیں نکلتا نہ تو سورایا میری گرل فرینڈہےاور نہ ہی میں نے تجھ سے یہ ہزار راتوں والا

ڈائیلاگ کبھی بولا کہاں سے اس طرح کی خرافات پڑھ کر آتی ہے

ہاں ہاں تو نے تو نہیں کہا لیکن اس طرح کی الف لیلوی زبان صرف تجھے ہی آتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ بات میں

نے تیری پرسنل ڈائری میں ہی پڑھی ہوگی ارے ہاں اسی سے مجھے یاد آیا یہ تو نے اپنی ڈائری کہاں چھپا کر رکھی ہے

کیوں بتاؤں تجھ ہی سے تو چھپائی ہے چور چھپ چھپ کر لوگوں کی زاتی ڈائری پڑھتی ہے

اے دے مجھے اپنی ڈائری میں نے تیرے کمرے کے پاس سے گذرتے ہوۓ تجھے اس میں کچھ لکھتے ہوۓ دیکھا تھا

مجھے دیکھنا ہے کہ تو نے کیا لکھا تھا بتا مجھے کیا لکھ رہا تھا اور دیکھ جھوٹ نہیں بولنا مجھ سے

ارے بابا تم بھی نا بچوں کی طرح ضد کرتی ہو ایسے ہی دو چار آڑھی ترچھی لائینیں کھینچی تھیں آنے والے دن کے بارے میں

تمہارا مطلب ہے آنے والی رات کے بارے میں کیا لکھا ہے تو نے نہیں بتانے کی ضرورت نہیں میں خود پڑھونگی دے

مجھے ڈائری ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا

تیرے سے برا تو ویسے بھی کوئی نہیں ہے لیکن میں تجھے ابھی سے بتاۓ دیتا ہوں کہ تیرے پڑھنے کی چیز نہیں ہے لیکن اگر

تو یہ تیری ضد ہے تو جا میرے تکیے کے نیچے پڑی ہے لیکن بعد میں چھپتی نہیں پھرنا اور نہ ہی مجھے برا بھلا کہنا

اب تو یہ میری ضد نہیں بلکہ مجبوری ہے کیونکہ اسے پڑھے بغیر مجھے نیند نہیں آۓ گی ساری رات یہی سوچتی رہونگی کہ

آخر تو نے اس میں ایسا کیا لکھا جو تو نہیں چاہتا کہ میں اسے پڑھوں ۔ اے چل دونوں

compromise

کر لیتے ہیں

کیسا سمجھوتا میرا مطلب ہے کس طرح کا

compromise

میرے کان میں بتا دے تھوڑا سا یا زیادہ سا یا اس سے بھی زیادہ

ٹھیک ہے آ جا میرے قریب اور دیکھ غور سے سننا دوسری دفعہ نہیں کہونگا کیونکہ پھر مجھے خود بھی شرم آۓ گی کہتے ہوۓ

اچھا ایسی بات ہے کیا

ہاں ہے تو کچھ ایسی ویسی ہی اور چپکے سے سن اب

بول ارے تھوڑا زور سے تو بول ہاں اونہوں اور پھر اچھا مجھے کیا کرنا ہے کیا کہا تونے زرا پھر کہہ جے دی ی ی

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 126

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

ناک ناک ناک ناک

جیدی دروازہ کیوں کھٹکھٹا رہا ہے میرا تیری طبیعت تو ٹھیک ہے نا یا اکیلے میں ڈر لگ رہا ہے تجھے اور سن ہم دونوں کے

کمرے میں یہ دروازہ مشترک ہے اور دروازے کے صرف کواڑ بند ہیں لاک نہیں ہے اور اگر نیند نہیں آ رہی تو آ جا

بیٹھکر باتیں کریں گے

ارے بابا میں سوؤں کیسے تو اتنی زور زور سے گنگنا رہی تھی یا پھر گا رہی تھی سارے محلے کو اٹھاۓ گی کیا اور توکر کیا رہی

ہے اور یہ گیت کس خوشی میں گاۓ جا رہے ہیں کسی کی بارات آنے والی ہے کیا

ہاں میری تجھے پتہ نہیں کیا اور کیوں میں اپنی شادی پر خود گیت نہیں گا سکتی کیا اور میری آواز تیرے کانوں پر اتنی گراں

گذر رہی ہے تو ان میں روئی ڈال لے اور یہ دروازا کوئی انڈیا پاکستان کا بارڈر نہیں جسے کراس کرنے پر تجھ پر کوئی گولی چلا

دیگا اور تو نے پوچھا تھا کہ میں کیا کر رہی تھی تو تجھے کیوں بتاؤں کہ میں اپنی شب زفاف کا قصہ تیری ڈائری میں پڑھ رہی

تھی اور تو بھی نا پورا

party pooper

ہے نہ خود مزا لیتا ہے نہ ہی کسی اور کو مزا لیتے ہوۓ دیکھ سکتا ہے عین اسی

وقت جبکہ دولہا دولہن کا گھونگھٹ اٹھا رہا تھا تو نے دروازے پر زور زور سے دستک دینی شروع کر دی سارے

Climax

کا ہی ستیاناس کر دیا

میں تو چلا واپس اپنے بستر میں تو نا بیٹھ کر اپنے خیالوں کو گدگدی کرتی رہ بے شرم اور پلیز اپنی آواز کو زرا اپنے ہی

کمرے تک محدود رکھ مجھے تیرے آنے والے دن کی رات کی الف لیلی نہیں سننی بائی خدا حافظ اللہ بیلی اور سن

وہ

climax

تھوڑا ہی تھا

ارے سن تو کہاں بھاگے جا رہے ہو اپنی ہونے والی نئی نویلی دلہن کوچھوڑ کر راستے میں

سنانہیں تو نے کبھی شادی سے پہلے دولہا دولہن کا ایک دوسرے کو دیکھنا بد شگونی سمجھا جاتا ہے

جیدی یہ سب پرانے زمانے کے ڈھکوسلے

grandma tales

ہیں اور ویسے بھی ابھی پانچ منٹ پہلے تک تو

تو میرے ساتھ چپک کر بیٹھا ہوا تھا اس وقت تجھے یہ بڑی بوڑھیوں کے قصے کہانیاں یاد نہیں آئیں

میری امی جان کہتی ہیں نیک کام کرنے کے لیۓ کسی وقت کا انتظار نہیں کیا جاتا نیت کرو اور فوری طور پر کر ڈالو

ارے جیدی ہم دونوں نے شادی کی ساری پلاننگ اکیلے اکیلے کر تو لی ہے لیکن تم نے ابھی اپنی امی جان سے اجازت تو لی

ہی نہیں اگر وہ ہماری شادی کے لیۓ رضامند نہ ہوئیں تو پھر کیا ہو گا

پھر وہی ہو گا جو منظور امی جان ہو گا میرا مطلب ہے منظور خدا ہو گا تمہیں جلدی پڑی تھی شادی کی اب بھگتو

ارے خدا تمہیں پوچھے میں نے کب کہا تھا کہ مجھے ابھی اسی وقت شادی کرنی ہے جھوٹ کیوں کہہ رہے ہو

اچھا تو وہ دن میں دس اور رات کو بیس بار کون کہتا ہے جیدی

my biological clock is ticking

تو غلط تھوڑی نا کہتی ہوں میری نانی اور دادی جان بیس سال کی عمر میں دو دو بچوں کی مائیں بن چکی تھیں اور مجھے

چھوڑ تیری امی جان بھی تو یہی کہتی تھیں اور میں تو پورے تئیس برس کی ہو چکی ہوں اور اب تو بالوں میں بھی ہلکی سی

چاندی اتر آئی ہے اور دیکھ مجھے نا چالیس سال کی عمرمیں ماں بننے کا کوئی شوق نہیں میں اپنے ہونے والے بچوں کی اگر

دوست نہیں تو بڑی بہن لگنا چاہتی ہوں ان کی نانی دادی نہیں ارے مردوں کا کیا ہے وہ تو سو سال کی عمر میں بھی

باپ بن سکتے ہیں لیکن عورتوں کے پاس اس طرح کی کوئی

luxury

نہیں ایک دفعہ وقت گذر گیا تو ساری زندگی پھر ساس اور نندوں کے زہر یلے طعنے سننے کو ملیں گے

شہرزاد تیرا کوئی

hormonal imbalances

کا پرابلم تو نہیں ہے ایک منٹ میں پتہ نہیں کہاں سے کہاں چلی جاتی ہو

میرے ہارمونز میں کوئی خرابی نہیں ارے دروازہ تو کھول یا سرحد پار سے ہی باتیں کرتا رہے گا

صرف ایک آدھ منٹ رکونگا

are you properly dressed

نہیں

birthday suit

میں ہوں کیا ہو گیا ہے تمہیں میں اپنے بستر میں لیٹی ہوں باتھ ٹب یا شاور میں نہیں

کیا پتہ سرپھری تو ہے کچھ بھی کسی وقت بھی کر سکتی ہو اور یہ کیرم بورڈ گیمز روم کی بجاۓ یہاں تیرےکمرےمیں

کیا کر رہا ہے رات کو اٹھکر چھپ چھپ کر پریکٹس کرتی ہو کیا مجھے ہرانے کے لئیے

بورڈ کی پاکٹس پھٹ گئی تھیں نوکر سے کہا تھا امی جان کے پاس لے جا وہ نئی پاکٹ لگا دیں گی وہ غلطی سے

میرے کمرے میں چھوڑ گیا ہے

چلو اچھا ہےکل شادی کے ہنگامےکے بعد میاں بیوی بیٹھ کر کیرم کی بازی لگائیں گے بول کیا کہتی ہے

کل ہماری شادی ہے ۔ ہے نا ۔ اورکل شام جب سارے مہمان اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے تو پھر ہم اکیلے رہ

جائیں گے صرف میں اور تم اور اس کے تھوڑی دیر بعد رات شروع ہو جاۓ گی ٹھیک کہہ رہی ہوں نا میں جیدی

شہرزاد یہ اتنی لمبی چوڑی تمہید کس چیز کے لئیے باندھی جا رہی ہے

ایک بات تو بتا ‘ تو انسان کے روپ میں گدھا ہے یا پھر گدھے کے روپ میں انسان’

ارے تم گالی گلوچ پر کیوں اتر آئی ہو ایسا کیا کہہ دیا ہے میں نے آخر

جیدی اب تیرے مونہہ سے اگر ایک بھی اور لفظ نکلا نا تو میں نے تیرا سر پھاڑ دینا ہے اتنا تو میں جانتی کہ تو سیدھا سادھا

بھولا بھالا انسان ہے لیکن

damn it

تجھے تو گھر کی بجاۓ مال مویشیوں کےساتھ اصطبل میں کسی کھونٹے کیساتھ

باندھ کر رکھنا چاہئیے ارے الو کی دم فاختہ کل ہماری شادی کی پہلی رات ہو گی جو زندگی میں ایک ہی دفعہ آتی ہے اور

تو مجھے کہہ رہا ہے کہ ہم دونوں بیٹھ کر ساری رات کیرم کھیلیں گے

ارے بابا میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا تھا کیرم نہیں کھیلنا چاہتی تو نہ سہی تاش کھیل لیں گے کیا فرق پڑتا ہے مطلب

تو

relax

کرنے سے ہے سارے دن کی دوڑ دھوپ کے بعد دونوں تھک گیۓ ہونگے

اس لئۓ

anything to take your mind off

کیوں ٹھیک کہا نا میں نے

ارے واہ مجھے یہ آئیڈیا کیوں نہیں آیا

my husband to be , the genius

ڈفر زمانے بھر کا اگر شادی کے بعد ہم

نے یہی کچھ کرنا ہے تو شادی کی بھلا کیا ضرورت ہے پانچ چھ کیرم بورڈ اور چند تاش کی گٹھیاں لے آئیں گے اور

بڑے آرام اور چین سے ہماری زندگی گذر جاۓ گی کتنی

ideal life

ہو گی نا ہماری جیدی ہے نا

مذاق اڑا رہی ہو میرا میں نے ایسے تو نہیں کہا تھا تم نے میری آدھی بات سن کر ہی فیصلہ بھی سنا دیا ہمیشہ کی طرح

اب بات کیوں بدل رہے ہو تم نے ابھی ابھی تو کہا تھا کہ ہم رات کو کیرم کھیلیں گے کہا تھاکہ نہیں

ہاں کہا تھا لیکن بعدمیں پہلے نہیں

ارے کیا بعد اور کیا پہلے پہیلیوں میں کیوں بات کر رہا ہے صاف کیوں نہیں کہتا

ایسے نہیں کہہ سکتا نا میں تیرے جیسا تھوڑا ہی ہوں ادھر آ میرے پاس تیرے کان میں کہونگا

بول کیا کہنا ہے

شہرزاد کیا ہوا کمبل میں مونہہ کیوں چھپا رہی ہے اب خود ہی تو پوچھا تھا تو نے

گندا ۔ بے شرم ۔ نکل میرے کمرے سے اور کل رات سے پہلے مجھے اپنی شکل نہ دکھانا

بھولا بھالا نا

my foot

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 127

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

جیدی ارے اٹھ نا گھوڑے بیچ کر سویا ہے کیا

تھوڑی دیر اور پلیز ابھی ابھی تو سویا تھا اور تو کیوں ستی سویرے اٹھکر بیٹھ گئی ہے جا تو بھی جا کر سو جا اور جانا بھی

کیا ادھر ہی بستر کی دوسری طرف لیٹ جا اتنے بڑے بڑے بیڈ تو چوپالوں میں رکھے جاتے ہیں آ جا یہ فالتو تکیہ جو ہے

نا وہ تو لے لے

اے نوشے میاں your offer is very tempting لیکن تو اگر ایک منٹ میں بستر سے باہر نہ نکلا تو میں نے ٹھنڈے

پانی کی پوری بوتل تیرے اوپر انڈیل دینی ہے

اچھا بابا اٹھتا ہوں لیکن ایک بات تو بتا تمہارے ہاں کسی مہمان کے بیڈ روم میں کھٹکھٹا کر جانے کی رسم نہیں ہے کیا

یا پھر تم لوگ کمیٹی کے بیل کی طرح کہیں بھی گھس جاتے ہو کیا زمانہ آ گیا ہے ایک جوان اور حسین لڑکی ایک

میرے جیسے گھبرو جوان لڑکے کے کمرے میں بغیر چنی دوپٹے کے see through nightie پہنے ہوۓ ایک خواب

کی طرح چلی آتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں اور محترمہ شہرزاد اپنے جسم کی نمائیش شریف بہو بیٹیوں کا چلن نہیں ہوتا

کیوں تم بھی تو میرے کمرے میں ایسے ہی

un-announced

چلے آتے ہو میں نے توکبھی تم پر اعتراض نہیں کیا

جھوٹ کیوں کہہ رہی ہو میں کبھی بھی تمہارے کمرے میں نہیں آیا خاص کر جب تم سورہی ہو

ہاں ہاں مجھے پتہ ہے تم کبھی میرے کمرے میں نہیں آۓ لیکن آ تو سکتے تھے نا میں نے تمہیں تھوٗا ہی نا منع کرنا تھا

