صدرممنون حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ دوستی اور امن کا خواہاں ہے اور نئی دہلی حکومت سے کہا ہے کہ وہ کشیدگی بڑھا کر خطےکی ترقی اورامن کو خطرےمیں نہ ڈالے۔

صدر ممنون حسین پاک-چین فرینڈ شپ سینٹر میں سرحد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے منعقدہ ‘میڈان کے پی کے’ نمائش کی افتتاحی تقریب سےخطاب کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانیوں کا پاکستانیوں کےساتھ برادرانہ تعلق ہے جو کھلے دل سے دوستی چاہتے ہیں اور پاکستان دیانت داری سے افغانستان میں امن اور ترقی کے لیے کام کررہا ہے کیونکہ پرامن افغانستان اس کے مفاد میں ہے۔

ممنون حسین نے کہا کہ چند بیرونی فورسزپاک-افغان تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کابل کو پاکستان کے خلوص کو سمجھنا چاہیے۔

خطے کے معاملات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کی سلامتی اور امن چاہتا ہے اور تمام ہمسائیوں سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔

ایران سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہوئے ہیں اور امید ظاہر کی کہ دیگر ہمسائیوں کے ساتھ بھی مستقبل میں تعلقات کو بہتر بنایا جائے گا۔

صدر پاکستان نے کہا کہ حالیہ حکومت کے دور میں صنعتوں کے لیے بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہورہی ہے اور بلوچستان میں بجلی کی پیداوار کے لیے چھوٹے ڈیم بنائے جائیں گے۔

ممنون حسین کا کہنا تھا کہ پاک-چین اقتصادری راہداری (سی پیک) منصوبہ خطے کی قسمت کو بدل دےگا اور پاکستان اہم ترین ملک بن کر سامنے آئے گا۔

انھوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کے روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے اور جو لوگ اس کو متنازع بنارہے ہیں وہ عوام کو گمرا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY