تحریک۔شہید۔ کتاب کے پلیٹ فارم سےجدوجہد کااعلان ۔احمد رضا راجہ

0
238

احمد رضا راجہ کا جاری کردہ بیان

میں اپنے قابل ِ صد احترام احباب کے حکم پر اور تمام دوستوں سے مشاورت کے بعد فرزانہ ناز بارے جاری احتجاجی تحریک سے لاتعلقی کا ذاتی فیصلہ واپس لیتے ہوئے اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنے دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں ہمخیال دوستوں سمیت “تحریک ِ شہید ِ کتاب ” کے نام سے احتجاج جاری رکھوں گا. ” تحریک ِ شہید ِ کتاب ” کے مندرجہ ذیل چار مطالبے ہیں…

1- فرزانہ ناز کی موت کی اعلا سطحی تحقیقات کرائی جائیں….

2- لواحقین کو پاک چائنا سینٹر میں نسب کیمروں کی اُسوقت کی ریکارڈنگ تک رسائی دی جائے. اس سلسلہ میں نیشنل بک فاؤنڈیشن بھی اخلاقی طور پر کردار ادا کرے.تاکہ متاثرہ خاندان ک مکمل تسلی بھی ہو
3- فزانہ ناز کو حکومتی سطح پر “شہید ِ کتاب” کا خطاب دیا جائے. جسکے لئے یہ تحریک ایوان صدر, وزیر اعظم ہاؤس اور دیگر متعلقہ اداروں میں قراردادیں پیش کرے گی.۔۔
4- فرزانہ ناز کی فیملی کے لئے معقول مالی امداد اور باوقار امدادی پیکج دیا جائے….

نوٹ: ہمارا کسی ایسے گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا , جو ان چار کے علاوہ کوئی مطالبہ کرتا یا کسی پر بھی فرزانہ ناز کی ہلاکت کا بے بنیاد الزام دھرتا ہے.

میں آج اب سے ایک اور اہم گزارش بھی کروں کہ برائے مہربانی اگر کوئی دوست احتجاجی تحریک چلانے والوں کی رائے سے متفق نہیں تو یہ اسکی اپنی رائے ہے، ہمیں آحترام کرنا ہو گا ۔ ایک گروپ نے اختلاف ِ رائے رکھنے والوں سے جنگ چھیڑ رکھی ہے ، جس سے ادبی حلقوں بلخصوص پنڈی اسلام آباد کی ادبی حلقے کا ماحول خراب ہو رہا ہے ۔ میں نے بہت کوشش کر دیکھی گذشتہ چھ دن میں کہ ہم پُرامن رہیں ، پوسٹ کے ذریعے بھی گزارش کی اور مل کر بھی مگر میری بات انہوں نے سنی ان سنی کر دی ۔۔۔لیکن ہماری اپنی تحریک صبر و تحمل اور ادیبانہ با وقار شرافت سے اپنا کیس لڑے گی ، یاد رکھنے کہ ہمارے مطالبات سے بہر حال کسی کو بھی انکار نہیں ہے ، اگر اختلاف ہے تو احتجاج پر اور شعرا نے کب اپنے حق کے لئے مظاہرے کئے ، کاش کرتے تو آج شاعروں ادیبوں سے حکومتوں کے بے توجہی کی یہ حالت نہ ہوتی

SHARE

LEAVE A REPLY