رہی بات نائٹی کی تو میں سونے والے کمرے سے نائٹی نہیں تو کیا جلباب پہن کر نکلوں گی اور تمہاری اطلاع کے لئیے

یہ نائٹی

two layers

میں بنی ہوئی ہے انسان کا جسم نظر نہیں آتا اس میں سے اور ویسے بھی تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

پڑتا ہے فرق کیوں نہیں پڑتا میں مرد نہیں ہوں کیا اس طرح کی چیزیں انسان کے سفلی نفسانی اور حیوانی جذبات کو ہوا

دیتی ہیں ہمارا مذہب اس چیز کی قطعی اجازت نہیں دیتا کہ خواتین اس قسم کا لباس پہنیں جن سے سارا جسم

چھلک رہا ہو اس لئیے آپ کو میری موجودگی میں زرا احتیاط برتنی چاہئیے

ارے مولانا بلخی صاحب جب میں نے کہا کہ آپ کو کیا فرق پڑتا ہے تو میرا کہنے کا مطلب تھا کہ آپ کبھی میری طرف

نگاہ اٹھا کر تو دیکھتے نہیں کہ کہیں خدا خواستہ آپ کا وضو ہی نہ ٹوٹ جاۓ کہ میں تو جنم جنم کا برہمچاری ہوں میں نے ایک

بیچاری ابلا ناری کے شریر کو نظربھر کر دیکھ لیا ہے اب تو مجھے کبھی بھی مکتی نہیں ملے گی ٹھیک کہا نا میں نے سادھو مہاراج

اوش سے بالکے اوش سے اب بھاگ میرے کمرے سے یہ مہابھارت ہم بعدمیں کسی اور وقت پڑھ لیں گے

جب بھی بھاگوں گی تجھے ساتھ لیکر ہی بھاگوں گی لیکن اب تو اس بات کی کبھی ضرورت نہیں پڑے گی انشااللہ چند ہی

گھنٹوں کی بات ہے اور پھر ہم دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے ایک ہی بندھن میں باندھ دئیے جائیں گے ارے تم نے مجھے کن

باتوں میں الجھا لیا ہے

out of bed , right now

ابھی اٹھ وقت نہیں ہے ہمارے پاس بعد میں بے شک ساری عمر

سوتے رہنا اور سن شاور بعد میں لینا پہلے نیچے جا کر اپنی امی جان کو فون کر نیچے جانے کی بھی ضرورت نہیں تیرے بیڈ

کیساتھ سائڈ ٹیبل پر ٹیلی فون

extension

پڑی ہے اسی سے کر لے تجھے بات کرنے کےلئیے

privacy

چاہئیے ہو گی

اس لئیے میں نیچے جا رہی ہوں مجھے ایک دو اور کام بھی نپٹانے ہیں

ارے بھاگ کہاں رہی ہے بیٹھ ادھر میرے پاس میں نے امی سے کونسے راز و نیاز کرنے ہیں اور اگر کرنے بھی ہوں

تب بھی تجھ سے تھوڑی نا چھپاؤں گا اور ویسے بھی مجھے پتہ ہے امی نے کیا کہنا ہے

تجھے کیسے پتہ وہ کیا کہیں گی اور اب تو مجھے تھوڑا ڈر سا محسوس ہونے لگا ہے ۔ جیدی اگر انہوں نے شادی سے انکار

کر دیا تو پھر کیا کریں گے ہم دونوں

کریں گے کیا برف کے ٹھنڈے اور میٹھے گولے بنا بنا کر کھائیں گے یا پھر فلموں کے ہیرو ہیروئین کی طرح ہجر و وصال کے

گیت گائیں گے ارے ہاں تم تو انگریزی میڈیم کی ہوں تمہیں کہاں ہمارے گیت آتے ہونگے خیر کوئی بات نہیں تم ایسا

کرنا کہ لارڈ بائرن کے اشعار ہی افسردہ سا چہرہ بنا کر زرا ترنم سے پڑھ دینا

جیدی کےبچے میری جان پر بنی ہوئی ہے اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے اٹھ اورجلدی سے فون کر اب میرا اور کسی کام میں

دھیان بھی نہیں لگے گا جب تک تمہاری امی جان ہاں نہیں کہہ دیتیں اور یہ تو کیا کہہ رہا تھا کہ تجھے پہلے سے ہی پتہ ہے

وہ کیا کہیں گی کیوں انہوں نے تجھ سے اس بارے میں پہلے کبھی بات کی ہے اور اگر کی تھی تو مجھے کیوں نہیں بتایا

شہرزاد اب اپنی زبان میں زرا بریک لگا اور ایک لمبا اور ٹھنڈا سا سانس لے اتنا بولتی ہے تھک گئی ہو گی میں نے امی سے

تیرا زکر تو ضرور کیا ہے لیکن شادی وادی کی بات کبھی نہیں کی آپ شائد بھول گئی ہیں کہ میں ابھی یونیورسٹی میں پڑھ

رہا ہوں برسرروز گار نہیں ہو گیا کیکن میں تو یہ کہنے لگا تھا کہ جیسے ہی میں نے امی سے شادی کی بات کی آگے سے ٹک سے

جواب آۓ گا ‘ جیدیاں تیرے جیسا سست لڑکا میں نے آج تک نہیں دیکھا لڑکی بھی خود ڈھونڈی ہے توباقی کام بھی خود ہی

کر لے آجازت بعد میں لے لینا مجھے تو صرف ایک عدد خوبصورت سی پیاری سی بہو چاہئیے ‘

سچ تجھے پکا یقین ہے نا ایسا ہی کہیں گی

بالکل پکا فکر نہ کر تونے جو آج رات کے لئیے سات سہاگنوں کا رنگا رنگ پروگرام بنا رکھا ہے نا اسے میں نے خراب تھوڑا

ہی نا ہونے دینا ہے بس اس میں جو رول میں نے پلے کرنا ہے اس کی ریہرسل مجھے زرا ایک دو دفعہ کرا دینا

کس پروگرام کی بات کر رہے ہو بلخی صاحب زرا ہمیں بھی تو پتہ چلے

اب ایسی بھولی بھی نہ بنیے آپ نام شہرزاد ہے تو الف لیلی کی ایک ہزار ایک راتوں میں سے کسی ایک رات کی کہانی تو

آپ نے اپنی شب زفاف کے لئیے چن کر رکھی ہو گی اپنے شہزادے کو سنانے کے لیے

اچھا جی تو آپ نے الف لیلوی رات کی ریہرسل کرنی ہے میرے ساتھ ٹھیک ہے مجھے تو کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر

آپ کی ہونے والی دولہن کو پتہ چل گیا تو ہم دونوں کی چھٹی کر دینی ہے اس نے

ارے بابا یہاں اس کمرےمیں ہم دونوں کے سوا کوئی تیسرا تو ہے نہیں

and I am not going to tell her if you don’t

تو کیاکہتی ہیں شروع کریں ہم ریہرسل

گنڈے موالی بدمعاش لفنگے تجھے کوئی اور لڑکی نہیں ملی تو اپنی ہی ہونے والی بیوی کیساتھ فلرٹ کر رہا ہے خیر تو بھی نا

کیا یاد کریگا چل تیار ہو جا

your rehearsal starts now

ارے ارے ارے دور ہٹ میرے پاس سے بے شرم کہیں کی

ہاہاہا اب بہت دیر کر دی ہے تو نے دعوت دینے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا تجھے نوشے میاں

جل تو جلال تو ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 128

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

ارے میں اپنے آدھے سے زیادہ کام نپٹا بھی آئی ہوں اور تم ابھی تک اپنے نائٹ سوٹ میں ہی بیٹھے ہوۓ ہو کیا بات ہے

تیار نہیں ہونا کہیں واپس بستر میں گھسنے کا ارادہ تو نہیں ہے تمہارا ارے ہاں امی سے بات ہو گئی تمہاری کیا کہا انہوں نے

اور مجھے کیوں نہیں بلایا میں بھی ان سے علیک سلیک کر لیتی تم بھی نا بس اپنی ہی دنیا میں رہتے ہو پتہ نہیں کب دنیا کے

طور طریقے سیکھو گے خیر کوئی بات نہیں آج کے دن میں نے تیرے ساتھ کوئی لڑائی یا فضول قسم کی بحث نہیں کرنی

ارے مونہہ میں گھونگنیاں ڈال کر بیٹھا ہے یا چپ کا روزا رکھا ہوا ہے تو نے کچھ تو بول اتنی دیر سے میں اکیلی ہی بولے

چلی جا رہی ہوں میری طرف دیکھ تمہارے چہرے پہ یہ بارا کیوں بجے ہوۓ ہیں کسی نے کچھ کہا کیا میری امی نے کچھ

کہہ دیا جیدی

you are freaking me out

ارے تو تو رو رہا ہے لو یہ تو کمال ہو گیا ہم نے تو آج تک یہ ہی سنا تھا کہ

بدائی کے موقعہ پر لڑکیاں بابل کا گھر چھوڑتے وقت لمبے لمبے ٹسوے بہاتی ہیں اور یہاں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے

اوہ اب سمجھ آئی یہ کہیں

pre wedding jitters

تو نہیں ارے تو اس میں آنسو بہانے کی کیا ضرورت ہے اگر تجھے

اتنا ہی ڈر لگ رہا ہے تو چل شادی ہی نہیں کرتے جیسے اب تک بواۓ فرینڈ گرل فرینڈ بن کر رہ رہے ہیں آگے بھی ایسے

ہی کام چلا لیں گے کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں لوگ تو یہی سمجھیں نا کہ شادی شدہ ہیں بڑے سیانے بنے پھرتے ہیں

اور تو تو جانتا ہی ہے کہ یہ شادی بیاہ کا

institution has become a thing of the past

سارے مغربی ممالک

اور امریکہ وغیرہ میں تو لوگ چرچ میں شادی وغیرہ کے چکروں میں ہی نہیں پڑتے اور میاں بیوی ایک دوسرے کو

پارٹنرز کہتے ہیں چل اپنا رونا دھونا بند کر اب اور ہاں اپنی امی کی بھی فکر نہ کرنا انھیں ایک عدد خوبصورت بہو چاہئیے مل

جاۓ گی میں سات سنگھار کر کے گھونگھٹ نکال کر بیٹھ جاؤنگی اور تو بھی نا وہ

Arabian nights

والی پوشاک پہن لینا

ارے وہی سر پر پگھڑی چوڑی دار پائجامہ اور پاؤں میں کھسہ پورے کارٹون لگو گے لیکن کوئی بات نہیں تم نے کونسی ساری

عمر کے لئیے پہننا ہے بس ایک چھوٹا سا

photo session

کر لیں گے تھوڑی سی تصویریں اتروا کر تمہاری امی جان

کو بھیج دیں گے دیکھا کھڑے کھڑے میں نے تیرے سارے مسلے حل کر دئیے بیوی ہو تو ایسی

شہرزاد ایک بات تو بتا تجھے گھٹی کس نے دی تھی اور کیا دی تھی خدا کہ پناہ بولنے پر آتی ہو تو بولتی چلی جاتی ہو ابھی کچھ کہنا رہ گیا ہو تو اپنے دل کی حسرت نکال لو بعد میں شکائیت نہ کرنا ورنہ مجھے بھی بولنے کا موقعہ دو

ارے بابا وہی تو تم کر نہیں رہے تھے اس لئیے میں نے سوچا تمہارے حصے کا بھی میں ہی بول لوں

جی ہاں کیوں نہیں آپ جب سے میری زندگی میں آئی ہیں آپ نے سب کچھ تو

take over

کر لیا ہے میرے ہاتھ پاؤں

کے ناخن کاٹتی ہیں بال تراشتی ہیں ‘ جیدی اگر حجام نے جلدی میں بالوں کیساتھ تیرے کان بھی کاٹ ڈالے تو کیا ہو گا

نا بابا نا میں ایسا خطرہ مول نہیں لے سکتی مجھے تو سیدھا سادھا تو قبول ہے لیکن ایک کان کٹے کیساتھ شادی نا بابا نا’

کھانا آپ مجھے خود اپنے نازک نازک خوبصورت ہاتھوں سے کھلاتی ہیں کوئی کام ایسا رہ گیا جو مجھے خود کرنے کی آجازت ہو

سواۓ شاور لینے اور کپڑے بدلنے کے اور لگتا ہے کہ کل سے

کل سے کیا تجھے کتنی دفعہ کہا ہے میں نے ادھورے جملے مت بولا کرو مجھے کچھ ہونے لگتا ہے بول کیا کہنے جا رہا تھا

ارے کچھ نہیں ایسے ہی تم بھی نا زبان ہی پکڑ لیتی ہو کچھ اور بات کرو

نہیں تم یہی کہنے جا رہے تھے نا کہ کل سے یعنی ہماری شادی کے بعد سے تمہیں نہلانے کا کام بھی مجھے ہی کرنا پڑیگا

تو ٹھیک ہے کر لیا کرونگی کل سے پریکٹس شروع

پریکٹس کس چیز کی پریکٹس تمہاری بات میرے پلے نہیں پڑی

ارے بھئی سیدھی سی تو بات ہے کل سے تمہیں نہلانا دھلانا شروع کرونگی تو سال چھ مہینے میں اچھی خاصی پریکٹس ہو

جاۓ گی مجھے اتنی دیر میں ہمارے بچے آ جائیں گے اس میں پلے نہ پڑنے والی کونسی بات تھی

شہرزاد زرا آہستہ نہیں بول سکتی کوئی سن لے گا تو کیا کہے گا

ارے سن لیگا تو سن لے میں لوگوں کو جوتوں کی نوک پر رکھتی ہوں یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے ان سے مطلب لیکن

یہاں ہم دونوں کے سوا ہے کون آپ شائد بھول گئیں کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے اور یہ تو ماشااللہ آپ کے گھر کی دیواریں ہیں

کیا مطلب ہے تمہارا ‘ میرے گھر کی دیواریں ہیں ‘ کیوں تمہارے گھر کی دیواریں کیا مختلف ہوتی ہیں

نہیں لیکن آپ کی دیواروں کے کان بھی آپ کی طرح ضرورت سے زیادہ لمبے بھی ہیں اور ان کی زبان بھی ماشااللہ آپ

کی طرح ہے جانے ہماری باتیں کس کس کو سناتی پھریں گی اور کیا کیا لگائی بجھائی کریں گی

اے لڑکے تو اپنی ہوش میں تو ہے میں اپنے گھر کی باتیں پراۓ لوگوں سے کرتی پھرتی ہوں اور ایک بات تو بتا جب سے

تو اس گھر میں آنا شروع ہوا ہے کتنے لوگوں کو ہمارے گھر آتے ہوۓ دیکھا ہے اور میں تو چوبیس گھنٹے تیرے ساتھ ہی

ہوتی ہوں گذشتہ تین ماہ میں جب سے تم میری زندگی میں آۓ ہو میں نے ایک ایک لمہے ایک ایک پل میں اتنی زندگیاں گذار

دی ہیں جتنی لوگ اپنی ساری زندگی میں نہیں گذارتے تم سے پہلے تو میں ایک ایسی زندہ شدہ لاش تھی جسے ابھی کفن نہیں

