اُس ستم گر کو میری یاد جو آئی ہو گی

کینوس پر یہی تصویر بنائی ہو گی

پھول کچھ زخموں کے سینے پہ مہکتے ہو نگے

ہم فقیروں کی فقط یہ ہی کمائی ہو گی

لوگ ڈھونڈیں گے مری ہڈیاں اس بستی میں

بعد صدیوں کے کبھی جب بھی کھدائی ہو گی

اک دھواں سا جو نظر آتا ہے اٹھتا تم کو

میری مرقد پہ غزل میری سنائی ہو گی

خواب صفدر میرےمرنے کا جو دیکھا اُس نے

مسکرا کر مجھے تعبیر بتائی ہو گی

SHARE

LEAVE A REPLY