پہنایا گیا تھا سبھی ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا کہ یہ چند ہفتوں یا مہینوں کی مہمان ہے تو نے خود میری میڈیکل رپورٹس

دیکھی ہیں میں خود اپنی زندگی سے مایوس ہو چکی تھی لیکن تیرے آتے ہی میری رگوں میں پھر سے خون دوڑنے لگا پھر سے زندہ

رہنے کی خواہش جاگ اٹھی یہ سب تیری وجہ سے ہے جیدی یہ زندگی تیری دی ہوئی ہے اور تو کہتا ہے کہ میں تیری باتیں

دوسرے لوگوں کو بتاؤں گی میرے تو خواب بھی تیرے بغیر ادھورے ہوتے ہیں میری تو ساری زندگی کا کوئی بھی لمحہ تیرے

یا تیری یادوں کے بغیر نہیں گذرا میں تیرا چبوڑا ہوا کھانا کھاتی ہوں تیری پسند کے کپڑے پہنتی ہوں اور تو اور میں تو باتیں

بھی وہ کرتی ہوں جو تجھے پسند ہیں ادھر میری طرف دیکھ اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ کہ میں جھوٹ بول رہی

ہوں نہیں نا تیرے آنے سے پہلے میں نے کانوں میں کہنے والی باتیں نہ کبھی سوچیں نہ کہیں یہ تو میں نے ایک دن غلطی سے

تمہاری زاتی ڈائری کے چند اوراق پڑھ لئیے اور جو کچھ تو نے میرے بارے میں لکھا ہوا تھا اور اب تمہارے گالوں پر

شرم سے ڈمپل کیوں پڑنے شروع ہو گئیے ہیں لکھتے ہوۓ شرم نہیں آئی تھی تمہیں ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ اس دن کے

بعد سے میں نے اسی طرح کی باتیں کرنی شروع کر دیں جس طرح کی باتیں تو میرے بارے میں لکھتا تھا

جھوٹی زمانے بھر کی تو نے غلطی سے میری ڈائری پڑھ لی تھی ارے غلطی آدمی ایک یا دو دفعہ کرتا ہے تو تو ہر روز نماز

بعد میں پڑھتی ہے پہلے میری ڈائری کو دس دفعہ الٹ پلٹ کر دیکھتی ہے کہ کہیں کوئی لفظ یا فقرہ تمہاری آنکھوں سے

اوجھل نہ رہ جاۓ اور سن وہ میری پرسنل ڈائری ہے جو جی میں آۓ گا لکھونگا تجھے میں نے دعوت نہیں دی تھی اسے

پڑھنے کی تو تو اسے ایسے پڑھ رہی ہوتی ہے جیسے اس پر کوئی مقالہ لکھنے کا ارادہ ہو

ارے نہیں پانچ دفعہ تو تیرے سامنے پڑھتی ہوں اور دس دفعہ باتھ روم میں چھپ کر پڑھتی ہوں مزا آتا ہے مجھے تیری

باتیں پڑھنے کا اور تجھے اعتراض کس بات کا ہے ڈائری بےشک تیری ہے لیکن لکھتا تو سب کچھ تو میرے بارے میں

ہی ہے نا اور سن تو جب سو رہا تھا نا تو میں چپکے سے تیرے کمرے میں آئی تھی تیری ڈائری سائیڈ ٹیبل پڑ پڑی ہوئی تھی

میں نے تھوڑی سی کوشش تو کی لیکن پھر رہا نہ گیا مجھ سے اور وہ سب منظر کشی جو ہماری سہاگ رات کی تو نے کی

ہے نا میں نے مزے لے لے کر پڑھ ڈالی ارے بھاگ کہاں رہا ہے اتنی شرم آتی ہے تو لکھتا کیوں ہے عجیب لڑکا

ہے بھاگنا تو مجھے چاہئیے تھا اور کان اور گال اس کے سرخ ہو رہے ہیں کیا زمانہ آ گیا ہے

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 129

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

جیدی صاحب باتوں باتوں میں ہم اصل بات تو بھول ہی گئے یہ آپ اکیلے بیٹھے بیٹھے ٹسوے کیوں بہا رہے تھے کچھ ہوا ہے کیا

یا ویسے ہی اپنے آنسوؤں سے آنکھیں دو رہے تھے اور ساتھ ہی مہربانی کر کے یہ بھی بتا دیجئیے کہ آپ نے نیروبی فون کیا

تھا امی جان سے شادی کی آجازت لینے کے لئیے یا ابھی سوچ ہی رہے ہیں

آجازت تو مل گئی ہے لیکن

ارے لیکن ویکن کو چھوڑ اگر آجازت مل گئی ہے تو بس ارے وہ پنجابی گیت کیا ہے ہاں یاد آیا

میں چھج پتاسے ونڈان اج قیدی کر لیا ماہی نوں

blah blah blah

آگے نہیں آتا مجھے خود ہی سمجھ جا اور تو بھی نا عجیب لڑکا ہے بجاۓ

song and dance

کے آنکھوں سے ساون بھادوں

کیوں لگی ہوئی تھی تیری بھی نا کوئی کل ڈھیلی لگتی ہے مجھے

شہرزاد پلیز کبھی تومیری بات پوری سن لیا کر امی جان کے بعد ڈیڈی سے بھی بات ہوئی تھی میری

اوہ تو یہ بات ہے اسی لئیے موڈ آف ہے آپ کا ڈیڈی نہیں مان رہے کہ لڑکا ابھی پڑھ رہا ہے آخر اتنی جلدی کیا ہے شادی

رچانے کی تعلیم سے فارغ ہو لے پھر ساری زندگی پڑی ہے لڑکا ہے لڑکی تھوڑی ہے جو عمر کی زرا بڑی ہو گئی تو ڈھنگ

کا رشتہ نہیں ملیگا ارے میں بھی نا سسر جی کیساتھ ہوں ٹھیک ہی تو کہتے ہیں آخر اتنی پسوڑھی کیا ہے آج نہیں تو کل کر

لیں گے شادی ہی تو ہے اور ویسے بھی میری دادی ماں کہا کرتی تھیں کہ اس طرح کے کام بڑے بوڑھوں کی رضامندی سے

کرنے چاہئیے ان کی ہر بات میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے

ارے موم کی ناک ایک جگہہ پر تو رک یا لٹو کی طرح چاروں طرف گھومے گی چت بھی میری پٹ بھی میری

دیکھ جیدی تو جانتا ہے میں ادھار کی زندگی گذار رہی ہوں میرے پاس دنیا کی ہر چیز ہے سواۓ وقت کے اس لئیے میں تجھ

سے گھما پھرا کر کبھی بات نہیں کرتی میں تیری ہوں شادی کر کے مجھے اپنا لے یا بنا شادی کے تجھے بینڈ باجے کا بہت شوق

ہے نا تو میرے مرنے کے بعد اپنے سارے چاؤ چونچلے پورے کر لینا بلکہ چار عدد شرعی بیویوں کے علاوہ دس بیس وہ

کیا کہتے ہیں ہاں

concubines

بھی رکھ لینا لیکن فی الحال دو گھنٹے کے اندر اندر سر پر وہ جڑاؤ چھوٹے چھوٹے شیشوں

والا سنہرا سہرا بن کے نیچے ٹی وی لاؤنج میں پہنچ جانا اپنی دولہن کو بیاہنے ورنہ

you haven’t seen the worst of me , at leadt not yet

اور رہی بات تمہارے ڈیڈی کی تو انھیں ابھی تھوڑی دیر کے لئیے بتاتے ہی نہیں کہ ہم

لوگوں نے شادی کر لی ہےجب تک ان کو پتہ چلے گا ہم لوگ چار پانچ بچوں کے والدین بن چکے ہونگے پھر ہم دونوں کو فکر

کرنے کی ضرورت نہیں بچے خود ہی اپنے دادا دادی کو راضی کر لیں گے ۔ ارے تو نے پھر مجھے اپنی باتوں میں الجھا لیا تجھ

میں یہی ایک خراب عادت ہمیشہ مجھے اصل موضوع سے آگے پیچھے کر دیتا ہے اور اب مجھے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ میں تجھ سے آخر پوچھ کیا رہی تھی

یہ ابھی ابھی آپ کیا کہہ رہی تھیں بلکہ فرما رہی تھیں کہ ہم گھر والوں کو تھوڑی دیر تک اپنی شادی کے بارےمیں لا علم رکھیں

گے جب تک ہم ایک درجن بچوں کے ماں باپ بن چکے ہونگے یہ آپ انسانی بچوں کی ہی بات کر رہی تھیں نا یا خیر سے

مرغی کے چوزوں کی جو بیس اکیس دن کے بعد انڈے توٹ کر باہر نکل آئیں گے

تم بھی نا بال کی کھال اتارنا شروع کر دیتے ہو ارے میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا تھا ہاں تو میں کہہ رہی تھی کیا کہہ رہی تھی میں

دیکھا نا پھربھلا دیا اور یہ رونی شکل بنا کرکیوں بیٹھے ہوۓ ہو کسی نےکچھ کہہ دیا کیا

کسی نے کچھ نہیں کہا ڈیڈی کہہ رہے تھے امی کا کل

major kidney operation

ہے یاد ہے میں نے تمہیں بتایا تھا

امی کو ایک مدت سے گردے کی تکلیف ہے پرہیز وغیرہ کرتی نہیں اس لئیے یہ نوبت آ گئی ہے

ارے بابا تم کیوں اتنا پریشان ہو رہے ہو انشااللہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا امی جان سے کیا بات ہوئی

بات کیا ہونی تھی اپنی بیماری یا آپریشن کا تو انہوں زکر تک نہیں کیا بس مجھے نکاح میں کیا کرنا کیسے کرنا ہے بہو کس طرح کا

لباس پہن رہی ہے سارے فنکشن کی کسی پروفیشنل فوٹوگرافر سے ویڈیو اور تصاویر بنوا کر بھیجنا شادی کی تقریب جیسے ہی

ختم ہو بہو سے کہنا مجھے فون کرے وغیرہ وغیرہ وغیرہ ایک سانس میں خدا جانے کیا کیا کچھ کہہ دیا آدھی سی زیادہ ان کی

باتیں تو مجھے یاد بھی نہیں رہیں

یہ سب کچھ کہا اور اپنی بیماری کی تم سے کوئی بات تک نہیں کی اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ اگر تمہارے ڈیڈ بھی ہمیں لاعلم رکھتے تو ہم لوگ تو ادھر خوشیوں کے چراغ روشن کر رہے ہوتے اور وہاں ۔۔۔ جیدی ایک بات کہوں تم سے کہو رک کیوں گئیں بولتے بولتے میں نے ہمیشہ تمہارے خواب دیکھے ہیں لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ کسے تلاش کر رہی ہوں لیکن تمہاری امی جان جن کو میں نہ تو ابھی تک ملی ہوں اور نہ ہی انھیں دیکھا ہے تصویر تک نہیں دیکھی ان کی میں نے شہرزاد اب کہہ بھی دو جو کہنا ہے میں نے تمہیں اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھتے ہوۓ آج سے پہلے کبھی دیکھا نہیں
ارے تیری طرح کی شاعرانہ زبان تو مجھے آتی نہیں اس لئیے سیدھا ہی کہے دیتی ہوں کہ تو مجھے ملتا یا نہ ملتا لیکن ساس
مجھے ایسی ہی چاہئیے تھی جسے اپنی جان سے زیادہ اس چیز کی فکر کھاۓ جا رہی ہے کہ ان کی ہونے والی بہو کا لباس کیسا ہے
اے مسٹر بلخ بخارا

this wedding is off for an indefinite period of time. Kapeesh
یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ میں نے کچھ کہا آپ سے
ارے الو کی دم فاختہ کیسا بیٹا ہے تو امی جان کا کل آپریشن ہے اور تو اس کٹورا نما سر پر سہرا باندھنے کی فکر میں ہے بستر سے
باہر نکل مونہہ ہاتھ دو وضو کر اور دونوں ملکر امی کی صحت کے لئیے دو دو نفل پڑھتے ہیں
شہرزاد ایک بات تو بتا کیا میں نے تجھ سے کبھی ۔۔ میرا مطلب ہے کسی قسم کا اظہار محبت کیا ہے ۔ کبھی بھی
جیدی تمہیں زبان سے اقرار محبت کرنے کی ضرورت ہی نہیں وہ تو تمہاری آنکھوں میں لکھا ہوا ہے اور اب مسکہ لگانا بند کر
ارے یاد آیا میں جب تک مونہہ ہاتھ دھو کر آتا ہوں تو مولانا صاحب کو فون کر دے کہ پروگرام تھوڑے دنوں کے لئے
ملتوی ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ اتنی دیر میں کوئی اور کام دھندا کر لے گا
ارے وہ کونسا اپنی بارات سے اٹھ کرآ رہا تھا فکر مت کر اس کے حلوے مانڈے کا بندوبست میں اچھی طرح کر دونگی وہ
بھی کیا یاد رکھے گا کس رئیس زادی سے پالا پڑا تھا کام کا نا کاج کا ڈھائی سیر اناج کا
شہزادی اب کس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہیں آپ سویرے سویرے
ارے اسی مسجد کے طالب کی بات کر رہی ہوں ہٹا کٹا حرام خور سارا دن بیکار بیٹھا مفت کی روٹیاں توڑتا رہتا ہے اچھا بھلا
پڑھا لکھا آدمی ہے کوئی ڈھنگ کا کام کیوں نہیں کرتا یہ ہے اس قوم کا نوحہ گھر کا ایک فرد کام کرتا ہے اور باقی سارے اس
بیچارے کی بوٹیاں نوچتے رہتے ہیں میرا بس چلے نا جیدی تو ان سب بیکار لاشوں کو یا تو کولہو کے بیل کیساتھ باندھ دوں نہیں تو
بیلوں کیساتھ ہل میں جوت دوں ۔ اٹھ نا اب اور سن جب تک ہم لوگ شادی کی نئی تاریخ طے نہیں کر لیتے وہ کانوں
میں کہنے والی باتیں دوبارا شروع
شیری تو نا کبھی نہیں سدھرے گی

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 130

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

شہر زاد

جی

اب کیا کریں میرا مطلب ہے

آپ کا کچھ مطلب نہیں مجھے پتہ تھا تم یہی کہو گے ارے بابا صرف ہماری شادی آپ کی امی جان کے آپریشن اور ان کے

رو بصحت ہونے تک ملتوی ہوئی ہے لیکن باقی کاروبار زندگی اسی طرح رواں دواں ہے پرندے درختوں میں چہچہا رہے ہیں

دہقان کھیتوں میں ہل چلا رہے ہیں بچے اپنے اپنے سکولوں کالجوں میں جا رہے ہیں اور سکول سے یاد آیا مسٹر بلخ بخارا کہ

آپ شائد بھول گئۓ ہیں یا پھر شادی کی خوشی میں دنیا بھلاۓ بیٹھے ہیں آپ کی یونیورسٹی موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کب

کی کھل چکی ہے اور آج بھی کوئی چھٹی کا دن نہیں ہے اس لئیے اگلے دس منٹ میں تیار ہو جائیں میں نیچے ڈائننگ روم

میں ناشتے کی ٹیبل پر آپ کو ملونگی اور ناشتے کے بعد آپ کو یونیورسٹی ڈراپ کر دونگی

شکر ہے خاموش تو ہوئیں ورنہ جس رفتار سے آپ بول رہی تھیں مجھے تو ایسے لگا جیسے اگلے پچاس سوسال میں ہم لوگ جو

کچھ کرنے والے ہیں اس کی پوری تفصیلات بتاۓ سناۓ بغیر آپ مجھے چھوڑنے والی نہیں ہیں اب لگے ہاتھوں یہ بھی بتا

دیں کے مجھے ہاسٹل چھوڑنے کے بعد آپ کے کیا پلانز ہیں

پلانز اوہ ہاں اپنے شہزادے کو یونیورسٹی کیمپس چھوڑ کر سیدھی مال روڈ یا لبرٹی مارکیٹ کی کسی بوتیک میں جاؤنگی اپنے وقت کی

سنڈریلا ہوں نا میں

Royal Ball

کے لئیےکوئی گاؤن دیکھو گی وہاں سے کسی بیوٹی پارلر کا رخ کرونگی اور پھر گھر بیٹھ کر شاہی رتھ

کا انتظار کرونگی جو مجھے ملکہ کے محل تک لیکر جاۓ گی اور وہاں میں اپنے بلخی شہزادے کےساتھ رقص بسمل کرونگی

رقص بسمل آپ ڈانس فلور پر اپنے شہزادے مطلب میرے ساتھ رقص بسمل کریں گی مجھے کیا کوئی قربانی کا بکرا سمجھ رکھا ہے آپ نے اور یہ اتنے بڑے بڑے ریختانی لفظ آپ کہاں سے سیکھ کر آتی ہیں اور یہ مجھ غریب الدیار مسافر کی گردن پر کیوں

اور کس جرم کی پاداش میں چھری چلائی جا رہی تھی

ارے گوری گوری لیلی کے سانولے سلونے مجنوں میں تیرےساتھ شاہی محل کے ڈانس فلور پر ناچ رہی تھی یہ تم بیچ میں چاقو چھریاں کہاں سے گھسیڑ لاۓ

اوہ میرا بھی یہی خیال تھا

کس بارے میں کیا خیال تھا

یہی کہ آپ نے غلطی سے کسی جگہہ پر رقص بسمل لکھا ہوا پڑھ لیا اور بنا سوچے اسے کسی قسم کا ناچ گانا سمجھ کر مجھے

قصائی کی بے رحم اور بغیر دھار کی چھری کے حوالے کر دیا

اے بے دھار کی چھری یہ کفظ میں نے نہ تو غلطی سے اور نہ ہی کہیں ادھر ادھر سے بلکہ تیری پرسنل ڈائری میں پڑھا

تھا اور مجھے تو ایسےلگتا ہے کہ تو جانتا ہے کہ میں تیری ڈائری پڑھتی ہوں اس لئیے جان بوجھ کر اتنے مشکل مشکل الفاظ

لکھتا ہے کہ مجھے سمجھ ہی نہ آۓ کہ تو نے کیا لکھا ہے خا ص کر ایسی باتیں جن میں میرا زکر ہوتا ہے

پرسنل کا مطلب سمجھتی ہیں نا اگر آپ کو پتہ ہے کہ یہ میری زاتی ڈائری ہے تو پھر کیوں پڑھتی ہیں آپ اسے

ارے ارے لڑکے زرا ہوش کے ناخن لے یہ میں اور تو الگ الگ کب سے ہو گئیے تجھے پتہ ہے جیدی تیرے دل کی

دھڑکن تو مجھے اس وقت بھی سنائی دیتی تھی جب تو مجھے ابھی ملا بھی نہیں تھا اللہ تعالہ نے ہم دونوں کو ایک روح اور

دو بدن دے کر بنایا ہے اس لئیے میری اور تیری نہیں بلکہ ہماری باتیں کیا کر

kapeesh

روح اور بدن تک تو آپ کی بات حق اور سچ ہے لیکن آپ کے اس خوبصورت مونہہ میں جو زبان ہے نا وہہہہہہہ

وہ کیا آگے بول تتلے ہوکیا اگرہمت ہے تو فقرا مکمل کر کے دکھا زرا

ارے کچھ نہیں ایسے ہی میری زبان زرا پھسل گئی تھی آپ نے ابھی تک بتایا نہیں کہ مجھے کیمپس چھوڑنے کے بعد

آپ کا کیا پروگرام ہے

سوچا نہیں اس بارے میں شادی اس طرح اچانک کینسل کرنی پڑی لگتا ہے کچھ کرنے کو ہے ہی نہیں پر تو فکر نہ کر عورتوں

کو کچھ اور کرنے کو نہ ملے تو وہ سب کچھ کر لیتی ہیں اور تو نے سنا تو ہو گا کہ ‘ یادوں کی پٹاری اور عورتوں کی خریداری ‘

کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں ویسے بھی میں کئی دنوں سے سوچ رہی تھی کہ انارکلی کا ایک چکر لگا آؤں یاد ہے جب ہم

لوگ وزیرآباد میں تھے تو تو میرے لئیے انارکلی سے کلاسیکل موسیقی کے ریکارڈ لیکر آیا تھا

شہزادی صاحبہ وہ ریکارڈ میں کسی بڑے سٹور یا دوکان سے نہیں فٹ پاتھ سے خرید کر لایا تھا آپ کے لئیے

اوہ تو آج کل ریکارڈز فٹ پاتھوں پر بکنا شروع ہو گئیے ہیں ہاہاہا

آپ مزاحیہ انداز میں ہنس کیوں رہی ہیں شہزادی صاحبہ

get off your high horse

اپنے شاہی محلات کی بڑی بڑی اور

اونچی دیوادوں کی قید سے زرا باہر نکلئیے دنیا ہر رنگ اور روپ میں بستی ہے آپ جیسےبادہ مستوں کیساتھ ہم جیسے فاقہ مست

اوربوریا نشین بھی اسی نیلگوں آسمان تلے رہتے ہیں

جیدی

I swear

تجھے تو نا کوئی مزدورلیڈر ٹائپ چیز ہونا چاہئیے تھا کوئی سوشلسٹ پارٹی جوائن کر لو بڑا نام پیدا کرو گے

لیکن پھر میرا کیا بنے گا تو نے تو سب سے پہلے میرے ہی گھر اور جائیداد کو قومی ملکیت میں لے لینا ہے نا بابا نا چل پھر

ایسا کرتے ہیں کہ تو اپنی کلاسز کے لئیے جا میں واپس آ کر گھر کے ایک دو کام کر لونگی ایک دو بجے کے قریب تیری

تیری کلاسز ختم ہو جائیں گی پھر ہم دونوں فٹ پاتھ شاپنگ کے لئیے انار کلی کا رخ کریں گے ٹھیک ہے چل پھٹ اب

اور جلدی سے تیاری پکڑ لڑکیوں کی طرح گھنٹہ بھر باتھ روم میں نہ بیٹھے رہنا

ارے بھاگ کہاں رہی ہو زرا ادھرتو آ میرے پاس

کیوں اب کیا ہے اور ایسی کونسی بات ہے جو تو وہاں بیٹھے بیٹھے نہیں کہہ سکتا

نہیں کہہ سکتا تبھی تو بلا رہا ہوں ‘ کان میں کہنے والی ہے ‘

ارے واہ میرے شہزادے اب تو بھی کانوں میں باتیں کرنے لگا ہے اسے کہتے ہیں ‘ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 131

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

شہزادی

شہزادے

آپ یہاں شعبہ معاشیات میں کیا کر رہی ہیں

کیوں یہاں کرفیو لگا ہوا ہے مارشل لا لگا ہوا ہے ملک میں یا پھر میں

persona non grata

ہوں

ایسا تو کچھ نہیں لیکن آپ عام طور پر پارکنگ ایریا میں بیٹھ کر میرا انتظار کرتی ہیں کوئی خاص وجہ آپ کے یہاں ہمارے

ڈیپارٹمنٹ میں قدم رنجہ فرمانے کی

کیا فرمانے کی زرا انسانی اور عام فہم زبان میں بات کرنے کی تکلیف کریں گے یا مجھے زہنی ازیت میں مبتلا کر کے آپ

کو کوئی روحانی تسکین ملتی ہے

جی میں تو صرف یہ کہنے کی کوشش کر رہا تھا کہ آپ یہاں کسی مقصد کے تحت تشریف لائی ہیں یا کوئی بشری تقاضہ یا تجسس

آپ کو یہاں کھینچ لایا ہے

جیدی کے بچے اب تو نے ایک لفظ بھی اس طرح کی مشکل زبان میں بولا نا تو میں نے یہاں تیرے سارےکلاس فیلوز

کے سامنے تیری ایسی درگت بنانی ہے نا کہ تو ہمیشہ یاد رکھے گا ۔ آخر تیرا پرابلم کیا ہے وقت سے پہلے یہاں آ گئی تھی

سوچا گاڑی میں بیٹھ کر بور ہونے سے بہتر ہے تھوڑی سی چہل قدمی بھی ہو جاۓ گی اور تیری کلاس کی لڑکیوں سے بھی

زرا راہ رسم ہو جاۓ گی ٹھیک کیا نا میں نے

شہرزاد تو بغیر وجہ کے کبھی کوئی کام نہیں کرتی اتنا تو مجھے پتہ ہے لیکن جب تک کوئی وجہ سامنے نہیں آتی اسے ہی قبول

کرنا پڑیگا چل آ جا تیری سب لڑکیوں سے ملاقات کرا دوں چاہے تو گلے بھی مل لینا

اب ہوئی نا بات ارے ہاں ایک بات تو بتا تو کیا کہہ کر ان لڑکیوں سے میرا تعارف کراۓ گا

کیا مطلب ارے بھئی جیسے باقی تعارف کراۓ جاتے ویسے ہی تمہارا بھی کرا دونگا تم بھی نا بعض اوقات عجیب

بے تکی سی باتیں کرتی ہو

میرا کہنے کا مطلب تھا کہ اپنی دوستوں سے کیا کہو گے کہ یہ لڑکی آخر ہے کون تمہاری کیا لگتی ہے اس سے کیا تعلق اور

واسطہ ہے تمہارا وغیرہ وغیرہ آخر کچھ تو کہو گے نا

ارے بھئی کچھ بھی کہہ دونگا ان سے مطلب تعارف ہی کرانا ہے کوئی چارج شیٹ تو نہیں دینی تمہارے خلاف اور

تمہیں کیوں اتنی دبلی ہوئی جا رہی ہو اسی غم میں اچھا بابا کہہ دونگا میری گرل فرینڈ ہے بس خوش ہو اب

ارے غضب خدا کا زبان نہیں جلی تیری ایسے کفریا کلمات کہتے ہوۓ میں تیری گرل فرینڈ ہوں کیا شکل دیکھی ہے کبھی تم

نے اپنی آئینے میں پہلوۓ حور میں لنگور وہ کیا کہتے ہیں پنجابی میں ‘ مونہہ نہ متھا تے جن پہاڑاں توں لتھا ‘ اب ایسے

کیوں دیکھ رہے ہو میری طرف ملامت بھری نظروں سے

ارے نہیں بابا میں بھلا ایسے کیوں دیکھوں گا آپ کو ابھی ابھی جو آپ گل افشانی میری زات کے بارے میں کر رہی تھیں

مجھے تو آپ پر پھول نچھاور کرنے چاہئیے شکر کریں آپ کو بروقت پتہ چل گیا کہ میں انسان کے روپ میں ایک لنگور ہوں

ورنہ آپ کی تو ساری زندگی گلبرگ اور لاہور کے چڑیا گھر کے درمیان آتے جاتے ہی گذر جاتی

پوچ پوچ پوچ بیچارا جیدی مائی سویٹ ڈارلنگ غصہ آ گیا اے تھوڑا سا مذاق نہیں برداشت ہوتا تم سے ویسے تو سارا دن

اتنے بڑے بڑے ڈائیلاگ مجھے سناتے رہتے ہو اپنے پیار کے سارے شہر میں ڈھول بجاتے پھرتے ہو اور ایک ہلکا پھلکا

سا مذاق کیا کر لیا تم تو مجھے گھر کیا دل سے بھی باہر نکالنے کی دہمکی دے رہے ہو

شہرزاد

don’t be over dramatic

لو وہ آ رہی ہیں پریزادوں کا گروپ جیسے تیرا دل چاہے اپنا تعارف کرا دینا

کیوں میں کیوں کہوں تم کیوں نہیں کہہ سکتے تمہارے مونہہ میں کیا گونگنیاں پڑی ہوئی ہیں کہہ دو میری منگیتر ہے اور ہم

لوگ جلد ہی شادی کی ڈور میں بندھنے والے ہیں

ادھر میری طرف دیکھ زرا مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ تو پورا پلان بنا کر آئی تھی ورنہ میں بھی سوچوں آج تک تو میرے

ڈیپارٹمنٹ میں آئی نہیں یہ آج یلغار کیسی سچ سچ بتا کیوں آئی ہے یہاں

جیدی میں تیرے لئیے صرف تیرے لئیے آئی تھی اس دنیا میں اور تجھے لئیے بغیر جاؤنگی نہیں میں جانتی ہوں میرے پاس زیادہ وقت

نہیں میری میڈیکل رپورٹس کا گراف اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے آخر میں تو مجھے جانا ہی ہے لیکن یہ کبھی مت بھولنا میں صرف

‘ مروں گی معدوم ‘ نہیں ہو جاؤنگی لیکن جب تک زندہ ہوں تو میرا ہے صرف میرا آج اسی لئیے میں یہاں آئی ہوں تا کہ

تیری ساری سکھی سہیلیاں جان لیں کہ

this property is taken

مسٹر خان

is already spoken for

اچھا بابا جو تیرے جی میں آۓ کہہ اور کر منگیتر ہی کیوں کہہ دے ہم نے خفیہ شادی کر رکھی ہے

وہ بھی کہہ دونگی وقت آنے پر اتنی جلدی میں کیوں ہے اور خفیہ کیوں میں گھر سے بھاگ کر تیرے ساتھ نہیں آئی شہزادی ہوں

شہزادی شادی کرونگی اتنے دھوم دھام سے کہ سارا شہر لاہور دیکھے گا

اے بنا ملک کی شہزادی میری کلاس میٹس سے پھر کبھی مل لینا یاد ہے ہمیں انارکلی بازار جانا ہے فٹ پاتھ شاپنگ کے لئیے

اس وقت وہاں پر زیادہ لوگوں کی بھیڑ بھی نہیں ہو گی اور ہمیں آسانی سے نیلا گنبد کے پاس جو ایف سی کالج کا ہاسٹل ہے

وہاں آپ کی گاڑی کے لئیے پارکنگ بھی مل جاۓ گی

چل آ جا پھر تیری گرل فرینڈز سے پھر کبھی مل لیں گے لیکن دیکھ اگر وہ میرے بارے میں پوچھیں کہ یہ اتنی حسین کل بدن

پری زاد کون ہے تو کہہ دینا کہ میرے ہونے والے چھ بچوں کی اماں ہے

یہ زرا

anti-climax

سا نہیں لگتا حسین کل بدن اور ایک دو بھی نہیں پورے آدھ درجن بچوں کی ماں

کتنی بار بولا ہے تجھے لڑکیوں کی باتوں میں کیڑے مت نکالا کر ایک آدھ بچے کی کمی بیشی خود ہی کر لینا kapeesh اور یہ

مونہہ میں کیا بڑ بڑا رہا ہے زور سے بول زرا

کچھ نہیں چھ بچوں کی گنتی کر رہا تھا کہ سبھی تیری گاڑی میں ٹھیک طرح بیٹھ گئے ہیں نا اور سن یہ اتنے سارے بچے

آئیں گے کہاں سے

جہاں سے سب کے آتے ہیں

stupid

تو کیا آسمان سے گرا تھا یا سمندر کی لہریں تجھے ساحل پر پٹخ کرچلی گئی تھیں

لیکن اگر تو سچ مچ جاننا ہی چاہتا ہے تو ادھرآ تیرے کان میں بتا دونگی

تجھے ایک بات بتاؤں شہرزاد میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر اللہ میاں نے مجھے میری کسی بات سے خوش ہو کر جنت

الفروس میں جانے کی ٹکٹ دے بھی دی تب بھی فرشتوں نے میرے کان اتار کر اپنے پاس ہی رکھ لینے ہیں کیونکہ پچھلے

چار ماہ میں جو باتیں تو نے میرے کان میں کہیں ہیں نا انھیں سن کر تو شرم بھی شرما کر بھاگ جاۓ گی

اچھا اور وہ تیری پرسنل ڈائری میں میرے بارے میں کیا لکھا ہوتا ہے مجھے ایک ایک لفظ زبانی یاد ہے سناؤں تمہیں

گندی بے شرم ۔۔۔۔۔

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 133

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

کچھ کھایا تو نہیں ہو گا اب تک تم نے

کھایا تھا نا آپ کو پتہ نہیں آج کل پنجاب یونیورسٹی کیمپس میں من و سلوی کا نزول ہوتا ہے ملائکہ خود اپنے پاک اور مبارک

ہاتھوں سے ہمیں طرح طرح کے لذیز کھانے کھلاتے ہیں

hallowed be thy name O,Lord

جیدی کے بچے ملا اعلی سے تمہارے لئیے کوئی پاکیزہ خوان اترتا ہے یا نہیں لیکن ان سات نمبر کے جوتوں سے میں ضرور تمہارے

خاطر تواضع کر دونگی ارے ایسے ادھار کھاۓ کیوں بیٹھے ہو ایک سوال کیا پوچھ لیا تم تو حقہ پانی لیکر مجھ پر چڑھ دوڑے

کلاس سے باہر نکلا تو آپ قرضہ وصول کرنے والے کی طرح میرے نام کے وارنٹ لئیے آگے کھڑی تھیں اور اس وقت سے

آپ کے پاس اور آپ کے سامنے ہی کھڑا ہوں تو یہ بیچ میں کھانا کہاں سے اور کیسے آ گیا

ارے بھئی تو سیدھی طرح سے کہتے کیوں نہیں کہ بی بی جنم جنم کا بھوکا ہوں اپنے ہونے والے پیارے پیارے بچوں کے صدقے مجھے کھانا ہی کھلا دو ڈھیروں دعائیں دونگا تمہیں بس اتنی سی تو بات تھی اور تم ہو کہ حسب عادت میرے ساتھ بحث

مباحثہ شروع کر دیا اور اب اگر کچھ کہنا سننا باقی نہ رہ گیا ہو تو چل کر کیفٹیریا میں کچھ کھا پی لیں کہو کیا کہتے ہو

میری مانو تو یہاں سے نکل چلو بعد میں ٹریفک زیادہ ہو جاۓ گا وہیں جا کر کچھ کھا لیں گے ایسا کیوں نہ کریں گاڑی پارک کر کے

سیدھا بانو بازار جا کر چنا چاٹ کھائیں گے سنا ہے وہاں کی چاٹ بڑی چٹپٹی اور مزیدار ہوتی ہے میری طرف سے ٹریٹ

اور یہ آپ میری طرف ایسے ترچھی نگاہوں سے کیوں دیکھ رہی ہیں

نہیں ایسے ہی ایک آوارا سا خیال آ گیا تھا کہ مسٹر بلخی جتنا سیدھا اور بھولا بالا سا دکھائی دیتا ہے اصل میں اتنا ہے نہیں

اوہ تو ابھی تک آپ کا جی بھرا نہیں میری کردار کشی سے جو اب کسی اور رائی کا پربت بنانے کے لئیے پر تول رہی ہیں

اوۓ پنجابی منڈیا کتنی دفعہ تجھے بولا ہے اتنے اوکھے اوکھے لفظ نہ بولیا کر جے مینوں سمجھ ہی نہ آئی تے جواب سوا

دیواں گی تینوں اے رائی دا پربت کی ہوندا اے

وہی جو آپ کرنے جا رہی ہیں میرا مطلب ہے

make mountains out of molehills

میں ایساکچھ کرنے نہیں جا رہی تو صرف اتنا بتا یہ بانو بازار کی چاٹ کے بارے میں تو نے صرف سنا ہے یاکبھی کھائی بھی ہے

اور اگر کھائی ہے تو کتنی دفعہ کھائی ہے ایک دفعہ دو تین یا پھر بہت دفعہ اور دیکھ مجھ سے جھوٹ مت بولنا

شہرزاد تو تو ایسے تفتیش کر رہی ہے جیسے چاٹ نہیں تیری سوتن ہو تجھے کیا لگتا ہے میں نے کس جگہہ کیا کھایا یا کتنی بار کھایا

اس کا حساب رکھتا ہوں اوٹ پٹانگ قسم کے سوالات مت پوچھا کر مجھ سے

تجھ سے جو سوال پوچھا ہے بس اس کا جواب دے یہ ٹال مٹول کیوں کر رہا ہے

اچھا بابا تو ایسے میری جان نہیں چھوڑنے والی اور سچ تو یہ ہے کہ میں نہ تو کبھی بانو بازار گیا ہوں اور نہ ہی میں نے کبھی وہاں

کی چاٹ کھائی ہے میرے دوستوں نے ایک آدھ دفعہ زکر کیا تھا سو میں نے سوچا ہم لوگ وہاں جا ہی رہے ہیں تو آج

چاٹ بھی انجواۓ کر لیں گے لیکن ایک بات تو بتا تو کیوں اتنے سوال جواب کر رہی ہے مجھ سے بازار ہے کوئی جوا

کھیلنے کا اڈا تو ہے نہیں جو تجھے اعتراض ہے میرے وہاں جانے پر

تو تجھے سچ میں نہیں پتہ کہ تیرے دوست بانو بازار کیا کرنے جاتے ہیں

شہرزاد پلیز میرے کان مت کھا بہت ہو گیا اب کون کہاں جاتا ہے کیوں جاتا ہے وہاں جا کر کیا کرتا ہے میری بلا سے تو

نے اناکلی چلنا ہے تو ٹھیک ورنہ میں اپنے ہاسٹل جا رہا ہوں اور تو گاڑی میں بیٹھ اور گھر جا اچھے بھلے دن اور موڈ

کا ستیاناس کر دیا خدا جانے کس شریف آدمی کا مونہہ صبح سویرے دیکھا تھا سر درد کے مارے پھٹا جا رہا ہے مجھے تو ایسے

لگ رہا ہے جیسے ابھی ابھی

Russian roulette

کھیل کر آ رہا ہوں

یہاں دبا دوں سب کے سامنے یا گاڑی میں بیٹھ کر یا پھر گھر چل کر

کیا دبا دوں تیری باتیں بعض اوقات میرے سر کے اوپر سے گذر جاتی ہیں

ارے الو کی دم فاختہ تو خود ہی تو کہہ رہا تھا میرے سر میں شدید درد ہے تو میں نے کہا میں دبا دیتی ہوں

نا بابا نا تیرا کیا پتہ سر دباتے دباتے میرا گلا ہی دبا دے اور ہاں تو نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ یہ بانو بازار کا قصہ لیکر کیوں

بیٹھ گئی تھیں کوئی خاص بات ہے کیا

ارے میرے پیارے سے بدھو خود سوچ بانو بازار میں صرف اور صرف خواتین کے کپڑے اور بناؤ سنگھار کی چیزیں ملتی

ہیں اور تجھے لگتا ہے تیرے یہ لفنگے دوست یونیورسٹی نیو کیمپس سے وہاں صرف چاٹ کھانے جاتے ہیں تیری یہ چھوٹی سی جو

عقل ہے نا اس پر ماتم کرنے اور پڑھنے کو جی چاہتا ہے

خدا جانے مجھے تو انہوں نے یہی کہا تھا پر بات تو تیری بھی میرے جی کو لگتی ہے لیکن اگر وہ چاٹ کے بہانے سے

وہاں جاتے ہیں تو اتنی دور ٹیکسی یا رکشا کے پیسے خرچ کر کے جانے کی اصل وجہ کیا ہو سکتی ہے

جیدی ادھر آ زرا میرے قریب فکر نہ کر میں صرف یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ تو کس مٹی کا بنا ہے مٹی کا ہے بھی یا نہیں

لگتا ہے تیرے خمیر میں نا کسی ملکوتی چیز کی تھوڑی بہت آمیزش ہو گئی ہے ارے وہ وہی کرنے جاتے ہیں جو تیری عمر کے

اکثر نوجوان لڑکے کرتے ہیں

کیا کرتے ہیں یہی تو تجھ سے پوچھ رہا ہوں اور تجھے کیسے پتہ وہ کیا کرتے ہیں تو گھریلو لڑکی ہے یا پھر چوروں کی ماں شہر میں کس وقت کیا ہوتا کہاں ہوتا کیوں ہوتا ہے تو سب کی خبر رکھتی ہے بتا کیا جانتی تو اس بارے میں

تیری تقریر بند ہو تو بتاؤں نا اور تیری اطلاع کے لئیے مجھے اس لئیے پتہ ہے کہ مہینے میں میرے انارکلی اور بانو بازار کے دو تین چکر لگتے ہیں اور تیرے یہ دوست وہاں لڑکیوں کیساتھ چھیڑ خوانی کرتے ہیں آوازے کستے ہیں اور اور اور اور کچھ نہیں

تیرے لئیے بس اتنا ہی کافی ہے

یہ تیری کبھی نہ رکنے والی زبان کی سوئی اورکے اوپر جا کر کیوں اٹک گئی تھی بول کیا کہنے جا رہی تھی

مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے تو نے بیس بائیس سال ایک کنوئیں کے مینڈک کی طرح زندگی گذاری ہے جاننا چاہتا ہے اور کیا

کیا کرتے ہیں ادھر آ اپنے سر کو زرا نیچے جھکا ایسے نہیں کہہ سکتی تیرے کان میں کہونگی

ارے ایسی کونسی بات ہے بھئی جو تو ۔۔۔ کیا کیا ۔۔ کیا کہا تو نے لڑکیوں کو ہاتھ لگاتے ہیں کہاں ہاتھ لگاتے ہیں

بس کر مجھے نہیں سننا کچھ بھی جانے کہاں بیٹھ کر اس طرح کے جھوٹے سچے قصے تراشتی رہتی ہو

اچھا جھوٹ بولتی ہوں الزام تراشی کرتی ہوں اپنے پاس سے الف لیلوی قصے بناتی ہوں چل میرے ساتھ ہم لوگ انارکلی

جا ہی رہے ہیں نا دیکھ لینا خود ہی اپنی

angel eyes

سے کس طرح کے گل کھلاتے ہیں تیرے دوست بڑا آیا شرافت

کا ٹھیکیدار مجھے جھوٹا کہتا ہے اور اکر میرا کہا ہوا ہر لفظ سچا نکلا تو آج پھر انارکلی کی تاریخ دہرائی جاۓ گی لیکن اس دفعہ

بجاۓ انارکلی کے شہزادہ سلیم کو دیوار میں چنوا دیا جاۓ گا

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 133

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

ارے گاڑی تو آہستہ چلا یہ آندھی اور طوفان کی طرح کیوں جا رہی ہے دیکھ کہیں مار نہیں دینا

فکر نہ کر کوئی حادثہ وغیرہ ہو بھی گیا نا تو میں تیرے ساتھ ہی بیٹھی ہوں جیئیں گے بھی اکٹھے اور مریں گے بھی اکٹھے

مجھے اس طرح مرنے کا نہ تو کوئی شوق نہیں اور نہ ہی کوئی جلدی ہے کوئی اور طریقہ سوچ

میں نے تو ایسے ہی بات کی تھی ورنہ میں تو کب کی تم پر مر مٹی ہوں اور آدمی ایک زندگی میں تو بس ایک ہی دفعہ مر سکتا ہے

You have got only one life to live and one life to die for, so do the best you can

ارے واہ آپ تو بڑے ریختائی محاورے بولنا شروع ہو گئی ہیں کہیں مدرسہ البنات میں داخلہ تو نہیں لے لیا

یہ کونسی جگہہ ہے میں نے آج تک یہ نام نہیں سنا اور سن اس زبان میں بات کیا کر جو ایک عام پاکستانی بولتا اور سمجھتا ہو

مجھے چونکہ تیرا سوال ہی سمجھ میں نہیں آیا اس لئیے جواب کی توقع بھی نہ رکھنا ۔ ریختائی ایسے لگتا ہے جیسے یونانی طب کی

کسی جڑی بوٹی کا نام ہو اور دوسرا لفظ تو مجھے اب تک بھول بھی چکا ہے شائد تم کسی سکول کا زکر خیر کر رہے تھے

جی میری تو نصوح کی توبہ جو آئیندہ کبھی غالب اور میر تقی میر کا نام بھی لوں ویسے آپ کی جانکاری کے لئیے ریختہ کسی نیم حکیم کی بنائی ہوئی معجون کانام نہیں بلکہ اردو زبان کو کہتے ہیں اور مدرسہ البنات لاہور کا ایک مشہور اور جانا مانا لڑکیوں کا سکول ہے میرا خیال تھا کہ آپ لاہور میں پیدا ہوئیں یہیں پر پلی بڑھیں تو آپکی معلومات کم از کم اس شہر کی حد تک تو مجھ سے کس قدر زیادہ ہی ہونی چاہئیں

اے مسٹر بلخی اپنی باتیں بلخ بخارا تک ہی محدود رکھو میں اس شہر میں پیدا ضرور ہوئی ہوں لیکن میں لاہور کی ٹورسٹ

گائیڈ نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی رکشہ ٹیکسی چلاتی رہی ہوں جو مجھے یہاں کے ہرگلی اورمحلے سے واقفیت ہوگی یا ہونی

چاہئیے اور سچ پوچھو تو وہ کہتے ہیں نا کہ ملا کی دوڑ مسجد تک میں زیادہ تر گلبرگ لبرٹی مارکیٹ اور اس کے آس پاس کے علاقے کے ہی سیر سپاٹے کرتی رہتی ہوں سنٹرل لاہور کم ہی میرا آنا جانا ہوتا ہے اور خاص کر جب سے میری بیماری کا سلسلہ شروع ہوا ہے میں گھر سے صرف ہسپتال جانے کے لئیے نکلتی ہوں ورنہ گھر کی چاردیواری میں اپنے آپکو بند رکھتیہوں یہ تو تمہارے آنے کے بعد میں زرا کیمپس کی طرف نکل آتی ہوں ورنہ جب سے یونیورسٹی چھوڑی ہے ادھر کا بھی کبھی رخ نہیں کیا اپنی

convocation تک attend

نہیں کی میں نے

جھوٹ مت بول ابھی تو اس دن میں نے تجھے دیکھا تھا مال روڈ پر آرٹ کونسل کے پاس آغا ناصر کے کسی اسٹیج ڈرامے

میں کام کر رہی ہو کیا تم نے آج تک مجھے بتایا ہی نہیں کہ تمہیں اداکادی وغیرہ میں بھی دلچسپی ہے

جیدی وہ محاورہ کیا ہے جو تو اکثر ان مولویوں کے بارے میں بولتا ہے

کونسا محاورہ اور یہ تو نے بات کیوں بدل دی

جو تجھے پوچھا ہے تو پہلے اس کا جواب دے اور محاورہ اگر مجھے یاد ہوتا تو تجھے کیوں پوچھتی کچھ شامت اور کسی نادر کے بارے میں تھا تو اپنی ڈائری میں اتنی مشکل مشکل چیزیں کیوں لکھتا ہے بتا نا وہ محاورہ کیا ہے

‘ شامت اعمال ما صورت نادر گرفت ‘ لیکن اس محاورے کا یہاں کیا موقعہ محل ہے

موقعہ محل یہ ہے کہ جس طرح وہ جبہ اور دستار والے مولوی اہالیان دہلی کو کہتے تھے نا کہ تمہاری بد اعمالیوں کی وجہ سے

نادر شاہ درانی کی بلا تم پر نازل ہوئی ہے سو بھگتو اسی طرح جو جھوٹے الزام تم مجھ پر لگاتے ہو نا تو سمجھو تمہاری شامت

بھی میرے ہاتھوں بس آنے ہی والی ہے ہر جھوٹ کے گن کر سو سو بدلے لونگی زرا کسی حلوہ خور مولوی کو ہمارے

نکاح کے دو بول پڑھا لینے دو پھر دیکھنا

اور اب لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیں کہ میں نے آپ یا کسی بھی اور آدمی کے بارے میں کب اور کونسا جھوٹ بولا ہے

اور میں نے کوئی سنی سنائی بات نہیں کی تھی میں نے خود دیکھا تھا آپ کو مال روڈ پر الفلاح کے قریب منڈلاتے ہوۓ

مجھے منڈلاتے کا مطلب تو نہیں آتا لیکن تو تو ایسے کہہ رہا ہے جیسے آرٹ کونسل اور الفلاح دو جڑواں بہنیں ہوں اور تو

اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ دونوں عمارتیں سڑک کی مخالف سمت میں واقع ہیں اور تمہاری اطلاع کے لئیے میں وہاں اپنے

کسی کام سے نہیں گئی تھی اور نہ ہی مٹر گشتی کر رہی تھی بلکہ اپنے ہونے والے کاہل اور کام چور شوہر نامدار کے لئیے

فیروز سنز والوں سے روسی فرانسیسی یونانی اور جانے کون کونسے ادب کی کتابیں خریدنے گئی تھی یاد آیا کچھ یا نہیں

تمہیں نے کہا تھا نا ‘ شہر اگر مال روڈ کی طرف جانے کا اتفاق ہو تو فیروز سنز والوں سے میرے لئیے کچھ کتابیں لیتی آنا

اور ساتھ ہی میرے ہاتھ میں ایک ہاتھ بھر لمبی کتابوں کی لسٹ بھی تھما دی تھی ‘ اور آج تک یہ تو کبھی ہوا نہیں کہ

شہزادہ سلیم نے انار کلی کو کوئی کام کہا ہو اور وہ اسے نظر انداز کردے یا اسے کسی اور دن کے لئیے رکھ چھوڑے

شہر

جی

ارے آپ کسی قسم کے

trance

میں تو نہیں ہیں

کیوں ایسا میں نے کیا کہہ دیا جو آپ کو لگا کہ

I am under some kind of spell

آپ نے ‘ جی ‘ کچھ ایسے والہانہ اور پیارےانداز سے کہا کہ مجھے لگا جیسے میرے من مندر کی ساری گھنٹیاں بج اٹھی ہوں

ایسے لگتا ہے جیسے سارے جہان کا پیار آپ کے ان دو حرفوں میں سمٹ آیا ہو

سچ جیدی میرا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے تو جب بھی مجھے ‘ شہر ‘ کہہ کر بلاتا ہے تو میرا من کرتا ہے کہ جی جان کیساتھ

تمہاری روح اور قالب میں سما جاؤں میں میں نہ رہوں تو تو نہ رہے بس ۔۔۔ ہاہاہا ۔۔ہاہاہا

کیا ہوا پاگل پن کا دورا تو نہیں پڑ گیا تمہیں

اچھی بھلی ہوں میں بس اس سے آگے کہنا تو بہت کچھ چاہتی تھی لیکن کیا کہوں کیسے کہوں یہ نہیں پتہ بس یہ سمجھ کہ تیرے

ڈائری کے اوراق ختم ہو گئے مجھے تیری طرح باتیں نہیں کرنی آتیں جو کچھ تیری ڈائری سے یاد رہتا ہے بول دیتی ہوں

میری زندگی تیری تلاش سے شروع ہوئی تھی اور کسی دن کسی لمہے کسی پل ۔۔۔

امی ۔ امی ۔ امی جان

ارے بابا اوپر کھڑی چلا کیوں آ رہی ہو نیچے آ جاؤ

یہیں سے بتا دیجئیے میرا دوپٹہ کہاں رکھا ہے

ارے عجیب باولی لڑلی ہو دوپٹہ تمہارا ہے میں کیا جانوں کہیں رکھ کر بھول گئی ہو گی کیا کہا زرا پھر سے کہنا دوپٹہ آپ جانتی ہیں دوپٹہ کہتے کسے ہیں

میرا مطلب ہے میں نے اس نام کی کبھی کوئی چیز آپ کے جسم پر نہیں دیکھی اور معاف کرنا دوپٹہ تو خیر بہت دور کی بات ہے میری نظر سے تو آپ

کے وارڈ روب کبھی ایک پٹہ بھی نہیں گذرا اور آپ دوپٹے کی بات کر رہی ہیں اور یہ بیٹھے بیٹھے آپ کو ستّی ساوتری بننے کا شوق کیوں چرایا ہے

مذاق اڑا رہی ہیں میرا

نہیں تو لیکن آج سے پہلے کبھی تم نے میرا مطلب ہے

ہاں ہاں مجھے پتہ ہے آپ کا مطلب کیا ہے اور یہ میں نہیں میری زبان سے آپ کے اکلوتے داماد بول رہے ہیں آج یونیورسٹی کیمپس سے واپس آتے ہوۓ کہنے لگا سارے کیمپس میں شتر بے مہار کی طرح بغیر دوپٹے یا چادر کے دندناتی پھرتی ہو شرم نہیں آتی تمہیں مونہہ کا پردہ نہیں کر سکتی کم از کم

اپنے جسم کو تو اچھی طرح ڈھانپ لیا کرو

جاری ہے

آخری اقساط

شہر زاد قسط نمبر 134

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

جیدی تم نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ ہم لوگ آخر جا کہاں رہے ہیں

گھر سے تو یہ طے کر کے نکلے تھے کہ انارکلی جانا ہے کیوں کہیں اور جانا چاہتی ہیں آپ گاڑی کا سٹیرنگ ویل آپ

کے ہاتھ میں ہے اللہ سبحان و تعالہ کا نام لیکر توپوں کا رخ اس طرف موڑ دیجئیے

ہاں ہاں سن لیا اتنی لمبی چوڑی تقریر کرنے کی کیا ضرورت تھی سیدھی طرح کہہ نہیں سکتے کہ انارکلی جانا ہے

اور اب یہ بھی بتا دو کہ وہاں ہم لوگ کیا کرنے جا رہے ہیں کچھ خرید و فروخت کرنی ہے کیا

ظاہر ہے انار کلی کو دیوار میں چنے ہوۓ دو تین سو سال کا طویل عرصہ گذر چکا ہے اس لئیے اسے تو مغل اعظم

کے چنگل سے آزاد کرانے کا وقت گذر چکا ہے سو لے دیکر ایک ہی آپشن ہے ہمارے پاس اور اس میں بھی

خرید تو سمجھ آتی ہے لیکن فروخت کچھ بیچنا بھی چاہتی ہیں آپ میرا مطلب کوئی ایسی چیز جس کی آپ کو اب

ضرورت نہ رہی ہو کوئی استعمال شدہ چیز ناکارا بےکار فالتو

ہاں تم ہو نا کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے لیکن کیا کروں کرنا تو چاہتی ہوں پر ایسا کر نہیں سکتی کیونکہ ایک

تو آج کل غلاموں کی منڈی نہیں لگتی وہ کیا شعر لکھا تھا تم نے

ہے زلیخا پھر کھڑی مصر کے بازار میں

ہے کوئی یوسف جو بکنے کے لئیے تیار ہے

نہ رہے وہ بکنے والے نہ وہ خریدار ہیں

اب نہیں کوئی مسیحا نہ کوئی بیمار ہے

شیخ جی ہوں یا برہمن سب رنگے اک رنگ میں

ہاتھ میں تسبیح کسی کے اور کہیں زنار ہے

کاو کاو زندگی ہے چار سو لوگوں کا شور

دیکھ لو سارے جہاں میں ہر طرف تکرار ہے

بھوک ہے انسان کی جو کبھی مٹتی نہیں

چند سانسیں جسم میں خواہشات کا انبار ہے

ارے یہ تمہاری باچھیں کیوں کھلی جا رہی ہیں

did I say anything funny

ہاہاہا تم بھی نہ پتہ نہیں کونسی کڑی کہا ملاتی رہتی ہو اور یہ بیچ میں میری نام نہاد شاعری کہاں سے آ گیا اور یہ

تم مجھے بیچ رہی ہو یا خرید رہی ہو

دونوں ۔ تم کسی کام کے تو ہو نہیں اس لئیے سوچا تمہیں بھی نا اس جمعرات کو کسی سیکنڈ ہینڈ اخبار رسالے

خریدنے والی دوکان پر اونے پونے داموں پر بیچ ڈالوں اور پھر شام کے وقت واپس خرید لو گی

تیری باتیں میری عقل اور شعور سے بہت بالاتر ہیں پہلے بیچو گی پھر شام سے قبل خرید لو گی بات کچھ بنی نہیں

جیدی تو نا نری سر درد ہے تجھے بیچنے کے بعد دو تین گھنٹے میں بڑے آرام اور چین سے گذاروں گی بالکل

ٹینشن فری لیکن تو جانتا ہے نامیں تیرے بغیر زیادہ دیر تک رہ بھی تو نہیں سکتی اور رات تو نا بابا نا مجھے تو

ساری رات نیند ہی نہیں آۓ گی یہ سوچ سوچ کر اکیلی ہلکان ہوتی رہونگی کہ پتہ نہیں تو کس حال میں ہوگا کسی نے

کھانے کا بھی پوچھا ہو گا یا ایسے ہی خالی پٖیٹ کروٹیں بدل رہا ہو گا میں تو کبھی کبھی یہ بھی سوچتی ہوں کہ

زندگی کے اتنے برس میں نے تیرے بغیر آخر کیسے گذار دئیے اے میاں مٹھو میں اکیلے ہی بولے چلی جا رہی ہوں تو

بھی تو کچھ بول یا مونہہ میں گھونگنیاں ڈال کر بیٹھا ہوا ہے

اے کیا ہوا تجھے اتنا خاموش کیوں ہے کسی نے کچھ کہا کیا یہاں تو ہم دونوں کے سوا کوئی ہے ہی نہیں اور میں نے تو کوئی ایسی بات نہیں کی جیدی کیا ہوا کچھ تو کہہ تو زیادہ دیر تک

خاموش بیٹھا رہے تو مجھے کچھ ہونے لگتا ہے اور یہ تو نے اتنا لمبا سانس کیوں لیا تنگ آ گیا ہے مجھ سے

شہرزاد پہلے یہ بتا کہ میں بولوں یا نہ بولوں

کیا مطلب

نا جاۓ ماندن نہ پاۓ رفتن

Dammed if I do and damned if I don’t

بولوں تو کہتی ہے

جیدی کے بچے تو تھوڑی دیر خاموشی سے نہیں بیٹھ سکتا طوطے

کی طرح بس بولتا چلا جاتا ہے بولتا چلا جاتا ہے کان پک گئیے ہیں میرے تیری

running commentary

سنتے سنتے

اور نہ بولوں تو بھی عتاب کا کوڑا مجھ پر برسنے کے لئیے تیار ہوتا ہے کہ گونگے کا گڑ کھا کر بیٹھے ہو

ارے میری فکر مت کر تجھے پتہ ہے نا ہم عورتوں کو بولنے کی

بیماری ہوتی ہے مردوں کی دنیا میں رہتی ہیں نا کسی نا کسی طرح

اپنے دل کی بھڑاس تو نکالنی ہوتی ہے اور تیرا کونسا وزن کم ہو جاتا ہے میری باتوں سے نا سنا کر

میں اور تیری کوئی بھی بات سنی ان سنی کروں نا بابا نا ایسے مشورے اپنے پاس ہی رکھ تو تو مجھے صلیب پر چڑھا دے گی

جیدی

شہرزاد

یہ تو بولتے بولتے اچانک خاموش کیوں ہو جاتا ہے

نہیں تو

بتا نا

مجھے اپنی نہیں تیری آواز سننی ہے

till the end of time and beyond

جیدی

اب کیا ہے بتا تو دیا تجھے

اچھا میری آنکھوں میں دیکھ اور دوبارا کہہ

ہاں میں نے جھوٹ کہا لیکن یہ سچ بھی تو ہے اور جن سوالوں کے جواب تو جانتی ہے وہ مجھ سے کیوں پوچھتی ہے

ڈرتا ہے کہ میری آواز اب زیادہ دنوں تک ان وادیوں میں سنائی نہیں دیگی

جیدی بھلے ساری دنیا تجھے چھوڑ دے لیکن شہر زاد نہیں

شہر دنیا کی بھی فکر نہ کر وہ بھی مجھے چھوڑنے والی نہیں

اچھا اتنے یقین کیساتھ کیسے کہہ سکتا ہے تو

کیونکہ تو ہی تو میری دنیا ہے میں ایسی کسی دنیا کا تصور نہیں

کر سکتا جس میں تو نہ ہو

kapeesh

یہ مسلۂ تھوڑا بحث طلب ہے اور میں بحث کرنے سے گریز کرتا ہوں

بڑی مزے لے لے کر باتیں کرتا ہے میری گنڈا کہیں کا

مجھے اچھا لگتا ہے تیری باتیں سننا لیکن میں مزے نہیں لیتا ۔ کبھی نہیں ۔ مزے لینا ایک سفلی اوربازاری سی زبان لگتی

ہے اور میں تمہاری ہر چیز کو

platonic sense

بلکہ

sensory

نہیں

ethereal sense

میں لیتا ہوں

جیدی کے بچے کبھی تو عام فہم زبان میں بات کیا کر ابھی ابھی جو کچھ تو نے کہا میری تو خاک بھی پلے نہیں پڑا

اور بچے کہاں سے آئیں گے

چڑیا گھر سے اور کہاں سے تم بھی تو وہیں سے آۓ تھے نا اتنی جلدی اپنا اصلی گھر بھول گئیے

شرم نام کی کسی چیز سے آپ واقف ہیں

صرف پیار کرتی ہوں اس سے واقف نہیں ہوں کیوں تو کیوں

پوچھ رہا ہے

اتنی بڑی بڑی باتیں کہتے ہوئی تمہاری زبان میں نہ تو لکنت آتی

ہے اور نہ چھالے پڑتے ہیں

جیدی تو نا میرے شعور اور لا شعور کا وہ حصہ ہے جس کے بارے میں خود بھی نہیں جانتی بس یہ سمجھ لے کہ مجھے اپنے

آپ سے تو شرم آتی ہے لیکن تجھ سے کبھی نہیں

شہزادے میں جانتی ہوں

اوپر والا مجھے زندہ نہیں رہنے دے گا

اور جیدی مجھے مرنےنہیں دے گا

اور میں ہمیشہ ان دو انتہاؤں کے درمیان خلاؤں میں بھٹکتی رہوں گی

جیدی تیرے ساتھ تو میں اس نیلے آسمان کی چھت اور اس کبھی نہ ختم ہونے والی زمین کے فرش پر بھی اپنی ساری

زندگی بسر کر سکتی ہوں یہ جو کچھ میرے پاس ہے مجھے سب وراثت میں ملا ہے میں نے کبھی ان کی خواہش اور

تمنا تو نہیں کی بس تیرا انتظار تھا ہر چہرے میں تیرا چہرہ تلاش کرتی رہتی تھی شہر شہر گلی گلی کوچہ کوچہ کبھی مایوس نہیں

ہوئی مجھے یقین تھا کہ زندگی کے کسی موڑ پر اچانک تو مجھے مل جاۓ گا اگر دنیا میں تیرا وجود نہ ہوتا تو میرے دل میں

یہ کسک بھی نہ ہوتی میری آنکھیں کبھی کی دھندلا گئی ہوتیں دل مر چکا ہوتا پاؤں تھک چکے ہوتے

لوگ دن مہینوں اور سالوں میں زندگی بسر کرتے ہیں میں لمحوں میں جیتی ہوں میرا ہر پل جو تیری قربت میں تیرے پہلو

میں تیرےساتھ تیری ہم نشینی میں گذرتا ہے صدیوں پر محیط ہے

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 135

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

جیدی ایک بات تو بتا

جیسے مجھے زندگی میں کوئی اور کام تو ہے نہیں

کیا مطلب

ارے بابا آپ جب سے ملی ہیں آپ کے سوالوں کے جواب

ہی تو دے رہا ہوں چوبیس گھنٹے یہی تو کرتا ہوں جواب آتا ہو تو

ٹھیک نہیں تو باقی کا دن آپ کے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے میں گذار دیتا ہوں بحر حال پوچھیئے کیا پوچھنا ہے آپ کو اور اب

اس بھوکی جنگلی بلی کی طرح مجھے کیوں گھور رہی ہیں جو بیچارے

معصوم کبوتر پر جھپٹنے کے تیار بیٹھی ہو

یہ تیری رام لیلا ختم ہو تو کچھ پوچھوں چپ ہونے کا نام ہی نہیں لیتے اور اب تیری اس سقراط بقراط والی باتوں نے مجھے سوال

ہی بھلا دیا ہے

کوئی بات نہیں کوئی اور سوال پوچھ لیں آپ کے پاس سوالوں

کی کونسی کمی ہے اور مجھے کہیں جانا تو ہے نہیں اور جا بھی کیسے

سکتا ہوں میرے ہاتھ اور پاؤں میں تو آپ نے اپنے پیار کی اتنی

بیڑیاں پہنا رکھی ہیں کہ چاہوں بھی تو اپنی جگہہ سے ہل نہیں سکتا

جیدی کے بچے کیوں اپنی شامت کو آواز دے رہے ہو

آواز کہاں دے رہا ہوں میرے ساتھ تو چپکی ہوئی ہو لگتا ہے اب یہ بچوں والا کام کر ہی ڈالوں کم از کم میری جان

کی تو خلاصی ہو گی پھر لگی رہنا دودھ کی بوتلوں اور

pampers

کے پیچھے

ارے سچ کہہ رہے ہو کیا کروں فون مولانا صاحب کو میں نے

تو شادی کا جوڑا جس دن تو ملا تھا اسی روز خرید لیا تھا اور

تجھے تو کسی چیز کی ضرورت نہیں تو تو ویسے ہی شہزادہ لگتا ہے

سوال پوچھوں ایک

میرے بغیر کیسے رہے گا

تئیس برس تیرے انتظار میں اور رہی سہی زندگی تیری یاد میں

تو اگر چلی گیا تو میں

مروں گا نہیں معدوم ہو جاؤنگا

جیسے کبھی تھا ہی نہیں

شیری

کیا ہے

ارے کاٹنے کو کیوں دوڑ رہی ہو

ہزار بار تو تجھے کہہ چکی ہوں کہ ادھوری بات مت کیا کر مجھے اختلاج قلب کی بیماری ہے کہ خدا جانے تم کیا کہنے جا رہے ہو

ارے بابا میں تو کچھ نہیں

یہ میری طرف ٹک ٹک کیا دیکھ رہی ہو پہلے دیکھا نہیں مجھے کیاکبھی

دیکھ رہی تھی کہ کیا تم وہی ہو جو نظر آتے ہو یا

یا کیا

کچھ نہیں

وعدہ کر میری یاد میں کبھی ایک آنسو بھی نہیں بہاۓ گا

شہرزاد رونے کے لئیے آنکھیں اور آنسوؤں کی ضرورت ہوتی ہے جب سے تو ملی ہے میں نے دنیا کو صرف تیری نظر

سے دیکھا ہے جب آنکھیں ہی نہیں رہیں گی تو روؤں گا کیسے

اور میں تیرے بغیر کیسے رہونگی

یہ سوال تو مجھے تم سے کرنا چاہئیے کہ میں تیرے بغیر کیسے جیئوں گا

کیوں تیرے پاس تو سب ہونگے دوست عزیز رشتہ دار کوئی نہ کوئی باتیں کرنے کے لئیے مل ہی جاۓ گا تجھے

لیکن میں ….. مجھے تو میری پرچھائیں بھی چھوڑ کر جا چکی ہو گی

میری کہانی تم سے شروع ہو کر تم پر ختم ہو جاتی ہے

میں صرف اور صرف تم نام اور حوالے سے جانی اور پہچانی جانا چاہتی ہوں

اے شہر

جی

میرے ساتھ لبرٹی مارکیٹ تک چلے گی

نہیں نا

دوبارا کہہ

کیا

یہی جو تو ابھی ابھی کہا

میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا

ارے تم نے کہا نہیں “ نہیں نا “

جیدی تو نا مجھے کبھی کبھی تھوڑا کھسکا ہوا سا لگتا ہے

مجھے نا تیرے یہ چھوٹے چھوٹے جملے اچھے لگتے ہیں

اچھا اور کیا کیا اچھا لگتا ہے میرے شہزادے کو

کچھ نہیں چپکے سے گاڑی ڈرائیو کر

ارے ہاں یاد آیا تیرے پاس کوئی پاسپورٹ سایز کی فوٹو ہے

کس کی فوٹو

گدھے کی تیری بات کر رہی ہوں اور کس کی

تو کیا کرے گی میری تصویر کیساتھ

تیرا رشتہ تلاش کرونگی اپنے لئیے جتنا سوال پوچھا جاۓ اتنا ہی جواب دیا کر جواب ہاں یا نا میں دے

ارے بابا بتا تو سہی کیا کرے گی فوٹو کیساتھ

تکئیے کے نیچے رکھ کر سوؤں گی سچ بڑی گہری نیند آۓ گی

اچھا سو سکے گی

کیا مطلب

میں تیرے اتنا قریب ہونگا نیند آ جاۓ گی تجھے

ارے “ نہیں نا “

میں کسی گلی بازار سے ایک دفعہ گذر جاؤں تو گھنٹوں سیٹیوں کی آواز وہاں گونجتی رہتی ہے اور ایک تو ہے کہ میں تیرے لئیے سارا دن اور رات

ریلوۓ گارڈ کی طرح سیٹیاں بجاتی رہتی ہوں اور تیری گاڑی میرے اسٹیشن پر رکنے کا نام ہی نہیں لیتی بلکہ تیرا تو انجن ہی کبھی ریلوۓ

شڈ shed سے باہر نہیں آتا اور اوپر سے تو دن میں سو دفعہ کہتا ہے کہ میں اس کائنات کی سب سے حسین لڑکی ہوں

جیدی

بولئیے اب کونسے موتی مونہہ سے نکلنے والے ہیں

مذاق اڑا رہے ہو میرا میں تو صرف کہہ رہی تھی کہ میں ایک انتہا درجے کی خود غرض انسان ہوں

اچھا بات ختم ہو گئی آپ کی یا ایک دو قسطیں اور بھی باقی ہیں

دیکھو نا تم سے ملاقات ہونے سے پہلے مجھے ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا

کہ بی بی your days are numbered اس کے باوجود میں

تمہاری زندگی میں چلی آئی

اور کبھی یہ بھی سوچا ہے آپ نے کہ اگر آپ نہ آتیں تو میری

زندگی میں جو اتنا بڑا خلا ہے یہ

VOID

جو آپ کے سوا ساری

کائنات مل کر بھی بھر نہیں سکتی تھی اس کا کیا ہوتا اور میں آپ کو تلاش کرتے کرتے تھک کر اندھیری راہوں اور راستوں

میں کہیں گم ہو جاتا تو اس کا زمہ دار کون ہوتا

اوہ جیدی تم جب ایسی باتیں کرتے ہو تو مجھے لگتا ہے کہ تم کسی اور ہی دنیا کے مسافر ہو جو سچ مچ راہ بھول کر میری دنیا میں آ گیا ہے

جیدی

جل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو

اے تجھے کیا ہوا

ابھی تک تو کچھ نہیں ہوا لیکن میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ اگلے چند لمحوں میں کچھ ہونے والا ہے

ارے ایسی کوئی بات نہیں میں تو صرف تجھ سے یہ پوچھنے جا رہی تھی کہ کیا اللہ میاں بھی اپنے بندوں کو

cheat

کرتے ہیں

شہر ایسے کفریا کلمات تیرے مونہہ سے توبہ کر توبہ ابھی اسی وقت

جس طرح آدمی کو چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت نہیں تھی اسی طرح ایک وقت میں وہ کتنی کتابیں پڑھ سکتا ہے اس پر بھی پابندی ہونی چاہئیے تھے

یہ بیٹھے بٹھاۓ آپ بیچاری کتابوں کے پیچھے کیوں پنجے جھاڑ کر پڑ گئی ہیں

بیچاری کیوں تجھ تک پہنچنے کے لئیے مجھے ان موئی موٹی موٹی کتابوں کا بحر زخار پار کرنا پڑتا ہے

جیدی یہ کرسی اٹھا سکتا ہے

کیوں آپ کے راستے کی دیوار بنی ہوئی ہے کیا

نہیں میں تو صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اگر تو یہ کرسی اٹھا سکتا ہے تو تو تو

ارے بابا آگے کچھ کہیں گی آپ یہ زبان کی سوئی تو پر کیوں اٹک گئی ہے

کچھ نہیں ایسے ہی دل میں ایک آوارہ سا خیال آ گیا تھا کہ اگر تم یہ بھاری بھر کم کرسی اٹھا سکتے تو شہرزاد کی ڈولی کیوں ابھی تک

اپنے ماں باپ کے گھر میں پڑی ہوئی ہے

شہزادے

ملکہ عالیہ

تم اب بھی شاعری وائری کرتے ہو یا چھوڑ دی

کئی دفعہ آپ سے کہا ہے کہ میں شاعر نہیں ہاں تھوڑی سی تک بندی ضرور کر لیتا ہوں لیکن یہ بیٹھے بٹھاۓ آپ کی توپوں کا رخ میری نام نہاد

شاعری کی طرف کیوں اور کس لئیے مڑ گیا ہے

ویسے تو بڑے ارسطو بنے پھرتے ہو ایک سیدھی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی ارے بابا یہ شاعر ناکام عاشق قسم کے لوگ ہوتے ہیں کسی کام کے تو ہوتے نہیں بس بیٹھے بیٹھے زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے رہتے ہیں

شہر یہ

cryptic clues

میں باتیں کیوں کر رہی ہیں کیونکہ میری ناقص عقل میں اب بھی آپ کی بات سمجھ نہیں آئی

ہاں اور آۓ گی بھی نہیں کیونکہ تمہاری نزدیک کی نظر بہت کمزور ہے ارے الو کی دم فاختہ ادھر میری طرف دیکھ آنکھیں کھول کر یہ

پانچ فٹ آٹھ انچ کا پورا دیوان لکھا لکھایا بنا بنایا اور سجا سجایا تیرے سامنے موجود ہے تو پھر تجھے یہ گھسے پٹے شعر لکھنے کی کیا ضرورت ہے

آنسہ شہر زاد

محبت کسی ایک چہرے یا جسم کا نام نہیں یہ تو ایک آفاقی چیز ہےاور یہ پوری کائنات اس کا جیتا جاگتا مظہر ہے

ارے تو کیا میرا سایہ بن کر ہمیشہ میرے آگے پیچھے دائیں بائیں گھومتی رہتی ہے کبھی تو مجھے اکیلا چھوڑ دیا کر

خوابوں میں تو خیالوں میں تو

بانہوں میں تو راہوں میں تو

واہوں میں تو آہوں

دھڑکن میں تو سانسوں میں تو

بس بس بس جیدی اب سانس لے لو اگر میں سچ مچ تیری سانسوں میں بھی ہوں تو میرا سانس اب رکنے لگا ہے لگتا ہے صدیوں کا فاصلہ

طے کر کے آ رہی ہوں اور مجھے اپنی منزل مراد تک پہنچنے کے لئیے ابھی دو گام اور چلنا ہے صرف دو گام اور میرے پیار کی کمند ٹوٹنے نہیں چاہئیے

دو چار ہاتھ ہی تو لب بام رہ گیا ہے لے تھام لے میرا ہاتھ اور لے جا مجھے عشق کی اوج ثریا تک

اے شہر زاد کہاں چلے گئیں یہ کس دنیا کی باتیں کر رہی ہیں آپ اور سنئیے جب دو روحیں ایک دوسرے میں مدغم ہو چکی ہیں تو ہاتھوں کا ساتھ کیا معنی رکھتا ہے ہم تئیس سال کے بعد ملے ضرور ہیں لیکن میرے من مندر میں ہمیشہ تیرے پازیبوں کی گھنٹیاں سنائی دیتی تھیں

سچ کہہ رہے ہو جیدی

جاری ہے

شہر زاد قسط نمبر 136

میرے خون دل کی کہانی میرے جیدی کی زبانی

کب لکھو گے جب میں نہیں ہونگی ابھی لکھ نا ابھی کیوں نہیں لکھتا میں بھی

تو دیکھوں آخر میرا جیدی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیسے سوچتا ہے

انجان راستے بے نام مسافر

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

بھولےبسرے دن بھولی بسری یادیں

ایک مکالماتی دیو مالا

امی یہ میاں مٹھو کہاں اڑتا پھر رہا ہے

کون ۔ جاوید ارے کہاں جاۓ گا یہیں کہیں ہو گا آپ نے اس کے اڑنے والے پنکھ تو کاٹ دئیے اب وہ آزاد فضا میں پرواز کرنے کا تو شائد

تصور بھی نہیں کر سکتا اور ہاں یہ تم دونوں کی طوطا مینا کہانی میں ہمارا بھی کوئی رول ہے یا ہم صرف ایکسٹرا کے طور پر بھرتی کیے گئیے ہیں

میری پیاری امی جان آپ کی چھتر چھایا کے بغیر تو یہ پریم کہانی صرف کتابوں میں لکھی ہوئی ایک افسانوی داستان ایک قصہ پارینہ ہی رہتی

آپ تو محبت کا وہ پنجرہ ہیں جہاں یہ دونوں پنچھی دنیا کی نظروں سے دور بہت دور چھپ کر پیار کی آنکھ مچولی کھیلتے رہتے ہیں اور ویسے بھی آپ اس

کھیل کی آخری کھلاڑی ہیں

کیا مطلب

کچھ نہیں ایسے ہی مونہہ سے نکل گیا

شہرزاد

میرا مطلب تھا آپ جانتی ہیں میرے پاس زیادہ وقت نہیں اور میرے جاتے ہی جیدی اس شہر کیا اس ملک کو ہی چھوڑ کر چلا جاۓ گا

ایسا کہا اس نے تجھ سے

نہیں کہا تو نہیں لیکن میں جانتی ہوں وہ ایسا ہی کریگا آپ جانتی ہیں نا جیدی کو اندھیرے سے کتنا ڈر لگتا ہے اسے لیکن اب رات کو میں اگر اس کے کمرے میں چلی جاؤں تو وہ بنا لائٹ جلاۓ کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے میں پوچھتی ہوں اندھیرے میں کیوں بیٹھے ہو اب تمہیں ڈر نہیں لگتا کیا

“ نہیں مجھے اندھیروں میں ہی زندگی بسر کرنی ہے تو ڈر کیسا “ جواب ملتا ہے

اسی لئیے میں نے کہا تھا کہ آپ اس پریم کتھا کا آخری پتر ہیں

شہر

جی

چلو گی میرے ساتھ

چلوں گی

پوچھو گی نہیں کہاں

نہیں کبھی نہیں

کیوں

تو ساتھ ہے جہاں مرضی لے جا

اوہ

کیا ہوا

کچھ نہیں

نہیں کچھ تو ہوا ہے تیرے چہرے کے تاثرات میں پڑھ نہیں پا رہی بتا نا دیکھ جب تو نہیں تھا تو دنیا کی بھیڑ میں بھی اکیلی تھی اور جب تو ساتھ ہو گا

تو یہاں وہاں کہیں بھی سارے جہان میرے ساتھ ہونگے

لیکن تیرے بغیر میرا مطلب ہے

اوہ تو یہ بات ہے اس لئیے بات مکمل نہیں کر سکے سن میری بات کبھی بھولنا نہیں شہر صرف اس دنیا سے ایک دن بہت جلد چلی جاۓ گی لیکن

جیدی کو مر کے بھی نہیں چھوڑنے والی نہیں اوپر والے نے مجھے اس بات کا اختیار دیا تھا کہ بول کیا چاہئیے میں نے بنا سوچے کہہ دیا جیدی اس نے پوچھا یہاں یا وہاں میں نے کہا وہاں

شہر کیا پہیلیاں بجھوا رہی ہو یہاں وہاں تیری باتیں میری سمجھ سے بالاتر ہیں

ارے بدھو کہیں کے یہ دنیا تو چند روزا ہے آج نہیں تو کل ختم ہو جاۓ گی لیکن جو دنیا جھیل کے اس پار ہے وہ تو دائمی ہے

جہاں شہر ہو گی اس کا جیدی ہو گا سپنوں کی دنیا آرزوؤں کے محل اور اور آگے تو بول مجھے تیری طرح باتیں نہیں کرنی آتیں

شہر زاد

جھوٹی کہیں کی

کہتی تھی

جیدی ساری عمر تیرا ساتھ نہ چھوڑوں گی

تین مہینے سات دن

مجھے کیا پتہ تھا وہ صرف اپنی عمر کی بات کر رہی ہے

اتنا ہی وقت تھا اس کے پاس

خاموشی سے آئی تھی

چپکے سے چلی گئی

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو فسانہ بنا دیا

آخری چٹھی

جیدی

ہمیشہ کی طرح دیر سے آۓ ہو

جا رہی ہوں

لیکن تمہیں چھوڑ کر نہیں

میری روح ہمیشہ تیرے ساتھ رہے گی

جسم

تو نے مجھے کبھی اپنایا ہی نہیں

اس لئیے وہ میرے ساتھ ہی ختم ہو جاۓ گا

میں تیرے قریب تو تھی لیکن تیری قربت مجھے کبھی نصیب نہ ہوئی

ہمیشہ اکیلی تنہا اور ادھوری ہی رہی

اس ڈر سے کہ کہیں تیرے ملکوتی پر جل نہ جائیں مجھ سے دور دور رہا

تمہیں تو رابعہ بصری بننے کا شوق تھا نا

اب رہو اکیلے

جیدی

دیکھ تیری شہرو نے اپنی بال کھول دئیے ہیں

اپنی زلفیں بکھیر دی ہیں

الف لیلی اپنی پوری رعنائیوں کےساتھ شروع ہونے والی ہے

اب کس کا انتظار ہے تجھے

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

وہ شہرزاد تھی میری الف لیلی کی داستاں

پھر میں نے اس کو قصہ جاناں بنا دیا

سنتی تھی جو کہانیاں میری وہ بار بار

پھر میں نے اس کی یاد کو افسانہ بنا دیا

جلتے رہے وہ عمر بھر نہ مل سکے کبھی

تو شمع بن گئی مجھے پروانہ بنا دیا

وہ شہر شہر زاد تھا تیرے وجود سے

جب تو چلی گئی اسے ویرانہ بنا دیا

شہرزار

کے جانے کے سات دن بعد

جیدی

ہمیشہ کے لئیے پاکستان کو چھوڑ کر چلا گیا

شہرزاد
یہی تو وہ جکہہ ہے ملتے تھے ہم جہاں
اک آگ تھی سینوں میں سلگتی تھیں لکڑیاں
خاموش فضائیں تھیں بہاروں کا تھا سماں
انگڑائیاں لیتے تھے جذبات کے طوفان
پھر تجھ کو لے گیا وہ بے رحم آسماں
یادوں میں دب کے رہ گئیے سارے ہی وہ ارماں
بھلا سکا نہ میں کبھی وہ یاد رفتگاں
شہرو رہی نا جیدی نہ ان کی داستاں

جاوید بلخی

شہرزاد
یادیں

وقت کی ریت پر قدموں کے نشاں

پانی کی ایک لہر

ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا

اور

تیری یاد

پھول لایا ہے میرا

کیا کرے گی ایک پھول کیساتھ

اپنے جوڑے میں لگاؤنگی

کیوں

تجھے اچھا لگتا ہے نا اس لئیے

یادیں

برسوں بیت گئیے

گھر کی دہلیز پر کھڑی رہتی ہوں

کھلے بالوں کے ساتھ

نا پھول رہے

نا پھول دینے والا

دنیا کی بھیڑ میں کہیں کھو گیا ہے

آج پھر رستہ بھول گیا ہے شائد

ہمیشہ کہتا تھا ‘ شہرو ‘

تیرے بغیر تو مجھے اپنے قدموں کے نشان بھی نہیں ملتے

جانے کہاں بھٹک رہا ہو گا

میری یادوں کیساتھ

جاوید بلخی

……………………………………………………………………………………………………….

جاوید بلخی صاحب کا 136 اقساط پر مشتمل یہ عظیم ناول اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ یہ محض ایک طویل سلسلہ نہیں بلکہ ادب میں ایک یادگار اضافہ ہے، جس نے ہمارے قارئین کو ہر قسط کے ساتھ ایک نئے ذوق، ایک نئی معنویت اور ایک تازہ فکر سے روشناس کیا۔

بلخی صاحب نے اپنے قلم سے ناول کو اس طرح جِلا بخشی کہ دونوں کردار ہمارے سامنے سانس لیتے محسوس ہوئے۔ کہانی کی روانی، اسلوب کی دلکشی، اور واقعات کی ترتیب نے ہر قسط کو ایک نئی کشش عطا کی۔ قاری کے دل کو باندھ لینے والی یہ تخلیق اس بات کا ثبوت ہے کہ جاوید بلخی نہ صرف ایک قادرالکلام ادیب ہیں بلکہ ایک صاحبِ بصیرت فنکار بھی ہیں۔

مدیر کی حیثیت سے میں جاوید بلخی صاحب کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے فن کے ذریعے ہمارے ادبی منظرنامے کو روشن کیا اور میری درخواست پر اسکی اشاعت کی اجازت دی۔ ان کی محنت اور لگن کو ہم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو مزید قوت عطا کرے اور وہ اسی طرح ادب کے افق پر جگمگاتے رہیں اور یہ جلد کتاب کی شکل میں شائع ہو،،،،،،،،،،،،،،،،،دعا گو۔صفدر ھمدانی،،،مدیر اعلی، عالمی اخبار

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

SHARE

18 COMMENTS

  1. جاوید خان بلخی ایک علم دوست، فکری لحاظ سے پختہ اور گہری سوچ رکھنے والے مصنف کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں سنجیدگی، مطالعے کی گہرائی، اور الفاظ کی سچائی واضح طور پر جھلکتی ہے۔ وہ نہ صرف اپنے خیالات کو خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں بلکہ قاری کو غور و فکر پر بھی مجبور کرتے ہیں۔

    تحریر پر تبصرہ:

    جاوید خان بلخی کی تحریریں فکری وسعت اور فصاحت و بلاغت کا حسین امتزاج ہوتی ہیں۔ ان کے اسلوب میں سادگی کے ساتھ ساتھ گہرائی پائی جاتی ہے، جو قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔ ان کے موضوعات عام طور پر زندگی، انسانیت، معاشرتی مسائل اور فکری اصلاح سے متعلق ہوتے ہیں، جنہیں وہ نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔

    ان کی زبان شائستہ، انداز پر اثر، اور دلائل مضبوط ہوتے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ کے ذریعے نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتے ہیں، جو ان کی مثبت سوچ کا ثبوت ہے۔

  2. اس تحریر پر اظہار رائے کا شکریہ۔ امید ہے دیگر احباب تک بھی اسے پہنچائیں گے اور اگلی اقساط بھی مطالعہ کریں گے، صفدر ھمدانی، مدیر اعلیٰ عالمی اخبار

  3. میری ان سے اچھی سلام دعا ہے میں بھی وزیر آباد سے تعلق رکھتی ہوں
    میرے گروپ میں وہ پوسٹ کرتے رہتے ہیں میں تو ان کے لکھے ہوئے کی بہت فین ہوں
    میں نے شہر ذات بھی کچھ پڑھیں ہوئی ہے مجھے بہت پسند آئی ہے اب یہاں چھپے گی
    یہ بہت اچھی بات ہے سر جاوید بلخی بہت اچھا لکھتے ہیں
    بہت بہت مبارک ہو سر آپ کو
    Miss khokhar

  4. Seems like a very intelligent writer who knows how to hold his pen well and what to jot down.Will be waiting to read the next part.

  5. مختصر پر اثر انداز بیاں ۔۔۔فصیح و بلیغ ۔۔۔روح میں سرائیت کر جانے والے الفاظ۔۔۔تخیل کو وسعت بخشنے والی بہترین الفاظ کے موتیوں سے پروئی ہوئی لڑی ۔۔۔وجود پہ گہری چھاپ چھوڑنے اور دل موہ لینے والی تحریر ۔۔۔

    قاری کی دلچسپی بنائے رکھنے کا خوب ہنر ہے محترم جناب جاوید بلخی صاحب کے پاس ۔۔۔
    امید ہے مزید تحاریر سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا
    دعاگو
    بریزا نور

  6. جاوید بلخی صاحب سے میری ملاقات میرے فیس بک کے گروپ “ محبتوں کے شہر میں ہوئی”۔ ُبلخی صاحب اس گروپ میں وقتاً فوقتاً اپنی نگارشات پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ بلخی صاحب کی شاعری میں زندگی اور جزبات کا گہرا تجربہ اور احساس شامل ہے۔ مجھے بلخی صاحب کی شاعری پڑھنا پسند ہے کیونکہ اس میں منفرد احساس کا سامنا ہوتا ہے ۔ آج بلخی صاحب کے بارے میں دوسرے لوگوں کے تاثرات پڑھ بہت اچھا لگا بلخی صاحب کے زندگی کے سفر کے بارے میں جان کر بہت اچھا لگا۔ میری دعا ہے کہ بلخی صاحب کا شعری سفر یونہی جاری رہے۔ اللہ بلخی صاحب کو ادب کے نئے افق دریافت کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔

  7. ‎بہت خوب! یہ شعر دل کو چھو گیا۔ آپ کے الفاظ میں وہ سحر ہے جو پہلی ملاقات کے جذبات کو اس طرح بیان کرتا ہے جیسے کوئی تصویر بن رہی ہو۔ محبت، اُداسی، اور یادوں کے درمیان آپ کا قلم ہمیشہ سچائی کی گہرائی تک پہنچتا ہے۔ بہت دنوں بعد ایسا کچھ پڑھنے کو ملا جو روح تک اتر گیا۔ براہ کرم لکھتے رہیں!

    • An excellent article if I may say so myself ,
      Very creative kudos to the writer keep it up 👏👏👏

  8. An excellent article if I may say so myself ,
    Very creative kudos to the writer keep it up 👏👏👏

  9. بہترین لکھا ہے میں پڑھ چکی ہوں مگر جب بھی دوبارہ پڑھوں اتنا ہی مزہ آتا ہے کہانی چاہے آب بیتی ہو یا کوئی کہانی دلچسپی بڑھتی چلی جاتی ہے
    سر جاوید بلخی بہت اچھا لکھتے ہیں میں تو ان کی بڑی فین ہوں
    اللّہ تعالیٰ ان کے قلم میں اور اضافی فرمائے آمین یارب العالمین

  10. کیا کہنے بلخی صاحب۔ نثر میں شاعری کوئی آپ سے سیکھے۔ لکھتے رہیے۔ اور شمع ادب کو فروزاں رکھئے۔

LEAVE A REPLY